يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
O you who have faith! Let not any people ridicule another people: it may be that they are better than they are; nor let women [ridicule] women: it may be that they are better than they are. And do not defame one another, nor insult one another by [calling] nicknames. How evil are profane names subsequent to faith! As for those who are not penitent [of their past conduct]—such are the wrongdoers.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 49:11
[Pooya/Ali Commentary 49:11] Mutual ridicule ceases to be fun when there is arrogance or selfishness or malice or contempt behind it. We may laugh with people, but we must never laugh at people to disgrace or dishonour them. Defamation may consist in speaking ill of others by the spoken or written word, or in acting in such a way as to suggest a charge. A biting remark or taunt or sarcasm is included in the word lamaza. An offensive nickname may amount to defamation. Ammar, Bilal, Suhayl, Salman and Habib were used to be ridiculed by the people of Bani Tamim for their not having sufficient means of livelihood. A-isha used to hold Ummi Salimah in contempt because she had no adornments. Once A-isha and Hafsa laughed at Safiyah in contempt to remind her that she was the daughter of a Jew. The Holy Prophet asked Safiyah to say: "Yes, My father was Harun and my uncle was Musa, the messengers of Allah, and my husband the last Prophet of Allah."
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 49:11-18
God has distinctly differentiated pretenders from the faithful. Muslims are those who, by admission of the tongue, are entitled to safety of their life and property, such as inheritance and marriage, worldly benefit having no claims to eternal rewards, until and unless they prove themselves by their deeds of self-sacrifice and property, when tested in the crusade, as this earth is merely a Divine Trust. A faithful committing major sins gets out of its fold and remains a Muslim without having title to acceptance of virtues. A Muslin illegalizing legal deeds of Islam or vice versa gets out of fold of Islam, rendering himself worthy of being beheaded. A faithful is one who owns fealty of Divine Lights of his body and soul – vide Moral to Paragraph Five, Sura 33, the Tribes.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:11-12
شان نزول :
مفسرین نے ان آ یات کے لیے مختلف شان ہائے نزول نقل کیے ہیں، منجملہ اُن کے یہ ہے کہ : لا یسخرقو م من قو م : کاجملہ ثابت بن قیس (پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطیب ) کے بارے میں نازل ہواہے، جس کو کانوں سے کم سُنائی دیتاتھااور جس وقت وہ مسجد میں آتے تھے تو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک اس کے لیے جگہ چھوڑ دیتے تھے تاکہ وہ آنحضرت کے ارشادات سُن سکے، ایک دن وہ مسجد میں وارد ہُوئے تولوگ نمازسے فارغ ہوچکے تھے اور اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے ہُوئے تھے ، وہ مجمع کوچیزتاہوا کہتاہے جارہاتھاکہ جگہ دوجگہ دو ،!یہاں تک کہ وہ ایک مسلمان کے پاس پہنچ گیاتواس نے کہاکہ یہیں بیٹھ جا! تو وہ اس کے پیچھے بیٹھ گیا، لیکن بہت غصّے ہوا ، جس وقت فضا روشن ہوئی ثابت نے اس مرد سے کہا: توکون ہے؟ اس نے اپنا نام لیااورکہا کہ میں فلاں شخص ہوں ۔ ثابت نے کہا: کیافلاں عورت کابیٹا؟!اوراس کی ماں کانام، اس بُرے لقب کے ساتھ ، جوزمانہ جاہلیّت میں لیاکرتے تھے،لیا، اس پروہ شخص شرمندہ ہوا، اوراپناسرنیچے کرلیاتو آیت نازل ہوئی اورمُسلمانوں کو اس قسم کے بُرے کاموں سے منع کیا ۔ مفسرین نے کہاکہ:ولانساء من نساء جناب امّ سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، جن کابعض ازواج پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے مخدو مہ کے مخصو ص لباس کی وجہ سے جوانہوں نے پہن رکھاتھا، یااُن کے چھوٹے قد کی وجہ سے مذاق اڑایا تواس پریہ آ یت نازل ہوئی اورانہیں اس عمل سے روکا ۔ اور یہ بھی کہاہے کہ ولا یغتب بعضکم بعضاً کاجُملہ اصحابِ رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں سے دو افراد کے بارے میں ہے جنہوںنے اپنے ساتھی ، سلمان کی غیبت کی تھی، کیونکہ انہوں نے اُسے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجاتھاتاکہ وہ انکے لیے کھانا لے آئیں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلمان کواسامہ بن زید کے پاس جو بیت المال کے مسؤل تھے، بھیج دیا اسامہنے کہا:اس وقت میرے پاس کچھ نہیں دہے توان دوافراد نے اسامہ کی غیبت کی اور کہا کہ اس نے بخل سے کام لیاہے،اور سلمان کے بارے میں کہا: اگراُسے چاہ سمیحہ (ایک پانی سے بھرے ہُوئے کنوئیں)کی طرف بھیجیں تواس کا پانی بھی نیچے چلاجائے گا: اس کے بعد وہ خود چل پڑے تاکہ اسامہ کے پاس جاکر اپنے کام کے بارے میں جستجو کریں، توپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:مجھے تمہارے مُنہ سے گوشت کھانے کے آثار نظر آ رہے ہیں، انہوں نے عرض کیا: اے رسُولِ خداہم نے توآج بالکل ہی گوشت نہیںکھایاہے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:تم نے سلمان اور اسامہ کاگوشت کھایاتھا، تواس پر یہ آ یت نازل ہوئی ، اور مسلمانوں کوغیبت کرنے سے منع کیا( ١) ۔ استہزاء ، بدگمانی ،غیبت ، تجس ، اور بُرے القاب سے یاد کرناممنوع ہے چونکہ قرآن مجید اس سُورہ میں اسلامی معاشرے کواخلاقی معیار وں کی بنیاد پرتعمیر کرناچاہتاہے، لہٰذا مختلف اسلامی گروہوں کے بارے میں نزاع و مخاصمت کی صورت میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں کے بارے میں بحث کرنے کے بعد ، زیربحث آ یات میں ان کے اختلافات کی جڑوں کے ایک حصّہ کی تشریح کرتاہے تاکہ ان کے منقطع ہونے سے اختلافات بھی ختم ہوجائیں اورلڑائی جھگڑے اورنزاع کابھی خاتمہ ہوجائے ۔ اوپر والی آ یات میں سے ہرایک میں اُن امور کے تین تین حصوں کو، جوجنگ اوراختلاف کی آگ کوروشن کرنے کے لیے چنگاری بن سکتے ہیں،صریح اور مُنہ بولتی تعبیروں کے ساتھ بیان کرتاہے ۔ پہلے فرماتاہے: اے ایمان لانے والو!تمہارے مردوں میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ کاٹھٹااور مذاق نہ اڑائے(یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا یَسْخَرْ قَو م مِنْ قَو م ) ۔ کیونکہ شاید وہ لوگ جن کا مذاق اڑایا جارہاہے،ان سے بہتر ہوں (عَسی أَنْ یَکُونُوا خَیْراً مِنْہُمْ) ۔ اسی طرح عورتوں میں سے بھی کوئی گروہ دوسرے گروہ کامذاق نہ اڑائے ،کیونکہ ممکن ہیکہ وہ ان سے بہتر ہوں (وَ لا نِساء مِنْ نِساء ٍ عَسی أَنْ یَکُنَّ خَیْراً مِنْہُنَّ ) ۔ یہاں مخاطب مؤ منین ہیں چاہے وہ مرد ہوں یاعورتیں ، قرآن سب کوخبر دار کرتاہے، کہ وہ اس بُرے عمل سے پرہیزکریں، کیونکہ استہزاء اورتمسخرکاسرچشمہ ، خود کو برتر سمجھنے کااحساس اور کبروغرورہے، جوطول تاریخ میںبہت سی خونیں جنگوں کاعامل رہاہے ۔ اور یہ اپنے آپ کوبڑا سمجھنا زیادہ ترظاہری اور مادی اقدارسے پیداہوتاہے، مثلاً فلاں شخص اپنے آپ کودوسرے سے زیادہ مالدار ، زیادہ خوبصُورت یازیادہ معروف قبیلہ میں شمار کرتاہے . اور بعض اوقات یہ خیال ، کہ وہ علم و عبادت اور دوسر ے معنویات میں فلاں جمعیّت سے برترہے، اس کی تمسخر اوراستہزاء پرآمادہ کرتاہے ،اورحالیکہ خدا کے نزدیک قدرو قیمت کامعیار تقویٰ ہے ، اوراس کاتعلق نیت اور دل کی پاکیزگی ، تو اضع، اخلاق اور ادب کے ساتھ ہے ۔ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتاکہ :میں خدا کے نزدیک فلاں شخص سے برترہوں، اس بناء پر دوسروں کی تحقیر اوراپنے آپ کوبرتر سمجھنا ، بد ترین کاموں میں سے ایک ہے،اورقبیح ترین اخلاقی عیب ہے، جس کا رد عمل ہو سکتاہے کہ انسانوں کی ساری زندگی میں آشکار ہو ۔ اس کے بعد دوسرے مرحلہ میں فرماتاہے: اورایک دوسرے کے عیب نہ نکالو اور طعن و تشنیع نہ کرو ( وَ لا تَلْمِزُوا أَنْفُسَکُمْ) ۔ لا تَلْمِزُوا لمز بروزن ( طنز) کے مادہ سے ، عیب نکالنے اور طعن کرنے کے معنی میں ہے اور بعض نے ھمز اور لمز کے درمیان اس طرح فرق بیان کیاہے کہ لمز تولوگوں کے سامنے ان کے عیوب گنواناہے اور ھمزان کے پیٹھ پیچھے ان کے عیوب کو بیان کرناہے، اور یہ بھی کہاہے کہ لمز توآنکھ اوراشارہ سے عیب جوئی کرنا ہے ،جبکہ ھمز زبان سے عیب جوئی ہے (اس موضوع کے سلسلہ میں مزید تشریح انشاء اللہ سُورہ ٔ ھمزہ کی تفسیر میں آئے گی ) ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن اس آ یت میں انفسکم کی تعبیر کے ساتھ مو منین کی وحدت اورایک ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے اعلان کرتاہے ، کہ تمام مو منین نفس واحد کی طر ح ہیں ، اگر تم کسی دوسرے کی عیب جوئی کرو توواقع میں تم نے خود اپنی ہی عیب جوئی کی ہے ۔ اور آخر میں تیسرے مرحلہ میں مزید کہتاہے: اورایک دوسرے کو بُرے اورناپسند یدہ القاب کے ساتھ یاد نہ کرو ( وَ لا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ) ۔ بہت سے پھٹ اور بے مہار لوگ گذشتہ زمانہ میں بھی اور آج بھی دوسروں کوبُرے القاب سے یاد کرنے پر مصر رہے ہیں اور ہیں اوراس طریقہ سے ان کی تحقیر کرنے ان کی شخصیّت کی سرکوبی کرنے یا بعض اوقات ان سے انتقام لینے پر اصرار کرتے ہیں اور اگر کسی نے سابقہ زمانہ میں کوئی بُراکام کرلیاتھا، اس کے بعد اس نے توبہ کرلی، او ر وہ مکمل طورپر پاک ہوگیا،لیکن اس کے بعد بھی وہ اس کے لیے اسی لقب کوجو اس کی سابقہ وضع کو بیان کرنے والاہے ، برقرار رکھتے ہیں۔ اسلام صریح طورپر اس بُرے عمل سے منع کرتاہے ، اورہر وہ نام اورلقب جو معمولی سے معمولی غیر مطلوب مفہو م رکھتاہے اورکسی مسلمان کی تحقیر وتذلیل کاسبب بنتاہے اُسے ممنُوع قرار دیتاہے ۔ ایک حدیث میں آ یاہے کہ ایک ان صفیہ دختر حی ابن اخطب ( وہی یہودی عورت جوفتح خیبر کے واقعہ کے بعد مسلمان ہوگئی اورپیغمبراسلام کی زوجیت میں آ ئی )ایک دن پیغمبرکی خدمت میں حاضر ہوئی ،درآنحالیکہ ان کے آنسو جاری تھے ، پیغمبرنے ماجرا پوچھا تواس نے کہا کہ عائشہ مجھے ملامت کرتی ہے اور کہتی ہے: اے یہودی کی لڑکی ، !تو پیغمبرنے فرمایا: تونے یہ کیوں نہ کہا کہ میراباپ ہارون ہے ، اور میرا چچا مُوسیٰ ہے ،اورمیراشوہر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہے، اس موقع پر یہ آ یت نازل ہوئی ( ۲) ۔ اسی بناء پر آ یت کے آخر میں مزید کہتاہے : بہت بُری بات ہے یہ کہ تم کسی پراس کے ایمان لانے کے بعد کفرکانام رکھو ( بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْیمانِ ) ۔ بعض نے اس جُملہ کی تفسیر میں ایک اوراحتمال بھی دیاہے.اوروہ یہ ہے کہ کہ خدامو منین کواس بات سے منع کررہاہے کہ ایمان لانے کے بعد لوگوں کی عیب جوئی کی بناء پراپنے لیے فسق کے نام کوقبول کرلیں ۔ لیکن پہلی تفسیر، صدر آ یہ ، اوراس شان نزول کی طرف توجہ کرتے ہُوئے ، جوبیان ہوئی ہے، زیادہ مناسب نظر آتی ہے ۔ آ یت کے آخر میں مزید تاکید کے لیے فرماتاہے: اور وہ لوگ جوتوبہ نہ کریں ، اوران اعمال سے دست بردارنہ ہوں، ظالم وستمگر ہیں:(وَ مَنْ لَمْ یَتُبْ فَأُولئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ ) ۔ اس سے بدتر ظلم اورکیاہوگاکہ انسان اپنی نیش دار باتوں سے ، اورتحقیراورعیب جو ئی سے کسِی صاحب ایمان کے دلوکو آزارپہنچائے، جو عشق خداکامرکز ہے .اوران کی شخصیت اور آبروکو، جوان کی زندگی کاسرمایاہے،ختم کردے ۔ ہم بیان کرچکے ہیں کہ دونوں زیربحث آ یات میں سے ہرایک میں، اسلامی ،اجتماعی اخلاق کے مسائل کے سلسلہ میں ،تین تین حکم پیش ہُوئے ہیں، پہلی آ یت کے تین احکام ترتیب کے ساتھ تمسخر نہ کرنا، ترک عیب جوئی اور تنابز بالا لقاب تھے ،اوردوسری آ یت کے تین احکام بالترتیب ، بدگمانی سے اجتناب ،عیوب کاتجسس اور غیبت ہیں ۔ اس آ یت میںپہلے فرماتاہے: اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو، کیونکہ بعض گناہ گناہ ہیں (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثیراً مِنَ الظَّنِّ ِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ ِثْم ) ۔ کَثیراً مِنَ الظَّنِّ سے مراد بُرے گمان ہیں ، جواچھے گمانوں کی نسبت لوگوں میں زیادہ ہیں ،لہٰذااس کو کثیر کے ساتھ تعبیرکیاگیاہے ، ورنہ حسن ظن اور گمانِ نیک نہ صرف یہ کہ ممنوع نہیں ہے، بلکہ مستحسن ہے،جیساکہ قرآن مجیدسورۂ نورکی آ یت ١٢ میں فرماتاہے: (لَوْ لا اِذْ سَمِعْتُمُوہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَ الْمُؤْمِناتُ بِأَنْفُسِہِمْ خَیْراً ) ۔ جس وقت تم نے اس ناروانسبت کوسناتھاتو باایمان مردوں اورعورتوں نے اپنی نسبت (اوراس کے لیے جو خود انہیں کی طرح تھا) اچھاگمان کیوں نہ کیا؟! قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ نھی کثیر گمانوں سے ہوئی ہے ،لیکن مقام تعلیل میں کہتاہے، کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں ممکن ہے تعبیر کایہ فرق اس وجہ سے ہو کہ بعض بُرے گمان واقع کے مطابق ہُوتے ہیں ،اوربعض واقع کے مخالف ، جو گمان واقع کے خلاف ہوتے ہیںوہ تو مسلم گناہ ہیں، لہٰذاان کی ِانَّ بَعْضَ الظَّنِّ ِثْم سے تعبیر ہوئی ہے، اس بناء پر اسی گناہ کاوجود اس بات کے لیے کافی ہے کہ سب سب پر ہیزکرے ۔ یہاں یہ سوال بھی سامنے آ تاہے ،کہ بُرااوراچھا گمان عام طورپر پراختیار ہی نہیں ہوتا، یعنی وہ ایک سلسلۂ مقدمات کے زیر اثر جوانسان کے اختیار سے خارج ہیں، ذہن میںمنعکس ہوتاہے، اس بناء پر اس سے کس طرح ورکا جاسکتاہے ؟! ١۔ اس نہی سے مراد ترتیب آثار سے نہی ہے ، یعنی جس وقت کسِی مسلمان کے بارے میں تمہارے ذہن میں کوئی بُراگمان پیداہو تواس کے لیے عمل میں معمولی سے معمولی اعتناء بھی نہ کرو، اپنی طرزرفتار میں تبدیلی نہ کرو، اوردوسرے سے اپنے سلوک اورمعاملات کونہ بدلو ، اس بناء پر جوچیزگناہ ہے وہ بُرے گمان کے مطابق عمل کرناہے ۔ لہذا ایک حدیث میں پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے ۔ ثلات فی المؤ من لایستحسن ، ولہ منھن مخرج ، فمخرجہ من سوء الظن ان لا یحققہ۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کا وجودمؤ من میں پسندیدہ نہیں ہے ، جبکہ اس کے لیے ،ان سے فرار کی راہ موجود ہے ،منجملہ ان کے ایک سوء ظن ہے ، جس سے راہ فرار یہ ہے کہ اس کوعمل میں لایاجائے ( ٢) ۔ ٢۔ انسان مختلف مسائل میں غوروفکر کرنے سے، بہت سے مواقع پربُرے گمان کواپنے سے دور کرسکتاہے، اوروہ اس طرح سے کہ ان کوصحت پرمحمول کرنے کے راستوں میںغور کرے ،اوران سے صحیح احتمالات کوجواس پرعمل کے بارے میں موجود ہیں اپنے ذہن میں مجسم کرے ، اورآہستہ آہستہ بُرے گمان پرغلبہ حاصل کرے ۔ اس بناء پر گمان کوئی ایسی چیزنہیں ہے جوہمیشہ انسان کے اختیار سے خارج ہو ۔ لہٰذا روایات مین بطور حکم آ یاہے کہ اپنے بھائی کے اعمال کوجہاں تک ہوسکے بہتر ین صُورت پرمحمُول کرو، جب تک کہ اس کے خلاف کوئی دلیل قائم نہ ہوجائے اورتیر مسلمان بھائی سے جوسخت بات صادر ہوگئی ہے اس کے لیے ہرگز بدگمانی نہ کر جب تک تواسکے لیے نیکی پرمحمول کرنے کی گنجائش رکھتاہے ۔ قال المیر المو منین علیہ السلام ضع امراخیک علی احسنہ حتی یاتیک ما یقبلک منہ ، ولاتظنن بکلمة خرجت من اخیک سُوء وانت تجد لھا فی الخیرمحملا ( ۴) ۔ بہرحال یہ اسلامی دستور انسانوں کے اجتماعی روابط کے سلسلے میں ایک جامع ترین اورایک انتہائی جچا تلاحکم ہے، جو معاشرے میں امن وامان کے مسئلہ کو کامل طورسے ضمانت دیتاہے ، جس کی تفصیل نکات کی بحث میں آ ئے گی ۔ پھربعد والے حکم میں تجسس سے نہی کے مسئلہ کوپیش کرتے ہوئے فرماتاہے: اورہرگزدوسروں کے کاموں میں تجسس نہ کرو (وَ لا تَجَسَّسُوا ) ۔ تجسس اور تحسس دونوں جستجو کرنے کے معنی میں ہیں، لیکن پہلا عام طور پر غیرمطلوب امور میں آتاہے اوردوسرا اعام طورپر امر خبرمیں آتاہے جیساکہ یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کوحکم دیتے ہیں، :(یا بَنِیَّ اذْہَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ یُوسُفَ وَ أَخیہ) اے میرے بیٹوجاؤ اور ( میرے گمشدہ ) یوسف اس کے بھائی کے بارے میں جستجو کرو (سورہ یوسف : ٨٧) ۔ درحقیقت بُراگمان ایک عامل ہے جستجو کرنے کا ، اورجستجو کرناایک عامل ہے لوگوں کوراز ہائے نہانی اوراسرار کے کشف کے لیے ، اوراسلام ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتاکہ ان کے خصوصی رازفاش ہوں ۔ دوسرے لفظوں میں اسلام یہ چاہتاہے کہ لوگ اپنی خصوصی زندگی میں ہرلحاظ سے امن وامان میں رہیں، یہ بات واضح ہے کہ اگریہ اجازت دے دی جائے کہ ہرآدمی دوسروں کے بارے میں جستجو کرنے کے لیے کھڑا ہوجائے تولوگوں کی حیثیت اورآبروتباہ و برباد ہوجائے گی اورایک جستجو وجود میں آجائے گی ، جس میں معاشرے کے تمام فراد معذّب ہوں گے ۔ البتہ یہ دستور ، حکو مت ِ اسلامی میں سازشوں سے مبارزہ کرنے کیے لیے اطلاعاتی اواروں (سی آئی ڈی ) کے وجود کے ساتھ منافی نہیں ہے. لیکن یہ بھی اسی معنی میں نہیں ہے، کہ یہ ادارے لوگوں کی خصوصی زندگی میں جستجو کرنے کاحق رکھتے ہیں .جیساکہ انشاء اللہ اس بارے میں میں تفصیل سے بحث کی جائے گی ۔ اور آخر میں تیسرے اورآخری دستور میں ، جوحقیقت میںپہلے دو پرو گراموں کامعلُول اورنتیجہ ہے،فرماتاہے: تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے ( وَ لا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضاً)۔ اوراس طرح سے بُراگمان تو تجسس کاسرچشمہ بنتاہے اورتجسس ،افشائے عیوب اوراسرار پنہانی کاموجب ہوتاہے اوران امورسے آگاہی غیبت کاسبب بنتی ہے اوراسلام نے معلول اورعلّت دونوں سے منع کیاہے ۔ اس کے بعد اس عمل کی قباحت اوربُرائی کو کامل طورسے مجسم کرنے کے لیے ،اس کوایک عمدہ مثال میںڈھال کرکہتاہے ، : کیاتم میں سے کوئی بھی اس بات کو پسند کرتاہے، کہ اپنے مُردہ بھائی کاگوشت کھائے ؟( أَ یُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ یَأْکُلَ لَحْمَ أَخیہِ مَیْتا) ۔ یقیناتم سب اس امر سے کراہت رکھتے ہو ( فَکَرِہْتُمُوہُ ) ۔ ہاں مسلمان بھائی کی آبرواس کے بدن کے گوشت کی مانند ہے اوراس آبروکوغیبت کے ذ ریعہ ختم کرنا، اورپوشیدہ بھیدوں کوافشاء کرنا، اس کے بدن کا گوشت کھانے کے مانند ہے ۔ اور مردہ کی تعبیراس بناء پر ہے کہ غیبت لوگوں کے پیٹھ پیچھے کی جاتی ہے ،جو مردوں کی طرح اپنے آپ سے دفاع پرقدرت نہین رکھتے ۔ اور یہ ایک ایساظلم ہے جوانتہائی بزدلانہ ہے ،کہ جسے انسان اپنے بھائی کے بارے میں روار کھ سکتاہے ۔ ہاں !یہ تشبیہ ، غیبت کی حد سے زیادہ بُرائی ،اوراس کے عظیم گناہ کوبیان کرنے والی ہے ۔ اسلامی روایات میں بھی جیساکہ بیان کیاجائے گا،مسئلہ غیبت کوحد سے زیادہ اہمیّت دی گئی ہے اور بہت کم ایسے گناہ ہیں، جس کی سزا ، اسلام کی نظر میں ،اس قدر سنگین ہو ۔ اورچونکہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ ان تینوں گناہوں میں سے بعض سے آلودہ ہوں ، اوروہ ان آ یات کے سُننے سے متنبہ او ر بیدارہوجائیں، اورتلافی کے لیے تیارہوں ،اس لیے آ یت کے آخر میں ان کے لیے راستہ کھلارکھتے ہُوئے فرماتاہے : تقوے الہٰی اختیار کرو، اورخدا سے ڈرو ،کیونکہ خداتو بہ قبول کرنے والا مہربان ہے (وَ اتَّقُوا اللَّہَ ِنَّ اللَّہَ تَوَّاب رَحیم) ۔ سب سے پہلے تقویٰ اورخداسے ڈرنے کی رُوح زندہ ہونی چاہیئے اوراس کے بعد گناہ سے توبہ کی جائے ، تاکہ خدا کا لطف اوراس کی رحمت ان کے شامل حال ہو ۔ ١۔"" تفسیر مجمع البیان "" جلد٩،صفحہ ١٣٥ "" قرطبی "" نے بھی اپنی تفسیر میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ یہی شانِ نزول نقل کی ہے ۔ ۲۔"" مجمع البیان ،جلد٩،صفحہ ١٣٦۔ ۳۔محجة البیضاء ، جلد٥،صفحہ ٢٦٩۔ ۴۔ ""اصولِ کافی "" جلد ٢،باب التہمتہ وسوء والظن حدیث ،٣۔ اسی معنی کے مشابہ نہج البلاغہ میں بھی مختصر سے فرق کے ساتھ آ یاہے کلمات قصار کلمہ ٣٦٠۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:11-12
٥۔ غیبت کاعلاج اور اس سے توبہ
غیبت بہت سے مذمو م صفات کے مانند آ ہستہ آہستہ ایک نفسیاتی بیماری کی شکل اختیار کرلیتی ہے، اوراس طرح سے کہ غیبت کرنے والا اپنے کام سے لذّت اٹھانے لگتاہے اوراس سے کہ ہمیشہ کسی نہ کسی کی آبروریزی کرے ، راضی اور خوش ہوتاہے اور یہ ایک بہت ہی خطرناک اخلاقی مرحلہ ہے ۔ یہی وہ موقع ہے ، جب غیبت کرنے والے کوہرچیزسے پہلے غیبت کے اندرونی محرکات کا علاج کرناچاہیئے ،جواس کی رُوح کی گہرائیوں میں ہیں اورگناہ پرابھاررہے ہیں، ایسے محرکات جیسے کہ بخل وحسد و کینہ پروری و عداوت اور خود کوافضل وبرتر سمجھناہیں ۔ اسے چاہیئے کہ خود سازی کے طریق سے اوران بُرے صفات کے نتائج بد اوران کے بُرے ثمرات کے بارے میں غور وفکر کرنے سے ، اوراسی طرح ریاضت نفس کے طریقہ سے ، ان آلود گیوں کو اپنے جا ن ودل سے دھوڈالے ، تاکہ اپنی زبان کوغیبت کی آلودگی سے باز رکھ سکے ۔ اس کے بعد تو بہ کے مقام میں آئے ، اورچونکہ غیبت حق الناس کاپہلو رکھتی ہے اگرصاحبِ غیبت تک رسائی ہو اوراس سے کوئی نئی مشکل پیدانہ ہوتی ہو، تواس سے عذ رخواہی کرے ،چاہے وہ سربستہ شکل میں ہی ہو مثلا کہے میں بعض اوقات نادانی اور بے خبری میں آپ کی غیبت کربیٹھا ہوں مجھے معاف کردو، اوراس سے زیادہ تشریح نہ کرے، تاکہ کہیں تازہ فساد کاسبب نہ بن جائے ۔ اوراگر طرفِ مقابل تک دسترس نہیں ہے ، یااُسے پہچانتانہیں ہے ، یا وہ فوت ہوگیا، تواس کے لیے استغفار کرے اورنیک عمل انجام دے ،شایداس کی برکت سے خداوند متعال اس کوبخش دے، اور طرفِ مقابل کوراضی کرلے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:11-12
٤۔ غیبت کامفہو م
غیبت جیساکہ اس کے نام سے واضح ہے . یہ ہے ، کہ کسی شخص کے پیٹھ پیچھے کوئی بات کہیں، البتہ وہ ایسی بات ہوجو اس کے کسی خاص عیب کوفاش کرے ، چاہے وہ عیب جسمانی ہو یااخلاقی ، اس کے اعمال میں ہو یاگفتگو میں ، یہاں تک کہ اُن امورمیں جواس سے متعلق ہیں، مثلاً لباس ، گھر، بیوی اوراولاد وغیرہ ۔ اس بناء پر اگرکوئی شخص کسی دوسرے کے ظاہر و آشکار صفات کوبیان کرے تو وہ غیبت نہیں ہوگی ،مگر یہ کہ اس کامذمت اورعیب جوئی کاارادہ ہو ،تواس صورت میں وہ حرام ہے، مثلاً یہ کہ مذمت کے طورپر کہے کہ فلاں شخص نابینا، یا کوتاہ قد، یاکالا،یاکوسہ ، یعنی بے ڈاڑھی مونچھ کا ۔ اس طرح سے پوشیدہ عیوب کاذکر کرنا،چاہے کسی بھی نیت اور ارادہ سے ہو،غیبت اورحرام ہے ، اور ظاہر عیوب کاذکر، اگرمذمت کے ارادے سے ہوتوحرام ہے ،چاہے ہم اس کوغیبت کے مفہو م میں داخل سمجھیں یانہ سمجھیں ۔ یہ سب کچھ اس صور ت میں ہے ،جبکہ یہ صفات واقعاً اس شخص میں موجود ہیں.لیکن اگرایسی اصلاً اس میں موجوہی نہ ہوتووہ تہمت کے عنوان میں داخل ہوگی ، جس کاگناہ کئی گنازیادہ شدید اور زیادہ سنگین ہے ۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ۔ الغیبة ان تقول فی اخیک ماسترہ اللہ علیہ ، واما الا مرالظاہر فیہ،مثل الحدة والعجلة، فلا ، والبھتان ان تقول مالیس فیہ: غیبت یہ ہے کہ تواپنے مسلمان بھائی کے بارے میں وہ بات کہے ، جسے خدانے پنہاں رکھاہے،لیکن وہ چیز ظاہرہے ،مثلاً سخت مزاجی اورجلد بازی تو وہ غیبت میں داخل نہیں ہے ، لیکن بہتان یہ ہے کہ توایسی چیزکہے کہ جواس میں موجود نہ ہو(١) ۔ اور یہاں سے واضح ہوجاتاہے کہ وہ عام عذر جوبعض لوگ غیبت کے بارے میں پیش کرتے ہیں ،سننے کے لائق نہیں ہے ۔ مثلاً بعض اوقات غیبت کرنے والایہ کہتاہے کہ غیبت نہیں ہے .بلکہ یہ تواس کی صفت ہے ، حالانکہ اگروہ اس کی صفت نہ ہوتی توپھر تو وہ تہمت ہوتی نہ کہ غیب ۔ یایہ کہ وہ یہ کہتاہے کہ یہ توایسی بات ہے ، جسے میں اس کے سامنے بھی کہتاہوں ، حالانکہ اس کو اس کے سامنے کہنانہ صرف غیبت گے گناہ میں کوئی کمی نہیں کرتا، بلکہ اس کوایذاء وتکلیف پہنچانے کی بناء پر اس سے بھی زیادہ سنگین گناہ کا مرتکب ہوتاہے ۔ ١۔ ""اصول کافی "" جلد ٣ ، باب الغیبة والبستہ حدیث۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:11-12
٣۔ غیبت بہت بڑاگناہ
ہم بیان کرچکے ہیں کہ انسان کی زندگی کاسب سے بڑا سرمایہ اس کی حیثیت ، آبرو اور شخصیت ہے ،اورجو چیزاُسے خطرے میں ڈال دے ، وہ ایسا ہے ، جیساکہ اس کی جان کوخطرے میں ڈال دیا، بلکہ بعض اوقات شخصیت کوقتل کرناشخص کوقتل کرنے سے زیادہ اہم شمارہوتاہے، اوریہ وہ مقام ہے کہ جہاں اس کاگناہ قتل ِ نفس کے گناہ سے بھی زیادہ سخت اور سنگین ہے ۔ غیبت کے حرام ہونے کے فلسفون میں سے ایک فلسفہ یہ ہے ، کہ یہ عظیم سرمایہ برباد نہ ہو، اوراشخاص کی حرمت ضائع نہ ہو، اوران کی حیثیت کوداغدار نہ کرے، یہ ایسی بات ہے کہ جسے اسلام نے بہت ہی زیادہ اہمیت دی ہے ۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ غیبت بدنیتی پیداکرتی ہے،اجتماعی رشتوں کوکمزورکردیتی ہے.اعتماد کے سرمایوں کو ختم کرتی ہے اور تعاون اورمِل جُل کرکام کرنے کی بنیادوں کو متزلزل کردیتی ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ اسلام مسئلہ وحدت اورجامعہ اسلامی کے اتحاد، تنظیم اوراستحکام کوحد سے زیادہ اہمیّت دیتاہے ، جو چیزاس وحدت کو مضبوط بناتی ہو، وہ اسلام سے تعلق اور لگائو رکھتی ہے،اورجوچیز اس کوکمزور کرے وہ اس کے لیے قابلِ نفرت ہے ، اورغیبت ضعف پہنچانے اورکمزور کرنے کا ایک اہم عامل ہے ۔ ان چیزوں سے قطع نظر غیبت کینہ وعداوت کابیج دلوں میں بوتی ہے،اوربعض اوقات خونیں نزاعوں اور قتل وکشتار کا سرچشمہ بنتی ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگراسلام میں غیبت بزرگ گناہان کبیرہ میں شمار ہوتی ہے تویہ اس کے انفرادی اوراجتماعی بُرے آثار کی وجہ سے ہے ۔ روایات اسلامی میں اس سلسلہ میں بہت ہی ہلادینے والی تعبیریں دکھائی دیتی ہیں ، جن کاایک نمونہ ہم ذیل میں نقل کرتے ہیں ۔ پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: ان الدرھم یصیبہ الرجل من الربااعظُم عنداللہ فی الخطیئة من سنت وثلاثین زنیة ، یز یھا الرّجل!واربی الرّباعرض الرّجل المسلم !: وہ درہم جوانسان رباِ اور سُود کے ذ ریعہ حاصل کرے ، اس کاگناہ خداکے ہاں چھتیس زناؤں سے بڑھ کر ہے ، اورہر رباسے بالا تر مُسلمان کی آبرُو ہے ( ١) ۔ یہ موازنہ اس بناء پر ہے کہ ،کہ زنا خواہ کتناہی بُرا ہو، وہ حق اللہ کاپہلو رکھتاہے،لیکن سُودخوری ،اوراس بدترغیبت یاکسی اورطریقہ سے آبروریزی کرنا حق النّاس کاپہلو رکھتاہے ۔ ایک اورحدیث میں آ یاہے کہ ایک دن پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے بلند آواز میںخُطبہ پڑھا اوربلند آواز میں فرمایا: یامعشرمن اٰمن بلسانہ ولم یُو من بقلبہ!لاتغتابُواالمسلمین ، ولا تتبعواعوراتھم ،فانّہ من تتبع عورة اخیہ تتبع اللہ عورتہ ، و من تتبع اللہ عورتہ یفضحہ فی جوف بیتہ !؟ اے وہ گروہ جوزبان سے تو ایمان لائے ہو.لیکن دل سے ایمان نہیں لائے ،تم مسلمانوں کی غیبت نہ کیاکرو، اوران کے پوشیدہ عیبوں کی جستجو نہ کیا کرو، کیونکہ جوشخص اپنے دینی بھائی کے پوشیدہ امور کی جستجوو کرے خدا اس کے اسرار اور رازوں کوفاش کردیتاہے، اوراُسے خوداسی کے گھر کے اندر رسوا اورذلیل کردیتاہے ( ٢) ۔ ایک اورحدیث میں آ یاہے کہ خدانے موسیٰ کووحی کی : من مات تائبا من الغیبة فھوا ٰ خرمن یدخل الجنّة ،و من مات مصراً علیھا فھم اوّل من ید خل النار!: جوشخص اس حالت میں مرے کہ اس نے غیبت سے تو بہ کرلی ہو تووہ آخری شخص ہوگا، جوجنّت میں داخل ہوگا، اور جواس حالت میں مرے کہ غیبت پراصرار رکھتاہو ، تووہ پہلاشخص ہوگا، جوجہنم میں داخل ہوگا( ٣) ۔ ایک حدیث میں پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے بھی منقول ہے کہ : الغیبة اسرع فی دین الرّجل المسلم من الا کلة فی جوفہ : غیبت کی تاثیر مسلمان کے دین میں اس کے جسم میں جذام کیاثر سے بھی زیادہ تیزہے ( ٤) ۔ یہ تشبیہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غیبت ، جذام کی طرح جوبدن کے گوشت کوکھاجاتاہے، سُرعت کے ساتھ انسان کے ایمان کوتباہ وبرباد کر دیتی ہے اوراس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے غیبت اوراس طرح سے مسلمانوں کی عزت وآبروکوتباہ کرنا، کیوں انسان کے ایمان کواس طرح سے برباد کردیتاہے(غور کیجئے ) ۔ اس سلسلہ میں منابع اسلام میں بہت زیادہ روایات ہیں اور ہم ایک اورحدیث کو بیان کرکے اس بحث کوختم کرتے ہیں ۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : من روی علی مؤ من روایة یرید بھا شینہ ، وھدم مروتہ ،لیسقط من اعین النّاس ،اخرجہ اللہ من ولا یتہ الی ولا یة الشیطان، فلا یقبلہ الشیطان: جوشخص کسی مو من کی عیب جوئی اورآبروریزی کے لیے کوئی بات نقل کرے ، تاکہ اس کولوگوں کی نظروں سے گرا دے توخدا کواپنی ولایت سے نکال کرشیطان کی ولایت میں داخل کردیتاہے، لیکن شیطان بھی اس کوقبول نہیں کرتا ( ٥) ۔ یہ تمام تاکید یں ، اورہلا دینے والی عبارتیں ، اس فوق العادہ کی اہمیّت کی وجہ سے ہے ، جواسلام میں مو منین کی آبرو، اوران کی اجتماعی حیثیت کی حفاظت کے لیے ہے ، اوراس مخرب تاثیر کی وجہ سے بھی ہے جو غیبت سے ، معاشر ت کی وحدت آپس کے اعتماد اور دلی تعلقات میں پیدا ہوتی ہے اوراس سے بدتر بات یہ ہے کہ غیبت ، اجتماعی سطح پر،کینہ وعداوت ،اوردشمنی ونفاق کی آگ بھڑکانے ، اور فحشاء و منکر کی اشاعت کاایک عامل ہے ، کیونکہ جس وقت لوگوں کے پوشیدہ عیُوب غیبت کے ذریعہ آشکار ہوجاتے ہیں توگناہ کی عظمت واہمیت ختم ہوجاتی ہے اوراس میں آلودہ ہوجاناآسان ہوجاتاہے ۔ ١۔""المحجة البیضاء "" جلد ٥،صفحہ ٣٥٣۔ ٢۔ سابقہ مدرک ،صفحہ ٢٥٢۔ ٣۔ سابقہ مدرک ،صفحہ ٢٥٢۔ ٤۔اصولِ کافی ، جلد ٢ ، باب الغیبة حدیث نمبر١ (آکلہ بروزن قابلہ)ایک قسم کی بیماری ہے جوانسان کے بدن کاگوشت کھاجاتی ہے ۔ ٥۔وسائل الشیعہ ،جلد ٨ باب ١٥٧ حدیث ٢ صفحہ ٦٠٨۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:11-12
٢۔ تجسس نہ کرو
ہم نے دیکھ لیاکہ قرآن نے اُوپر والی آ یت میں تجسس کوپوری صراحت کے ساتھ منع کیاہے ،اورچونکہ اس کے لیے کسی قسم کی کوئی قیدو شرط نہیں لگائی ،لہٰذا یہ چیزاس بات کی نشاندہی کرتی ہے، کہ دوسروں کے کاموں میں جستجو کرنا ،اوران کے بھیدوں کوفاش کرنے کی کوشش کرنا،گناہ ہے،لیکن وہ قرائن جوآ یت کے اندر اورباہر موجود ہیں وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں،کہ یہ حکم افراد کی شخصی اورخصوصی زندگی سے مربوط ہے ،اوراجتماعی زندگی میں بھی اس حد تک،کہ اس سے معاشرے کی سرنوشت میںکوئی اثر نہ پڑتا ہو،یہی حکم صادق ہے ۔ لیکن یہ با ت واضح اور روشن ہے کہ جہاں اس کادوسروں کی سرنوشت اورمعاشرے کی حالت سے تعلق ہو، تو پھر مسئلہ کی دوسری شکل ہوجاتی ہے، لہٰذا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے کچھ اشخصا اطلاعات جمع کرنے کے لیے مقرر کیے ہُوئے تھے ،جنہیں عیون کے عنوان سے تعبیر کیاجاتاہے تاکہ وہ ایسی اطلاعات جوداخل اورخارج میں اسلامی معاشرے سے متعلق ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اکھٹی کریں ۔ اسی بناء پر حکو مت اسلامی میں مامورین اطلاعاتی رکھ سکتی ہے یااطلاعات جمع کرنے کے لیے ایک وسیع ادارہ قائم کرسکتی ہے اورجہاں کہیں معاشرے کے برخلاف سازش کاخوف ہو، یا امن وامان کوخطرے میں ڈالنے یاحکو مت اسلامی کونقصان پہنچانے کا خطرہ ہو، وہاں تجسس کریں، یہاں تک کہ بعض افراد کی خصوصی وداخلی زندگی میں بھی جستجوکریں ۔ لیکن یہ امر ہر گز اس اسلامی بنیادی قانون کی حرمت کوتوڑنے کے لیے بہانہ نہیں بننا چاہیئے ، کہ کچھ لوگ اپنے آپ کواس بات کامجازقرار دے لیں کہ وہ مسئلہ سازش اورنقص امن کے بہانہ سے لوگوں کی خصوصی اورشخصی زندگی پرحملہ آور ہوں، اوران اعمال نامہ کھولیں ،ان کے ٹیلیفونوں پرکنڑول کریں اوروقت بے وقت ان کے گھروں کی تلاشی لیں ۔ خلاصہ یہ کہ تجسس اورمعاشرے کے امن وامان کی حفاظت کے لیے لازمی اطلاعات کے درمیان کی سرحدبہت ہی دقیق اورطریف ہے ، اورامورا جتماعی کے ادارہ کے ذمہ داروں کی وقت کے ساتھ اس سرحد کی نگرانی کرناچاہیئے ،تاکہ انسانوں کے اسرار کی حرمت کی حفاظت بھی ہو، اورمعاشرے اورحکو مت اسلامی کاامن وامان بھی خطرے میں نہ پڑے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:11-12
١۔ معاشرے میں کامل اور ہر پہلوسے امن وامان
وہ چھ احکام جواوپروالی دو آیات میں بیان کیے گئے ہیں. ( تمسخر ،غیبت جوئی ، بُرے القاب، بدگمان، تجسس اور عیبت سے نہی ) اگرکسی معاشرے میں ان پر کامل طورسے عمل ہو، تو معاشرے کے تمام افراد کی عزت وآبرو کاہرلحاظ سے بیمہ ہو جاتاہے ، نہ تو کوئی شخص خود کوبڑا سمجھنے کی وجہ سے دوسروں کوتفریح و تمسخر کاذ ریعہ بناسکتاہے ، اورنہ ہی وہ کسی کی عیب جوئی کے لیے زبان کھول سکتاہے اورنہ بُرے القاب کے ساتھ لوگوں کی حرمت وشخصیت کوخراب کرتاہے ۔ نہ اُسے کسی کے بارے میں بُراگمان کرنے کاحق ہے .نہ وہ افراد بشر کی شخصی زندگی کے بارے میں جستجو میں لگتاہے،اور نہ ہی ان کے پوشیدہ عیُوب دوسروں کے سامنے فاش کرتاہے ۔ دوسرے لفظوں میں انسان کے پاس چار سرمائے ہیں .اوران سب کواس قانون کے قلعوں کے اندر محفوظ رہناچاہئیے اوروہ ہیں: جان ،مال ،اورعزت وآبرُو، اوپروالی آ یات اور اسلامی روایات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں،کہ لوگوں کی آبرُو اورحیثیت ، ان کے مال وجان کی طرح ہے ، بلکہ بعض پہلوؤ ں سے ( اُن سے بھی ) زیادہ اہم ہے ،! اسلام یہ چاہتاہے کہ اسلامی معاشرے میںکامل طورامن وامان کی حکمرانی ہو. لوگ ایک دوسرے پرنہ صرف عمل میں اورہاتھ کے ساتھ حملہ نہ کریں ، بلکہ لوگوں کی زبان کے لحاظ سے اوراس سے بھی بڑھ کرفکر اورسُوچ کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے امن وامان میں ہوں اورہرشخص یہ محسوس کرے کہ کوئی دوسراشخص اپنے افکار میں بھی تہمت کے تیر اس کی طرف پھینکتا، اوریہ ایسی بلند ترین سطح کی امنیت ہے،جو ایک مذہبی اورمو من معاشرے کے سواکہیں بھی امکان پذیر نہیں ہے ۔ پیغمبرگرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک حدیث میں فرماتے ہیں ۔ انّ اللہ حرم من المسلم دمہ و مالہ وعرضہ ، وان یظن بہ السوء ۔ خدا نے مسلمانوں کاخُون ،مال اورعزت وآبرودوسروں پرحرام کردی ہے ،اوراسی طرح یہ بھی کہ اس کے بارے میں بُراگمان کرے (۱) ۔ بُراگمان کرنا، نہ صرف طرف مقابل اوراس کی حیثیت پرصدمہ واروکرتاہے، بلکہ بُراگمان کرنے والے کے لیے بھی ایک بہت بڑی بلاو مصیبت ہے ،کیونکہ وہ لوگوں کے ساتھ مل کرکام کرنے ،اوراجتماعی تعاون سے الگ تھلگ ہوجانے کاسبب بن جاتاہے ۔ اوریہ فعل ایک ایسی وحشتناک دُنیا اس کے لیے فراہم کرتاہے ، جوغریب وبے کسی اور تنہائی گوشہ نشینی سے پُر ہو، جیساکہ امیر المو منین علی علیہ السلام سے ایک حدیث میں منقول ہواہے : من لم یحسن ظنّہ استو حش من کُل احد: جوشخص بُراگمان رکھتاہووہ ہرشخص سے ڈ رتاہے،اوروحشت رکھتاہے ( ۲) ۔ دوسرے لفظوں میں وہ چیز جو انسان کی زندگی کوجانور وں سے جداکرتی ہے،اوراسے رونق وحرکت اورتکامل و ارتقاء بخشتی ہے ،وہ رُوح تعاون اور سب کامل جُل کرکام کرناہی ہے .اوریہ اسی صُورت میں امکان پذیر ہے .جبکہ لوگوں میں اعتماد اورخوش بینی ہو، در آنحالیکہ بُراگمان اس اعتماد کی بنیادوں کوکھو کھلا کردیتاہے، اورتعاون کے رشتوں کوتوڑ دیتاہے اوررُوح اجتماعی کوکمزور کردیتاہے ۔ نہ صرف سُوء ظن بلکہ تجسس اورغیبت کامسئلہ بھی اسی طرح کاہے ۔ بدبین افراد ہرچیزسے ڈ رتے ہیں، اورہرشخص سے وحشت رکھتے ہیں ، اوران کی رُوح پرہمیشہ ایک جانکاہ پریشانی چھائی رہتی ہے، نہ تووہ کوئی دوست اورمونس وغم خوار پیداکرسکتے ہیںاور نہ ہی اپنے اجتماعی کاموں کے لیے کوئی شریک وہمکاربنا سکتے ہیں اورنہ پریشانی کے دنوں کے لیے کوئی یارو مددگار ۔ اس نکتہ کی طرف توجہ بھی الازم ہے کہ یہاں ظن سے مراد ایسے گمان ہیں جن کے لیے کوئی دلیل نہ ہو، اس بناء پر جہاں گمان کاانحصار کسی دلیل یعنی ظن معتبرپرہو وہ اس گمان سے مستثنیٰ ہے ،اُس گمان کی طرح، جو دوعادل گو اہوں کی شہادت سے حاصل ہوتاہے ۔ ۱۔ "" المحجة البیضائ"" جلد ٥،صفحہ ٢٦٨۔ ۲۔"" غرر الحکم "" صفحہ ٦٩٧۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:11-12
سوره حجرات/ آیه 11- 12
١١۔یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا یَسْخَرْ قَو م مِنْ قَو م عَسی أَنْ یَکُونُوا خَیْراً مِنْہُمْ وَ لا نِساء مِنْ نِساء ٍ عَسی أَنْ یَکُنَّ خَیْراً مِنْہُنَّ وَ لا تَلْمِزُوا أَنْفُسَکُمْ وَ لا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْیمانِ وَ مَنْ لَمْ یَتُبْ فَأُولئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ ۔ ١٢۔ یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثیراً مِنَ الظَّنِّ ِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ ِثْم وَ لا تَجَسَّسُوا وَ لا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضاً أَ یُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ یَأْکُلَ لَحْمَ أَخیہِ مَیْتاً فَکَرِہْتُمُوہُ وَ اتَّقُوا اللَّہَ ِنَّ اللَّہَ تَوَّاب رَحیم ۔ ترجمہ ١١۔ اے ایمان لانے والوں تمہارے مردوں میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ کاٹھٹھااورمذاق نہ اڑا ئے، شاید وہ ان سے بہتر ہوں اورنہ ہی عورتیں، دوسری عورتوں کامذاق اڑائیں، شاید وہ ان سے بہترہوں، اورایک دوسرے کو طعن وتشنیع نہ کرو، اور بُرے اور ناپسند القاب کے ساتھ ایک دوسرے کو یادنہ کرو، اور یہ بات تو بہت ہی بُری ہے کہ کسی شخص پر ایمان کے بعد کفر کا نام (الزام ) رکھو، اور جوتو بہ نہ کریں وہی تو ظالم وستمگر ہیں ۔ ١٢۔اے ایمان لانے والوں!بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں، اورہرگز ( دوسروں کے کاموں میں ) تجسس نہ کرو، اور تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت نہ کرے، کیاتم میں کوئی اس بات کوپسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے ، (یقینا)تم سب اس چیز سے کراہت رکھتے ہو، خداکاتقویٰ اختیار کرو ،کیونکہ خداتو بہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:11-12
٦۔ استثنائی مواقع
غیبت کے بارے میں آخری بات یہ ہے کہ قانون غیبت میں بھی، ہردوسرے قانون کی طرح ، کچھ باتیں مستثنیٰ ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے ، کہ بعض اوقات مشورہ کے طورپر مثلاً بیوی یاشوہرکے انتخاب میں، یاکسب وکاروغیرہ میں شریک ہونے کے لیے کوئی شخص کسی سے سوال کرتاہے، تو مشورت میں امانت کاجواسلام کا ایک مسلمہ قانون ہے و تقاضایہ ہے کہ اگرطرفِ مقابل میں اُسے کوئی عیب معلو م ہو، تووہ اُسے تبادے، کہیں ایسانہ ہو کہ ایک مُسلمان جال میں پھنس جائے ، اوراس قسم کی غیبت جواس قسم کی نیّت سے انجام پائے حرام نہیں ہے ۔ البتہ جوشخص علی الاعلان اور آشکار ا گناہ کرتاہے اوراصطلاح کے مطابق متجاھربہ فسق ہے وہ موضوع غیبت سے خارج ہے اوراگرکوئی اس کے گناہ کواس کے پیٹھ پیچھے بیان کرے تواس پرکوئی اعتراض نہیں ہے،لیکن اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہیئے کہ یہ حکم اُسی گناہ کے ساتھ مخصوص ہے ، جس کے بارے میں وہ متجاہرہے ۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ نہ صرف غیبت کرناحرام ہے ، بلکہ غیبت کاسننا بھی حرام ہے ،اور غیبت کی مجلس میں حاضر ہونابھی حرام کاموں میں سے ہے، بلکہ کچھ روایات کے مطابق تو مسلمانوں پر غیبت کارد کرناواجب ہے ،یعنی غیبت کے مقابلہ میں دفاع کے لیے کھڑے ہوں، اور اس مسلمان بھائی کا ، جس کی حیثیت وشخصیّت خطرے میں پڑ گئی ہے،دفاع کریں، اورکتنازیبا اور خوبصورت ہوگا ،وہ معاشرہ ، جس میں یہ اخلاقی اصُول دقیقاًاجراء ہوں ۔