مَا قُلۡتُ لَهُمۡ إِلَّا مَآ أَمَرۡتَنِي بِهِۦٓ أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمۡۚ وَكُنتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيدٗا مَّا دُمۡتُ فِيهِمۡۖ فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِي كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيۡهِمۡۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ
I did not say to them [anything] except what You had commanded me [to say]: ‘‘Worship Allah, my Lord and your Lord.’’ And I was a witness to them so long as I was among them. But when You had taken me away, You Yourself were watchful over them, and You are witness to all things.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:116-118
حضرت مسیح(علیه السلام) کی اپنے پیروکاروں کے شرک سے بیزاری
حضرت مسیح(علیه السلام) کی اپنے پیروکاروں کے شرک سے بیزاری یہ آیات قیامت کے دن حضرت مسیح(علیه السلام) سے گفتگو کے بارے میں ہیں اور دلیل اس کی یہ ہے کہ بعد کی چند آیات میں ہے کہ: ”ھَذَا یَوْمُ یَنفَعُ الصَّادِقِینَ صِدْقُھُمْ“ ”آج کا دن وہ دن ہے کہ جس میں سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی“ اور یہ بات مسلّم ہے کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے ۔ اس کے علاوہ (فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی کُنتَ اٴَنْتَ الرَّقِیبَ عَلَیْھِمْ) کا جملہ اس پر دوسری دلیل ہے کہ یہ گفتگو مسیح(علیه السلام) کی نبوت ورسالت کا زمانہ گزرنے کے بعد کی ہے اور آیت کی ابتدا ”قال“کے جملے ساتھ کرنا کہ جو فعل ماضی کے لیے ہے کوئی مشکل پیدا نہیں کرتا، کیونکہ قرآن مجید میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ قیامت سے مربوط مسائل زمان ماضی کی شکل میں بیان کیے گئے ہیں اور یہ چیز قیامت کے قطعی ویقینی ہونے کی دلیل ہے یعنی اس کا زمانہ آئندہ میں واقع ہونا ایسا مسلّم ہے گویا کہ وہ زمانہ ماضی میں واقع ہوچکا ہے لہٰذا اسے فعل ماضی کے صیغہ کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے ۔ بہر حال پہلی آیت یہ کہتی ہے کہ خداوند تعالیٰ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ(علیه السلام) سے کہے گا کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو الله کے علاوہ اپنا معبود قرار دو اور ہماری پرستش کرو (وَإِذْ قَالَ اللهُ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ اٴَاٴَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِی وَاٴُمِّی إِلَھَیْنِ مِنْ دُونِ اللهِ) ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ(علیه السلام) نے کوئی ایسی بات نہیں کہی ہے بلکہ صرف توحید اور عبادت خدا کی دعوت دی ہے، لیکن اس استفہام کا مطلب یہ ہے کہ اُن سے اُن کی اُمت کے سامنے اقرار لے کر اُن کی اُمت کا جرم ثابت کیا جائے ۔ مسیح علیہ السلام اس سوال کے جواب میں انتہائی احترام کے ساتھ چند جملے کہیں گے: ۱۔ پہلے خداوندتعالیٰ کو ہر قسم کے شریک وشبیہ سے پاک کرتے ہوئے کہیں گے: اے خدا! تو ہر قسم کے شریک سے پاک ہے (قَالَ سُبْحَانَکَ) ۔ ۲۔ کس طرح ممکن ہے کہ میں ایسی بات کہوں جو میرے لیے شائستہ اور مناسب نہیں ہے (مَا یَکُونُ لِی اٴَنْ اٴَقُولَ مَا لَیْسَ لِی بِحَقٍّ) ۔ حقیقت میں نہ صرف اس بات کے کہنے کی وہ اپنے سے نفی کرتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر میں اس قسم کا کوئی حق ہی نہیں رکھتا اور اس قسم کی گفتگو میں مرتبہ ومقام کے ساتھ ہرگز سازگار ہی نہیں ۔ ۳۔ اس کے بعد پروردگار عالم کے علم بے پایاں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: میری گواہ یہ حقیقت ہے کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو تجھے اس کا علم ضرور ہوتا کیونکہ تو اس سے بھی آگاہ ہے جو میری روح کے اندر ہے جبکہ میں اُس سے بے خبر ہوں جو تیری ذات پاک میں ہے، کیونکہ علام الغیوب ہے اور تمام رازوں اور پوشیدہ چیزوں سے باخبر ہے ( إِنْ کُنتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَلاَاٴَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِکَ إِنَّکَ اٴَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ) ۔ (۱) ۴۔ میں نے جو بات ان سے کہی ہے وہ صرف وہی تھی جس کے لئے تو نے مجھے مامور کیا تھا اور وہ یہ کہ میں انھیں تیری عبادت کی طرف دعوت دوں اور اُن سے کہوں کہ اس خدائے یگانہ کی پرستش کرو کہ جو میرا اور تمھارا پروردگار ہے (مَا قُلْتُ لَھُمْ إِلاَّ مَا اٴَمَرْتَنِی بِہِ اٴَنْ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّی وَرَبَّکُمْ) ۔ ۵۔ اور جس وقت تک میں اُن کے درمیان رہا ان کا نگران وگواہ تھا اور میں نے انھیں راہِ شرک اختیار نہیں کرنے دیا، لیکن جب تونے مجھے اُن کے درمیان سے اٹھالیا تو پھر تُو ہی اُن کا نگران ونگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے (وَکُنتُ عَلَیْھِمْ شَھِیدًا مَا دُمْتُ فِیھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی کُنتَ اٴَنْتَ الرَّقِیبَ عَلَیْھِمْ وَاٴَنْتَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ شَھِیدٌ) ۔ (۲) ۶۔ ان تمام باتوں کے باوجود پھر بھی حکم تو تیرا چلے گا ہی اور جو تو چاہے گا وہی ہوگا، اب اگر تو انھیں ان کے اس عظیم انحراف پر سزا دے گا تو وہ تیرے بندے ہیں اور وہ تیری سزا سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکیں گے اور تیرا یہ حق تیرے نافرمان بندوں کے لیے ثابت ہے اور اگر تو انھیں بخش دے اور ان کے گناہوں کی طرف سے چشم پوشی کرے تو توانا وحکیم ہے نہ تو تیری بخشش ہی کمزوری کی علامت ہے اور نہ ہی تیری سزا حکمت وحساب سے خالی ہے(إِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَإِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَإِنَّکَ اٴَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ) ۔ ۱۔ یہاں پر لفظ نفس کا اطلاق روح اور جان کے معنی میں نہیں ہے بلکہ نفس کا ایک معنی ذات ہے (جیسے کہتے ہیں وہ نفس بنفیس آئے) ۔ ۲۔ ”توفی“ کے معنی کے بارے میں اور یہ کہ اس سے مراد مرنا نہیں ہے، سورہٴ آل عمران کی آیت ۵۵ کے ذیل میں صفحہ ۲۴۱ پر تفصیلی بحث ہوچکی ہے (جلد۲، اردو ترجمہ)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:116-118
دوسوال اور ان کا جواب
۱۔ کیا عیسائیوں کی تاریخ میں کہیں دیکھا گیا ہے کہ وہ مریم کو اپنا معبود قرار دیتے ہوں ۔ یا یہ کہ وہ صرف تثلیث یعنی تین خداؤں ”باپ خدا“، ”بیٹا خدا“ اور ”روح القدس“ کے قائل تھے اور اس میں شک نہیں ہے کہ ان کے نظریہ کے مطابق ”روح القدس“ ”باپ خدا“ اور ”بیٹا خدا“ کے درمیان واسطہ ہے اور وہ مریم کے علاوہ ہے ۔ اس سوال کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ تو صحیح ہے کہ عیسائی حضرت مریم کو خدا تو نہیں جانتے تھے لیکن اس کے باوجود اُن کے اور اُن کے مجسمے کے سامنے مراسم عبادت سرانجام دیتے رہے تھے جیسا کہ بت پرست بتوں کو خدا نہیںسمجھتے تھے پھر بھی انھیں عبادت میں خدا کا شریک سمجھتے تھے اور زیادہ واضح الفاظ میں ”الله“ بمعنی خدا اور ”الٰہ“ بمعنی معبود میں فرق ہے، عیسائی جناب مریم کو الٰہ یعنی معبود جانتے تھے نہ کہ خدا ۔ ایک مفسّر کی تعبیرکے مطابق اگرچہ کوئی عیسائی فرقہ ”اِلٰہ“ اور ”معبود“ کا اطلاق جناب مریم پر نہیں کرتا بلکہ انھیں صرف خدا کی ماں سمجھتے ہیں، لیکن عملی طور پر اس کے سامنے خصوع خشوع اور مراسم عبادت بجالاتے ہیں، چاہے یہ نام ان کے لیے رکھیں یا نہ رکھیں ۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ بیروت میں عیسائیوں کے مجلہ ’مشرق“ کے ساتویں سال کے نویں شمارے میں پاپ بیوس نہم کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر حضرت مریم کی شخصیت کے بارے میں چند قابلِ ملاحظہ مطالب منتشر ہوئے تھے اس شمارہ میں پوری صراحت کے ساتھ لکھا تھا کہ مشرقی گرجوں میں بھی مغربی گرجوں کی طرح حضرت میرم کی عبادت کی جاتی ہے ۔ اسی مجلہ کے پانچویں سال کے چودھویں شمارے میں ایک مقالہ انستاس کرملی کے قلم سے لکھا ہوا درج تھا جس میں یہ کوشش کی گئی تھی کہ حضرت مریم کی عبادت کے مسئلہ کے سلسلہ میں عہد عتیق اور تورات سے بھی کوئی دلیل پیدا کی جائے ۔ چنانچہ وہ سانپ (شیطان) اور عورت (حوّا) کی دشمنی کی داستان کو مریم کے عنوان سے تفسیر کرتا ہے ۔ اس بناپر حضرت مریم(علیه السلام) کی پرستش اور عبادت ان میں موجود ہے ۔ ۲۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ حضرت مسیح(علیه السلام) ایسے الفاظ میں جس سے شفاعت کی بو آتی ہے اپنی اُمت کے مشرکین کے بارے میں کیوں گفتگو کرتے ہیں اور یہ کیوں عرض کرتے ہیں کہ اگر تو انھیں بخش دے تو تُو عزیز وحکیم ہے ۔ اس کے جواب میں اس نکتے کی طرف توجہ رکھنی چاہیے کہ اگر حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کا ہدف شفاعت ہوتا تو آپ یوں فرماتے کہ (اِنَّکَ اَنتَ الغَفُورُ الرَّحِیم) کیونکہ خدا کا غفور ورحیم ہونا مقام شفاعت کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ خدا کی عزیز وحکیم کے ساتھ توصیف کررہے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لیے شفاعت اور بخشش کی درخواست منظور نہیں ہے بلکہ اس میں اصلیہدف اپنی ذات سے ہر قسم کے اختیار کی نفی کرنا اور معاملہ کو پروردگار کے سپُرد کرنا ہے یعنی یہ کام تیرے ہی ہاتھ میں ہے اگر چاہے تو بخش دے اور اگر چاہے تو سزا دے اگرچہ نہ تیری سزا بغیر دلیل کے ہے اور نہ ہی تیری بخشش بغیر علّت وسبب کے ہے اور ہر حالت میں تیری قدرت وتوانائی سے تو باہر ہی ہے ۔ علاوہ ازیں یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے درمیان کسی گروہ نے اپنے اشتباہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے توبہ کی راہ اختیار کرلی ہو اور یہ جملہ اُس گروہ کے بارے میں ہو ۔ ۱۱۹ قَالَ اللهُ ھَذَا یَوْمُ یَنفَعُ الصَّادِقِینَ صِدْقُھُمْ لَھُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِی مِنْ تَحْتِھَا الْاٴَنھَارُ خَالِدِینَ فِیھَا اٴَبَدًا رَضِیَ اللهُ عَنْھُمْ وَرَضُوا عَنْہُ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ- ۱۲۰ لِلَّہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا فِیھِنَّ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ- ترجمہ ۱۱۹۔ خدا کہتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جس میں سچّوں کو ان کی سچائی فائدہ بخشے گی ۔ ان کے لیے جنت کے باغات ہیں جن کے (درختوں) کے نیچے پانی کی نہریں جاری ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، خدا اُن سے راضی وخوشنود ہوگا اور وہ خدا سے راضی اور خوشنود ہوں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔ ۱۲۰۔ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان تمام چیزوں کی حکومت الله ہی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ تفسیر ۔ تفسیر المنار، ج۷، ص۲۶۳-
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:117
[Pooya/Ali Commentary 5:117] (see commentary for verse 116)