فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكَافِرِينَ
So who is a greater wrongdoer than him who attributes a falsehood to Allah, and denies the truth when it reaches him? Is not the [final] abode of the faithless in hell?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 39:32
[Pooya/Ali Commentary 39:32] Refer to Anam: 21, 94, 145 and 158. No offence is more heinous than belying the signs of Allah, in spite of the truth being made clear by continuous guidance. In Matthew 12: 31 and 32, Isa says: "Whosoever speaks a word against the son of man, it shall be forgiven him; but whosoever speaks against the Holy Ghost, it shall not be forgiven him, neither in this age nor in the age to come." Nisa: 48 and 116 confirm that which has been said by prophet Isa.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 39:32-41
The virtuous stated in Couplet 33 above are qualified (1) by Truth, (2) by honesty, (3) by trustworthiness, (4) by less priding, (5) by forbearance, (6) by obligation to relation, (7) by kindness to the poor, (8) by minimum mingling with ladies, (9) by charitable disposition, and (10), by courteous behaviour. Any difference from the above will result in the difference of grades of the virtuous.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:32-35
سورة زمر / آیه 32 - 35
(32) فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّـٰهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٝ ۚ اَلَيْسَ فِىْ جَهَنَّـمَ مَثْوًى لِّلْكَافِـرِيْنَ (33) وَالَّـذِىْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٖ ۙ اُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُتَّقُوْنَ (34) لَـهُـمْ مَّا يَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ ۚ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِيْنَ (35) لِيُكَـفِّرَ اللّـٰهُ عَنْـهُـمْ اَسْوَاَ الَّـذِىْ عَمِلُوْا وَيَجْزِيَـهُـمْ اَجْرَهُـمْ بِاَحْسَنِ الَّـذِىْ كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ ترجمہ (32) اس سے زیادہ ظلم اور کون ہوسکتا ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے اور جو سچی بات اس کے پاس آئے اس کی تکذیب کرے ۔ کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں ہے؟ (33) لیکن وہ شخص جوسچی بات لے کر آئے اور وہ شخص جو اس کی تصدیق کرے، وہی تو پرہیز گار لوگ ہیں۔ (34) وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے پروردگار کے پاس ان کے لیے موجود ہے اور نیکوکاروں کی جزایہی ہے۔ (35) تاکہ خداوہ بدترین اعمال جوانھوں نے انجام دیئے ہیں ، بخش د ے اور انھیں ان بہترین اعمال پر جووہ انجام دیاکرتے تھے ، اجر وثواب عطا کرے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:32-35
پہلا صدیق کون تھا؟
پہلا صدیق کون تھا؟ بہت سے مفسرین اسلام نے ، خواہ وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت " والذي جاء بالصدق وصدق به" کی آیت کی تفسیرمیں یہ نقل کیا ہے کہ " الذي جاء بالصدق" سے مراد پیغمبراکرمؐ ہیں اور "صدق به" سے مراد علیؑ ہیں۔ اسلام کے بزرگ مفسرطبری نے مجمع البیان میں اور ابو الفتوح رازی نے روح الجنان میں اس چیز کو آئمہ اہل بیت سےنقل کیا ہے۔ ا ہل سنت کے علماء اور مفسرین کی ایک جماعت نے اسے پیغمبر اسلامؐ سے ابوہریرہ کی وساطت سے یا دوسرے طرق سے روایت کیا ہے ۔ مثلًا: علامہ ابن مغازلی نے مناقب میں، غلامہ گنجی نے کفاۃ الطالب میں بمشهور مفسرقرطبی نے اپنی تفسیرمیں، علامہ سیوطی نے درالمنشورميں اوراسی طرح سے آلوسی نے روح المعانی میں۔ ؎1 جیساکہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ اس قسم کی تفاسیر روشن ترین اور زیادہ واضح مصادیق بیان کے لیے ہوتی ہیں اور اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ علیؑ ، پیغمبر اسلامؐ کے پیروکاروں اور آپ کی تصدیق کرنے والوں میں سب سے مقدم تھے اور پہلے "صديق" آپؑ ہی ہیں۔ علماء اسلام میں سے کوئی بھی اس حقیقت کا منکر نہیں ہے علیؑ مردوں میں سے شخص ہیں جنھوں نے پیغمبر اسلامؐ کی تصدیق کی ہے بعض کی طرف سے تنقید کی گئی ہے وہ صرف اس بات پر ہے کہ آپؐ ایمان لانے کے وقت 10 یا 12 سال کے تھے اور آپؑ کا اسلام اس عمر میں قانونی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ لیکن یہ بات ہی عجیب نظرآتی ہے کیونکہ یہ بات کس طرح سے صحیح ہے جبکہ پیغمبراسلامؐ نے اسے قبول کرلیا ہے اورانھیں اپنا"وزیر" و "وصی" کہہ کر خطاب کیا اور پیغمبراسلام کے ارشادات میں انھیں بارہا "اول المؤمنين" یا "اولكم اسلامًا" (مومنین میں سے پہلا یا تم میں سے جو سب سے پہلے اسلام لایا ) کے نام کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے کہ جس کے مدارک ہم اہل سنت کے علماء کی کتب سے اسی تفسیرکی آٹھویں حبہ سورہ توبہ کی آیہ 10 کے ذیل تفصیل سے بیان کر چکے ہیں ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مزید واضاحت کے لیے احقاق الحق جلد سوم ص 177 اور المراجعات ص 64 مرجعہ 12 کي طرف رجوع کریں ۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:32-35
جوکلام خدا کی تصدیق کرتے ہیں
تفسیر جوکلام خدا کی تصدیق کرتے ہیں گزشتہ آیات میں میدان قیامت میں لوگوں کے حاضر ہونے اور اس عظیم عدالت میں ان کے جھگڑے کے بارے میں گفتگوتھی۔ ان آیات میں بھی وہی بحث جاری ہے اور لوگوں کو دوگروہوں"مکذبین اور "مصدقین" میں تقسیم کر رہی ہیں۔ پہلا گروہ دو صفات کا حامل ہے ، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: اس سے زیادہ ستم گر اور کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ باندھے اور سچی اور حق بات جو اس کے پاس آئے اس کی تکذیب کرے۔ (فمن اظلم ممن کذب على الله وكذب بالصدق اذ جاءه)۔ بےایمان اور مشرک اور خدا پر بہت ہی زیادہ جھوٹ باندھا کرتے تھے ۔ کبھی فرشتوں کو خدا کی بٹیاں کہتے تھے کبھی عیسٰیؑ کواس کا بیٹا کہتے تھے۔ کبھی بتوں کو اس کی بارگاہ میں شفیع قراردیتے تھے اورکبھی حلال وحرام کے سلسے میں جھوٹے احکام گھڑلیا کرتے تھے اوراس کی طرف منسوب کردیاکرتے تھے اور اسی قسم کی دوسری باتیں ۔ باقی رہی وه سچی بات جو ان کے پاس آئی اور انھوں نے اس کی تکذیب کی وہ وہی آسمانی وحی قرآن مجید ہے۔ آیت کے آخر میں ایک مختصرسے جملہ میں اس قسم کے افراد کی سزا اس طرح بیان کی گئی ہے : کیا ان کافروں کے رہنے کی کا نہیں ہے؟ (اليس في جهنم مثوى للکافرين)۔ جب "جہنم" کا نام لیا جاتا ہے توباقی درد ناک عذاب کا بھی اس میں خلاصہ بیان ہو جاتا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ دوسرے گروہ کے بارے میں بھی دواوصاف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اور جو شخص سچی اور حق بات لے کر آئے اور وہ شخص جو اس کی تصدیق کرے، وہی توواقعی پرہیزگار ہیں (والذي جاء بالصدق وصدق به او لئك هم المتقون)۔ اہل بیت کی بعض روایات میں "والذي جاء بالصدق " کی پیغمبراکرمؐ سے تفسیر بیان ہوئی ہے۔ ان میں "وصدق بہ" سے علی عیہ السلام مرادلیے گئے ہیں۔ ؎2 لیکن اس سے مراد واضح مصداق کا بیان ہے کیونکہ" اولئك هم المتتون" (وہی تو متقی ہیں) کا جملہ آیت کی عمومیت کی دلیل ہے۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس آیت سے ذات پیغمبر مراد لینا جو وحی کے لانے والے بھی ہیں اوراس کے تصدیق کرنے والے بھی، بیان مصداق ہی ہوناچاہیے نہ کہ آیت کے تمام مفہوم کا بیان۔ اسی لیے بعض مفسرين نے "والذي جاء بالصدق" سے تمام پیغمبر مراد لیے ہیں اور "صدق به" سے ان کے سچے پیروکار مراد لیے ہیں جن میں دنیا کے تمام پرہیزگارشامل ہیں۔ اس آیت کی ایک اورعمده تفسیر موجود ہے جو سب سے زیادہ وسیع اور جامع تر ہے، اگرچہ مفسرین نے بہت کم اس کی طرف تکہ کی ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 "مثوی" "ٹواء" کے مادہ سے ہے اوراس کامعنی ہے ایساقیام جو دائمی ہو اس بنا پر "مثویٰ یہاں ہمیشگی کی اوردائمی جگہ کے معنی میں ہے۔ ؎2 مجمع البیان ، زیر بحث آیات کے ذیل میں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ لیکن وہ آیات کے ظاہر کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے اور وہ یہ ہے کہ "الذي جاء بالصدق" وحی کا پیغام لانے والوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ تمام ایسے افراد جوان کے مکتب کے مبلغ تھے اورحق و صداقت کی باتوں کے مروج رہے ہیں اس صف میں شامل ہیں اور اس صورت میں کوئی امرمانع نہیں ہے کہ دونوں جملے ایک ہی گروہ منطبق ہوں (جیساکہ آیت کی تعبیر کا ظاہر ہے، کیونکہ "والذي" صرف ایک مرتبہ ذکر ہوا ہے )۔ گویا یہ گفتگو ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جوصدق اور سچائی کے لانے والے بھی ہیں اوراس پرعمل کرنے والے بھی ۔ یہ ان لوگوں کی بات ہے جنہوں نے مکتت وحی اور پروردگار کی حق بات کو سارے عالم میں نشر کیا ہے اور خود اس پر ایمان رکھتے ہیں، چاہے وہ انبیاء و مرسلین ہوں یا کے مکتب کو بیان کرنے والے۔ " تو یہ بات قابل توجہ ہے کہ وحی کے بجائے "صدق" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ صرف وہ بات جس میں جھوٹ اور غلطی کا احتمال نہیں ہے، وہی ہے جو وحی کے ذریعے پروردگار کی طرف سے نازل ہوتی ہے اور تقوٰی و پرہیزگاری صف مکتب انبیاء کی تعلیمات کے سائے میں اور اس کی دل وجان سے تصدیق کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ بعد والی آیات میں ایسے لوگوں کیلئے تین عظیم اجر بیان کیے گئے ہیں، پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ جو کچھ بھی چاہیں گے ان کے پروردگار کے پاس ان کے لیے موجود ہے اور نیکو کاروں کی یہی تو جزا ہے۔( لهم ما يشاءون عند ربهم ذالك جزاء المحسنين)۔ اس آیت کے مفہوم کی وسعت اس قدر ہے کہ تمام روحانی اور مادی نعمتیں اس میں شامل ہیں وہ سب کچھ ہمارے تصور اور وہم و گمان میں سما سکے یانہ سما سکے۔ بعض نے یہاں ایک سوال پیش کیا ہے کیا اگروہ انبیاء و اولیاء کے مقامات کاتقاضا کریں جو خودان سے برترہیں تو وہ بھی ان دیا جائے گا؟ یہ سوال کرنے والے اس حقیقت سے غافل ہیں کہ بہشتی لوگ چونکہ حقیقت بین آنکھ رکھتے ہیں اس لیے وہ ہرگزایسی چیز کی فکرمیں نہیں پڑیں گے جوحق و عدالت کے برخلاف اوراہليت وجزا کے قانون کے برخلاف ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ وہ افراد جو ایمان و عمل کے مختلف درجات میں ہیں۔ ان کی ایک جیسی جزاہو، بہشتی ایک محال چیزکی آرزو کیسے کریں گے؟ اس کے باوجود وہ روحانی طور پراس طرح ہیں کہ جو کچھ ان کے پاس ہے اچی پرراضی ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی حسد پایا ہی نہیں جاتا۔ ہم جانتے ہیں کہ آخرت کے اجزا، یہاں تک تفضلات الہی تھی ان اہلیتوں کی بنیاد پر ہیں جو انسان اس دنیامیں حاصل کرتا ہے، جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کا ایمان وعمل اس دنیامیں دوسرے کے ایمان وعمل کے برابر نہیں تھا وہ کبھی بھی ان کے مقام کی آرزونہیں کرے گا کیونکہ یہ ایک غیر منطقی آرزو ہے۔ "عند ربهم" (ان کے پروردگار کے نزدیک) کی تعبیر ان کے بارے میں انتہائی لطف الہی کا بیان ہے گویا وہ ہمیشہ کے لیے اس کے مہمان ہیں اور وہ جوکچھ چائیں گے اس کے پاس موجود پائیں گے۔ " ذالك جزاء المحسنين (یہ ہے نیکوکاروں کی جزا) اس میں ضمیر کے بجائے اسم ظاہر سے استفادہ کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان جزاؤں کی علت اصلی ان کی نیکی ہی ہے۔ ان کی دوسری اور تیسری جزا اس صورت میں بیان کی گئی ہے : وہ چاہتے ہیں کہ خدا ان کے ان بدترین اعمال کو جوانھوں نے انجام دیئے ہیں بخش دے اوران کی تلافی کر دے، انھیں ان کے ان بہترین اعمال کا جوانھوں نے انجام دیئے ہیں اجر عطا کرے۔ (لیكفرالله عنهم اسوء الذين عملوا ويجزيهم اجرهم باحسن الذي كانوا يعملون)۔ کتنی عمدہ تعبیر ہے؟ ایک طرف تو وہ یہ تقاضا رکھتے ہیں کہ ان کے بدترین اعمال لطف الٰہی کے سایے میں چھپادیئے جائیں اورتوبہ کے پانی سے یہ داغ ان کے دامن سے دھل جائیں اور دوسری طرف سے ان کا یہ تقاضا ہے کہ خدا ان کے بہترین اعمال کو اجرو پاداش کا معیار قرار دے اور ان کے تمام اعمال کو اسی حساب سے قبول کرلے۔ خداوند تعالٰی نے بھی ان کی درخواست کو اسی تعبیر کے ساتھ قبول کر لیا ہے جیساکہ ان آیات میں بیان کیا گیا ہے یعنی وہ بدترین کو بخش دے گا اور بہترین کو اجرو پاداش کا معیار قرار دے گا۔ یہ بات ظاہر ہے کہ وقت بڑی بڑی لغزشیں عفوالٰہی کی مشمول ہوجائیں ، تو باقی تو بطریق اولٰی مشمول ہوجائیں گی۔ عمدہ بات یہ ہے کہ انسان کی سب سے زیادہ پریشانی بڑی بڑی لغزشوں کے بارے میں ہی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے مومنین کو زیادہ تر اسی کی فکر ہے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کیا گزشتہ آیات میں گفتگو کو پیغمبروں اور ان کے پیروکاروں کے بارے میں ہی نہیں تھی ؟ وہ بڑی بڑی لغزشیں اس طرح کرتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب ایک نکتے کی طرف توجہ کرتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ جب کسی فعل کی کسی گروہ کی طرف نسبت دی جاتی ہے تواس کا مفہوم یہ نہیں ہوتا کہ وہ سب کے سب اس فعل کے مرتکب ہوئے تھے بلکہ اتنا ہی کافی ہے کہ ان میں سے کچھ نے اسے انجام دیا ہو مثلاً ہم کہتے ہیں کہ بنی عباس نے رسول اللہؐ کی مسند خلافت پرناحق قبضہ کیا تھا، تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ وہ سب کے سب خلافت تک پہنچے تھے بلکہ کافی ہے کہ ان میں سے ایک گروہ ایسا ہو۔ زیر بحث آیت میں بھی پیغام وحی لانے والوں اور ان کے مکتب کے پیروکاروں میں سے بعض کی کچھ لغزشیں تھیں جن سے خدا ان کے نیک اعمال کی وجہ سے درگزر کرے گا۔ بہرحال غفران و بخشش کاذکراجرو ثواب سے پہلے اس بنا پر ہے کہ پہلے انہیں اپنے آپ کو پاک و صاف کرناچاہیے اس ے بعد قرب خدا کی بساط پر قدم رکھیں۔ پہلے عذاب الہی سے آسوده خاطر ہولیں کہ جنت کی نعمتیں انھیں نصیب ہوں ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس بارے میں "لیکفرالله عنهم" کسی سے متعلق ہے مفسرین نے بہت سے احتمال ذکر کیے ہیں لیکن معنی کے لحاظ سے جو کچھ زیادہ مناسب نظرآتا ہے یہ ہے "احسنوا" متعلق فعل ہے جو "المحسنين" سے سمجھ میں آتا ہے اور وہ تقدیر میں اس طرح ہے۔ (ذالك جزاء المحسنين احسنوا لیکفر الله عنه ....) ہاں انھوں نے نیکیاں کیں تاکہ خدا ان کی لغزشوں کو بخش دے اور انھیں بہترین اجر دے ۔ -۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------