يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا
O mankind! Be wary of your Lord who created you from a single soul, and created its mate from it, and from the two of them scattered numerous men and women. Be wary of Allah, in whose Name you adjure one another and [of severing ties with] blood relations. Indeed Allah is watchful over you.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:1
[Pooya/Ali Commentary 4:1] By ya ayyuhun nas (O mankind), the entire mankind, irrespective of sex, rank, age, colour, race and nationality, has been addressed. They are the children of a common ancestor, Adam, created by Allah as the first basic self (nafs). Nafs means "the self" as well as "the whole of a thing with its essence". The first woman, Hawwa or Eve (see Genesis 2: 18, 21 to 26) was created from that single soul. All mankind descended from one original stock. The basic unity of mankind has been positively asserted in this verse. Therefore, all the peoples of the world are one family, a united brotherhood. They should safeguard themselves with full awareness of divine laws before their Rabb (Lord) whose love for His creatures manifests in the laws He has made for their own good. They must be ever vigilant in their duties towards Him and obey His laws. Then alone they will be able to live in peace and harmony in this world as a single community of Muslims (those who submit themselves to the will of their Lord). Arham (plural of rihm) implies kinship. Kinship in Islam is regarded as one of the most important social institutions. One of the reasons for making the love of the Ahl ul Bayt (a self-generative good which encompasses all human activities) obligatory, as a recompense of prophethood, is to make man reflect the characteristics of his cherished ideals in practical life (Shura: 23). Much has been said and practised by the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt to lay emphasis on the love of near relatives, brotherhood of mankind and peace and harmony in human society.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:1-10
Self sufficient within the body to show providential fear is the moth of safety, it is implanted in us as a preventative measure of Evil.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:1
طبقاتی تقسیم اور گروہ بندی کے خلاف جہاد
طبقاتی تقسیم اور گروہ بندی کے خلاف جہاد یا اٴَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَة اس سورہ کی پہلی آیت میں تمام انسانی افراد سے خطاب ہے کیونکہ یہ سورہ ایسے مسائل پر مشتمل ہے جن کے تمام لوگ اپنی زندگی میں محتاج ہیں ۔ اس کے بعد تقویٰ اور پرہیز گاری کی دعوت ہے جو کسی معاشرے کو صحیح وسالم اور صحت مند بنانے کے پروگراموں کی بنیاد ہے ۔ ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی ، میراث کی عادلانہ تقسیم ، یتیموں کی حمایت ، گھریلو حقوق کی حفاظت اور اسی طرح کے منصوبے ایسے ہیں جو تقویٰ اور پرہیزگاری کی بلندی کو نہیں چھو سکتے ۔ اسی لئے اس سورت کو جو ایسے تمام مسائل پر محیط ہے تقویٰ کی دعوت سے شروع کیا گیا ہے ۔ وہ خدا تعالیٰ جو انسان کے تمام اعمال کو دیکھنے والا اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا ہے اس سورہ کو تقویٰ کی دعوت کے ساتھ شروع کرتا ہے ۔ وہ خدا جو انسان کے تمام اعمال کا ناظر ہے تعارف کے طور پر انسان کی ایک ایسی صفت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی معاشرے کی وحدت و یگانگی کی جڑ ہے ۔ الَّذی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَة وہ خدا جس نے تمام انسانوں کو ایک انسان سے پیدا کیا ۔ اس بنا پر وہ خیالی اور وہمی امتیاز و افتخار جو ہر ایک جماعت نے اپنے لئے گھڑ رکھے ہیں مثلاً امتیازات نسلی ، لسانی ، علاقائی ، قبائلی اور اس قسم کے دوسرے امتیاز جو آج کل دنیا کی سوسائٹی میں ہزاروں خرابیوں کا سبب بنے ہوئے ہیں ، ایک اسلامی معاشرے میں نہیں پائے جانے چاہیئںکیونکہ ان سب کا سر چشمہ ایک ہی ہے ۔ یہ سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں اور ایک ہی وہر سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اس امر کو پیش نظر رکھا جائے کہ حضرت رسول اکرم کے زمانہ کا معاشرہ چونکہ سب کا سب قبائلی تھا تو اس بات کی اہمیت خوب ظاہر ہوجاتی ہے ۔ اس قسم کی تعبیرات قرآن حکیم کے دوسرے مقامات میں بھی ہیں جن کی طرف اپنے اپنے مقام پر اشارہ کیا جائے گا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ”نفس وحدہ“سے کون مراد ہے ؟ اس سے مراد ایک فرد شخص ہے یا ایک فرد نوعی یعنی ( مذکر کی جنس) ۔ اس میں شک نہیں کہ اس تعبیر کا ظاہری مفہوم تو واحد فرد کے بارے میں ہے اور یہ اس پہلے انسان کی طرف اشارہ ہے جسے قرآن آدم کے نام سے آج کے انسانوں کے باپ کے طور پر متعارف کراتا ہے ۔ بنی آدم (ع) کی تعبیر جو متعدد آیات قرآنی ممیں کی گئی ہے وہ بھی اسی طرف اشارہ ہے اور یہ احتمال کہاس سے مراد وحدت نوعی ہے بعید معلوم ہوتا ہے ۔ و خلق منھا زوجھا یہ جملہ بظاہر یہ بتاتا ہے کہ حضرت آدم کی زوجہ محترمہ انہی سے پیدا ہوئی ہیں بعض مفسرین اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت آدم (ع) کی بیوی حوّا حضرت آدم کے بدن سے پیدا ہوئی ہیں ۔ کچھ معتبر روایتیں یہ بھی کہتی ہیں کہ حضرت حوّا آدم (ع) کی پسلیوں سے پیدا ہوئی ہیں اور اس پر آیت کو گواہ ٹھرایا گیا ہے ۔ (تورات کے سفر تکوین کی دوسری فصل بھی ان ہی معنوں کی وضاحت کرتی ہے ) لیکن قرآن کی دوسری آیات کی طرف توجہ کرنے سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں شک و شبہ دور ہو جاتا ہے اور معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا وند عالم نے حضرت آدم (ع) کی بیوی کو انہی کی جنس ( جنس بشر ) سے پیدا کیا۔ چنانچہ سورہٴ روم کی آیت ۲۱ میں ہے : ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا قدرت خدا کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہاری بیویاں تمہاری ہی جنس میں سے پیدا کی ہیں تاکہ تمہیں ان کی وجہ سے سکون حاصل ہو ۔ سورہٴ نحل کی آیت ۷۲ میں فرماتا ہے : واللّہ جعل لکم من انفسکم ازواجا خدا نے تمہاری بیویاں تمہاری جنس میں سے بنائی ہیں ۔ واضح ہو کہ ان دونوں آیتوں میں تمہاری بیویوں کو تم میں سے قرار دیا کے یہ معنی ہیں کہ انہیں جنس سے قرار دیا نہ کہ تمہارے اعضائے بدن میں سے ۔ اور اس روایت کے مطابق جو تفسیر عیاشی میں حضرت امام محمدباقر (ع) سے منقول ہے کہ حضرت حوّا کو حضرت آدم (ع) کی پسلیوں خلقت کو غلط قرار دیا گیا ہے ۔ نیز یہ وضاحت کی گئی ہے کہ حضرت حوا حضرت آدم(ع) کی بچی ہوئی مٹی سے پیدا ہوئی ہیں ۔ حضرت آدم (ع) کے بچوں کی شایاں کس طرح ہوئیں و بث منھما رجالا کثیرا ونساء یہ جملہ بتاتا ہے کہ حضرت آدم (ع) اور ان کی بیوی سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا ہوئیں ۔ اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم (ع) کے بیٹوں کی نسل کی بہتات حضرت آدم (ع) اور ان کی بیوی کے طریقہ سے ہی ظاہر ہوئی تھی اور اس مٰن کسی تیسرے وجود کا عمل دخل نہ تھا۔ اس گفتگو کا نتیجہ یہ ہوا کہ آدم(ع) کی اولاد (بھائی ،بہن) نے ایک دوسرے سے شادی کی ۔ کیونکہ اگر انہوں نے کسی اور نسل کی بیویوں سے شادی کی ہو تو لفظ” منھما “ان دونوں پر صادق نہیں آتا۔ یہ موضوع بہت سی حدیثوں میں بھی آیا ہے اور کوئی زیادہ تعجب خیز بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ اس استدلال کے مطابق جو بعض حدیثوں میں ائمہ اہل بیت (ع) سے مروی ہے یہ شادی بیاہ اس وقت مباح تھا۔ کیونکہ اس زمانہ میں بھائی بہن کی شادی کی حرمت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا ۔ واضح ہے کہ کسی کام کی ممانعت کا دارو مدار اسی بات پر ہے کہ خداکی طرف سے اس کا حکم آئے ۔یہ بھی ممکن ہے کہ مصلحت اور ضرورت کی وجہ سے ایک کام ایک زمانہ میں جائز ہو اور اس کے بعد حرام۔ مگر یہ بھی ہے کہ بعضدوسری حدیثوں میں اس مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے کہ حضرت آدم (ع) کے بیٹے بیٹیوں کی ایک دوسرے سے شادیاں نہیں ہوئیں اور جو لوگ ایسے شادی بیاہ کا اعتقاد رکھتے ہیں ان پر سخت تنقید کی گئی ہے ۔ اگر یہ بنا ہو کہ حدیثیں آپس میں ٹکراتی ہیں ۔ اس لئے جو حدیث قرآن کے مطابق ہو اسے درست سمجھا جائے تو پھر پہلی ہی بات کو ماننا پڑے گا ۔ کیونکہ ان حدیثوں کا مفہوم مندرجہ بالا آیت کے عین مطابق ہے ۔ یہاں ایک احتمال اور بھی ہے کہ یہ سوچا جائے کہ حضرت آدم(ع) کے بیٹوں نے اپنے سے پہلے بچے کھچے انسانوں میں شادیاں کی تھیں ۔ کیونکہ بعض روایات کے لحاظ سے حضرت آدم (ع) روئے زمین کے پہلے انسان نہیں تھے ۔ آج کا عملی مطالعہ بھی بتاتا ہے کہ نوع انسانی تقریبا ً چند ملین سال پہلے کرہٴ زمین پر بسر کرتی تھی جبکہ حضرت آدم (ع) کی تاریخ پیدائش سے لے کر اب تک کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ بنا بریں ہمیں یہ مان لینا چااہئے کہ حضرت آدم (ع) سے پہلے بھی دوسرے انسان زمین پر رہتے تھے جو ان کی پیدائش کے وقت ختم ہو رہے تھے تو اس امر میں کیا رکاوٹ ہے کہ حضرت آدم (ع) کے بیٹوں نے اپنے سے پہلے باقی رہنے والے لوگوں میں سے کسی ایک کے خاندان میںشادیا کی ہوں ۔ ۱ لیکن ہم تحریر کر چکے ہیں کہ یہ احتمال بھی آیہٴ مندرجہ بالا کی ظاہری صورت کے ساتھ کوئی خاص مناسبت نہیں رکھتا ۔یہ بہت بحث طلب معاملہ ہے ۔ جو تفسیری بحث کی گنجائش سے خارج ہے۔ وَ اتَّقُوا اللَّہَ الَّذی تَسائَلُونَ بِہِ وَ الْاٴَرْحامَ وہ اہمیت جو تقویٰ کو کسی صحیح معاشرے کی بنیاد رکھنے کے لئے حاصل ہے۔ وہ اس بات اک سبب بنی ہے کہ لوگوں کو دوبارہ پرہیزگاری اور تقویٰ کی طرف بلایا جائے ۔ البتہ یہاں پر ایک جملہ بڑھایا گیا ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : خدا سے ڈرو ، جو تمہاری نگاہ میں عظمت اور بزرگی کا مالک ہے اور جب تم کسی سے کوئی چیز مانگتے ہو تو اس کا نام لیتے ہو ۔ ۲ پھر کہتا ہے : والارحام یہ لفظ اللہ پر عطف ہے ۔ اسی لئے مشہور قراٴت میں مفتوح و منصوب پڑھا جاتا ہے ۔ اس وجہ سے اس کے معنی یہ ہوں گے : واتقواالارحام یعنی رشتہ داروں کی قطع رحمی سے ڈرو اور یہاں موضوع کا ذکر پہلے تو صلہ رحمی کی انتہائی اہمیت کا پتہ دیتا ہے کہ قرآن اس کا اس قدر قائل ہے کہ اس نے ارحام کا نام خدا ومد عالم کے نام نامی اور اسم گرامی کے ساتھ ساتھ لیا ہے ۔ دوسرے یہ کہ اس مطلب کی طرف اشارہ ہے جس کا آیت کے شروع میں ذکر ہوا ہے ۔ وہ یہ کہ تم سب کا باپ اور ماں ایک ہی ہیں ۔ در حقیقت سب آدم (ع) کی اولاد آپس میں ایک دوسرے کی رشتہ دار ہیں۔ یہ رشتہ اور ربط ضبط اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تم سب انسانوں کے ساتھ چاہے وہ کسی نسل اور قبیلہ سے تعلق رکھتے ہوں اپنے کنبہ کے افراد کی طرح محبت کرو ۔ انّ اللّہ کان علیکم رقیبا۔ رقیب اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو بلند جگہ سے حلات کا جائزہ لے ۔ اس کے بعد کسی چیز کے محافظ و نگہبان کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ کیونکہ نگہبانی کے لئے دیکھنا اور دیکھ بھال رکھنا ضروری ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ رقیب کی جگہ کی بلندی کی ظاہری نگاہ کے لحاظ سے ہو کہ وہ بلند مقام پر بیٹھا ہوا نگرانی کر رہا ہواور یہبھی ممکن ہے کہ معنوی لحاظ سے ہو ۔ مندرجہ بالا جملہ میں فرماتا ہے : خدا تمہارا رقیب ہے اور وہ تمہارے تمام اعمال اور نیتوں کو دیکھتا اور جانتا ہے ۔ اور ضمناً یہ مفہوم بھی ہے کہ حوادث میں وہی تمہارا نگہبان بھی ہے ۔ ” کان “ مندرجہ بالا جملہ میں یہ لفظ جو کہ فعل ماضی ہے ۔ ۱- اجمالی طور پر دوسرے یا تیسرے نطریہ کو ترجیح دینا چاہیے خصوصاً جبکہ روایات بھی موجود ہیں ۔ مزید بر آں بہن بھائی کی شادی کسی معاشرے میں اچھی نہیں سمجھی جاتی ۔یہاں تک کہ وہ معاشرے جو کسی دین کے پیرو بھی نہیں ہیں ۔ آیت بھی نص نہیں ظاہر ہی ہے ۔ ادھر موافقت اور مخالفت عامہ کا اصول بھی ہے ( مترجم) ۲ ۔تسا ئلون تسائل کے مادہ سے ہے ۔ جس مے معنی ایک دوسرے سے سوال کرنے کے ہیں۔تسائل باللہ۔ کے معنی یہ ہیں کہ لوگ جب ایک دوسرے سے کوئی چیز مانگیں تو ”اسئلک باللہ “ تجھے خدا کا واسطہ دیتا ہوں کہتے ہیں اور یہ ان کی نطروں میں خدا وند عالم کی عظمت کی نشانی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:1
یتیموں کے مال
۲۔وَ آتُوا الْیَتامی اٴَمْوالَہُمْ وَ لا تَتَبَدَّلُوا الْخَبیثَ بِالطَّیِّبِ وَ لا تَاٴْکُلُوا اٴَمْوالَہُمْ إِلی اٴَمْوالِکُمْ إِنَّہُ کانَ حُوباً کَبیراً ۔ ترجمہ یتیموں کے مال ( جب وہ بالغ ہو جائیں ) انہیں دے دو اور ( اپنے ) برے مال ( یتیموں کے ) اچھے مال سے تبدیل نہ کرو اور ان کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر یا تبدیل کر کے نہ کھاوٴ کیونکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔ شان نزول بنی غطفان قبیلہ کے ایک شخص کا بھائی بہت دولت مند تھا ۔ وہ دنیا سے چل بسا تو اس کے بھائی نے اپنے یتیم بھتیجوں کی سرپرستی کے نام اس کے مال میں تصرف کیا ۔ جس وقت اس کا بھتیجا بالغ ہو گیا تو اس نے اس یتیم کا حق دینے سے انکار کر دیا ۔ جب یہ مقدمہ حضرت رسول کریم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور اس غاصب نے آیت سننے کے بعد توبہ کر لی اور مال اس کے مالک کو واپس کرتے ہوئے کہا : اعوذ با للہ من الحوب الکبیر ۔ میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ کہیں بڑے گناہ میں آلودہ نہ ہو جاوٴں۔ تفسیر یتیموں کے مال میں خیانت حرام ہے ۔ ہر معاشرے میں نئے نئے حوادچ کی وجہ سے باپ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچے رہ جاتے ہیں ۔ البتہ برے معاشرے جو داخلی جنگ میں پھنسے رہتے ہیں ۔ جیسے زمانہ جاہلیت کا عرب معاشرہ تھا ان میں یتیم بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے ، جنہیں حکومت اسلامی اور ہر ایک مسلمان کی حمایت اور سر پرستی میں رہنا چاہیے ۔ آیت مذکورہ بالا میں یتیموں کے مال کے بارے میں تین اہم حکم دئے گئے ہیں ۔ ۱۔و اتواالیتامیٰ اموالھم۔ اس جملہ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب یتیم بالغ ہو جائیں تو ان کے مال ان کے سپرد کر دئے جائیں ۔ یعنی ان کے اموال میں تمہارا تصرف صرف امین ، ناظر اور وکیل کی حیثیت سے ہے نہ کہ مالک کے طور پر ۔ ۲۔ ولا تتبدلوا الخبیث بالطیب۔اورکبھی ان کے اعلیٰ اور پاکیزہ مال کو اپنے گھٹیا اور نا پاک مال سے تبدیل نہ کرو ۔ یہ حکم تو صل میں ظلم و ستم سے بچنے کے لئے ہے کیونکہ بعض اوقات یتیم کے سر پرست اس بہانے سے کہ مال کی تبدیلی یتیم کے فائدہ میں ہے یا اس میں کوئی فرق نہیں پڑرہا ہے تو صحیح ہو جائے گا یہ کہہ کر یتیموں کے اچھے اور خالص مال لے لیتے اور اپنے برے اور نا پسند یدہ مال کی جگہ رکھ دیتے تھے۔ ۳۔ولا تاکلوا اموالھم الیٰ اموالکم۔ اور ان کے مال اپنے مالوں کے ساتھ نہ کھاوٴ ۔ یعنی یتیموں کے مال کو اپنے مال کے ساتھ خلط ملط نہ کرو کہیں اس طریقہ سے مقصد سب کو اپنی ملک بنانا ہو یا یہ کہ اپنے برے مال کو ان کے اچھے مال میں نہ ملاوٴکہ جس کا نتیجہ یتیموں کے حق کی پائمالی ہو ۔ جملہ بالا میں لفظ ”الیٰ “ در اصل ”مع “ کے معنی میں ہے ۔ انہ کان حوبا کبیرا ۔ آیت کے آخر میں اس امر کی اہمیت ثابت کرنے کے لئے تاکیداً فرماتا ہے کہ یتیموں کے مال میں اس قسم کی ہیرا پھیری بہت بڑا گناہ ہے ۔ راغب کتاب مفردات میں کہتا ہے : در اصل ”الحوبة “ایسی ضرورت کے معنی میں ہے جو انسان کو گناہ کی طرف کھینچتی ہے ۔ چونکہ سر پرستوں کے ظلم و ستم یتیموں کے مال پر زیادہ تر ضرورت و احتیاج کی وجہ سے یا اس بہانے سے ہوتے ہیں ، اس لئے آیت مذکورہ میں لفظ ” اثم“ (گناہ) کی بجائے لفظ ”حوب “ استعمال کیا گیا ہے تا کہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو جائے ۔ قرآن کریم کی مختلف روایا ت کا مطالعی بتاتا ہے کہ اس ام ر کی بہت زیادہ اہمیت کا قائل ہے ۔ چنانچہ وہ یتیموں کے مال میں خیانت کرنے والو کو بڑی شدت کے ساتھ سزا کی دھمکیاں دیتا ہے ۔وہ قطعی ، واضح اور محکم عبارتوں کے ساتھ سرپرستوں کو یتیموں کے اموال کی کڑی دیکھ بھال کرنے کی دعوت دیتا ہے ۔ جس کی تفصیل چند آیتوں کے بعد اسی سورت میں اور سورہٴ انعام کی آیت ۱۵۲/ اور سورہٴ اسراء کی آیت ۳۴/ کے ذیل میں آئے گی ۔ ان آیتوں کے سخت لب و لہجہ نے مسلمانوں کے دلوں پر اتنا اثر کیا کہ وہ اس سے بھی ڈرنے لگے کہ اپنے اور یتیموں کے لئے مشترکہ کھانا پکائیں ۔اس وجہ سے ان کا کھانا اپنے اور اپنے بچوں سے الگ پکواتے تھے اور یہ امر دونوں کی تکلیف کا سبب بنتا تھا ۔ اس لئے سورہ بقرہ کی آیت ۲۲۰ میں انہیں یہ اجازت دی گئی ہے کہ اگر ان کا مقصد اپنے مال یا کھانے کے ساتھ یتیموں کے مال اور کھانے کو مخلوط کرنے سے خیر خواہی اور اصلاح ہو تو اس صورت میں کوئی ہرج نہیں ہے ۔ مزید توضیح کے لئے سورہٴ بقرہ کی اسی آیت کے ذیل میں تفسیر نمونہ کی دوسری جلد ملاحظہ فرمائیے۔