وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا
Do not give the feeble-minded your property, which Allah has assigned you to manage: provide for them out of it and clothe them, and speak to them honourable words.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:5
[Pooya/Ali Commentary 4:5] Before handing over the property to an orphan, when he or she attains the age of majority, it must be positively ascertained that the orphan is not immature, because property, as a means of support and sustenance, is a thing to be valued, and not to be spent away wastefully or to be foolishly squandered; otherwise it should be managed by a guardian. The property of a ward should be managed in a profitable way by investing it in trade or industry so that from its profit the ward or wards may be properly maintained, without consuming the capital. "Speaking to them (treating them) with kindness" could only be prescribed by a religion which has been completed and perfected by a kind and merciful Lord.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:5-6
سفیہ کسے کہتے ہیں
راغب نے مفردات میں کہا ہے کہ سفہ ( بر وزن تہہ ) اصل میں ایک طرح کی کم وزنی اور بدن کا ہلکا ہونا ہے جس میں یہ حالت ہو کہ چلتے وقت اعتدال کو بر قرار نہ رکا جا سکے اسی لئے اس افسار ۱ کو سفیہ کہتے ہیں جو نا موزوں ہوا اور ہمیشہ ہلتی جلتی رہتی رہے ۔ بعد ازاں یہ لفظ اسی مناسبت سے ان افراد کے لئے استعمال ہونے لگا جو سوجھ بوجھ نہ رکھتے ہوںچاہے ان کا ہلکا پن امور مادی میں ہو یا امور معنوی میں۔ لیکن واضح ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں سفاہت کا تعلق خصوصیت سے مالی امور میں کافی سوجھ بوجھ نہ ہونے سے ہے ۔ اور یہاں سفیہ سے مراد وہ شخص ہے جو اموال کی سر پرستی اپنے ذمہ نہ لے سکے اور مال و دولت کے لین دین میں اپنے فائدے کو نہ سمجھ سکے ۔ اصطلاح میں کہتے ہیں کلاہ سرش برود ( یعنی لوگ اس کا سر مونڈ لیں ) اس مفہوم کی شاہد اکلی آیت ہے جس میں ارشاد ہوتا ہے : فان انستم منھم رشدا فادفعوا الیھم اموالھم ۔ اگر انہیں سمجھدار پاوٴ تو ان کے اموال انکے حوالے کر دو۔ اس بنا پر اگر چہ زیر نظر آیت یتیموں کے بارے میں بحث کرتی ہے لیکن اس کا ایک عمومی مفہوم تمام لوگوں کے لئے ہے اور وہ یہ کہ انسان کو کسی حالت میں اور کسی صورت میں وہ مال جو اس کی سر پرستی میں ہو یا کسی سے اس سے وابستہ ہو نا فہم اور نا سمجھ افراد کے سپرد نہیں کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں امول عمومی ( اموال حکومت اسلامی ) میں بھی کوئی امتیاز نہیں ۔ اس مفہوم کا شاہد لفظ ”سفیہ “ کا وسیع مفہوم بھی ہے اور اس کے علاوہ وہ روایات بھی ہیں جو ہادیان اسلام سے اس سلسلے میں منقول ہیں ۔ مثلاً امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں ہے ۔ ایک شخص ابراہیم ابن عبدالحمید کہتا ہے کہ میں نے امام سے ایک آیت ”ولا توٴتو السفھاء اموالکم “ کی تفسر پوچھی تو آپ (ع) نے فرمایا : شراب خور سفیہ ہیں اپنے اموال ان کے سپرد نہ کرو ۔ 2 ایک اور روایت میں بھی شرابی کو مال امور میں امین بنانے کی مما نعت کی گئی ہے ۔ خلاصہ یہ کہ بارہا روایت میں شرابی کو سفیہ قرار دیا گیا گیا ہے اور یہ تعبیر شاید اس بناء پر ہے کہ شرابی اپنا مادی سرمایہ بھی ہاتھ سے دے بیٹھتا ہے اور معنوی بھی ۔ اس سے بڑھ کر بے وقوفی اور کیا ہوگی کہ انسان پیسے بھی دے اور اس کے ساتھ اپنی ہوش بھی دے دے اور دیوانگی خرید لے ، اپنے بدن کے مختلف قویٰ بھی اس کام میں لگا دے اور بہت سے اجتماعی نقصانات بھی کرے ۔ ایک اور روایت میں ان سب لوگوں کو جو کسی لحاظ سے بھی بھروسے کے قابل نہ ہوں سفیہ کہا گیا ہے اور ( شخصی اور عمومی ) اموال ان کے سپرد کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ یونس بن یعقوب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیة ” ولا توٴتوا السفھاء اموالکم “کی تفسیر پوچھی تو آپ نے ارشاد فرمایا : من لا تثق بہ۔ سفیہ وہ شخص ہے جو قابل اعتماد نہ ہو ۔3 یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اگر آیت یتیموں کے بارے میں ہے تو ” اموالکم “ ( تمہارے اموال ) کیوں فرمایا ہے ۔ --” اموالھم “ ( ان کے اموال ) کیوں نہیں فرمایا ۔ ممکن ہے اس تعبیر کا مقصد اس اجتماعی اور اقتصادی مسئلے کو بیان کرنا ہو کہ اسلام انسانی معاشرے کے تمام افراد کو ایک سمجھتا ہے ۔ اس بناء پر کہ ایک شخص کی بہتری اور بھلائی دوسروں کے نفع سے جدا نہیں ہو سکتی ۔ اسی طرح ایک شخص کا نقصان پورے معاشرے کا نقصان ہے ۔ اسی وجہ اس خیال کو پیش نظر رکھتے ہوئے ضمیر غائب کی بجائے” ضمیر مخاطب “ استعمال کی گئی ہے یعنی حقیقت میں ان اموال کا تعلق صرف یتیموں سے نہیں بلکہ تمہارے ساتھ بھی ہے ۔ اگر انہیں کوئی نقصان پہنچے گا تو وہ کسی نہ کسی صورت میں تمہاری طرف لوٹے گا ۔ اس لئے اس کے مال کی پوری طرح نگرانی کرنی چاہیے ۔ اس سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ جو کوتاہ نظر لوگ کمزور اور بز دل افراد کو مذہبی اور تبلیغی عہدوں کے لئے ان کی مدد کے بہانے از راہ ہمدردی چنتے ہیں ، ان کا یہ ایک سرا سر غلط اور مجنونانہ فعل ہے۔ التی جعل اللہ لکم قیاماً اس جملے میں قرآن نے مال وثرت کے لئے ایک عجیب و غریب تعبیر بیان فرمائی ہے ، تمہاری زندگی اور سوسائٹی کا قیام سرمایہ پر منحصر ہے اس کے بغیر تم آزادی سے اپنے پاوٴں پر کھڑے نہیں ہو سکتے ۔ اسے سفیہ اور فضول خرچ لوگوںکے سپرد نہ کرو ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام اقتصادی اور مالی اہمیت کا قائل نہیں ہے ۔ اس کے بر عکس موجودہ انجیل 4 میں ہے کہ مالدار آدمی جنت میں نہیں جا سکے گا ۔ اسلام کہتا ہے کہ جو قوم فقیر و نادار ہو وہ کبھی اپنی کمر سیدھی نہیں کر سکتی ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ عیسائی اپنی غلط تعلیمات کے باوجود دنیا میں اوج کمال پر پہنچے ہوئے ہیں اور ہم ان اعلیٰ اسلامی تعلیمات کے باوجود ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ اصل میں انہوں نے خرافات چھوڑ دی ہیں ۔ اس لئے وہ کہیں سے کہیں پہنچ گئے ہیں اور کیوں کہ ہم نے ان اعلیٰ و ارفع تعلیمات سے دوری اختیار کر لی ہے اس لئے مارے مارے پھرتے ہیں ۔ وَ ارْزُقُوہُمْ فیہا وَ اکْسُوہُمْ وَ قُولُوا لَہُمْ قَوْلاً مَعْرُوفاً ۔ آیت کے آخر میں یتیموں کے بارے میں دو اہم حکم دئے گئے ہیں : ۱۔ ان کی خوراک اور پوشاک انہی کے مال سے مہیا کرو تا کہ وہ عزت و آبرو کے ساتھ پروان چڑھیں اور بالغ ہوں ۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں لفظ ” فیھا“ ( ان کے مال میں ) آیا ہے ” منھا “ ( ان کے مال سے ) نہیں آیا ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ یتیموں کی گزر اوقات ان کے مال اور سرمائے کے نفع سے پوری کرو کیونکہ اگر یہ کہا جاتا کہ ان کے اخراجات ان کے سرمائے سے پورے کرو تو اس کا مفہوم یہ ہوتا کہ اصل سرمائے سے آہستہ آہستہ اخراجات پورے کئے جائیں اور یہ فطری امر ہے کہ جب وہ سن بلوغ کو پہنچیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے سر مائے کا زیادہ تر حصہ ہاتھوں سے کھو بیٹھے ہوں ۔ لیکن قرآن الفاط کی تبدیلی سے سرپرستوںکو یہ نصیحت کرتا ہے کہ وہ یتیموں کے مال کے نفع اور آمدنی سے ان کی ضروریات زندگی پورا کرنے کی کوشش کریں تاکہ ان کا اصل سرمایا محفوظ رہے ۔ ۲۔ دوسرے یہ کہ آیت کہتی ہے کہ یتیموں کے ساتھ شائستگی سے گفتگو کرو ۔ یعنی دل کو خوش کرنے والی اچھی اچھی باتوں سے ان کی نفسیاتی کمی کو دور کرو اور ان کو نصیحت کرتے رہو تا کہ وہ سن بلوغ تک پہنچتے پہنچتے اچھے خاصے سمجھدار ہو جائیں اسی طرح یتیموں کی تشکیل سیرت اور تعمیر کردار بھی سرپرستوں کی ذمہ داری ہے ۔ وَ ابْتَلُوا الْیَتامی حَتَّی إِذا بَلَغُوا النِّکاحَ ۔ یہاں یتیموں اور ان کے مال کے بارے میں ایک اور حکن دیتے ہوئے فرماتا ہے : یتیموں کی آزمائش کرو ، انہیں تجربے میں ڈالو یہاں تک کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ جائیں تو اس وقت اگر ان میں معاملہ فہمی اور مال کی حفاظت کی سوجھ بوجھ پاوٴ تو ان کا مال انہیں واپس کر دو ۔ ۱۔ افسار اس رسی کو کہتے ہیں جو گھوڑے یا گدھے کے سر اور گردن پر باندھی جائے ( مترجم ) ۔ 2 ۔ تفسیر برہان جلد اول زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔ 3۔ تفسیر برہان جلد اول زیر بحث آیت کے ذیل میں ، تفسیر نور الثقلین بھی دیکھ سکتے ہیں۔ 4 ۔ انجیل متی باب ۱۹ آیة ۲۳
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:5-6
مردوں کے لئے اس میں سے جو کچھ ان کے والدین
۷ ۔ لِلرِّجالِ نَصیبٌ مِمَّا تَرَکَ الْوالِدانِ وَ الْاٴَقْرَبُونَ وَ لِلنِّساء ِ نَصیبٌ مِمَّا تَرَکَ الْوالِدانِ وَ الْاٴَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اٴَوْ کَثُرَ نَصیباً مَفْرُوضا ۔ ترجمہ ۷ ۔ مردوں کے لئے اس میں سے جو کچھ ان کے والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں حصہ ہے اور عورتوں کے لئے بھی جو کچھ ان کے والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں حصہ ہے۔ چاہے وہ مال کم ہو یا زیادہ یہ حصہ مقرر اور لازمی ہے ۔ شان نزول زمانہ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ وہ ( مشرک ) صرف مردوں کو وارث سمجھتے تھے ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جو شخص مسلح ہو کرلڑنے اور اپنی زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے کبھی بھی ڈاکہ ڈالنے کی طاقت نہیں رکھتا اسے ترکہ نہیں مل سکتا۔ اسی وجہ سے وہ عورتوں اور بچوں کو میراث سے محروم کر دیتے تھے اور میت کا مال بہت دور کے مردوں میں بانٹ دیتے تھے ۔ یہاں تک کہ ایک انصاری جس کا نام اوس بن ثابت تھا فوت ہو گیا اور اپنے بعد چھوٹی چھوٹی بچیاں اور بچے چھوڑ گیا ۔ اس کے چچا زاد بھائی جن جے نام خالد اور ارفطہ تھے وہ آئے ۔ انہوں نے اس کا مال آپس میں بانٹ لیا اور اسکی بیوی اور چھوٹے چھوٹے یتیم بچوں کو کچھ نہ دیا تو اس کی بیوی نے حضرت رسول اکرم کی خدامت میں شکایت کی ۔ اس وقت تک اس سلسلے میںاسلام میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا ۔ اس موقع پر مذکورہ بالا آیت کا نزول ہوا ۔ چنانچہ حضرت رسول اکرم نے ان دونوںکو بلایا کہ وہ اس مال میں بالکل چھینا جھپٹی نہ کریں اور اسے پہلے طبقے کے پس ماندگان یعنی اولاد اور اس کی بیوی کے سپرد کر دیں ۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان اس کی تقسیم کا طریقہ آیات آئندہ میں واضح ہوا
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:5-6
چند اہم نکات
۱۔ لفظ حتیٰ سے معلوم ہوتاہے کہ سن رشد تک پہنچنے سے پہلے یتیموں کی لگا تار آزمائش ہونی چاہیے یہاں تک کہ وہ بلوغت کی منزل میں داخل ہو جائیں اور عقلی طور پر مکمل طریقے سے اپنے مال کی دیکھ بھال کر سکیں ۔ ضمنی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش سے مراد یتیموں کی تدریجی تربیت ہے ۔ یعنی انہیں آزاد نہ چھوڑ دیں یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں اور اس کے بعد مال ان کے حوالے کر دےں ۔ بلکہ بلوغت سے پہلے پہلے انہیں مستقل زندگی گزارنے کے لئے عملی تربیت دیں ۔ باقی رہا یہ کہ یتیموں کی آزمائش کس طرح کی جائے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ کچھ مال ان کو دے دیا جائے تا کہ وہ اس سے تجارت کریں ۔ لیکن ان کے اعمال کی نگرانی اس خوبی سے کی جائے کہ ان کے کام میں کوئی خلل واقع نہ ہو ۔ جب یہ معلوم ہو جائے کہ وہ یہ کام بخیر و خوبی انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور لین دین میں دھوکا نہیں کھاتے تو ان کے اموال انہیں دے دئے جائیں یا لگا تار تعلیم و تربیت کے ذریعے ان کی اس طرح پر ورش کی جائے کہ وہ آئندہ زندگی کی باگ دوڑ سنبھال لیں ۔ ۲۔ ”اذا بلغوا النکاح “ میں اس طرف اشارہ ہے کہ جب وہ زندگی کی اس حد میں قدم رکھیں کہ ازدوج کی قدرت رکھتے ہوں اور ظاہر ہے کہ جو بیاہ کی اہلیت رکھتا ہے ، گھریلو ذمہ داریوں کو بہتر طور پر انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور ایسا شخص سرمائے کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ بنا بریں ازدوجی زندگی مستقل اقتصادی زندگی کے ساتھ ساتھ شروع ہوتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یتیموں کی ثروت و دولت انہیں واپس کر دی جائے تا کہ جب وہ جسمانی طور پر بالغ ہو جائیں اور انہیں مال کی بہت زیادہ ضرورت ہو تو اس کے ساتھ ان کی ساچ میں بھی پختگی آ جائے جس سے وہ اپنے مال کی بخوبی حفاظت کر سکیں ۔ ۳۔ ”انستم منھم رشداً “ یہ اس طرف اشارہ ہے ۔کہ ان کا رشد ( سوجھ بوجھ ) پوری طرح واضح ہو ۔کیونکہ ” انستم “ مادہ ” ایناس “ سے ہے ۔ جس کے معنی مشاہدہ کرنے اور دکھنے کے ہیں اور یہ مادہ مادہٴ انسان سے ہے جس کے ایک معنی آنکھ کی پتلی کے بھی ہیں ۔ حقیقت میں مشاہدہ اور دیکھنے کے وقت انسان یعنی آنکھ کی پتلی سے مدد لی جاتی ہے ۔ اسی لئے مشاہدہ کرنے کو ایناس سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ وَ لا تَاٴْکُلُوہا إِسْرافاً وَ بِداراً اٴَنْ یَکْبَرُوا اس کے بعد پھر سر پرستوں کو تاکید کر رہا ہے کہ کسی طرح سے بھی یتیموں کے مال میں خیانت اور بے ایمانی نہ کریں اور ان کے ہوش سنبھلنے سے پہلے ان کا سر مایہ ضائع نہ کریں ۔ وَ مَنْ کانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ وَ مَنْ کانَ فَقیراً فَلْیَاٴْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ یعنی اگر یتیموں کے سر پرست صاحب حیثیت اور مال دار ہیں تو پھر کسی طریقہ سے بھی ان کے مال سے فائدہ نہ اٹھائیں اور اگر فقیر و نادار ہیں تو صرف ان ذمہ داریوں کے بدلے جو انہوں نے یتیم کے مال کی حفاظت کے لئے اٹھائے ہیں عدل و انصاف کرتے ہوئے ان کے مال میں سے اپنی کار کردگی کے مطابق لے سکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں کئی روایتیں بھی ہیں جنہوں نے اس آیت کے مفہوم کی وضاحت کی ہے ۔جیسا کہ ہم تحریر کر چکے ہیں۔ان میں سے ایک روایت حضرت امام جعفر صادق (ع) سے مروی ہے : فذٰلک رجل یحبس نفسہ عن المعیشة فلا باٴس ان یاٴکل بالمعروف اذا کان یصلح لھم فان کان المال قلیلا فلا یاٴکل منہ شیئاً۔ اس سے تو وہ شخص مراد ہے جس کو یتیم کے مال کی حفاظت اپنا مستقبل سنوارنے سے روک دے تو وہ اس صورت میں یتیم کے مال سے مناسب اندازے کے مطابق لے سکتا ہے اور یہ اسی صورت میں ہے جبکہ یتیم کے لئے اس میں فائدہ ہو اور اگر یتیم کا مال کم ہو ( اور اس کی سر پرستی میں زیادہ وقت بھی صرف نہ ہوتا ہو )تو اس حالت میں یتیم کے مال سے ذرہ بھر بھی نہ لے ۔ فاذا دفعتم الیھم اموالھم فاشہدوا علیھم۔ آخری حکم جو یتیموں کے سر پرستوں کے متعلق اس آیت میں بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جب تم ان کے مال ان کے سپرد کرنا چاہو تو گواہ بنا لو تا کہ اتہام ، نزع اور کسی قسم کے اعتراض کی گنجائش باقی نہ رہے۔ و کفیٰ باللہ حسیبا۔ البتہ یہ جان لو کہ حقیقی حساب کرنے والا تو خدا وند عالم ہی ہے اور ہر چیز سے زیادہ اہم یہ بات ہے کہ تمہارا حساب کتاب اس (خدا ) کے ہاں واضح ہو کیونکہ خدا وہ ہے کہ اگر تم سے کوئی ایسی بے ایمانی ہوئی ہوگی جو گواہوں کی نظروں سے بھی اوجھل ہو تو وہ اس کا حساب کر لے گا۔