وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ
In the earth are signs for those who have conviction,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 51:20
[Pooya/Ali Commentary 51:20] There are signs and evidences of the existence of a supreme being in all nature and within the body and soul of man. He who understands his self, in fact, understands Allah. For example, the differences in the sexes and their mysterious attachment to each other, and the mental faculties by which the human mind understands the secrets of the natural forces and discovers new methods and means for further advancement in knowledge and its application. See Sajdah: 53. Aqa Mahdi Puya says: These verses refer to the subjective and the objective phenomena giving evidence of the existence of the creator. (223 Aqa Mahdi Puya says: This verse refers to the sublime regions proceeding from the absolute in the arc of descent, and not to the physical heavens.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:20-23
١۔ اصمعی کی لرزا دینے والی داستان
زمخشری تفسیر کشاف میں اصمعی (۱)سے نقل کرتاہے کہ میں بصرہ کی مسجد سے باہر آ یاتواچانک میری نگاہ ایک بیابانی عرب پر پڑی جوانپی سواری پرسوار تھا، وہ میرے سامنے آ یاتو مجھ سے پوچھا: تم کس قبیلہ سے ہو؟میں نے کہا بنی اصمع سے اس نے کہا:کہاں سے آرہے ہو؟ میں نے کہا وہاں سے جہاں خدوند رحمن کاکلام پڑھتے ہیں، اس نے کہا میرے لیے بھی پڑھو! میں نے اس کے لیے سُورئہ الذاریات کی کچھ آ یات پڑھیں، یہاں تک کہ آیہ وَ فِی السَّماء ِ رِزْقُکُمتک پہنچا ، اس نے کہابس کافی ہے ، وہ اٹھ کھڑاہوا اور وہ اونٹ جواس کے ساتھ تاھ اُسے نحر کر ڈالا ، اوراس کاگوشت ، ان ضرورت مندوں میں جو آ جارہے تھے ، تقسیم کردیا،اس نے اپنی تلوار اور کمان بھی توڑ ڈالی اورایک طرف پھینک دی اور پشت پھیر کرچلتا بنا، یہ واقعہ گزرگیا ۔ جس وقت میں ہارون الرشید کے ساتھ خانہ خدا کی زیارت کے لیے گیاتو میں طواف میں مشغول ہوگیا، اچانک میں نے دیکھاکہ کوئی آستہ آواز کے ساتھ مجھے پکار رہاہے ، میں نے نگاہ کی تو دیکھا کہ وہی مرد عرب ہے ،لاغر اور کمزور ہوچکاہے ، اس کے چہرہ کارنگ زرد پڑھ گیاہے، (صاف ظاہر تھاکہ آتشِ عشق کااس پر غلبہ ہوگیاہے جس نے اس کو بے قرار کردیاہے )اس نے مجھے پرسلام کیا، اور دوبارہ مجھ سے خواہش کی کہ اُسی سورئہ ذاریات کواس کے لیے پڑھوں ، جب میں اس آ یت پر پہنچا ،تواس نے چلا کرکہا، ہم نے اپنے خدا کے وعدہ کواچھی طرح پالیاہے ، اس کے بعد اس نے کہا کیااس کے بعد بھی کوئی آ یت ہے تو میں نے بعد والی آ یت کوپڑھا:فَوَ رَبِّ السَّماء ِ وَ الْأَرْضِ ِنَّہُ لَحَقّ تواس نے دوبارہ چیخ مار کرکہا: یاسبحان اللہ من ذاالذی اغضب الجلیل حتی حلف یصد قوہ بقولہ حتی الجئوہ الی الیمن؟! یہ کتنی عجیب بات ہے ، کون تھا وہ جس نے خداوند جلیل کوغضبناک کیا، اوراُسے اس طرح قسم کھانی پڑی ، کیاانہوں نے اس کی باتوں پر یقین نہیں کیا، کہ وہ قسم کھانے کے لیے نا چار ہوا ؟! اس نے اس پر جُملہ کو تین مرتبہ دہرایا، اور زمین پرگرپڑا ، اور اس کی رُوح آسمان کی طرف پرواز کرگئی ( ۲) ۔ ۱۔اس کانام "" عبد المک ابن قریب"" تھاہارون الرشید کے زمانہ میں ہواہے ، اس کاحافظ عجیب و غریب اوراس کے معلو مات تاریخ وادب اور اشعار عرب سے بہت زیادہ تھے اوراس نے ٢١٦ ھ میں بصرہ میں وفات پائی ،(الکنی والا لقاب ،جلد ٢ ،صفحہ ٣٧) ۔ ۲۔"" تفسیر کشاف "" جلد ٤ ،صفحہ ٤٠٠۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:20-23
٢۔ بہشت کیاں ہے ؟
جیساکہ ہم آ یات کی تفسیرمیں بیان کرچکے ہیں کہ بعض نے وما توعدون کے جُملہ کی بہشت کے ساتھ تفسیر کی ہے انہوں نے یہ کہاہے کہ اس آ یت سے معلوم ہوتاہے ، کہ بہشت آسمانوں میں ہے ، لیکن ان کی یہ بات اس چیزسے جو سورہ آلِ عمران کی آ یہ ١٢٣ میں آ ئی ہے ، جوکہتی ہے کہ بہشت آسمانوں اور زمین کی وسعت کے برابر ہے، ساز گار نظر نہیں آ تی ۔ اور جیساکہ ہم نے بیان کیاہے ، یہ تفسیر جملہ ماتوعدون کے لیے مُسلم نہیں ہے ، بلکہ ممکن ہے کہ یہ وعدہ رزق یاآسمانی عذابوں کی طرف اشارہ ہو ۔ اوراگرسورئہ نجم کی آ یہ ١٥ میں یہ آ یاہے کہ جَنَّةُ الْمَأْوی آسمانوں میں سدرة المنتہیٰ ، کے پاس ہے ، تو یہ اس معنٰی پردلیل نہیں ہوگی ، کیونکہ جَنَّةُ الْمَأْوی بہشت کے باغات کاایک حصّہ ہے نہ کہ تمام بہشت (غور کیجئے گا) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:20-23
خداکی نشانیاں تمہارے وجود کے اندر ہیں، کیاتم دیکھتے نہیں؟
گزشتہ آ یات کے بعد ،جن میں معاد اور زخیوں اورجنتیوں کے صفات کے بارے میں بیان ہواتھا، زیربحث آ یات میں ان نشانیوں کے بارے میں جو زمین اور خود انسان کے وجود کے اندر ہیں گفتگو ہورہی ہے ، تاکہ ایک طرف تومسئلہ توحید، خداکی معرفت ، اوراس کی صفات کی پہچان سے ، جوتمام خیرات کی طرف مبدأ حرکت ہے، وہ آشناہوں اوردوسری طرف مسئلہ معاد اور موت کے بعد کی زندگی پراس کی قدرت کاانہیں پتاچلے .کیونکہ جوروئے زمین میں ان تمام عجائبات میںحیات کاخالق ہے ، وہ تجدید حیات پر بھی قادر ہے ۔ پہلے فرماتاہے: زمین میں ان لوگوں کے لیے جواہل حق ہیں اورحق کے طلب گار ہیں، اہم نشانیاں ہیں (وَ فِی الْأَرْضِ آیات لِلْمُوقِنین) ۔ واقعاً اس کُرّہ خاکی میں خدا کے غیر محدُود علم وحکمت اورحق وقدرت کی بے پایاں نشانیاں اس قدر فراواں ہیں کہ کسی بھی انسان کی عمران سب کوپہنچاننے کے لیے کافی نہیں ہے ۔ زمین کاحجم،اس کاسُورج سے فاصلہ ، اس کی اپنے گر وحرکت اوراس کی سُورج کے گرد حرکت ، اور وہ قوت جاذبہ وا فعہ جواس حجم اوراس حرکت سے وجود میں آ تی ہے، اورکامل طورسے ایک دوسرے کے برابر اور یکساں ہے اور پھران سب کی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی، تاکہ صفحہ زمین پرحیات اور زندگی کے لیے ماحول فراہم کرے ، یہ سب چیزیں خداکی عظیم آیات میں سے ہیں ۔ در حالیکہ اگران حرکات و روابط اورخصوصیات میں سے کوئی ایک چیزبھی کم سے کم تغیر پیدا کرے توصفحہ زمین پرحیات و زندگی کے حالات درہم برہم ہوجائیں ۔ وہ مواد جن سے زمین بنی ہے اور مختلف منابع جوسطح زمین اور زیر زمین حیات وزندگی کے لیے آمادہ ہُوئے ہیں ان میں سے ہرایک اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ پہاڑ اور صحرا، درّے اور جنگل ، دریا اور چشمے جن میں سے ہرایک حیات کوجاری رکھتے اور اس کے حالات کوہم آہنگ کرنے کے لیے ایک نقش مؤثر رکھتے ہیں،دوسری نشانیاں ہیں ۔ لاکھوں قسم کی نبا تات و حشرا و حیوانات(جی ہاں لاکھوں قسم کے )ہرایک اپنے خصوصیات اورعجائبات کے ساتھ،جوزمین شناسی نباتات شناسی اورحیوان شنانسی کی کتابوں کے مطالعہ کے وقت انسان کوحیرت میں ڈبو دیتی ہے ، دوسری نشانیاں ہیں ۔ اس کرّہ خاکی کے گوشہ و کنار میں ایسے ایسے عمدہ اسرار ہیں کہ شاید بہت ہی کم افراد ان کی طرف توجہ کرتے ہیں، لیکن ماہرین کی محققا ن تطروں نے اُن سے پردہ اٹھادیاہے،اور آفر یدگار کی عظمت کوواضح وآشکار کردیاہے ۔ ہم یہاں اگردنیا کے ایک مشہور ماہر فن کی باتوں کے ایک گوشہ کی طرف، جس نے اس سلسلے میں کافی مطالعہ کیاہے، ذراتوجہ دیں تونامناسب نہ ہوگا۔ کرسی مو ریسین کہتاہے ۔:عوامل طبعی کی تنظیم میں انہتائی وقت اور بار یک بینی سے کام لیاگیاہے، مثلاً اگر کرّہ زمین کا خارجی قشر ، اس سے کہ جواب ہے دس حصّہ زیادہ ضخیم ہوتا، توآ کسیجن... یعنی زندگی کااصل مادہ ،وجود میں نہ آتا ، یااگرسمندروں کی گہرا ئی موجودہ گہرائی سے کچھ حصّہ زیادہ ہوتی تواس وقت زمین کاسارا آکسیجن اور کاربن جذب ہوجاتا ،اور پھر سطح زمین پر نباتی یاحیوانی زندگی کاکسی قسم کا امکان باقی نہ رہتا ۔ ایک دوسری جگہ قشر ہوائی کے بارے میں ،جواطراف زمین کوہرطرف سے گھیر ے ہُوئے ہے ،کہتاہے : اگر اطراف زمین کی ہوا موجود حالت سے تھوڑ ی سی پتلی اور رقیق ہوتی، تووہ شہابِ ثاقب جو ہر روز لاکھوں کی تعداد میں زمین کی طرف جذب ہوتے ہیں، اور زمین سے باہر کی اسی فضا میں (قشر ہواسے ٹکرانے کی وجہ سے ) نابودہوجاتے ہیں،ہمیشہ سطح زمین تک پہنچتے اور اس کے ہر گوشہ کونقصان پہنچاتے ۔ اور اگر شہابوں کی حرکت کی سرعت جتنی ہے اس سے کم ترہوتی ، (توہر گز ہواکے ساتھ ٹکرانے سے نہ پھٹنے )وہ سب کے سب سطح زمین پرآکرگرتے، اوران کی تباہ کاری کانتیجہ معلوم تھا ۔ ایک اوردوسری جگہ کہتاہے: اطراف زمین کی ہوا میں صرف اکیس فی صد آکسیجن ہے... گرہوا میں موجود ہ آکسیجن کی مقدار اکیس فی صد کی بجائے پچاس فی صد ہو تی ، تواس عالم کے تمام جلنے والے مواد جل کرخاکسترہو جاتے اور اگر کوئی چنگاری جنگل کے کسی درخت تک پہنچ جاتی تو تما م جنگل مکمل طورپر راکھ ہوجاتے ۔ زمین پر محیط ہوا کی موٹائی اس قدر ہے کہ سُورج کی شعاعوں کواتنی مقدار میں زمین کی طرف عبور کرنے دیتی ہے کہ جتنی مقدار نباتات کی رشد اورنشو ومنا کے لیے ضروری ہے، اور تمام مضر جراثیم کوفضا ء میں ہی معدوم کردیتی ہے، اور مفید ویٹا منون کو ایجاد کرتی ہے ۔ یامختلف بخارات کاوجودجوطویل زمانوں کے عرصہ میں زمین کی گہرائیوں سے باہر نکلاہے، اور ہوا میں پھیل گیاہے،اوران میں زیادہ ترہیں بھی زہر یلی گیسیں،لیکن اس کے باوجودزمین کے محیط ہوا میں آلودگی پیدا نہیں ہوئی، اورہمیشہ سے اسی یکساں حالت میں جوحیات انسانی کوجاری رکھنے کے لیے مناسب ہے، باقی ہے ۔ وہ عظیم دستگاہ جواس عجیب توازن کوایجاد کرتی ہے، اور یکسانیّت کی حفاظت کرتی ہے، وہی بڑے بڑے دریا اور سمندرہیں،جن کے وجود کے فیض سے ، مواد حیاتی و غذائی،بارش واعتدال ہواو نباتات اور آخر میں خود انسان، زندگی حاصل کرتے ہیں ۔ جو شخص حقیقت کا اداراک رکھتاہے اُسے چاہیئے کہ سمندر کی عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کردے (اور سمندرکے پیدا کرنے والے )اور اس کی نعمتوں کاشکر گزار ہو(١) ۔ بعد والی آ یت میں مزید کہتاہے:خود تمہارے وجود میں بھی خدا کی بہت سی نشانیاں موجود ہیں(و فی انفسکم) ۔ کیاتم آنکھیں نہیں کھولتے ،اور حق کی ان تمام آ یات اور ظاہر نشانیوں کونہیں دیکھتے ( افلا تبصرو ن) ۔ بلاشک انسان عالم ہستی کاایک عجوبہ ہے ، اور جوکچھ عالم کبیر میںوہ سب کچھ اس عالم صنعیر میں بھی موجُود ہے ، بلکہ اس میں ایسے عجائبات ہیں جودُنیا میں کسی جگہ بھی نہیں ہیں ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ انسان اس ہوش و عقل وعلم کے ہوتے ہُوئے، اور اس تمام خلا قیت وابتکارات اورعجیب و غریب صنائع کے باوجود،پہلے دن ایک چھوٹے سے بے قدر وقیمت نطفہ کی صورت میں تھا، لیکن جونہی کہ وہ عالم رحم میں قرار پاتاہے تو عجیب سرعت کے ساتھ تکامل و ارتقاء کی منزلیں طے کرتاہے، روز بروز شکل تبدیل کرتاہے، اور لمحہ بہ لمحہ وگرگوں ہوتا ہے ، اوروہ نطفئہ ناچیز مختصر سی مدت میں انسان ِ کامل میں تقسیم ہوجاتاہے ۔ ایک خلیہ جواس کے اجزاء وبدن کاایک چھوٹا ساحِصّہ ہے ، تہ بہ تہ اورعجیب وغریب ساخت رکھتاہے، اور ماہرین کے قول کے مطابق ایک صنعتی شہر کے برابر تشکیلات اس میں موجود ہیں ۔ علم الحیات کاایک ماہر کہتاہے ،:یہ عظیم شہر، ہزار ہاعجیب وغریب عمدہ در وازوں، ہزار ہاکار خانوں، سٹوروں، آب رسانی کے جال ، فرماندہی کامرکزاس کی فراواں تاسیسات،عمارتوں بہت سے رابطوں اور دوسرے حیاتی کاموں کے ساتھ، وہ بھی ایک چھوٹے سے خیلے ہیں ، پیچیدہ تریں اور عجیب ترین شہر وں میں سے ہے ، اگرہم چاہیں کہ ایسی عمارتیں بنائیں، جووہی اعمال انجام دیں.. . اورہم ہرگزاس بات پر قادر نہیں ہیں، توہمیں دسیوں ہزار ایکڑ زمین کوتاسیسات ،مختلف عمارتوں اور پیچیدہ آلات والی مشینوں کے نیچے لے جانا پڑے گا، تاکہ وہ اس قسم کے پر و گرام کو انجام دینے کے لیے آمادہ ہوں ،لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ دستگاہ آفرینش نے ان سب کو پندرہ میلیونیم ملی میٹرکے برابر رقبہ میں قرار دیاہے ( ٢) ۔ وہ کار خانے جوانسان کے بدن میں ہیں، مثلاً دل ، گردے ، پھیپھڑے ،اور خاص طورسے دسیوں ہزار کلومیڑ کی موٹی اور پتلی رگیں ،یہاں تک کہ وہ بال جیسی باریک رگیں جوآنکھ سے نظر نہیں آتیں اور وہ پانی ، غذ ااور ہواپہنچانے کاکام انجام دیتی ہیں ، (دس ملیون میلیار)بدن انسانی کے خلیے ہیں، اور مختلف حواس، جیسے بنیائی ،شنوائی اور دوسرے حواس میں سے ہرایک اس کی عظیم آ یات میں سے ہرایک آ یت ہے ۔ اور سب سے زیادہحیات و زندگی کامعما ہے ، جس کے اسرار اسی طرح سے غیر شناختہ رہے ہُوئے ہیں اورانسان کی رُوح وعقل کی عمارت ہے ، جس کے ادراک سے تمام انسانوں کی عقلیںعاجز ہیں اور یہ وہ منزل ہے کہ انسان بے اختیار خداکی تسبیح اورحمد وثنا کے لیے بول اٹھتاہے ، اوراس کی بارگاہ ِ عظمت میں سرتعظیم جھکا دیتاہے، اوران اشعار کے ساتھ ترنم کرتاہے : فیکم یااعجوبة الکون غداالفکرکیلا انت حیرت ذوی اللب وبلبلت العقولا کلما قدم فکری فیک شیراًفرمیلا ناکصاً یخبط فی عمیاء لا یھدی سبیلا اے عالم ہستی کے اعجوبہ (اے خدائے بزرگ )تجھ میں فکر خستہ و ماندہ ہو کر رہ گئی ہے ۔ تو نے صاحبانِ فکر و دماغ کوحیران کردیاہے، اور عقلوں کومضطرب بنادیاہے ۔ جس وقت میری فکر تجھ سے ایک بالشت قریب ہوتی ہے ، توایک میل فرار کرجاتی ہے۔ ہاں وہ پیچھے کی طرف پلٹ جاتی ہے، اور تاریکیوں میں غرق ہوجاتی ہے، اوراُسے کوئی راستہ نظر نہیں آ تاہے ۔ ایک حدیث میں آ یا ہے کہ پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: من عرف نفسہ فقد عرف ربہ۔ جوشخص اپنے آپ کوپہچان لے گاوہ اپنے خداکو پہچان لے گا ( ٣) ۔ ہاں ! خود شناسی تمام مراحل میں خداشناسی کی راہ ہے ۔ افلا تبصرون (کیاتم نہیں دیکھتے )کی تعبیر ایک لطیف تعبیر ہے، یعنی یہ آ یات ِ الہٰی تمہارے ارد گرد، تمہاری جان کے اندر ، تمہارے سارے پیکرمیں پھیلی ہوئی ہیں، اگر تم تھوڑی سی آنکھ کھولوتوانہیںدیکھ لوگے اور تمہاری رُوح اس کی عظمت کے اوراک سے سیراب ہوجائے گی ۔ تیسری زیر بحث آ یت میں عظمت پروردگار کی نشانیوں کے تیسرے حصّے، اور معاد پراس کی قدرت کے بارے میں اشارہ کرتے ہُوئے فرماتاہے: تمہاری روزی آسمان میں ہے ، اور اس چیز کاتمہیں وعدہ دیاجاتاہے،(وَ فِی السَّماء ِ رِزْقُکُمْ وَ ما تُوعَدُون) ۔ اگرچہ بعض اسلامی روایات میں رزق کی اس آیت میں بارش کے حیات بخش قطرات سے تفسیر ہوئی ہے ، جوزمین میں ہرخیرو برکت کامنبع ہے، اور سُورۂ جاثیہ کی آ یہ ٥ بھی اس کے موافق ہے : وَ ما أَنْزَلَ اللَّہُ مِنَ السَّماء ِ مِنْ رِزْقٍ فَأَحْیا بِہِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہا ۔ جو کچھ خدانے آسمان سے رزق نازل کیاہے تواس کے ذریعہ مردہ زمینوں کو زندہ فرمایاہے ۔ لیکن یہ معنی ہوسکتاہے کہ آ یت کے واضح مصادیق میں سے ایک ہو ، جبکہ مفہوم رزق کی وسعت بارش کو بھی شامل ہے ، اور سُورج کی روشنی کو بھی جوآسمان سے ہماری طرف آتی ہے اور اس کانقش واثرپوری زندگی میں حد سے زیادہ محسوس ہوتاہے، اوراس طرح ہوا کو بھی جوتمام زندہ موجو دات کے لیے سبب حیات ہے ، رزق میں شامل سمجھئے ۔ یہ سب اس صورت میں ہے کہ ہم سماء کی اسی ظاہری آسمان کے ساتھ تفسیر کریں ، لیکن بعض مفسرین نے سماء کوعالم الغیب، ما وراء طبعیت اور لوح محفوظ کے معنی میں لیاہے ،کہ انسانوں کے ارزاق کی تقدیر وہاں سے ہوتی ہے ۔ البتہ دونوں معانی میں جمع ممکن ہے، اگرچہ پہلی تفسیر زیادہ واضح اورروشن نظر آتی ہے۔ باقی رہا ماتوعدون(جس کاتمہیں وعدہ دیاجاتاہے) کاجملہ، توہو سکتاہے ، کہ یہ مسئلہ رزق اوراس سلسلے میں وعدۂ الہٰی پرایک تاکیدہو، یابہشت موعودکے معنی میں ہو، کیونکہ والنجمکی آ یہ ١٥ میں یہ آ یاہے کہ عِنْدَہا جَنَّةُ الْمَأْوی بہشت موعود سدرة المنتہیٰ کے پاس آسمانوں میں ہے اور یاہر قسم کی خیرو برکت یااس عذاب کی طرف اشارہ ہے جوآسمان سے نازل ہوتاہے،اور یاان تمام مفاہیم کی طرف ناظر ہے ،کیونکہ ماتو عدونکے جملہ کا مفہوم وسیع اور کشادہ ہے ۔ بہرحال ان تینوں ا یات میں ایک لطیف ترتیب پائی جاتی ہے :پہلی آ یت کرّہ زمین میں انسان کے عوامل وجود کے بارے میں گفتگو کرتی ہے ،اور دوسری آیت خودانسان کے وجود کے بارے میں ، اور تیسری آ یت اس کے دوام و بقاء کے عوامل کے بارے میں ۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ:وہ چیز جوانسان کی بصیرت میں مانع ہے، اوراس کواسرار آفرینش کے مطالعہ،یعنی اسرارزمین اورخود اس کے وجود کے عجائب سے آگاہ ہونے سے باز رکھتی ہے، وہ روزی کی حرص ہے ، خدا آ یت کے آخر میں اطمینان دلاتاہے،کہ اس کی روزی کی ضمانت دی جاچکی ہے، تاکہ وہ راحت وآر ام کے ساتھ عالم ہستی کے عجائبات میں غوروفکر کرسکے ، اور افلا تبصرونکاجملہ اس کے حق میں پورا ہو ۔ لہٰذا اس مطلب کی تاکید کے لیے آخر ی زیربحث میں قسم کھاتے ہُوئے کہتاہے :آسمان وزمین کے خداکی قسم یہ مطلب حق ہے ، ٹھیک اسی طرح جیسے تم بات کرتے ہو(فَوَ رَبِّ السَّماء ِ وَ الْأَرْضِ ِنَّہُ لَحَقّ مِثْلَ ما أَنَّکُمْ تَنْطِقُونَ) ۔ معاملہ یہاں تک پہنچ گیاہے کہ خدا اپنی عظمت وقدرت کے باوجود، بہت شک کرنے والوں، دیرسے یقین کرنے والوں ضعیف النفس اورحریص بندوں کواطمینان دلانے کے لیے قسم کھا رہاہے ، کہ رزق وروزی اورقیامت کے ثواب و عقاب کے وعدوں کے بارے میں جووعدہ تم سے کیاگیاہے، وہ سب حق ہے اور میں شک وشبہ کی کوئی بات نہیں ہے (٤) ۔ مِثْلَ ما أَنَّکُمْ تَنْطِقُون (جس طرح تم بات کرتے ہو) کی تعبیرایک لطیف اورجچی تلی تعبیرہے ، ایک محسوس ترین چیز کے بار ے میں کیونکہ ،بعض اوقات انسان کے دیکھنے اور سننے میں توخطااور غلطی واقع ہوجاتی ہے ،لیکن بات کرنے میں اس قسم کی کوئی خطا اور غلطی نہیں ہوتی کہ انسان یہ احسان کرے کہ اس نے بات کی ہے ، حالانکہ اس نے بات نہ کی ہو، لہٰذا قرآن کہتاہے : جس قدر تمہارا بات کرنا تمہارے لیے ایک محسوس وحقیقت ہے اور واقعیت رکھتاہے، رزق اور خدائی وعدے بھی اسی طرح ہیں ۔ اس سے قطع نظر،بات کرنے کا مسئلہ،خود پروردگار کی ایک عظیم ترین روزی اور نعمتوں میں سے ہے ، کیونکہ انسان کے سواکسی بھی زندہ موجودکو یہ نعمت نہیں ملی، اورانسانوں کی اجتماعی زندگی،تعلیم وتربیت،علوم ودانش کے انتقال،اور زندگی کے مشکلات کے حل کے بارے میں بات کرنے کااثر ونفوذ کسِی سے پو شیدہ نہیں ہے۔ ١۔"" راز آفرینش انسان "" تالیف"" کرسی موریس""ترجمہ محمد سعیدی "" ازصفحہ ٣٣تاصفحہ ٣٦۔ ٢۔"" سفری بہ اعماق وجود انسانی "" (بخش سلولھا) ۔ ٣۔سفینہ البحار ،جلد٢ ،صفحہ ٦٠٣ مادئہ "" نفس"" ۔ ٤۔"" انہ""کی ضمیر کامرجع کیاہے؟ اس میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے بعض اسے "" رزق""کی طرف "" ماتو عدون ""کی طرف اور بعض اس کو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اورقرآن کی طرف راجع قرار دیتے ہیںلیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:20-23
٣۔حق تعالیٰ کی نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے آمادگی ضروری ہے۔
جس وقت قرآن کی آ یات ،عالم ہستی میں خدا کی نشانیوں اوراسرار آفرینش کے متعلق گفتگو کرتی ہیں، تو کبھی فر ماتاہے: یہ ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جوکان دھر کے سنتے ہیں ( لِقَوْمٍ یَسْمَعُون)(یونس ۔٦٧) ۔ کبھی کہتاہے : ان لوگوں کے لیے جوغور وفکر کرتے ہیں (لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ)(رعد۔٣) ۔ کبھی فر ماتاہے : ان لوگوں کے لیے جو تعقل کرتے ہیں ( لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ)(رعد۔٤) ۔ کبھی کہتا ہے : ان لوگوں کے لیے جوبہت زیادہ صبر کرنے والے اور بہت زیادہ شکر گزار ہیں (لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ)(ابراہیم ۔ ٥) ۔ کبھی کہتاہے :ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں ( لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ) (نحل ۔ ٧٩) ۔ کبھی کہتاہے : صاحبان دماغ کے لیے نشانیاں ہیں ( لَآیاتٍ لِأُولِی النُّہی )(طٰہٰ۔٥٤) ۔ کبھی فرماتاہے:جوہوش میں سرشار ہیں (لَآیاتٍ لِلْمُتَوَسِّمینَ) (حجر۔٧٥) ۔ اوربالا آ خر کبھی یہ کہتاہے ! صاحبان ِ علم کے لیے نشانیاں ہیں(لَآیاتٍ لِلْعالِمین) (روم ۔٢٢) ۔ زیربحث آ یات میں کہتاہے کیاتم دیکھتے نہیں ؟کہ خدا کی آیتیں، زمین میں اور تمہارے وجود کے اندر، ان لوگوں کے لئے جوچشم بینا رکھتے ہیں، واضح وآشکار ہیں ۔ یہ سب تعبیریں اچھی طرح سے اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بے شمار آ یات اور بہت سی نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے جواس کے وجود پاک کے لیے ، ساریعالم آفر ینش میں موجودہیں، ایک آمادہ زمین کی ضرورت ہے ، ایک بنیاآنکھ ، ایک سننے والا کان ، ایک بیدار فکر اورایک باہوش دل ، اورایک ایسی روح جوحقائق کی پیاسی اوراُسے قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوا ضروری ہے، ورنہ ممکن ہے کہ انسان سالہاسال ان آ یات کے درمیان زندگی بسرکرتارہے، لیکن جانوروں کی طرح اصطبل اور گھاس کے علاوہ کسی چیز کونہ پہچانے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:20-23
٤۔ رزق حق ہے ۔
منجملہ ان امور کے جن پر ایک دقیق نظام حاکم ہے ،یہی روزی کامسئلہ ہے ، جس کی طرف زیر بحث آیت میں واضح اشارے ہُوئے ہیں ،یہ ٹھیک ہے کہ زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تلاش و کوشش شرط ہے ،اور کاہلی وسستی محرومیّت اور درماندگی کاسبب بنتی ہے ،لیکن یہ گمان کرلینا بھی اشتباہ اورغلط ہے کہ حرص وطمع اور نامناسب کاموں سے انسان کی روزی میں اضافہ ہوتاہے،اور عفت و متانت اورخود داری سے روزی کم ہوجائے گی ۔ اسلامی احادیث میں اس سِلسلے میں عمدہ تعبیریں نظر آ تی ہیں . ایک حدیث میں رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے منقول ہے : ان الرزق لایجرہ حرص حریص،ولا یصرفہ کرہ کارہ: روزی خداکی طرف سے مقدر شدہ ہے ،حریص کاحرص اُسے جلب نہیں کرتا،اور نہ ہی لوگوں کی ناپسند یدگی اُسے روکتی ہے ( ١) ۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے آ یاہے کہ آ پ علیہ السلام نے اس شخص کے جواب میں جس نے موعظ کاتقاضا کیاتھا فرمایا: وان کان الرزق مقسو ماً فالحرص لماذا؟... حب رزق تقسیم شدہ ہے توپھر حرص ولالچ کس بنا پر ....(٢) ۔ ان بیانات کامقصد یہ نہیں ہے کہ کوئی کوشش ہی نہ کی جائے ، بلکہ حریص اور لالچ لوگوں کو.رزق کے مقدر ہونے کی وجہ سے ان کے حرص سے روکاگیاہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ احادیث اسلامی میں جلب رزق یااس کے موانع کے عنوان سے بہت سے امور بیان کیے گئے ہیں، جن سے ہرایک اپنی نوعیّت کار آمد ہے۔ والذی بعث جدی بالحق نبیّا ان اللہ تبارک وتعالیٰ یرزق العبد علی قدر المروة،وان المعونة تنزل علی قدر علی قدرشدة البلائ: اس ذات کی قسم جس نے میرے جد کوحق کے ساتھ بنی بناکر بھیجاہے کہ خدا وند تعالیٰ انسان کواس کی مروت وشخصیّت کے مطابق روزی دیتاہے، اور پر وردگار کی کمک اور مدد شدتِ بلا اورحادثہ کی مناسبت سے ہوتی ہے( ٣) ۔ ایک اور دوسری حدیث میں انہی حضرت سے منقول ہے : کف الاذی و قلة الصخب یزیدان فی الرزق: لوگوں کوتکلیف وآزارپہنچانے سے رُکنا اور شور شرابہ اورجھگڑے کوختم کرنے سے ،روزی میں اضافہ ہوتاہے (٤)۔ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل ہوا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: التوحید نصف الدین واستنزال الرزق بالصدقة: توحید نصف دین ہے اور روزی کوراہِ خدا میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے نازل کرو (٥)۔ اس طرح کچھ اور امور جیسے گھر کے اطراف کوصاف ستھر ارکھنا اور برتنوں کودھونا روزی کی زیادتی کے اسباب میں سے بیان کیے گئے ہیں ۔ ١۔"" نورالثقلین ""،جلد٥،صفحہ ١٢٦۔ ٢۔"" نورالثقلین ""،جلد٥،صفحہ ١٢٦۔ ٣۔۔"" نورالثقلین ""،جلد٥،صفحہ ١٢٥(حدیث ٣١) ۔ ۴۔ وہی مدرک جلد٥،صفحہ ١٢٥(حدیث ٣٥ و٣٧) ۔ ٥۔ وہی مدرک جلد٥،صفحہ ١٢٥(حدیث ٣٥ و٣٧) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:20-23
سوره ذاریات/ آیه 20- 23
٢٠۔وَ فِی الْأَرْضِ آیات لِلْمُوقِنینَ ۔ ٢١۔وَ فی أَنْفُسِکُمْ أَ فَلا تُبْصِرُونَ ۔ ٢٢۔وَ فِی السَّماء ِ رِزْقُکُمْ وَ ما تُوعَدُونَ ۔ ٢٣۔ فَوَ رَبِّ السَّماء ِ وَ الْأَرْضِ ِنَّہُ لَحَقّ مِثْلَ ما أَنَّکُمْ تَنْطِقُونَ۔ ترجمہ ٢٠۔اورزمین میں طالبانِ حق کے لیے نشانیاں ہیں ۔ ٢١۔اورخود تمہارے وجود کے اندر( بھی آ یات ہیں)کیاتم دیکھتے نہیں؟! ٢٢۔تمہاری روزی آسمان میں ہے ، اور وہ جس کاتمہیں وعدہ دیاجاتاہے ۔ ٢٣۔قسم ہے آسمان وزمین کے پر وردگار کی کہ یہ مطلب حق ہے ، جیساکہ تم گفتگو کرتے ہو ۔