سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ لَكُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا بَلْ كَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
The Bedouins who had stayed back [from joining the Prophet in his ‘umrah journey to Makkah] will tell you, ‘Our possessions and families kept us occupied. So plead [to Allah] for our forgiveness!’ They will say with their tongues what is not in their hearts. Say, ‘Whether He desires to cause you harm or desires to bring you benefit, who can be of any avail to you against Allah[’s will]? Indeed Allah is well aware of what you do.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 48:11
[Pooya/Ali Commentary 48:11] When the Holy Prophet started from Madina on the journey to Makka, he asked all the Muslims to join him in the pious act of performing umrah, and he had a good response, but some stayed back and made excuses. They wanted to save their skins from the possible attack by the Makkans. No power on the earth or in the heavens can intervene if Allah intends to give any people loss or profit.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 48:11-17
In sixth Hijri the Prophet dreamt, he with some companions goes to pilgrimage. Accordingly he started with700 for Umra taking 70 camels for sacrifice. When he reached Zul Halifa, where the pilgrims changed dress for Ahram, spies informed the Meccans of the Prophet’s marching against Mecca, so Khalild with 200 was sent ahead. When the Prophet reached Hudebia his camel refused to proceed. Therefore, the Prophet sent Osman (K. III) to Mecca to clarify the situation created by spies, but he was imprisoned and rumoured to have been killed, upon which Baithur Razwan was affected beneath a tree whereby none was to fly, until Mecca was conquered. Meanwhile, truce was affected, viz (1) not to make war for ten years, (2) he should return without pilgrimage, (3) next year Mecca will be evacuated for three days for him to pilgrimage, (4) during this interval, if any infidel embraced Islam, he should be returned to Mecca and not vice versa. This aroused suspicion in the mind of Omar (Khalifa II) as to the genuiness of his prophecy (this is his mental treason). A further term was imposed that no bar should be imposed for the sake of business on either party (prejudice proceeding out of price and vanity defying truth leads to hell). This couplet has preceded couplet 10, which followed it. This is an error in compilation as was previously noted in Surah Tribes (33:51) to have been 29.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:11-14
سوره فتح/ آیه 11- 14
١١۔سَیَقُولُ لَکَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرابِ شَغَلَتْنا أَمْوالُنا وَ أَہْلُونا فَاسْتَغْفِرْ لَنا یَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِہِمْ ما لَیْسَ فی قُلُوبِہِمْ قُلْ فَمَنْ یَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللَّہِ شَیْئاً ِنْ أَرادَ بِکُمْ ضَرًّا أَوْ أَرادَ بِکُمْ نَفْعاً بَلْ کانَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً ۔ ١٢۔بَلْ ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ یَنْقَلِبَ الرَّسُولُ وَ الْمُؤْمِنُونَ ِلی أَہْلیہِمْ أَبَداً وَ زُیِّنَ ذلِکَ فی قُلُوبِکُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْء ِ وَ کُنْتُمْ قَوْماً بُوراً ۔ ١٣۔وَ مَنْ لَمْ یُؤْمِنْ بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ فَِنَّا أَعْتَدْنا لِلْکافِرینَ سَعیراً ۔ ْ ١٤۔ وَ لِلَّہِ مُلْکُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ یَغْفِرُ لِمَنْ یَشاء ُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَشاء ُ وَ کانَ اللَّہُ غَفُوراً رَحیماً۔ ترجمہ عنقریب باد یہ نشین اعراب میں سے پیچھے رہ جانے والے ( عذر تراشی کرتے ہوئے )کہیں گے کہ ہمارے اموال اور گھر والوں کی حفاظت نے ہمیںاپنی طرف مشغول رکھا ، (اور ہم سفر حد یبیہ میںآ پ کے ہمراہ نہ جاسکے )پس آ پ ہمارے لیے طلب مغفرت کیجیے ٔ، یہ اپنی زبان سے وہ بات کہہ رہے ،ہیں جوان کے دل میں نہیں ہے ، کہہ دے : کو ن ایسا ہے جوخدا سے تمہیں بچاسکے اگروہ تمہارے لیے نقصان کاارادہ کرے ، یا کون ہے جواس نفع کوروک سکے جسے پہنچانے کاوہ ارادہ کرے ، اور خداان تمام اعمال سے جوتم انجام دیتے ہو آ گاہ ہے ۔ ١٢۔ بلکہ تم نے یہ گمان کرلیاتھا پیغمبر اور مومنین ہرگز اپنے گھروالوں کی طرف لوٹ کرنہیں آئیں گے اور یہ غلط خیال تمہارے دلوں میں زینت پاگیاتھااور تم نے بدگمانی سے کام لیا اورآخر کار تم ہلاک ہوئے ۔ ١٣۔اور وہ شخص جو خدا اوراس کے پیغمبر پرایمان نہیں لایا(اس کی سرنوشت دوزخ ہے ) کیونکہ ہم نے کافروں کے لیے بھڑ کتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے ۔ ١٤۔آ سمانوں اور زمین کی مالکیّت اورحا کمیّت خداہی کے لیے ہے جسے وہ چاہتا ہے (اور شائستہ دیکھتاہے )بخش دیتاہے ،اور جسے چاہتاہے عذاب کرتا ہے ،اور خدا غفوورحیم ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:11-14
پیچھے رہ جانے والوں کی عذ رتراشی
گذشتہ آیات کی تفسیر میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ایک ہزار چار مو مسلمانوں کے ساتھ مدینہ سے عمرہ کے ارادہ سے مکّہ کی طرف روانہ ہُوئے ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف سے باد یہ نشین قبائل میں اعلان ہوا کہ وہ بھی سب کے سب اس سفر میں آپ علیہ السلام کے ساتھ چلیں ،لیکن ضعیف الایمان لوگوں کے ایک گروہ نے اس حکم سے رو گر دانی کی ، اور ان کا تجز یہ یہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمان اس سفر سے صحیح وسالم بچ دکرنکل آ ئیں، حالانکہ کفّار قریش پہلے ہی ہیجان واشتعال میں تھے ، اورانہوں نے اُحد واحزاب کی جنگیں مدینہ کے قریب مسلمانوں پر تھوپ دی تھیں ،اب جبکہ یہ جھوٹا ساگروہ بغیر ہتھیاروں کے اپنے پائوں سے چل کر سکّہ کی طرف جارہاہے ، گو یابھڑ وں کے چھتہ کے پا س خود پہنچ رہاہے ،تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ و ہ اپنے گھروں کی طرف واپس لوٹ آ ئیں گے ؟! لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان کا میابی کے ساتھ اور قابلِ ملاحظہ امتیازات کے ہمراہ جوانہوں نے صُلح حدیبیہ کے عہد و پیمان سے حاصل کیے تھے ،صحیح وسالم مدینہ کی طرف پلٹ آ ئے ہیں .اورکسی کے تکسیرتک بھی نہیں پھوٹی ، توانہوںنے اپنی عظیم غلطی کااحساس کیا اور پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہُوئے تاکہ کسی طرح کی عذر خواہی کرکے اپنے فعل کی توجیر کریں، اور پیغمبر سے استغفار کاتقاضا کریں ۔ لیکن اوپر والی آ یات نازل ہوئیں اوران کے اعمال سے پردہ اٹھادیا اورانہیں رسواکیا۔ اس طرح سے پہلی آ یات میں منافقین اور مشرکین کی سرنوشت کاذکر کرنے کے بعد ،یہاں پیچھے رہ جانے والے ضعیف الایمان لوگوں کی کیفیت کابیان ہورہاہے ، تاکہ اس بحث کی کڑ یاں مکمل ہوجائیں ۔ فر ماتاہے : عنقر یب باد یہ نشین اعراب میں سے پیچھے جانے والے عذر تراشی کرتے ہُوئے کہیں گے : ہمارے مال ومتاع اور بال بچّوں کی حفاظت کرتے ہُوئے ہمارے لیے طلب بخشش کیجئے (سَیَقُولُ لَکَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرابِ شَغَلَتْنا أَمْوالُنا وَ أَہْلُونا فَاسْتَغْفِرْ لَنا) ۔ وہ اپنی زبان سے ایسی چیزکہہ رہے ہیں جوان کے دل میں نہیں ہے (یَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِہِمْ ما لَیْسَ فی قُلُوبِہِم) ۔ وہ تو اپنی توبہ تک میں بھی مخلص نہیں ہیں ۔ لیکن ان سے کہہ دے : خدا کے مقابلہ میں . اگر وہ تمہیں نقصان پہنچا ناچاہے توکس کی مجال ہے کہ وہ تمہارا دفا ع کرسکے ،اور اگروہ تمہیں کچھ نفع پہنچاناچاہے توکس میں طاقت ہے ،کہ اُسے روک سکے : (قُلْ فَمَنْ یَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللَّہِ شَیْئاً ِنْ أَرادَ بِکُمْ ضَرًّا أَوْ أَرادَ بِکُمْ نَفْعا) ۔ خدا کے لیے یہ بات کسی طرح بھی مشکل نہیں ہے ،کہ تمہیں تمہارے امن وامان کے گھر وں میں ،بیوی بچّوں اور مال و متال کے پاس ،انواع واقسام کی بلائوں اورمصائب میں گرفتار کردے ، اوراس کے لیے یہ بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ دشمنوں کے مرکز میںاور مخالفین کے گڑ ھ میں تمہیں ہرقسم کے گز ندسے محفوظ رکھے ، یہ تمہاری قدرت خداکے بارے میںجہالت اور بے خبری ہے جوتمہاری نظر میں اس قسم کے افکار کوجگہ دیتی ہے ۔ ہاں ! خدا ان تمام اعمال سے جنہیں تم انجام دیتے ہو باخبر اور آگاہ ہے ( بَلْ کانَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً ) ۔ بلکہ وہ تو تمہارے سینوں کے اندر کے اسرار اور تمہاری نیتوں سے بھی اچھی طرح باخبرہے ، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ عُذر اوربہانے واقعیت اورحقیقت نہیں رکھتے اور جواصل حقیقت اور واقعیّت ہے ،وہ تمہارا شک وتردد ،خوف و خطر اور ضعف ایمان ہے ،اور یہ عذر تر اشیاں خداسے مخفی نہیں رہتیں ،اور یہ ہرگز تمہاری سز ا کو نہیں روکیں گی ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ آ یت کے لب ولہجہ سے بھی ور تواریخ سے بھی یہی معلوم ہوتاہے کہ یہ آ یات پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی مدینہ کی طرف بازگشت کے دو ران نازل ہوئیں. یعنی اس سے پہلے کہ پیچھے رہ جانے والے آ ئیں اور عذر تراشی کریں ، ان کے کام سے پردہ اٹھادیا گیا اورانہیں رسوا کردیا۔ اس کے بعد مز ید وضاحت کے لیے مکمل طورپر پردے ہٹا کرمزید کہتاہے :بلکہ تم نے تو یہ گمان کرلیاتھا کہ پیغمبر اورمومنین ہرگز اپنے گھر والوں کی طرف پلٹ کرنہیں آ ئیں گے (بَلْ ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ یَنْقَلِبَ الرَّسُولُ وَ الْمُؤْمِنُونَ ِلی أَہْلیہِمْ أَبَدا) ۔ ہاں !اس تاریخی سفر میں تمہارے شریک نہ ہونے کاسبب ، اموال اور بیوی بچّوں کامسئلہ نہیں تھا ، بلکہ اس کااصلی عامل وہ سو ء ظن تھاجو تم خداکے بارے میں رکھتے تھے ،اوراپنے غلط اند ازوں کی وجہ سے یہ سوچتے تھے کہ یہ سفر پیغمبر اور مومنین کے ختم ہونے کاسفر ہے اور اس سے کنارہ کشی کرنی چاہیئے ۔ ہاں ! یہ غلط خیال اور شیطانی وسوسے تمہارے دلوں میں زینت پاچکے تھے (وَ زُیِّنَ ذلِکَ فی قُلُوبِکُمْ ) ۔ اور یہ تم نے بُرا گمان کیا (وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْء ِ) ۔ کیونکہ تم یہ سوچ رہے تھے کہ خدانے پیغمبر کواس سفر میں بھیج کر انہیں دشمن کے چنگل میں دے دیاہے ،اوران کی حمایت نہیں رکے گا !۔ اورانجام کار تم ہلاک ہوگئے (وَ کُنْتُمْ قَوْماً بُوراً) ۔ اس سے بدتر ہلاکت اور کیا ہوگی کہ تم اس تاریخی سفر میں شرکت ،بیعت ِ رضوان ، اور دوسرے افتخار ات واعزازات سے محروم رہ گئے ،اوراس کے پیچھے رسوائی تھی اور آ ئندہ کے لیے آخرت کادر د ناک عذاب ہے : ہاں تمہارے دِل مردہ تھے اس لیے تم اس قسم کی صورت ِ احوال میں گرفتار ہُوئے ۔ چونکہ یہ ضعیف الایمان یامنافق ایسے ڈ رپوک، آرام طلب اور طبعاً جنگ اور ہرقسم کے مقابلہ سے بھاگنے والے آدمی ہیں لہٰذا وہ حوادث کے بارے میں جوبھی تجز یہ و تحلیل کرتے ہیں وہ کسی طرح بھی واقعیّت کے مطابق نہیں ہو تی . اس کے باوجود وہ ان کی نظروں میں بہت ہی کشش رکھتی ہے ۔ اوراس طرح سے خوف اور عافیت طلبی ، اور ذمہ داریوں کو قبول کرنے سے فرار ، بُرے گمانوں کوان کی نظر میں حقیقت و اقعیّت کے طورپر جگہ دیتے ہیں، وہ تمام چیزوں کے بارے میں بدبین ہیں، یہاں تک کہ پیغمبرخُداا ور خدا کے بارے میں بھی ۔ نہج البلاغہ میں مالک اشتر کے نام حکم میں یہ آ یاہے : انّ البخل والجبن والحرص غرائز شتی یجمعھاسوء الظن باللہ : بخل بزدلی ،اور حرص ایسی مختلف قسم کی مذموم صفات ہیں جوسب کی سب خداکے بار ے میںسوء ظن میں جمع ہیں (١) ۔ رُو داد حدیبیہ اور زیر بحث آ یات اسی معنی کاظہور عینی ہیں جواس بات کی نشاندہی کرتی ہیں ،کہ پر وردگار کے بارے میں سوء ظن ، کِس طرح سے بخل وحرص اور خوف جیسے بُرے صفات کوحاصل کرلیتاہے ۔ چونکہ اس قسم کی غلط کاسرچشمہ بعض اوقات عد م ایمان ہوتاہے لہٰذا بعد والی آ یت میں کہتاہے : جوشخص خدا اوراس کے پیغمبر پرایمان نہیں لایا اس کی تقد یر جہنم کی آگ ہے ،کیونکہ ہم نے کافروں کے لیے بھڑ کتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے (وَ مَنْ لَمْ یُؤْمِنْ بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ فَِنَّا أَعْتَدْنا لِلْکافِرینَ سَعیراً )(٢) ۔ انجام کار آخری زیر بحث میں کفار اورمنافقین پر خدا کے عذاب دینے کی قدرت کے ثبات لیے فر ماتا ہے : آسمانوں اور زمین کی مالکیّت اور حاکمیت خدا کے لیے ہے ،جسے چاہے بخش دیتاہے اور جسے چاہے عذاب کرتاہے اور خدا غفور ورحیم ہے (وَ لِلَّہِ مُلْکُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ یَغْفِرُ لِمَنْ یَشاء ُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَشاء ُ وَ کانَ اللَّہُ غَفُوراً رَحیماً) ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں مغفرت اور بخشش کے مسئلہ کوعذاب کے مسئلہ پرمقدم رکھاہے ،اور آ یت کے آخر میں پھر دوبارہ غفران اوررحمت الہٰی پر تاکید کی گئی ہے ، کیونکہ ان تمام دھمکیوں اور ڈ را وں کامقصد تربیّت ہے اور مسئلہ تر بیّت کاتقاضا یہ ہے کہ گناہگار وں اور کافر وں تک کے لیے بازگشت کی راہ کُھلی رہے ، خاص طورپر جبکہ ان منفی اعتراضات اور تنقیدوںمیں سے زیادہ کاسرچشمہ جہالت اور بے خبری ہے اس قسم کے افراد کے سامنے بخشش کی امید میں اضافہ کرناچاہیئے کہ شاید وہ راہ راست پر آ جائیں ۔ ١۔نہج البلاغہ خطبہ نمبر ٥٣۔ ٢۔آ یت کے الفاظ کی روانی کاتقاضا یہ ہے کہ "" انّا اعتد نا لھم سعیرً ا"" کہاجائے لیکن خاص طورپر ضمیر کی ہٹا کراس کی بجائے اسمِ ظاہر یعنی "" الکافرین "" کہاگیا ہے تاکہ اس خرابی کوبیان کیاجائے جومسئلہ کفر ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:11-14
گناہ کی توجیہ کرنا ایک عام بیماری ہے
گناہ چاہے جتنا بھی سنگین ہو وہ توجیہ گناہ جتنی سنگینی نہیں رکھتا ،کیونکہ وہ گنہگار جو گناہ کامعترف ہو وہ اکثر تو بہ کی طرف مائل ہوتاہے ،لیکن مصیبت اس وقت شروع ہوتی ہے جب گنہگار اس کی توجیہ کرنے لگ جاتاہے ، جونہ صرف انسان کے سامنے تو بہ کے راستے کوبند کردیتاہے بلکہ اُسے ہرگناہ کرنے میں اور بھی زیادہ راسخ اور زیادہ جری بنادیتاہے ۔ یہ تو جیہیں کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے ، اس کے مختلف نمونے بشر کی پوری تاریخ میں دیکھے جاسکتے ہیں، کہ تاریخ کے بڑ ے بڑے بدکار اپنے آپ کویاد وسروں کودھو کہ دینے کے لیے کس طرح سے مضحکہ خیز توجیہات پیش کیاکرتے تھے جس سے ہر انسان حیران رہ جاتاہے ۔ قرآن مجید نے جوتربیت اورانسان سازی کاایک عظیم درس ہے اس بارے میں بہت سے مباحث پیش کیئے ہیںجس کاایک نمونہ توہم اوپر والی آ یات میں ملاحظہ کرچکے ہیں ۔ اس بحث کی تکمیل کے لیے دوسرے نمونے بھی غور ومطالعہ کے لیے پیش کردیئے جائیں تومناسب نہ ہوگا ۔ ١۔مشرکین عرب بعض اوقات اپنے شرک کی توجیہ کے لیے اپنے بڑ وں کی رسم سے متوسل ہوتے تھے اور کہتے تھے : ِنَّا وَجَدْنا آباء َنا عَلی أُمَّةٍ وَ ِنَّا عَلی آثارِہِمْ مُقْتَدُونَ :یعنی ہم نے اپنے باپ داد ائوں کوایک طریقے پر پا یااور ہم نے ان کے آثار کواپنایا ہوا ہے اورہم انہیں کے آ ثار کی پیروی کررہے ہیں ِنَّا وَجَدْنا آباء َنا عَلی أُمَّةٍ وَ ِنَّا عَلی آثارِہِمْ مُقْتَدُونَ ۔ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ایک دین پر پایا ہے اور ہم انہیں کے آثار کی پیروی کر رہے ہیں ( زخرف ۔ ٢٣) ۔ اوربعض اوقات جبر کی ایک قسم کے ساتھ متوسل ہوتے ہوئے کہتے تھے : لَوْ شاء َ اللَّہُ ما أَشْرَکْنا وَ لا آباؤُنا اگرخدا چاہتا تو نہ توہم ہی شرک کرتے اور نہ ہی ہمارے آبائو اجداد مشرک ہوتے ( انعام : ١٤٨) ۔ ٢۔ اور کبھی کمزور ایمان والے مُسلمان جنگ سے فرار کرنے کے لیے پیغمبر کی خدمت میں آ تے تھے ،اوراس عنوان سے میدان کو خالی چھوڑ جاتے تھے کہ ہمارے گھروں کے در و دیوار ٹھیک طرح کے نہیں ہیں لہٰذاہمیںنقصان کاخطرہ ہے : وَ ِذْ قالَتْ طائِفَة مِنْہُمْ یا أَہْلَ یَثْرِبَ لا مُقامَ لَکُمْ فَارْجِعُوا وَ یَسْتَأْذِنُ فَریق مِنْہُمُ النَّبِیَّ یَقُولُونَ ِنَّ بُیُوتَنا عَوْرَة وَ ما ہِیَ بِعَوْرَةٍ ِنْ یُریدُونَ ِلاَّ فِراراً (احزاب۔١٣)ان میں سے ایک گروہ پیغمبر سے اجازت طلب کرتااور کہتا ہمارے گھر آ سیب پذیر ہیں ، حالانکہ وہ آسیب پذیر نہیں تھے ، وہ توصرف قرار کر ناچاہتے تھے ۔ ٣۔ اور کبھی اس بہانہ سے ، کہ اگرہم رومیوں سے جنگ کرنے کے لیے جائیں توممکن ہے کہ خوبصورت رومی عورتیں ہمیں فریفتہ کرلیں اورہم حرام میں مبتلا ہوجائیں ، لہٰذا پیغمبر سے جنگ میں شرکت نہ کرنے کی اجازت مانگتے ،: وَ مِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ ائْذَنْ لی وَ لا تَفْتِنِّی (توبہ ۔ ٤٩) ان میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ ہمیں تورہنے ہی دیں اور گناہ میں نہ ڈالیں۔ ٤۔ اور کبھی اس عنوان سے کہ ہمارے اموال اوربیوی بچّوں کے خیال نے ہمیں روکے رکّھا .پیغمبر کے فرمان کی اطاعت سے فرار کرنے جیسے عظیم گناہ کی توجیہ کرتے ( آ یات زیر بحث) ۔ ٥۔شیطان نے بھی ایک غلط قیاس کے ذ ریعے اپنی صریح نافر مانی کی خداکے سامنے توجیہ کی اور کہا: تو نے مجھے آگ سے پیداکیاہے ،اور آدم کومٹی سے ! یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ایک زیادہ شریف موجودایک پست ترموجود کوسجدہ کرے ! ( أَنَا خَیْر مِنْہُ خَلَقْتَنی مِنْ نارٍ وَ خَلَقْتَہُ مِنْ طین)( اعراف ۔١٢) ۔ ٦۔زمانہ ٔ جاہلیّت میں بھی دختر کشی جیسے عظیم جرم کی توجیہ کے لیے یہ کیا کرتے تھے کہ ہم اس چیز سے ڈ رتے ہیں کہ جنگوں میں ہماری بیٹیاں دشمنوں کے ہاتھ لگ جائیں گی ،لہٰذا ہماری غیرت کاتقاضایہ ہے کہ ہم نئی پیدا ہونے والی لڑکیوں کو زندہ زمین میں دفن کردیں ،اور کبھی یہ کہتے کہ اگر ہماری اولادزندہ رہ جائے تو ہم ان کی زندگی کی تامین پر قادر نہیں ہیں ! (اسراء ۔٣١) ۔ یہاں تک کہ بعض آ یات قرآنی سے پتہ چلتاہے کہ گنہگار اپنے گناہوں کوتوجیہ کے لیے قیامت میں بھی ان امور سے تمسک کریں گے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہم نے اپنے قوم کے بزرگوں کی پیروی کی تھی اور وہی لوگ تھے جنہوںنے ہمیں گمراہ کیا، اورہماری راہنمائی کاذمہ لیاتھا۔ وَ قالُوا رَبَّنا ِنَّا أَطَعْنا سادَتَنا وَ کُبَراء َنا فَأَضَلُّونَا السَّبیلاَ ( احزاب ۔٦٧) ۔ خلاصہ یہ ہے کہ ، توجیہ کرنے کی بلا ایک ایسی مصیبت ہے ،جوہمہ گیر ہے ،جس نے لوگوں کے ایک بہت بڑے گروہ کو، خواہ وہ عام ہوں یاخواص ،اپنے گھیرے میں لے لیاہے ، اوراس کاعظیم خطرہ یہ ہے کہ یہ گنہگار وں کے سامنے اصلاح کی راہیں بند کردیتی ہے اور بعض اوقات حقیقتوںاور و ا قیعتوں کوخد انسان کی نظر میں گرگوں کرکے دکھانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جواپنے خوف اور بزدلی کی احتیاط اور حرص کی مستقبل کی تأ مین سے اور تہور کی قاطعیت سے اور ضعف نفس کی حیاوشرم سے اور بدحالی کی زہد سے اور ارتکابِ حرام کی کلاہ شرعی سے اور ذمہ داری کے زیر بار جانے سے فرار کی موضع کے ثابت نہ ہونے سے اوراپنی کمز ور یوں اور کو تا ہیوں کی قضا و قدر سے توجیہ کرتے ہیں . اورکس قدر و رو ناک ہے یہ امر کہ انسان اپنے ہاتھ سے راہ نجات کواپنے سامنے بندکردے ۔ اگرچہ یہ مفاہیم ہر ایک اپنی جگو ں پر صحیح ہیں . لیکن اعتراض کی بات یہ ہے کہ وہ اس کو تحریف کرکے اُلٹا نتیجہ نکالتے ہیں ، انسانی معاشروں ،خانو ادوںاور افر اد کو اس رہ گز رے سے کتنے عظیم نقصانات پہنچے ہیں ؟ ! خدوند عالم ہم سب کواس عظیم اور گھروں کوتباہ کرنے والی بلا اور مصیبت سے محفوظ رکھے ، (آ مین ) ۔