لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا
Allah was certainly pleased with the faithful when they swore allegiance to you under the tree. He knew what was in their hearts, so He sent down composure on them, and requited them with a victory near at hand
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 48:18
[Pooya/Ali Commentary 48:18] The mention of believers among those who swore allegiance at Hudaybiya under the tree (see commentary of verse one and 10 of this surah) prove that there were believers as well as hypocrites among the swearers. As mentioned in the commentary of 4, 5 and 6 of this surah the believers are promised tranquillity (sakina) and victory in near future (at Khaybar). Aqa Mahdi Puya says: Allah is pleased only with the believers to whom alone He sent down tranquillity which helped them to stand firm with the Holy Prophet in the subsequent battles. The hypocrites who were among the swearers of fealty and exposed themselves by running away from the battles were naturally not the recipients of the tranquillity. In other matters also they demonstrated lack of tranquillity before and after the revelation of this verse.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 48:18-26
1. It should be carefully perused God has expressed His will towards the faithful only and not all those who by their haughty behaviour were excluded. (The inner secrets of their hearts being known to God.) 2. Secret of Bait-ur-Rizwan had been revealed by a clever decision in the truce affected in saving the lives of faithful men and women and who had concealed their faith for having tolive with the majority of infidels in Mecca. This is Divine Wisdom. The Prophet simply complied with Divine Commands. 3. Such acts are noticed when Ali, in the Battle of Siffin, prevented Malik-e-Ashtar to finish off the battle, and similarly Imam Hussain at Karbala held back the general onslaught of the enemy. This also explains postponement of the emergence of the 12th Divine Light until all the faithful are born. The Divine secrets are only made known to Divine Lights by Divine Messages. They act righteously throughout their life, unlike political pedagogue claiming to serve the nation, dedicating themselves and praying mob leading to ruin their ultimate cause (12-9-55). They rely on the wisdom of the mob.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:18-19
سوره فتح/ آیه 18- 19
١٨۔لَقَدْ رَضِیَ اللَّہُ عَنِ الْمُؤْمِنینَ ِذْ یُبایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ ما فی قُلُوبِہِمْ فَأَنْزَلَ السَّکینَةَ عَلَیْہِمْ وَ أَثابَہُمْ فَتْحاً قَریباً ۔ ١٩۔ وَ مَغانِمَ کَثیرَةً یَأْخُذُونَہا وَ کانَ اللَّہُ عَزیزاً حَکیماً ۔ ترجمہ ١٨۔خداان مومنین سے جنہوںنے درخت کے نیچے تیری بیعت کی راضی اور خوش ہوا ، خدااس کوجو (صداقت و ایمان )ان کے دلوں میں چُھپا ہواتھا جانتاتھا ،لہٰذا اس نے ان کے دل پر سکون و اطمینان نازل کیا ، اوراجرو پاداش کے عنوان سے ایک نزدیکی فتح انہیں نصیب فرمائی ۔ ١٩۔اور بہت سے غنائم جنہیں وہی حاصل کریں گے اور خدا عزیز وحکیم ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:18-19
بیعتِ رضوان میں شریک ہونے والوں سے خدا کی خوشنودی
ہم بیان کرچکے ہیں کہ واقعہ حدیبیہ میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور قریش کے درمیان سفیروں کاتبادلہ ہواتھا ،ان میںسے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے عثمان بن عفّان کو(جو ابو سفیان )کے عزیز وں میں سے تھا ، اور یہ رابط ظاہر اً اس کے انتخاب میں اثر رکھتاتھا )نمائندے کے طورپر مشرکین مکّہ اور اشراف قریش کے پاس بھیجاتھا تاکہ وہ انہیںاس حقیقت سے آگاہ کرے کہ مسلمان جنگ کے ارادے سے نہیں آ ئے ، بلکہ ان کاہدف ومقصد تھا خانہ خدا کی زیارت اور کعبہ کااحترام ہے ،لیکن قریش نے وقتی طورپر عثمان کوروک لیا، اور اس کے بعد مسلمانوں میں یہ افوا پھیل گئی کہ عثمان ماراگیا ہے . پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فر مایا : میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا جب تک اس گروہ سے جنگ نہ کرو ں۔ اس کے بعدآپ درخت کے نیچے تشریف لائے جووہاں پرموجود تھا ،اور لوگوں کے ساتھ تجدید بیعت کی اوران سے خواہش ظاہر کی کہ مشرکین کے ساتھ جنگ کرنے میں کوتاہی نہیں کریں گے ،اورکوئی شخص میدان جہاد سے فرار نہیں کرے گا ( ١) ۔ اس بیعت کی شہرت مکّہ میں پھیل گئی اورقریش سخت وحشت زدہ ہوگئے اورانہوںنے عثمان کو آزاد کردیا ۔ جیساکہ ہم جانتے ہیں یہ بیعت بیعت ِ رضوان (خوشنودیِ خداکی بیعت )کے عنوان سے مشہور ہوئی اور مشرکین کولر زہ براندام کردیا اور یہ تار یخ اسلام میں ایک نقطہ ٔ عطف تھا۔ زیر بحث آ یات اسی ماجرے کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں ۔ پہلے فرماتاہے :خداان مومنین سے جنہوںنے درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کی راضی اورخوشنود ہوا (لَقَدْ رَضِیَ اللَّہُ عَنِ الْمُؤْمِنینَ ِذْ یُبایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ) ۔ اس بیعت کامقصد توانائیوں کوزیادہ سے زیادہ منظم کرنا ، روحانی تقویت ،جنگی آمادگی کی تجدید ، افکار کی آزمائش اور وفا دار دوستوں کی فدا کاری کے وزن کوآزماناتھا ۔ اس بیعت نے مسلمانوں کے جسم میں ایک نئی رُوح پھونک دی چونکہ انہوں نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیاتھا ۔.اورصمیم قلب کے ساتھ وفاداری کااظہار کررہے تھے ۔ خدانے ان فدا کار اورایثار پیشہ مومنین کوجنہوںنے اس حساس لمحہ میں پیغمبر سے بیعت کی تھی چارعظیم اجر عطا فرمائے . جن میں سب سے زیادہ اہم اس کی رضا وخوشنودی تھی ، جیساکہ سورۂ توبہ کی آ یت ٧٢ میں بیان ہواہے : ( ورضوان من اللہ اکبر) اور خدا کی رضا او ر خوشنودی بہشت کی سب نعمتوں سے برتر ہے ۔ اس کے بعد مزیدکہتاہے : خدااس عہدو پیمان کے بارے میں ان کی وفاداری پر آماد گی اوران کے دلوں میں چُھپے ہُو ئے ایمان اورصداقت کوجانتاتھا ،اس لیے ان پر سکون و آرام نازل کیا (فَعَلِمَ ما فی قُلُوبِہِمْ فَأَنْزَلَ السَّکینَةَ عَلَیْہِم) ۔ ایساسکون واطمینان کہ :دشمنوں کے انبوہ کے درمیان ،اپنے وطن اور شہر ودیارسے دُور ازمقام پر ،ان کے آمادہ وتیار ہتھیار وں کے درمیان،کافی اسلحہ پاس نہ ہونے کے باوجود ( چونکہ زیارت کے لیے آ ئے تھے نہ کہ جنگ کے لیے )کسی قسم کاخوف اور گھبراہٹ محسوس نہ کی ، اور مضبوط پہاڑ کی طرح اپنے پائوں پر کھڑ ے رہے اور یہ ان کے لیے خدا حامل ہوں ۔ لہٰذ اایک حدیث امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے : ان العبد المؤ من الفقیر لیقول یارب ارز قنی حتی افعل کذاو کذامن البّر ووجوہ الخیر، فاذا علم اللہ عزّو جل ذالک منہ یصدق نیتہ کتب اللہ لہ من الا جر مثل مایکتب لہ لرعملہ ان اللہ واسع کریم ۔ فقیر بندہ ٔ مومن جب کبھی یہ کہتاہے :خداوند مجھے توفیق عطافرما کہ میں ایسے ایسے اچھے اورنیک کام کروں ، جب خدا اس کی صدق نیّت کوجان لیتاہے تووہ اس کے لیے وہی اجر و صلہ لکھ دیتاہے جواُسے عمل کرنے کی صورت میں عطا کرتا، کیونکہ خداوسیع رحمت والا کریم ہے ( ٢) ۔ آ یت کے آخر میں تیسری نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرماتاہے : اورانہیں اجر کے طورپر قریب کی فتح نصیب کی (وَ أَثابَہُمْ فَتْحاً قَریباً ) ۔ ہاں !یہ فتح جواکثر مفسرین کے قول کے مطابق فتح خیبرتھی (اگر چہ بعض نے اسے فتح مکّہ شمار کیاہے ) ایثار پیشہ مؤ منین کے لیے خدا تیسری نعمت تھی ۔ قر یباً کی تعبیر اس چیز کی ایک تائید ہے کہ اس سے مراد فتح خیبر ہے کیونکہ یہ فتح ہجرت کے ساتویں سال کی ابتداء میں ، حدیبیہ کے واقعہ سے چند ماہ کے فاصلہ پرحاصل ہوئی ۔ چوتھی نعم جوبیعت رضوان کے بعد مسلمانوں کو نصیب ہوئی فراواں مادی غنائم تھے ، جیساکہ بعد والی آیت میں فر ماتاہے : او ردوسرا اجروہ بکثرت غنائم ہیں جواُن کے ہاتھ آئیں گے (وَ مَغانِمَ کَثیرَةً یَأْخُذُونَہا) ۔ ان غنائم میں سے ایک وہی خیبر کے غنائم تھے جومسلمانوں کوایک مختصر سے عرصہ میںنصیب ہُوئے ، اور خیبر کے یہودیوں کی بے حساب ثروت کی طرف توجہ کرتے ہُوئے یہ غنائم حد سے زیادہ اہمیّت کے حامل تھے ۔ لیکن غنائم کوخیبر کے غنائم میں محدُود کرنے کی کوئی قطعی دلیل نہیں ہے ۔ لہٰذا باقی اسلامی جنگوں کے غنائم بھی جوفتح حدیبیہ کے بعد حاصل ہُوئے اس میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ اور چونکہ مسلمانوں کوچاہیئے کہ وہ اس وعدہ الہٰی پر مکمل اطمینان رکھیں ، آ یت کے آخر میں مزید کہتاہے : خدا شکست ناپذیر اورحکیم ہے ( وَ کانَ اللَّہُ عَزیزاً حَکیماً) ۔ اگرتمہیں یہ حکم دیا ہے کہ حدیبیہ کے مقام پرصلح کرلو، تووہ حکمت کی اساس پرتھا ، وہ حکمت کہ وقت کے گزرنے نے اس کے اسرار سے پردہ اٹھا دیاہے ،اور اگروہ تمہیں فتح قریب اورغنائم کثیرہ کاوعدہ دیتاہے ، تووہ اس بات پر قادر ہے کہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے ۔ اس طرح سے صاحب ایمان اورایثار پیشہ مسلمانوں نے بیعت رضوان کے سایہ میں، اوران حساس لمحات میںپیغمبر سے وفا داری کااعلان کرکے دُنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرلی ، جبکہ بے خبر اورضعیف الایمان ڈر پوک منافق حسرت کی آگ میں جلتے رہے ۔ ہم اس گفتگو کوامیر المومنین علی علیہ السلام کی گفتگو پر ختم کرتے ہیں ، جبکہ آپ صدر اوّل کے مسلمانوں کی پامردی اور دشمن سے بے نظیر جہاد کے بارے میں بات کرتے ہیں ،اور سست وکمزور عنصر مخاطبین کی مذ مت کرتے ہُوئے فرماتے ہیں : فلما رای اللہ صدقنا انزل،اور سست انزل بعد ونا الکبت ،وانزل علینا النصر ،حتّٰی استقرالاسلام ملقیاًجرانہ ، و متبو ئااو طانہ،العمری لو کنانا ٔ تی ما اتیتم، ماقام للذ ین عمرد ، ولا اخضر للا بمان عمود ، وایم اللہ لتحتلبنھا د ماً،لتتبعنھا ند ماً ۔ جس وقت خدا نے ہمارے صدق وخلوص کودیکھا توذلّت وخواری کودشمن پر اور کامیابی ونصرت کوہم پر نازل فرمایا، یہاں تک کہ اسلام صفحہ ٔ زمین پر پھیل گیا ،اوروسیع علاقے اپنے لیے چن لیے ، مجھے میری جان کی قسم ہے کہ اگر ہم مبارزہ میں تمہاری طرح ہوتے توہرگز دین کاستون قائم نہ ہوتا ، اورایمان کے درخت کی شاخ سر سبز نہ ہوتی ،اور خدا کی قسم تم دودھ کے بد لے خون دوہو گے اور پشیمان ہوں گے (٣) ۔ ١۔"" مجمع البیان زیر بحث آ یات کے ذیل میں ""۔ ٢۔ "" بحارالانوار"" جلد ٧٠ ،صفحہ ١٩٩۔ ٣۔ "" نہج البلاغہ "" خطبہ ٥٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:18-19
بیعت اور اس کی خصوصیات
بیعت بیع کے مادہ سے اصل قرار داد معاملہ کے وقت ہاتھ میں دینے کے معنی میں ہے ،اس کے بعداطاعت کے عہدو پیمان کے لیے ہاتھ میں ہاتھ دینے پر اس کا اطلاق ہو نے لگا ، اور وہ اس طرح ہوتاتھا کہ جب کوئی کسی سے و فادار ی کااعلان کرناچاہتا تھا اوراسے رسمی طور پر قبول کرنا اوراس کے فرمان کی اطاعت کرنا چاہتاتھا ، تو اس سے بیعت کیاکرتاتھا،اور شاید اس لفظ کااطلاق اس معنی میں ایک وجہ سے ہوتاتھا ،کہ دونوں طرف سے ہر ایک دوسرے کے ساتھ ایک عہدکرتا تھا جو دومعاملہ کرنے والوں کے عہدو پیمان کے مانند ہوتاتھا ، بیعت کرنے والا بعض اوقات جان کی حد تک اور کبھی مال واولاد کی حد تک اس کی اطاعت کے لیے اپنی آمادگی کااظہار کرتاتھا ، اوربیعت لینے والابھی اس کی حمایت اوراس کے دفاع کو اپنے ذمہ لیتاتھا ۔ ابنِ خلدون اپنی تاریخ کے مقدمہ میں کہتاہے : کانو ااذ بایع الا میر جعل اید یھم فی یدہ تاکیداً فاشبہ ذالک فعل البایع و العشتری : جب لوگ کسی امیر سے بیعت کرتے تھے تو تاکید کے لیے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیتے تھے ،اور یہ کام بیچنے اور خرید نے والے کے کام کے مشابہ تھا (۱) ۔ قرائن بتلا تے ہیں کہ بیعت مسلمانوں کی ایجاد ات میں سے نہیں ہے ، بلکہ یہ اسلام سے پہلے عربوںمیں ایک رسم کے طورپر رائج تھی، اسی بناء پر آغازِ اسلام میں جب قبیلہ اوس اور خزرج حج کے موقع پر مدینہ سے مکّہ آ ئے تو انہوںنے نے عقبہ میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)بیعت کی تھی ، مسئلہ بیعت کے سلسلہ میں ان کایہ عمل ایک جانے پہچانے کام پر عمل تھا، اس کے بعد پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی مختلف مواقع پرمسلمانوں سے تجدید بیعت کی ، کہ اُن سے ایک مو قع یہی حدیبیہ میں بیعتِ رضوان کاتھا اوراس سے زیادہ وسیع وہ بیعت تھی جو فتح مکّہ کے بعد انجام پاتی ، جس کی تفصیل انشاء اللہ سورہ ٔ ممتحنہ کی تفسیر میں بیان ہوگی ۔ باقی رہی بیعت کی کیفیت تووہ کلی طورپر اس طرح سے تھی کہ بیعت کرنے والا ،اپناہاتھ بیعت لینے والے کے ہاتھ پررکھتا ، اور زبان حال یازبان مقال کے ساتھ اطاعت و وفاداری کااعلان کرتا ، اور بعض اوقات بیعت کے ضمن میں اس کے لیے شرائط وحد ُود کاقائل ہوتاتھا ،مثلاً مال کی حد تک بیعت یاجان کی حد تک یاہر چیز کی حدتک ، یہاں تک کہ بیوی بچّے تک قربان کردینے کی حد تک ۔ اور بعض اوقات فرارنہ کرنے کی حد تک اور کبھی موت کی حد تک بیعت ہوتی تھی ،( اتفاق کی با ت یہ ہے کہ یہ دونون معنی بیعت رضوان کے سلسلے میں تواریخ میں بیان ہُوئے ہیں ) ۔ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)عورتوں کی بیعت کوبھی قبول کرتے تھے ،لیکن وہ ہاتھ میں ہاتھ دینے کے طریقہ سے نہیں ہوتی تھی ، بلکہ جیساکہ تواریخ میں آیاہے . آ پ پانی کاایک بڑا برتن لانے کاحکم فرماتے تھے اوراپنا ہاتھ برتن کی ایک طرف ڈ بودیتے تھے ،اور بیعت کرنے والی عورتیں اپنے ہاتھ دوسری طرف ڈ بودیا کرتی تھیں۔ کبھی بیعت کے ضمن میں کسی کام کوانجام دینے یاکچھ کاموں کوترک کرنے کی شرط کرتے تھے ، جیساکہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فتح مکہ کے بعد عورتوں سے بیعت لیتے وقت شرط کی کہ وہ شرک نہ کریں ، اور بے عقلی سے آلودہ نہ ہوں ، اور چوری نہ کریں اوراپنے بچّوں کو قتل نہ کریں اور دیگر امور (سورہ ممتحنہ ،آ یت ١٢) ۔ ١۔ بیعت کی ماہیّت یہ ایک طرف بیعت کرنے والے کی جانب سے اور دوسری طرف بیعت لینے والے کی جانب سے ایک قسم کی قرار داد ور معاہدہ ہے ، اوراس کامضمون ومطلب بیعت لینے والے کی اطاعت و پیروی اور دفاع و حمایت ہے اوران شرائط کے مطابق جواس میں بیان کیے جاتے ہیں ، بیعت کے مختلف درجے ہوتے ہیں ۔ آ یاتِ قرآنی اور احادیث کے لب ولہجہ سے معلوم ہوتاہے کہ بیعت ، بیعت کر نے والے کی طرف سے ایک ضرور ی لازمی عہدہوتاہے ، جس کے مطابق عمل کرنا واجب ہوتاہے ، اوراس بناء پر یہ اوفو ابا لعقود کے قانون کاکلی طورپر شمول ہے (مائدہ . ١) ۔ اس بناء پر بیعت کرنے والا فسخ کرنے کاحق نہیں رکھتا ، بیعت لینے والا اگرمصلحت دیکھے تو اپنی بعیت اُٹھا سکتاہے ،اوراُسے فسخ کرسکتاہے ،اوراس صورت میں بیعت کرنے والا اپنے فرض اورعہد سے آ زاد ہوجاتاہے ( ۲) ۔ ٢۔ بعض لوگ بیعت کو انتخابات کے مشابہ یااس کی ایک نوع سمجھتے ہیں ،حالانک انتخابات کامسئلہ ٹھیک اس کے برعکس ہے . یعنی اس کی ماہیّت منتخب ہونے والے کے لیے ایک قسم کی مسئولیّت وظیفہ وذمہ داری اور مرتبہ ومقام کاعطاکرنا ہے ،یادوسرے لفظوں میں کسی کام کے انجام دینے میں وکیل بناناہے،اگرچہ اس انتخاب میں انتخاب کرنے والوں کے لیے بھی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں،( تمام وکالتوں کی طرح ) جب کہ بیعت ایسی چیزنہیں ہے ۔ دوسے الفظوں میں : انتخابات مقام کی عطائیگی ہے ، جیساکہ ہم نے بیان کیاہے کہ وہ وکالت کے مشابہ ہے ، جبکہ بیعت اطاعت کاعہد ہے ۔ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ یہ دونوں بعض باتوں میں ایک دوسرے سے مشابہت پیداکرلیں ،لیکن یہ شبا ہت ہرگز ان کے مفہوم وماہیّت کی وحدت کے معنی میں نہیںہے ، اسی لیے بیعت کے سلسلے میں بیعت کرنے والا فتح کرنے کاحق اوراختیار نہیں رکھتا ، جب کہ انتخابات میںبہت سے مواقع پر انتخاب کرنے والے فسخ کرنے کاحق رکھتے ہیں ،کہ انتخاب ہونے والے شخص کوسب مل کر اس کے مقام سے معزول کردیں ( غور کیجیے ) ۔ ٣۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اورائمہ معصومین علیہم السلام کے لیے ، جوخدا کی طرف سے منصوب ہوتے ہیں .کسِی قسم کی بیعت کی ضرورت نہیں ہوتی ، یعنی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم) کی اطاعت اورامام ِ معصوم علیہ السلام اوران کی طرف سے نصب شدہ فرد کی اطاعت واجب ہے ،خواہ کسی نے بیعت کی ہو یا کسی نے بیعت نہ کی ہو ۔ دوسرے لفظوں میںنبوّت وامامت کامقام ہی وجوب اطاعت کولازم وضروری قرار دیتاہے ، جیساکہ قرآن کہتاہے : (وَ أَطیعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِی الْأَمْرِ مِنْکُمْ)(نساء . ٩ ٥) ۔ لیکن یہ سوال سامنے آ تاہے کہ اگر ایساہی ہے توپھر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے بارہا اپنے صحابہ سے اور تا زہ مسلمانوں سے بیعت کیوں لی ، جس کے دو نمونے صراحت کے ساتھ قرآن میں آ ئے ہیں ،(بیعت ِ رضوان تواسی سُورہ میں ہے اوراہل مکّہ سے جوبیعت لی اس کی طرف سورۂ ممتحنہ میں اشارہ ہواہے ) ۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ بلاشک وشبہ و فا داری پرایک قسم کی تاکید تھیں ، جوخاص خاص موقعوں پر انجام پائی تھیں ، خاص طور پرسخت قسم کے بحرانوں اورحوادث کے مقابلہ کے لیے ان سے استفادہ کیاگیاہے ، تاکہ اس کے سایہ میں لوگوں کے جسموں میں تازہ روح پھونکی جائے ،جیساکہ ہم گذشتہ بحثوں میں بیعتِ رضوان کے عجیب وغریب اثرات کامشاہدہ کرچکے ہیں ۔ لیکن وہ بیعتیں جو خلفاء کے لیے لیتے تھے وہ ان کے مقام خلافت کو قبول کرنے کے طورپر ہوتی تھیں،اگرچہ ہمارے عقیدہ کے مطابق پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خلافت کوئی ایسی چیز نہیں جولوگوں کی بیعت کے طریقہ سے انجام پائے ، بلکہ وہ صرف خدا کی طرف سے اور خود پیغمبر یاسابق امام کے ذ ریعہ منعقد ہوتی ہے ۔ اوراسی بناء پر بیعت جومُسلمانوں نے علی علیہ السلام یا امام حسن علیہ السلام یاامام حسین علیہ السلام کی ، کی تھی ، وہ بھی و فاداری پرتاکید ی پہلو رکھتی تھی ، اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعتوں کے ساتھ مشابہت رکھتی تھی ۔ ٤۔ کیاموجودہ حالات میں بھی بیعت ایک اسلامی اصل کے طورپر قابل قبو ل ہے ؟ دوسرے لفظوں میں، کیا آج بھی بیعت کوعام کیاجاسکتاہے ،مثلاً کوئی قوم کسی لائق اورحامل شرائط ِ شرعی فرد کوانتخاب کرے ( اور لشکر کے کمانڈر اچیف، رئیس قوم یارئیس حکومت کے عنوان سے ) اس کی بیعت کرلیں؟ تو کیا اس قسم کی بیعتیں احکام شرعی کی مشمول بیعت ہوسکتی ہے ؟ کیونکہ اصطلاح کے مطابق بیعت کے بارے میں قرآن وسُنّت سے کوئی عموم اور اطلاق ہمارے پاس نہیں ہے ،لہٰذا اس مسئلہ کوعمومیّت دنیا مشکل نظر آتاہے ،اگرچہ اوفوابالعقود والی آ یت کے معموم سے استد لال کرنا چنداں بعید نہیں ہے ۔ لیکن ا س کے باوجود ابہام بیعت سے مر بوط مسائل میں پایا جاتاہے ،اس بات سے مانع ہے کہ ہم قطعی اوریقینی طورپر او فو ابالعقود پرتکیہ کریں ، خاص طورپر جبکہ ہماری فقہ میں بیعت کے لیے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اورامامِ معصومین علیہم السلام کے علاوہ کوئی مقام نظر نہیں آتا ۔ اس نکتہ کی طرف توجہ بھی ضروری کہ ولی فقیہ کی نیابت کامقام ہماری نظر میں ایسامقام ہے جوائمہ معصومین علیہم السلام کی طرف سے معین ہوا ہے ، اوراس کے لیے کسی قسم کی بیعت کی ضرورت نہیں ہے ، البتہ لوگوں کاولی فقیہ کی اطاعت و پیر وی کرنااس کے اس مقام سے استفادہ کاامکان اوراصطلاح کے مطابق بسط ید دیناہے ۔ لیکن یہ اس معنی میںنہیں ہے کہ اس کامقام لوگوں کے اتباع اورپیروی کامرہون ،اورپھر لوگوں کے پیروی کرنے کامسئلہ بیعت کے مسئلہ سے کوئی ربط نہیں رکھتا، بلکہ ولایت فقیہ کے بارے میں حکم الہٰی پرعمل کرناہے ،(غور کیجئے ) ۔ ٥۔ بہرحال بیعت مسائل اجرائی سے مربوط ہے ،اوراس کااحکام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ، یعنی کسی شخص کی بیعت کر لیتا ہے گز اسے تشریح اورقانون وضع کرنے کاحق نہیں دیتا، بلکہ قوانین کوکتاب و سنت سے لینا چاہیئے ،اورپھر انہیں جاری کرنا چاہیئے ،اوراس میں کسی کو اختلاف نہیںہے ۔ ٦۔ روایات سے معلوم ہوتاہے کہ امام اورمعصوم پیشوا کی بیعت خداکے لیے ہونی چاہیئے .دوسرے لفظوں میں بیعت ایسے امور میں سے ہے جس میں قصد قربت ضروری ہے ۔ ایک حدیث میں پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آ یاہے : ثلاثة لا یکلمھم اللہ عزّ و جل یوم القیامة ولا ینظر الیھم ولا یزکیھم ولھم عذاب الیم ، رجل بایع اماماً لا یبا بعہ الا للد نیا ان اعطاہ مایر یدہ وفی لہ، والا کف ، ورجل بایع رجلا بسلعتہ بعید العصر مخلف باللہ عزّو جل لقد اعطی بھا کذاو کذ ا فصد قہ واخذ ھا ولم یعط فیھا ماقال ، ورجل علی فضل ماء بالغلات یمنعہ ابن السبیل : تین شخص ایسے ہیں جن سے خدا بات نہیں کرے گا ، اورنہ ہی انہیں پاک کرے گا، اوران کے لیے دردناک عذاب ہے ، ایک تووہ شخص جوامام کی بیعت کرے اوراس سے اس کامقصد دُنیا کے علاوہ اور کُچھ نہ ہو ، کہ اگروہ اس کی مطوبہ چیز اسے دے دے تو پھر تووہ اپنی بیعت کو پورا کرے گا ، ور نہ علیحدہ ہوجائے گا، اورایک وہ شخص جوعصر کے وقت بعد جنس بیچتاہے ، اور قسم کھا کرکہے کہ میں نے جنس اتنی رقم دے خریدی ہے ، اور مُشتری سچ سمجھ کراُسے خرید لیتاہے ، حالانکہ ایسانہیں تھا ، تیسراوہ شخص جس کے پاس بیابان میں فالتو پانی موجود ہے ، لیکن وہ مسافر کو نہیں دیتا (۳) ۔ عصر کی تعبیر یاتواس وقت کی شرافت کی وجہ سے ہے ،اوریااس بناء پر ہے کہ بہت سے جنس بیچنے والے اس موقع پراپنی جنس کوجس قیمت پرخرید تے ہیں اسی قیمت پربیچ دیتے ہیں ۔ ٧۔ بیعت توڑنا گناہان کبیرہ میں سے ہے ایک حدیث میں امام مُوسیٰ بن جعفرعلیہ السلام سے منقول ہے : ثلاثة موبقات : نکث الصفقة وترکا السنّة وفراق الجماعة ۔ تین گناہ ایسے ہیں جوانسان کوہلاک کردیتے ہیں ( اورخدا کے شدید عذاب میں اُسے پھینک دیتے ہیں) بیعت تو ڑ نا ، سُنّت کوترک کرنا، اورجماعت سے جدائی اور علیحد گی اختیار کرنا (۴) ۔ ترکِ سنت ظاہراً ان قوانین کی طرف اشارہ ہے ،جوپیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لائے ہیں، اورجماعت سے جدائی کامعنی اس سے اعراض کرنا اور پشت پھیر نا ہے کہ صرف جماعت میں شریک نہ ہونا ۔ ٨۔ بیعت علی علیہ السلام کے ارشادات میں نہج البلاغہ کے خطبوں میں بارہا بیعت کے مسئلہ پر گفتگو ہوئی ہے ،اورامام علیہ السلام نے بارہا اس بیعت کاجولوگوں نے آپ سے کی تھی ،ذکر کیاہے ۔ ان میں سے ایک موقع پرفرماتے ہیں:اے لوگو ! تمہارامجھ پرا یک حق ہے ، اور میراتم پرایک حق ہے .اب رہا تمہاراحق مجھ پر تووہ یہ ہے کہ میں تمہارا ہمدرد اور خیر خواہ رہوں اورتمہارے بیت المال کوتمہارے ہی لیے خرچ کروں ، تمہیں تعلیم دوں تاکہ تم جہالت سے نجات پائواور تمہیں تادیب کردں تاکہ تمہیں آگاہی حاصل ہو ۔ اس کے بعد مزید فرماتے ہیں : واما حقی علیکم فالوقاء بالبیعة ، والنصیحةفی المشھد والمغیب، والا جابة حین ادعسوکم، والطاعة حین أ مرکم : باقی رہامیراحق تمہارے اوپر تووہ یہ ہے کہ اپنی بیعت میں وفادار رہو، اور آشکار وپنہاں خیرخوا ہی کرو جس وقت تمہیں پکاروں تولبیک کہو ، اور جس وقت تمہیں حکم دوں تواطاعت کرو ( ۵) ۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں : لم تکن بیعتکم ایای فلتة تمہارای بیعت مُجھ سے بغیر سوچے سمجھے اوراچانک انجام نہیں پائی ( تاکہ معمولی سے معمولی شک وتردید بھی میری اطاعت کے بارے میں اختیار کرو (۶) ۔ اوراس خُطبہ میںجو جنگ جمل سے پہلے اور مدینہ سے بصرہ کی طرف جاتے وقت ارشاد فرمایا ، لوگوں کوان کی بیعت پر پائیداری کی طرف توجہ دلاتے ہُو ئے فرماتے ہیں : وبایعنی النّاس غیر مستکر ھین ،ولا مجبرین ،بل طا ئعین مخیّرین ۔ لوگوں نے بغیر کسی جبرو اکراہ کے اطاعت واختیار کے ساتھ میری بیعت کی تھی ( ۷) ۔ اورآخر میں معاویہ کے مقابلہ میں ، جس نے امام علیہ السلام کی بیعت سے سرتابی کی تھی اور کسی نہ کسی طرح سے اس پر نکتہ چینی کرناچاہتاتھا ،فرمایا: با یعنی القوم الّذین بایعم واابابکر وعمر وعثمان علی مابایعوھم علیہ ، فلم یکن للشاھدان یختار ، ولا للغائب ان یرد ۔ انہیں لوگوں نے جنہوں نے ابوبکر وعمر و عثمان کی بیعت کی تھی ، میری انہیں شرائط اورکیفیت میں بیعت کی ہے ، اس بناء پر نہ توکسی حاضر کویہ اختیار ہے کہ بیعت کوفسخ کردے اور نہ ہی کسی غا ئب کو رد کرنے کی اجازت ہے ( ۸)۔ نہج البلاغہ کی بعض عبارتوں سے اچھی طرح معلوم ہوجاتاہے ، کہ بیعت ایک بارسے زیادہ نہیں ہوتی ، اس میں تجدید نظر نہیںہوسکتی ،اور نہ ہی اس میں فتح کا اختیار ہوتاہے ، اورجوشخص اس سے سرتابی کرے وہ طعنہ زن اور عیب جوشمار ہوتاہے ، اورجوشخص اس کے قبول یارد کرنے کے بارے میںغور وفکر کرے یاشک وتردد کرے وہ منافق ہے ! انھا یعة واحدة ، لا یثنی فیھا النظر، ولا یستأ نف فیھا الخیار ، الخارج منھا طاعن، والمروی فیھا مداھن ! (۹) ۔ ان تعبیرا ت کے مجموعہ سے معلوم ہوتاہے کہ امام علیہ السلام ان لوگوں کے سامنے جوپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف سے آپ کی امامت منصوصہ پرایمان نہیں رکھتے تھے اوربہانہ جوئی کرتی تھے ، بیعت کے مسئلہ کے ساتھ جوان کے نزدیک مسلم تھا استد لال کرتے تھے ،تاکہ امام علیہ السلام کی اطاعت سے روگر دانی کی انہیںگنجائش نہ ہو، اور معاویہ اوراس کے مانندلوگوں کے گوش گذار فرماتے تھے کہ جس طرح وہ خلفاء ثلاثہ کی خلافت کی مشرو عیت کاقائل ہے .اسی طرح اسے امام علیہ السلام کی خلافت کابھی قائل ہوناچاہیئے ،اوران کے لیے سرتسلیم خم کرناچاہیئے ( بلکہ آپ کی خلافت توزیادہ مشروع ہے ،چونکہ آپ کی بیعت زیادہ وسیع اور عام لوگوں کی رضا و رغبت سے انجام پائی تھی ۔ اس بناء پر بیعت کے ساتھ استدلال کرنا، امام کے خدا وپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ذ ریعہ منصوب ہونے کے مسئلہ اوربیعت کے تاکید ی ہونے کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتا ۔ لہٰذا اسی نہج البلاغہ میں ایک موقع پر امام علیہ السلام حدیث ثقلین کے ساتھ ، جوامامت کے نصوص میں سے ہے ، اشارہ فرماتے ہیں(۱۰) ۔ اور دوسری جگہ مسئلہ وصیّت و وراثت کی طرف اشارہ کرتے ہیں( ١۱) ۔ اوراپنی دوسری عبار توں میں بیعت کے لیے و فاداری کے لازم وضر وری ہونے ،اوراس کے دوام اورفسخ تجدید نظر کے عدم امکان اورتکرار کی احتیاج کے نہ ہونے کی طرف اشارہ فر مایاہے ، کہ یہ بھی ایسے مسائل ہیں جو بیت کے سلسلہ میں قابل قبول ہیں ۔ ضمنی طور پر ان سے اچھی طرح معلوم ہوجاتاہے کہ اگر بیعت جبرو اکراہ کاپہلو رکھتی ہو یالوگوں کوغفلت میں رکھنے کی صُورت میں انجام پائے تواسکی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے بلکہ وہی بیعت قابل ِ قدرت ہے جوارادہ وفکر کی آزادی اختیار اور مطا لعہ کے بعد انجام پائے ( پھر بھی غور کیجئے ) ۔ ۱۔مقدمہ ابن خلدون ،صفحہ ١٧٤۔ ۲۔ واقعہ کربلا میں ہم پڑھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور خُطبہ پڑھا اوراپنے اصحاب کی قدر دانی کے اظہار کے ضمن میں اپنی بیعت ان سے اُٹھا لی، تاکہ وہ جہاں ان کادل چاہے چلے جائیں ( لیکن وہ اسی طرح سے وفا دار رہے ) اور فر مایا : فانطلقوا فی حل لیس علیکم منی زمام:( کامل ابن اثیر ،جلد ٢،صفحہ ٥٧) ۔ ۳۔ ""خصال "" باب الثلاثہ حدیث ٧٠۔ ۴۔ بحا رالا نوار ،جلد ٦٧ صفحہ ١٨٥۔ ۵۔ نہج البلاغہ خُطبہ ٣٤۔ ۶۔ نہج البلاغہ خُطبہ ،١٣٦۔ ۷۔ نہج البلاغہ خط نمبر١۔ ۸۔نہج البلاغہ خط نمبر٦،"" توجہ رکھناچاہیئے کہ گذشتہ خلفاء کی بیعت پراس لیے تکیہ کیاگیاتھا،چونکہ معاویہ انہیں کی طرف سے منصوب ہواتھا ، اوران کی حمایت کادم بھر تاتھا ، لہٰذاجوکچھ خُطبہ شقشقیہ میں بیان ہوا ہے امیہ اس کے ساتھ منافات نہیں رکھتا ۔ ۹۔ نہج البلاغہ خط نمبر ٧۔ ۱۰۔نہج البلاغہ خطبہ نمبر ٨٧۔ ١۱۔نہج البلاغہ خطبہ ، نمبر ٢۔