فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
Indeed We have made it simple in your language, so that they may take admonition.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 44:58
[Pooya/Ali Commentary 44:58] Aqa Mahdi Puya says: The Quran is easy to recite even if the reciter does not know the meaning of what he is reciting because its rhythm not only makes misreading improbable but carries off the soul to a higher spiritual plane. To get to its deepest meaning reference to the wisdom of the Ahl ul Bayt is essential.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 44:58-59
آپ بھی منتظر رہیں اور وہ بھی منتظر ہیں
ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ سُورہ ٴ دخان کاآغاز قرآنی آ یات کی عظمت ، گہرائی اور گیرائی کے ذکر کے ساتھ ہوا ہے اور یہ مندرجہ بالا آ یات پراختتام پذیر ہورہی ہے جوقرآنی آ یات کی گہری تاثیر بیان کررہی ہیں تاکہ سُور ت کاآغاز اورانجام ہم آہنگ ہوجائے اوراس ابتدا اور انتہاء کے درمیان کاحصّہ بھی قرآنی نصائح اورمواعظ کی تاکید کا مظہرہے ۔ ارشاد فر مایاگیاہے : ہم نے اس قرآن کوتیری زبان میں آ سان کردیاہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں (فَإِنَّما یَسَّرْناہُ بِلِسانِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُونَ ) ۔ اس کے مندرجات نہایت عمیق اورگہرے ہیں ، اس کے تما م پہلو بہت وسیع اورہمہ گیرہیں ، اس کے مطالب ایسے سادہ اور روان ہیں ک ہرشخص کے لیے قابلِ فہم اور ہر طبقے کے لیے قابلِ استفادہ ہیں ، اس کی مثالیں ز یبا ہیں ، اس کی تشبیہیں فطر ی اور زودرس ہیں ، اس کی داستانیں حقیقی اور سبق آموز ہیں، اس کے دلائل روشن اور پختہ ، اس کا بیان ساد ہ ، مختصر اور پُر مغز ہے ، ساتھ ہی اس حد تک شیریں اور پرکشش ہے کہ انسان قلوب تک جاپہنچے ، بے خبر وں کو آگا ہ اور آ ما دہ دلوں کومتوجہ کرتاہے ۔ بعض مفسرین نے اس آ یت کی ایک اور تفسیر بیان کی ہے ، جس کے مطابق اس سے یہ مراد ہے کہ باوجود یکہ تونے کسی کے آگے زانو ئے تلمذ تہ نہیں کیا تاہم آسانی اور سہولت کے ساتھ ان پُر مغز آیات کی تلاوت کرسکتاہے جو خداکے اعجاز اوروحی کی حامل ہیں ۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ، درحقیقت یہ آ یت سُورہ ٴ قمر کی اس آ یت سے ملتی جُلتی ہے ، جس کابار بار تکرار کیاگیاہے یعنی : ” وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِر“ (قمر ۔ ۱۷) ۔ ” ہم نے قرآن کونصیحت کے حصُول کے لیے آ سان بنادیاہے ،آ یا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے “ ۔؟ لیکن چونکہ ان اوصاف کے باوجُود کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کلامِ حق کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے لیے آ مادہ نہیں ہوتے ہیں لہذا آخری آ یت میں انہیں سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہُوئے فرمایاگیاہے : اگر وہ اس کے باوجُود نصحیت قبول نہیں کرتے ، تو توبھی منتظر رہ اوروہ بھی منتظر رہیں ( فَارْتَقِبْ إِنَّہُمْ مُرْتَقِبُون) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) توکفار پر کامیابی کے سِلسلے میں وعدہ الہٰی کی تکمیل کے منتظر رہیں اوروہ شکست کے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اس طالم اورہٹ دھرم قو م کے بارے میں خدا کے درد ناک عذاب کے منتظر رہیں اوروہ جو عم خویش کی شکست اور ناکامی کے منتظر ہیں، تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان دو میں سے کسی کاانتظار صحیح ہے ۔ بنابریں اس آ یت سے ہر گز یہ نتیجہ نہیں نکا لناچاہیئے کہ خداوند ِ عالم اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوحکم دے رہا ہے کہ تبلیغ سے ہاتھ اُٹھا لیں اوراپنی تمام سعی و کوشش کومتوقف کرکے صرف انتظار پر ہی اکتفا کرلیں ، بلکہ یہ ایک قسم کی تہدید اور تنبیہ ہے جو ہٹ دھرم قوم کو بیدار کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 44:58-59
چند اہم نکات
۱۔ ” ارتقب “ دراصل ” رقبہ “ ( بروز ن طلبہ ) کے مادہ سے لیاگیاہے ، جس کامعنی ”گردن “ ہے اورچونکہ انتظار کرنے والے لوگ ہمیشہ گردن اُٹھا اُٹھا کراس کاانتظار کرتے ہیں ،لہذا یہ کسِی چیز کے انتظار کے معنی میں آ تاہے ۔ ۲۔ مندرجہ آ یات اس بات کی نجوبی نشاندہی کررہی ہیں کہ قرآن مجید کا کسِی خاص طبقے یاگروہ سے تعلق نہیں ہے ، بلکہ عمومی طورپر فہم و ادراک ،متوجہ کرنے اورپندونصیحت کے لیے ہے . لہذا جولوگ قرآن مجید کو مبہم مفہوم اور نا معلوم مسائل کے پیچ وخم میں اُلجھا دیتے ہیں کہ اس کے ادراک کاتعلق صرف ایک طبقے اورگروہ سے مخصوص ہے اور وہ خاص گروہ یاطبقات بھی اس سے کچھ سمجھ نہیں پاتے ، وہ درحقیقت قرآن مجید کی اصل روح سے غافل ہیں ۔ قرآن مجید کوہرشعبہ ٴ زندگی میںموجُود ہواناچاہیئے ، خواہ شہرہو دیہات ، انفرادی زندگی ، ہو یااجتماعی ، پرائمری اسکول ہویا یونیور سٹی ، مسجد ہویامیدان جنگ ، غرض ہر جگہ پر اس کاہونا ضروری ہے ،کیونکہ خدانے اسے سہل ، سادہ ، آسان اور روان بنادیاہے تاکہ سب لوگ اس کو سمجھ سکیں ۔ اسی طرح اس آ یت نے ان لوگوں کے افکار پر بھی خط تنسیخ کھینچ دیاہے کہ جنہوں نے قرآن مجید کوتلاوت اور تجو یدی قواعد کے پیچ و خم میںمنحصر کر دیاہے ، جن کے پیشِ نظر صرف الفاظ کی مخارج سے ادائیگی اوروقف وصل کے اصولوں کومدّ نظررکھنا ہوتاہے . جبکہ قرآن کہتاہے کہ یہ کتاب ساری کی ساری نصیحت پرمبنی ہے ، ایسی نصیحت جوتحرک اور تعمیر کاعامل ہوتی ہے ، ظاہری الفاظ کے اصولوں کوملحوظ رکھنا اپنی جگہ پر بجا، لیکن اس کامنتہا ئے مقصود معانی ہیں ، الفاظ نہیں ۔ ۳۔ ایک حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے : ” لو لا تیسیرہ لما قدر احد من خلقہ ان یتلفظ بحرف من القراٰن ،وانیّ لھم ذالک وھو کلام من لم یزل ولا یزال “ ۔ ” اگرخدا نے قرآن کوزبانوں پرآسان کردیا ہوتا توکوئی شخص بھی اس کاایک حرف زبان پر نہ لاسکتا اور یہ ہوبھی کیسے سکتاتھا ،کیونکہ یہ خدا وندِ ازلی وابدی کاکلام ہے ( اوراس قسم کے کلام کی عظمت وشوکت اس قدر ہوتی ہے کہ اس کے فضل وکرم کے بغیر کوئی انسان اسے ادا نہیں کر سکتا “ ( ۱) ۔ خدا وندا ! ہمیں ان لوگوں میں سے قراردے جوتیر ے اس عظیم وبے نظیرکلام یعنی قرآن پاک سے نصیحت حاصل کرتے ہیں اور تمام جہات میں اپنی زندگی کواس کے ہم آہنگ کرتے ہیں ۔ خداوندا ! جوسکون واطمینان تو پر ہیز گا روں کوغایب کرتاہے اور طوفانِ حوادث میں ان کے دل کی ڈھارس بندھاتا ہے ہمیں بھی عنایت فرما ۔ بارِ الہٰا ! تیری نعمتیں بے شمار ،تیر ے رحمت بے حساب اور تیری سزا اور دردناک ہے ، ہمار ے اعمال ایسے نہیں ہیں جوہمیں تیری رحمت سے ہم کنار اور سزا سے دُور کرسکیں ، اپنا وہ فضل ہمارے شاملِ حا ل فر ما، جس کاتونے متقین سے وعدہ کیا ہے ،وگرنہ ہم کسی قیمت پر بھی تیر ی جودانی بہشت کی آغوش کے لائق نہیں ۔ ۱۔ تفسیر رُوح البیان ، جلد ۸ ،ص ۴۳۳۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 44:58-59
سوره دخان/ آیه 58- 59
۵۸۔فَإِنَّما یَسَّرْناہُ بِلِسانِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُونَ ۔ ۵۹۔ فَارْتَقِبْ إِنَّہُمْ مُرْتَقِبُونَ۔ ترجمہ ۵۸۔ ہم نے یہ (قرآن ) تیری زبان میں آسان کردیاہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔ ۵۹۔ (لیکن اگروہ نصیحت قبول نہ کریں ) توتو بھی منتظر رہ اوروہ بھی منتظر ہیں ( توخدا کی طرف سے کامیابی کااور وہ عذاب اور شکست کاانتظار کریں) ۔