إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا
Those who disbelieve in Allah and His apostles and seek to separate Allah from His apostles, and say, ‘We believe in some and disbelieve in some’ and seek to take a way in between
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:150
[Pooya/Ali Commentary 4:150] Refer to the commentary of al-Baqarah: 136 and 177. Aqa Mahdi Puya says: The Holy Prophet was sent to mankind for all times. To say that his authority came to an end after his departure and thereafter the book of Allah is sufficient for us, is a declaration of revolt against Allah and His messenger.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:150-152
انبیا ء میں فرق نہیں ہے
آیات میں کفار اور مومنین کی حالت بیان کی گئی ہے اور ان کے انجام کاتذکرہ ہے یہ آیات گذشتہ کی تکمیل کرتی ہیں جن میں منافقین کا ذکر تھا۔ پہلے تو ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو انبیاء الٰہی میںفرق روارکھتے ہیں ۔بعض کوحق پر سمجھتے ہیں اور بعض کو باطل پر ۔ارشاد ہوتاہے :وہ لوگ جو خدااور اس کے پیغمبر وں کے کافر اور منکر ہیں اور چاہتے ہیں کہ خدااور اس کے پیغمبروں میں فرق روا رکھیں اور کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض پر تو ایمان رکھتے ہیں اگر چہ بعض کو قبو ل نہیں کرتے ۔اپنے گمان میں وہ چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان کی کو ئی راہ نکالیں یہی حقیقی کا فرہیں ( إ ِنَّ الَّذِینَ یَکْفُرُونَ بِاللهِ وَرُسُلِہِ وَیُرِیدُونَ اٴَنْ یُفَرِّقُوا بَیْنَ اللهِ وَرُسُلِہِ وَیَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَیُرِیدُونَ اٴَن یَتَّخِذُوا بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلًا اٴُوْلَئِکَ ہُمْ الْکَافِرُونَ حَقاًّ) یہ جملہ در اصل یہودیوں اور عیسائیوں کی حالت بیان کرہا ہے یہودی حضرت عیسی کو نہیں مانتے اور یہودی اور عیسائی دونوں حضر ت پیغمبراسلام کو نہیں مانتے حالانکہ ان کی اپنی کتابوں کے مطابق ان پیغمبروں کی نبوت ثابت شدہ ہے ۔ حقائق کو قبول کرنے میں اس تبیض کا سر چشمہ ہواہوس اور جاہلانہ تعصبات ہیں اور بعض اوقات بے وجہ کاحسد اور تنگ نظری سد راہ ہوتی ہے یہ طرز عمل در اصل خدا پر اور انبیاء پر ایمان نہ لانے کی نشاندہی ہے کیونکہ ایمان یہ نہیں ہے کہ جو کھچہ اپنی طبیعت اور میلان کے مطابق ہو اسے تسلیم کرلیا جائے اور جو مزاج اور ہوس کے خلاف ہو اسے رد کردیا جائے یہ تو ایک طرح کی نفس پر ستی ہے نہ کہ خدا پرستی ۔حقیقی ایمان تو یہ ہے کہ انسان حقیقت کو قبول کرلے چاہے اس کے میلان طبع کے خلاف ہی کیوں نہ ہو لہذا قرآن ایسے افراد کو مندرجہ بالاآیت میں کافر قرار دیتاہے اگر چہ وہ خدا پر اور بعض انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں ( إ ِنَّ الَّذِینَ یَکْفُرُونَ بِاللهِ وَرُسُلِہ - اس لیے جن چیزوں پر وہ اظہار ایمان کرتے ہیں اسے بھی بے وقعت قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس ایمان کا سر چشمہ جستجو ئے حق نہیں ہے ۔ آخر میں انھیںسرزنش کرتے ہوئے کہتا ہے : ہم نے کفار کے لیے ذلت آمیز اور رسواکن عذاب تیار کررکھا ہے (وَاٴَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ عَذَابًا مُہِینًا) اس میں عذاب کو ---مہین (ذلت آمیز )قرار دیا گیا ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ انھوں نے انبیا ء میں تبعیض اور فرق روا رکھ کے در اصل ان میں سے بعض کی تو ہین کی ہے لہٰذاان کی سزاان کے عمل کی مناسبت سے ہونا چاہیے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:150-152
گناہ اور سزامیں تناسب
سزا بعض اوقات ،عذاب الیم ، کی شکل میں ہوتی ہے مثلا کوڑے لگانا اور بدنی تکلیف پہنچانا ، بعض اوقات رسواکن ہوتی ہے ، مثلاکسی کے لباس پر کیچڑ ڈالنا وغیرہ ۔ کبھی شور وشین سے مملوعذاب عظیم کی صورت میں ،مثلا کچھ لوگوں کی موجودگی میں سزادینااور بعض ا وقات سزا کا اثر کاوجود انسانی پرگہرا ہوتا ہے اور ایک مدت تک باقی رہتا ہے جسے عذاب شدید کہتے ہیں ۔مثلا طویل المد ت قید بامشقت اور دیگر سزائیں ۔ واضح ہے کہ عذاب کی ان میں سے کوئی بھی نوعیت گناہ کی نوعیت کی مناسبت سے ہے اسی لیے بہت سی آیات قرآنی میں ظالموں کی سزا ،عذاب الیم ، قرار دی گئی ہے کیونکہ بندگان خداپر درناک ظلم کرنے سے یہی سزامناسبت رکھتی ہے جن کا گناہ توہین آمیز ہے ان کی سزا بھی ذلت آمیز ہے۔اس طرح جو لوگ بڑے اور شدید گناہ کرتے ہیں اس کی سزا بھی اسی قسم کی ہوتی ہے ۔ مندرجہ بالامثا لوں کا مقصد مطلب کو ذہن نشین کرانا ہے ورنہ اس جہان کی سزاؤں کاقیاس اس جہان کی سزاؤں پر نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے بعد مومنین کی کیفیت اور انجام کاذکر ہے ،فرمایا :وہ لوگ جو خدااور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور اس طرح کے سامنے اپنے جذبئہ تسلیم اور خلوص کا اظہار کرتے ہیں اور وہ ہر طرح کے نا رواتعصب کے مقابلے میں اپنے قیام کاثبوت دیتے ہیں خدا بہت جلد انھیں جزا دے گا(وَالَّذِینَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِہِ وَلَمْ یُفَرِّقُوا بَیْنَ اٴَحَدٍ مِنْہُمْ اٴُوْلَئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیہِمْ اٴُجُورَہُمْ وَ)البتہ پیغمبروں پر ایمان لانا اور عملاانھیں تسلیم کرلینا اس بات کے منافی نہیں کہ ان میں سے بعض سے افضل مانا جائے کیونکہ ان کی ماموریت اور ذمہ داریوں کے فرق کے لحاظ سے انکے مراتب میں فرق یقینی ہے ۔مقصد یہاں یہ ہے کہ انبیاء پر ایمان لانے اور انھیں تسلیم کرنے میں ہم کوئی فرق نہ کریں ۔آیت کے آخر میں اس مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ اگر یہ مومنین پہلے ایسے تعصبات اور تفریق کے قائل رہے ہیں ، یا دوسرے گناہوں کے مرتکب رہے ہیں تو اب اگر وہ اپنے ایمان کو خالص کرکے خداکی طرف لوٹ آئیں تو خدا انھیں بخش دے گا اورخداہمیشہ بخشنے والا اور مہربان ہے (وَکَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِیمًا)۔ یہ بات قابل غور ہے کہ زیر نظر آیات میں انبیاء میں تبعیض و تفریق کے قائل لوگوں کو حقیقی کفار قرار دیاگیا ہے لیکن جو سب پر ایمان لائے ہیں انھیں حقیقی مومن نہیں کہا گیا بلکہ صرف مومن کہا گیا ہے شاید فرق اس بنا پر ہو کہ حقیقی مومن وہ ہیں جو ایمان کے علاوہ عمل کہ لحاظ سے بھی بالکل پاک اور صالح ہوں اس بات کی شاہد وہ آیات ہیں جو سورئہ انفال کی ابتداء میں آئی ہیں جن میں خدا پر ایمان لانے کے بعد مومنین کی صفات میں ایک مثبت اور زندہ سلسلہ اعمال بیان کیا گیا ہے اس میں اخلاقی اجتماعی اور ایما نی ر شد کے علاوہ نماز زکاةاور توکل بر خداکی صفات بھی شامل ہیں اور اس کے بعد فرماتا ہے : اٴُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً یہ ہیں پکے اور حقیقی مومن ۔ (انفال۔۔۔۔۔۴) ۱۵۳۔ یَسْاٴَلُکَ اٴَہْلُ الْکِتَابِ اٴَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْہِمْ کِتَابًا مِنْ السَّمَاءِ فَقَدْ سَاٴَلُوا مُوسَی اٴَکْبَرَ مِنْ ذَلِکَ فَقَالُوا اٴَرِنَا اللهَ جَہْرَةً فَاٴَخَذَتْہُمْ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِہِمْ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَتْہُمْ الْبَیِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذَلِکَ وَآتَیْنَا مُوسَی سُلْطَانًا مُبِینًا ۔ ۱۵۴۔ وَرَفَعْنَا فَوْقَہُمْ الطُّورَ بِمِیثَاقِہِمْ وَقُلْنَا لَہُمْ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَہُمْ لاَتَعْدُوا فِی السَّبْتِ وَاٴَخَذْنَا مِنْہُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا ترجمہ ۱۵۳۔ اہل کتاب تم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ایک ہی مرتبہ آسمان سے ایک کتاب ان پر نازل کردو حالانکہ یہ تو ایک بہانہ ہی ہے انہوںنے موسی سے اس بھی بہت بڑا سوال کیاتھااور کہاتھاکہ ہمیں ظاہر بظاہر خدا دکھادے اسی ظلم کی وجہ سے بجلی نے آ لیاتھا پھر ٓانہوں نے ان واضح دلائل کہ جو ان کے لیے آئے تھے( سامری کے ) گوسالہ کو خداکے طور پر )منتخب کرلیا فھر بھی ہم نے انھیں معاف کردیااور موسی کو ہم واضح برتری عطا کی ۔ ۱۵۴۔اور ہم نے کوہ طور ان کے اوپر غلبہ کیا اور اسی حالت میں ان سے احد پیمان لیا اور ان سے کہا کہ توبہ کے طور پر بیت المقدس کے دروازہ سے خضوع کے ساتھ آؤ نیز ہم نے ان سے کہا کہ ہفتے کہ روز تجاوز نہ کرو (اور کاروبار سے ہاتھ کھینچ لو) ان تمام باتوں کے بارے میں ہم نے ان سے محکم احدوپیمان لیا شان نزول تفسیر تبیان ،مجمع البیان اور روحالمعانی میں ان آیات کی شان نزول میں لکھا ہے کہ کچھ یہودی پیغمبر اسلام کی خدمت آئے اور کہنے لگے کہ اگر تم آللہ کہ پیغمبر ہو تو اپنی آسمانی کتاب ایک ہی دفعہ ہمارے سامنے پیش کرو جیسا کہ موسی تورات کو اکٹھا لے کر آئے تھے ۔