قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
Said He, ‘The truth is that—and I speak the truth—
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 38:84
[Pooya/Ali Commentary 38:84] (see commentary for verse 71)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 38:84-88
متکلف کون ہے؟
متکلف کون ہے؟ زیربحث آیات میں بیان ہوا ہے کہ رسول اکرمؐ اپنے افتخارات میں سے ایک یہ شمار کرتے ہیں کہ میں متکلفین میں سے نہیں ہوں۔ روایات میں بہت زیادہ مباحث "متکلفین" کی نشانیوں اور علامتوں کے بارے میں موجود ہیں۔ ایک حدیث میں جو "جوامع الجامع" میں پیغمبراکرمؐ سے نقل ہوئی ہے ، یہ آیا ہے: للمتكلف ثلاث علامات؛ ينازع من فوقه، ويتعاطی مالاینال، ويقول مالا يعلم متکلف کی تین نشانیاں ہیں۔ ہمیشہ اپنے سے اوپر کے لوگوں سے نزاع اور پرخاش رکھتا ہے، ایسے امور کے پیچھے لگا رہتا ہے جن تک کبی نہیں پہنچ سکتا ، اور ایسے مطـــالب کے بــارے میں گـفتگــو کرتا ہے جن سے آگاہی نہیں رکھتا۔ ؎2 یہی مضمون ایک دوسری عبارت کے ساتھ امام صادقؑ سمیت سے لقمان حکیم کے کلمات میں بھی آیا ہے۔ ایک اور حدیث میں پیغمبراکرمؑ کی علیؑ سے وصیتوں میں بیان ہوا ہے۔ للمتكلف ثلاث علامات يتعلق اذا حضر ، و يغتاب اذاغاب ، ويشمت بالمصیبة متکلف کی تین نشانیاں ہیں: ------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎ 1 جوامع الجامع ، المیزان جلد 17 ص 234 کے مطابق۔ --------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 1- سامنے چاپلوسی کرتا ہے۔ 2- پیٹھ پیچھے غیبت کرتا ہے۔ 3- اور مصیبت کے وقت شماتت کرنے لگتا ہے امام صادقؑ سے ایک اور حدیث میں منقول ہے۔ المتكلف مخطي و ان اصاب. و المتكلف لا يستجلب في عاقبة أمره الا الهوان ، وفي الوقت الا التعب و العناء والشقاء، والمتكلف ظاهرہ ریاء و باطنه نفاق. وهما جناحان بهما يطير المتكلف ، و ليس في الجملة من اخلاق الصالحين، ولا من شعار المتقين المتكلف في اي باب كما قال الله تعالى لنبيه قال ما اسئلکم عليه من اجر وماانا من المتكلفين متکلف خطا کار ہے چاہے وہ ظاہرًا حقیقت تک پہنچ بھی جائے۔ متکلف کو آخرالامر سوائے پستی اور خواری کے اور کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ اور آج بھی سوائے رنج و تکلیف اور زحمت و ناراحتی کے اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ متكلفت کا ظاہر ریا اور اس کا باطن نفاق ہے اور وہ ہمیشہ ان کی دونوں پروں کےساتھ پرواز کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ تکلف صالحین کے اخلاق اورمتقین کے شعار میں سے نہیں ہے چاہے وہ اس بات میں بھی ہو جیسا کہ خدا اپنے پیغمبــــــؐرسے فرماتا ہے : کہہ دے ! میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا اور میں متکلفین میں سے نہیں ہوں۔ ؎2 ان سب روایات سے مجموعی طورپر معلوم ہوتاہے متکلفین وہ لوگ ہیں جوحق و عدالت اور راستی و درستی کے راستے سے قدم باہر رکھتے ہوئے حقائق کو نظرانداز کر دیتے ہیں، خیالات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ۔ ایسے امور کی جن کے بارے میں آگاہ نہیں رکھتے ، خبردیتے ہیں اور جن امور کو نہیں جانتے ان میں دخل اندازی کرتے ہیں ۔ ان کا ظاہر و باطن الگ الگ ہے۔ اوران کا حضور غياب متضاد ہیں وہ خودکو رنج و زحمت میں ڈالتے ہیں اور سرپھڑانے اور بدبختی کے سوا کوئی نتیجہ انھیں نہیں ملتا اور پرہزگار اور صالح لوگ" صفت" سے بالکل پاک اور منزہ ہیں۔ ------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نورالثقلین ، جلد 4 ص 473 ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- پروردگارا! ہمیں توفیق عنایت فرماکہ ہم تكلف، نفاق، تمرد اور سرکشی کے تمام آثار سے دور رہیں۔ خداوندا! ہہیں مخلصین کی صف میں قرار دے جن کی تو اپنی حمایت کے سایہ تلے حفاظت فرماتا ہے اور گمراہ کرنے والا شیطان ان سے مایوس ہے ۔ بارالها! ہمیں وہ بیداری اور سمجھ داری مرحمت فرما کہ اس قرآن عظیم کے مطالب و معانی کو زندہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ ہم ساری دنیا کے مسلمانوں کی طاقت و قوت کو اکٹھا کریں اوریک دل اور یک زبان ہو کر تیری راہ میں قدم بڑھائیں اورحق و حقیقت کے دشمنوں کا قلع قمع کر کے رکھ دی ۔ آمین یارب العالمین سورة ص کی تفسیر کا اختتام بروز پیر 9 شوال1404 هم
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 38:84-88
ابلیسں کے بارے میں آخری بات
تفسیر ابلیسں کے بارے میں آخری بات یہ آیات جو سورة ص کی آخری آیات ہیں، حقیقت میں اس سورہ کے سارے مضامین کا خلاصہ اور ان تمام مختلف بحثوں کانتیجہ ہیں جواس سورہ میں بیان ہوئی ہیں ۔ پہلے توابلیسں کے جواب میں جس نے یہ دھمکی دی تھی کہ وہ مخلصین کے سواسب انسانوں کو گمراہ کر کے رکھ دے گا ۔ خدااتعالی نے فرمایا ہے : حق کی قسم اور میں حق ہی کہتابوں ( قال فالحق والحق اقول) ۔ ؎1 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ -------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس جملہ کی ترکیب کے بارے میں بہت اختلاف ہے۔ ممکن ہے "الحق" مبتدا ہو اور "قسمی" جو اس کی خبر ہے محزوف ہو اوریہ بھی ممکن ہے کہ اس کی خبر "قولی بو "فالحق مولی" یہ احتمال بھی موجود ہےکہ ایک محزوف مبتدا کی خبر ہو " هذا هورالحق " یا "(اناالحق) ہو ۔ ------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کہ میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیرو کاروں سے بھردوں گا ( لاملئن جهنم منك وممن تبعك منهم ) جو کچھ ابتداء سورہ سے یہاں کا بیان ہوا ہے وہ سب حق تھا اور جو کچھ ان عظیم پیغمبروں نے ، جن کی زندگی کا ایک گوشہ اس سورہ میں آیا ہے ۔ اس کے لیے جنگ و پیکاراورجہاد کیا ،وہ حق تھا۔ قیامت اور سرکشوں کے دردناک عذاب اور جنات کی انواع واقسام کی نعمتوں کی جو باتیں اس سورہ میں بیان ہوئی ہیں وہ سب حق تھیں ۔ اس سورہ کا اختتام بھی حق ہے اورخداحق کی قسم کھاتا ہے اورحق بات کرتا ہے کہ جہنم کو شیطان اور اس کے پیروکاروں سے بھر دوں گے تاکہ انسانوں کو گمراہ کرنے کے بارے میں ابلیس کی اس بات کا ایک قطعی اوردوٹوک جواب دیا جائے کہ جو اس نے قاطعیت کے طور پر کہی تھی ۔ یہ اس لیے ہے تاکہ سب کی ذمہ داری واضح کر دی جائے . بہرحال یہ دونوں جملے بہت سی تاکیدات پرمشتمل ہیں : دو مرتبہ حق ہونے کی تاکید ہے اور قسم کھائی گئی ہے ۔ اور " لاملئن " بھی نون تاکیید ثقلیہ کے ساتھ ہے اور ان سب پر"اجمعین" کی ایک اور تاکید ہے تاکہ کسی کو معمولی سا بھی شک و شبہ اس بارے میں ہونے پائے کہ شیطان اور اس کے پیروکاروں کے لیے کوئی راہ نجات نہیں ہے اور ان کا اس راہ پر چلتے انھیں ہلاکت کے گھرتک پہنچا دے گا۔ اس کے بعد اس گفتگو کے آخر میں چاراهم مطالب کی طرف مختصر اورواضح عبارتوں کے ساتھ اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں فرمایا گیا ہے: کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا۔ ( قل ما اسئلکم علیه من اجر )۔ اس طرح سے بہانہ جوئی کرنے والوں کے بہانوں کو ختم کردیا ہے اور واضح کردیا ہے کہ میں تو صرف تمھاری نجات اور سعادت کا خواہاں ہوں ، نہ کوئی مادی اجرتم سے چاہتا ہوں اور نہ کوئی معنوی ، قدردانی ،نہ شکرگزاری، نہ مقام ومنزلت اور نہ حکومت، کیونکہ میرا اجر تو خدا کے ذمہ ہے ۔ جیسا کہ قرآن مجید کی دوسری آیات۔ مثلا سورۃ سبا کی آیہ 47۔ میں اس کی تریح ہوئی ہے : ان اجری و الاعلى الله یہ بات خود پیغمبر اکرمؐ کی صداقت کی ایک دلیل ہے کیونکہ جھوٹے مدعی مختلف قسم کے لالچ کے نئے دعوے کرتے ہیں اور ان کا لالچ ان کی کئی باتوں سے بہرصورت واضح و آشکار ہوجاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں فرمایا گیا ہے : میں متکلفین میں سے نہیں ہوں بلکہ میری باتیں دلیل وہ منطلق کے ساتھ ہوتی ہیں اورکسی قسم کا تکلف ان میں نہیں ہے۔ میری عبارتیں واضح اور میری باتیں ہر قسم کے ابہام اور پیچیدگی سے خالی ہیں (وما أنا من المتکلفين)۔ حقیقت میں پہلا جملہ دعوت کرنے والے کے اوصاف کے بارے میں ہے اور دوسرا جملہ اس کے دعوے کے مطالب کی کیفیت کے متعلق اور واقعًا یہ" آفتاب آمد دلیل آفتاب" کا مصداق ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ تیسرے مرحلے میں اس عظیم دعوت اور آسمانی کتاب کے نزول کا اصلی ہدف بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے، یہ قرآن سارے جہان والوں کے لیے نصحیت ، یا ددہانی اور بیداری کا ذریعہ ہے (ان هو الا ذكر للعالمین) ہاں ! اہم بات یہ ہے کہ لوگ غفلت سے باہر نکلیں اور غوروفکر کریں کیونکہ راستہ واضح ہے اور اس کی نشانیاں آشکار ہیں اورانسان کے اندرایک ایسی پاک و پاکیزہ فطرت ہے جو اس کی راہنمائی کرتی ہے اور راہ توحید وتقوی کی طرف کھینچتی ہے، اہم بات تو بیداری ہے اور پیغمبروں اور آسمانی کتابوں کی اصلی ذمہ داری یہی ہے۔ يہ تعبیربں کی نظر قرآن مجید میں کم نہیں ہے، اس بات کی نشاندہ کرتی ہے کہ انبیاء کی دعوت کے مطالب تمام مراحل ہیں، خداداد فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور یہ دونوں ایک ساتھ مل کر پیش رفت کرتے ہیں۔ چوتھے اور آخری مرحلے میں مخالفین کو مختصر اورمعنی خیز عبارتوں کے ساتھ تہدید بکرتے ہوئے قرآن کہتا ہے تم اس کی خبر ایک مدت کے بعد سن لوگے (ولتعلمن نباہ بعد حين). ممکن ہے تم ان باتوں کو سنجیدگی سے ساتھ قبول نہ کرو، اور ان کے پاس سے بے اعتنائی کے ساتھ گزر جاؤ ، لیکن بہت جلد میري گفتگو کی صداقت واضح ہوجائے گی ۔ اس جہان میں بھی اسلام و کفرکی جنگ ، اجتمائی اور فکری نفود کے مقام پر اور خدائی عذاب کے موقع پر اور دوسرے جہان میں بھی خدا کا دردناک عذاب دیکھ لو گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ اپنے موقع پر اپنی آنکھ سے مشاہدہ کرلو گے۔ مختصریہ ہے کہ خدائی تازیانہ آمادہ ہے اور بہت جلد مستکبرین اور ظالموں پرسے گا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 38:84-88
سوره ص / آیه 84 - 88
(84) قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ اَقُوْلُ (85) لَاَمْلَاَنَّ جَهَنَّـمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْـهُـمْ اَجْـمَعِيْنَ (86) قُلْ مَآ اَسْاَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّـفِيْنَ (87) اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِيْنَ (88) وَلَـتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٝ بَعْدَ حِيْنٍ ترجمہ (84) فرمایا: حق کی قسم ! اورمیں حق ہی کہتا ہوں۔ (85) کہ میں جہنم کو تجھ سے اورتیرے پیرو کاروں سے بھر دوں گا۔ (86) اے پیغمبر) کہہ دو میں تم سے کوئی کسی قسم اجر طلب کا متکلفین نہیں ہے (87) (یہ قرآن) تمام عالمیں کے لیے تذکرـ(اوریاد دہانی) زریعہ ہے (88) اور تم اس کی خبر کی مدت کے بعد ضرورسن لوگے۔