يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
O you who have faith! Do not venture ahead of Allah and His Apostle, and be wary of Allah. Indeed Allah is all-hearing, all-knowing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 49:1
[Pooya/Ali Commentary 49:1] In the commandment of "Do not be forward or presumptuous", Allah has joined the Holy Prophet with Himself. This implies that no irreverence should be shown to either Allah or His Prophet in any matter. The believers must be mannerly, decorous, feeling and showing reverence in the presence of the Holy Prophet. It is not allowed to give advice in any matter before the Holy Prophet asks a believer to do so, if he pleases. Obey Allah and His Prophet in every matter, small or great; in the whole conduct of your life. Judgement or verdict is given by Allah in all matters through His messenger. So obey and revere the Holy Prophet as you should obey and revere Allah. Some ill-mannered companions used to show positive disrespect to the Holy Prophet by their behaviour. Bad manners and rudeness destroy the value of any services which have been rendered. Those who had true piety in their hearts really and sincerely respected, honoured and revered their leader. Those who did the opposite surely undid the work of years by weakening the leader's authority. See commentary of Nisa: 65 and always keep in mind the person who said about the Holy Prophet: "The old man is in a delirium. The book of Allah is sufficient for us." Apart from the derogatory comment on the infallible messenger of Allah which had rendered all his deeds null and void, his ignorance of the book of Allah had also become known to the whole world. It is because of such "wandering in the darkness of ignorance", the Holy Prophet had advised his followers to refer to his Ahl ul Bayt whenever they desire to understand the true meanings of the verses of the Quran (see hadith al thaqalayn on page 6). So think twice before following such ignorant and self conceited persons as your leaders who ridiculed and slandered the Holy Prophet, when even walking ahead of him or beside him, or talking loud before him or interposing while he is speaking, has been prohibited . It is reported in a tradition mentioned in Sahih Bukhari that a group of men of Qa-aqa came to the Holy Prophet; and before he could give his verdict, Abu Bakr proposed Qa-aqa bin Mu-ud and Umar suggested Qara to be appointed as the leader of the group. Then they began to dispute with each other on that issue. So these verses were revealed to establish the supreme authority of the Holy Prophet. Aqa Mahdi Puya says: Unwarranted interference in the issues of religion already decided by the Holy Prophet emerged in full force after his departure from the world and continues in every age. The occasion of revelation shows that the most prominent companions of the Holy Prophet indulged in what has been forbidden in these verses. Bukhari says: "The two good men were very near (a certain) perdition" (Kadal khayyiran an yahlika) Notwithstanding this reprimand, according to Bukhari, disrespectful behaviour of the companions continued and lasted till the Holy Prophet's departure. The well known tradition of qirtas throws sufficient light on the ignorance of the companions. Verse 3 mentions the men of sublime character around the Holy Prophet who are referred to in order to distinguish good from evil, because behaviour unto the Holy Prophet has been made a test of the faith of his followers.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 49:1-10
The Prophet’s advice to Ali was, “Go over to visit the ill to a distance of one mile, accompany the funeral if at two miles, accept the invitation within three miles’ radius, visit a religious brother within four miles, relieve the needy within five miles, help the tyrannized within six miles, and ever make amends for your weakness, praying forgiveness and note affecting reconciliation carries the reward of a crusade.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:1-5
١۔ ادب افضل ترین سرمایہ ہے
اسلام میں ہرشخص اور گروہ سے ملا قات میں احترام ادب سے پیش آنے کی ، اوررعایت آداب کے مسئلہ کی بہت زیادہ اہمیت بیان ہوئی ہے، یہاں نمونہ کے طورپر چند احادیث کی طرف اشارہ کیاجاتاہے ۔ ١۔ علی علیہ السلام فرماتے ہیں: الادب حلل مجددہ : ادب کی رعایت زینت کے نئے فاخرہ لباس کی طرح ہے (١) ۔ اوردوسری جگہ فرماتے ہیں: الادب یغنی عن الحسب : ادب انسان کو اپنے آباؤ اجداد اور بڑوں پرفخر کرنے سے بے نیاز کردیتاہے(٢) ۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ۔ خمس من لم تکن فیہ لم یکن فیہ کثیر مستمتع قیل و ماھن یاابن رسول اللہ؟ قال : الدّین والعقل والحیاء وحسن الخلق وحسن الادب: پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ وہ جس شخص میں ہوں تووہ قابل ملاحظہ صفات وامتیاز ات کاحامل نہ ہوگا ۔ عرض کیا گیا: اے فرزندِ رسول اللہ وہ کیا ہیں؟ فرمایا: دین وعقل وحیاء حسن خلق وحسن ادب (٣) ۔ اس کے علاوہ ایک اورحدیث میں اسی امام سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: لا یطمعن ذوا لکبرفی الثناء الحسن ولا الخبّ فی کثرة الصدیق ولا السی ء الادب فی الشرف۔ تکبر کرنے والوں کولوگوں سے ذکرِ خیر کی ہرگز توقع نہیں رکھنی چاہیئے ،اور نہ ہی دھوکہ باز اورمکار لوگوں کودوستوں کی کثرت کی امید رکھنی چاہیئے (٤) ۔ اسی بناء پر جب ہم اسلام کے عظیم رہنماؤں کی زندگی میں غور کرتے ہیں ، توہم وہ دیکھتے ہیں کہ وہ ادب سے متعلق دقیق ترین نکات کی اپنے سے چھوٹے افراد تک کے لیے بھی ر عایت کرتے تھے ۔ اصولی طورپر دین آداب کاایک مجموعہ ہے : خدا کے لیے ادب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سامنے ادب، آئمہ معصو مین علیہم السلام کے سامنے ادب استاد و معلم ، ماں باپ اور عالم ودانش مند کے سامنے ادب۔ یہاں تک کہ قرآن مجید کی آ یات میں غور کرنے سے معلو م ہوتاہے کہ خدااپنے اس مقام عظمت کے باوجود، جب اپنے بندوں سے بات کرتاہے توآداب کی پورے طورپر رعایت کرتاہے ۔ جب صورت حال یہ ہوتوپھر خدااوراس کے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لوگوں کی ذمہ داری واضح اور روشن ہے ۔ ایک حدیث میں منقول ہے: جس وقت سُورہ ٔ مؤ منون کی ابتدائی آ یات نازل ہوئیں ،اورانہیں آداب اسلامی کے دستور میں رکھا، جن میں سے ایک نماز میں خشوع کامسئلہ تھا، توپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے جو پہلے نماز کے وقت آ سمان کی طرف نظرآٹھا کردیکھتے تھے ، پھرکبھی سر بھی اُٹھایااورپھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیشہ زمین ہی کی طرف نظر رکھتے تھے ( ٥) ۔ پیغمبرخدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بھی یہ موضوع اس حد تک اہم ہے کہ قرآن اوپروالی آ یات میں صراحت کے ساتھ کہتاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی آواز سے آواز بلند کرنا،اوران کے سامنے شور وغل مچانا حبط اعمال کاموجب اورثواب کے ختم ہونے کاسبب ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سامنے صرف اس نُکتہ کی رعایت ہی کافی نہیں ہے ، بلکہ دوسرے ایسے امور بھی جوسوء ادب کے لحاظ سے آواز بلند کرنے اورشور وغُل مچانے کے مانند ہیں وہ بھی آپ کی بارگاہ میں ممنوع ہیں، اور فقہی اصطلاح میں یہاں القاء خصوصیّت اور تنقیح مناط کرنی چاہییٔے . اوراس کے اشباہ ونظائر یعنی مِلتی جلتی باتوں کوبھی اس سے ملحق کرناچاہتے ۔ سورۂ نُورکی آ یہ ٦٣ میں بھی یہ بیان ہوا ہے : لا تَجْعَلُوا دُعاء َ الرَّسُولِ بَیْنَکُمْ کَدُعاء ِ بَعْضِکُمْ بَعْضا مفسرین کی ایک جماعت نے اس کی یوں تفسیر کی ہے : جس وقت تم پیغمبر کاپکار تے ہوتوایسے ادب وحترام کے ساتھ اُسے پکارا کرو جواس کے لائق ہے ، نہ کہ اس طرح سے جیسے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کوپکارتے ہو۔ قابل ِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن اوپر آ یات میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ادب کی رعایت کودل کی پاکیزگی ، تقویٰ کوقبول کرنے کی آمادگی کی نشانی ،اوربخشش وآ مرزش اوراجرِ عظیم کاسبب شمارکرتاہے، جبکہ بے ادب لوگوں کو بے عقل چوپایوں کے مانند بتاتاہے ۔ یہاں تک کہ بعض مفسرین نے زیربحث آ یات کووسعت دیتے ہُوئے یہ تک کہاہے کہ یہ بات نچلے مراحل وامراتب مثلاً علماء ،دانش مندوں اورفکری اخلاقی ،رہبروں پر بھی عایٔد ہوتی ہے اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اُن کے سامنے بھی آداب کے رعایت کریں ۔ البتہ ائمہ معصو مین علیہم السلام کے سامنے تویہ مسئلہ اور بھی زیادہ واضح ہے ،یہاں تک کہ ان روایات میں جواہل بیت علیہم السلام کے طریقے سے ہم تک پہنچی ہیں یہ بیان ہواہے : جب ایک صحابی جنابت کی حالت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آ یاتوامام علیہ السلام نے بغیر تمہید کے فرمایا: امّا تعلم انہ لاینبغی للجنب ان ید خل بیوت الا نبیاء :؟ ! کیاتمہیں یہ علم نہیں ہے کہ کسی جنابت والے کے لیے انبیاء کے گھر میں داخل ہونامناسب نہیں ہے ؟( ٦)۔ اور دوسری روایت میں ان بیو ت لا نبیاء واو لاد الانبیاء لاید خلھا الجنب کی تعبیر ہوئی ہے جوابنیاء کے گھروں کے لیے بھی ہے کہ اور اولاد انبیاء کے گھروں کے لیے بھی ۔ مختصر اً یہ ہے کہ چھوٹوں اور بڑوں کے سامنے ادب کی رعایت کامسئلہ اسلامی احکام کے ایک اہم حصہ پرمشتمل ہے ،اگر ہم ان سب پربحث کرناچاہیں توتفسیر آیات کی حد سے باہر ہو جائیں گے ،ہم یہاں اسی بحث کوامام سجاد علی ابن الحسین علیہ السلام کی ایک حدیث کے ساتھ ، جورسالہ حقوق میں اُستاد کے سامنے ادب کی رعایت کے بارے میں ہے ،ختم کرتے ہیں،آپ علیہ السلام نے فرمایا: اس شخص کاحق جوتجھے تعلیم دیتاہے، اورتربیت کرتاہے یہ ہے کہ تو اس کااحترام کرے، اس کی مجلس کو محترم شمار کرے اس کی باتیں کامل طورسے کان دھر کے سُنے ، اس کے رُو برو مؤدّب ہوکربیٹھے ،اپنی آواز کواس کی آواز سے بلند نہ کرے، اور جب کوئی اس سے سوال کرے توجواب دینے میں جلدی نہ کرے، اِس کے حُضور میں کسی سے باتیں نہ کرے اوراس کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرے ، اگراس کے پیٹھ پیچھے کوئی اسے بُرا بھلاکہے تواس کادفاع کرے، اوراس کے عیوب کوچھپائے اوراس کے فضائل کوآشکار کرے، اس کے دشمن کے پاس نہ بیٹھے اوراس کے دوستوں کودشمن نہ رکھے، جس وقت توایسا کرے گاتوخدا کے فرشتے گواہی دیں گے کہ تواس کے پاس گیاہے اور خدا کے لیے تونے اُس سے علم حاصل کیاہے نہ کہ مخلوقِ خدا کے لیے ( ٧) ۔ ١۔ نہج البلاغہ : حکمت ٥۔ ٢۔بحارالانوار ،جلد٧٥ صفحہ ٦٨۔ ٣۔بحارالانوار ،جلد٧٥ صفحہ ٦٧۔ ٤۔ "" بحارالانوار ،جلد٧٥ صفحہ٦٧""۔ ٥۔ "" تفسیر مجمع البیان"" "" تفسیر فخررازی "" سُورہ مو منون کی آ یہ ٢ کے ذیل میں ۔ ٦۔ بحارالا نوار ،جلد٢٧ صفحہ ٢٥٥۔ ٧۔ "" محجتہ البیضاء "" جلد ٣ صفحہ ٤٥٠ (باب آداب الصحبة المعاشرہ ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:1-5
سوره حجرات/ آیه 1- 5
۔یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیِ اللَّہِ وَ رَسُولِہِ وَ اتَّقُوا اللَّہَ ِنَّ اللَّہَ سَمیع عَلیم ۔ ٢۔یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْواتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لا تَجْہَرُوا لَہُ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمالُکُمْ وَ أَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ ۔ ٣۔ِنَّ الَّذینَ یَغُضُّونَ أَصْواتَہُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ أُولئِکَ الَّذینَ امْتَحَنَ اللَّہُ قُلُوبَہُمْ لِلتَّقْوی لَہُمْ مَغْفِرَة وَ أَجْر عَظیم ۔ ٤۔ِنَّ الَّذینَ یُنادُونَکَ مِنْ وَراء ِ الْحُجُراتِ أَکْثَرُہُمْ لا یَعْقِلُونَ ۔ ٥۔وَ لَوْ أَنَّہُمْ صَبَرُوا حَتَّی تَخْرُجَ ِلَیْہِمْ لَکانَ خَیْراً لَہُمْ وَ اللَّہُ غَفُور رَحیم۔ ترجمہ ١۔ اے ایمان لانے والو! خدااوراس کے رسول سے کسی چیزمیں آگے نہ بڑھا کرو ، اور اللہ کاتقویٰ اختیار کرو ،بیشک خداسننے والا اور جاننے والاہے ۔ ٢۔ اے ایمان لانے والو! تم اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے دبلند نہ کیاکرو ، اوراس کے سامنے اونچے اونچے نہ بولا کرو ( او رچیخ وپکار نہ کرو ) جس طرح تم آ پس میں ایک دوسرے سے ( زور وزور سے ) باتیں کرتے ہو ، کہیں ایسانہ ہو کہ تمہارے سب اعمال ضائع ہوجائیں اور تمہیں خبرتک نہ ہو ۔ ٣۔ وہ لوگ جورسول خداکے سامنے اپنی آ وازیں نیچی رکھتے ہیں ، ایسے لوگ ہیں جن کے دلوں کوخدا نے تقویٰ کے لیے خالص کرلیاہے ، ان کے لیے بخشش اوراجر عظیم ہے ۔ ٤۔ لیکن وہ لوگ جوتمہیں حجروں کے پیچھے سے بلند آواز کے ساتھ پکارتے ہیں ، ان میں سے اکثر سمجھتے نہیں ہیں ۔ ٥۔ اگروہ لوگ اتنا صبر کرتے کہ تم خود نکل کران کے پاس آ جائو توا ن کے لیے بہتر تھا ، اور خدا غفور ورحیم ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:1-5
شان نزول :
مفسرین نے پہلی آ یت کے لیے توبہت سی الگ شان ِ نزول بیان کی ہیں اور بعد والی آ یات کے لیے دوسری شان ِ نزول ۔ ان میں سے پہلی آ یت کے لیے جوشان نزول بیان کی ہیں .یہ ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ) خیبر کی طرف روانہ ہوتے وقت کسی کو مدینہ میں اپنی جگہ متعین کرناچاہتے تھے ، لیکن عمر نے کسی دوسرے آدمی کو متعین کرنے کی تجو ویز پیش کی اس پر اُوپر والی آ یت نازل ہوئی اور یہ حکم دیا کہ تم خدا اور پیغمبر سے آگے نہ بڑھا کرو ( ١) بعض دوسرے مفسرین نے یہ کہاہے کہ : مسلمانوں کی ایک جماعت کے لوگ کبھی کبھی یہ کیا کرتے تھے کہ اگر اس قسم کامعنیٰ ہمارے بارے میں نازل ہوتا تو بہتر تھا ، اس پر اوپر والی آ یت نازل ہوگئی ، اور کہا کہ تم خدا اوراس کے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے آگے نہ بڑھاکرو ( ٢) ۔ بعض دوسروں نے یہ کہاہے : یہ آ یت بعض مسلمانوں کے اعمال کی طرف اشارہ ہے . جنہوںنے اپنی عبادت کے مراسم میں سے بعض کو وقت سے پہلے انجام دے دیاتھا تو اوپر والی آ یت نازل ہوئی اورانہیں اس قسم کے کاموں سے منع کیا (٣) ۔ باقی رہی دوسری آ یت تواس کے بارے میں یہ کہاہے کہ قبیلہ بنی تمیم کاایک گروہ اوران کے اشراف مدینہ میں وارد ہُوئے اور جب مسجد نبوی میں داخل ہُوئے تو بلند آ واز کے ساتھ ، ان حجروں کے پیچھے سے ،جوپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رہائش گاہ تھے ، پکار پکار کرکہا : یامحمد اخرج الینا اے محمد ! باہر آ ! اس چیخ پکار ، اور غیر مودٔ بانہ تعبیروں سے پیغمبر کودُکھ ہوا ، جس وقت آپ باہر آ ئے توانہوں نے کہا: ہم اس لیے آ ئے ہیں تاکہ اپنافخرتجھ پرظاہر کریں ،اجازت دے تاکہ ، ہمارا شاع اور خطیب بنی تمیم کے افتخارات بیاں کرے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دی ۔ پہلے ان کاخطیب کھرا ہوا ، اورقبیلہ بنی تمیم کے خیالی فضائل کی بہت سی باتیں بیان کیں ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ثابت بن قیس سے فرمایا( ٤) تم ان کاجواب دو ، وہ کھڑے ہوگئے اوران کے جواب میں ایک فصیح وبلیغ خطبہ پیش کیا ،جس نے ان کے خُطبہ کے اثر کوختم کردیا ۔ اس کے بعد ان کا شاعر کھڑا ۂوا ، اوراس نے قبیلہ کی مدح میں کُچھ اشعار کہے ،جن کامشہور مُسلمان شاعِرحسان بن ثابت نے کافی وشافی جواب دیا ۔ اس وقت اس قبیلہ کے اشراف میں سے ایک نے جس کانام اقرع تھا ،کہا :اس شخص کاخطیب ہمارے خطیب سے زیادہ توانا ہے اوراس کاشاعر ہمارے شاعر سے زیادہ لائق . اوران کی آواز کی طرز بھی ہم سے برتر و بہتر ہے ۔ اس موقع پر پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان کے دلوں کو مائل کرنے کے لیے حکم دیاتواچھے ہدیے انہیں دیئے گئے ، ان تمام باتوں کاان پربہت اثرہُوا ،اورانہوں نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی نبوّت کااعتراف کرلیا ۔ زیربحث آ یات پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے گھرکے پیچھے انہیں کی چیخ پکار کے بارے میں ہیں ۔ ایک دوسری شان ِنزول بھی بیان کی گئی ہے جوپہلی آ یت سے بھی مربو ط ہے ، اوربعد والی آ یت سے بھی ، اور وہ یہ ہے کہ : ہجرت کے نویں سال جو عام الوفود تھا . یعنی وہ سال جس میں قبائل کے قسم قسم کے وفوداسلام قبول کرنے یاعہد و پیمان کرنے کے لیے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)چنانچہ جس وقت بنی تمیم کے قبیلہ کے نمائندے پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں آ ئے توابوبکر نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سامنے تجویز پیش کی کہ تعقاع کو( جوان کے اشراف میں سے ایک تھا ) آپ کاامیر بنادیا جائے اور عمرنے یہ تجویز پیش کی کہ اقرع بن حابس کواسی قبیلہ کاایک دوسراآدمی امیر بنا یاجائے ۔ اس موقع پر ابوبکر نے عمر سے کہا ، کیاتم میری مخالفت کرناچاہتے ہو؟ عمرنے کہ ،میراہر گز مخالفت کاارادہ نہیں تھا ، اس وقت دونوں نے پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سامنے زور زور سے چیخنا چلانا شروع کر دیا، جس دپر اوپروالی آ یات نازل ہوئیں ، یعنی نہ توکاموں میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے آگے بڑھو اور نہ ہی پیغمبرکے گھر کے سامنے چیخ پکار کرو ( ٥) ۔ ١۔ "" تفسیر قرطبی "" جلد ٩ صفحہ ٦١٢١۔ ٢۔ "" تفسیر قرطبی "" جلد ٩ صفحہ ٦١٢١۔ ٣۔ "" تفسیر قرطبی "" جلد ٩ صفحہ ٦١٢١۔ ٤۔ثابت ابن قیس جناب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)وانصار کامشترکہ خطیب تھا ، جیساکہ حسان حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کاخطیب تھا (اسدالغابہ جلد١ ،صفحہ ٢٢٩) ۔ ٥۔ "" تفسیر قرطبی "" جلد ٩،صفحہ ٦١٢١ و"" تفسیر فی ظلال القرآن جلد ٧ صفحہ ٥٢٤ وسیرة ابن ہشام جلد ٤ ،صفحہ ٢٠٦ سے آگے (کچھ فرق کے ساتھ ) یہ داستان نقل ہوئی ہے ( یہ حدیث صحیح بخاری میں بھی آ ئی ہے . صحیح بخاری جز ٦ صفحہ ١٧٢ ،سورۂ حجرات کی تفسیر میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:1-5
پیغمبر (ص) کی بارگاہ کے آداب
جیساکہ ہم نے سُورہ کے مضامین و مطالب کے بیان میں اشارہ کیاہے اس سُورہ میںاہم اخلاقی مباحث اور انضباطی احکام کاایک سلسلہ نازل ہوا ہے، جس نے اس کو سُورہ اخلاق کہلانے کے لائق بنادیاہے ، اور زیربحث آ یات میں جواس سُورہ کے آغاز میں بیان ہوئی ہیں، ان ہی احکام کے دوحصّوں کی طرف اشارہ ہواہے ۔ پہلاخدا ورسول پرکسی چیزمیں سبقت نہ کرنا ۔ دوسرا پیغمبرکی بارگاہ میں شوروغوغااورچیخ وپکار نہ کرنا ۔ اس کے بعد فرماتاہے: اے ایمان لانے والوں! کسی چیز کوخدا ورسول سے مقدم نہ کرو، اورخدا کاتقویٰ اختیار کرو، کیونکہ خدا سننے والا اورجاننے والاہے(یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیِ اللَّہِ وَ رَسُولِہِ وَ اتَّقُوا اللَّہَ ِنَّ اللَّہَ سَمیع عَلیم ) ۔ خدااور پیغمبرکے سامنے کسِی چیز کو مقدم نہ کرنے سے مراد کاموں میںاُن سے سبقت نہ کرناہے،اورخدا ورسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مقابلہ میں عجلت اورتیزی اختیار نہ کرناہے ۔ اگرچہ بعض مفسرین نے آ یت کے مفہو م کو محدُود کرناچاہا ہے کہ اس کووقت سے پہلے عبادات کوانجام دینے، یاپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گفتگو کرنے سے پہلے بات کرنے ، اور اسی قسم کی دوسری چیزوں میں منحصرسمجھیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ آیت ایک وسیع اور کشادہ مفہو م رکھتی ہے اور ہرقسم کے پر وگرام میں ہرقسم کی سبقت کرناشامل ہے(١) ۔ پیروکاروں کی پیشوائوں اور رہبروں کے سامنے نظم وضبط کی ذمہ داری ،خصوصاً ایک عظیم رہبرالہٰی کے ضمن میں اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کسی کام میں اورکسی بات اورپروگرام میں ان پرسبقت اورپیش قدمی،اورعجلت اورتیزی نہ کریں ۔ البتہ یہ اس معنی میں نہیں ہے کہ اگر وہ کوئی تجویز سامنے لاتے ہوں یا مشورہ دیناچاہتے ہوں تووہ بھی رہبر الہٰی کے سامنے پیش نہ کریں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس سے آگے چل پڑنا ، مصمم ارادہ کرلینا، اورکسی کام کوان کی تصویب سے پہلے انجام دینا ۔ یہاں تک کہ مسائل کے بارے میں بھی ضرورت سے زیادہ سوال وگفتگو نہیں کرنا چاہییٔے ،بلکہ یہ بات رہبر پرچھوڑ دینی چایئے کہ وہ اپنے موقع و محل پرسائل کوپیش کرے، خصوصاً رہبر معصو م کی صُورت میں جوکسِی چیزسے غفلت نہیں کرتا ،اوراگر کوئی اور شخص اس سے سوال کررہا ہوتو دوسروں کی پیش قدمی اور سبقت کرتے ہُوئے جلدی کرکے سوال کاجواب بھی نہیں دینا چاہیۓ .حقیقت میں یہ تمام معانی آ یت کے مفہو م میں شامل ہیں ۔ بعد والی آ یت دوسرے حکم کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہتی ہے: اے ایمان لانے والو!تم اپنی آواز کو پیغمبرکی آواز سے بلند نہ کرو اوراس کے سامنے اونچی آواز کے ساتھ بات نہ کرو، اور داد وفریاد اور چیخ پکارنہ کرو، جیساکہ تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسانہ ہو،کہ ہمارے اعمال ختم اور نابود ہوجائیں درآنحالیکہ تمہیں خبر بھی نہ ہو (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْواتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لا تَجْہَرُوا لَہُ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمالُکُمْ وَ أَنْتُمْ لا تَشْعُرُون) ۔ پہلا جُملہ ( لا تَرْفَعُوا أَصْواتَکُمْ فَوْق...)اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اپنی آواز کو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے اونچی نہ کرو، کیونکہ یہ ان کے حضور میں ایک قسم کی بے ادبی ہے ، پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاتو مقام ہی بلندہے، یہ کام تو ماں باپ ،اور استادو معلم کے سامنے بھی ادب واحترام کے خلاف ہے ۔ باقی رہاجُملہ ( لا تَجْہَرُوا لَہُ بِالْقَوْلِ...)مُمکن ہے یہ اُسی پہلے جُملہ کے معنی کی ایک تاکید ہو، تاکسِی نئے مطلب کی طرف اشارہ ہو،اوروہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یامحمد کے جُملے کے ساتھ خطاب نہ کرنے اوراس کی بجائے یارسول اللہ کہتاہو ۔ البتہ مفسرین کی ایک جماعت نے ان دونوں جُملوں کے درمیان فرق کے بارے میں اس طرح کہاہے: پہلا جُملہ تواس وقت کے بارے میں ہے جب لوگ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کررہے ہوں، توان کی آواز پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے اونچی نہیں ہونی چاہیئے اور ددوسرے جُملہ کاتعلق اس موقع سے ہے جب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوں، اورلوگ آپ کی بارگاہ میں باتیں کررہے ہوں، تو اس حالت میں بھی انکی آواز زیادہ بلند نہیں ہونی چاہیئے ۔ اس معنی اور سابقہ معنی کوجمع کرنے میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے ،اورآ یت کے شانِ نزول کے ساتھ بھی ساز گار ہے.بہرحال آ یت کاظاہر زیادہ تریہی ہے ، کہ وہ دو مختلف مطالب کوبیان کررہی ہے ۔ یہ بات ظاہر اورواضح ہے کہ اگراس قسم کے اعمال مقامِ شان نبوّت کی توہین کے ارادہ سے ہوں تو موجب کُفر ہیں ،اوراس کے بغیر ہوں توایذا ء وگناہ ہیں ۔ پہلی صورت میں تواعمال کے حبط اورنابودی کی علّت واضح ہے ، کیونکہ کُفر علت حبط نیک عمل کے ثواب کے ختم ہونے کاباعث ہے ۔ اور دوسرے صورت میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے ، کہ اس قسم کابُرا عمل بہت سے اعمال کے ثواب کی نابودی کاسبب بن جائے ،اورہم پہلے بھی حبط کی بحث میں بیان کرچکے ہیں کہ بعض اعمال کے ثواب کابعض گناہوں کی وجہ سے نابود ہوجانے میں کوئی امر مانع نہیں ہے. جیساکہ اعمال صالح کی وجہ سے بعض گناہوں کے اشکانابود ہوجانابھی قطعی ویقینی ہے، اورقرآنی آ یات اوراسلامی روایات میں اس معنی پربہت سے دلائل موجود ہیں ،اگر چہ یہ معنی ایک قانون کلی کی صورت میں تمام حسنات و سیّئات میں ثابت نہیں ہوا . لیکن بعض اہم حسنات اور سیّئات کے بارے میں بہت سی منقول دلیلیں موجود ہیں ،اور عقلی طورپر بھی اس کے برخلاف کوئی دلیل نہیں ہے (٢) ۔ ایک روایت میں آ یاہے کہ جس وقت اوپروالی آ یت نازل ہوئی ،تو ثابت بن قیس نے ( جو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے خطیب تھے اوربلند آواز تھے) کہا: وہ میں تھا جواپنی آواز کوپیغمبرکی آواز سے بلند کیاکرتاتھا، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اونچی آوازے خطاب کیاکرتاتھا،پس میرے اعمال نابود ہوگئے ہیں، اور میں اہل دوزخ میں سے ہوں ۔ یہ مطلب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کانوں تک پہنچا توآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ایسانہیں ہے ،وہ اہل بہشت میں سے ہے (کیونکہ وہ یہ کام مو منین کے لیے خطاب کرتے وقت یامخالفین کے مقابلہ میں ایک اسلامی وظیفہ وذمہ داری ادا کرنے کے لیے انجام دیاکرتاتھا( ٣) ۔ جیساکہ عباس بن عبدالمطلب نے بھی جنگ ِ حنین میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے بلند آواز میں بھاگنے والوں کوواپس لوٹنے کی دعوت دی تھی ۔ بعد والی آ یت میں ، اس موضوع پرمزید تاکید کے لیے، ان لوگوں کے اجر وثواب کو، جوخدا کے اس دستور پرعمل کرتے ہیں، اورپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سامنے انضباط وادب کی رعایت کرتے ہیں، اس طرح بیان کرتاہے،: وہ لوگ جواپنی آواز پیغمبرکے سامنے دھیمی رکھتے ہیں ،ایسے لوگ ہیں،جن کے دلوں کوخدانے تقویٰ کے لیے خالص اورکشادہ کردیاہے اوران کے لیے مغفرت اورعظیم اجرہے (انَّ الَّذینَ یَغُضُّونَ أَصْواتَہُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ أُولئِکَ الَّذینَ امْتَحَنَ اللَّہُ قُلُوبَہُمْ لِلتَّقْوی لَہُمْ مَغْفِرَة وَ أَجْر عَظیم )(٤) ۔ یغضون غض (بروزن حظ) کے مادہ سے نگاہ یاصدا کوکم کرنے اور کوتاہ کرنیکے معنی میں ہے ، اوراس کے مقابلہ میں نگاہ کوخیرہ کرنااورآواز کوبلند کرناہے۔ امتحن امتحان کے مادہ سے ، اصل میں سونے کوپگھلانے اورغیرخالص کوالگ کرنے کے معنی میں ہے اوربعض اوقات چمڑے کوپھیلانے کے معنی میں بھی آ یاہے، لیکن بعد میں آزمایٔش کے معنی میں استعمال ہونے لگا، جیساکہ زیربحث آیت میں ایسی آزمایٔش جس کانتیجہ دل کاخلوص اورتقویٰ قبول کرنے کے لیے اس میں وسعت کاپیداہوناہے ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ پہلی آ یت میں نبی کی تعبیرہوئی ہے اوریہاں رسول اللہ کی تعبیرہے ،اوردونوں باتیں گوایا اس نکتہ کی طرف اشارہ ہیں کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی طرف سے کچھ نہیں رکھتا،وہ خدا کابھیجا ہوااوراس کاپیام لانے والا ہے، لہٰذا اس کے سامنے وہ سوء ادب خداکے بارے میں سوء ادب ہے اوراس کے لیے ادب کی رعایت کرناخدا کیلئے ادب کی رعایت کرناہے ۔ ضمنی طورپر مغفرة کی تعبیرنکرہ کی صُورت میں تعظیم واہمیّت کے لیے ہے، یعنی خدا انہیں کامل و عظیم مغفرت نصیب کرے گا. اور گناہ سے پاک ہونے کے بعد انہیں اجرِ عظیم عنایت فرمائے گا .کیونکہ پہلے تو گناہ سے پاک ہوناپڑتاہے اس کے بعد خدا کاعظیم اجرحاصل ہوتاہے ۔ بعد والی آ یت مزید تاکید کے لیے ، ایسے لوگوں کونادانی اور بے عقلی کی طرف اشارہ کرتی ہے،جواس حکم الہٰی کوپسِ پشت ڈال دیتے ہیں، ارشادہوتاہے: جولوگ تجھے حجروں کے پیچھے سے بلند آواز کے ساتھ پکارتے ہیں ان میں سے اکثرعقل وخرد سے کورے ہیں(انَّ الَّذینَ یُنادُونَکَ مِنْ وَراء ِ الْحُجُراتِ أَکْثَرُہُمْ لا یَعْقِلُونَ) ۔ یہ کونسی عقلی وخرد ہے کہ انسان خداکے عظیم ترین سفیرکے سامنے ادب وآداب کی رعایت نہ کرے، اور بنی تمیم کے بدووّں کی طرح ، بلنداورغیرمؤد بانہ آ واز پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے گھرکے پیچھے نکالے اورپکارپکار کرکہے: یامحمد! یامحمد! اخرج الینا، اور پروردگارکی اس مہر و عطوفت کے مرکز کو اس طرح سے ایذا اور آ زار پہنچائے ۔ اصولی طورپر انسان کی عقلی وخرد جتنی بلند ہوتی جاتی ہے اتناہی اس کے ادب میں اضافہ ہوتاجاتاہے، کیونکہ وہ قدروں اور اقتدارکی ضد کوبہترطورپر سمجھنے لگتاہے، یہی وجہ ہے کہ بے ادبی ہمیشہ بے عقلی کی نشانی ہوتی ہے ۔ یادوسرے لفظوں میں بے ادبی حیواں کاکام ہے اورادب انسان کا ۔ أَکْثَرُہُمْ لا یَعْقِلُون (ان میں سے اکثرسمجھتے نہیں ہیں) کی تعبیریاتواس بناپر ہے کہ اکثر بعض اوقات لغت میں عرب میں کل اور سب کے معنی میں بولاجاتاہے، لیکن اعتیاط اور ادب کی رعایت کی بناء پراس تعبیرکواستعمال کرتے ہیں، تاکہ اگرایک شخص بھی مستثنیٰ ہواہو تواس کاحق بھی ضایٔع نہ ہو، گو یاخدااس تعبیرکے ساتھ فرماتاہے: میں جوتمہارا پروردگارہوں، اورہرچیزپراحاطہ علمی رکھتاہوں، میں بات کرتے وقت آداب کی رعایت کرتاہوں توپھرتوکیوں رعایت نہیں کرتے؟ یایہ کہ واقعاً ان کے درمیان کچھ عقلمند آدمی بھی تھے جوعدم توجہ یاہمیشہ کی عادت کی بناء پرصدابلندکرتے تھے، قرآن اس طریقہ سے انہیں تنبیہ کررہاہے کہ وہ اپنی عقل وخرد کوکام میں لائیں اورادب کوفراموش نہ کریں ۔ حجرات حجرہ کی جمع ہے یہاں ان متعدد کمروں کی طرف اشارہ ہے جو مسجدبنوی کے پہلو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے لیے تیار کیئے گیئے تھے،اوراصل میں حجر (بروزناجر) کے مادہ سے منع کے میں ہے ۔ کیونکہ حجرہ دوسرے لوگوں کے لیے انسان کی زندگی کے حریم میں داخل ہونے سے مانع ہے، اوریہاں ورائ کی تعبیرباہر کے معنی میں ہے چاہے جس طرف سے ہو، کیونکہ پیغمبرکے حجروں کے دروازے سے مسجدکی طرف کھلتے تھے، اورنادان وجلدبازلوگ بعض اوقات حجرہ کے دروازے کے سامنے آ تے ،اور یامحمد کہہ کرپکارتے ہیں،قرآن انہیں اس کام سے منع کررہاہے ۔ آخری زیربحث آیت میں اس معنی کی تکمیل کے لیے مزید کہتاہے: اگروہ صبرسے کام لیتے اوراتناصبرکرتے کہ تم خود نکل کراُن کے پاس آ جاتے توان کے لیے بہترتھا(وَ لَوْ أَنَّہُمْ صَبَرُوا حَتَّی تَخْرُجَ ِلَیْہِمْ لَکانَ خَیْراً لَہُمْ ) ۔ یہ ٹھیک ہے کہ عجلت اورجلد بازی سے بعض اوقات انسان اپنے مقصد تک جلدترپہنچ جاتاہے،لیکن ایسے مقام پر صبر وشکیبائی ہی مایہ رحمت وآمرزش اوراجرِ عظیم ہے، اور یقینا یہ اس پربرتری رکھتاہے ۔ اور چونکہ کچھ افراد لاشعور ی طورپر پہلے ا س قسم کے کام کے مرتکب ہوچکے تھے،اوروہ اس خدائی حکم کے نزول کے ساتھ طبعاً وفطرةً وحشت میں پڑجاتے،لہٰذاقرآن انہیں یہ خوش خبری دیتاہے، کہ اگروہ تو بہ کرلیں تووہ بھی خداکی رحمت میں شامل ہوجائیں گے ۔ اس لیے آیت کے آخرمیں فرماتاہے،: اورخدا غفور ورحیم ہے(وَ اللَّہُ غَفُور رَحیم ) ۔ ١۔ "" لا تقدموا""فعل متعدی کی صورت میں ہے اوراس کامفعول محذوف ہے اورتقدیر میں اس طرح ہے "" لاتقد مُوا امراً بین یدی اللہ ورسُولہ"" کسی کام میں اوراس کے رسُول پرسبقت نہ کرو.بعض نے یہ احتمال بھی دیاہے کہ یہ فعل یہاں فعل لازم کے معنی میں آ یاہے اوراس کامفہو م لاتتقدموابین یدی اللہ... ہے اللہ کے سامنے ایک دوسرے پرتقدم نہ کرو .اگرچہ یہ دونوں تفاسیرا صول ادبی کے لحاظ سے مختلف ہیں .لیکن معنی اورنتیجہ کے لحاظ سے ایک ہیں ۔ بہرحال مراد یہ ہے کہ کسی چیزمیں اورپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرسبقت نہ کرو ۔ ٢۔ مسئلہ ""حبط""کے بارے میں مزید تشریح جلد١،صفحہ ٥٠٦(سورہ بقرہ کی آ یہ ٢١٧ کے ذیل میں مطالعہ فرمائیں) ۔ ٣۔ "" مجمع البیان"" جلد٩صفحہ ١٣٠ یہ حدیث مختصر سے فرق کے ساتھ بہت سے مفسرین و مد ثین کے کلمات میں، منجملہ ان کے نورالثقلین ،صحیح بخاری، تفسیرفی ظلال القرآن اور مراغی میں، آ ئی ہے ۔ ٤۔ "" للتقوٰی "" میں "" لام "" درحقیقت "" لام غایب"" ہے نہ کہ "" لام علت "" یعنی ان کے دلوں کوتقویٰ کوقبول کرنے کے لیے خالص اور آمادہ کرتاہے ،کیونکہ اگردل خالص نہ ہو اور آ لودگیوں سے پاک نہ ہوتو پھر حقیقی تقویٰ اس میں جاگزیں نہیں ہوسکتا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:1-5
٢۔ پیغمبر(ص) کی قبر کے ساس آ واز بلند کرنا
علماء اورمفسرین کی ایک جماعت نے یہ کہاہے کہ زیربحث آ یات جس طرح پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں ان کے پاس آواز بلند کرنے سے منع کرتی ہیںاسی طرح ان کی وفات کے بعد کے زمانہ پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں( ١) ۔ اگران کی مراد آ یت کی عبارتوں کاشمول ہے توظاہر آ یت رسول اللہ کے زمانہ حیات کے ساتھ مخصوص ہے ، کیونکہ یہ آیت کہتی ہے کہ اپنی آواز کوآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی آواز سے بلند نہ کرو، اور یہ اسی صُورت میں ہوگا . جب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حیاتِ جسمانی رکھتے ہوں اوریہ بات کررہے ہوں ۔ اوراگراس سے مراد مناط وفلسفۂ حکم ہو، جواس قسم کے موقع پر ظاہر وواضح ہے، اوراہل عرف نگارِ خصوصیت کرتے ہوں، توپھر تعمیم مذکور بعید نظر نہیں آ تی کیونکہ یہ بات تو مسلم ہے کہ یہاں ہدف و مقصد پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ساخت قدس میں ادب و احترام کی رعایت ہے .اس بناء پر جب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کے پاس آواز بلند کرناایک قسم کی بے احترامی اورہتک حرمت ہوتوبلا شک وشبہ یہ بات جایٔز ہے نہیں ہے، سوائے اس کے کہ وہ اذان نماز کی صورت میں ہو، یاتلاوت قرآن یاخُطبہ اوراس کے مانند دوسرے بیانات ہوں تواس قسم کے مواقع پر نہ تو پیغمبر کی زندگی میں یہ بات ممنوع ہے اور نہ ہی وفات کے بعد۔ اصول کافی میں ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے اُس واقعہ کے بارے میں منقول ہے، جو وفات امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پراس ممانعت کے سلسلہ میں، جوحضرت کے جوار پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں دفن ہونے کے بارے میں عائشہ نے کی تھی ،اوراس پر ایک چیخ پکار بلند ہوئی توامام حسین علیہ السلام یاایّھاالّذین اٰمنوالا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ... کی آ یت سے استدلال کیا اوررسولِ خداسے یہ جُملہ نقل فرمایا: ان اللہ حرم من المؤ منین امواناً ماحرم منھم احیاء خدانے مو منین کے لیے جوکچھ حال حیات میں حرام کیاہے وہ ان کی موت کے بعد بھی حرام کیاہے ( ٢) ۔ یہ حدیث آ یت کے مفہو م کی عمو میت کی ایک اورگواہ ہے ۔ ١۔ ""رُوح المعانی "" جلد ٢٦ صفحہ ١٢٥۔ ٢۔اصول کافی مطابق نقل نورالثقلین ،جلد٥،صفحہ ٨٠۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:1-5
٣۔ ہرچیزمیں اورہرجگہ انضباط اسلامی
مسئلہ مدیر یت و فر ماندہی نظم وضبط کی رعایت کے بغیر کبھی بھی درست نہیں . اگر وہ لوگ جوکسی مدیر ورہبر کے ماتحت ہوں خود سرانا عمل کریں توتمام کاموں کاشیرازہ بکھر جائے گا . چاہے رہبر کتناہی لائق وشائشتہ کیوں نہ ہو ۔ بہت سی شکستیں اورناکامیاں اورجوبہت سے گروہوں ، جمعیتوں یالشکروں کودامن گیرہوئی ہیں وہ سب اسی راہ گزر سے ہوئی ہیں اور مُسلمانوں نے بھی اس دستور سے تخلف کا تلخ مزہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں اوراس کے بعد بارہا چکھاہے، جن میں سے سب سے زیادہ واضح جنگ، احد کی شکست ہے جوایک تھوڑے سے جنگجو گروہ کی بے قاعدہ گی کی وجہ سے ہو ئی تھی ۔ قرآن مجید نے اس حد سے زیادہ اہم مسئلہ کو، اوپروالی آ یات میں مختصر سی عبارتوں میں جامع اورپرکشش صُورت میں پیش کیاہے،اور کہتاہے: یاایھاالذین اٰمنو الا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ۔ جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں، آ یت کے مفہو م کی وسعت اس قدر زیادہ ہے کہ وہ ہرقسم کے تقدم و تاخر اورخوسرا نہ گفتار ورفتار کو رہبری کے دستور سے خارج ہو،شامل ہے ۔ ان حالات میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کی تاریخ میں زیادہ مواقع ایسے نظر آتے ہیں، کہ کچھ لوگوں نے آپ علیہ السلام کے فرمان پر سبقت کی ، یاپیچھے رہ گئے اورآپ کی اطاعت سے رُو گردانی کی، تو شدید ملامت وسرزنش کامحل قرار پائے ،منجملہ ان کے یہ ہے کہ : ١۔ جس وقت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے لیے روانہ ہُوئے (تواس وقت ہجرت کے آٹھویں سال کا) ماہ مبارک رمضان تھااور بہت زیادہ جمعیّت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھی، ایک گروہ سوار اورایک پیادہ تھا، جس وقت آپ کراع الغمیم کی منزل پرپہنچے توآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے پانی کابرتن لایاگیا، اورحضرت نے نے اپنا روزہ افطار کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہیوں نے بھی افطار کیا، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک گروہ نے آپ (صلی اللہ علیہ ولہ وسلم)سے سبقت کی اور افطار کرنے پر تیار نہ ہُوا اور اپنے روزے پرقائم رہے ، تو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں عصاة ( یعنی گنا ہ گاروں کاگروہ ) نام دیا(١) ۔ ٢۔ دوسرانمونہ حجتہ الوداع کی داستان میں ہجرت کے دسویں سال میں واقع ہوا. پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم) نے منادی کو یہ ندا کرنے کا حُکم دیاکہ جوشخص قربانی کاجانور اپنے ساتھ نہیں لایاوہ پہلے عمرہ بجالائے اوراحرام سے خارج ہوجائے، اس کے بعد مراسم حج بجالائے، لیکن جولوگ قربانی کاجانور ساتھ لائے ہیں( اوران کاحج ، حج فراد ہے) وہ اپنے احرام پربر قرارر ہیں .اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزید فرمایا، اگر میں قربانی کے اونٹ ہمراہ نہ لایاہوتا، تو میں عمرہ کی تکمیل کرتااور احرام سے خارج ہوجاتا، لیکن ایک گروہ نے اس حکم کوانجام دینے سے روگردانی کی اور یہ کہا کہ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تواپنے احرام پرباقی رہے اور ہم احرام سے خارج ہوجائیں ؟ کیا یہ بُری بات نہیں ہے کہ ہم مراسم حج کی طرف عمرہ بجالانے کے بعد جائیں، جبکہ غسل ( جنابت) کے پانی کے قطرات ہم سے گررہے ہوں ۔ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس تخلف اور بے انضباطی سے سخت رنجیدہ ہُو ئے اور سختی کے ساتھ سرزنش کی ( ٢) ۔ ٣۔ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وفات کے قریب لشکر اسامہ سے تخلف کی داستان مشہور ہے کہ آنحضرت نے مسلمانوں کوحکم دیاکہ اسامہ بن زید کی کمان میں رو میوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے آمادہ ہوں اورمہاجرین وانصار کے لیے یہ حکم تھاکہ وہ اس لشکر کے ساتھ جائیں ۔ شاید آپ کامنشاء یہ تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی رحلت کے وقت وہ مسائل جواہر خلافت میں واقع ہُوئے وہ نہ ہوں ، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لشکرِ اسامہ سے تخلف کرنے والوں پرلعنت فرمائی، لیکن اس کے باوجود ایک گروہ نے جانے سے روگردانی کی اور بہانہ یہ کیا کہ ہم پیغمبر کوایسے حالات میں تنہانہیںچھوڑ سکتے( 3) ۔ پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کے آخری لمحات میں قلم ودوات کی داستان بھی مشہور اورہلادینے والی ہے،بہتریہ ہے کہ ہم صحیح مسلم کی اصل عبارت کی یہاں نقل کردیں ۔ لما حضوررسول اللہ وفی البیست وجال فیھم عمربن الخطاب فقال النبی(ص) ھلم اکتب لکم کتاباً تضلون بعدہ ، فقال عمر انّ رسو ل اللہ (ص) قد غلب علیہ الوجع! کم القراٰن ، حسبنا کتاب اللہ، فاختلف اھل البیت، فاختصموا ، فمنھم من یقول قربوا یکتب لکم رسو ل اللہ(ص) کتاباً لن تضلّو ابعدہ، و منھم من یقول ماقال عمر، فلما اکثر وا اللفووالا ختلاف عند رسول اللہ (ص) قال رسول اللہ قو موا! ۔ جب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کاوقت قریب آ یاتو اس وقت ایک گروہ آپ کے پاس گھر میں موجود تھاجن میں عمر بن الخطاب بھی تھا، پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایاکہ غذ لے آ ؤ تاکہ میں تمہارے لیے ایسی چیز لکھ جاؤں جس کے بعدتم ہرگز ہرگمراہ نہ ہوگے، عمرنے کہا، بیماری نے پیغمبر پرغلبہ کیاہے....(العیاذ ُ اباللہ ناموزوں باتیں کررہے ہیں) ۔ قرآن تمہارے پاس ہے اور یہی خدا کی کتاب ہمارے لیے کافی ہے. تو اس وقت گھر میں موجود لوگوں میں اختلاف پڑگیا، بعض نے کہا کہ لے آؤ تاکہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی تحریرلکھ دیں تاکہ تم ہرگز گمراہ نہیں نہ ہو، جبکہ بعض دوسرے عمر کی بات کاتکرار کررہے تھے، جس وقت ناموزوںباتیں اوراختلاف بڑھ گئے ، توپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اُٹھ جاؤ ، اور مجھ سے دُور ہوجاؤ ( 4) ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ بعینہ یہی حدیث مختصر سے تفاوت اورفرق کے ساتھ بخاری نے بھی اپنی صحیح میں نقل کیاہے( 5) ۔ یہ ماجرا تاریخِ اسلام کے اہم حوادث میں سے ہے، جس کے لیے بہت زیادہ تجز یہ اورتحلیل کی ضرورت ہے، اور یہاں اس کی تشریح کاموقع نہیں ہے ،لیکن بہرحال یہ واقعہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے خلاف ورزی کے واضح ترین مواقع اور زیربحث آ یتیاایھاالّذین اٰمنوالاتقدم موابین یدی اللہ ورسولہکی مخا لفت کے روشن ترین واقعات میں شمار ہوتاہے ۔ اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس اسلامی اورالہٰی نظم وضبط کی رعایت کے لیے رہبرپرمحکم ایمان رکھنے ، اوراس کی زندگی کے تمام حالات میں اس کی رہبری کوقبول کرنے اوررہبری کوقبول کرنے اور رہبرکی اطاعت کرتے ہُوئے کامل طورپر سرتسلیم خم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ١۔اس حدیث کوبہت سے مؤ رخین اورمحدثین نے نقل کیاہے. منجملہ وسائل کی جلد ٧ ،صفحہ ١٢٥ (ابواب من یصح منہ الصو م )( تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ) ۔ ٢۔ "" بحارالانوار "" جلد ٢١ ،صفحہ ٣٨٦ تخلیص کے ساتھ ۔ 3۔ اس ماجرے کوبہت سی کتب تواریخ اسلامی میں لکھاگیاہے اور یہ تاریخ ِ اسلام کے اہم حوادث میں سے ہے، (مزید اطلاع کے لیے المراجعات کے مراجعہ ٩٠ کی طرف رجوع کریں ۔ 4۔ صحیح مسلم ،جلد٣،کتاب الوصیہ حدیث ٢٢ (صفحہ ١٢٥٩) ۔ 5۔ صحیح بخاری جلد ٦،باب مرض الہٰی و وفاة صفحہ ١١۔