أَسۡبَٰبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰٓ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُۥ كَٰذِبٗاۚ وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَصُدَّ عَنِ ٱلسَّبِيلِۚ وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ إِلَّا فِي تَبَابٖ
—the routes of the heavens—and take a look at the God of Moses, and indeed I consider him a liar.’ The evil of his conduct was thus presented as decorous to Pharaoh, and he was kept from the way [of Allah]. Pharaoh’s stratagems only led him into ruin.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 40:27-37
Reserving one’s tenet of faith, without divulging it when dealing with the tyrant, when there is a danger of life of self and others, is a Divine tact to guiding human kind on the right path, since God has made this world a trial and given chances to every creature to choose for themselves their final destination. It is imperative to appeal to their sense of reasoning in the most amiable manner without directly attacking them for their perverted actions thus guarding, thereby the faith, i.e. life of those who follow Divine path. Its application in various circumstances has already been referred to under Note 28 (c), page 68, Set 1. If he still persists under presumption, self-conceitedness and obstinacy, thus setting aside reason, a Divine gift, a mysterious prophet inviting him to paradise, God seals his heart and leaves him to his misguidance leading to hell. Note in the same degree, we over rate ourselves, we under rate others, for injustice allowed at home is not likely to be corrected abroad, unless under self-examination, by calling oneself to account every night: (1) What infirmity have I mastered today? (2) What passions (i.e. enemy to Divine reason) have I opposed? (3) What temptation have resisted? (4) What virtues have I acquired? “Our vices will abate of themselves if they be daily brought to the shrift.” Examine how wise abstinent, obliging and just one has been while reasoning on laws expounded by the authorized and their application in matters of principle and policy, transaction to give and take, or mediating between the ruler and the ruled. Be eager to take lessons from others by advice and criticisms for well-wishers and avoid evil society and men of discursive trend of mind, by entertaining Divine awe and keeping in view of your object of creation and ultimate reversion to the Master as Whose slave you have been sent to this world, to discharge a contracted obligation, avoiding prejudice and condemnation to anyone in mind, as it affects his mind through the misgivings of a devil, common enemy to man, thanking God for His bounties, of keeping you away from these evils, and wishing well of people at large, dutiful to God, living creatures and the dead, disregard of which shall lead to infidelity, ending in Divine displeasure. Be moderate in eating, talking, and sleeping and fast as it develops tact, purifies the soul, undermines passion, enables to relish soliloquy. Tiding is for him who remembers Judgment Day, acts for it, remains content on little he gets, and is pleased with Divine decree. As with death, worldly trials end, so with dearth of property (material wealth) accounting reduces. there shall be none on Judgment Day, but shall desire would he had been bestowed by God just what was needed to meet his bare wants.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:36-37
موسٰی کے خدا کی خبر لاتاہوں
اگرچہ موٴ من آل فرعون کی باتوں نے فرعون کے دل پر اس قدر اثر کیاکہ وہ موسٰی کے قتل سے توباز آگیا لیکن پھربھی غرور کی چوٹی سے نیچے نہ اتر ااور اپنی شیطنت سے بھی باز نہ آیااور نہ ہی حق بات قبول کرنے پرآمادہ ہو. کیونکہ فرعون میں اس بات کی نہ تو حلاحیت تھی اور نہ ہی لیاقت . لہذاپنے شیطنت آمیز اعمال کوجاری رکھتے ہوئے اس نے ایک نئے کام کی تجویزپیش کی اور وہ ہے آسمانوں پرچڑھنے کے لیے ایک بلند و بالا برج کی تعمیر تاکہ اس پرچڑھ کرموسٰی کے خدا کی ” خبر“ لے آئے ! جیساکہ زیرنظر آیات میں ہے ۔ فرعون نے کہا : اے ہامان ! میری لیے ایک بلند عمار ت تیار کروتاکہ میں اسباب وذرائع تک پہنچ سکون : (وَ قالَ فِرْعَوْنُ یا ہامانُ ابْنِ لی صَرْحاً لَعَلِّی اٴَبْلُغُ الْاٴَسْبابَ)۔ ایسے اسباب وذرائع جومجھے آسمانوں تک لے جائیںتاکہ موسٰی کے خدا سے باخبر ہوسکوں ہرچند کہ میں گمان کرتاہوں کہ وہ جھوٹاہے (اٴَسْبابَ السَّماواتِ فَاٴَطَّلِعَ إِلی إِلہِ مُوسی وَ إِنِّی لَاٴَظُنُّہُ کاذِباًِ )۔ جی ہاں اس قسم کے بُرے اعمال فر عون کی نظر میں مزین کردیئے گئے تھے اورانھوں نے اسے راہ حق سے روک دیاتھا ( وَ کَذلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوء ُ عَمَلِہِ وَ صُدَّ عَنِ السَّبیل)۔ لیکن فرعون کی سازش اور چالوں کاانجام نقصان اور تباہی کے سواکچھ نہیں (وَ ما کَیْدُ فِرْعَوْنَ إِلاَّ فی تَبابٍ)۔ ” صرح “ دراصل وضاحت اور روشنی کے معنی میں ہے .اسی سے” تصریح“ ہے جس کامعنی ہے واضح اورآشکار کرنا .بعد ازاں اس کااطلاق بلند و بالا عمارتوں اورخوبصورت اور سر بفلک محلوں پربھی ہونے لگا کیونکہ اس نوعیت کی عمارتیں کامل طورپر واضح اورظاہر ہوتی ہیں . بہت سے مفسرین اور ارباب لغت نے اسی معنی کی تصریح کی ہے ۔ اور ” تباب “ کامعنی خسارہ اور ہلاکت ہے ۔ سب سے پہلی چیزجو یہاں پر نظرآتی ہے وہ یہ ہے کہ آخراس کام سے فرعون کامقصد کیاتھا ؟ آیا وہ واقعاًاس حد تک احمق تھاکہ گمان کرنے لگا کہ موسٰی کاخدا آسمان میں ہے ؟بالفرض اگرآسمان میں ہو بھی تو آسمان سے باتیںکرنے والے پہاڑ وں کے ہوتے ہوئے اس عمارت کے بنانے کی کیاضرورت تھی جو پہاڑوں کی اونچائی کے سامنے بالکل ناچیز تھی ؟اور کیااس طرح سے وہ آسمان تک پہنچ بھی سکتا تھا ؟ یہ بات توبہت ہی بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ فرعون مغرور اور متکبر ہونے کے باوجود سمجھ دار اور سیاستدان شخص تو ضرورتھا جس کی وجہ سے اس نے ایک عظیم ملت کواپنی زنجیروں میں جکڑ ہواتھا اور بڑے زور دار طریقے سے اس پرحکومت کرتا رہ. لہذااس قسم کے افرا د کی ہر ہر بات اورہر ہر حرکت شیطانی حرکات وسکنات کی آئینہ دار ہوتی ہیں . لہذاسب سے پہلے اس کے اس شیطانی منصوبے کاتجز یہ وتحلیل کرناچاہیے کہ آخرایسی عمارت کی تعمیر کامقصد یہ کیاتھا ؟ بظاہر یہ معلوم ہوتاہے کہ فرعون نے ان چندمقاصدکے پیش نظرایسااقدا م کیا: ۱۔ وہ چاہتاتھا کہ لوگوں کی فکر کومصروف رکھے . موسٰی علیہ السلام کی نبوت اوربنی اسرائیل کے قیام کے مسئلے سے ان کی توجہ ہٹانے کے لیے اس نے یہ منصوبہ تیار کی. بعض مفسرین کے بقول یہ عمارت ایک نہایت ہی وسیع وعریض زمین میںکھڑی کی گئی جس پرپچاس ہزار راج اورمزدور کام کرنے لگے . اس تعمیر ی منصوبے نے دوسرے تمام مسائل کوبھلا دی. جو ں جوں عمارت بلند ہوتی جاتی تھی توں توں لوگوں کی توجہ اس کی طرف زیادہ مبذول ہوتی جاتی تھی . ہرجگہ او ر ہرمحفل میں نئی خبرکے عنوان سے اس کے چرچے تھے اس نے وقتی طورپر جادوگروں پرموسٰی علیہ السلام کی کامیابی کوجوکہ فرعون اورفرعو نیوں کے پیکرپرایک کاری ضرب تھی لوگوں کے ذہنوں سے فراموش کردیا ۔ ۲۔ وہ چاہتاتھا کہ اس طرح سے زحمت کش اور مزدو ر طبقے کی جز وی مادی اوراقتصادی امداد کرے اور عارضی طورپر ہی سہی بیکار لوگوں کے لیے کام مہیّا کرے تاکہ تھوڑاسااس کے مظالم کوفراموش کردیں اوراس کے خزانے کی لوگوں کوزیادہ سے زیادہ احتیاج محسوس ہو ۔ ۳۔ پروگرام یہ تھا کہ جب عمارت پایہ ٴ تکمیل کوپہنچجائے ،تووہ اس پرچڑ ھ کرآسمان کی طرف نگاہ کرے اور شاید چلہ کمان میں رکھ کرتیرچلائے اوروہ واپس بالکل مطمئن ہوکراپنے اپنے کام میں مصروف ہوجائے ۔ و گرنہ فرعون کے لیے تو صاف ظاہرتھاکہ اس کی عمارت جتنی بھی بلند ہو سو میٹر سے زیادہ تو اونچی نہیں جاسکتی تھی ، جبکہ آسمان اس سے کئی گنابلند اوراونچے تھے . پھر یہ کہ اگر بلند ترین مقام پر بھی کھڑے ہوکرآسمان کی طرف دیکھاجائے تو اس کامنظر بغیر کسی کمی بیشی کے ویسے ہی نظر آتاہے جیسے سطح زمین سے ۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ فرعون نے یہ بات کرکے درحقیقت موسٰی کے مقابلے سے ایک قسم کی پسپائی اختیار کی .جبکہ اس نے کہا کہ میں موسٰی کے خدا کے بار ے میں تحقیق کرناچاہتاہوں ” فَاٴَطَّلِعَ إِلی إِلہِ مُوسی “ اور ساتھ ہی یہ بھی کہتاہے کہ ” ہرچندکہ میںاسے جھوٹا گمان کرتاہوں“ اس طرح سے وہ یقین کی منزل سے ہٹ کرشک اور گمان کے مرحلے تک نیچے آ جاتاہے ۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید ” وَ کَذلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوء ُ عَمَلِہِ وَ صُدَّ عَنِ السَّبیلِ وَ ما کَیْدُ فِرْعَوْنَ إِلاَّ فی تَبابٍ “ میں سب سے پہلے فرعون کے انحراف کی بنیاد ی وجہ بتائی ہے اوروہ ہے تکبر، غرور اورخود خواہی جیسے قبیح اور بُرے اعمال کا اس کی نگاہوں میں مزین ہونا ۔ پھر اس کانتیجہ بیان کیاہے جوراہ حق سے گمراہی کی صورت میں نکلاہے . تیسرے مرحلہ میںاس کے منصوبوں کی ناکامی کااعلان کرتاہے . گویہ تین مختصر سے جملوں میں تین جامع مطالب ۔ یقینااس قسم کی سیاست بازی مختصر سے عرصے کے لیے موٴثر واقع ہوسکتی ہے لیکن کاٹھ کی ہنڈ یابار بار چولہے پر نہیں چڑھ سکتی ۔ بعض روایات میں ہے کہ ” ہامان “ اس فرعونی بُرج کواس قدر اونچا لے گیا کہ اس کے اوپر تیز ہوا ؤں کی وجہ سے کام کرنا دشوار ہوگیا . را ج اور مستری فرعون کے پاس آکر کہنے لگے اس سے اُوپرمزید بلندی پرکام کرنا ہمارے بس سے باہر ہے . اس کی تعمیر کوتھوڑاہی عرصہ گزراتھا ک ایسی زبردست تیز وتند ہواچلی کہ جس نےاسے تہ وبالا کرکے رکھ دیا ( ۱)۔ ۱۔ ” بحا رالانوار “ جلد ۱۳ صفحہ ۱۲۵( نقل از تفسیرعلی بن ابراہیم )۔ معلوم ہوگیاکہ فرعون کی تمام طاقت اور قدرت نمائی ہواکے ایک جھونکے کوبھی برداشت نہ کرسکی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:36-37
سوره مؤمن/ آیه 36- 37
۳۶۔ وَ قالَ فِرْعَوْنُ یا ہامانُ ابْنِ لی صَرْحاً لَعَلِّی اٴَبْلُغُ الْاٴَسْبابَ ۔ ۳۷۔ اٴَسْبابَ السَّماواتِ فَاٴَطَّلِعَ إِلی إِلہِ مُوسی وَ إِنِّی لَاٴَظُنُّہُ کاذِباً وَ کَذلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوء ُ عَمَلِہِ وَ صُدَّ عَنِ السَّبیلِ وَ ما کَیْدُ فِرْعَوْنَ إِلاَّ فی تَباب۔ ترجمہ ۳۶۔ اور فرعون نے کہا اے ہامان ! میرے لیے ایک بلند عمارت تیار کرکہ شاید میں ذرائع تک پہنچ سکوں ۔ ۳۷۔ آسمانوں ( پرچڑ ہنے ) کے ذرائع ، تاکہ میں موسٰی کے خداسے با خبر ، ہوسکوں ، ہر چند کہ میں گمان کرتاہو کہ وہ جھوٹا ہے . اس طرح سے فرعون کے برے اعمال اس کی نظر میںمزین کردئیے گئے اور وہ راہ حق سے روک دیاگیا اور فرعون ( اور فر عون جیسوں ) کی سازش کاانجام تباہی کے سوااور کچھ نہیں ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 40:37
[Pooya/Ali Commentary 40:37] (see commentary for verse 23)