أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَى وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا
Have you not regarded those who were told, ‘Keep your hands off [from warfare], and maintain the prayer and give the zakat’? But when fighting was prescribed for them, behold, a part of them feared the people as if fearing Allah, or were even more afraid, and they said, ‘Our Lord! Why did You prescribe fighting for us? Why did You not respite us for a short time?!’ Say, ‘The enjoyments of this world are trifle and the Hereafter is better for the Godwary, and you will not be wronged so much as a single date-thread.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:77
[Pooya/Ali Commentary 4:77] Refer to the uncertain and hypocritical behaviour of the companions described in verse 75 of this surah. They were filled with fear of mortal men as though it were the fear of Allah and even more. "Why did you O Lord, make war compulsory for us? Why did you not allow us to live a little more?" These lamentations betray the hidden hypocrisy in their hearts which had tempted them to come into the fold of Islam for worldly gains and enjoyment of the pleasures of life, but when death loomed huge before their eyes they began to cry and wanted to stay safe in their homes.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:77-87
All bounties are from God and you are grateful to Him, if you use them as per direction and are responsible if you misplace them or misuse them. What is up with you, you have formed into two parties amongst you, regarding those who left Mecca to join you at Medina
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:77
چند اہم نکات
1۔ صرف نماز اور زکوٰة کا تذکرہ کیوں ؟ سب سے پہلے یہ سوال ہوتا ہے کہ تمام احکام ِ سلام میں صرف نماز اور زکوٰة کا کیوں ذکر ہوا ہے حالانکہ احکام اسلامی انہی دو میں منحصر نہےںہیں۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نماز خدا سے وابستہ ہونے اور زکوٰة مخلوق خدا سے رشتہ استوار کرنے کی رمز ہے ۔ لہٰذا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو حکم دیا جائے کہ خدا سے محکم و ابستگی اور بند گانِ خدا سے مضبوط رشتہ استوار کرکے اپنے جسم و جان اور اجتماع و معاشرے کو جہاد کے لئے آمادہ کریں ۔ اصطلاح کے مطابق اپنی تربیت کریں ۔ یہ بات مسلم ہے کہ کسی قسم کا جہاد افراد کی روحانی اور جسمانی آمادگی مستحکم رشتوں کے بغیر شکست سے ہمکنار ہو جائے گا۔ مسلمان نماز اور عبادت خدا کے سایے میں اپنے ایمان کو محکم اور اپنے راحانی جذبہ کی پر ورش کرتا ہے اور ہر قسم کے ایثار اور قربانی کے لئے آمادہ ہوتا ہے اور زکوٰة کے ذریعے اجتماعی فاصلوں کو مٹا تا ہے ۔ زکوٰة ہی کے ذریعے آزمودہ کار افراد اور جنگی سازو سامان مہیا کرنے کے لئے ایک اقتصادی معاونت کرتا ہے اور حکم جہاد کے صادر ہونے پر دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہو جاتا ہے ۔ ۲۔ مکہ میں حکم زکوٰة ہم جانتے ہیں کہ زکوٰة کا قانون مدینہ میں نازل ہوا اور مکہ میں مسلمانوں پر زکوٰة واجب نہیں ہوئی تھی اس کے باوجود یہ کیسے ممکن ہے کہ مندروجہ بالا آیت میں مکہ کے مسلمانوں کی حالت و کیفیت بیان کی جارہی ہو ۔ شیخ طوسی مرحوم نے اس سوال کا جواب تفسیر” تبیان “ میں دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ مندرجہ بالاآیت میں زکوٰة سے مراد مستحب زکوٰة تھی ۔ جوکہ مکہ میں نافذ تھی ۔ یعنی قرآن مسلمانوں کو ( حتی مکہ میں بھی ) حاجت مندوں کی مالی امداد نو مسلم افرادکے لئے ضرورات مہیا کرنے کی طرف راغب کرتا ہے ۔ ۳۔ مکہ اور مدینہ میں مختلف لائحہ عمل مندرجہ بالا آیت میں ضمنی طور پر ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ مکہ میں مسلمانوں کا ایک لائحہ عمل تھا اور مدینہ میں دوسرا۔ مکہ کا تیرہ سالہ قیام مسلمانوں کے انسان سازی کا تھا ۔ پیغمبر اکرم نے شب و روز مسلسل کوشش کی کہ انھیں بت پرستی اور زمانہ جاہلیت کے بیہودہ عناصر سے نجات دلا کر اس قسم کے انسان بنائیں جو زندگی کے بڑے حادثات کا مقابلہ کرتے ہوئے استقامت ، پا مردی اور ایثار کا مظاہرہ کریں اگر مکہ کے قیام کے زمانے میں یہ چیز موجود نہ ہوتی تو مدینہ کے مسلمانوں کو اتنی حیران کن اور پے در پے کامیابیاں نصیب نہ ہوتیں ۔ مکہ کے قیام کا دور مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور تجربہ حاصل کر نے کا دور ہے ۔ اس بنیاد پر قرآن کی ایک سو چودہ سورتوں میں سے تقریباً نوّے سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں ۔ ان میں سے زیادہ تر سورتیں عقیدہ، مکتب اور نظر یات کا منبع تھیں لیکن مدینہ کا زمانہ تشکیل حکومت اور ایک مکمل معاشرے کی بنیادیں استوار کرنے کا دور تھا ۔ اس لئے نہ تو مکہ میں جہاد واجب تھا اور نہ ہی زکوٰة ۔ کیونکہ جہاد اسلامی حکومت کے فرائض میں سے ہے جیساکہ بیت المال کی تشکیل بھی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ۷۸۔اٴَیْنَمَا تَکُونُوا یُدْرِکُّمْ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنتُمْ فِی بُرُوجٍ مُشَیَّدَةٍ وَإِنْ تُصِبْہُمْ حَسَنَةٌ یَقُولُوا ہَذِہِ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَإِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَةٌ یَقُولُوا ہَذِہِ مِنْ عِنْدِکَ قُلْ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللهِ فَمَالِ ہَؤُلاَءِ الْقَوْمِ لاَیَکَادُونَ یَفْقَہُونَ حَدِیثًا۔ ۷۹۔ مَا اٴَصَابَکَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنْ اللهِ وَمَا اٴَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِکَ وَاٴَرْسَلْنَاکَ لِلنَّاسِ رَسُولًا وَکَفَی بِاللهِ شَہِیدًا ۔ ترجمہ ۷۸۔ تم جہاں کہیں بھی رہو ، موت تمھیں پالے گی اگر چہ محکم بوجوں میں جار ہو او راگر انھیں ( منافقین کو ) حسنہ ( اور کامیابی) حاصل ہو تو کہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ہے اور سیئہ( اور شکست) سے دوچار ہوں تو کہتے ہیں یہ تمہاری طرف سے ہے کہہ دو کہ سب اللہ کی طرف سے ہیں ۔ پس یہ گروہ کیوں تیار نہیں ہوتا کہ حقائق کا ادراک کرے ۔ ۷۹۔ جو نیکیاں تجھ پر پہنچتی ہیں وہ خدا کی طرف سے ہیں اور جو برائی تجھے پہنچتی ہے وہ خود تیری طرف سے ہے اور ہم نے تجھے لوگوںکے لئے رسول بناکر بھبیجا ہے اور اس بارے میں خدا کی گواہی کافی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:77
تفسیر
گذشتہ اور بعد کی آیات پر غور کریں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں آیات بھی منافقین سے متعلق ہیں جو مسلمانوں کی صفوں میں رہتے تھے جیساکہ آیات میں ہے کہ وہ میدانِ جہاد میں شر کت کرنے سے ڈرتے تھے اور جب جہاد کا حکم صادر ہواتو انھیں تکلیف ہوئی ۔ قرآن ان کے اس طرزِ فکر کا دو طرح سے جواب دے رہا ہے پہلا جواب تو وہی تھا جو گذشتہ آیت کے آخر میں گزر چکا ہے قل متاع الدنیا قلیل و الاخرة خیر لمن اتقی ” کہہ دو کہ دنیا وی زندگی بہت کم ہے لیکن پر ہیز گاروں کے لئے دوسرے جہان میں اس کا صلہ موجود ہے “۔ دوسرا جواب جو زیر بحث ہے کہ موت سے فرار اختیار کرنا تمہارے لئے مفید نہیں ” حالانکہ تم جہاں کہیں بھی ہو موت سے تم کو مفر نہیں آخر ایک تمھیں اس کا نوالہ بننا ہے یہاں تک کہ تم مضبوط گنبدوں میں کیوں نہ چھپ جاوٴ” پس وہ موت جسے ضرور آنا ہے اور جس سے چھٹکارا ممکن نہیں ہے کیون نہ اسے اصلاح اور سچائی کے لئے قبول کیا جائے جیسے جہاد کی صورت میں بجائے اس کے کہ بے کار اور لا حاصل موت قبول کی جائے ۔ (اٴَیْنَمَا تَکُونُوا یُدْرِکُّمْ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنتُمْ فِی بُرُوجٍ مُشَیَّدَةٍ) ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ قرآن کی متعدد آیات مثلاً حجر کی آیة ۹۹ ۔ اور مدثر کی آیت۴۸۔ میں موت کو ” یقین “ سے تعبیر کیا گیا ہے یہ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہر قوم اور گروہ جو بھی عقیدہ رکھتا ہو وہ ہر چیز کا انکار کرسکتا ہے مگر اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ زندگی ایک دن ختم ہونے والی ہے وہ افرد جو زندگی سے عشق کرتے ہیں اور وہ جو سمجھتے ہیں کہ موت ہمیشہ کے لئے نیست و نابود ہونے کانام ہے اور اس کا نام لیتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں یہ آیات انھیں تنبیہ کرتی ہیں اور زیر بحث آیت میں۔ یدرککم ۔ کے مفہوم سے انھیں متوجہ کیا گیا ہے کہ عالم ہستی کی اس حقیقت سے فرار اختیار کرنا ایک نامناسب فعل ہے کیونکہ ۔یدرککم ۔ کے مادہ کا معنی یہ ہے کہ کوئی کسی چیز سے فرار حاصل کرے اور وہ اس کے پیچھے دوڑے ۔ سورہ جمعہ کی آیت ۸ میں بھی یہ حقیقت زیادہ کھل کربیان کی گئی ہے : قل ان الموت الذی تفرون منہ ملاقیکم کہیے کہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ ضرور تمہارے سامنے آئے گی ۔ جب یہ حقیقت مد نظر ہو تو کیا یہ عقل مندی ہے کہ انسان میدان جہاد میں جانے اور قابل فخر مرتبے پر فائز ہونے کی بجائے اس سے کنارہ کش ہ وکر گھر میں آرام کرتا رہے فرض کرلیں کہ جہاد سے کنارہ کش ہو کر وہ زندگی کے چند روز اور گذار لے اور وہی کام دہراتا رہے جو پہلے کرتا رہا ہے ۔ راہ خدا میں جہاد کرنے والوں کے اجر و ثواب سے بے بہرہ ہو جائے تو کیا یہ عقل اور منطق کے مطابق صحیح ہے اصولی طور پر موت ایک عظیم حقیقت ہے اور موت کے استقبال کے لئے افتخار کے ساتھ آمادہ ہونا چاہئیے ۔ دوسرا نکتہ جس پر توجہ کرنا چاہئیے یہ ہے کہ درج بالا آیت میں کہا گیا ہے کہ کوئی چیز یہاں تک کہ محکم برج ( بروج مشیدہ)۱ بھی موت سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا اور اس کی وجہ واضح یت اور وہ یہ کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ موت وجود انسانی سے باہر نفوذ کرتی ہے ۔ عملی طور پر موت کا سر چشمہ انسان کے اندر ہے ، کیونکہ بدن کے مختلف کل پر زوں ( اعضاء) کی استعداد یقینا محدود ہے ایک دن وہ ختم ہو جاتے ہیں ۔البتہ غیر طبیعی موت انسان کی تلاش میں باہر سے آتی ہے لیکن طبعی موت اس کے اندر سے آتی ہے ۔ مضبوط گنبد اور بھاری قلعے بھی اس کا راستہ نہیں روک سکتے ۔ یہ بجا ہے کہ مضبوط قلعے بعض اوقات غیر طبعی موت سے بچا لیتے ہیں ۔ مگر پھر بھی موت سے مکمل نجات نہیں دلاسکتے اورچند دنوں بعد طبعی موت انسان کو آلیتی ہے ۔ ۱- مشیدہ ۔ در اصل مادہ شید ( بر وزن شیر) سے ہے اور گچ اور دوسرے محکم مواد کے معنی میں ہے جنھیں کسی بنیاد کے استحکام کے لئے استعمال کرتے ہیں چونکہ اس زمانہ میں عام طور پر مضبوط بنیاد کے لئے محکم ترین مادہ گچ اور چونا تھا لہٰذا زیادہ تر اس مفہوم میں بولا جاتا تھا۔ لہٰذا بروج مشیدہ محکم قلعوں کے معنی میں ہے اور دیکھنے میں مشیدہ مرتفع اور بلند کے معنی میں آتا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ چوناسے استفادہ کئے بغیر کسی طرح بھی بلند و بالا عمارت کی بنیادیں استوار نہیں ہوسکتیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:77
شان ِ نزول
مفسرین کی ایک جماعت مثلاً عظیم مفسر طوسی موٴلف” تبیان “ او ر،وٴلفین ” تفسیر قرطبی“ اور ” المنار“ ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی ایک جماعت جب مکہ میں مقیم تھی اور مشرکین کی طرف سے اس پر ظلم و ستم توڑے جارہے تھے اس جماعت کے افراد پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم قبول ِ اسلام سے پہلے محترم اور معزز تھے لیکن قبول اسلام کے بعد ہماری حالت دگر گوں ہ وگئی اور ہم وہ عزت اور احترام کھو بیٹھے ہیں ہمیں دشمن نے اذیت اور مصیبت میں مبتلا کردیا ہے ۔ اگر آپ اجازت دیں تو ہم دشمنوں سے جنگ کریں تاکہ اپنا وقار اور مرتبہ دوبارہ بحال کرسکیں ۔ اس روز پیغمبر نے فرمایا ابھی مجھے جنگ کرنے کا حکم نہیں ہے لیکن جب مسلمان مدینہ میں جابسے اور مقابلے کے لئے زمین ہموارہو گئی، جہاد کاحکم نازل ہوا تو ان میں سے بعض جو پہلے لڑنے کے لئے تلے بیٹھے تھے اب میدان جہاد میں کانے سے کترانے لگے اور اس دن کا جوش و ولولہ ٹھنڈا پڑگیا تھا۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی او رمسلمانوں میں جذبہٴ شجاعت بیدار کرنے کے لئے اور جہاد سے گریز کرنے والے افراد کو ملامت کرتے ہوئے حقائق بیان کیے ۔ وہ جو صرف باتیں کرنا جانتے ہیں قرآن یہاں کہتا ہے ، اس گروہ کی حالت واقعاً تعجب خیز ہے جو ایک نامناسب موقع پر بڑی گرم جوشی اور شور و غوغا سے تقاضا کرتا تھا کہ انھیں جہاد کی اجازت دی جائے انھیں حکم دیا گیا کہ ابھی اپنی حفاظت اورتعمیر کا کام کریں ، نماز پڑھیں ، اپنی تعدادبڑھائیں اور زکوٰة دیتے رہیں لیکن جب ہر لحاظ سے فضا ہموار ہو گئی اور جہاد کاحکم نازل ہوا تو ان پرخوف طاری ہو گیا اور وہ اس حکم کے سامنے زبانِ اعتراض دراز کرنے لگے ۔ (اٴَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ قِیلَ لَہُمْ کُفُّوا اٴَیْدِیَکُمْ وَاٴَقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمْ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیقٌ مِنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَةِ اللهِ اٴَوْ اٴَشَدَّ خَشْیَةً ) وہ اعتراض میں صراحت کے ساتھ کہتے تھے خدا یا تونے اتنا جلدی جہاد کا حکم نازل کر دیا کیا اچھا ہوتااگر اس حکم کو تاخیر میں ڈال دیتا یا یہ پیغام ِ رسالت آئندہ کی نسلوں کے ذمہ ڈال دیا جا تا۔ ۱ (وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ لَوْلاَاٴَخَّرْتَنَا إِلَی اٴَجَلٍ قَرِیبٍ) قرآن اس قسم کے افراد کو دو طرح کے جواب دیتا ہے ، پہلا جواب یہ ہے کہ جو (یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَةِ اللهِ اٴَوْ اٴَشَدَّ خَشْیَةً )کی عبارت کے دوران دیا جاچکا ہے ۔ یعنی وہ لوگ بجائے اس کے کہ خدائے قاہر سے ڈریں کمزور اور ناتواں انسانوں سے خوف زدہ ہیں بلکہ وہ ان نحیف و ناتواں لوگوں سے خدا کی نسبت زیادہ ڈرتے ہیں دوسرا یہ کہ ایسے افراد کہا جائے کہ فرض کروں چند دن جہاد نہ کرنے کی وجہ سے آرام و سکون حاصل کرلو گے ، پھر بھی یہ زندگی فانی اور بے قیمت ہے لیکن ابدی اور دائمی جہاں تو پرہیز گار لوگوں کے لئے زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے ، خصوصاً جب انھیں مکمل طور پر عوض اور اجر مل جائے گا معمولی سے معمولی ظلم بھی ان پر نہیں ہوگا.. قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیلٌ وَالْآخِرَةُ خَیْرٌ لِمَنْ اتَّقَی وَلاَتُظْلَمُونَ فَتِیلًا۔۲ ۱-بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے حضرت مہدی (علیه السلام) کے قیام کے بارے میں کچھ باتیں سن رکھی تھیں ۔ لہٰذا ان میں سے بعض اس انتظار میں تھے کہ جہاد کا معاملہ قیامِ مہدی (علیه السلام) کے زمانے سے مخصوص ہو جائے ۔ ( نور الثقلین جلد اول ص۵۱۸) ۲-فتیل ایک باریک دھاگہ ہے جو کھجور کے دانے کے درمیان شگاف میں ہوتا ہے جس طرح کہ اس کی تفصیل تیسری جلد میں گزر چکی ہے ۔