يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا
O you who have faith! Do not approach prayer when you are intoxicated, [not] until you know what you are saying, nor [enter mosques] in the state of ritual impurity until you have washed yourselves, except while passing through. But if you are sick or on a journey, or any of you has come from the toilet, or you have touched women, and you cannot find water, then make your ablution on clean ground and wipe a part of your faces and your hands. Indeed Allah is all-excusing, all-forgiving.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:43
[Pooya/Ali Commentary 4:43] Sukara may mean the state of intoxication, or, according to Imam Muhammad bin Ali al-Baqir, slumber and sleepiness. Junuban means the state of seminal pollution- after the emission of semen, either in waking or in sleep. A total ablution or bathing is obligatory before praying the salat. Physical cleanliness, in Islam, is a sine qua non for moral and spiritual purification. If water is unobtainable (or injurious to health) tayammum should be performed. (For method of performing tayammum please refer to books on fiqh.)
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:43-50
Masking Divine Commands intentionally and misrepresenting otherwise renders one condemnable to Hel (vide 78 – 79 of Surah “The Cow”). Association does not merely consist of associating any creation with God but it also consists in associating any other command controverting Divine command and thus rendering object of God ineffective and is unforgivable and at the same time when intentionally done without penance is awful. Libel is a major sin when applied to humans and Libelling God means falsifying God, daring to face Him – by Jove – it is a sin unimaginable in its degree.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:43
چندفقہی احکام
مذکورہ بالا آیت سے چند اسلامی احکام معلوم ہوتے ہیں : ۱۔ نشے کی حالت میں نماز کی حرمت یعنی جو لوگ مست ہوں وہ نماز ادا نہیں کرسکتے اور ان کی نماز اس حالت میں باطل ہے ۔ اس کا فلسفہ بھی واضح ہے کیونکہ نماز بندے کی خدا کے ساتھ گفتگو اور راز و نیاز ہے ۔ اسے انتہائی توجہ اور ہوش مندی کے ساتھ انجام پانا چاہئیے اور مست لوگ اس منزل سے دور اور بے خبر ہوتے ہیں (یا ایھاالذین اٰمنوا لا تقربواالصلوٰة و انتم سکارٰی حتی تعلمو ا ماتقولون )۔ ممکن ہے اس موقع پر کچھ لوگ یہ سوال کریں کہ کیا آیت کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ مشروبات الکحل کا پینا صرف اس صورت میں منع ہے جب کہ اس کی مستی نماز کی حالت تک باقی رہے اور یہ اس مر کی دلیل ہے کہ باقی حالات میں ان کا پینا جائز ہے ۔ اس سوال کا مفصل جواب تو انشاء اللہ سورہٴ مائدہ کی اایت ۹۰ کی تفسیر میں آئے گا۔ البتہ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ اسلام اپنے بہت سے احکامات کو عملی صورت دینے میں تدریجی طریقہ اختیار کرتا ہے مثلاً یہی مشروبات الکحل کا مسئلہ چند مرحلوں میں آیات ہے ۔ پہلے اس کا پینا ناپسند یدہ اور ” رزقاًحسناً“ (نحل ۶۷) کے بر عکس قرار دیا گیا بعد ازیں نشہ کی حالت میں نماز سے منع فرمایا۔ اس کے نفع اور نقصان کا ایک دوسرے سے مقابلہ کیا ہے اور یہ ثابت کیا کہ اس کے نقصانات فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں ۔ پھرآخری مرحلے میں اس سے قطعی اور صریحی اور ممانعت کی گئی ہے (مائدہ ۹۰ )۔ اصولی طور پر ایک اجتماعی اور اخلاقی فسادکی جڑ کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے جس سے ماحول بری طرح سے متاثر ہو رہا ہو، اس سے بہتراورروشن تر اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ افراد کو آہستہ آہستہ اسے چھوڑ نے پر آمادہ کیا جائے اور پھر آخری حکم دیا جائے۔ ضمنی طور پر توجہ رہے کہ یہ آیت کسی طرح بھی شراب نوشی کے جواز پر دلالت نہیں کرتی بلکہ وہ صرف حالت نماز میں مستی کے بارے میں گفتگو کررہی ہے ۔ نماز کی حالت کے علاوہ کے لئے خاموش ہے ، یہاں تک کہ آخری حکم آجائے۔ اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ نماز پنجگانہ کے اوقات خصوصاً اس زمانے میں جب عام طور پر پانچ وقتوں میں پڑھی جاتی تھی کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا۔ اب نماز بحالت ہوش وحواس پڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان اوقات کے درمیانی فاصلے میں ایسی مشروبات سے جو نشہ آور ہیں کلی طور پر پرہیز کیا جائے۔ کیونکہ اکثر اوقات شراب کا نشہ نماز کے وقت تک باقی رہتا ہے اور ہوش و حواس بر قرار نہیں رہتے ۔ اس بنا پر زیر بحث آیت ایک طرح سے دائمی اور مسلسل تحریم کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے ۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ بہت سی رویتیں جو شیعہ سنی کتب میں آئی ہیں ان میں مندرجہ بالا آیت کے معنی نیند کی مستی کے لئے گئے ہیں ۔ یعنی جبت تک اچی طرح نہ جاگ جاؤ نماز شروع نہ کرو جب تک تمہیں معلوم نہ ہوسکے کہ کیا کہہ رہے ہو ۔ ۱ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس تفسیر کے لئے ” حتی تعلموا ماتقولون “کے مفہوم سے فائدہ اٹھایا گیا ہے ” سکاریٰ “ سے نہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہاں تک کہ تمہیں یہ معلوم ہ وکہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر اس حالت میں نماز پڑھنا جس میں انسان کے ہوش و حواس پورے طور پر بجا نہ ہوں ممنوع ہے ، چاہے وہ مستی کی حالت ہو یا اونگھ اور نیند کے خمار کے عالم میں ۔اس جملہ سے ضمنی طور پر یہ استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ بہتر ہے کہ انسان سستی اور کم توجہ کی حالت میں بھی نماز نہ پڑھے کیونکہ اس حالت میں کمزوری سی پائی جاتی ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت امام محمد باقر (ع) سے منقول ہے : جب تم کسالت اور سستی میں ہو یا اونگھ رہے ہو یا طبیعت بوجھل ہو تو ایسی حالت میں نماز نہ پڑھو کیونکہ خداوند عالم نے مومنین کو مستی کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے ۔ ۲ ۲۔ حالت ِ جنابت میں نماز کا باطل ہونا۔ جس کی طر ف” ولا جنباً “سے اشارہ کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد اس حکم سے استثنا کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے : الا عابری سبیل( مگر یہ کہ مسافرت میں ہوں )اگر مسافرت میں پانی نہ ملے تو تیمم سے نماز پڑھو (اس کی تفصیل آگے آئے گی) لیکن اخبار و روایات میں اس آیت کی ایک دوسری تفسیر بھی درج ہے ۳ اور وہ یہ ہے کہ آیت میں لفظ صلوٰة سے مراد نماز پڑھنے کی جگہ اور مسجد ہے ۔ یعنی حالت جنابت میں مساجد میں داخل نہ ہوں اس کے بعد ان لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو حالت جنابت میں مسجد سے گزریں ۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور اصحاب نبی کی ایک جماعت نے مسجد نبوی کے اطراف میں ایسے گھر بنائے ہوئے تھے جن کے دروازے مسجد نبوی میں کھلتے تھے اور انہیں اجازت دی گئی تھی کہ وہ حالت جنابت میں مسجد سے بلا توقف گزر جائیں ۔ لیکن یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس تفسیر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آیت میں لفظ صلوٰة دو معنی میں استعمال ہوا ہے کہ ایک نماز اور دوسرا ” محل نماز “ کیونکہ زیر نظر آیت میں دوحکم بیان ہو ئے ہیں ۔ ایک یہ کہ حالت نشہ میں نمازنہ پڑھی جائے اور دوسرا حالت جنابت میں مساجد میں داخل نہ ہوں۔ جیسا کہ اصول میں ہم کہہ چکے ہیں ایک لفظ کا دو معنی میں استعمال شک و شبہ سے بالاتر ہے لیکن خلاف ِ ظاہر ضرور ہے اور قرینہ کے بغیر جائز بھی نہیں ہے ۔ البتہ روایات مندرجہ بالا اس کا قرینہ قرار دی جاسکتی ہیں ۔ ۳۔ غسل کرچکنے کے بعد نماز پڑھنے یا مسجد سے گزرنے کے جواز کو ” حتی تغتسلوا “ سے بیان کیا گیا ہے ۔ ۴۔اس کے بعد جو پا نی نہ ملنے یا کسی اور وجہ سے معذور ہوں ان کے تیمم کاحکم بیان کیا گیا ہے : و ان کنتم مرضی او علیٰ سفر یعنی اگر بیمار ہو جاوٴ یا سفر میں ہو ۔ درحقیقت اس مختصر سی عبارت میں تشریع تیمم کے تمام مواقع جمع ہیں ۔ پہلا مقام وہ ہے کہاں پانی جسم کے لئے ضرررساں ہو اور دوسرا مقام وہ ہے جہاں انسان کو پانی نہ ملے یا اس کے استعمال کی طاقت نہ ہو۔ پھر فرمایا: اوجاء احدمنکم من الغائط اولا مستم النساء۔ اس جملے سے تیمم کی ضرورت کے اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو یا عورتوں سے ہم بستری کرو۔ فلم تجدو ا ماء ۔ اور تمہیں پانی نہ ملے ۔ فتیمموا صعیداً طیباً تو اس موقع پر پاکیزہ مٹی پر تیمم کرلو ۔ اس بعد تیمم کا طریقہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : فَامْسَحُوا بِوُجُوہِکُمْ وَ اٴَیْدیکُمْ ۔ اس کے بعد اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرو ۔ آیت کے آخر میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ مذکورہ حکم تمہارے لئے ایک قسم کی سہولت اور آسانی ہے ۔ چونکہ خدا معاف کرنے اور بخشنے والا ہے ۔ ۱- تفسیر نور الثقلین جلد اول صفحہ ۴۸۳ و تفسیر قرطبی جلد سول صفحہ ۱۷۷۱۔ ۲ تفسیر نور الثقلین جلد اول صفحہ ۴۸۳ اس مضمون کے مشابہ صحیح بخاری میں بھی ایک روایت ہے ۔ ۳۔ وسائل جلد اوم صفحہ ۴۸۶۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:43
تیمم کا فلسفہ
بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ زمین پر ہاتھ مارنے اورپھر انہیں پیشانی اور ہاتھوں کی پشت پر پھیر نے میں کیا فائدہ ہے خصوصاًجبکہ ہمیں معلوم ہے کہ بہت سے مٹی گندی بھی ہوتی ہے اور اس سے جراثیم بھی منتقل ہوتے ہیں ۔ اس اعتراض کے جواب کے لئے دو نکتوں کی طرف توجہ کرنا چاہئیے ۔ الف: اخلاقی فائدہ ۔ تیمم ایک عبادت ہے ۔ اور عبادت کی روح اس میں اپنے حقیقی معنی میں جلوہ گر ہوتی ہے ۔ کیونکہ انسان اپنی پیشانی کو جو بدن کا محترم ترین عضو ہے اس ہاتھ سے جو مٹی پر مارا گیا ہے مس کرتا ہے ۔ تاکہ اس کی بارگاہ میں اپنی عاجزی و انکساری ظاہر کرے ۔ یعنی میری پیشانی اور ہاتھ تیرے سامنے انتہائی خشوع و خضوع کے لئے حاضر ہیں ۔ اس کے بعد انسان نماز یا دو سری عبادتوں کو انتہائی خلوص اور عاجزی سے ادا کرنے کے لئے آمادہ ہوتا ہے جن میں وضو یا غسل کی شرط ہے ۔ اس طرح انکساری، عبودیت اور شکر گزراری کے جذبے کو پر وان چڑھانے کے لئے یہ عمل بہت موٴثر اور کار گر ہے ۔ ب:حفظانِ صحت کافائدہ : آج کی دنیا میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مٹی اپنے بہت سے جر ثوموںBACTERIAS))کی وجہ سے گندگیوں کو دور کرسکتی ہے ۔ یہ جر ثومے جن کاکام آلودہ کرنے والے مواد کا تجزیہ اور طرح طرح کی بد بو کو دور کرنا ہے زیادہ تر زمین کی سطح پر معمولی سی گہرائی میں جہاں سے ہوا اور سورج کی روشنی سے بخوبی فائدہ اٹھا سکیں بکثرت پائے جاتے ہیں ۔ اسی وجہ سے جب مردہ جانوریا لاشیں زمین میں دفن کردی جائیں اور اسی طرح سے دوسری چیزیں جو گندگی سے بھری ہوئی زمین پر پڑی ہوں ، تھوڑے ہی عرصے میں ان کے اجزابکھرے جاتے ہیں اور جرثوموں کی وجہ سے وہ بد بو کا مرکز نیست و نابود ہوکر رہ جاتاہے۔ یہ مسلم ہے کہ اگر زمین میں یہ خاصیت نہ ہوتی تو کرہٴ زمین مدت قلیل میں بد بو کے ڈھیروں میں بدل جاتا ۔ اصولی طور پر مٹی اینٹی بائیوٹک(ANTIBIOTIC)اثر رکھتی ہے جو بہترین جراثیم کش ہے ۔ اس بناپر نہ صرف یہ کہ پاکیزہ مٹی گندی چیز نہیں بلکہ وہ گندگی کو دور کرنے والی ہے اور اس لحاظ سے ہوسکتا ہے کہ وہ کسی حد تک پانی کی جانشینی کرے ۔ لیکن اس فرق کے ساتھ کہ پانی حلّال ہے یعنی وہ جراثیم کو حل کرکے بہالے جاتا ہے۔ لیکن مٹی انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے ۔ البتہ توجہ رہے کہ تیمم کی مٹی مکمل طور پر پاک و کیزہ ہو ۔ جیسا کہ قرآن اس کی عجیب و غریب تعبیر لفظ” طیباً“ سے کرتا ہے ۔ یہ بھی قابل توجہ ہے کہ اس ”سے وہ ” صعید “ مراد ہے جو مادہٴ ” صعود“ لیا گیا ہے ۔ یعنی بہتر ہے کہ اس کام کے لئے وہ مٹی چنی جائے جو سطح زمین پر سورج کی تپش اور اس کی روشنی کی زد میں ہو اور جراثیم مار نے والے جرثوموں سے بھری ہوئی ہو۔ اگر اس قسم کی مٹی پاک و پاکیزہ بھی ہو تو اس سے تیمم مندرجہ بالا اثرات رکھتا ہے ( سوہ ٴمائدہ کی آیت ۶ کی ذیل میں اسی سلسلہ میں مزید بحث کی جائے گی)۔ ۴۴۔اٴَ لَمْ تَرَ إِلَی الَّذینَ اٴُوتُوا نَصیباً مِنَ الْکِتابِ یَشْتَرُونَ الضَّلالَةَ وَ یُریدُونَ اٴَنْ تَضِلُّوا السَّبیلَ ۔ ۴۵۔وَ اللَّہُ اٴَعْلَمُ بِاٴَعْدائِکُمْ وَ کَفی بِاللَّہِ وَلِیًّا وَ کَفی بِاللَّہِ نَصیراً ۔ ترجمہ ۴۴۔ کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں ( خدا کی ) کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا تھا ( اس کی بجائے کہ وہ اس سے اپنی اور دوسروں کی ہدایت کریں ) اس سے اپنے لئے گمراہی خرید تے ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی گمراہ ہو جاوٴ۔ ۴۵۔ خدا تمہارے دشمنوں سے آگاہ ہے ( وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکتے ) کافی ہے کہ خدا تمہارا ولی ہو اور کافی ہے کہ وہ تمہارا ناصر و مدد گار ہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:43
چند اہم نکات
۱۔ فلم تجدوا ماء ً کاجملہ جو ااصطلاح کے مطابق فاء تفریع سے شروع ہوتا ہے اور ” علیٰ سفر“ سے مربوط ہے یعنی جس وقت تم سفر میں ہو تو ممکن ہے کہ پانی نہ مل سکے اور تمہیں تیمم کی ضرورت پڑے کیونکہ انسان جب بستی میں ہو پھر ایسا بہت کم اتفاق ہوتا ہے ۔ یہاں سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ جو بات صاحب المنار جیسے مفسرین نے لکھی ہے کہ ” فقط مسافرت ہی وضو کی بجائے تیمم کرنے کے لئے کافی ہے ۔” بالکل بے بنیاد ہے ۔ کیونکہ فاء تفریعی ” فلم تجدوا “ میں اس بات کو باطل کردیتا ہے ۔ اس لئے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ سفر میں کبھی پانی نہیں ملتا تو ایسے موقع پر تیمم کرلینا چاہئیے نہ یہ کہ حالت سفر ہی میں تیمم جائز ہے ۔ تعجب ہے کہ مولف مذکور اس سلسلے میں فقہا پر تنقید کرتا ہے جبکہ مذکورہ تنقید کا یہاں کوئی مقام نہیں ہے ۔ ۲۔ لفظ ”او“ اوجاء احد منکم من الغائط “ کے جملہ میں ”واوٴ“ کے معنی میں ہے کیونکہ بیماری یا مسافرت تیمم ک اسبب نہیں ہیں بلکہ ایسی حالت میں اگر اسباب وضو یا غسل حاصل نہ ہوں تو اس وقت تیمم واجب ہے ۔ ۳۔ اس آیت میں قرآن کے بیان کی نفاست و پاکیزگی دوسری بہت سی آیتوں کی طرح مکمل طور پر دکھائی دیتی ہے۔ کیونکہ جب چاہتا ہے کہ قضائے حاجت کے متعلق گفتگو کرے تو ایسی تعبیر کو چنتا ہے جو مطلب سمجھادے اور نامناسب لفظ بھی استعمال نہ ہونے پائے اس لئے فرماتا ہے : اوجاء احد منکم من الغائط اس کی وضاحت یوںہے کہ ” غائط “ بخلاف اس مفہوم کے جو آجکل اس سے سمجھا جاتا ہے ۔1 اصل میں ایسی نشیبی زمین کے لئے بولا جاتا ہے جو انسان کو لوگوں کی نگاہوں سے چھپالے اور اس زمانے میں بیابانوں میں پھر نے والے اور مسافر لوگ قضائے حاجت کے لئے ایسی جگہوں پر جاتے تھے تاکہ وہ لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہیں ۔ بنابرین اس جملے کے معنی یہ ہوں گے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص نشیبی جگہ سے آیاہو جو عام طور پر قضائے حاجت کی طرف کنایہ ہے اور قابل توجہ یہ بات ہے کہ تم کی بجائے تم میں سے کوئی لفظ استعمال ہوا ہے تاکہ بیان کی نفاست بڑھ جائے ( غور فرمائیے گا)۔ اسی طرح مباشرت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے تو ” اولامستم النساء“ یا عورتوں سے لمس کیا ہو کی تعبیر سے سمجھا یا گیا ہے اور لفظ ” لمس“ ہم بستری کے لئے عمدہ کنایہ ہے ۔ ۴۔ تیمم کی باقی خصوصات کے بارے میں منجملہ ” صعیداً طیباً“ انشاء اللہ سورہ ٴ مائدہ کی آیت ۶ کے ذیل میں تفصیل سے بحث کی جائے گی۔ 1-غائط کا لفظ آج کل عموماً انسانی فضلہ کے لئے بولا جاتا ہے ۔