وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
Certainly it has been revealed to you and to those [who have been] before you: ‘If you ascribe a partner to Allah your works shall fail and you shall surely be among the losers.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 39:65
[Pooya/Ali Commentary 39:65] The gospel of unity, renewed in Islam with utmost emphasis and full force, has been the message from Allah since the arrival of Adam in this world. Aqa Mahdi Puya says: There is a general statement in this verse, addressed to people through the Holy Prophet. It implies that if the motivating drive behind any work done is not the service of Allah, it bears no fruit in the life of hereafter, because when any other than Allah is associated the main purpose of the deed is lost.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:65-67
2- کیامؤمنوں نے خدا کو پہچان لیا ہے
2- کیامؤمنوں نے خدا کو پہچان لیا ہے : ان آیات میں بیان ہوا ہے کہ مشرکین نے خدا کو اس کے شایان شان طریقہ سے نہیں پہچانا کیونکہ اگر وہ پہچان لیتے تو اور پھر شرک کی راہ پر نہ چلتے ، اس کا معنوم یہ بنتا ہے کہ مومنین موحد نے اسے حقیقی طور پر پہچان لیابے۔ تواب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ بات پیغمبراکرمؐ کی اس مشہور حدیث کے ساتھ کیسے ہم آہنگ ہے جس میں آپؐ فرماتے ہیں: ماعرفناك حق معرفتك، وما عبدناك حق عبادتك ہم نے تجھے ایسا نہیں پہچانا جیساکہ تیری معرفت کا حق ہے،اور ہم نے تیری ایسے عبادت نہیں کی جیسے کہ تیری عبادت کا حق ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ معرفت کے کئی مرحلے اور درجے ہوتے ہیں ان میں سے ایک مرحلہ ایسا ہے جو معرفت سے بالا ہے اور وہ خدا کی ذات کی کنہ اورحقیقت معلوم کرنا ہے اور یہ بات کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے اور اس کی ذات پاک کے سوا کوئی بھی اس کی ذات پاک کی کنہ اورحقیقت سے باخبر نہیں ہے۔ پیغمبراکرمؐ کی مذکورہ مشہور حدیث اسی معنی کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن کچھ مراحل ایسے ہیں جواس سے بہت نیچے ہیں جو انسانوں کی استعدادی ہیں اور وہ اس کی صفات کی اجمالی شناخت اوراس افعال کی تفصیلی شناخت کا مرحلہ ہے اوریہ مرحلہ انسان کے لیےممکن ہے اور اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا حکم اسی مرحلہ سے متعلق ہے۔ زیربحث آیت بھی اسی مرحلے کے بارے میں گفتگو کررہی ہے جس میں مشرکین عاجز رہ جاتے ہیں ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:65-67
1- مسئلہ حبط اعمال
چند نکات 1- مسئلہ حبط اعمال : کیا واقعًا یہ بات ممکن ہے کہ انسان کے نیک اور اچھے اعمال اس کے برے اعمال کی بنا پر حبط و نابود ہو جائیں ؟ کیا یہ مسئلہ ایک طرف تو خدا کی عدالت کے اور ان آیات کے ظاہری مفہوم کے منافی نہیں ہے وہ یہ کہتی ہیں کہ انسان اگر ذرہ برابر اچھا یا برا کام انجام دے تو اسے دیکھے گا۔ یہاں بحث کا دامن بہت وسیع ہے ۔ دلائل عقلی کے لحاظ سے بھی اور دلائل نقلی کے لحاظ سے بھی ۔ جس کا ایک حصہ جلد دوم میں سورة بقرہ کی آیہ 217 اس کے ذیل میں پیش کر چکے ہیں اورانشاء اللہ آئندہ بھی دیگر متعلقہ آیات کے ذیل میں پیش کریں گے۔ وہ بات جس کی طرف یہاں اشارہ کرنا ضروری ہے اور جو زیر بحث آیات میں درپیش ہے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے گناہوں کے مقابلے میں "حبط اعمال" میں شک کرے توکم از کم وہ شرک کی حبط اعمال میں تاثیر کے متعلق شک نہیں کرے گا، کیونکہ قرآن مجید کی بہت سی آیات جن میں سے بعض کی طرف ہم اوپر کرچکے ہیں، میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ ایمان کے ساتھ دنیا سے جانا اعمال کی قبولیت کی شرط ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں ہوگا۔ مشرک کا دل کی شوره زار کے مانند ہے کہ اگر تمام پھولوں کے بیج اس میں چھڑک دیئے جائیں اور حیات بخش بارش اس کے اوپر برستی رہے تو اس میں ایک پھول بھی اگانے کی استعداد نہ ہوگی اور خس وخاشاک کے سوا اس سے کوئی بھی باز نہ آئے گی۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:65-67
تومشرک ہو جائے توسب اعمال برباد
تفسیر تومشرک ہو جائے توسب اعمال برباد ! ان آیات میں اسی طرح شرک و توحید سے مربوط مسائل ہی بیان ہورہے ہیں جن کے متعلق گزشتہ آیات میں بھی گفتگوتھی۔ پہلی آیت میں شرک کے نقصان کو دو ٹوک انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کی طرف بھی اورتیری طرف بھی یہی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو یقینًا تیرے تمام اعمال حبط ونابود ہوجائیں گے اور توزیان کاروں میں سے ہوجائے گا۔ (ولقد اوحي اليك والى الذين من قبلك لبن اشرکت ليحبطن عملك ولتكونن) معنی سلب قدرت و اختیار نہیں ہے بلکہ ان کی سطح معرفت کا بلند ہونا اور مبدء وحی کے ساتھ دوامی اورمستقیم ارتباط اس بات سے مانع ہے کہ وہ ایک لمحہ بھر کے لیے بھی شرک کا تصور کریں ۔ کیا کوئی عقل مند اور حاذق طبیب ، جو انتہائی خطرناک و مہلک اور زہریلے مادے کی تاثیر سے بخوبی آگاہ ہو ، ا س سے یہ بات ممکن ہے کہ وہ اپنی فکروعقل کے اعتدال کی صورت میں خود کو اس سے آلودہ کرے ؟ مقصد یہ ہے کہ شرک کے خطرے کی اہمیت سب کے گوش گزار ہوجائے تاکہ لوگ جان لیں کہ جب خدا اپنے بزرگ پیغمبروں کے ساتھ اسی طرح سے گفتگو کررہا ہے تو دوسروں کا معاملہ تو واضح ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ عربوں کی اس مشہور ضرب المثل کی طرح ہے: ایاک اعنی واسمعي يا جارة مراد تو میری تو ہے اور اے پڑوسن توبھی سنتی رہنا۔ یہی معنی ایک حدیث میں امام علی بن موسٰی رضا علیه اسلام سے بھی منقول ہیں، جب کہ مامون نے آپ سے چند آیات کے بارے میں سوال کیا تو امام نے فرمایا ؟ اس قسم کی آیات سے مراد امت ہے اگرچہ مخاطب رسول خدا ہیں۔ ؎1 بعد والی آیت میں مزید تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے : بلکہ صرف خداہی کی عبادت کر اور شکر گزاروں میں سے ہوجا (بل الله فاعبده وكن من الشاکرین)۔ ؎2 لفظ "اللہ" کو "حصر" کے لیے مقدم رکھا گیا ہے ، یعنی صرف اللہ کی ذات پاک ہی کو منحصر طور پر تیرا معبود ہونا چاہیے اوراس کے بعد شکر گزاری کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ ان نعمتوں کاشکراداکرنا جن میں انسان غرق ہے۔ اللہ کی معرفت اور ہرقسم کے شرک کی نفی کے لیے ہمیشہ ایک سیٹرھی کاکام دیتا ہے۔ نعمت کے جواب میں شکرکرنا ہر انسان کے لیے فطری امر ہے اور شکر گزاری کے لیے ہر چیز سے پہلے منعم کی ہستی کی معرفت لازم ہے اور وہ مقام ہے جہاں شکر کا راستہ توحید کے راستے سے جاملتا ہے اور وہ بت جو کسی نعمت کا مبدء نہیں ہیں الگ ہوجاتے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخری زیربحث آیت میں نفی شرک کے لیے ایک اور بات کی گئی ہے اوران کے انحراف کی اصلی جڑ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :" انھوں نے خود کو اس کے شایان شان طریقے سے نہیں پہچانا" اور اسی بنا پراس کے مقدس نام کو اتنا نیچے لے آئے ہیں کہ اسے بتوں کے ہم پلہ بنادیا (وماقدروا الله حق قدره) ۔ ہاں !شرک کا سرچشمہ خدا کے بارے میں صحیح معرفت نہ ہونا ہے، جو شخص یہ جانتا ہو کہ: اولاً وہ ہر لحاظ سے بے پایاں اور غیر محدود وجود ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نورالثقلین جلد 4 ص 497 ؎2 "فاعبد" میں " فا " ممکن ہے زائدہ ہو جو اس قسم کے موقعوں پرتاکید کے لیے آتی ہے بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ لفظ شرط محزوف کی جزا ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا" ان كنت عابدًا فاعبد الله - پھر شرط حزف ہوگئی اور مفعول اس کی جگہ پر مقدم ہوگیا ۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ثانیًا تمام موجودات کی خلقت و پیدائش اسی کی طرف سے ہے ، یہاں تک کہ اپنی بقا کے لیے بھی اسی کے فیض وجود کے محتاج ہیں۔ ثالثًا عالم ہستی کی تدبیر اور تمام مشکلات کاحل اور تمام ارزاق اسی کے دست قدرت میں ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کسی کی شفاعت بھی ہوگی تو اسی کے اذان و فرمان سے ہوگی تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ انسان اس کے علاوہ کسی اور کی طرف رخ کرے۔ اصلاً ان صفات کے ساتھ کسی وجود کے لیے دو گانگی محال ہے ، کیونکہ تمام جہات سے دو غیر محدود وجودوں کا ہونا محال ہے اور عقلًا ممکن نہیں ہے۔ (غور کیجیے گا)۔ اس کے بعد اس کی عظمت و قدرت کے بیان کے لیے دوعمدہ کنایوں سے استفادہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ، قیامت کے دن تمام زمین اسی کے قبضے میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے ( والارض جمیعًا قبضته يوم القيامة والسماوات مطوبات بيمينه). "قبضہ" اس چیز کے معنی میں ہے جو مٹھی میں لی جاتی ہے اور عام طور پر یہ کسی چیز پر قدرت مطلقہ اور تسلط کامل کے لیے کنایہ ہے۔ جیسا کہ روز مرہ کے جملوں میں ہم کہتے ہیں کہ فلاں شہرمیرے قبضہ میں ہے یا فلاں ملک میرے قبضہ اورمٹھی میں ہے۔ "مطويات" "طی" کے مادہ سے "لپیٹنے کے معنی میں ہے جو کبھی عمر کے گزرنے یاکسی چیز سے عبور کرنے کے لیے کنایہ ہوتا ہے سورہ انبیاء کی آیہ 104 میں آنسمانوں کے بارے میں یہی تعبیر زیادہ واضح صورت میں بیان ہوئی ہے۔ يوم نطوي السماء كل السجل للكتب اس دن ہم آنسمانوں کو طوماروں کی طرح لپیٹ دیں گے۔ جو شخص طومارکو لپیٹ کر دائیں ہاتھ میں لیے ہوئے ہو وہ اس پر کامل ترین تسلط رکھتا ہے ۔خصوصًا "یمین" (دایاں ہاتھ) اس بناپرکہا گیا ہے کیونکہ اکثرلوگ اہم کام دائیں ہاتھ سے ہی انجام دیتے ہیں اوراس میں زیادہ قوت کا احساس کرتے ہیں ۔ مختصر بات یہ ہے کہ یہ سب تشبیہات اورتعبیرات دوسرے جہان میں عالم ہستی پہ پروردگار کے مطلق تسلط کے لیے کنایہ ہیں ، تاکہ سب لوگ یہ بات جان لیں عالم قیامت میں کلید نجات اور حل مشکلات خدا کے دست قدرت میں ہے تاکہ شفاعت وغیرہ کے بہانے سے بتوں اور دوسرے معبودوں کی طرف نہ جائیں۔ کیا اس دنیامیں زمین و آسمان اسی صورت میں اس کے قبضہ قدرت میں نہیں ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو پھر قرآن آخرت کی بات کیوں کررہا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دن خداکی قدرت ہرزمانے کی نسبت زیادہ آشکارہوگی اور اصلی ظہور کے مراحلے میں پہنچی ہوئی ہوگی اور سب کے سب واضح و آشکار طور پر جان لیں گے کہ ہر چییز اسی کی ہے اور اسی کے اختیار اور قبضے میں ہے۔ علاوہ ازیں ممکن ہے بعض لوگ نجات کے بہانے سے قیامت میں غیر خدا کے پاس چلے جائیں جیساکہ عیسائی عیسٰی کی پرستش کے سے نجات کا مسئلہ اٹھاتے ہیں ۔ اس بنا پر مناسب یہی ہے کہ قیامت میں خدا کی قدرت کے بارے میں گفتگو کی جائے۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ساری تعبیریں کنایہ کا پہلو رکھتی ہیں اور ہمارے الفاظ کی کوتاہ داہنی کی وجہ سے مجبور ہیں کہ روزمرہ کی زندگی میں ان بلند معانی کو انھیں معمولی الفاظ کے قالب میں ڈھالیں اور اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ کوئی شخص ان سے پروردگار کے تجسم کا احتمال سمجھے سوائے اس کے کہ جو بہت کی سادہ لوح کوتاه بین اور کوتاه فکرہو ، تواس صورت میں کیا کیا سکتا ہے ؟ وہ الفاظ جو پروردگار کی عظمت کا مقام بیان کرنے کی گنجائش رکھتے ہوں ہمارے پاس نہیں ہیں ، لہذا ہمیں انھیں الفاظ کے کنائی معانی سے استفادہ کرتے ہوئے۔ جووسیع اور کشادہ دامن رکھتے ہیں ۔ فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بہرحال ان بیانات کے بعد آیت کے آخر میں ایک مختصر اور واضح نتیجہ اخذ کرتے ہوئے قرآن فرماتا ہے : اس کی ذات ان شرک سے منزہ اور پاک ہے اور بلند و بالا ہے۔ (سبحانه وتعالى عما يشركون) ۔ اگر انسان اپنے افکار کے چھوٹے سے پیمانوں کے ساتھ اس کی پاک ذات کے بارے میں فیصلہ نہ کرتا تو ہرگز شرک و بت پرستی نہ کرتا۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:65-67
سورة زمر / آیه 65 - 67
(65) وَلَقَدْ اُوْحِىَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُـوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ (66) بَلِ اللّـٰهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِّنَ الشَّاكِـرِيْنَ (67) وَمَا قَدَرُوا اللّـٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۖ وَالْاَرْضُ جَـمِيْعًا قَبْضَتُهٝ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِيْنِهٖ ۚ سُبْحَانَهٝ وَتَعَالٰى عَمَّا يُشْرِكُـوْنَ ترجمہ (65) تمام گزشتہ انبیاء کی طرف بھی اور تیری طرف بھی یہی وحی گئی ہے اگر تونے شرک کیا تیرے سارے اعمال نابود ہوجائیں گے اور توزیان کاروں میں سے ہو جائے گا۔ (66) بلکہ صرف خدا ہی کی عبادت کر اورشکر گزاروں میں سے ہو جا۔ (67) انھوں نے خدا کو اس کے شایان شان طریقے سے نہیں پہچانا حالانکہ قیامت کے دن ساری زمین اسی کے قبضہ قدرت میں ہوگی اور آسمان اس کے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہونگے ، اس کی ذات ان کے شرک سے منزہ اور پاک اور بلند و بالا ہے۔