أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا
Have you not regarded those who were given a share of the Book, believing in idols and fake deities and saying of the pagans: ‘These are better guided on the way than the faithful’?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:51
[Pooya/Ali Commentary 4:51] Jibt means sorcery and taghut means rebel or devil-also the names of the two idols the Quraysh worshipped. Refer to the commentary of al-Baqarah: 256. The reference is to the Jews who, by going astray from the path of pure monotheism of Musa, had given currency to sorcery and devildom in order to form an alliance with the idolatrous Arabs. By siding with the pagans the Jews showed their preference for idolatry. Their tacit approval of idolatry has been pointed out in this verse. The Jews said openly that the pagans were better guided than the Muslims. Aqa Mahdi Puya says: The words Jibt and taghut refer to any ungodly authority which claims inspiration, intuition or special communion with the unseen. This also applies to any temporal authority without the divine sanction.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:51-59
Bodily and foot remarks, if honestly studied should suffice.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:51-52
جبت و طاغوت
لفظ ” جبت “ قرآن مجید میں صرف اسی آیت میں استعمال ہوا ہے ۔ یہ اسم جامد ہے اس کے مشتقات نہیں ہیں ۔ کہتے ہیں کہ در اصل یہ حبشی زبان کو ایک لفظ ہے جو ” جادوگر“ یا شیطان کے معنی میں ہے ۔ پھر عربی زبان میں آکر اس معنی میں یا ” بت “ نیز ” خد ا“ کے علاوہ ہر وہ معبود کے لئے استعمال ہونے لگا کہا جاتا ہے کہ یہ اصل میں ” جبس “ تھا اس کے بعد اس کی” س“”ت“سے بدل گئی ۔ لفظ ”طاغوت“ قرآن میں آٹھ مقامات پر استعمال ہوا ہے ۔ جیساکہ اس کی تفسیر پہلی جلد میں سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۵۶ کی ذیل میں آچکی ہے کہ یہ طغیان کے مادہ سے مبالغہ ۱ کا صیغہ حد اور سر حد سے تجاوز کرنے کے معنی میں آتا ہے اور اس کے مفہوم میں ہر ایسی چیز شامل ہے جو حد سے تجاوز کرنے کا سبب بنے جن میں سے بت بھی ہیں ۔ اس لئے بتوں کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ اس بناپر شیطان ، بت ، جابر و متکبر حاکم ، خدا کے علاوہ ہر معبود اور ہر وہ مادہ راستہ جو غیر حق تک پہنچانے طاغوت کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ باقی رہا یہ کہ زیر بحث ، آیت میں ان دونوں لفظوں سے کیا مراد ہے تو اس بارے میں مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ دو بتوں کے نام ہیں جن کے سامنے مذکورہ داستان میں یہودیوں کے ایک گروہ نے سجدہ کیا تھا اور بعض کہتے ہیں کہ جبت کے معنی بت کے ہیں اور طاغوت کے معنی ہیں بت پرست یا بت کا مدد گار جو بتوں سے باتیں کرنے کے نام پر کچھ چیزیں اور باتیں بتوں کی طرف نقل کرتے اور جھوٹ موٹ ان کی طرف نسبت دیتے تھے تاکہ لوگوں کو دھوکا دے سکیں ۔ ۲ جو کچھ شان نزول اور تفسیر میں لکھا گیا ہے یہی مفہوم اس سے مناسبت رکھتا ہے ۔ کیونکہ یہودیوں نے بتوں کے سامنے سجدہ کیا اور بت پرستوں کے آگے بھی سر تسلیم خم کیا ۔ اس کے بعد کی آیت میں اس قسم کی سازشیں کرنے والوں کا انجام بیان کرتے ہوئے فرماتاہے : وہ ایسے لوگ ہیں جنہیں خدا وند عالم نے اپنی رحمت سے دورکردیاہے اور جسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دور کردے اس کا تمہیں یا رو مدد گار کہیں نہیں ملے گا ( اولائک الذین لعنھم اللہ و من یلعن اللہ فلن تجد لہ نصیراً)۔آیت کے اعلان کے مطابق یہو دی اپنی سنگین سازشوں سے کوئی فائدہ اٹھا سکے، آخر کار ناکام ہو کر شکست کھائی اور ان کے بارے میں قرآن کی پیشین گوئی درست ثابت ہوئی ۔ مندرجہ بالا آیتیں اگر چہ ایک خاص گروہ کے بارے میں نازل ہوئی تھیں ۔ لیکن یہ مسلم ہے کہ وہ انہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ وہ ایسے تمام لوگوں کے لئے ہیں جو اپنے گھٹیا مقاصد حاصل کرنے کے لئے اپنی حیثیت و شخصیت بلکہ ایمان و اعتقاد کی بازی لگا دیتے ہیں ۔ اس قسم کی سازشیں کرنے والے دنیا اور آخرت میں رحمت ِ خدا سے دور ہیں اور اکثر و بیشتر انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑاتا ہے ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ مذکورہ بالا ناپسندیدہ جذبہ اس قوم میں ابھی تک شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے جس حالت میں بھی ہوں مکاری، فریب کاری اور دھوکا بازی سے منہ نہیں موڑتے۔ اسی وجہ سے وہ گذشتہ طویل تاریخ میں اور آج بھی شکست پر شکت کھا رہے ہیں ۔ ۵۳۔اٴَمْ لَہُمْ نَصیبٌ مِنَ الْمُلْکِ فَإِذاً لا یُؤْتُونَ النَّاسَ نَقیراً ۔ ۵۴۔اٴَمْ یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلی ما آتاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ فَقَدْ آتَیْنا آلَ إِبْراہیمَ الْکِتابَ وَ الْحِکْمَةَ وَ آتَیْناہُمْ مُلْکاً عَظیماً ۔ ۵۵۔فَمِنْہُمْ مَنْ آمَنَ بِہِ وَ مِنْہُمْ مَنْ صَدَّ عَنْہُ وَ کَفی بِجَہَنَّمَ سَعیراً ۔ ترجمہ ۵۳۔ کیا ان یہودیوں کا حکومت میں کوئی حصہ ہے ( جو وہ چاہتے ہیں کہ اس کا فیصلہ کریں ) حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ لوگوں کو ان کا کوئی حق نہ دیتے( اور تمام چیزین اپنے ہی دائرہ اختیار میں رکھتے)۔ ۵۴۔ یا یہ کہ وہ لوگوں کے ساتھ ( پیغمبر اور ان کے اہل بیت (ع) سے ) اس کے بدلے میں جو خداوند عالم نے اپنے فضل و کرم سے انہیں مرحمت فرمایا ہے حسد کرتے ہیں ۔ ( وہ کیوں حسد کرتے ہیں ) حالانکہ ہم نے آل ابراہیم کو ( کہ یہودی بھی اسی خاندان سے ہیں ) کتاب و حکمت عطا کی اورا نہیں ایک عظیم حکومت عطا کی ۔ ۵۵۔ ان میں سے ایک جماعت تو اس پر ایمان لے آئی لیکن ایک گروہ نے اس کے راستے میں رکاوٹ پید اکردی اور اور جہنم کی آگ کا بھڑکتا شعلہ ان کے لئے کافی ہے ۔ ۱تفسیر المنار جلد سوم ، صفحہ ۳۵ اور بعض کے نزدیک یہ مصدر ہے ، لیکن صفت اور صیغہ مبالغہ کے طور پر ہوا ہے ۔ ۲ تفسیر تبیان اور تفسیر روح المعانی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:51-52
سازشی لوگ
شان نزول اکثر مفسرین مندرجہ بالا آیتوں کی شانِ نزول کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جنگ احد کے واقعہ کے بعد یہودیوں کے بزرگوں میں سے ایک شخص جس کانام کعب بن اشرف تھا ستر آدمیوں کے ہمراہ مکہ مکرمہ آیا تاکہ رسول اکرم کے خلاف اہل مکہ سے عہد و پیمان کرے اور جو معاہدہ حضور کے ساتھ تھا اسے توڑ دت۔ کعب ابو سفیان کے گھر گیا ۔ ابو سفیان نے اس کا بڑا احترام کیا۔ باقی یہودی قریش کے مختلف گھروں میں الگ الگ مہمان رہے اہل مکہ میں سے کسی نے کعب سے کہا کہ تم بھی اہل کتاب ہو اور محمد بھی صاحب کتاب ہیں حقیقت یہ ہے کہ ہمیں یہ شک ہے کہ یہ ایک سازش ہے جو ہمیں ختم کرنے کے لئے کی جارہی ہے ، اگر تم یہ چاہتے ہو کہ ہم آپس میں عہد و پیمان کریں تو پہلی شرط یہ ہے کہ ان دو بتوں ( دو بڑے بتوں کی طرف اشار ہ کیا ) کو سجدہ کرو اور ان پر ایمان لے آوٴ انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ اس کے کعب نے اہل مکہ سے یہ پیش کش کی کہ تیس افراد تم میں سے اور تیس افراد ہم میں سے خانہ کعبہ کے پاس جائیں اور اپنے شکم خانہ کعبہ کی دیوار سے لگا کر کعبہ کے پر وردگار سے عہد کریں کہ ہم محمد سے جنگ کرنے میں کوتا ہی نہیں کریں گے ۔ غرض یہ پروگرام طے پا گیا ۔ آخر میں ابو سفیان نے کعب کی طرف رخ کرکے کہا: تو ایک پڑھا لکھا آدمی ہے اور ہم جاہل اور ان پڑھ ہیں ، تیرے خیال میں ” ہم “ اور ” محمد “ میں سے کون حق سے زیادہ نزدیک ہے ۔ کعب نے کہا : اپنا دین میرے سامنے تفصیل سے بیان کرو۔ ابو سفیان نے کہا : ہم حاجیوں کے لئے بڑے بڑے اونٹوں کی قربانی کرتے ہیں انہیں پانی پلاتے ہیں ۔ مہمان نوازی کرتے ہیں ، قید یوں کو آزاد کرتے ہیں ۔ صلہٴ رحمی کرتے ہیں ۔ اپنے پروردگار کے گھر کو آباد کرتے ہیں ۔ ا س کے گرد طواف کرتے ہیں اور ہم سر زمین ِ مکہ میں اللہ کے اہل ہیں ۔ لیکن محمد اپنے بزرگوں کے دین سے دست بر دار ہو گیا ہے ۔ اس نے اپنے رشتہ داروں سے قطع رحمی کی ہے ۔ ہم سے جدا اور قدیمی دین سے نکل گیا ہے اور محمد کا دین نیا اور نوخیز ہے ۔ اس پر کعب نے کہا : خدا کی قسم تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے ۔ اس وقت مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور ان باتوں کا جواب دیاگیا۔ سازشی لوگ پہلی آیت اس شان نزول کو پیش نظر رکھتے ہوئے جس کا ذکر ابھی ابھی کیا گیا ہے ۔ یہودیوں کی ایک ناپسند یدہ صفت کی تصویر کشی کرتی ہے کہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے ہر گروہ کے ساتھ سازشیں کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ انہوں نے بت پرستوں کو خوش کرنے کے لئے بتوں کے سامنے سجدہ بھی کرلیا اور جو کچھ انہوں نے عظمت اسلام اور صفات پیغمبر دیکھی اور پڑھی تھیں انہیں نظر انداز کر دیا۔ یہاں تک کہ بت پرستوں کو خوش کرنے کے لئے ان کے بے ہودہ اور برائیوں سے معمور مذہب کو اسلام سے بہتر قرار دیا باوجودیکہ وہ اہل کتاب تھے اور بت پرستوں کی نسبت اسلام سے ان کے مشترک مسائل کہیں زیادہ تھے ۔ اسی لئے آیت بطور تعجب بیان کرتی ہے : کیا تونے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو کتاب ِ خدا کا کچھ حصہ رکھنے کے باوجود بتوں کے سامنے سجدہ کرتے ہیں اور باغیوں اور سر کشوں کے ساتھ اظہار ایمان کرتے ہیں ۔ ( الم ترا الیٰ الذین اوتوا نصیباًمن الکتاب یوٴمنون بالجبت و الطاغوت)۔ اس پر بھی قناعت نہیں کی بلکہ انہوں نے کافروں سے کہا کہ تمہاراراستہ مسلمانوں کی نسبت ہدایت سے زیادہ قریب ہے ( ویقولون للذین کفروا ھوٴلاء اھدیٰ من الذین اٰمنوا سبیلاً)