يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا
O you who have faith! It is not lawful for you to inherit women forcibly, and do not press them to take away part of what you have given them, unless they commit a gross indecency. Consort with them in an honourable manner; and should you dislike them, maybe you dislike something while Allah invests it with an abundant good.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:19
[Pooya/Ali Commentary 4:19] In pagan Arabia, widows were divided amongst the heirs of a deceased as goods and cattle. The heir either married the widow to some one else and kept her dower, or refused to let her marry unless he was paid a handsome amount as a settlement, or else married her himself. Another manoeuvring was to harass the wives by imprisoning them in their houses in order that they might be forced to claim separation and thus to relinquish their dower or their inheritance. All such barbaric customs were swept aside by this verse. If the wife is at fault, then it is she who must relinquish her dower, whole or in part, to obtain separation. For details refer to fiqh. Understanding the biological handicaps of women, men should live with them with tolerance and justice, even if they do not love them, because men may not like a thing, yet Allah might have endued it with goodness. Love, justice, goodwill and fair treatment is the essence of the matrimonial code of Islam.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:19
شان نزول
تفسیر مجمع البیان میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ یہ آیت ایسے افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اپنی بیوی کو اپنے پاس تو رکھتے تھے مگر ان سے بیویوں کا سلوک نہیں کرتے تھے اور اس انتظار میں رہتے تھے کہ کب یہ مریں اور ان کے مال پر قبضہ کریں ۔ جیسا کہ ابن عباس کہتے ہیں : یہ آیت ایسے افراد کے بارے میں نازل ہوئی جن کی بیویوں کا حق مہر بہت زیادہ تھا اس کے باوجود کہ وہ ان سے ازدواجی تعلق رکھنا نہیں چاہتے تھے لیکن ان کا حق مہر زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کو طلاق بھی نہ دے سکتے تھے ۔ اس لئے وہ ان پر سختی کرتے تھے تا کہ وہ حق مہر بخش کر طلاق لے لیں ۔ مفسرین کے ایک گروہ نے اس آیت کی ایک اور شان نزول بھی نقل کی ہے جو اس آیت کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتی بلکہ آیت ۲۲ کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے ۔ جسے انشاء اللہ ہم اسی آیت کی ذیل میں بیان کریں گے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:19
حقوق نسواں کا دوبارہ دفاع
یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا یَحِلُّ لَکُمْ اٴَنْ تَرِثُوا النِّساء َ کَرْہاً ۔۔۔ ہم اس سورت کے شروع میں لکھ چکے ہیں کہ اس سورت کی آیتیں زمانہ جاہیت کے بہت سے برے کاموں کے خلاف بر سر پیکار ہیں ۔ چنانچہ زیر بحث آیت میں اس زمانے کی چند بری عادتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو خبر دار کیا گیا ہے کہ وہ ان سے دور رہیں : ۱۔ عورتوں کو ان کے مال کی لالچ میں قیدی نہ بناوٴ ۔ جیسا کہ شان نزول میں ہے کہ زمانہ جاہلیت میں مردوں کی ایک ظالمانہ روش یہ تھی کہ وہ ان دولت مند عورتوں سے جو بد صور ہوتی تھیں شادی کر لیتے ۔ پھر انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیتے تھے نہ انہیں طلاق دیتے اور نہ ہی ان سے بیوی کا سا برتاوٴ کرتے ، اس امید پر کہ انہیں موت آجائے تو ان کے مال پر قبضہ کر لیں ۔ آیہ ٴ مذکورہ بالا ۲۱۵ اعلان کرتی ہے کہ اے ایمان والو ! تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ عورتوں کی میراث انہیں تکلیف پہنچا کر زبر دستی لے لو ۔ اس طرح سے قرآن نے مذکورہ کام کے خلاف فیصلہ دیا ہے ۔ ۲ ۔ عورتوں سے مہر کا حق بخشوانے کے لئے سختیاں نہ کرو ۔ ان کی ایک بری عادت یہ تھی کہ وہ عورتوں کو طرح طرح سے ستاتے تھے تا کہ وہ حق مہر بخش دیں اور طلاق لے لیں ۔ خاص طور پر یہ معاملہ ایسے موقع پر ہوتا تھا جبکہ کسی عورت کا حق مہر زیادہ ہو ۔ اس آیت نے اس کا مفہوم منع فرمایا ہے ۔ وَ لا تَعْضُلُوہُنَّ لِتَذْہَبُوا بِبَعْضِ ما آتَیْتُمُوہُن۔ یعنی ان پر اس لئے سختی نہ کرو کہ اس طریقہ سے جو حصہ تم نے انہیں دیا ہے اسے اپنی ملک بنا سکو ۔ لیکن اس کا ایک استثنائی حکم بھی ہے جس کی طرف ”إِلاَّ اٴَنْ یَاٴْتینَ بِفاحِشَةٍ مُبَیِّنَةٍ “ کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ اگر وہ برے اور شمناک کام کریں تو پھر شوہروں کو کہ حق حاصل ہے کہ ان پر سختی کریں تا کہ وہ اپنا حق مہر تمہارے لئے حلال کر کے طلاق لے لیں ۔ در حقیقت یہ ایک قسم کی شزا ہے جو بری عورتوں سے ان کے کرتوت کے بدلے تاوان لینے کی طرح ہے ۔ کیا آیت مذکورہ میں ” فاحشة مبینة “ ( واضح برائی ) سے مراد برے کام ہیں جو عفت و پاکدامنی کے منافع ہیں یا اور کسی قسم کے سخت نا گوار اعمال ہیں ۔ مفسرین کے درمیان اس سلسلے میں ایک طولانی بحث ہے لیکن اس حدیث میں جو حضرت امام محمد باقر علیہ اسلام سے منقول ہے اس کی تشریح ہو چکی ہے کہ یہ عورت کی ہر طرح کی سخت مخالفت ، نا فرمانی اور برے سلوک پر مشتمل ہے ۔۱ البتہ یہاں پر ہر چھوٹی بڑی مخالفت مراد نہیں ہے کیونکہ لفظ فاحشہ میں اہمیت اور اس کا خلاف معمول ہونا مخفی ہے ۔ لفظ ” مبینہ “ بھی اس کی تاکید کرتا ہے ۔ ۳ ۔ ان کے ساتھ شائستہ اور مناسب طریقہ کے ساتھ زندگی بسر کرو ” و عاشروھن بالمعروف “ فرما کر عوتوں کے بارے میں شائستہ معاشرت اور امناسب انسانی سلوک کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے بعد مزید کہا گیا ہے : فَإِنْ کَرِہْتُمُوہُنَّ فَعَسی اٴَنْ تَکْرَہُوا شَیْئاً وَ یَجْعَلَ اللَّہُ فیہِ خَیْراً کَثیراً۔ یعنی ۔ یہاں تک کہ اگر تم بعض وجوہات کی بنا پر اپنی بیویوں سے مکمل طور پر خوش نہیں ہو اور انہیں پسند نہیں کرتے ہو اور وہ تمہاری نظر میں کئی باتوں میں اچھی نہیں ہیں تو فوراً ان سے علیحدگی کا پختہ ارادہ یا ان سے برا سلوک نہ کرو ۔ بلکہ جہاں تک ہو سکے ان سے اچھا سلوک کرو ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ تمہاری رائے کا دار و مدار شک و شبہ پر ہو اور جسے تن پسند نہیں کرتے خدا نے اسی میں بہت زیادہ خیرو برکت اور نفع رکھا ہو ۔ اس بان پر جب تک پانی سر سے اونچا نہ ہو جائے یہی مناسب ہے کہ حسن معارف اور خوش گفتاری کو ہاتھ سے نہ جانے دو ۔ کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے بلا وجہ اور بلا دلیل خوہ مخوہ کے بغض و حسد میں مبتلاء ہو جاتے ہیں اور ان حالات میں ان کے فیصلے ٹھیک نہیں ہوتے ۔ یہاں تک کہ اچھائیاں ان کی نظر میں برائیاں اور برائیاں ان کی نگاہ میں اچھائیاں بن جاتی ہیں لیکن وقت گزرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ سلوک کرنے سے آہستہ آہستہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے ۔ اس لئے ضمنا ً اس امر اک خیال رکھنا چایئے کہ اس آیت میں ” خبیرا کثیرا ً “ کی تعبیر سے ان میاں بیوی کو جو ایک دوسرے کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں ایک خوش خبری دی گئی ہے جو وسیع مفہوم رکھتی ہے ۔ جس کے کئی ایک مصداق ہیں جن میں سے ایک واضح مصداق نیک ، صالح ِ لائق اور عزت دار اولاد بھی ہے ۔ ۲۰۔ وَ إِنْ اٴَرَدْتُمُ اسْتِبْدالَ زَوْجٍ مَکانَ زَوْجٍ وَ آتَیْتُمْ إِحْداہُنَّ قِنْطاراً فَلا تَاٴْخُذُوا مِنْہُ شَیْئاً اٴَ تَاٴْخُذُونَہُ بُہْتاناً وَ إِثْماً مُبیناً۔ ۲۱۔ وَ کَیْفَ تَاٴْخُذُونَہُ وَ قَدْ اٴَفْضی بَعْضُکُمْ إِلی بَعْضٍ وَ اٴَخَذْنَ مِنْکُمْ میثاقاً غَلیظاً۔ ترجمہ ۲۰ ۔ اگر تمہارا یہ ارادہ ہو کہ اپنی بیوی کی جگہ دوسری بیوی کا انتخاب کرو اور تم اسے ( حق مہر کے طور پر ) بہت زیادہ مال دے چکے ہو تو اس میں سے کوئی چیز بھی واپس نہ لو ۔ کیا تم عورتون سے مہر واپس لینے کے لئے تہمت اور کھلے گناہ کا سہارا لیتے ہو ۔ ۲۱ ۔ اور تم کس طرح اسے واپس لے سکتے ہو جبکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلق اور پورا پورا میل ملاپ رکھتے ہو ۔ ( چھوڑنے کے باوجود ) وہ تم سے ( شادی کے وقت ) مضبوط وعدہ لے چکی ہیں ۔ ۱ ۔تفسیر نور الثقلین جلد ا صفحہ ۲۵۷۔