إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا
Indeed We shall soon make those who deny Our signs enter a Fire: as often as their skins become scorched, We shall replace them with other skins, so that they may taste the punishment. Indeed Allah is all-mighty, all-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:56
[Pooya/Ali Commentary 4:56] Aqa Mahdi Puya says: Those who disbelieve Allah's signs shall be cast into fire, and when their skin (jild) is burnt up, then Allah shall give them a new skin so that they may go on tasting the agony of punishment. The continuous torment or comfort will be physical as well as spiritual. The outer structure of the body communicates the feelings of pain or pleasure to the soul, and as the cognitive self is not changed, the renewed outer structure, though had not committed the sin, yet will be used to convey pain or pleasure to the unchangeable soul. None of the senses will ever be destroyed but will be made sharper to taste pain or pleasure. Refer to al-Qaf: 20 to 22. This verse refers to the continuity of a process, therefore, it negates the theory of transmigration of the soul-return of the departed soul to another body which has a soul of its own.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:56-57
ایک سوال اور اس کا جواب
ممکن ہے کہ کچھ لوگ یہ اعتراض کریں کہ آیاتِ مندرجہ بالا کہتی ہیں کہ جس وقت بد کاروں کی جلد جلے گی تو ہم اس کی جگہ دوسری جلد دے دیں گے تاکہ وہ سزائے الہٰی میں گرفتار ہیں ۔ گناہگار جلد کی بجائے بے گناہ نئی جلد کو سزا دینا عدالت خدا وندی کے مطابق نہیں ہے ۔ مشہور و معروف مادہ پرست ابن ابی العوجاء نے جو حضرت امام جعفر صادق (ع) کا ہم عصر تھا بالکل یہی سوال آپ(ع) سے کیا تھا اورآیت مندرجہ بالا پڑھ کر کہتا تھا: ماذنب الغیر نئی جلد اور کھال کا کیا قصور ہے ۔ حضرت امام صادق (ع) نے اسے مختصر لیکن پر معانی جواب دیا فرمایا : ھی ھی وھی غیرھا یعنی نئی جلد وہی پرانی جلد ہے باوجود اس کے کہ اس کی بجائے ہے ۔ ابن ابی العوجاء جانتا تھا کہ اس مختصر سی عبارت میں کوئی راز پوشیدہ ہے ۔ اس لئے کہنے لگا ۔ مثلی فی ذٰلک شیئاً من امر الدنیا اس سلسلے میں میرے لئے کوئی مثال دیجئے امام (ع) نے فرمایا : ارء یت لو ان رجلاً اخذ لبنة فکسر ھا ثم ردوھا فی ملبنا فھی ھی وھی غیرھا یہ اس طرح ہے کہ ایک شخص اینٹ کو توڑ تا ہے اور ریزہ ریزہ کرکے دوبارہ سانچے میں ڈال دیتا ہے اور نئی اینٹ بناتا ہے ۔ تو یہ دوسری اینٹ وہی پہلی اینٹ ہے باوجودی اس کے کہ نئی اینٹ بھی ہے ( اس کا اصلی مادہ محفوظ ہے صرف اس کی شکل بدل گئی ہے )۔( مجالس ِ شیخ و احتجاج طبرسی ) اس روایت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نئی جلد اسی پرانی جلد سے تیار ہو گی ۔ ضمناً یادرکھئیے کہ حقیقت میں سزا و جزا انسان کی روح اور قوت ِ ادراک سے تعلق رکھتی ہے ۔ جسم تو صرف سزا و جزا کو روح کی طرف منتقل کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ ۵۸۔إِنَّ اللَّہَ یَاٴْمُرُکُمْ اٴَنْ تُؤَدُّوا الْاٴَماناتِ إِلی اٴَہْلِہا وَ إِذا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اٴَنْ تَحْکُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہِ إِنَّ اللَّہَ کانَ سَمیعاً بَصیراً۔ ترجمہ ۵۸۔ خدا وند عالم تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو پہنچا دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے لگو تو عدل کے مطابق فیصلہ کرو۔ خدا تمہیں اچھی نصیحت اور وعظ کرتا ہے ۔ خدا سننے والا اور جاننے والاہے ۔