تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
The [gradual] sending down of the Book is from Allah, the All-mighty, the All-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 39:1
[Pooya/Ali Commentary 39:1] The Quran is a complete book of wisdom and guidance revealed to the Holy Prophet by the almighty and all-wise Allah, who has absolute power to choose whomsoever He likes for receiving the revelation and conveying it to mankind. Aqa Mahdi Puya says: As per verse 3 of Dukhan the whole Quran was revealed to the Holy Prophet in the night of Qadr, but he recited it to the people as and when commanded by Allah which is described as the gradual revelation. Refer to the commentary of Baqarah: 2 and my essay "The genuineness of the holy Quran." Worship, obedience and gratitude is due to Allah, and to establish them on the earth is the mission of the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt. To seek nearness to Allah man should use the true means of approach to Him. The true medium (wasilah) is the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt, because by their wisdom and character they have proved that they alone are the superior most individuals in submission to Allah's will and command. Islam prescribes goodness which is carrying out Allah's commands in letter and spirit in every department of life at all times, in private and public, in thought and action, in minutest detail.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 39:1-9
Embryo as it is born is guarded in the placenta lying in the uterus within the abdominal cavity, where it is nourished under the blood of the menses as water grows vegetation, until it is fit to suckle milk which is reconverted from blood, apart from excreta. Such is the Might design of the Almighty.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:1-3
سورة زمر / آیه 1 - 3
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ (1) تَنْزِيْلُ الْكِتَابِ مِنَ اللّـٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِـيْمِ (2) اِنَّـآ اَنْزَلْنَـآ اِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّـٰهَ مُخْلِصًا لَّـهُ الدِّيْنَ (3) اَلَا لِلّـٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ ۚ وَالَّـذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٓ ٖ اَوْلِيَآءَۚ مَا نَعْبُدُهُـمْ اِلَّا لِيُـقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّـٰهِ زُلْفٰىؕ اِنَّ اللّـٰهَ يَحْكُمُ بَيْنَـهُـمْ فِىْ مَا هُـمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِىْ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ ترجمہ رحمٰن و رحیم خدا کے نام سے (1) یہ کتاب خداوند عزیز و حکیم کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ (2) ہم نے اس کتاب کوحق کے ساتھ تجھ پر نازل کیا ہے ۔ پس تم خدا کی عبادت کرو اور اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرلو۔ (3) آگاہ رہو کہ دین خالص اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ لوگ کہ جنھوں نے خدا کے علاوہ اپنے اولیاء قرار د ے لیے ہیں اور ان کی دلیل یہ ہے کہ ہم ان کی پرستش نہیں کرتے مگرصرف اس لیے کہ یہ ہمیں خدا سے نزدیک کر دیں گے ، جس چیز میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا قیامت کے دن ان کے درمیان اس کا فیصلہ کردےگا ، خدا اس شخص کو جھوٹا اور کفران کرنے والا ہے کھی بھی ہدایت نہیں کرے گا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:1-3
دین کو شرک سے پاک کرو
تفسیر دین کو شرک سے پاک کرو یہ سورہ قرآن مجید کے نزول سے متعلق دوآیات سے شروع ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک آیت میں تو نزول قرآن کے مبدا ء یعنی خدا کی پاک ذات کے متعلق بیان ہے اور دوسری آیت میں قرآن کے مطالب و مقاصد کے بارے میں گفتگو ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے : یہ کتاب ، خداوند عزیزوحکیم کی طرف سے نازل ہوئی ہے (تنزيل الكتاب من الله العزيزالحکیم)۔ ہر کتاب کو اس کے نازل کرنے والے یا لکھنے والے سے پہچاننا چاہیے اور جب مہیں معلوم ہوجائے کہ اس عظیم آسمانی کتاب سرچشمہ ایک قادر و حاکیم خدا کاعلم ہے جس کی ہے پایاں قدرت کے مقابلے میں کوئی چیز مشکل نہیں ہے اور کوئی امر اس کے لامتناہی علم مخفی نہیں رہتا تو ہمیں اس کے مضامین کی عظمت کا علم ہوجاتا ہے اور مزید کسی وضاحت کے بغیر ہی ہمیں یقین آ جاتا ہے کہ اس کے مطالب حق ہیں اور یہ سراسر حکمت ، نور اور ہدایت ہے۔ ضمنی طور پر قرآن کی سورتوں کے آغازمیں اس قسم کی تعبیریں مؤمنین کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ اس عظیم کتاب میں جو کچھ بھٍی بیان کیا گیا ہے وہ خداکا کلام ہے ، پیغمبر کا کلام نہیں ہے اگرچہ پیغمبر اکرمؐ کا کلام بھی بلند مرتبہ اور حکیمانہ ہے۔ اس کے بعداس آسمانی کتاب کے مطالب ومقصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے ، ہم نے اس کتاب کوخق کے سا تھ تجھ پر نازل کیا بے (انا انزلنااليك الكتاب بالحق)۔ اس میں حق کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور توحق کے سوا اور کوئی مطلب اس میں مشاہدہ نہیں کرے گا۔ اسی وجہ سے حق طلب لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں اور وادی حقیقت کے پیاسے اس کے مطالب کی جستجومیں لگے ہوئے ہیں۔ نیز اس کے نازل کرنے کا مقصد چونکہ انسانوں کو خالص دین پہنچانا ہے اس لیے آیت کے آخری مزیر فرمایا گیا ہے، اب جبکہ یہ بات ہے تو پھر خدا کی پرستش کر، اس حال میں کہ اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرلے" ( فاعبد الله مخلصًا لہ الدین )۔ ممکن ہے یہاں "دین" سے مراد خدا کی عبادت ہو کیونکہ اس سے پہلے "فاعبد الله" کے ذریرے عبادت کاحکم دیاگیا ہے ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 " تنزيل الكتاب " ایک مبتدائے محذوف کی خبر ہے اور تقدیرمیں اس طرح ہے :" هذا نتزيل الكتاب " بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "تنزيل الكتاب " مبتداء ہے اور "من الله " اس کی خبر ہے۔ لیکن پہلا احتمال زیادہ صحیح نظرآتا ہے ۔ ضمنًا "تنزیل" میں مصدرہے جواسم مفعول کے معنی میں ہے اور صفت کی موصوف کی طرف اضافت بے یعنی " هذا کتاب. منزل من الله .. - - - - - " ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اس بنا پر اس کا لاحقہ جو "مخلصًاله الدين" ہے صحت عبادت کی شرط یعنی اخلاص اور ہرقسم کے شرک وریا اورغیرخداسے خالی ہونے کو بیان کرتا ہے۔ اس حالت میں "دین" کے مفہوم کی وسعت اور اس میں کسی شرط کانہ ہونا زیادہ وسیع معنی پر دلالت کرتاہے، جس میں عبادت بھی شامل ہے اور دوسرے اعمال بھی اور اعتقادات بھی ۔ دوسرے لفظوں میں "دین" انسان کی روحانی اور مادی حیات کے مجموعے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ لہذاخدا کے خالص بندوں کو چاہیے ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام حالات کو اس کے لیے خالص بنائیں اور اس کے غیر کو خانہ دل، صحن جان اور میدان عمل اور دائر گفتار سے دور کر دیں ۔ اس کے لیے غورو فکرکریں۔ اسی کے لیے دوست بنائیں ۔ اسی کی بات کریں ۔ اسی کے لیے عمل کریں اور ہمیشہ اس کی رضا کی راہ میں قدم اٹھائیں ۔ کیونکہ "اخلاص دین یہی ہے۔ اسی بنا پرآیت کے مفہوم کو "لااله الا الله" ، کی شہادت میں یا خاص" عبادت و اطاعت" میں محدود کرنانہ تو ضروری ہے اورنہ ہی اس پر کوئی واضح دلیل موجود ہے ۔ بعد والی آیت میں دوبارہ مسئلہ اخلاص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : آگاہ ہوکہ دین خالص اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ (الاللہ الدين الخالص ) اس عبارت میں دو معانی کی گنجائش ہے پہلایہ کہ : جسے خدا قبول کرتا ہے وہ صرف دین خالص ہے اور صرف اس کے فرمان کے سا منے بلاکسی شرط کے سر تسلیم خم کرناہے اور قسم کا شرک وریا اور قوانین خداوندی کوان کے غیر کے ساتھ ملانا مردود ومسترد ہے۔ دوسرا یہ کہ : خالص دین و آئین صرف خدا سے ہی لینا چاہیے کیونکہ جو کچھ انسانوں کے افکار کا ساخته و پرداختہ ہے وہ نارسا اور خطاو اشتباہ کی آمیزش رکھتا ہے۔ لیکن سابق آیت کے مفہوم کو پیش نظر رکھیں تو پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے ، کیونکہ وہاں اخلاص کا باعث بندے ہیں۔ اس بنا پر زیر بحث آیت میں بھی خلوص کی انھیں کی طرف نسبت ہونی چاہیے۔ اس بات کا دوسرا شاہد وہ حدیث ہے جو پیغمبر گرامیؐ سے نقل ہوئی ہے ۔ ایک شخص آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول الله و انا نعطي اموالنا التماس الذكر فهل لتا من اجل : فقال رسول الله (ص) ،قال يارسول الله! أنا نعطى التماس الأجروالذكر، فهل لنا اجر، فقال رسول الله (ص) أن الله تعالٰی لامن اخلص له ، ثم تلا رسول الله (ص) هذه الاية الالله الدين الخالص ، یارسول اللہ ! ہم اپنے اموال دوسروں کو بخشتے ہیں تاکہ ہم اپنا نام ونمود لوگوں کے درمیان پیدا کریں، تو کیا ہمارے لیے کوئی اجرہے؟ فرمایا:نہیں۔ پھر ا س نے عرض کیا : ہم بعض اوقات خدا سے اجر کے حصول کے لیے بھی اور نام ونمود کے لیے بھی بخشش کرتے ہیں توکیا اس صورت میں ہمارے لیے کوئی اجر و پاداش ہے۔ پیغمبراکرمؐ نے فرمایا : خدا کسی بھی چیز کو قبول نہیں کرتا سوائے اس کے جو اس کے لیے خالص ہو۔ پھرآپؐ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ لاله الدين الخالص ۔ ؎1 بہرحال یہ آیت حقیقت میں گزشتہ آیت کی دلیل بیان کر رہی ہے ۔ ہاں قرآن کہتا ہے : کہ خدا کی اخلاص کے ساتھ عبادت کرواور یہاں اضافہ کرتا ہے : جان لے کہ خدا تو صرف اس خالص عمل کو قبول کرتا ہے۔ آیات قرآن اور احادیث اسلامی میں مسئلہ اخلاص پر بہت کچھ فرمایا گیا ہے۔ زیر بحث جملے کی ابتداء" ألا" کے ساتھ جو عام طور پر توجہ مبذول کرنے کے لیے بولا جاتا ہے ، اسی موضوع کی اہمیت کی ایک اورنشانی ہے۔ اس کے مشرکین جو اخلاص کی راہ چھوڑ کر شرک کی بے راہ وی میں سرگرداں تھے کمزور او فضول منطق کو باطل کرتے ہوئے اس طرح فرمایا گیا ہے ، وہ لوگ جنہوں نے خدا کے سوا دوسروں کو اپنے اولیاء بنالیا ہے اوران کی دلیل یہ ہے کہ ہم ان کی پرستش نہیں کرتے مگر صرف اس لیے کہ یہ ہمیں خدا سے نزدیک کردیں، خدا قیامت کے دن جس چیزمیں وہ اختلاف کرتے ہیں ، ان کے درمیان فیصلہ کردےگا اور وہاں ان کے اعمال و افکار کی خرابی اور تباہی سب پر ظاہر ہو جائے گی ۔ (وَالَّـذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٓ ٖ اَوْلِيَآءَۚ مَا نَعْبُدُهُـمْ اِلَّا لِيُـقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّـٰهِ زُلْفٰىؕ اِنَّ اللّـٰهَ يَحْكُمُ بَيْنَـهُـمْ فِىْ مَا هُـمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ)۔ ؎2 یہ آیت حقیقت میں مشرکین کے لیے ایک قاطع اور دو ٹوک تہدید ہے قیامت کے دن اختلافات کے برطرف بونے اور حقائق کے ظابرواشکار ہونے کا دن ہے کہ خدا ان کے درمیان فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی سزا د ے گا ۔ علاوہ ازیں وہ میدان محشر میں سب کے سامنے ذلیل و رسوا بھی ہوں گے۔ یہاں بت پرستوں کو منظق وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ: بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ بت پرستی کا ایک سرچشمہ یہ ہے کہ ایک گروہ اپنے گمان میں خدا کی پاک ذات کو اس سے بزرگ وبالا سمجھتا تھاکہ ہماری عقل وفکر اس تک پہنچ سکےاور اس بنیاد پر وہ اس سے منزہ سمجھتا تھا کہ ہم براہ راست اس کی عبادت کریں ۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ ہم ایسے افراد کی طرف رخ کریں جن کے ذمے خدا کی طرف سے اس عالم کی ربوبیت اور تدبیر کر دی گئی ہے اور انھیں خدا اور اپنے درمیان واسطہ بنائیں۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 روح المعاني ، جلد 23 ص 212 (زیربحث آیات کے ذیل ہیں)۔ ؎2 یہ بات واضح ہے کہ زیربحث آیت میں" مانعبد هم " سے پہلے ایک جملہ مقدر ہے۔ "يقولون مانعبد هم............." ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- انھیں "ارباب" اورخداؤں کے طور پر قبول کرلیں اور ان کی پرستش کریں تاکہ وہ ہمیں خدا کے قریب کردیں اور وہ ملائکہ جن اور کلی طور پر کائنات کے مقدس موجودات ہیں۔ پھراس بنا پرمقدسین تک بھی دسترس ممکن نہیں تھی لہذا ان کی مورتیاں اور تصویریں بنالیاکرتے تھے اور ان کی پرستش کیا کرتے تھے، اوریہی بت تھے اورچونکہ وہ ان مورتیوں اورمقدسین کی ذوات کے درمیان ایک قسم کی وحدت کے قائل تھے لہذا وه بتوں کوبھی" ارباب" اورخدا خیال کرتے تھے۔ اس طرح سے ان کی نزدیک وہ موجودات ممکن ہی خداتھے جو خداوندعالم کی طرف سے پیدا کیے گئے تھے اور ان کے گمان میں وہ بارگاہ خق کے مقرب اور پروردگار کے حکم سے امور عالم کو چلانے والے تھے اور وہ خدا کو رب الارباب (خدائوں کا خدا) جانتے تھے جو عالم ہستی کا خالق اور آفریدگار ہے۔ ورنہ بت پرستوں سے بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو عقیدہ رکھتے ہوں کہ ہہ پتھر اور لکڑی کے بت ان کے خیالی خدا یعنی فرشتے اور جن وغیرہ تک بھی اس جہان کے خالق و آفریدگارہوں۔ ؎1 البتہ بت پرستی کے اور بھی بہت سے سرچشمے ہیں منجملہ ان کے یہ ہے کہ انبیاء اور صالح لوگوں کا احترام بعض اوقات اس بات کا سبب بنتا تھا کہ ان کی تصویروں اورمورتیوں کا بھی احترام کریں۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد ان تصویروں نے ایک مستقل صورت اختیارکرلی اوراحترام بھی پرستش میں تبدیل ہو گیا۔ اسی بنا پر اسلام مجمہ سازی کوسختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔ یہ چیز بھی تواریخ میں آئی ہے کہ زمانہ جابلیت کے عرب چونکہ کعبہ اور سرزمین مکہ کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے ، اس لیے بعض اوقات وہاں سے پتھر کے کہ کچھ ٹکڑے اپنے ساتھ مختلف علاقوں میں لے جاتے تھے ۔ پہلے تو صرف احترام کرتے اور پھرآہستہ آہستہ ان کی پرستش کر نے لگ جاتے۔ بہرحال یہ چیز اس بات جو "عمروبن لحی " کی داستان میں منقول ہے کوئی تضاد نہیں رکھتی کہ اس نے شام کے سفر کے موقع پر بت پرستی کے کچھ مناظر کا مشاہدہ کیا اور پہلی مرتبہ ایک بت اپنے ساتھ حجاز میں لے آیا اور بتوں کی پرستش اس وقت سے معمول بنی چونکہ جوکچھ ہم نے بیان کیا ہے ان میں سے ہر ایک بت پرستی کی کس ایک بنیاد کو بیان کرتا ہے اور شامیوں کے بتوں کی پرستش کرنے کا سبب بھی یہی امور ان جیسے امور ہیں۔ لیکن ہرصورت میں یہ سب بے بنیاد اوہام و خیالات تھے جو ناتوان دماغوں سے ٹپکتے تھے اور لوگوں کو خدا شناسی کے اصلی راستے سے منحرف کر دیتے تھے۔ قرآن مجید خصوصیت کے ساتھ اس نکتے پر تاکید کرتا ہے کہ انسان بغیری کسی واسطے کے خدا کے ساتھ تعلق پیدا کر سکتا ہے، اس سے گفتگو کر سکتا ہے ، رازو نیاز کرسکتا ہے، اپنی حاجت طلب کر سکتا ہے ، عفووبخشش کی درخواست کر سکتا ہے اور توبہ وانابت کرسکتا ہے، یہ سب چیزیں اسی لیے ہیں اسی کے اختیار و قدرت میں ہیں۔ سوره "حمد" اسی حقیقت کو بیان کر رہی ہے کیونکہ بند ے روزانہ نماز میں اس سورہ کے پڑھنے سے، دائمی طور پربراہ راست ا پنے پروردگار کے ساتھ رابط ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر المیزان ، جلد 17 ص 274 (کچھ فرق کے ساتھ)۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- رکھتے ہیں اس کو پکارتے ہیں اور بغیر کسی وا سطے کے اس سے دعا کرتے ہیں اور اپنی حاجات طلب کرتے ہیں ۔ اسلامی احکام میں توبہ و استغفار کا طریقہ اور اسی طرح خدائے بزرگ سے ہرقسم کی درخواستیں، جن سے ہماری ماثورہ دعائیں بھری پڑی ہیں ، یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسلام ان مسائل میں کسی واسطے کا قائل نہیں اور یہی حقیقت توحید ہے۔ یہاں تک کہ مسئلہ شفاعت اور اولیاء اللہ سے توسل بھی اذان پروردگاراوراس کی اجازت کے ساتھ مقید ہے او وہ بھی اسی مسئلہ توحید پرایک تاکید ہے۔ اسی طرح سے رابطہ قائم وبرقرار رہتایا ہے کیونکہ وہ ہم سے بھی، خود ہم سے بھی زیادہ قریب ہے، جیاکہ قرآن کہتا ہے: ونحن أقرب اليه من حبل الوريد ہم انسان کی شہ رگ گردن سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔ (ق ــــــــــــــ 16) ایک اور مقام پر فرمایا گیا ہے واعلموا ان الله یحول بین المرء و قلبه جان لو کہ خدا انسان اور اس کے دل کے درمیان رہتا ہے (انفال ــــــــــ24) ان حالات میں نہ وہ ہم سے دور ہے اور نہ ہم اس سے دور ہیں کہ واسطے کی ضرورت پڑے۔ وہ دوسرے ہر شخص کی نسبت ہم سے زیادہ نزدیک ہے وہ ہر جگہ موجود و حاضر ہے اور ہمارے دل کے اندر اس کی جگہ ہے۔ اسی بنا پر واسطوں کی پرستش چاہے وہ فرشتے اور جن ہوں یا ان کے مانند دوسری مخلوق اور چاہے پتھر اور لکڑیوں کے بتوں کی پرستش ہو ، ایک بے بنیاد اور جھوٹا عمل ہے۔ علاوہ ازیں پروردگارکی نعمتوں کا کفران بھی ہے۔، کیونکہ نعمت کا بخشنے والا پرستش کا حقدار ہے ن کہ بے جان سرا پانیازواختیاج موجودات . اس لیے آیت کے آخر میں قرآن کہتا ہے : خدا ایسے شخص کو جو جھوٹا اور کفران کرنے والا کبھی ہدایت نہیں کرتا (ان الله لا يهدي من هو كاذب کفار). نہ اس جہان میں صراط مستقیم کی طرف ہدایت اورنہ دوسرے جہان میں جنت کی طرف ہدایت ، کیونکہ اس نے خود ہدایت کے سب دروازوں کے بند ہونے کی بنیاد فراہم کر دی ہے ، کیونکہ خدا اپنی ہدایت کا فیض اسی زمینوں پر بھیجتا ہے جو اسے قبول کرنے کےلائق اوراس کے لیے آمادہ ہوں ، نہ کہ ان دلوں میں جانتے ہوئے شعوری طور پر قسم کی اہلیت کو تباہ کردیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:1-3
تـنزيل" اور" انزال میں فرق
تـنزيل" اور" انزال میں فرق ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس سورہ کی پہلی آیت میں "تـنزیل الکتاب" کی تعبیر ہے اور دوسری آیت میں "انزلنا اليك الكتاب" کی تعبیر ہے۔ "تـنزيل" اور "انزال" میں کیا فرق ہے اور ان آیات میں تعبیرکایہ اختلاف کس لیے ہے ؟ اس بارے میں جو کچھ چند لغات کےمتنوں سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ "تـنزیل" تو عام طور پر ایسے مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں کوئی چیز بتدتریج اور آہستہ آہستہ نازل ہوا، جب کہ "انزال" ایک عام معنی رکھتا ہے،جس میں نزول تدریجی بھی شامل ہےاور"دفعی"(ایک ہی مرتبہ کانزول)بھی۔ ؎1 بعض ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل سمجھتے ہیں اور ان کا خیال یہ ہے کہ "تنزیل" صرف نزول تدریجی ہے اور "انزال" صرف نزول دفعی ہے ۔ ؎2 اس بنا پر مذکور تعبیر کا اختلاف ممکن ہے اس بنا پر ہوکہ قرآن دوقسم کے نزول کا حامل ہے۔ ایک نزول دفعی (یعنی ایک کی مرتبہ) جو شب قدر میں اور ماه مبارک رمضان میں واقع ہوا، اس موقع پر قرآن اکھٹا پیغمبرگرامی اسلامؐ کے قلب مبارک پر نازل ہوا۔ جیسا کہ قرآن کیا ہے۔ اناانزلناه في ليلة القدر ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا۔ . (قدر ــــــــــــــــــ ا) انا انزلناه في ليلة مباركة ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا۔ (دخان ـــــــــــــ3) شهر رمضان الذی انزل في القرأن رمضان وہی مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا۔ (بقره ــــــــــ 185) ان تمام مواقع پر "انزال" کے مادہ سے استفادہ کیا گیا ہے جو قرآن کے دفعی (ایک ہی مرتبہ کے) نزول کی طرف اشارہ ہے۔ دوسرا نزول جو تدریجًا پیغمبراکرمؐ کی نبوت کے 23 سالہ دور میں صورت پذیر ہوا۔ ہرحادثے ہر واقعے میں اس سے مناسبت رکھنے والی آیات نازل ہوتی رئیں ۔ اس طریقے نے مسلمانوں کو مرحلہ به مرحلہ روحانی، اخلاقی، اعتقای اور اجتماعی کمال کے مدارج طے کرائے۔ جیساکہ سوره بنی اسرائیل کی آیہ 106 اس میں بیان ہوا ہے۔ وقرانا فرقناه لتقرار على الناس على مكث ونزلناہ اتنزیلاً ہم نے تجھ پر قرآن نازل کیا جو ایک دوسرے سے جدا آیتوں کی صورت میں ہے تاکہ تواسے تدریجًا اور آہستہ آہستہ لوگوں کے سامنے پڑھے (اور یہ دلوں میں جذب ہو جائے) اور ہم نے اس قران کو قطعی طور پر تدریجًا نازل کیا۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ بعض اوقات ایک ہی آیت میں دونوں تعبیریں دو الگ الگ مقاصد کے لیے استعمال ہوئی ہیں ۔ جیسا کہ قرآن مجید سورہ محمد کی آیہ 20 میں کہتا ہے : ويقول الذين امنوا لولا نزلت سورة فاذا انزلت سورة محكمة وذكر فيها القتال رأيت الذين في قلوبهم مرض ينظرون اليك نظر المغشى عليه من الموت ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مفردات راغب مادہ" نزل" والفرق بين الانزال والتنزيل في وصف القران والملائكة ان التنزيل بختص بالموضع الذي بشیر الیه انزالہ مفرقاو مرة بعد اخرٰ والا نزال عام"۔ ؎2 تفسیر فخررازی میں بعض سے یہ فرق نقل ہوا ہے۔ ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- مومنین کہتے ہیں کہ کوئی سورہ نازل کیوں نہ ہوئی؟ جس وقت محکم سورہ نازل ہو جائے گی اور اس میں جنگ کا ذکر ہوگا . تو، تُو بیماردل منافقوں کو دیکھے گا کہ وہ کس طرح سے تیری طرف دیکھ رہے ہیں جیسے ان کی روح قبض کی جاری ہے۔ گویا مومنین ایک سورہ کے تدریجی نزول کا تقاضا کرتے ہیں تا کہ وہ ا س کے خوگر ہو جائیں لیکن کیونکہ بعض اوقات انکی سورہ کا تدریجی نزول کچھ وسائل کے موقعوں پر مثلًا جہاد میں منافقین کے سواء استفادہ کا سبب بنتا تھا تاکہ مرحلہ بہ مرحلہ اس سے پہلوتہی کرلیں، تو ایسے مواقع پر پوری سورۃ ایک ہی ساتھ نازل ہوجاتی تھی۔ یہ آخری چیز ہے جو ان دونوں تعبیروں کے فرق کے سلسلہ میں کہی جاسکتی ہے اور اس کے مطابق زیربحث آیات میں دونوں قسم کے نزول کی طرف اشارہ ہوا ہے اس لحاظ سے یہ کامل جاحیت رکھتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود مذکورہ بالا تفسیر اور فرق کے استثنائی مواقع بھی موجود ہیں۔ منجملہ ان کے سوره فرقان کی آیہ 32 میں بیان ہوا ۔ وقال الذین کفروا لولانزل عليه القرأن جملة واحدة كذالك لنثبت به فؤادك و رتلناه ترتیلا کافروں نے کہا قرآن اکٹھا اور یکجا کیوں نازل نہیں ہوتا ؟یہ اس بنا پر ہے کہ ہم تیرے دل کو محکم کر دیں ، اس لیے ہم نے اسے نہ تدریجًا تیرے لیے پڑھاہے۔ البتہ ان دونوں قسم کے "نزول" میں سے ہرایک کے کچھ فوائدو آثار ہیں، جن کی طرف متعلقہ جگہ اشارہ کیا گیا ہے ۔ ؎1 -------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 قرآن کے تدریجی نزول کے بارے میں ہم نے جلد 15 میں تفصیلی بحث کی ہے۔ ---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------