وَلَقَدْ مَكَّنَّاهُمْ فِيمَا إِن مَّكَّنَّاكُمْ فِيهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَأَبْصَارًا وَأَفْئِدَةً فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَا أَبْصَارُهُمْ وَلَا أَفْئِدَتُهُم مِّن شَيْءٍ إِذْ كَانُوا يَجْحَدُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
Certainly We had granted them power in respects that We have not granted you, and We had vested them with hearing and sight and hearts. But neither their hearing availed them in any way nor did their sight, nor their hearts when they used to impugn the signs of Allah. So they were besieged by what they used to deride.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 46:26
[Pooya/Ali Commentary 46:26] The people of Ad, Thamud and other settlements in the Arabian peninsula were more advanced in science and culture than the Makkans, but were destroyed when they belied the messengers of Allah and the message, because the false gods they worshipped could not protect then as they were figments of their imagination.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 46:26-28
سوره احقاف/ آیه 26- 28
۲۶۔ وَ لَقَدْ مَکَّنَّا ہمْ فیما إِنْ مَکَّنَّاکُمْ فیہِ وَ جَعَلْنا لَہُمْ سَمْعاً وَ اٴَبْصاراً وَ اٴَفْئِدَةً فَما اٴَغْنی عَنْہُمْ سَمْعُہُمْ وَ لا اٴَبْصارُہُمْ وَ لا اٴَفْئِدَتُہُمْ مِنْ شَیْء ٍ إِذْ کانُوا یَجْحَدُونَ بِآیاتِ اللَّہِ وَ حاقَ بِہِمْ ما کانُوا بِہِ یَسْتَہْزِؤُنَ ۔ ۲۷۔ وَ لَقَدْ اٴَہْلَکْنا ما حَوْلَکُمْ مِنَ الْقُری وَ صَرَّفْنَا الْآیاتِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ ۔ ۲۸۔ فَلَوْ لا نَصَرَہُمُ الَّذینَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّہِ قُرْباناً آلِہَةً بَلْ ضَلُّوا عَنْہُمْ وَ ذلِکَ إِفْکُہُمْ وَ ما کانُوا یَفْتَرُونَ ۔ ترجمہ ۲۶۔اورہم نے ان (قومِ عاد کے افراد ) کووہ قدرت دی جو تمہیں نہیں دی اوان کے لیے کان اورآنکھ اور دل بنائے (لیکن نزول عذاب کے وقت ) نہ تو انہیں ان کی آنکھوں، کانوں ، اورعقلوں نے کچھ فائدہ دیا، کیونکہ وہ خدائی آیات کا انکار کرتے تھے آخر کار جس چیز کاوہ مذاق اڑایا کرتے تھے ، اس نے انہیں ہرطرف سے گھیر لیا۔ ۲۷۔اورہم نے تمہار ے اور ارد گرد کی قوموں کو ہلاک کردیا اور اپنی نشانیوں کومختلف صورتوں میں ان کے سامنے بیان کیاتا کہ یہ لوگ باز آجائیں۔ ۲۸۔توخدا کے سوا جنہیں ان لوگوں نے تقرب خدا کے لیے معبُود بنارکھا تھا انہوں نے ان کی کیوں نہ مدد کی ؟ بلکہ وہ توان سے گم ہوگئے ، یہ تھا ان کے جھُوٹ اورافتراء پردازیوں کا نتیجہ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 46:26-28
تم قوم عاد سے زیادہ طاقتور نہیں ہو
یہ آیات درحقیقت گذشتہ آیات کانتیجہ بیان کررہی ہیں، جن میں قومِ عاد کی درد ناک سزا کی گفتگو کی گئی تھی ۔ مشرکین مکہ کومخاطب کرتے ہُوئے فرمایاگیا ہے : ہم نے قومِ عاد کووہ طاقت دی تھی جوتم کونہیں دی (وَ لَقَدْ مَکَّنَّا ہمْ فیما إِنْ مَکَّنَّاکُمْ فیہِ )(۱) ۔ وہ جسمانی لحاظ سے بھی تم سے زیادہ طاقت ورتھے اورمال ودولت اورمادی وسائل کے لحاظ سے بھی ، اگر جسمانی طاقت مال و دولت اور مادی وسائل ہی لوگوں کوعذاب الہٰی سے نجات دلاسکتے ہیں توقوم عاد کے افراد ، آندھیوں میں خس وخاشاک کے مانند فضامیں نہ اڑ تے پھرتے کہ چند ٹوٹے پھوٹے گھروں کے سوا ان کی اورکوئی چیزباقی نہیں رہ گئی تھی ۔ یہ آیت درحقیقت سُورہ فجر کی کی ان آیات کے مانند ہے جواسی قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ : ” اٴَ لَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعادٍ ، إِرَمَ ذاتِ الْعِمادِ ، الَّتی لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُہا فِی الْبِلادِ“ ” کیاتم نے نہیں دیکھاکہ تمہار ے پروردگار نے قوم عاد کے ساتھ کیاکیا؟وہ بلند قامت قو م جن کی اونچی اونچی عمارتیں تھیں، وہ ایسی قوم تھی کہ شہروں میں جس کی مثل پیدانہیں کی گئی (فجر / ۶ تا ۸) ۔ یا سورہ ٴ ق کی ۳۶ ویں آیت کے مانند ہے ، جس میں کہاگیا ہے : ” وَ کَمْ اٴَہْلَکْنا قَبْلَہُمْ مِنْ قَرْنٍ ہُمْ اٴَشَدُّ مِنْہُمْ بَطْشا“ ” اورکس قدر ایسی قومیں ہیں جنہیں ہم نے ان سے پہلے ہلاک کرڈالا جوان لوگوں سے طاقت کے لحاظ سے بھی زیادہ تھیں اورافرادی قوت کے لحاظ سے بھی “۔ خلاصہ ٴ کلام یہ کہ جولوگ تم سے طاقت میں کئی گنا ہ زیادہ تھے وہ خداکی سزا کے طوفا ن کے سامنے نہ ٹھہر سکے ، تم کِس باغ کی مولی ہو ؟ پھرفر مایا گیا ہے : ہم نے ان کے لیے کان آنکھ اوردل بنائے (وَ جَعَلْنا لَہُمْ سَمْعاً وَ اٴَبْصاراً وَ اٴَفْئِدَةً) (۲) ۔ وہ حقائق کے اوراک ،نگاہ اورپہچان کے لحاظ سے بھی قوی اور طاقت ورتھے ۔ لیکن نزول عذاب کے وقت انہیں ان کی نکھوں ، کانوں اور عقلوں نے کچھ فائدہ نہ دیا، کیونکہ وہ خدائی آیات کا انکار کرتے تھے (فَما اٴَغْنی عَنْہُمْ سَمْعُہُمْ وَ لا اٴَبْصارُہُمْ وَ لا اٴَفْئِدَتُہُمْ مِنْ شَیْء ٍ إِذْ کانُوا یَجْحَدُونَ بِآیاتِ اللَّہِ ) ۔ آخر کارجس کاوہ مذاق اڑایا کرتے تھے اس نے انہیں ہرطرف سے گھیرلیا(وَ حاقَ بِہِمْ ما کانُوا بِہِ یَسْتَہْزِؤُنَ) ۔ جی ہاں وہ مادی وسائل سے بھی لیس تھے اور حقائق کے ادراک کے ذ رائع سے بھی ، لیکن چونکہ خدائی آیات سے ہٹ دھرمی او ر تکبر کے ساتھ پیش آتے تھے اورا نبیاء کی باتوں کامذاق اڑاتے تھے ،لہٰذا نورحق ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا اورغر ور وتکبر اورحق دشمنی اس بات کا سبب بن گئے کہ وہ آنکھ کان اورعقل جیسے ہدایت ومعرفت کے آلات و وسائل سے فائدہ اُٹھا سکے اور نجات کے راستوں کوتلاش نہ کرسکے ، آخرکار ایسے انجام سے دوچار ہُوئے ، جس کا تذکرہ گزشتہ آیات میں ہوچکا ہے ۔ جہاں پر اس قدر قدرت اوروسائل کے باوجود ان کاکچھ بس نہ چل سکا اوران کے بے جان ڈھانچے آندھیوں کی موجود گی میں خس وخاشاک کے مانند بڑی رسوائی سے ادھر اُدھر ٹھوکریں کھاتے پھرتے تھے ،تم توان سے کہیں کمزور اور ناتواں ہو۔ خدا کے لیے یہ بات مشکل نہیں ہے کہ تمہیں تمہارے اعمال کے جرم میںسخت سے سخت عذاب میں مبتلا کر دے اور تمہار ی زندگی کے عوامل کوتمہار ی موت اور تبا ہی کے لیے مامور کردے ، یہ خطا ب مکّہ کے مشرکین کے لیے بھی ہے اور ہردور کے مغرور ، ظالم اورہٹ دھرم لوگوں کے لیے بھی ۔ یقینا ، جیساکہ قرآن فرماتا ہے ، ہم پہلے انسان نہیں ہیں ، جنہوں نے رُوئے زمین پر قدم رکھا ہے ، ہم سے پہلے بھی بہت سی قو میں گزرچکی ہیں جن کے پاس وسائل بھی تھے اور طاقت بھی ، کیا ہی اچھا ہو کہ ان کی تاریخ کوہم آ ئینہ عبر ت بنائیں اوراس میں اپنے مستقبل اورانجام کودیکھیں ۔ پھر بات کوزیادہ زور دے کر بیان کیاگیا ہے اورنصیحت آمیز انداز میں مشرکین مکہ کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایاگیا ہے کہ نہ صرف قومِ عاد بلکہ ” ہم نے تمہار ے ارد گرد کی سرکشی قوموں کو ہلاک کرڈالا “ (وَ لَقَدْ اٴَہْلَکْنا ما حَوْلَکُمْ مِنَ الْقُری ) ۔ جن قوموں کے علاقے تم سے زیادہ دُور نہیں ،تقریباً جز یرہ نمائے عرب کے ارد گرد ہی وہ آ باد تھے ، اگرقوم ِ عاد ” احقاف“ میں اس جزیرہ نما کے جنوب میں رہتی تھی توقومِ ثمود اس کے شمال میں ”حجر “ نامی سرزمین میں رہتی تھی ،قومِ سبا ، جود رد ناک انجام سے دوچار ہوئی ،یمن کی سرزمین میں رہتی تھی ،قومِ شعیب توتمہار ے شام جانے کے راستے میں سرزمین ِ مدین میں زندگی بسر کرتی تھی ، اسی طرح قوم لوط بھی اسی علاقے میں رہائش پذیر تھی اور یہ سب کی سب قومیں گنا ہوں ،نافر مانیوں اورکفُر کی وجہ سے مختلف عذابوں میں گرفتار ہو ئیں ۔ ان میں ہر قوم کا انجام عبرت کا آئینہ ہے اورہرایک ناطق گواہ کہ کیونکہ وہ بیدار کرنے والے اس قدر وسائل و ذ رائع کے باوجود بھی بیدار نہ ہوئیں ۔ اس کے بعد فرمایاگیا ہے : اور ہم نے اپنی نشانیوں کومختلف صورتوں میں ان سے بیان کیا تاکہ یہ لوگ با ز آ جائیں (وَ صَرَّفْنَا الْآیاتِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُون) ۔ کبھی توہم نے انہیں معجزے دکھائے ،کبھی نعمت عطاکی ،کبھی بلاؤں اورمصیبتوں میںگرفتار کیا، کبھی نیک لوگوں کی تعریف کی ،کبھی بُرے لوگوں کی نکوہش کی اور کبھی دوسروں کوآلینے والے ہولناک عذاب کے تذ کرہ سے انہیں نصیحت کی لیکن تکبر ، غرور ،خود خوا ہی اورہٹ دھرمی نے انہیں ہدایت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ اسی سلسلے کی آخری آیت میں انہیں سرزنش کرتے ہُوئے ان الفاظ کے ساتھ ان پر تنقید کی گئی ہے : توخدا کے سواجن کوان لوگوں نے تقرب خداکے لیے معبُود بنارکھّا تھا انہوں نے ان سخت اورحسّاس لمحات میں ان کی کیوں مدد نہ کی ؟ (فَلَوْ لا نَصَرَہُمُ الَّذینَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّہِ قُرْباناً آلِہَةً )( ۳) ۔ سچ تو یہ ہے کہ اگروہ برحق معبود ہوتے تواپنے پیرو کاروں کی ایسے سخت اورحساس لمحات میں مدد کرتے اورہولناک عذاب کے چنگل سے انہیں چھٹکا رادلاتے یہی چیز ان کے عقیدہ کے بالا ہونے کی ایک محکم دلیل ہے جوان بناوٹی معبودوں کواپنے مصیبت کے دنوں کے لیے اپنی پناگاہ سمجھتے تھے ۔ پھرفر مایا گیا ہے:نہ صرف ان کی امداد نہیں کی بلکہ ان سے گم بھی ہوگئے (بَلْ ضَلُّوا عَنْہُمْ)۔ اس طرح کی بے حیثیت اور بے قیمت مخلوق جونہ توکسی کام کا مبداء ہے اورنہ ہی کسی قسم کافائدہ پہنچا سکتی ہے اور ہر طرح کے حادثے اورسانحے کے وقت غائب اورگم ہوجاتی ہے وہ کیونکر عبادت کے لائق ہوسکتی ہے ؟ آیت کے آخر میں فر مایاگیا ہے : یہ تھا ان کے جھُوٹ اورافتراء پردازیوں کانتیجہ (وَ ذلِکَ إِفْکُہُمْ وَ ما کانُوا یَفْتَرُون) ۔ یہ ہلاکت اور بد بختی ، یہ درد ناک عذاب اورمصیبت کے موقع پر معبود وں کاگم ہوجانا ان کے جھُوٹ اورافتراء پردازیوںہی کاتو نتیجہ ہیں ( ۴) ۔ ۱۔” ان مکنّا کم فیہ “کے جملے میں ” ان “ نافیہ ہے ،قرآنی آیات سے ہمارے پاس بہت سے دلائل ہیں جو متن میں بیان ہُوئے ہیں ،لیکن بعض مفسرین نے اس ” ان “ کویاشرطیہ مانا ہے یازائدہ جوفیصح معلوم نہیں ہوتا۔ ۲۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ” ابصار ‘ (آنکھیں ) اور ” افئدة “ (دل اور مقول ) جمع کی صورت میں بیان ہوئے ہیں ، جب کہ ” سمع “ مفردات کی صورت میں ہے ممکن ہے کہ یہ فرق اس لیے ہو کہ ” سمع “ مصدر ی معنی کاحامل ہے اور مصدرہمیشہ مفرد کی صُورت میں استعمال ہوتا ہے یا اسلیے کہ دیکھی جانے والی اورادراک کی جانے والی چیز وں کے مقابلے میں مسموعات (سنی جانے والی چیزیں ) ہم آہنگ ہوتی ہیں ۔ ۳۔ ’ ’ اتَّخَذُوا آلِہَةً مِنْ دُونِ اللَّہ حالکونھم متقرباً بھم“ کاپہلا مفعول محذُوف ہے اور دوسر امفعول ” آلِہَةً“ ہے اور ” قُرْباناً“ حال ہے اورپورا جملہ تقدیری صورت میں یُوں ہے ” اتَّخَذُوا “ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ” قُرْباناً“ مفعول لہ ہے ، البتہ آیت کی ترکیب کے سلسلے میں اور بھی کئی احتمال پائے جاتے ہیں جو زیادہ قابلِ توجہ نہیں ہیں ۔ ۴۔ بنابریں آیت میں ایک محذوف ہے اوراس کی تقدیری صُورت یوں ہے ” وذالک نتیجة افکھم “ اور یہ احتمال بھی ہے کہ آیت میں محذوف ماننے کی ضرورت ہی نہ ہوتواس صورت میں اس کامعنی یوں ہوگا ” یہ تھا ان کاجُھوٹ اورافتراء پرداز یاں “ لیکن پہلامعنی زیادہ مناسب معلو م ہوتا ہے ۔