وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِي قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ
And when I inspired the Disciples, [saying], ‘Have faith in Me and My apostle,’ they said, ‘We have faith. Bear witness that we are Muslims.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:111
[Pooya/Ali Commentary 5:111]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:111-115
حواریوں پر مائدہ کے نزول کا واقعہ
حواریوں پر مائدہ کے نزول کا واقعہ اس بحث کے بعد جو مسیح(علیه السلام) اور ان کی والدہ کے بارے میں نعمات الٰہی کے سلسلہ میں گذشتہ آیات میں بیان ہوچکی ہے ان آیات میں اُن نعمات کی طرف اشارہ کرتا ہے جو حواریوں یعنی حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے نزدیکی اصحاب و انصار کو بخشی گئی ہیں ۔ پہلے فرماتا ہے، اُس وقت کو یاد کرو جب ہم نے حواریوں کی طرف وحی بھیجی کہ مجھ پر اور میرے بھیجے ہوئے مسیح(علیه السلام) پر ایمان لے آؤ تو انہوں نے میری دعوت کو قبول کرلیا اور کہا کہ ہم ایمان لے آئے، خدایا! گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں اور تیرے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں ( وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَی الْحَوَارِیِّیْنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ قَالُوْا اٰمَنَّا وَ اشْہَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ) ۔ البتہ یہ بات ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ لفظ وحی قرآن کریم میں ایک وسیع معنی کا حامل ہے اور ان وحیوں میں منحصر نہیں ہے کہ جو پیغمبروں پر نازل ہوتی ہیں بلکہ وہ الہام بھی جو مختلف افراد کے دلوں پر ہوتے ہیں اس کے مصداق ہیں اور اسی لیے مادر موسیٰ(علیه السلام) کے بارے میں (سورہٴ قصص آیت ۷ میں) وحی کا لفظ آیا ہے ۔ (۱) یہاں تک کہ حیوانات کے طبعی و فطری الہامات کے لیے بھی قرآن میں لفظ وحی استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ شہد کی مکھیوں کے لیے ہے ۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے وہ وحی مراد ہو جو حضرت مسیح(علیه السلام) کے ذریعے اور معجزات کی شکل میں ان کی طرف بھیجی جاتی تھی، ہم نے حواریوں کے بارے میں یعنی حضرت عیسیٰ کے اصحاب اور شاگردانِ خاص کے لیے جلد دوم صفحہ ۳۳۷ پر بحث کی ہے ۔ (۲) اس کے بعد مائدہ آسمانی کے نزول کے مشہور واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: مسیح کے اصحابِ خاص نے حضرت عیسیٰ(علیه السلام) سے کہا کیا تیرا پروردگار ہمارے لیے آسمان سے غذا بھیج سکتا ہے(إِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ ھَلْ یَسْتَطِیعُ رَبُّکَ اٴَنْ یُنَزِّلَ عَلَیْنَا مَائِدَةً مِنْ السَّمَاءِ) ۔ ”مائدہ“ لغت میں خوان، دستر خوان اور طبق کو بھی کہا جاتا ہے اور اُس غذا کو بھی کہتے ہیں جو اُس میں رکھی ہوئی ہو، اصل میں یہ ”مید“ کے مادہ سے بنایا گیا ہے جس کے معنی حرکت دینے اور ہلانے کے ہیں اور شاید دستر خوان اور غذا پر مائدہ کا اطلاق اس نقل وانتقال کی وجہ سے ہی جو اُن میں صورت پذیر ہوتا رہتا ہے ۔ حضرت مسیح(علیه السلام) نے اس مطالبہ پر کہ جس میں ایسے معجزات وآیات دکھانے کے باوجود شک اور تردّد کی بو آرہی تھی، غور کیا اور انھیں تنبیہ کی اور کہا کہ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو ( قَالَ اتَّقُوا اللهَ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ) ۔ لیکن انھوںنے جلد ہی حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کو بتادیا کہ ہمارا اس مطالبہ سے کوئی غلط مقصد نہیں ہے اور نہ ہی اس میں ہماری کسی ہٹ دھرمی کی غرض پوشیدہ ہے بلکہ ہماری تمنا یہ ہے کہ ہم اس مائدہ میں سے کھائیں (اور آسمانی غذا کے کھانے سے نورانیت ہمارے دل میں پیدا ہوگی، کیونکہ غذا مسلمہ طور پر روح انسانی پر اثر انداز ہوتی ہے، اس کے علاوہ) ہمارے دلوںمیں راحت پیدا ہوگی اور اطمینان حاصل ہوگا اور یہ عظیم معجزہ دیکھنے سے ہم علم الیقین کی سرحد تک پہنچ جائیں گے اور یہ جان لیں گے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے تاکہ ہم اس پر گواہی دے سکیں (قَالُوا نُرِیدُ اٴَنْ نَاٴْکُلَ مِنْھَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ اٴَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَکُونَ عَلَیْھَا مِنْ الشَّاھِدِینَ) ۔ جب حضرت عیسیٰ(علیه السلام) ان کے اس مطالبہ میں ان کی حُسنِ نیت سے آگاہ ہوئے تو ان کی درخواست کو بارگاہ خداوندی میں اس طرح سے بیان فرمایا کہ خداوندا ہمارے لیے آسمان سے مائدہ بھیج جو ہمارے اوّل وآخر کے لئے عید ہو اور تیری طرف سے ایک نشانی شمار ہو اور ہمیں رزق عطا فرما کہ تو ہی بہترین رزی رساں ہے (قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللهُمَّ رَبَّنَا اٴَنزِلْ عَلَیْنَا مَائِدَةً مِنْ السَّمَاءِ تَکُونُ لَنَا عِیدًا لِاٴَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَةً مِنْکَ وَارْزُقْنَا وَاٴَنْتَ خَیرُ الرَّازِقِینَ) ۔ اس میں یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ(علیه السلام) نے ان کی درخواست کو بہت ہی عمدہ طریقے سے بارگاہ خداوندی میں پیش کیا، جس میں حق طلبی کی روح کا اظہار بھی پایا جاتا ہے اور اجتماعی وعمومی مصالح کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ خداوند تعالیٰ نے اس دعا کو کہ جو حسنِ نیت اور خلوص کے ساتھ دل سے نکلی تھی قبول کرلیا اور اُن سے فرمایا کہ: میں اس قسم کا مائدہ تم پر نازل کروں گالیکن اس بات پر بھی توجہ رہنی چاہیے کہ اس مائدہ کے اتر نے کے بعد تمھاری ذمہ داری بہت سخت ہوجائے گی اور اس قسم کا واضح معجزہ دیکھنے کے بعد جس شخص نے راہ کفر اختیار کی تو اُسے ایسی سزادوں گا کہ عالمین میں سے کسی کو ایسی سزا نہیں دی ہوگی ( قَالَ اللهُ إِنِّی مُنَزِّلُھَا عَلَیْکُمْ فَمَنْ یَکْفُرْ بَعْدُ مِنْکُمْ فَإِنِّی اٴُعَذِّبُہُ عَذَابًا لاَاٴُعَذِّبُہُ اٴَحَدًا مِنْ الْعَالَمِینَ) ۔ ۱۔< وَاٴَوْحَیْنَا إِلَی اٴُمِّ مُوسَی اٴَنْ اٴَرْضِعِیہِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَیْہِ فَاٴَلْقِیہِ فِی الْیَمِّ---- ”ہم نے موسیٰ کی والدہ پر وحی کی کہ اُسے دودھ پلاؤ اور جب اس کے بارے میں تمھیں ڈر ہو تو اُسے دریا میں پھینک دو“ ۲۔اردو ترجمہ میں دیکھئے-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:111-115
چند ضروری نکات کی یاد دہانی
ان آیات میں چند ایسے نکات ہیں کہ جن کا مطالعہ کرنا ضروری ہے: ۱۔ مائدہ کے مطالبہ سے کیا مراد تھی؟ اس میں توشک نہیں ہے کہ حوارئین اس درخواست میں کوئی بُرا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور ان کا مقصد حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے مقابلے میں ہٹ دھرمی کرنا نہیں تھا بلکہ مزید اطمینان کی جستجو تھا تاکہ ان کے دلوں کی گہرائیوں میں جو شکوک و شبہات اور دسو سے باقی ہیں وہ بھی دور ہوجائیں ۔ کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی مطلب کو استدلال کے ذریعے یہاں تک کہ کبھی کبھی تجربہ کی بنیاد پر بھی ثابت کرلیتا ہے لیکن جب مسئلہ زیادہ اہم ہوتا ہے تو بہت سے دسو سے اور شکوک و شبہات اس کے دل کے گوشوں میں باقی رہ جاتے ہیں لہٰذا اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ یا تو بار بار کے تجربے اور آزمائش کے ذریعے اور یا استدلال علمی کو عینی مشاہدات کے ساتھ بدل کر شکوک و شبہات اور دسوسوں کو اپنے دل کی گہرائیوں سے اکھاڑ کر پھینک دے ۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) باوجود اس کے کہ وہ ایمان و یقین کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے پھر بھی خداوند تعالیٰ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ مسئلہ معاد کا اپنی آنکھوں کے ساتھ مشاہدہ کریں تاکہ ان کا وہ ایمان جو آز روئے علم تھا ”عین الیقین“ اور شہود سے بدل جائے ۔ لیکن اس سبب سے کہ حواریوں کے مطالبہ کا ظاہری طور پر جو مطلب نکلتا تھا وہ چھبتا ہوا معلوم ہوتا تھا لہٰذا حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے اسے بہانہ جوئی پر محلول کیا اور ان پر اعتراض کیا، لیکن جب انہوں نے کافی وضاحت کے ساتھ اپنا مقصد روشن کردیا تو حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے بھی ان کی بات کو تسلیم کرلیا ۔ ۲ ۔ ”ہَلْ ییَسْتَطِیْعُ رَبُُکَ“ سے کیا مراد ہے؟ مسلمہ طور پر ابتدا میںیہ جملہ یہی معنی دیتا ہے کہ حوارئین نزول مائدہ کے سلسلے میں قدرت خدا میں شک رکھتے تھے لیکن اس کی تفسیر میں اسلامی مفسّرین کے بعض بیانات جالب نظر ہیں، پہلا یہ کہ یہ درخواست انھوں نے ابتدائے کار میں کی تھی، جبکہ وہ مکمل طور پر صفات خداوندی سے آشنا نہیں ہوئے تھے، دوسرا یہ کہ ان کی مراد یہ تھی کہ کیا خداوند تعالیٰ کے نزدیک اس میں مصلحت ہے کہ وہ اس قسم کا مائدہ ہم پر نازل کردے، جیسا کہ مثال کے طور پر ایک شخص دوسرے سے یہ کہے کہ میں اپنی ساری دولت فلاں شخص کے ہاتھ میں نہیں دے سکتا، یعنی میں اس میں مصلحت نہیں سمجھتا ، نہ یہ کہ میں قدرت نہیں رکھتا، تیسرا یہ کہ ”یستطیع“ کا معنی ”یستجیب“ ہو، کیونکہ مادہ طوع کا معنی انقیاد ومطیع ہونا ہے اور جب وہ باب (استفعال) میں چلا جائے تو پھر اس سے یہ مطلب لیا جاسکتا ہے ۔ اس بناپر اس جملے کا یہ معنی ہوگا کہ کیا تیرا پروردگار ہماری اس بات کو قبول کرے گا کہ آسمانی مائدہ ہم پر نال کرے ۔ ۳۔ یہ آسمانی مائدہ کیا تھا؟ یہ آسمانی مائدہ جن چیزوں پر مشتمل تھا ان کے بارے میں قرآن میں کوئی تذکرہ نہیں ہے لیکن احادیث میں کہ جن میں سے ایک حدیث امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ وہ کھانا چند روٹیاں اور چند مچھلیاں تھیں ۔ شایداس قسم کے معجزے کے مطالبے کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے سُن رکھا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ سے بنی اسرائیل پر مائدہ آسمانی اُترا تھا ۔ لہٰذا انھوں نے بھی حضرت عیسی(علیه السلام)ٰ سے اسی قسم کا تقاضا کیا ۔ ۴۔ کیا ان پر کوئی مائدہ نازل ہوا؟ باوجود اس کے کہ مذکورہ بالا آیات نزول مائدہ کو تقریباً صراحت کے ساتھ بیان کررہی ہیں کیونکہ خداوندتعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض مفسّرین نے نزول مائدہ کی تردید کی ہے اور انھوں نے یہ کہا ہے کہ جب حوارئین نے نزول مائدہ کے بعد سخت ذمہ داری کا احساس کیا تو انھوں نے اپنا مطالبہ ترک کردیا لیکن حق بات یہ ہے کہ مائدہ ان پر نازل ہوا ۔ ۵۔ عید کسے کہتے ہیں؟ عید لغت میں مادہ عود سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی بازگشت (لوٹ آنا) کے ہیں ، اسی لئے اُن دنوں کو جن میں کسی قوم وملّت کی مشکلات برطرف ہوجاتی ہیں اور وہ پہلے جیسی کامیابیوں اور راحتوں کی طرف پلٹ آتی ہے، عید کہا جاتا ہے، اسلامی عیدوں کو اس مناسب سے عید کہا جاتا ہے کہ ماہِ مبارک رمضان میں ایک مہینے کی اطاعت کے بعد یا حج کا عظیم فریضہ انجام دینے کی وجہ سے روح میں پہلی سی فطری صفائی اور پاکیزگی لوٹ آتی ہے اور وہ آلودگیاں جو خلاف فطرت ہیں ختم ہوجاتی ہیں، چونکہ نزول مائدہ کا دن کامیابی، پاکیزگی اور خدا پر ایمان لانے کی طرف بازگشت کا دن تھا لہٰذا حضرت عیسیٰ(علیه السلام) نے اس کا نام عید رکھا، جیسا کہ روایات میں آیا ہے مائدہ کا نزول اتوار کے دن ہوا تھا لہٰذا شاید عیسائیوں کے نزدیک اتوار کے احترام کی علتوں میں سے ایک علت یہ بھی ہو ۔ حضرت علی علیہ السلام سے نقل شدہ ایک روایت میں ہے کہ: ”وکل یوم لایعصی الله فیہ فہو یوم عید“ ”یعنی ہر وہ دن کہ جس میں خداوند تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے وہ عید کا دن ہے“(1) یہ بھی اس امر کی طرف اشارہ ہے کیونکہ گناہ کو چھوڑنے کا دن کامیابی، پاکیزگی اور فطرت اوّلیہ کی طرف لوٹنے کا دن ہے ۔ ۶۔ عذاب شدید کس بناپر تھا؟ یہاں پر ایک اہم نکتہ ہے جس کی طرف توجہ کرنا چاہیے اور وہ یہ کہ جب ایمان مرحلہ شہود اور عین الیقین کو پہنچ جائے یعنی حقیقت کو آنکھ سے دیکھ لے اور کسی قسم کے تردّد اور وسوسے کی گنجائش باقی نہ رہے تو پھر ایسے شخص کی ذمہ داری اور مسئولیت بہت زیادہ سخت ہوجاتی ہے، کیونکہ اب یہ وہ سابق انسان نہیں ہے کہ جس کا ایمان پایہٴ شہود پر نہیں تھا اور کبھی کبھار اس میں وسوسے پیدا ہوجاتے تھے، وہ ایمان اور ذمہ داری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، اب اس کی تھوڑی تقصیر اور کوتاہی بھی مجازات شدید اور سخت سزا کا سبب بنے گی، اسی لیے تو انبیاء اور اولیائے خدا کی مسئولیت بہت سخت تھی اسی طرح کہ وہ ہمیشہ اُس سے وحشت وپریشانی میں رہتے تھے، ہم اپنی روزمرّہ کی زندگی میں بھی اس قسم کی باتوں کا سامنا کرتے رہتے ہیں، مثلاً اصولی طور پر ہر کسی کو معلوم ہے کہ اُس کے شہر اور علاقے میں کئی بھوکے ایسے موجود ہیں جن کے بارے میں اُس سے بازپُرس ہوگی، لیکن جب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ ایک بے گناہ انسان بھوک کی شدّت سے فریاد کررہا ہے تو اب اس کی جوابدہی کی صورت مل جائے گی اور سخت تر ہوجائے گی۔ ۷۔ عہد جدید اور مائدہ: موجودہ چاروں انجیلوں میں مائدہ کے بارے میں اس طرح گفتگو نہیں ہے جس طرح کہ ہم قرآن مجید میں دیکھتے ہیں، اگرچہ انجیل یوجنا باب ۲۱ میں ایک بیان ایسا موجود ہے کہ جس میں حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کی طرف سے لوگوں کو کھانا کھلانے اور اُن کی طرف سے روٹی اور مچھلی کے ساتھ معجزانہ طور پر دعوت کا ذکر کیا گیا ہے لیکن تھوڑی سی توجہ سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کا مائدہ آسمانی اور حواریوں کے مسئلے سے کوئی ربط نہیں ہے(2) کتاب ”اعمالِ رسولان“ میں بھی جو ”عہد جدید“ کی ایک کتاب ہے، پطرس نامی ایک حواری پر نزول مائدہ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ بھی اُس بحث سے الگ چیز ہے کہ جس کے بارے میں ہم گفتگو کررہے ہیں، لیکن کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ بہت سے ایسے حقائق ہیں کہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل نہیں ہوئے تھے لہٰذا اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے نزول مائدہ کے واقعہ کے سلسلے میں کوئی مشکل پیدا نہیں ہوگی(3) ۱۱۶ وَإِذْ قَالَ اللهُ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ اٴَاٴَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِی وَاٴُمِّی إِلَھَیْنِ مِنْ دُونِ اللهِ قَالَ سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِی اٴَنْ اٴَقُولَ مَا لَیْسَ لِی بِحَقٍّ إِنْ کُنتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَلاَاٴَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِکَ إِنَّکَ اٴَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ- ۱۱۷ مَا قُلْتُ لَھُمْ إِلاَّ مَا اٴَمَرْتَنِی بِہِ اٴَنْ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّی وَرَبَّکُمْ وَکُنتُ عَلَیْھِمْ شَھِیدًا مَا دُمْتُ فِیھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی کُنتَ اٴَنْتَ الرَّقِیبَ عَلَیْھِمْ وَاٴَنْتَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ شَھِیدٌ- ۱۱۸ إِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَإِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَإِنَّکَ اٴَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ- ترجمہ ۱۱۶۔وہ وقت یاد کرو جب خداوندتعالیٰ عیسیٰ ابن مریم سے کہے گا کہ (اے عیسیٰ) کیا تونے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو الله کے علاوہ دو خدا بنالو، وہ جواب دیں گے کہ تیری ذات پاک ہے، مجھے کوئی حق نہیں ہے کہ ایسی بات کہوں جو میرے لائق نہیں ہے، اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی ہوگی تو اس کا تجھے ضرور علم ہوگا ۔ تُو ان سب باتوں کو جاننا ہے کہ جو میرے نفس وروح میں ہیں، لیکن میں جو کچھ تیری ذات پاک میں ہے اُسے نہیں جانتا کیونکہ تو تمام اسرار اور پوشیدہ چیزوں سے باخبر ہے ۔ ۱۱۷۔مجھے تو نے جس کام پر مامور کیا تھا اُس کے سوا اُن سے اور کوئی بات نہیں کہی تھی ۔ میں نے تو اُن سے یہی کہا تھا کہ اُس خدا کی پرستش کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھار بھی پروردگار ہے اور میں تو اس وقت تک ہی اُن کا نگران اور گواہ تھا جب تک کہ اُن کے درمیان تھا اور جب تونے مجھے ان کے درمیان سے اٹھالیا تو پھر تُو ہی اُن کا نگران تھا اور تو ہی ہر چیز پر گواہ ہے ۔ ۱۱۸۔ (اس صورت میں )اگر تُو انھیں سزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں (اور وہ تیری عدم حکمت کی نشانی ہے اور نہ ہی تیری بخشش کمزوری کی علامت ہے) ۔ 1۔ نہج البلاغہ، کلمات قصار، ۴۲۸- 2۔ الہدیٰ الیٰ دین المصطفیٰ، ج۲، ص۲۴۹- 3۔ حوالہ سابقہ-