اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
Allah has sent down the best of discourses, a scripture [composed] of similar motifs, whereat shiver the skins of those who fear their Lord, then their skins and hearts relax at Allah’s remembrance. That is Allah’s guidance, by which He guides whomever He wishes; and whomever Allah leads astray, has no guide.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 39:23
[Pooya/Ali Commentary 39:23] Refer to the commentary of Baqarah: 2; Ali Imran: 7; Anfal: 2; Ibrahim: 4 and Nahl: 93. For the revelation of the whole text of the Quran and also for its gradual revelation to the Holy Prophet see commentary of Baqarah: 2 and Aqa Puya's essay "The genuineness of the holy Quran". For mutashabihat see commentary of Ali Imran: 7; for the reaction of those who fear their Lord see commentary of Anfal: 2; and for those whom Allah leaves to stray see commentary of Ibrahim: 4 and Nahl: 93. The gradual revelation of the Quran, although revealed in parts, during a long period of about 23 years, dealing with facts and events far removed from each other, is yet a book consistent with itself, and conformable in its various parts, with its teachings constantly reiterated in order to impress upon the minds of the people the unity of Allah, His attributes, the laws operating the nature, accountability, the day of resurrection, the day of judgement, and the reward for doing good and the punishment for doing evil. Those who receive truth do it with tremor and not with apathy, which is a proof of their being moved by the word of Allah, so they are overcome by love and favour of Allah. They are soft of heart. Those who are hard-hearted are left by Allah to stray. According to verses 1 to 5 of ar Rahman, at the time of creation of the Holy Prophet the knowledge of the Quran was given to him. The beneficent Lord taught him the Quran. The prophets of Allah were fully equipped, conditioned and educated before they were sent to guide the people. It is clearly stated in Maryam: 30 that Isa was given the Injil while he was in the cradle. As stated in verse 114 of Ta Ha, the Holy Prophet was commanded to deliver the verses and the surahs of the book of Allah to the people as and when Allah directed him to do so. Verse 185 of al Baqarah and verse 1 of al Qadr clearly state that the whole Quran was sent down to the Holy Prophet in the night of Qadr. For the present arrangement of the Quran refer to Aqa Mahdi Puya's essay "The genuineness of the holy Quran." The Holy Prophet said: "The sins of those who tremble in fear of Allah's wrath drop, like dried leaves, from their record. On the day of judgement all eyes will be terrified and frightened save the eyes which did not see the forbidden things, had wept in fear of Allah's wrath, and remained opened in remembrance of Allah."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:23-26
سورة زمر / آیه 23 - 26
(23) اَللَّـهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِىَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّـذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْۚ ثُـمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُـمْ وَقُلُوْبُـهُـمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّـٰهِ ۚ ذٰلِكَ هُدَى اللّـٰهِ يَـهْدِىْ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّـٰهُ فَمَا لَـهٝ مِنْ هَادٍ (24) اَفَمَنْ يَّتَّقِىْ بِوَجْهِهٖ سُوٓءَ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ وَقِيْلَ لِلظَّالِمِيْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُـمْ تَكْسِبُوْنَ (25) كَذَّبَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِـهِـمْ فَاَتَاهُـمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ (26) فَاَذَاقَـهُـمُ اللّـٰهُ الْخِزْىَ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَـرُ ۚ لَوْ كَانُـوْا يَعْلَمُوْنَ ترجمہ (23) خدا نے بہترین بات نازل کی ہے، ایسی کتاب جس کی آیات (لطافت وزریبائی اور مضمون کی گہرائی کے لحاظ سے) ایک دوسرے سے مشابہ ، بار بار (ا شتیاق انگیزانداز سے) دہرائی جانے والی جس کی آیات سن کر وہ لوگ لرزہ براندام ہوجاتے ہیں جو اپنے پروردگار کے سامنے خشوع کرنے والے ہیں۔ پھر ان کا ظاہروباطن نرم اور ذکر خدا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے ۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت اس کے ساتھ کر دیتا ہے اور جسے خداگمراہ کرے دے اس کے لیے کوئی راہ نما نہیں ہے۔ (24) کیا وہ شخص جو اپنے چہرے اور ذات سے (خدا کے) دردناک عذاب کو قیامت کے دن ٹال دے (اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے جس تک ہرگز جہنم کی آگ پہنچ ہی نہ سکے) اور ظالموں سے کہا جائے کا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو۔ (25) جو لوگ ان سے پہلے تھے انھوں نے بھی ہماری آیات کو جھٹلایا تھا تو ان پر عذاب الہی ایسی جگہ سے آیاجہاں کا وہ کوئی خیال ہی نہ رکھتے تھے۔ (26) خدا نے انھیں اس دنیاکی زندگی میں بھی ذلت وخواری کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی بڑا ہے، اگروہ جانتے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:23-26
ایک نکته
ایک نکته ان آیات کے ذیل میں کچھ روایات وارد ہوئی ہیں جو آیات کے مفاہیم کے زیادہ وسیع افق ہمارے سامنے مجسم کرتی ہیں ۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ کے چاچا حضرت عباس آپؐ سے نقل کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا اذا اقشعر جلد العبد من خشية الله تحاتت عنه ذنوبه کما یتحات عن الشجرة اليابسة ورقها جب کسی بندے کا بدن خوف خدا سے لرزاٹھے تو ا س کے گناہ اس طرح سے گرتے ہیں جس طرح سے درختوں کے خشک پتے جھڑتے ہیں۔ ؎2 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 "خزی" خواری اورذلت کے معنی میں ہے اور رسوائی وفضحیت کے معنی میں بھی آیا ہے (لسان لعرب "خزی" کے مادہ کی طرف رجوع کریں)۔ ؎2 مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ، یہ روایت ابوالفتوح رازی اور قرطبی نے بھی کچھ فرق کے ساتھ نقل کی ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ایک اور حدیث میں امیرالمومنین علیؑ علی سے اس طرح منقول ہے۔ لمتان : لمة من الشيطان ولمة من الملك ، فلمة الملك الرقة و لقهم، ولمة الشيطان السهو والقسوة القاء دوقسم کے ہوتے ہیں۔ ایک القائے شیطانی اور دوسرا القائے ملک (فرشتہ) فرشتے کا القاء دل کی نرمی اور فہم و ذکاء میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور شیطانی القاء یہود ونسیان اور قساوت قلب کاباعث ہوتا ہے۔ ؎1 بہرحال شرح صدر حاصل کرنے اور قساوت قلبی سے رہائی پانے کے لیے بارگاہ خداوندی کی طرف رخ کرنا چاہیے تاکہ وہ نورالٰہی جس کا خدا نے وعدہ کیا ہے انسان کے دل میں روشن ہو۔ دل کے آئنے کو گناہ کے زنگ سے صاف و صقیل کرنا چاہیے اور دل کے گھر کو ہواوہوس کی غلاظت سے پاک رکھنا چاہیے تاکہ وہ محبوب کی پزیرائی کے لیے آمادہ ہو۔ خوف خداسے آنسو بہانا اوراس بے مثال محبوب کے عشق میں گریہ وبکا کرنا، رقت قلبی ، نرم دلی اور روح کی وسعت کے لیے عجیب وغریب اثر رکھتا ہے اور آنکھ کا جمود اور خشک ہونا سنگدلی کی نشانی ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 کافي جلد دوم "باب القسوه" حدیث 3 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:23-26
شان نزول
شان نزول بعض مفسرین نے عبدالله بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ ایک دن پیغمبراکرمؐ کے اصحاب کی ایک جماعت نے جو ملالتِ قلبی پیدا کرچکی تھی ۔ عرض کیا : اے رسول خداؐ! کیا ہی اچھا ہوتاکہ آپ کوئی ایسی ہدایت کی بات ہمارے لیے بیان کرتے جس سے ہمارے دلوں سے ملالت و رنجیدگی کا زنگ اترجاتا؟اس موقع پر ان آیات میں سے پہلی آیت نازل ہوئی اور اس میں قرآن کا "احسن الحدیث کے عنوان سے تعارف کروایا گیا ؎1
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:23-26
تفسیر
تفسیر گزشتہ آیات میں ان بندگان خدا کے بارے میں گفتگوتھی جو تمام باتیں سنتے ہیں اور ان میں سے بہترین کا انتخاب کرتے ہیں اور ایسے کشادہ سنیوں اور شرح صدر کے بارے میں گفتگو ہوئی تھی جو کلام حق قبول کرنے پر آمادہ ہیں۔ اب زیر بحث آیات میں اسی مناسبت سے قرآن کے بارے میں گفتگو ہورہی ہے تاکہ گزشتہ مباحث کی تکمیل کرتے ہوئے و توحید و معاد کے حلقوں کے ساتھ نبوت کے دلائل کے حلقے کا بھی اضافہ ہوجائے۔ ارشاد ہوتا ہے : خدانے بہترین حدیث اور بہت اچھی گفتگو بھیجی ہے (الله نزل احسن الحديث )۔ اس کے بعد قرآن کے تین امتیازات بیان کرتے ہوئے اس آسمانی کتاب کی یوں توصیف کی گئی ہے: یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات ہم آہنگ اور ہم صدا ہیں اور لطافت و زیبائی اور بیان کی گہرائی کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ (کتابًا متشابهًا)۔ " متشابها" سے یہاں ایسا کلام مراد ہے جس کے مختلف حصے ایک دوسرے کے ساتھ ہم رنگ ہم آہنگ ہیں ، ان کے درمیان کسی قسم کا تضاد اور اختلاف نہیں ہے ایسا نہیں کہ اس کی آیتیں کچھ اچھی اور کچھ بری ہوں، بلکہ ایک سے ایک بہترہے ۔ یہ انسانی باتوں کی طرح نہیں ہے کہ جن میں جس قدر بھی غور کیا جائے اور جوں جوں وہ وسیع ہوتی جاتی ہیں ان میں خواہ نہ خواہ اختلافات حامل ہوجاتا ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 یہ شان نزول کچھ مختلف الفاظ میں تفسیر کشاف (جلد 4 ص 123 و تفسیر قرطبی ، تفسیر الوسی اورتفسیرابوالفتح رازی وغیرہ میں زیربحث آیات کے ذیل میں بیان ہوئی ہے ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اب دونوں حالتیں جو "سلوک الی اللہ" کی منزلوں اور مختلف مرحلوں کی نشاندہی کرتی ہیں، پورے طور پرقابل ادراک ہیں ، آیات غضب اور پیغمبر کا مقام انزار دلوں کو لرزادیتا ہے اس کے بعد رحمت والی آیتیں انھیں سکون بخشتی ہیں ۔ حق تعالی کی ذات کے بارے میں غورفکراوراس ذات پاک کی ابدیت وازلیت اور لامتناہی ہونے کا مسئلہ انسان کو وحشت زدہ کردیتا ہے کہ اسے کس طرح پہچانا جاسکتا ہے لیکن انفس و آفاق میں اس ذات پاک کے آثار و شواہد کا مطالعہ اسے سکون و آرام بخشتا ہے۔ ؎1 تاریخ اسلام مومنین کے دلوں پر بلکہ غیرمومن افراد کے دلوں پر بھی کہ جن کے دل میں اہل تھے قران کی عجیب و غریب تاثیر کی نشانیوں سےبھری پڑی ہے، اور تاثیر اورانتہائی زیادہ کشش اس بات کی واضح و روشن دلیل ہے کہ کتاب وحی کی صورت میں نازل ہوئی ہے۔ ایک حدیث میں حضرت اسماء سے منقول ہے، وہ فرماتی ہیں: كان اصحاب النبي حق اذا قرء عليهم القران كما نعتهم الله ــ تدمع اعينهم و تقشعر جلودهم اصحاب پیغمبر کے سامنے جس وقت قرآن کی تلاوت ہوتی تھی ـــــ جیساکہ قرآن نے ان کی تعریف توصیف کی ہے ــــــــ ان کی آنکھیں اشکبار ہوجاتی تھیں اور وہ لرزہ براندام ہوجاتے تھے ۔2 ؎3 امیرالمومنین علیؑ نے پرہیزگاروں کے بارے میں یہ حقیقت اعلٰی ترین طریقے سے بیان فروائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں :۔ اما الليل فصافون اقدامهم تالين لاجزاء القرأن يرتلونها ترتیلا یحزنون به انفسهم و يستثيرون به دواء دائهم ، فاذامروابايةفيهاتشویق رکنوااليهاطمعًاوتطلعت نفوسهم اليها شوقًا ، وظنوا انها نصب اعينهم، واذامروا باية فيها تخویف اصغوا اليها مسامع قلوبهم وظنواان زفير جهنم و شهيقها في اصول أذانهم ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "تقشعر" " قشعريره" کے مادہ سے بے جس کے لیے ارباب لغت اور مفسرین نے مختلف معانی بیان کیے ہیں ۔ یہ معانی ایک دوسرے سے کچھ زیاده مختلف نہیں ہیں۔ بعض نے اسے بدن کی جلد کے جمع ہوجانے کے معنی میں (وہ حالت جو انسان کو خوف کے وقت عارض ہوجاتی ہے )۔ بعض اسے اس لرزش کے معنی میں سمجھا ہے۔ جو ایسے موقعوں پر جسم میں پیدا ہو تی ہے اور بعض اسے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجانے کے معنی میں سمجھتے ہیں اور حقیقت میں یہ سب کے سب معانی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم . (مفردات راغب، لسان العرب ، تفسیر کشاف ، تفسیرروح المعانی اور قرطبی کی طرف رجوع کریں)۔ ؎2 تفسیر قرطبی جلد 8 ص 5693 ؎3 آیات قرآن کی انتهای تاثیر کے سلسلےمیں متعدد روایات ہم تفسیر نمونہ کی تیسری جلد میں بیان کر چکے ہیں۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- وہ رات کو صف بستہ ہوتے ہیں، ٹھہرٹھہر کر غوروفکر کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اپنی روح کو اس کے ساتھ دل پذیر غم مستغرق کرلیتے ہیں اور اپنے درد کی دوا اس سے طلب کرتے ہیں جس وقت ایسی آیت سامنے آتی ہے ہیں جس میں تشویق ہو تو ا س کے ساتھ دل بستگی پیدا کرتے ہیں ، ان کی ورح کی آنکھیں کمال شوق سے چمک اٹھتی ہیں اور وہ اسے اپنانصب العین بنالیتے ہیں اور وقت وہ کسی ایسی آیت پر پہنچتے ہیں جس میں انداز و تخویف ہوتی ہے تو اسے دل کے کانوں کے ساتھ سنتے ہیں، گویا نالہ وفریاد کی صدائیں اور جہنم کے مہیب شعلوں کے ایک دوسرے سے ٹکرانے کی آوازیں ان کے کانوں میں گونج رہی ہوں ۔ یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد آیت کے آخرمیں فرمایاگیا ہے : "اس کتاب میں خداکی ہدایت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کے ساتھ ہدایت کرتا ہے (ذالك هدي الله يهدی به من يشاء). یہ درست ہے کہ قرآن سب کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے لیکن صرف حق طلب ، حقیقت کے جویا اور پرہیزگار اس کے نور ہدایت سے فائدہ اٹھائیں گے اور جنہوں نے اپنے دل کے دریچے جان بوجھ کر اس کے سامنے بند کر لیے ہیں اورتعصب اور ہٹ دھرمی کی تاریکی ان کی روح پرچھائی ہوئی ہے ، وہ نہ صرف یہ کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ عناد اور دشمنی کی وجہ سے ان کی ضلالت و گمراہی میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس گفتگو کے بعد فرمایا گیا ہے: اور ہر شخص کوخدا گمراہ کرد ے اس کے لیے کوئی ہادی و راہنما نہیں ہوگا۔ (و من يضلل الله فما له من هاد)۔ وہ گمراہی جس کی بنیادیں خود اس کے اپنے ہاتھ کے ساتھ رکھی ہوئی ہیں اور اس کی بنیادیں ا س کے غلط اعمال کی وجہ سے مضبوط ہوئی ہیں اوراسی بنا پریہ بات انسانوں کے اصول اختیار اور آزادی ارادہ کے ہرگز منافی نہیں ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں ظالموں اور مجرموں کا مومنین کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے، جن کی کیفیت پہلے بیان ہوچکی ہے تاکہ اس سے حقائق بہترطور سے واضح ہوجائیں ۔ فرمایا گیا ہے: کیا وہ شخص جو اپنے چہرے سے خدا کے دردناک عذاب کو دور کرلیتا ہے، اس شخض کی طرح ہے جواس دن انتهائی امن و امان کے ساتھ بسر کرے گا اور ہرگز جہنم کی آگ اس تک نہ پہنچے گی (افمن بتقي بوجهه سوء العذاب يوم القيامة )۔ ؎1 وہ نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا ضروری ہے ، یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے: وہ اپنے چہرے کے ساتھ عذاب کو اپنے سے دور کرلے گا۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس جملے میں ایک محذوف ہے اور یہ تقدیرمیں اس طرح ہے : فمن يتقي بوجهه سوء العذاب يوم القيامة كمن هو امن لا تمسه النار کیا وہ شخص جو اپنے چہرے سے دردناک عذاب دور کرلیتا ہے اس شخص کے مانند ہے جو امن میں ہے اورآگ اس تک نہیں پہنچتی ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ یہ تعبیر اس بنا پر ہے کیونہ "وجهه" (چہرہ) انسان کے اشرف اعضاء میں سے ہے اور انسان کے اہم حواس (آنکھ ، کان ،ناک اور زبان) اس میں موجودہیں اوراصولی طور پر انسان کی پہچان بھی چہرے کے ذریعے ہی ہوتی ہے اور ان ہی وجوہات کی بنا جس وقت اسے کوئی خطرہ ہوتا ہے تو اپنے ہاتھ، بازو اور جسم کے دوسرے اعضا کو اس کے سامنے ڈھال بنالیتا ہے تاکہ خطرہ دورکر ے۔ لیکن دوزخی ظالموں کی حالت اس دن کچھ اس طرح کی ہوگی کہ انھیں اپنے چہرے کے ساتھ ہی اپنا دفاع کرنا پڑے گا کیونکہ ان کے ہاتھ پاؤں توزنجیر میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ جیسا کہ سورہ یٰس کی آیہ 8 میں ہے: ہم نے ان کی گردن میں طوق ڈال رکھے ہیں (اوران کے ہاتھوں کو ان کے ساتھ جکڑا ہوا ہے) ان کے طوق اہڑیوں تک پہنچے ہوئے ہوں گے ، لہذا ان کے سر اوپر کی طرف ہوں گے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ تعبیر اس بنا پر ہے کہ انہیں منہ کے بل آگ میں ڈالا جائے گا۔ لہذا ان کا پہلا عضو جواگ میں پہنچے گا وہ ان کا چہرہ ہے، جیسا کہ سورہ نمل کی آیہ 90 میں ہے : ومن جاء بالسيئة فكبت وجوههم في النار اورجولوگ برا کام انجام دیں کے وہ منہ کے بل آگ میں ڈالے جائیں گے۔ کبھی یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تعبیر صرف جہنم کی آگ کے مقابلے میں ان کا اپنا دفاع نہ کرسکنے کے لیے کنایہ ہے۔ یہ تینوں تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اورممکن ہے کہ یہ سب آیت کے مفهوم میں جمع ہوں۔ اس کے بعدایت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے : اس دن ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کیاکرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو (وقيل للظالمين ذوقوا ماکنتم تكسبون ) ہاں! عذاب کے فرشتے ان سے یہ درد ناک حقیقت بیان کریں گے کہ یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جو تمھارے سامنے آۓ ہیں اور تمہیں تکلیف دے رہے ہیں اور یہ بیان خود ان کے لیے ایک اور روحانی اذیت ہوگی ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ اپنے اعمال کی سزا اور عذاب بھگتو بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ اپنے اعمال کو چکھو اور بات "تجسم اعمال" پر بھی ایک اور شاہد ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اب تک جو کچھ بیان ہوا ہے وہ قیامت میں ان کے لیے دردناک عذاب کی طرف ایک اشارہ تھا۔بعد والی آیت ان کے لیے دنیاوی عذاب کی بات کرتی ہے تاکہ کہیں وہ یہ تصور نہ کرنے لگیں کہ وہ اس دنیاوی زندگی میں تو امان میں ہی رہیں گے۔ ارشاد ہوتا ہے : وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے، انھوں نے بھی ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ، تو عذاب الٰہی ایسی جگہ سے ان پرنازل ہوا جہاں کا انہیں گمان بھی نہیں تھا۔ (كب الذين من قبلهم فآتاهم العذاب من حيثو لا يشعرون) ۔ اگر انسان کو کسی ایسی جگہ سے ضرب گئے جہاں سے اسے توقع ہوتو وہ زیادہ دردناک نہیں ہوتی لیکن اگر اسے کسی ایسی جگہ ضرب لگے جہاں سے اسے ہرگز توقع نہ ہو تو وہ اس کے لیے کہیں زیادہ درناک ہوتی ہے مگر اس کے نزدیک ترین دوستوں اس کی زندگی کی محبوب ترین چیزوں سے ،اس پانی سے جو اس کی زندگی کا سبب ہے ،اس باد نسیم سے اس کی نشاط وخوشی کا موجب ہے، اس سکون وراحت والی زمین سے جو اس کی استراحت اور امن وامان کا مقام سمجھی جاتی ہے۔ ہاں! عذاب الٰہی کا ان طریقوں سے نزول بہت ہی دردناک ہے اور یہ وہی چیز ہے جو قوم نوح ، عادوثمود، قوم لوط ، قوم فرعون و قاروان وغیرہ کے بارے میں بیان ہوئی ہیں۔ ان میں سے ہرایک قوم انھی میں سے کسی ایک طریقے سے گرفتارعذاب بوئی اور جس کے بارے میں اسے ہرگز توقع نہ تھی۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخری زیربحث آیت میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان کے لیے دنیاوی عذاب صرف جسمانی پہلوہی نہیں رکھتاتھا بلکہ نفسیاتی وروحانی عذاب بھی تھا، فرمایا گیا ہے : خدا نے انھیں اس دنیاوی زندگی میں بھی ذلت وخواری کا مزہ چکھایا (فاذاقم الله الخزي في الحيوة الدنيا)۔ ؎1 ہاں! اگر انسان کو مصیبت میں گرفتار ہوجائے لیکن وہ آبرومندانہ اور سربلندی کے ساتھ جان د ے دے تویہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ذلت وخواری کے مساتھ جان دے اور بے آبروئی اور رسوائی کے ساتھ عذاب کے چنگل میں گرفتارہو جا ئے ۔ لیکن ان تمام چیزوں کے با وجود آخرت کا عذاب زیادہ سخت زیادہ شدید اور زیادہ دردناک ہے ، اگر وہ جانتے (ولعذاب الأخرة اکبرلو كانوايعلمون)۔ لفظ "اکبر" (زیاده بڑا) عذاب کی شدت اور سختی کے لیے کنا یہ ے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ