وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا وَقَالَ اللَّهُ إِنِّي مَعَكُمْ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنتُم بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ فَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ
Certainly Allah took a pledge from the Children of Israel, and We raised among them twelve chiefs. And Allah said, ‘I am with you! Surely, if you maintain the prayer and give the zakat and have faith in My apostles and support them and lend Allah a good loan, I will surely absolve you of your misdeeds, and I will surely admit you into gardens with streams running in them. But whoever of you disbelieves after that has certainly strayed from the right way.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:12
[Pooya/Ali Commentary 5:12] For the covenant taken from the Jews refer to Deut 26: 16 and 17 mentioned in the commentary of al Baqarah: 40; and for the goodly loan, refer to the commentary of al Baqarah : 245; and for the twelve leaders, refer to Numbers 1: 1 to 15; and 13: 3 to 15. If righteousness (as defined in this verse and in al Baqarah: 177) is adopted and put in practice Allah absolves man of his sins, but whosoever deviates, after coming into the fold of the religion of Allah, shall go astray into the camp of Shaytan-a warning to those who had broken the covenant taken by the Holy Prophet at Ghadir Khum, and their followers till the day of resurrection.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 5:12-19
What is true with Jews and Christians is equally true for Muslims, and punishment of breach of covenants for like mended people, is of similar nature from his Providence. God helps those who help God and helping of God is in respect of His obedience unto Him with regard to faith in Him and His Lights, be they prophets or imams and saying prayers, paying tithe and advancing loan merely to seek His Will, undoing evil by penance and seeking forgiveness to maintain purity of hearts of negligence of these Divine Commands results in devil’s influence being dishonest to God and His Lights, bringing about Divine curse, when nothing can bring about guidance to humanity. Recapitulation of events after the Prophet’s demise fully bears out God’s punishment.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:12
”لعن “ لغت میں دھنکار نے اور دور کرنے کے معنی میں ہے
گذشتہ آیت میں بنی اسرائیل سے خدا تعالیٰ کے پیمان لینے کا ذکر ہے ۔ اب اس آیت میں ان کی پیمان شکنی اور اس کے انجام کا تذکرہ ہے، فرمایا گیا ہے: انھوں نے چونکہ اپنا عہد توڑ ڈالا لہٰذا ہم نے انھیں دھکیل کر اپنی رحمت سے دور کردیا اور ان کے دلوں کو سخت کردیا( فَبِما نَقْضِہِمْ میثاقَہُمْ لَعَنَّاہُمْ۱ ۱ ”لعن “ لغت میں دھنکار نے اور دور کرنے کے معنی میں ہے اور جب یہ لفظ خدا کے حوالے سے ہو تو اس کا معنی ہے”رحمت سے محروم کرنا“ وَ جَعَلْنا قُلُوبَہُمْ قاسِیَةً)۱۔ در حقیقت انھیں یہ دو سزائیں عہد شکنی کے جرم میں دی گئی ہیں وہ رحمت الٰہی سے بھی دورہوگئے ہوں گے اور ان کے افکار و قلوب بھی پتھر ہو گئے ہیں اور میلان و انعطاف کے قابل نہیں رہے ۔ اس کے بعد آثار قساوت کی اس طرح تشریح کی گئی ہے : وہ کلمات کی تحریف کرتے ہیں اور انھیں ان کے اصلی مقام سے بدل دیتے ہیں یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَنْ مَواضِعِہِ ) ۔ اور جو کچھ ان سے کہا گیا تھا اس کا ایک حصہ فراموش کر دیتے ہیں(وَ نَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُکِّرُوا بِہِ ) ۔ بعید نہیں کہ جو حصہ انھوں نے بھلا دیا وہ پیغمبر اسلام کی نشانیاں اور آثار ہوں جن کی طرف قرآن کی دیگر آیات میں اشارہ ہوا ہے ۔ ممکن ہے یہ اس طرف اشارہ ہو جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایک طویل عرصے تک تورات مفقود رہی پھر چند یہودی علماء نے اسے لکھا ، فطری امر ہے کہ اس کا بہت ساحصہ تو نابود ہو گیا اور کچھ میں تحریف کردی گئی یا فراموش ہو گیا ۔ لہٰذا یہودیوں کے ہاتھ جو کچھ لگا وہ کتاب موسیٰ کا کچھ تھا جس میں بہت سے خرافات ملادئے گئے تھے اور انھوں نے یہ حصہ بھی بھلا ڈالا ۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے : ہمیں ہر روز ان کی ایک نئی خیانت کا پتہ چلتا ہے ہاں البتہ ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو ان جرائم سے کنارہ کش ہے لیکن وہ اقلیت میں ہے (وَ لا تَزالُ تَطَّلِعُ عَلی خائِنَةٍ ۲ مِنْہُمْ إِلاَّ قَلیلاً مِنْہُمْ ) ۔ آخر میں پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا ہے کہ ان سے صرف نظر کرلیں اور چشم پوشی کریں کیونکہ خدا نیک لوگوں کو پسند کرتا ہے (فَاعْفُ عَنْہُمْ وَ اصْفَحْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنین) ۔ آیت کے اس حصے سے کیا مراد ہے کہ اس صالح اور نیک اقلیت کے گذشتہ گناہوں سے صرف نظر کریں یا غیر صالح اکثریت کے گناہوں سے ۔ آیت کا ظاہر دوسرے مفہوم کو تقویت دیتا ہے کیونکہ صالح اقلیت نے تو کوئی خیانت نہیں کی کہ جس سے عفو وبخشش کی جائے ۔ مسلم ہے کہ یہاں در گذر اور عفو ان کا تکالیف سے متعلق ہے جو انھوں نے ذات پیغمبر کو پہنچا ئی تھیں اور یہ معافی اسلام کے ہدف اور اصول سے متعلق نہیں ہے کیونکہ ان میں تو معافی کوئی معنی نہیں ۔ ۱ لفظ ”قاسیة--“ ”قساوت“ کے مادہ سے ہے، اور سخت پتھروں کے لیے استعمال ہوتاہے اسی مناسبت سے جو لوگ حقائق سے رغبت اور میلان کا کوئی اظہار نہ کریں، ان کے لیے بھی استعمال ہوتاہے۔ ۲” خائنة “ اگر چہ اسم فاعل ہے لیکن یہاں مصدری معنی میں استعمال ہوا ہے اور” خیانت“ کا معنی دیتا ہے ، عربی ادب میں اسم فاعل مصدری معنی میں آتا رہتا ہے ۔ مثلاً عافیة و خاطیة اور یہ احتمال بھی ہے کہ ” خائنة“ گروہ کی صفت ہو جو مقدر ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:12
پیمان شکنی کے باعث انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا
اس سُورہ کی ابتداء میں ایفائے عہد کے مسئلہ کی طرف اشارہ ہوچکاہے۔ مختلف طریقوں سے اس کی تکرار بھی کی گئی ہے۔ مندرجہ بالا آیت بھی اسی مناسبت سے ہے شاید یہ پَے در پَے سب تاکیدیں جو ایفائے عہد کے بارے میں اور پیمان شکنی کی مذمّت کے لیے ہیں، پیمان ِ غدیر کی اہمیّت واضح کرنے کے لیے ہوں جن کا ذکر آیہ ۶۷ میں آئے گا ۔ زیر بحث آیت کی ابتداء میں ہے: ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ وہ ہمارے احکام پر عمل کریں اور اس پیمان کے بعد ہم نے ان کے لیے بارہ رہبر اور سرپرست بھیجے تا کہ ان میں سے ہر ایک بنی اسرائسل کے بارہ گروہوں میں سے ایک ایک کی سرپرستی کرے(وَ لَقَدْ اٴَخَذَ اللَّہُ میثاقَ بَنی إِسْرائیلَ وَ بَعَثْنا مِنْہُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقیباً ) ۔ ”نقیب“ کا مادہ ہے ”نقب“ (بر وزن ”نقد“)جو بڑے سوراخوں اور خصوصاً زیر زمین راستوں کا معنی دیتاہے۔ کسی گروہ کے سر براہ اور رہبر کو اس لیے نقیب کہتے ہیں کہ وہ اس گروہ کے اسرار سے آگاہ ہوتاہے گویا اس نے بیچ میں ایک نقب لگائی ہے جس کی وجہ سے وہ اس گروہ کی وضع اور حالات سے آگاہ ہوگیاہے بعض اوقات ”نقیب“ ایسے شخص کو کہا جاتاہے جو کسی گروہ کا سردار نہیں ہوتا اور صرف ان کی پہچان کا ذریعہ ہوتاہے ۔ فضائل کو بھی مناقب اسی لیے کہتے ہیں کہ ان سے آگاہی بھی جستجو اور تحقیق کرکے ہی حاصل کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین نے زیر بحث آیت میں ”نقیب“ کا معنی آگاہ اور اسرار سے مطلع ہی کیا ہے لیکن یہ بہت بعید نظر آتاہے کیونکہ تاریخ و حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ نقبائے بنی اسرائیل میں سے ہر ایک اپنے گروہ اور قبیلے کا سرپرست تھا تفسیر روح المعانی میں ابن عباس سے منقول ہے: انہم کانوا وزراء و صاروا انبیاء بعد ذلک یعنی……نقبائے بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وزیر تھے جو بعد میں منصب نبوّت پر فائز ہوئے۔۱ پیغمبر اسلام کے حالات میں مرقوم ہے کہ آپ نے شب عقبہ کو حکم دیا کہ نقبائے بنی اسرائیل کی تعداد کے مطابق اپنے میں سے بارہ نقیب منتخب کرو۔ مسلماً ان کی ذمہ داری بھی یہ تھی کہ اس گر وہ کی رہبری کریں۔۲ یہ امر جاذبِ نظر ہے کہ طُرق اہل سنت سے بہت سی روایات ایسی وارد ہوئی ہیں جن میں پیغمبر اسلام کے بارہ خلفاء اور جانشینوں کی طرف اشارہ کیا گیاہے اور ان کی تعداد کا تعارف نقبائے بنی اسرائیل کے تعداد کے حوالے سے کروایا گیاہے۔ ان میں سے بعض روایات ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔ ۱۔ اہل سنت کے مشہور امام احمد بن حنبل اپنی مسند میں مسروق سے نقل کرتے ہیں وہ کہتاہے: میں نے عبد اللہ بن مسعود سے سوال کیا کہ اس اُمّت پرکتنے افراد حکومت کریں گے تو ابن مسعود نے جواب دیا: لقد سئلنا رسول اللہ فقال اثنی عشر کعدة نقباء بنی اسرائیل ہم نے پیغمبر خدا سے یہی مسئلہ پوچھا تھا، انھوں نے جواب میں فرمایا کہ بارہ افراد نقبائے بنی اسرائیل کی تعداد کے مطابق۔3 ۲۔ تاریخ ابن عساکر میں ابن مسعود سے منقول ہے وہ کہتے ہیں: میں نے پیغمبر اسلام سے سوال کیا کہ اس اُمّت پر کتنے خلفاء حکومت کریں گے، تو آپ نے فرمایا: ان عدة الخلفاء بعدی عدة نقباء موسیٰ میرے بعد کے خلفاء کی تعداد نقبائے موسیٰ کی تعداد کے برابر ہے۔4 ۳۔ منتخب کنز الاعمال میں جابر بن سمرہ سے منقول ہے: نقبائے بنی اسرائیل کی تعداد کے برابر بارہ خلفاء اس امت پر حکومت کریں گے۔ 5 ایسی حدیث ینابیع المودة صفحہ ۴۴۵ اور البدایہ و النہایہ جلد ۶ صفحہ ۲۴۷ پر بھی منقول ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل سے خدا کے وعدہ کی یوں وضاحت کرتاہے: خدا نے ان سے کہا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں گا اور تمھاری حمایت کروں گا (و قال اللہ انی معکم) لیکن اس کے لیے چند شرائط ہیں: ۱۔ بشرطیکہ تم نماز قائم کرو (لَئِنْ اٴَقَمْتُمُ الصَّلاةَ)، ۲۔ اور اپنی زکٰوة ادا کرو ( وَ آتَیْتُمُ الزَّکاةَ)، ۳۔ میرے پیغمبروں پر ایمان لے آؤ اور ان کی مدد کرو( وَ آمَنْتُمْ بِرُسُلی وَ عَزَّرْتُمُوہُمْ )6 ۴۔ اور اس کے علاوہ مستحب مصارف اور انفاق جو خدا کو قرضِ حسنہ دینے کے مترادف ہیں سے احتراز نہ کرو ( وَ اٴَقْرَضْتُمُ اللَّہَ قَرْضاً حَسَناً) اگر اس عہد و پیمان پر عمل کرو تو میں تمھارے گذشتہ گناہ بخش دوں گا( لَاٴُکَفِّرَنَّ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ ) اور تمھیں ان باغاتِ بہشت میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں(وَ لَاٴُدْخِلَنَّکُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْاٴَنْہارُ)لیکن جو لوگ کفر، انکار اور عصیان کی راہ اپنائیں ، مسلم ہے کہ وہ صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں(فَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذلِکَ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَواء َ السَّبیل) ۔ اس بارے میں کہ قرآن مجید میں انفاق کے لیے خدا کو قرض دینے کی تعبیر کیوں استعمال کی گئی ہے، ضروری وضاحت تفسیر نمونہ ج۲ ص۱۲۹پر (اُردو ترجمہ میں) کی جاچکی ہے۔ ایک سوال یہاں باقی رہ گیاہے اور وہ یہ کہ یہاں نماز اور زکٰوة کا ذکر حضرت موسٰی(علیه السلام) پر ایمان لانے کے ذکرسے کیوں مقدم کیا گیاہے جبکہ ان پر ایمان لانا عمل سے پہلے ضروری تھا ۔ بعض مفسرین نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ ”رسل“ سے مراد یہاں پر وہ انبیاء ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے تھے نہ کہ خود حضرت موسٰی(علیه السلام) ۔ لہذا یہ حکم آئندہ سے متعلق تھا اس لیے نماز و زکٰوة کے عبد ہوسکتاہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ”رسل“ سے مراد نقبائے بنی اسرائیل ہی ہوں جن کے متعلق بنی اسرائیل سے عہد وفا لیا جا چُکاتھا (تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ بعض قدیم مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ نقبائے بنی اسرائیل خدا کے رسول تھے اور یہ احتمال ہماری مندرجہ بالا آیت کی تائید کرتاہے) ۔ ۱۳۔فَبِما نَقْضِہِمْ میثاقَہُمْ لَعَنَّاہُمْ وَ جَعَلْنا قُلُوبَہُمْ قاسِیَةً یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَنْ مَواضِعِہِ وَ نَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُکِّرُوا بِہِ وَ لا تَزالُ تَطَّلِعُ عَلی خائِنَةٍ مِنْہُمْ إِلاَّ قَلیلاً مِنْہُمْ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَ اصْفَحْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنین- ترجمہ ۱۲۔ پس ہم نے ان کی پیمان شکنی کے باعث انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا اور ان کے دلوں کو سخت کردیا (یہاں تک کہ) وہ (خدا کے) کلام میں تحریف کرتے تھے اور اس کے کچھ حِصّے کی جو ہم نے انھیں تعلیم دی تھی، اسے انھوں نے فراموش کردیا اور تمھیں ہر وقت ان کی کسی (نئی) خیانت کی خبر ملے گی مگر ان میں سے ایک چھوٹا سا گروہ (ایسا نہیں ہے) پھر بھی ان سے در گذر کرو اور صرف نظر کرو کیونکہ خدا نیک لوگوں کو پسند کرتاہے۔ ۱ تفسیر روح المعانی جلد ۶ صفحہ ۴۸ ۲ سفینة البحار (نقب) 3 مسند احمد ج۱ ص۳۹۸ طبع مصر ۱۳۱۳۔ 4فیض القدیر شرح جامع الصغیر ج۲ ص۴۵۹۔ 5 منتخب کنز العمال در حاشیہ مسند احمد ج۵ ص۳۱۲۔ 6 ”عزرتموہم“کا مادہ”تعزیر“ ہے جو منع کرنے اور مدد دینے کے معنی میں ہے بعض اسلامی سزاؤں کو اسی لیے تعزیر کہتے ہیں کہ حقیقت میں وہ گنہ گار کی مدد ہے اور اسے گناہ سے باز رکھنے کی تدبیر ہے یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ اسلامی سزائیں انتقامی پہلو نہیں رکھتیں بکلہ تربیتی پہلو رکھتی ہیں اسی لیے ان کا نام تعزیر رکھا گیاہے۔