يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ أَن تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِن بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُم بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
O People of the Book! Certainly Our Apostle has come to you, clarifying [the Divine teachings] for you after a gap in [the appearance of] the apostles, lest you should say, ‘There did not come to us any bearer of good news nor any warner.’ Certainly, there has come to you a bearer of good news and a warner. And Allah has power over all things.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:19
[Pooya/Ali Commentary 5:19] Aqa Mahdi Puya says: Fatratin means an interval in the process of preaching, not discontinuation or breakdown of the institution of vicegerency of Allah on the earth. Refer to the commentary of al Baqarah: 30. The promise of sending the comforter or the spirit of God was fulfilled in the advent of the Holy Prophet but the Jews and the Christians disbelieved in him.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:19
ایک سوال اور اس کا جواب
ممکن ہے کہ اس مقام پر کہا جائے کہ ہمارے عقیدے کے مطابق تو انسانی معاشرہ ایک لحظہ کے لئے بھی خدا ئی نمائندے اور ا س کے بھیجے ہو ئے افراد سے خالی نہیں ہوسکتا لہٰذا ” فترت“ کا ایسا دور کیونکر ہو سکتا ہے ۔ تو جہ رہے کہ قرآن کہتا ہے :” علی فترة من الرسل“ یعنی اس دور میں رسول نہیں تھا ۔ یہ بات اس کے خلاف نہیں کہ اس دور میں اوصیاء موجود ہوں ۔ بہتر الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ ” رسول “ ان ہستیوں کو کہتے ہیں جو وسیع و عریض تبلیغات پر مامور تھے ۔ لوگوں کو بشارتیں اور نزارتین دیتے تھے ، معاشروں کا سکوت توڑتے تھے اور اپنی آواز تمام لوگوں کے کانوں تک پہنچاتے تھے ۔ لیکن سب کے سب اوصیاء ایسی ماموریت اور ذمہ داری نہ رکھتے تھے یہاں تک کہ ممکن ہے وہ بعض اجتماعی عوامل کی وجہ سے پوشیدہ طور لوگوں میں زندگی گزارتے ہوں ۔ حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں ایک بیان میں فرماتے ہیں ۔ اللھم لاتخلوا الارض من قائم للہ بحجة اما ظاہراً مشھوراً اوخائفاً مغموراً لئلا تبطل حجج اللہ وبیناتہ یحفظ اللہ بھم حججہ و بینا تہ حتی یودعو ھا نظرائھم ویزرعوھا فی قلوب اشباھھم۔ ہاں روئے زمین ایسے شخص کے وجود سے ہر گز خالی نہیں ہوتی جو حجت ِ خدا کے ساتھ قیام کرے ، وہ آشکار او رمشہور ہو یا مخفی اور نہ پہچانا ہو تاکہ خدا ئی احکام ، دلائل او رنشانیاں ختم نہ ہو جائیں ( اور وہ لانھیں تحریف اور دستبردسے محفوظ رکھیں ) خدا ن کے ذریعے اپنے دلائل اور نشانیوں کی حفاظت کرتا ہے تاکہ وہ انھیں اپنے جیسے افراد تک پہنچا دیں ، آہستہ آہستہ خرافات، شیطانی وسوسے، تحریفات اور تعلیماتِ الہٰی سے بے خبری پھیلی رہے گی ایسے میں ممکن ہے کہ کچھ لوگ ذمہ داریوں سے فرار کے لئے ایسی صورت کو بہانہ بنائیں تو اس صورت میں خدا آسمانی جوانمردوں کے ذریعے اس بہانے کو منقطع کردیتا ہے ۔ 1 آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے (وَاللهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر) ۔یعنی پیغمبروں کو بھیجنا اور ان کے جانشینوں کو دعوت حق کی نشر و اشاعت کے لئے بھیجنااس کے قدرت کے سامنے آسان سا کام ہے ۔ ۲۰۔ وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَاقَوْمِ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ إِذْ جَعَلَ فِیکُمْ اٴَنْبِیَاءَ وَجَعَلَکُمْ مُلُوکًا وَآتَاکُمْ مَا لَمْ یُؤْتِ اٴَحَدًا مِنْ الْعَالَمِینَ ۔ ۲۱۔ یَاقَوْمِ ادْخُلُوا الْاٴَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِی کَتَبَ اللهُ لَکُمْ وَلاَتَرْتَدُّوا عَلَی اٴَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِین۔ ۲۲۔قَالُوا یَامُوسَی إِنَّ فِیہَا قَوْمًا جَبَّارِینَ وَإِنَّا لَنْ نَدْخُلَہَا حَتَّی یَخْرُجُوا مِنْہَا فَإِنْ یَخْرُجُوا مِنْہَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ ۔ ۲۳۔ قَالَ رَجُلاَنِ مِنْ الَّذِینَ یَخَافُونَ اٴَنْعَمَ اللهُ عَلَیْہِمَا ادْخُلُوا عَلَیْہِمْ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوہُ فَإِنَّکُمْ غَالِبُونَ وَعَلَی اللهِ فَتَوَکَّلُوا إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ۔ ۲۴۔ قَالُوا یَامُوسَی إِنَّا لَنْ نَدْخُلَہَا اٴَبَدًا مَا دَامُوا فِیہَا فَاذْہَبْ اٴَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَإِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ (۲۴) قَالَ رَبِّ إِنِّی لاَاٴَمْلِکُ إِلاَّ نَفْسِی وَاٴَخِی فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ۔ ۲۵۔ قَالَ فَإِنَّہَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْہِمْ اٴَرْبَعِینَ سَنَةً یَتِیہُونَ فِی الْاٴَرْضِ فَلاَتَاٴْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ۔ ترجمہ ۲۰۔وہ وقت یاد کرو ) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اے قوم ! تم پر خدا نے جو نعمت کی ہے اسے یاد رکھو، جب اس نے تمہارے انبیاء مقرر کئے ( اور فرعونی استعمار کی زنجیر توڑدی) اور تمہیںخود اپنا مختا ر بنادیا او رتمہیں ایسی کئی چیزیں بخشیں جو عالمین میں سے کسی کو نہیں دیں۔ ۲۱۔ اے قوم ! سر زمین مقدس میں داخل ہو جاوٴ جسے خدا نے تمہارے لئے مقرر کیا ہے اور اپنے پچھلے پاوٴں نہ لوٹ جاوٴ ( اور پیچھے نہ ہٹو ) کہ خسارے میں رہو گے ۔ ۲۲۔ وہ کہنے لگے : اے موسیٰ ! اس سر زمین میں ظالم رہتے ہیں جب تک وہ نکل نہ جائیں ہم اس میں ہر گز داخل نہ ہوں گے ، وہ نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہوجائیںگے۔ ۲۳۔ ان لوگوں میں سے دو شخص دو خدا سے ڈرتے تھے اور خدا نے ( عقل، ایمان اور شجاعت کی صورت میں ) انھیں اپنی نعمت سے نوازا تھا کہنے لگے: ان کے شہر کے دروازے میں داخل ہوجاوٴ، جب تم داخل ہو گئے تو کامیاب ہو جاوٴ گے اور خدا پر توکل کرو اگر ایمان رکھتے ہو ۔ ۲۴۔ بنی اسرائیل کہنے لگے: اے موسیٰ ! جب تک وہ اس میں ہیں ہم ہر گز وہاں نہیں جائیں گے تو اور تیرا پر وردگار جائے اور ( ان سے ) جنگ کرے، ہم تو ییں بیٹھیں گے ۔ ۲۵۔ موسیٰ نے کہا: پر وردگارا ! میرا تو بس اپنے پر اور اپنے بھائی پر بس چلتا ہے ، میرے اور اس کے گنہ گار جماعت کے درمیان جدائی ڈال دے۔ ۲۶۔خدا نے موسیٰ سے فرمایا : یہ سر زمین چالیس سال تک ان کے لئے ممنوع ہے ( اور یہاس تک نہیں پہنچ سکیں گے ) اورہمیشہ زمیں میں سر گرداں رہیں گے اور اس گنہ گار جمیعت ( کے انجام ) کے بارے میں غمگین نہ ہو۔ 1۔نہج البلاغہ کلمات قصار، کلمہ ۱۴۷۔