يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَى أَكْبَرَ مِن ذَلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَلِكَ وَآتَيْنَا مُوسَى سُلْطَانًا مُّبِينًا
The People of the Book ask you to bring down for them a Book from the sky. Certainly they asked Moses for [something] greater than that, for they said, ‘Show us Allah visibly,’ whereat a thunderbolt seized them for their wrongdoing. Then they took up the Calf [for worship], after all the manifest proofs that had come to them. Yet We excused that, and We gave Moses a manifest authority.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:153
[Pooya/Ali Commentary 4:153] Refer to the commentary of al-Baqarah: 51 and 55.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:153-162
Jesus had predicted his presecution and asked his companions who were read to play his part (1) and accept crucification for which paradise of his was vouche-saved. On enterance of the enemy to seize Jesus, they could not detect who was Jesus, as all were simultaneously transformed into his likness. But the companion who promised acknowledged he was Jesus and was cruicified. (2) When Jesus will come down from Heaven and Kill Dajjal, all Jews and Cristians will believe in him and differences in religion will vanish and nothing but Islam will prevail and Jesus will follow Mehdi (12th Divine Light) and will live for 40 years and will then die. During this period there will be complete safety, so much so, goats and wild animals will live together without encroaching on the rights of one another.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:153-154
یہودیوں کی بہانہ سازی
آیات میں پہلے اہل کتاب (یہودیوں)کے تقاضہ کا تذکرہ ہے ۔فرمایا اہل کتاب تم سے تقاضہ کرتے ہیں کہ یکجا ایک کتاب آسمان سے ان پر نازل کرو ( یَسْاٴَلُکَ اٴَہْلُ الْکِتَابِ اٴَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْہِمْ کِتَابًا مِنْ السَّمَاءِ)۔ اس میں شک نہیں کہ ان کی اس فرمایش میں حسن نیت شامل نہ تھی کیونکہ کتب آسمانی کہ نزول کامقصد ارشادہدایت اور تربیت ہے بعضاوقات یہ ہد ف آسمانی کتب کے یکجا نازل ہونے سے حاصل ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کی تدریجی تنزیل اس مقصد کے لیے زیادہ مدگار ہوتی ہے لہذا انھیں چاہیے کہ وہ پیغمبر سے دلیل کا مطالبہ کریں اور اعلی وارفع تعلیم کی فرمایش کریں نہ یہ کہ آسمانی کتب کے نزول کی کیفیت معین کریں لہٰذا اس کے بعد خدانے ان کے عدم حسن نیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور اپنے پیغمبر کی تسلی کے لیے یہودیوں کی سابقہ ہٹ دھرمی ، عناد اور بہانہ جوئی کا تذکرہ کیاہے جووہ اپنے عظیم پیغمبر حضرت موسی بن عمران سے کرتے رہے تھے فرمایا :انھوں نے موسی سے اس بڑی اور زیادہ عجیب چیزوں کی خواہش کی تھی اور کہا تھاکہ ہمیں ظاہر بظاہر خدادکھا دے(فقد سالو ا موسی اکبر من ذالک فقالو ا ارنااللہ جھرة)۔ یہ عجیب و غریب اور غیرمنطقی فرمائش تھی جس سے بت پرستو ں کا عقیدہ ظاہر ہوتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ خدا کو جسم میں اور محدود دیکھنے کا تقاضہ کر ہے تھے اور بلاشبہ اس کی وجہ ہٹ دھرمی اورعناد تھی ان کے اسی ظلم کے باعث صاعقئہ آسمانی نے انھیں آلیا (فاخذتھم الصعقة بظلمھم)۔اس کے بعد ان کے ایک اور برے عمل کی طرف اشارہ کیا گیاہے اور وہ ہے -”گوسالہ پرستی “۔ فرمایا :انھوں نے ان معجزات اور واضح دلائل کو دیکھنے اور جاننے کے باجود بچھڑے کو اپنا معبو د قرار دے دیا (ثم اتخذو االمجل من بعد ما جاء تھم البینات)۔ ان تمام چیزوں کے باوجود اس لیے کہ صحیح راستے کی طرف لوٹ آئیں اور ہٹ دھرمی اور عناد کی سواری سے اتر پڑیں ارشاد فرمایا :پھر بھی ہم نے انھیں بخش دیا اور موسی کو برتری عطا کی اور وا ضح حکومت بخشی ۔نیز سامری اور بچھڑا پرستو ں کی بساط الٹ دی (فعفونا عن ذالک واتینا موسی سلطا نا مبینا)۔ وہ پھر بھی خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے اور مرکب غرور سے نیچے نہ اترے اسی لیے ہم نے کوہ طور کو ان کے سروں پر متحرک کردیااوراسی حالت میںان سے پیمان لیا اور ان سے کہا کہ اپنے گناہوں کی توبہ کے طور پر بیت المقدس کے دروازے سے خضوع خشوع کے ساتھ داخل ہوجاؤ نیز انھیں تاکید کی کہ ہفتے کے روز کسب کار سے دست کش ہوجاؤ اور تجاوز کی راہ نہ لو نیز اس دن دریائی مچھلیو ں کاشکار نہ کرو کہ جو اس دن حرام ہے اور ان تمام چیزوں کے بارے میں ہم نے ان سے سخت عہدوپیمان لیا “ لیکن انھوں نے ان میں سے کسی بھی تاکید ی عہد کو پورا نہیں کیا- ۱ (ورفعنافوقھم الطور بمیثا قھم وقلنا لھم ادخلو االبا ب سجدا وقلنا لھم لا تعد وا فی السبت واخذا نا منھ میثاقا غلیظا)۔ تو کیا یہ لوگ اس تاریک ماضی کے ہوتے ہوئے تم سے اپنے اس تقاضے میں سچے ہو سکتے ہیں ؟ اگر یہ سچ کہتے ہیں تو پھر اپنی آسمانی کتب میں آخری پیغمبر کی صریح نشانیوں کے بارے میں عمل کیوں نہیں کرتے اور انھو ں نے تمھارے بارے میں ان کھلی نشانیوں سے چشم پو شی کیوں اختیار کر رکھی ہے دواہم نکات ۱۔اگر یہ کہا جائے کہ یہ اعمال تو پہلے یہودیوں سے مربوط تھے پیغمبر اسلام کے معاصر یہودیوں سے کیا واسط ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کے اعمال پر معترض نہیں تھے بلکہ موافق نظر یئے کا اظہار کرتے تھے اس لیے سب ایک ہی صفت میں قرار پاتے ہیں ۔ ۲۔مندر جہ بالا آیات میں جو یہ آیا ہے یہودی مدعی تھے کہ تورات یکبارگی نازل ہوئی ہے تو یہ کوئی مسلم بات نہیں ہے شاید اس توہم کا سبب وہ دس فرامین جنھیں دس وصیتیں کہا جاتا ہے جو کہ اکٹھی تختیوں کی صورت میں حضرت موسی پر نازل ہوئے تھے جبکہ تورات کے دیگر احکام کے یکجا نازل ہونے کے بارے میں کوئی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے ۔ ۱۵۵۔فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِیثَاقَہُمْ وَکُفْرِہِمْ بِآیَاتِ اللهِ وَقَتْلِہِمْ الْاٴَنْبِیَاءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَقَوْلِہِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَیْہَا بِکُفْرِہِمْ فَلاَیُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَلِیلًا ۔ ۱۵۶۔ وَبِکُفْرِہِمْ وَقَوْلِہِمْ عَلَی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیمًا ۔ ۱۵۷۔وَقَوْلِہِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیحَ عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُولَ اللهِ وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ وَإِنَّ الَّذِینَ اخْتَلَفُوا فِیہِ لَفِی شَکٍّ مِنْہُ مَا لَہُمْ بِہِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوہُ یَقِینًا ۔ ۱۵۸۔بَلْ رَفَعَہُ اللهُ إِلَیْہِ وَکَانَ اللهُ عَزِیزًا حَکِیمًا ۔ تر جمہ ۱۵۵۔وہ اس بنا پر کہ انھوںنے اپنا عہد تو ڑدیا ، آایات الہی کاانکار ، انبیاء کا قتل کیا اور وہ (بطور تمسخر )کہتے تھے کہ ہمارے دلوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے (اور ہم انبیا ء کی باتو ں کو سمجھ نہیں پاتے )،( لہٰذا وہ بارگاہ الہی سے دھتکار ے گئے) جی ہاں !خدا نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے لہٰذا تھو ڑے سے لوگوں کے علاوہ باقی ایمان نہیں لائیں گے (اور یہ وہ ہیں جو راہ حق پر چلتے ہیں اور ہٹ دھرمی نہیں کرتے ) ۱۵۶۔نیز ان کے کفر کے باعث اور اس عظیم تہمت کی وجہ سے جو انھوں نے مریم پر لگائی ہے ۔ ۱۵۷۔ اور ان کا کہنا کہ ہم نے عیسی بن مریم پیغمبر خدا کو قتل کردیا حالانکہ نہ انھوں نے اسے قتل کیا ہے اور نہ سولی پر لٹکایا ہے مگر یہ کہ معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا اور جنھوں نے اس کے قتل کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ اس کے متعلق شک میں ہیں اور اس کا علم نہیں رکھتے اورر صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں اور انھوں نے یقینا اسے قتل نہیں کیا ۔ ۱۵۸۔ بلکہ خدا اسے اپنی طرف لے گیا اور خداتوانا و حکیم ہے ۔ ۱۔کوہ طور کے یہودیوں کے سروں پر مسلط ہونے کے بارے میں اور یہ کہ ایسا زلزلے کے زیر اثر تھا یا کسی اور عامل کی وجہ سے اور اسی طرح یہودیوں کے سابقہ برے اعمال کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد اول میں بحث کی جاچکی ہے ۔(صفحہ ۲۳۴ اودو ترجمہ دیکھیے)