يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَآمِنُوا خَيْرًا لَّكُمْ وَإِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا
O mankind! The Apostle has certainly brought you the truth from your Lord. So have faith! That is better for you. And if you are faithless, [you should know that] to Allah indeed belongs whatever is in the heavens and the earth, and Allah is all-knowing, all-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:170
[Pooya/Ali Commentary 4:170] (see commentary for verse 167)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:170
تفسیر
گذشتہ آیات میں بے ایمان افراد اوراہل ایمان کے بارے میں متعد مباحث گزرچکے ہیں ۔ ان آیات میں ایک اور گروہ کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے بدترین قسم کا کفر انتخا ب کررکھا ہے ۔ انھوں نے اپنی گمرا ہی پر ہی اکتفا کیا بلکہ دوسروں کوبھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اوپر ظلم وستم روا سمجھتے ہیں اور دوسروں پر بھی کیونکر نہ وہ خود راہِ ہدایت پر چلتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی راہ ِ ہدایت پر نہ چلیں لہذا پہلی آیت میں فرمایا گیا : جو لوگ کافر ہوگئے ہیں اور لوگوں کے راہِ خدا میں قدم اٹھانے میں حائل ہوتے ہیں وہ بہت دور کی گمراہی کا شکار ہیں ( إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللهِ قَدْ ضَلُّوا ضَلاَلًا بَعِیدًا ) یہ لوگ جادئہ ِحق سے اس لیے دورترین ہیں ، کیونکہ یہ ضلالت وگمراہی کے مبلّغ ہیں اور بہت بعید نظر آتا ہے کہ ایسے لوگ اس راہ سے دست بردار ہوجائیں کہ جس کی طرف وہ خود دعوت دیتے ہیں ۔ انھوں نے اپنے کفر کے ساتھ ہٹ دھرمی اور عناد کو بھی ملا لیا ہے اور بے راہ روی کی طرف قدم اٹھایا ہے کہ جو راہِ حق سے بہت دور ہے ۔ اگلی آیت میں مزید کہتا ہے : جو لوگ کافر ہوگئے ہیں اور انھوں نے ظلم کیا ہے ( انھوں نے حق پر ظلم کیا ہے کہ جو چیز اس کے شایان ِ شان تھی اسے انجام نہیں دیا اور اپنے اوپر بھی ظلم کیا ہے کہ خود کوسعادت سے محروم کردیا ہے اور گمراہی میں جاپڑے ہیں ۔ نیزدوسروں پر بھی ظلم کیا ہے انھیں راہِ حق سے روکا ہے ) ایسے ا فراد کو پروردگار کی مغفر ت میسّر نہیں آئے گی اور خدا انھیں راہِ جہنم کے علاوہ کسی اور راستے کی راہنمائی نہیں کرے گا ( إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَظَلَمُوا لَمْ یَکُنْ اللهُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلاَلِیَہْدِیَہُمْ طَرِیقًا إِلاَّ طَرِیقَ جَہَنَّمَ )اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے (خا لدین فیھا ابدا ً)انھیں جاننا چاہیے کہ خدا تہد ید اور دھمکی عمل پذیر ہو کے رہے گی کیونکہ خدا کے لیے یہ کام آسان ہے اور وہ اس پر قدرت رکھتا ہے (وکان ذلک علی اللہ یسیراً ) جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مند رجہ بالا آیات ایسے کفاراور ان کی سزا کے بارے میں خاص تاکید کرتی ہیں ایک طرف ان کی گمرا ہی کو ضلال بعید کہاگیا ہے اور دوسری طرف ” لم یکن اللہ “ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں بخش دینا مقامِ خدا وندی کے لائق نہیں ہے اور تیسری طرف خلو د اور ” ابد ا“ سے اس پر مزید تاکید کی گئی ہے یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ وہ خود گمراہ ہونے کے علاوہ دوسروں کوگمراہ کرنے میں کوشاں رہتے تھے اور اس پر ان کی جوابدہی بہت عظیم ہو گئی تھی ۔ ۱۷۰۔ یَااٴَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَائَکُمْ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِنْ رَبِّکُمْ فَآمِنُوا خَیْرًا لَکُمْ وَإِنْ تَکْ ُوا فَإِنَّ لِلَّہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَکَانَ اللهُ عَلِیمًا حَکِیمًا ترجمہ ۱۷۰۔ اے لوگو ! (جس ) پیغمبر (کے انتظار میں تم تھے وہ ) پروردگار کی طرف سے حق کے (پروگرام کے ساتھ ) تمھارے پاس آگیا ہے اس پر ایمان لے آؤ کہ اس میں تمھارا فائدہ ہے اور اگر کافر ہوجاؤ (تو خدا کا کوئی نقصان نہیں کیو نکہ ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ خدا کے لیے ہے اور اللہ دانا اور حکیم ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:170
اے اہل کتاب : اپنے دین میں غلو (اور زیادہ روی ) نہ کرو
گذشتہ آیات میں غیر مومن افراد کا انجام بیان کیاگیا ہے ۔ اب اس آیت میں ایمان کی طرف دعوت دی گئی اور اس کے نتیجے کا ذکر کیاگیا ہے اور مختلف تعبیرات جو انسان میں اشتیاق پیدا کریں اس میں سب موجود ہیں تمام لوگوںکو اس بلند مقصد کی تر غیب دی گئی ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے : اے لوگو ! وہی پیغمبر کہ جس کے تم منتظر تھے اورجس کے بارے میں گذشتہ آسمانی کتب میں نشاندہی کی جاچکی ہے وہ دین حق لے کر تمھاری طرف آچکا ہے ( یَااٴَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَائَکُمْ الرَّسُولُ ۱ بِالْحَقِّ )۲ اس کے بعد فرمایا : اگر پیغمبر اس ذات کی طرف سے آیا ہے جس نے تمھاری پرورش وتربیت اپنے ذمہ لے رکھی ہے (من ربکمہ ) ۔ پھر مزید فرمایا : اگر ایمان لے آؤ تو تمہارے فائدے میں ہے اس سے تم دوسرے کی خدمت نہیں کروگے بلکہ یہ خود تمھاری اپنی خدمت ہوگی (فا منوا خیرا ً لکم ) اور آخرمیں فرمایا : یہ خیال نہ کرو کہ اگر تم نے راہِ کفر اختیار کی تو اس سے خدا کو کوئی نقصان ہوگا ، ایسا نہیں ہے کیونکہ خدا ان تمام چیزوں کا مالک ہے جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں ( وَإِنْ تَکْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ )علا وہ از یں چونکہ خدا عالم اور حکیم ہے اس نے جو احکام تمھیں دیئے ہیں ، اور جو پروگرام تر تیب دیئے ہیں سب میں حکمت اور مصلحتیں پو شدہ ہیں اور تمھارے فائدے میں ہیں (وکان اللہ علیماً حکیما ً)لہٰذا اگر اس نے انبیا ء اورپروگرام بھیجے ہیں تو یہ اس لیے نہیں کہ اسے ضرورت تھی بلکہ اس کے علم وحکمت کا تقاضا ہے ۔ اس لیے ان تمام پہلوؤ ں کی طرف توجہ رکھتے ہوئے کیا یہ مناسب ہے کہ تم راہِ ایمان کو چھوڑ کر راہِ کفر پر گامز ن ہو جا ؤ - ۱۷۱۔یَااٴَہْلَ الْکِتَابِ لاَتَغْلُوا فِی دِینِکُمْ وَلاَتَقُولُوا عَلَی اللهِ إِلاَّ الْحَقَّ إِنَّمَا الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُولُ اللهِ وَکَلِمَتُہُ اٴَلْقَاہَا إِلَی مَرْیَمَ وَرُوحٌ مِنْہُ فَآمِنُوا بِاللهِ وَرُسُلِہِ وَلاَتَقُولُوا ثَلاَثَةٌ انتَہُوا خَیْرًا لَکُمْ إِنَّمَا اللهُ إِلَہٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَہُ اٴَنْ یَکُونَ لَہُ وَلَدٌ لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ وَکَفَی بِاللهِ وَکِیلًا۔ ترجمہ ۱۷۱۔ اے اہل کتاب : اپنے دین میں غلو (اور زیادہ روی ) نہ کرو اور حق کے سوا خدا کے بارے میں کچھ نہ کہو ۔ مسیح عیسٰی بن مریم صرف خدا کے فرستادہ اور اس کا کلمہ (اور مخلوق ) ہیں کہ جنھیں اس نے مریم کی طرف القا کیا اور وہ اس کی طرف سے (شائتہ ) روح تھے ۔ اس لیے خدا اور اس کے پیغمبر وں پر ایمان لے آؤ اور نہ یہ کہو کہ وہ منّزہ ہے کہ اس کاکوئی بیٹا ہو (بلکہ ) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اس کا ہے اور ان کی تد بیر و سرپر ستی کے لیے خدا کا کافی ہے ۔ ۱۔ظا ہراً ”الرسول“ کی الف لام عہد کی اور اس پیغمبر کی طرف اشارہ ہے جس کے وہ انتظا ر میں تھے نہ صرف یہود ونصاریٰ بلکہ مشرکین بھی کیو نکہ وہ اہل کتاب سے اس ضمن میں کچھ مطالب سن چکے تھے اور وہ بھی منتظر تھے ۔ ۲۔طرق اہل بیت سے منقو ل بعض روایات میں حق کی تفسیر ” ولایت حضرت علی “ سے کی گئی ہے اور جیسا کہ بارہا کہا جا چکا ہے ایسی تفسیر میں واضح مصدا ق کو بیا ن کیا جاتا ہے ، ورنہ آیت اس معنی میں منحصر نہیں ہوتی ۔