فَلِذَلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِن كِتَابٍ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ اللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ
So summon to this [unity of religion], and be steadfast, just as you have been commanded, and do not follow their desires, and say, ‘I believe in whatever Book Allah has sent down. I have been commanded to do justice among you. Allah is our Lord and your Lord. Our deeds belong to us and your deeds belong to you. There is no quarrel between us and you. Allah will bring us together and toward Him is the destination.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 42:15
[Pooya/Ali Commentary 42:15] The mission of the Holy Prophet was to preach the gospel of unity to unite the people who were sunk deep in sectarianism and division, without making any compromise on account of worldly or political motives. He always relied upon Allah and His revelation, judged justly between warring factions, as the greatest upholder of peace and unity. According to Islam it is deeds which decide the fate of every individual in the life hereafter. Personal responsibility for one's own conduct is the basis of judgement on the day of reckoning when all will be brought together before the Lord of the worlds who is God of every created being.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:15
حکم کے مطابق استقامت کیجئے
گزشتہ آیا ت میں بغاوت ، ظلم اورانحراف کی وجہ سے امتوں کے درمیان اختلافات اور تفرقہ بازی کی بات ہورہی تھی ،لہٰذا ان آیات میں خدا وند عالم نے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوحکم دیا ہے کہ اختلافات کودور کرنے اور ابنیاء کے دین کے احیاء کی کوشش میں لگے رہیں اوراس میں پوری استقامت سے کام لیں۔ ارشاد ہوتاہے :انسانوں کوخدا کے واحد دین کی طرف دعوت دے اورانہیں اختلافات سے نجا دلا(فَلِذلِکَ فَادْعُ ) (۱) ۔ پھر اس راہ میں استقامت کاحکم دیتے ہوئے فرما یاگیاہے : اور جیساکہ تجھے حکم دیاگیا ہے استقامت دکھا (وَ اسْتَقِمْ کَما اٴُمِرْت). ”کَما اٴُمِرْت‘ ( جیسا کہ تجھے حکم دیاگیاہے ) ہوسکتاہے کہ استقامت کے اعلیٰ درجہ کی طرف اشار ہ ہو اور یاپھر اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ یہ استقامت بھی کمیّت ، کیفیت ، مدت اوردوسری خصوصیات کے لحاظ سے خدائی احکام کے مطابق ہونی چاہیئے ۔ چونکہ انسانی خواہشات اس راہ میں بہٹ بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں لہٰذا تیسرے حکم میں ارشاد ہوتاہے :ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر (وَ لا تَتَّبِعْ اٴَہْواء َہُم). کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواپنے رجحانات اورمفادات کی طرف دعوت دیتے ہیں . جس کا انجام تفر قہ جدائی انتشار اور نفاق ہے . ان کی خواہشات کوٹھو کرلگائیں اورسب کو پر وردگار کے ایک دین پرجمع کریں۔ ہردعوت کاایک نقطہ آغاز ہوتاہے اوراس کا نقطہ آغاز خو د پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرار دیتے ہوئے چوتھا حکم دیاگیا ہے : کہہ دے کہ میں ایمان لایاہوں ہراس کتاب پر جوخدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے ( وَ قُلْ آمَنْتُ بِما اٴَنْزَلَ اللَّہُ مِنْ کِتابٍ). میں آسمانی کتابوں کے درمیان فرق کاقائل نہیں ہوں.سب کو مانتا ہوں اور سب کوتوحید ، پاک دینی معارف ، تقویٰ ، پاکیز گی،حق اور عدالت کاداعی سمجھتا ہوں.میرادین درحقیقت ان سب کاجامع اور تکمیل کنندہ ہے۔ میں اہل کتاب کی طرح نہیں ہوں کہ جو ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں اورایک دوسرے کوجھٹلا تے ہیں . یہود ، نصاری کواور نصاری یہود کو ،حتٰی کہ ہردین کے پیرو کار بھی اپنی دینی کتابو ں کی ان آیات کو مانتے ہیں جو ان کوخواہشات سے ہم آہنگ ہوں،می کسی استثناء کے بغیر سب کوتسلیم کرتاہوں کیونکہ بنیادی اصول سب کے ایک ہیں۔ وحدت اوراتحاد کووجود میں لانے کے لیے ” اصول عدالت “ کی پاسداری ضڑوری ہوتی ہے لہٰذا پانچویں حکم میں ارشاد فر مایاگیاہے : کہہ دے کہ مجھے حکم مل چکاہے کہ تم سب کے درمیان عدالت کروں ( وَ اٴُمِرْتُ لِاٴَعْدِلَ بَیْنَکُمُ). یہ عدالت خواہ فیصلہ جات میں ہو یااجتماعی حقوق اور دوسرے مسائل میں ( ۲). اس طرح سے زیرنظر آیت پانچ اہم احکام پر مبنی ہے ،جن کاآغاز اصل دعوت سے ہوتاہے . پھر اس کی ترقی کے وسائل کو بیان کیاگیاہے اس کے بعد ہو ا اور ہوس پر ستی کاذکر ہے جواس دعوت کے موانع میں سے ہے . اس سے آگے چل کر اپنی ذات سے اس کے آغاز کرنے کا بیان ہے اور آخر میں ان سب کاآخری مقصد ذ کر ہواہے جو کہ عدالت کوعام کرنا اورپھیلانا ہے۔ ان پانچ احکام کے بعد تمام اقوام کے مشترکہ نکات کی طرف اشارہ کیاگیاہے اورفر مایا گیاہے : اللہ ہمارا ور تمہارا پروردگار ہے (اللَّہُ رَبُّنا وَ رَبُّکُم). ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں اورہر شخص اپنے اعمال کا جوا بدہ ہے (لَنا اٴَعْمالُنا وَ لَکُمْ اٴَعْمالُکُمْ). ” ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی لڑائی اورکسی قسم کاجھگڑا نہیں“ کسی کو ایک دوسرے پر فوقیت حاصل نہیں ہے اور ہمارا تم سے کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں ہے (لا حُجَّةَ بَیْنَنا وَ بَیْنَکُم). اصولی طور پر احتجاج اور استد لال کی ضر ورت بھی نہیں کیونکہ حق کافی حد تک واضح ہوچکا ہے ۔ اس کے علاوہ آخر کار ہم ایک جگہ اکٹھے ہوں گے ” اورخدا ہمیں تمہیں قیامت میں جمع کرے گا “ (اللَّہُ یَجْمَعُ بَیْنَنا ) (۳) ۔ اوراس دن ہم سب کے درمیان فیصلہ کرنے والا ایک ہی ہوگا اور” ہم سب کی باز گشت اسی کی طرف ہوگی “ (وَ إِلَیْہِ الْمَصیر). تو اس طرح سے ہم سب کاخداایک ، انجام ایک ، قاضی اور مرجع ایک اورپھر یہ کہ ہم سب اپنے اعمال کے جوابدہ ہیں اور ایمان اورعمل صالح کے بغیر کسی کوکسی پرکوئی فو قیّت حاصل نہیں۔ اس تمام بحث کوایک جامع حدیث کے ذریعے ہم پا یہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں .پیغمبر( اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) فر ماتے ہیں۔ ثلاث منجیات و ثلاث مھلکات ، فا لمنجیات : العدل فی الرضا و الغضب والقصد فی الغنی والفقر ، وخشیة اللہ فی السر او لعلا نیة ، والمھلکات : شح مطاع و ھوی متبع واعجاب المرء بنفسہ تین چیز یں انسان کی نجات کاسبب اورتین ہلاکت کاذریعہ ہیں.جوتین چیزیں اس کی نجات کاباعث ہیں وہ خوشی اورغصے کی حالت میں عد ل وانصاف،خوشحالی اور تنگدستی کی حالت میں اعتدال پر پسندی اور جلوت وخلوت میں خوف خدا ہے جوتین چیزیں انسان کی ہلاکت کاسبب بنتی وہ ہیں:بخل کہ جس کی انسان پیروی کرتاہے ، سرکشی اورحاکم خواہشات نفسانی کی اتباع اور تکبر اورغر ور ( ۴) ۔ ۱۔ کچھ مفسرین نے ” لذالک “ کی ” لام “ کو” الیٰ “ کے معنی میں لیاہے اورکچھ نے ” علت“ کے معنی میں . پہلی صورت میں ”ذالک “ گزشتہ انبیاء کے دین کی طرف اشارہ ہے اوردوسری صورت میں امتوں کے اختلاف کی طرف۔ ۲۔ اس مقام پر کچھ مفسرین نے ” عدالت “ کوصرف فیصلوں کی حد تک محدود رکھاہے جبکہ اس محدود یت پرکوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ ۳۔ ” بیننا“ میں متکلم مع الغیر کی ضمیر پیغمبر اکرم (اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور موٴ منین کی طرف اشارہ ہے اور ” بینکم “ کی ضمیر جمع تمام کفار کی طرف اشارہ ہے خواہ اہل کتاب ہوں یامشرک ۔ ۴۔ مجمع البیان زیر بحث آیات کے ذیل میں (تحف العقول کلمات پیا مبراسلام )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:15
سوره شوری/ آیه 15
۱۵۔فَلِذلِکَ فَادْعُ وَ اسْتَقِمْ کَما اٴُمِرْتَ وَ لا تَتَّبِعْ اٴَہْواء َہُمْ وَ قُلْ آمَنْتُ بِما اٴَنْزَلَ اللَّہُ مِنْ کِتابٍ وَ اٴُمِرْتُ لِاٴَعْدِلَ بَیْنَکُمُ اللَّہُ رَبُّنا وَ رَبُّکُمْ لَنا اٴَعْمالُنا وَ لَکُمْ اٴَعْمالُکُمْ لا حُجَّةَ بَیْنَنا وَ بَیْنَکُمُ اللَّہُ یَجْمَعُ بَیْنَنا وَ إِلَیْہِ الْمَصیر۔ ترجمہ ۱۵۔ تو بھی ان لوگوں کو اس خداکے واحد دین کی طرف بلااور جیساتجھے حکم دیاگیاہے استقامت دکھا اوران کی خواہشات کی پیروی نہ کر اور کہہ دے کہ میں ہراس کتاب پرایمان لاچکاہوں جو نازل ہوئی ہے . اورمجھے حکم دیاگیاہے کہ تمہارے درمیان عدالت کروں . اللہ ہمارا ا اور تمہارا رب ہے ، ہمارے اعمال کا نتیجہ ہمارے لیے اور تمہارے اعمال کاتمہارے لیے ہے ہمارے او ر تمہارے درمیان کوئی ذاتی جھگڑا تو ہے نہیں . خداہمیں اور تمہیں ایک جگہ پرجمع کرے گا ، اور سب کی باز گشت اسی کی طرف ہے۔