وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ
If two groups of the faithful fight one another, make peace between them. But if one party of them aggresses against the other, fight the one which aggresses until it returns to Allah’s ordinance. Then, if it returns, make peace between them fairly, and do justice. Indeed Allah loves the just.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 49:9
[Pooya/Ali Commentary 49:9] In order to maintain collective and overall peace and order in the community of the Muslims, group quarrels should be eliminated as soon as they crop up; but if one party is determined to be unjustly aggressive, the whole force of the community must be brought to bear against them with the just and fair principles laid down by Islam. This verse was revealed when the Holy Prophet established peace and harmony among the tribes of Aws and Khazraj who were at sword's point with each other. The Holy Prophet said: "The reward for making peace between two quarrelling groups is equal to the reward of taking part in a jihad." Imam Jafar bin Muhammad as Sadiq said: "Allah loves those most who make peace among two quarrelling groups, because with Allah it is the best zakat man can give in the way of Allah. He accepts it at once." Aqa Mahdi Puya says: As for how the insurgent should be dealt with all the schools of Islamic jurisprudence refer to the treatment Ali employed in Siffin, Jamal and Naharwan. It is written in Bukhari, Muslim and other Sahihs that the party (Mu-awiyah) against whom Ammar bin Yasir fought and the group who killed him were referred to as baghi (insurgent) by the Holy Prophet as he had said long before the event that Ammar would be killed by an insurgent party. While dealing with the abovenoted insurgents who, by fighting against the Imam of their time, became apostates, Imam Hasan tried to show them the right path and make peace, but the treacherous insurgents killed him, so Imam Husayn fought against them.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:9-10
مُؤ منین ایک دوسرے کے بھائی ہیں
قرآن یہاں ایک کلی اورعمو می قانون کے عنوان سے ہمیشہ اورہر مقام کے لیے کہتاہے: جس وقت مؤ منین کے دوگروہ آپس میں نزاع کریں اورلڑپڑیں توان کے درمیان صلح کرادو (وَ ِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنینَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَیْنَہُما)(١) ۔ یہ ٹھیک ہے کہ اقتتلوا قتال کے مادہ سے جنگ کے معنی میں ہے ،لیکن یہاں قرائن اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ ہرقسم کے نزاع اورجھگڑے کوشامل ہے ،چاہے وہ جنگ اورلڑائی تک بھی نہ جاپپہنچے، بعض شانِ نزول جوآیت کے لیے نقل ہُوئے تھے وہ بھی اس معنی کی تائید کرتے ہیں ۔ بلکہ یہ کہاجاسکتاہے کہ اگر لڑائی جھگڑے اورنزاع کے لیے زمین ہموار ہوجائے ،مثلاً لفظی تکرار اورکھینچاتانی جوخونین نزاعوں کاباعث بن جاتے ہیں،واقع ہوں تو وہاں بھی اصلاح کے لیے اقدام کرنااس آ یت کے مطابق ضروری ہے ،کیونکہ القاء خصوصیت کے طریقے سے اس معنی کواُوپر والی آ یت سے معلو م کیاجاسکتاہے ۔ بہرحال تمام مسلمانوں کے لیے ایک حتمی وظیفہ اورذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کوآپس میںلڑنے جھگڑنے ،نزاع اورخونریزی سے روکیں اورخود کواس سلسلے میں ذمہ دار سمجھیں ،نہ کہ بعض بے خبر لوگوں کی طرح تماشا ئیوں کی صُورت میں ، بے پرواہی کے ساتھ ،اِن مناظر کے قریب سے گزر جائیں ۔ ان مناظر کودیکھنے کے بعد مو منین کی یہ اوّلین ذمہ داری ہے ۔ اس کے بعد دوسری ذمہ داری کواس طرح بیان کرتاہے : اوراگران دونوں میں سے ایک گروہ دوسرے پرتجاوز اورظلم وستم کرے ،اورصلح کی تجویز کوتسلیم نہ کرے، توپھر تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ کہ تم باغی اورظالم گروہ کے ساتھ جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ حکم خداکی طرف پلٹ آئے اورسرتسلیم خم کرے( فَِنْ بَغَتْ ِحْداہُما عَلَی الْأُخْری فَقاتِلُوا الَّتی تَبْغی حَتَّی تَفیء َ ِلی أَمْرِ اللَّہ) ۔ واضح ہے کہ اگر باغی اورظالم گروہ کاخون اس دوران میں بہ جائے تووہ خوداسی کی گردن پرہے اوراصطلاح کے مطابق اسکاخون بد ر اوررایئگاں کیاہے .اگرچہ وہ مسلمان ہی ہوں کیونکہ نزاع دو مسلمان گروہوں کے درمیان پیداہوئی ہے ۔ اس طر ح سے اسلام نے ظلم وستم سے روکنے کو چاہے وہ ظالم کے ساتھ جنگ کرنے کی قیمت پرختم ہولازمی وضروری سمجھا ہے اور عدالت کے اجراکی قیمت کو مسلمانوں کے خون سے بھی بالاتر جاناہے،اور یہ بات اسی صورت میں ہے کہ جب مسئلہ صلح وصفائی کے طریقہ سے حل نہ ہو ۔ اس کے بعد تیسرے حکم کوبیان کرتے ہُوئے کہتاہے؟ اگرظالم لوگ خدا کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرلیں اورصلح کے اسباب فراہم ہوجائیں ،توان دونوں کے درمیان عدالت کے اصول کے مطابق صلح کرادو (فَِنْ فاء َتْ فَأَصْلِحُوا بَیْنَہُما بِالْعَدْل) ۔ یعنی صرف ظالم گروہ کی قدرت کودرہم برہم کرنے پرقناعت نہ کرو، بلکہ یہ جنگ صلح کے لیے زمین ہموار کرنے اور نزاع اورلڑائی کے عوامل کوجڑ ے کاٹنے کے لیے ایک مقدمہ اورتمہید ہونی چاہیئے ،ورنہ تھوڑے سے بازیادہ زمانہ گز رنے کے ساتھ ، ظالم جب بھی اپنے اندر طاقت و قوت محسوس کرے گاتو لڑنے کے لیے دوبارہ کھڑا ہوجائے گااورنئے سرے سے جھگڑا اورنزاع شروع کردے گا ۔ بعض مفسرین نے بالعدل کی تعبیرسے یہ استفادہ کیاہے کہ اگران دونوں گروہوں کے درمیان کوئی حق پامال ہوا ہے ،یاکوئی خون گرایاگیاہے جولڑائی جھگڑے اورنزاع کے پیداہونے کاسبب بناہے، تواس کی بھی اصلاح ہونی چاہیئے ورنہ ، اصلاح بالعدل نہ ہوگی (٢) ۔ اورچونکہ گروہی میلانات بعض اوقات افراد کوفیصلہ کرتے وقت، دو متخاصم گروہوں میں سے ایک کی طرف مائل کردیتے ہیں اورفیصلہ کرنے والوں کے بے طرفی اورغیر جانب داری کوتوڑ دیتے ہیں ،اس لیے قرآن چوتھے ، اورآخری حکم میں مُسلمانوں کو تنبیہ کر رہاہے کہ، : عدل وانصاف سے کام لیں اورہرقسم کی جانب داری کی نفی کریں ،کیونکہ خداعدالت کرنے والے لوگوں کودوست رکھتاہے( وَ أَقْسِطُوا ِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطین)(٣) ۔ بعد والی آ یت میں اس امرکی تاکید اوراس کی علت بیان کرنے کے لیے مزید کہتاہے: مو منین ایک دوسرے کے بھائی ہیں اس لیے تم اپنے دوبھائیوں کے درمیان صلح کرادیاکرو)ِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ ِخْوَة فَأَصْلِحُوا بَیْنَ أَخَوَیْکُمْ) ۔ جس طرح تم اپنے دونسبی بھائیوں کے درمیان صلح کرانے میں سعی وکوشش کرتے ہو، اسی طرح دو متخاصم مؤ منین کے درمیان میںصلح کرانے کے لیے سنجیدہ گی اور دو ٹوک طریقہ سے وارد عمل ہواکرو ۔ کتنی پر کشش اورعمدہ تعبیر ہے کہ تمام مو منین ایک دوسرے کے بھائی ہیں اوران کے درمیان جھگڑے اورنزاع کودو بھائیوں کے درمیان نزاع کانام دیا،جسے بہت جلدصلح وصفائی کواپنی جگہ دینی چاہیئے ۔ اورچونکہ اکثر اوقات روابط اس قسم کے مسائل میں ضوابط کے جانشین بن جاتے ہیں،لہذا دو بارہ خبردار کرتے ہُوئے آ یت کے آخرمیں مزید کہتاہے ، : خداکاتقویٰ اختیار کرو ،تاکہ اس کی رحمت میں شامل ہوجاؤ (وَ اتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُون) ۔ اوراس طرح سے مسلمانوں کی ایک دوسرے کے لیے ایک اہم ترین اجتماعی ذمہ داری اجتماعی عدالت کے تمام پہلو ؤ ں کے ساتھ بوقت اجراء واضح ہوجائے ۔ ١۔باوجود اس کے کہ طائفتان تثنیہ ہے ،لیکن اس کافعل اقتتلوا جمع کی صُورت میں آ یاہے،کیونکہ ہرگروہ ایک مجموعہ سے مرکب ہے ۔ ٢۔ تفسیر المیزان جلد ١٨ صفحہ ٣٤٣۔ ٣۔ مقسطین قسط کے مادہ سے ہے .اوروہ اصل میں عادلانہ حِصّہ کے معنی میں ہے ، اورجس وقت ثلاثی مجرد کے فعل کی صورت میں میں استعمال ہوتاہے،( قسط بروزن ضرب) تو ظلم کرنے اور دوسرے سے عادلانہ حصّہ لینے کے معنی میں ہوتاہے، لیکن جب ثلاثی مزید کی صورت استعمال ہواور اقسط کہاجائے توعدالت اورہرشخص کواس کاعادلانہ حصّہ دینے کے معنی میں ہے اس بارے میں کیاعدل وقسط کاایک ہی معنی ہے یایہ آ پس میں فرق رکھتے ہیں، ہم اس کی تشریح جلد ٦،(صورہ اعراف کی آ یت ٢٩ کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:9-10
شان نزول :
ان آ یات کے شان ِ نزول میں آ یاہے کہ ( مدینہ کے دو مشہور قبیلوں ) قبیلۂ اوس و خزرج کے درمیان ایک اختلاف پیدا ہوگیا، اوراس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی جان کے درپے ہوگئے،اورلاٹھیوں اورجوتوں سے ایک دوسرے کو مارنے لگے، (تو اوپروالی آ یت نازل ہوئی اوراس قسم کے حادثات سے نمٹنے کے لیے مسلمانوں کوراہ بتائی (١) ۔ بعض نے یہ کہاہے کہ انصار میں دو افراد کے درمیان خصو مت واختلاف پیداہوگیاتھا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ میں اپناحق زبردستی تجھ سے لو لوں گا، کیونکہ میرے قبیلہ کی جمعیت اورتعداد زیادہ ہے اور دوسرے نے یہ کہاکہ فیصلہ کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلتے ہیں ، پہلے شخص نے اسے قبول نہ کیا اوراختلاف بڑھ گیااور دونوں قبیلوں کے ایک گروہ نے ہاتھوں ، جوتیوں اور شمشیر تک سے ایک دوسرے پرحملہ کردیا، تواوپر والی آ یات نازل ہوئیں ۔ (اوراس قسم کے اختلاف میں مُسلمانوں کی ذمہ داری کوواضح کیا)( ٢) ۔ ١۔ مجمع البیان ،جلد٩،صفحہ ١٣٢۔ ٢۔ "" تفسیر قرطبی "" ،جلد ٩،صفحہ ٦١٣٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:9-10
٢۔ اخوت اسلامی اہمیّت
انماالمؤ منون اخوة کاجملہ جواوپر والی آ یت میں آ یاہے ایک اساسی اور بنیادی اسلامی شعار ہے .ایسا شعار جوبہت ہی مضبوط ،عمیق ، مؤ ثر اورپُر معنی شعار ہے ۔ دوسرے مسلک کے لوگ جب اپنے ہم مسلک لوگوں کے ساتھ زیادہ تعلق اورلگاؤ کااظہار کرتے ہیں ۔ تووہ انہیں رفیق کے عنوان سے یاد کرتے ہیں، لیکن دوسرے کے ساتھ نزدیک ترین تعلق کی صورت میں ، اور اس تعلق کو بھی مساوات اور برابری کی بنیاد پرپیش کرتاہے، اوروہ دو بھائیوں کاایک دوسرے کے ساتھ تعلق ہے ۔ اس اہم اسلامی اصل کی بناپر مسلمان چاہے،جس نسل سے ہوں ، یاجس قبیلہ سے ، چاہے کوئی سی زبان بولتے ہوں، اورکسی سن وسال کے ہوں، ایک دوسرے سے برادری کاعمیق احساس رکھتے ہیں ،چاہے ان میں سے ایک دُنیا کے مشرق میں رہتاہو اور دوسرا مغرب میں زندگی بسرکرتاہو ۔ مراسم حج میں جب مُسلمان ،تمام نقاط جہاں اوراطراف عالم سے اس مرکز توحید میںجمع ہوتے ہیں ،تووہاں ، یہ علاقہ اور لگاؤ ، نزدیکی پیونداور ہم بستگی پُورے طورپر محسُوس ہوتی ہے اوروہ اس اہم اسلامی قانون کے بعینہ پورا ہونے کاایک منظر پیش کرتاہے ۔ دوسرے لفظوں میں اسلام تمام مسلمانوں کوایک خاندان سمجھتاہے اور سب کوایک دوسرے سے بہن بھائی کہہ کر خطاب کرتاہے،نہ صرف الفاط میں اورنعرے کے طورپر ،بلکہ عمل میں، اور آپس کی ذمہ داریوں میں سب بہن بھائی ہیں ۔ اسلامی روایا ت میں بھی اس مسئلہ پر بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے،خاص طورپراس کے عمل پہلو ؤ ں کواُجاگر کیاگیاہے ۔ ہم ذیل میں چند پُر معنی احادیث آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ۔ ١۔ ایک حدیث میں پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے ۔ المسلم اخوالمسلم، لا یظلمہ ، ولایخذلہ ، ولا یسلمہ ۔ مسلمان مسلمان کابھائی ہے، وہ ہرگز اس پرظلم وستم نہیں کرتا، اس کی مدد سے دستبردار نہیں ہوتااوراس کوحوادث کے مقابلہ میں تنہا نہیں چھوڑتا ( ١) ۔ ٢۔ایک اورحدیث میں انہیں جناب سے نقل ہواہے ۔ مثل الاخوین مثل الیدین یغسل الحداھما الاخر۔ دو دینی بھائی دونوں ہاتھوں کے مانند ہیں، جن میں سے ہرایک دوسرے کودھوتاہے (ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہمکاری رکھتے ہیں اورایک دوسرے کے عیوب کوپاک صاف کرتے ہیں)(٢) ۔ ٣۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ المؤ من اخوالمؤ من ، کا لجسد الواحد ،اذااشتکی شیئاً منہ وجدالم ذالک فی سائر جسدہ وار واحھمامن روح واحدة : مو من ، مون کابھائی ہے ،اوروہ سب ایک جسم کے اعضاء کے مانند ہیں، اگران میں سے کسی ایک عضو کوتکلیف ہوتی ہے تو دوسرے اعضاء کوقرار نہیں آتا اوران سب کے ارواح ایک ہی رُوح سے لیے گئے ہیں(٣) ۔ ٤۔ ایک دوسری حدیث میں اسی امام علیہ اسلام سے منقول ہے ۔ المؤ من اخوا لمؤ من عینہ ودلیلہ ، لا یخونہ ، ولا یظلمہ، ولا یغشہ ، ولا یعدہ عدّة فیخلفہ : مو من ،مو من کابھائی ہے،وہ اس کی آنکھ کی مانند ہے اور اس کارہنماہے ،وہ اس کے ساتھ کبھی خیانت نہیں کرتااوراس پر ظلم وستم روانہیں رکھتا، اس سے پھرتانہیں ،اورجو وعدہ اس کے ساتھ کرتاہے اس سے تخلف نہیں کرتا،( ٤) ۔ حدیث کے معروف اسلامی مآخذوں اورمنابع میں، مو من کے اپنے مسلمان بھائی پرحقوق اورمو منین کے ایک دوسرے پرحقوق کے انواع واقسام ،ایمانی بھائیوں کے دیدار مصافحہ ، معانقہ اورانہیں یاد کرنے اوران کے دل کو مسرور اور خوش کرنے ،خصوصاً مو منین کی حاجات کوپوراکرنے اوران امور کی انجام دہی میںسعی وکوشش کرنے ،اوران کے دل سے غم واندوہ کودُور کرنے اورانہیں کھانا کھلانے ،کپڑے پہنانے اوران کااکرام واحترام کرنے کے ثواب کے بارے میں بہت زیادہ روایات وارد ہوئی ہیں ، جس کے اہم حصّوں کو اصولِ کافی کے مختلف ابواب میں اوپروالے عنوانات کے تحت مطالبہ کیاجاسکتاہے ۔ ٥۔ اس بحث کے آخر میں ہم ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مؤ من کے اس کے مو من بھائی پرتیس حقوق کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، جواس سلسلہ میں جامع ترین روایت ہے ۔ قال رسول اللہ (ص) للمسلم علی اخیہ ثلاثون حقّا : لابرائة منھا الابالاداء او العفو، یغفرزلتہ ، ویرحم عبرتہ ، ویستر عورتہ ، و یقبل عثرتہ ، ویقبل معذرتہ ، ویرد غیبة ، ویدیم نصیحتہ ، ویحفظ خلتہ ، ویرعی ذمتہ ، ویعود مرضہ۔ ویشھد میتہ ، ویجیب دعوتہ ، ویقبل ھدیتہ و یکافاً صلتہ ، ویشکرنعمتہ ویحسن نصرتہ ، ویحفظ حلیلتہ ، ویقضی حاجتہ، و یشفع مسأ لتہ ویسمت عطستہ ۔ ویرشدضالتہ ،ویرد سلامہ، ویطیب کلامہ، ویبرانعامہ ،ویصدق اقسامہ ، ویوالی ولیہ ولا یعادیہ ، وینصرہ ظالماًو مظلو ماً : فامانصرتہ ظالماً فیردّہ عن ظلمہ ، واما نصرتہ مظلو ماً فیعینہ علی اخذ حقہ ، ولا یسلمہ ولا یخذلہ ، و یحب لہ من الخر مایحب لنفسہ ، ویکوہ لہ من الشرمایکرہ لنفسہ ۔ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: مُسلمان اپنے مسلمان بھائی پرتیس حق رکھتاہے،جن سے وہ بری الذ مہ نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ ان حقوق کوادانہ کردے، یااس کامسلمان بھائی اس کو معاف کردے ۔ اس کی لغزشو ںکو معاف کردے ، اس کی پریشانی میں اس پرمہربانی کرے ، اس کے رازوں کوپوشیدہ رکھے اس کی غلطیوں کی تلافی کرے ،اس کے عذر کوقبول کرے، بدگوئی کرنے والوں سے اس کادفاع کرے ،ہمیشہ اس کاخیر خواہ رہے ، اس کی دوستی کی پاسداری کی حالت میں اس کے جنازہ میں حاضر ہو ۔ اس کی دعوت کوقبول کرے ،اس کے ہدیہ کوقبول کرے اس کے عطیہ کابدلہ دے ،اس کے احسان کاشکر یہ اداکرے اس کی مدد کرمیں کوشش کریاس کی عز ت و ناموس کی حفاظت کرے ، اس کی حاجت پوری کرے .اس کی درخواست کی شفاعت کرے، اوراس کی چھینک پر یرحمک اللہ کہے ۔ اس کی گمشدہ چیزوں کی رہنمائی کرے ،اس کے سلام کاجواب دے ،اس کی گفتگو کواچھا سمجھے، اس کے انعام کوخوب قرار دے ، اس کی مدد میں کوشش کرے چاہے وہ ظالم ہویامظلو م ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد یہ ہے کہ اس کوظلم کرنے سے رو کے ، اور مظلو م ہونے کی صورت میں اس کی مدد یہ ہے کہ اس کی اس کاحق حاصل کرنے میں مدد کرے ۔ اسے حوادث زمانہ کے مقابلہ میں تنہانہ چھوڑ ے ،نیکیوں اوراچھائیوں میں سے جن چیزوں کواپنے لیے پسند کرتاہے اس کے لیے بھی پسند کرے اور برائیوں میں سے جن چیزوں کواپنے لیے نہیں چاہتااس کے لیے بھی نہ چاہیے (٥) ۔ بہرحال مسلمانوں کے ایک دوسرے پرحقوق میں سے ایک مدد کرنا اورآپس میں اصلاح کرناہے، جس طرح سے کہ اوپروالی آ یت اورروایت میںآ یاہے ( اصلاح ذات البین کے سلسلہ میں ہم جلد ٤،سورۂ انفال کی آ یت نمبر١ صفحہ ٣٨٥ میں ایک اوربحث کرچکے ہیں ۔ ١۔ "" لمحجتہ البیضائ"" جلد ٣،صفحہ ٣٣٢ کتاب آداب الصحبة والماشرة باب ٢۔ ٢۔ وہی مدرک ،صفحہ ٣١٩۔ ٣۔ اصول کافی جلد ٢ ،صفحہ ١٣٣ (باب اخوة المؤ منین بعضہم لبعض حدیث ٣، ٤) ۔ ٤۔اصول کافی جلد٢،صفحہ ١٣٣ ( باب اخوة المؤ منین بعضہم لبعض حدیث ٣، ٤) ۔ ٥۔ بحارالانوار ،جلد ٧٤ ،صفحہ ٢٣٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:9-10
١۔ باغیوں سے جنگ کرنے کے شرائط
فقہ اسلامی میں کتاب جہاد میں اھل البغی سے قتال کے عنوان سے ایک بحث بیان ہوئی ہے،جن سے مرادوہ ستمگر ہیں، جوامام عادل اورمسلمانوں کے سچے پیشوا کے برخلاف قیام کریں، اوران کے لیے بہت سے احکام ہیں، جواس باب میں آ ئے ہیں ۔ لیکن جو بحث اوپروالی آ یت میں پیش ہوئی ہے وہ ایک دوسرامعنی رکھتی ہے.اور یہ ایسے جھگڑے اورنزاع ہیں، جو مسلمانوں کے دوگروہوں کے درمیان رونما ہو تے ہیں جس میں نہ توامام معصو م کے خلاف قیام ہے اورنہ ہی صالح اورصحیح حکو مت اسلامی کے خلاف قیام ہے،اگرچہ بعض فقہا اورمفسرین نے اس آیت سے سابقہ مسئلہ میں بھی استفادہ کیرناچاہاہے،لیکن کنزالعرفان میں فاضِل مقداد کے قول کے مطابق یہ استدالال صحیح نہیں ہے ( ١) ۔ کیونکہ امام معصو م کے خلاف قیام موجب کفرہے، جب کہ دو مو منین کے درمیان نزاع صرف فسق ہے نہ کہ کفر، لہٰذا قرآن مجید نے اوپر والی آیت سے ، دوسرے قرائن کوساتھ ملاکر وہ خاص اشارے جوامربالمعروف اورنہی عن المنکر کے ابواب میںآ ئے ہیں،اُن سے ذیل کے احکام کااستفادہ کیاجاسکتاہے ۔ الف: مسلمانوں کے متخاصم گروہوں کے دمیان صلح کرانا ایک واجب کفائی امرہے ۔ ب: اس کام کوسرانجام دینے کے لیے ابتداء میں نسبتاً سادہ مراحل سے شروع کرناچاہیئے ،اوراصطلاح کے مطابقالاسھل فالا سھل کے قاعدے کی رعایت کرنی چاہیئے،لیکن اگروہ مفید واقع نہ ہو تو پھر مسلحانہ مبارزہ اورجنگ وقتال بھی جائز بلکہ لازم وضروری ہے ۔ ج: باغیوں اورتجاوزکرنے والوں کے خون جواس راہ میں گرائے جائیں ،اوروہ جواس دور ان تلف ہوں وہ ہدر اوررایگان ہیں، کیونکہ یہ شرع کے حکم اورایک واجب وظیفہ کے انجام دینے میں واقع ہُوئے ہیں اوراصولاً اس قسم کے موقعوں پرکوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی ۔ د: گفتگو کے طریقے سے اصلاح کے مراحل میں حاکم شرع کی اجازت ضروری نہیں ہے ، لیکن شدت عمل کے مرحلہ میں، خصوصاً جہاں معاملہ خونریزی پرمنتہی ہو، وہاں حکو مت اسلامی اورحاکم شرعی کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے،مگر ایسے مواقع پر جہاں کسی طرح سے دسترس نہ ہو تو وہاں مو منین عدول اورآگاہ افرادآپس میں صلاح مشورہ کریں گے ۔ ھ: ا س صورت میں جب کہ باغی اورظالم گروہ مصلح گروہ میں سے کسی کاخون گرائے گایاکوئی مال تلف کرے گا، توشریعت کے حکم کے مطابق وہ ضامن ہے اورقتل عمدکی صُورت میں حکم قصاص بھی جاری ہوگا، اس طرح ان مواقع پرجہاں مظلو م گروہ کے خون بہائے گئے ہیں یامال تلف ہُوئے ہیں، وہاں بھی حکم ضمان و قصاص ثابت ہے اور یہ جو بعض کے کلمات سے معلو م ہوتاہے کہ : صلح کے وقوع کے بعد باغی اورظالم گروہ ان خونوں اور اموال کے مقابلہ مین جوہدر گئے ہیں ذمہ دار نہیں ہیں، کیونکہ زیربحث آیت میں اس کی طرف اشارہ نہیں ہواہے! درست نہیں ہے ، کیونکہ آ یت ان تمام مطالب کے بیان کے درپے نہیں ہے، بلکہ اس قسم کے امور میں ، ان تمام قواعد اوراصولوں کی طرف رجوع کرناہے ،جوقصاص واتلاف کے ابواب میں بیان ہُوئے ہیں ۔ و: چونکہ اس جنگ وپیکار کا مقصد ظالم گروہ کوحق کے قبول پر آمادہ کرناہے ، لہٰذا اس جگہ میں اسیران جنگ اور غنائم کامسئلہ درپیش نہ ہوگا.کیونکہ دونوں گروہ مسلمان ہیں، لیکن جھگڑے کی آگ کوخاموش کرنے کے لیے وقتی طورپر قید کرنے میں کوئی امرمانع نہیں ہے، لیکن صلح کے بعد فوراً قید یوں کوآزاد کرناہوگا ۔ ز: بعض اوقات ایسابھی ہوتاہے ، کہ نزاع اورجھگڑے کے دونوں فریق، باغی اورظالم ہوتے ہیں،انہوںنے دوسرے قبیلہ کے ایک گروہ کوقتل کیااوران کے مالوں کوتلف کیاہے، اوراُنہوںنے بھی یہی کام پہلے قبیلہ کے بارے میں انجام دیاہے، بغیراس کے کہ دفاع کے لیے مقدار لازم پرقناعت کریں، چاہیے ایک ہی مقدار میں دونوں بغاوت وستم کریں یاایک زیادہ کرے اور دوسراکم کرے ۔ البتہ اس سلسلہ میں قرآن مجید میں کوئی حکم صراحت کے ساتھ نہیں آیا، لیکن اس کاحکم القاء خصوصیّت کے طریق سے زیربحث آ یت سے معلو م کیاجاسکتاہے،اوروہ یہ ہے کہ مسلمانوں کاوظیفہ اورذمہ داری یہ ہے کہ دونوں کے درمیان مصالحت کرائیں اوراگر وہ صلح کے لیے تیارنہ ہون ، تودونوں کے درمیان جنگ کریں ،یہاں تک کہ وہ حکم الہٰی کی طرف لوٹ آئیں ،اوروہ احکام جو باغی اور متجاوز کے بارے میں بیان ہُوئے ہیں ،دونوں کے لیے جاری کیے جائیں ۔ اس گفتگو کے آخر میں ہم پھر دوبارہ تاکید کرتے ہیں کہ ان باغیوں کاحکم، ان لوگوں کے حکم سے جوامام معصو م ، یااسلامی عادل حکو مت کے خلاف قیام کریں ، بالکل الگ ہے اوراس دوسرے گروہ کے لیے زیادہ سخت اور شدید احکام ہیں جو فقہ اسلامی کی کتاب الجہاد میں بیان ہُوئے ہیں ۔ ۱۔" کنزالعرفان فی فقہ القرآن"" کتاب الجہاد "" باب انواع آخرمن الجہاد"" جلد ١،صفحہ ٣٨٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:9-10
سوره حجرات/ آیه 9- 10
٩۔وَ ِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنینَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَیْنَہُما فَِنْ بَغَتْ ِحْداہُما عَلَی الْأُخْری فَقاتِلُوا الَّتی تَبْغی حَتَّی تَفیء َ ِلی أَمْرِ اللَّہِ فَِنْ فاء َتْ فَأَصْلِحُوا بَیْنَہُما بِالْعَدْلِ وَ أَقْسِطُوا ِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطینَ ۔ ١٠۔ ِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ ِخْوَة فَأَصْلِحُوا بَیْنَ أَخَوَیْکُمْ وَ اتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ ۔ ترجمہ ٩۔ جس وقت مؤ منین کے دوگروہ أپس میں نزاع اورجنگ کریں توان کے درمیان صلح کرادیاکرو ،اوراگران میں سے ایک دوسرے پرتجاوز کرے توجس نے تجاوز کیاہے توتم بھی اُس کے ساتھ جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ خد ا کے حکم کی طرف پلٹ آئے ،جب وہ لوٹ آئے (اورصلح کے لیے زمین ہموار ہوجائے ) توان دونوں کے درمیان عدالت کے مطابق صلح کرادو، اورانصاف سے کام لو ، کیونکہ خداانصاف کرنے والوں کودوست رکھتاہے ۔ ١٠۔ مو منین ایک دوسرے کے بھائی ہیں،لہٰذا دو بھائیوں کے درمیان صلح کرادو، اور خداکا تقویٰ اختیار کروتاکہ اس کی رحمت میں شامل ہوجاؤ ۔