أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ أَن لَّن يُخْرِجَ اللَّهُ أَضْغَانَهُمْ
Do those in whose hearts is a sickness suppose that Allah will not expose their spite?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 47:29
[Pooya/Ali Commentary 47:29] Disease of the heart refers to hypocrisy, because infidelity is a manifest opposition to Allah and His prophet. The hypocrites took cover of Islam to continue opposition so that one day they might turn the table on the true followers of the religion of Allah. In Ali the hypocrites faced an unassailable force not only in the lifetime of the Holy Prophet but also after his departure. Ali and his sons, the Imams of the Ahl ul Bayt, kept the torch of true Islam lighted in all ages. No intrigues, plans and machinations of the hypocrites, even with the unbridled temporal power at their disposal, could corrupt or disfigure the true message of Allah. Every true seeker of truth finds the truth in the teachings and life patterns of the holy Imams who successfully defied and repelled the hatred and hostility of the hypocrites in all ages.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 47:29-38
God has given sufficient intimation of apostates who, notwithstanding their participation in the crusade, bore hatred (to Ali) and wasted their labours under secret plotting against Ali. Ultimately, God gave a definite decision, i.e. lovers of Divine Lights, will be found outside Arabia, i.e. in Persia and elsewhere. As when the Glorious Qur’an was being read out to them, they admitted His Commands wholly, entertaining Divine love, i.e. love of purity, that is love for the Divine Lights and hatred for lovers of the world. these are places where freely Islam can be observed in the original cult duly approved by Divinity.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 47:29-31
سوره محمد/ آیه 29- 31
۲۹۔اٴَمْ حَسِبَ الَّذینَ فی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ اٴَنْ لَنْ یُخْرِجَ اللَّہُ اٴَضْغانَہُمْ ۔ ۳۰۔وَ لَوْ نَشاء ُ لَاٴَرَیْناکَہُمْ فَلَعَرَفْتَہُمْ بِسیما ہمْ وَ لَتَعْرِفَنَّہُمْ فی لَحْنِ الْقَوْلِ وَ اللَّہُ یَعْلَمُ اٴَعْمالَکُمْ ۔ ۳۱۔ وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتَّی نَعْلَمَ الْمُجا ہدینَ مِنْکُمْ وَ الصَّابِرینَ وَ نَبْلُوَا اٴَخْبارَکُمْ ۔ ترجمہ ۲۹۔کیاوہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے ، ان کایہ خیال ہے کہ خدا ان کے کینوں کوظا ہر نہیں کرے گا ؟ ۳۰۔اگرہم چا ہیں توا نہیں تجھ کودکھا دیں تاکہ توانہیں ان کے چہرے مہرے سے پہچان لے اگرچہ توانہیں ان کے اندازِ گفتگو سے پہچان سکتا ہے اورخداتمہارے اعمال سے واقف ہے ۔ ۳۱۔اور ہم تم لوگوں کوضر ور آ زمائیں گے تاکہ معلُوم ہوجائے کہ تم لوگوں میں صحیح معنوں میں مجا ہداور صابر کون ہیں ؟ اور ہم تمہار ی خبروں کوبھی آزمائیں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 47:29-31
منافقین اندازِ گفتگو سے پہچانے جاتے ہیں
ہم نے بھی پہلی جلدسُورہٴ بقرہ کی آیت ۵۵ کے ذیل میں خدا کی آز مائش کے بارے میں تفصیل سے بحث کی ہے اسی طرح سُورہ عنکبوت کے آغاز میں بھی ( ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد ۱اور جلد ۱۶ متعلقہ حِصّے) ۔ ساتھ ہی یہ بتا تے چلیں کہ ” “ ( تاکہ تم میں سے مجا ہدین کی شناخت ہوجائے ) کاجُملہ اس معنی میں نہیں ہے کہ خدا ان لوگوں سے واقف نہیں ہے ،بلکہ اس سے مراد خداکے علم کاخارج میں ظہور اورایسے افراد کونمایاں کرنا ہے ،یعنی اس طرح سے خارج میں بھی خداکا علم حقیقت کی صُورت اختیار کرلے اور حقیقی مجا ہدین کی صفیں بھی دوسر ے نام نہاد مجا ہدین سے علیٰحدہو جائیں گے ۔ ۱۔بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت میں ” ام “ کو ” استفہامیہ “ سمجھا ہے اور بعض دوسرے مفسرین نے نے اسے ” منقطعہ “بمعنی ” بل “سمجھا ہے ،لیکن پہلامعنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ ۲۔تفسیر مجمع البیان اسی آیت کے ضمن میں ،ساتھ ہی ہم بھی بتاتے چلیں کہ اس روایت کو اہل سُنت کے بہت سے بزرگوں نے بھی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ، جن میں سے چند ایک علماء اوران کی کتابوں کے نام یہ ہیں ، احمد نے کتاب ” فضائل “ میں ، ابن عبدالبرنے ” استیعاب “میں ذہبی نے ” تاریخ اوّل الاسلام “ مین ، ابن اثیر نے ” جامع الاصُول “ میں علامہ گنجی نے ” کفایة الطالب “ میں محب الدین طبری نے ” ریاضالنضرہ “میں سیوطی نے ” درمنثور “ میں ، آلوسی نے ” رُو ح المعانی “میں اور دوسر ے بہت سے علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں اسے درج کیا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسی مسلمہ روایات میں ہے کہ جوپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے منقُول ہے ( مزید تفصیل کے لیے ” احقاق الحق “جلد سوم،صفحہ ۱۱۰ ملاحظہ فر مایئے ) ۔ ۳۔ نہج البلاغہ کلمات قصار ، جملہ ۲۶۔