وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ
And remember Our servant Job [in the Quran]. When he called out to his Lord, ‘The devil has visited on me hardship and torment,’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 38:41
[Pooya/Ali Commentary 38:41] See commentary of Anbiya: 83 and 84. Ayyub was the son-in-law of Yusuf. He had abundant wealth and many children. Then he lost his home, his possessions, his family; and suffered from sores, but he did not lose faith, he turned to Allah. Those lacking faith suspected that Ayyub had committed some sin and was being punished, but those good at heart, said that he, as a prophet of Allah, was being tested to manifest ideal patience. Shaytan, during his sufferings, tried to make him lose confidence in the mercy of Allah. Ayyub, in his prayer to Allah, referred to Shaytan's endeavor to disturb his faith in Him and to the belief of vain people about his having committed some sin which had drawn His anger. When Shaytan failed in his every effort to strip Ayyub of his title of "the patient" he beguiled Ayyub's wife to lead him astray. He went to her as an experienced physician and convinced her that if she could take the sheep he had with him and sacrifice it in his name, he would immediately be cured. Since the wife was interested in Ayyub's welfare, she came to him and related the suggestion of the physician. Ayyub warned his wife not to be misled by the man because he was none but Shaytan. Shaytan came back again as a beautiful young man astride a thorough bred stallion and told her: "I am the king of the earth, and since your husband worshipped Allah, the king of the heavens, not me, it was I who caused the loss of your children and wealth. If, now, you prostrate before me once, l shall make your husband well again." She promised to do as he wanted if her husband allowed her to do so. Then Shaytan asked her to at least persuade Ayyub not to say bismillah before eating a meal and alhamdulillah after finishing it. Hardly had she mentioned the proposal, Ayyub was so much disturbed at the very audacity of it that he swore forewith to punish her with hundred stripes. Then he prayed to Allah: "Indeed an affliction has distressed me." There is another version that once when there was no food in the house she went to get at least a loaf of bread for Ayyub. A man attracted by her lovely hair agreed to give her food in exchange of a bunch of her hair. She gave it to him and brought some food. In those days hair of a woman was cut and removed if she was found guilty of fornication. It greatly pained Ayyub to see her head without her beautiful hair. He then swore to punish her with hundred stripes. The prophet of Allah Ayyub used to pray for those who came to him with incurable diseases and ailments. But when they asked him why he did not pray for himself, he said: "I have enjoyed Allah's grace and blessing for 80 years, and it would be downright ingratitude if now I grumble when I have been made to taste distress for some time." In his seven years illness he never uttered a single word of remonstration or grief, but due to the persistent pestering of Shaytan, he used to invite Allah's attention and help for combating his evil designs. The highest example of patience and fortitude to demonstrate total submission to the will of Allah was set forth by the grandsons of the Holy Prophet, Imam Husayn bin Ali in Karbala and Imam Ali bin Husayn Zayn al Abidin in Kufa and Damascus. They were the true inheritors of the Holy Prophet in whom all the virtues of all the prophets of Allah had been deposited by Allah in the highest degree. Aqa Mahdi Puya says: "Shaytan has afflicted me with distress" refers to the hardships Ayyub had to face and overcome with the help of Allah in the cause of righteousness. The arch opponent of righteousness is Shaytan who represents rebellion, evil and disorder.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 38:41-64
A source of gratification to the Shias.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 38:41-44
1- ایوب کی داستان کے اہم درس
چنداہم نکات 1- ایوب کی داستان کے اہم درس: اس کے باوجود کہ اس صابر پیغمبر کی ساری سرگزشت اس سورہ کی صرف چار آیتوں میں آئی ہے لیکن یہی مقدار جو قرآن نےبیان کی ہےبہت سےاہم حقائق کےلیےہدایت بخش ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 اس معنی کی نظیر حدوداسلامی اور ان کے اجرا کے باب میں خطا کار بیماروں کے بارے میں بھی آئی ہے (کتاب الحدودہ ۔ ابواب حد الزنا) ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ الف: خدا کی طرف سے آزمائش کا میدان اتنا وسیع اور کشادہ ہےکہ عظیم پیغمبرتک بھی شدید ترین اور سخت ترین آزمائشوں سے گزارے جاتے ہیں کیونکہ اس جہان کی زندگی کا مزاج اسی بنیاد پر کیا گیا ہے ۔ اصولی طور پر انسانوں کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں سخت قسم کی آزمائشوں کے بغیر ظاہر نہیں ہوتیں۔ ب : شدت اورسختی کے بعد فرخ وکشائش ، یہ دوسرا نکتہ ہے جو اس داستان میں چھپا ہواہے۔ جب امواج مشکلات و بالا ہرطرف سے انسان کو دباتی ہیں تو اسے نہ صرف مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے رحمت الہی کے دروازے کھلنے کی نشانی اور ایک تمہید سمجھنا چاہیے، جیسا کہ امیرالمومنین علی فرماتے ہیں : عند تناهى الشدة تكون الفرجة ، وعند تضايق حلق البلاء يكون الرخاء جب سختیاں اپنی بلندی کو پہنچ جاتی ہیں تو فرج وکشائشی نزد یک ہوجاتی ہے، اور وقت بلا مصیبت کے لئے زیادہ تنگ ہوجاتے ہیں توراحت و آسودگی آن پہنچتی ہیے۔ ؎1 ج: اس داستان سے زندگی کی سخت مشکلات اور مصائب کے بعض فلسفے اچھی طرح سے واضح ہو جاتے ہیں ، جولوگ توحید کی بحث میں آفات اور بلاؤں کو برہان نظم کے برخلاف مادہ نقض سمجھتے ہیں انھیں یہ داستان یہ جواب دیتی ہے، کہ ان سخت حوادث کا وجود بعض اوقات انسانوں کی زندگی میں عظیم انبیاء سے لے کر عام انسانوں تک ایک ضرورت ہوتا ہے، امتحان و آزمائش کی ضرورت، چھپی ہوئی صلاحیتوں کےظاہر ہونے کی ضرورت اورانسان کے وجود کے ارتقاء وتكامل کی ضرورت ۔ لہذا بعض روایات میں حضرت صادقؑ سے منقول ہواہے : ان اشد الناس بلاء الانبياء ثم الذي يلونهم الأمثل فالأمثل سب لوگوں سے زیادہ خدا کے ہیغمبر سخت آفتوں اورمشکلات میں گرفتار ہوتے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے پیچھے قرار پاتے ہیں، اپنی شخصیت و مقام کے لحاظ اور مناسبت سے ۔ ؎2 اسی امام بزرگوار سے بھی نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا : ان في الجنة منزلة لا يبلغها عبدًا الا بالابتلاء جنت میں ایک مقام ایسا ہے جب تک کوئی شخص نہیں پہنچ سکتا مگر ابتلائات اور مشکلات سے گزراکر د: داستان تمام سچے مومنین کو تمام زندگی میں صبروشکیبائی کا درس دیتی ہے، وہی صبر جس کا انجام ہرمیدان میں کامیابی و کامرانی ہے اورجس کا نتیجہ پروردگار کی بارگاہ میں "مقام محمود "اور "بلند منزلت" کا اصول ہے ۔ ھ: جو آزمائش کسی انسان کو پیش آتی ہے وہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے دوستوں اور ساتھیوں کی بھی آزمائش ہوتی ہے تاکہ ان کی صداقت اور دوستی کا وزن بھی جانچ لیا جائے کہ وہ کسی حد تک وفادار ہیں۔ حضرت ایوبؑ ہر وقت اپنامال و ثروت اورصحت و سلامتی ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 نہج البلاغہ کلمات قصار جملہ 351 ؎2 ؎2 سفینۃ البحار مادہ "بلا" جلد 1 ص 105 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ کھو بیٹے، توان کے دوست واحباب بھی تھک کرمنتشر ہوگئے اور دوستوں اور دشمنوں نے مل کر شماتت و ملامت کے لیے زبان کھولی ، اور ہرزمانے سے بہترانھوں نے اپنی اصلیت ظاہر کردی اور ہم نے دیکھ لیا کہ ان کی زبان سے ایوبؑ کو جو دکھ پہنچا تھا وہ دوسرے ہر رنج سے زیادہ تھا۔ کیونکہ مشهور ضرب المثل کے مطابق نیزه و تلوار کے زخم تومل جاتے ہیں لیکن جوزخم زبان دل پر لگاتی ہے وہ بھرنے والا نہیں ہوتا۔ و : خدا کے دوست وہ نہیں ہوتے جو صرف نعمتوں کے ان کی طرف رخ کرنے کے وقت اس کی یاد میں رہتے ہوں ،بلکہ واقعی دوست وہ ہوتے ہیں جو فراخی ، تنگی ، مصیبت ونعمت ، بیماری و صحت اور فقروغناہر حالت میں اس کی یاد میں رہیں اور مادی زندگی دگرگونیاں ان کے ایمان وافکارمیں دگرگونی پیدا نہ کریں۔ امیرالمومنین علی نے اس غرا و پرشور خطبہ میں جو آپؑ نے اپنے باصفا دوست "ہمام" کے لیے پرہیزگاروں کے اوصاف میں بیان فرمایا تھا، اور ایک سو سے زیادہ صفات متقین کی بیان کی تھیں اس کے اہم اوصاف میں سے ایک یہ تھی :- نزلت انفسم منهم في البلاء التي نزلت في الرخاء ان کی روح بل و مصیبت کے وقت ویسی ہی ہوتی ہے جیسی کہ راحت و آرام کی حالت میں (اور زندگی کی تبدیلیاں انھیں دگرگوں نہیں کرتیں)۔ ز : یہ ماجرا ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی تاکید کرتا ہے کہ نہ تو امکانات ووسائل مادی کی ہاتھ سے نکل جانا اور مصائب و مشکلات اورفقروفاقہ کارخ کرنا، انسان کے لیے خدا کی بے لطفی کی دلیل ہے ، اور نہ ہی امکانات مادی کا فراہم ہونا ، پروردگار کے قرب سے دوری کی دلیل ہے، بلکہ انسان ان تمام وسائل وامکانات کے ہوتے ہوئے خدا کا خاص بنده ہوسکتا ہے، مگرشرط یہ ہے کہ وہ مال و مقام و فرزند کا اسیرنہ ہوجائے، اوران کے ہاتھ سے نکل جانے سے صبر کی زمام ہاتھ سے نہ چھوڑ دے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 38:41-44
حضرت ایوب کی حیران کن زندگی اور ان کا صبر
تفسیر حضرت ایوب کی حیران کن زندگی اور ان کا صبر گزشتہ آیات میں حضرت سلیمان کی حشمت اور دبدبے کے بارے میں گفتگوتھی کہ جوخدا داد قدرت کا مظہر تھی اور حضرت سلیمانؑ کی داستان رسول اکرمؑ اور مکہ میں موجود انسانوں کے لیے ایک نوید کے مانند تھی کر جوسخت دباؤ میں تھے۔ زيربحث آیات حضرت ایوبؑ کے بارے میں ہیں کہ جوصبر و استقامت کا نمونہ تھے ، ان کا ذکراس لیے ہے تاکہ اس وقت کے اور پھرآج کے اور آئندہ کے مسلمانوں کے لیے مشکلوں اور پریشانیوں میں استقامت ، قیام اور جدوجہد کادرس ہو اور انھیں پامردی کی دعوت دی جائے اوراس صبرو استقامت کاحسن انجام واضح کیاجائے۔ ایوبؑ تیسرے نبی ہیں کہ ان کی زندگی کا کچھ حصہ اس سورہ میں بیان کیا گیا ہے اور ہمارے عظیم نبیؐ پرفرض کیا گیا ہے کہ ان کی سرگزشت کویاد رکھیں اور اسے مسلمانوں کے سامنے بیان کریں تاکہ وہ طاقت فرسا مشکلات سے ہراساں نہ ہوں اور اللہ کے لطف و رحمت سے بھی کبھی مایوس نہ ہوں۔ حضرت ایوبؑ کا نام اور ان کی زندگی کا ذکر قرآن کریم کی کئی ایک سورتوں میں آیا ہے۔ سورہ نساء کی آیت 163 اورسورانعام کی آیت 84 میں دیگر انبیاء کے ساتھ ان کے صرف نام پر اکتفا کیا گیا ہے کہ جس سے ان کا مقام نبوت ثابت اور واضح ہوتاہے برخلاف موجودہ تورات کے کہ جوانھیں انبیاء کے زمرے میں شمار نہیں کرتی بلکہ انھیں ایک نیک اور صالح انسان سمجھتی ہے کہ جنکی بہت سی اولاد تھی اورج وصاحب مال شخض تھے۔ سورہ انبیاء کی آیت 83اور78 میں ان کی زندگی کے کچھ کمالات بیان ہوئے ہیں اور سورہ ص کی زیربحث آیات میں دیگرمقامات مفصل ترحالات بیان ہوئے ہیں اور یہاں اس مضمون میں چار آیتیں آئی ہیں ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے : ہمارے بندے ایوب کو یاد کر جب اس نے اپنے پروردگار کو پکارا اور عرض کی : شیطان نے مجھے بہت تکلیف اور اذیت میں مببتلا کر رکھا ہے (واذكرعبدنا ایوب اذنا ذی ربه اني مسني الشيطان بنصب وعذاب)۔ " نصب " ("عسر" کے وزن پر) اور "نصب" ("حسد" کے وزن پر )دونوں بلا و مصیبت کے معنی میں ہیں ۔ اس آیت میں۔ اولاً: بارگاہ الٰہی میں حضرت ایوب کا بلنده مقام "عبدنا" (ہمارا بندہ) اس سے معلوم ہوتا ہے۔ ثانیًا، اشارتًا حضرت ایوب کی شدید اور طاقت فرسا تکلیف اور فراواں مصیبت کا ذکر ہے، اس ماجرے کی تفصیل قرآن میں نہیں کی لیکن حدیث و تفسیر کی مشہورکتب میں اس کی تفصیل نقل ہوئی ہے۔ کسی شخص نے امام صادق علیالسلام سے پوچھا: وہ مصیبت جو حضرت ایوبؑ کو دامن گیر ہوئی، کس بنا پرتھی؟ ( شاید سائل کا خیال تھاکہ ان سے کوئی غلط کام سرزد ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اللہ نے انھیں مصیبت میں مبتلا کردیا)۔ امام نے اس سوال کا تفصیلی جواب دیا جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے ایوب کفران نعمت کی وجہ سے ان عظیم مصائب میں گرفتار نہیں ہوئے بلکہ اس کے برعکس شکر نعمت کی وجہ سے ہوئے کیونکہ شیطان نے بارگاہ خدا میں عرض کی کہ یہ جو ایوبؑ تیراشکر گزار ہے وہ فراواں نعمتوں کی وجہ سے ہے جو تو نے اسے دی ہیں ، اگر یہ نعمتٰین اس سے چھین لی جائیں تو یقینا وہ بھی شکر گزار بندہ نہیں ہو گا ۔ اس بنا پر کہ ساری دنیاپر ایوب کا خلوص واضح ہوجائے اور اس انھیں عالمین کے لیے نمونہ قرار دیاجائے تاکہ تنا لوگ نعمت اور مصیبت ہردو عالم میں شا کر وصابر رہیں۔ اللہ نے شیطان کو اجازت دی کہ وہ حضرت ایوب کی دنیا پرقبضہ کرلے۔ شیطان نے االلہ سے خوابہش کی ایوب کا فراواں مال ودولت، ان کی کھیتیاں، بھیڑ بکریاں اور آل اولاد سب ختم ہوجائے ۔ آفتیں اور مصیبتیں آئیں اور دیکھتے ہی دیکھتےسب کچھ تباہ و برباد ہوگیا لیکن نہ صرف یہ کہ ایوب کے شکر میں کمی نہیں آئی بلکہ اس میں اور اضافہ ہوگیا۔ خدا سےشیطان نے خواہش کی کہ اب اسے ایوب کے بدن پر بھی مسلم کردے اور وہ اس طرح بیمار ہوجائیں کہ ان کا بدن شدت درد کی لپیٹ میں آجائے اور وہ بیماری کے بستر کا اسیر ہوجائے لیکن اس چیز نے بھی ان کے مقا م شکر میں کمی نہ کی۔ پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ایوب کا دل توڑ دیا اور ان کی روح کوسخت مجروح کیا۔ وہ یہ کہ بنی اسرائیل کے راہیوں کی ایک جماعت میں انھیں دیکھنا آئی اور انھوں نے کہا کہ تو نے کون سا گناہ کیاہے جس کی وجہ سے ایسی دردناک عذاب میں مبتلا ہے ؟ ایوبؑ نے جوابًا کہا : میرے پروردگار کی قسم مجھ سے کوئی غلط کام نہیں ہوا میں ہمیشہ اللہ کی اطاعت میں کوشاں رہا ہوں اور میں نے جب بھی کوئی لقمہ غذا کا کھایا ہے کوئی نہ کوئی یتیم و بے نوا میرے دسترخوان پر ہوتا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایوب دوستوں کی اس شماتت پر ہر دوسری مصیبت سے زیادہ دکھی بوئے پھربھی صبر کا دامن تھوڑا اور شکر کے صفاف و شیرں پانی کو کفران سے آلودہ نہ کیا ، صرف بارگاہ خدا کی طرف رخ کیا اور مذکور جملہ عرض کیا اور چونکہ آپ اللہ کے امتحانوں سے خوب عہدہ بر آ ہوئے لہذا اللہ اپنے اس شاکر وصابر بندے پر پھر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیئے اور کھوئی بوئي نعمتیں یکے بعد دیگرے پہلے سے بھی زیادہ انھیں عطا کیں تاکہ سب لوگ صبروشکرکا نیک انجام دیکھ لیں۔ بزرگ مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ شیطان نے حضرت ایوبؑ کو مختلف وسوسوں کے ذریعے اذیت دی تھی ۔ کبھی کہتا تھا : تمھاری بیماری بہت طویل ہوگئی ہے اللہ نے تمھیں بھلا دیا ہے۔ کبھی کہتا تھا : تمھارے پاس کی نعمتیں تھیں ؟ کیسی صحت وطاقت تھی ؟ سب خدا نے چھین لی ہیں اور تم پھربھی اس کا شکر ادا کر رہے ہو؟ شایدیہ تفسیراس بنا پر ہو کہ ان مفسرین نے ایوبؑ جیسے پیغمبر ، ان کی جان ، مال اور اولاد پر شیطان کا تسلط بعید سمجھا ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 یہ روایت نوالثقلین میں تفسیر علی بن ابراہیم کے حوالے سے نقل کی گئی ہے۔ یہی مضمون تفسیر قرطبی ، تفسیر فخررازی اورنفسیرصافی وغیرہ میں اور اعلام القرآن میں کچھ فرق کے ساتھ آیا ہے ، عہد عتیق کی یہ کتب ایوب میں اس سے ملتے جلتے مطالب نظرآتے ہیں اگرچہ به مطالب اسلامی کتب میں آنے والی تفصیلات سے مختلف ہیں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوہے کہ اولاً تویہ تسلط فرمان خدا سے تھا ثانیًا وقتی طور پر تھا اور ثالثًا اس عظیم نبی کی آزمائش اور بلندی مقام کے لیے تھا۔ اس لیے اس سے کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا۔ بہرحال کہتے ہیں کہ ان کی بیماری اورناراحتی سات سال تک رہی اور ایک روایت کے مطابق سنترہ برس تک رہی ، یہاں تک کہ آپ کے نزدیک ترین ساتھی بھی ساتھ چھوڑ گئے، صرف ایک بیوی نے وفا میں استقامت کی اور یہ چیز خودایک شاہد ہےبعض بیویوں کی وفاداری پر۔ لیکن ایوب کو جس چیز سے زیاد دوکھ ہوتا تھا وہ دشمنوں کی شماتت تھی۔ اسی لیے ایک حدیث میں ہے کہ جب حضرت ایوب کوکھوئی وہوئی صحت و سلامتی پھرمل گئی اور رحمت الہی کے دروازے ان کے لیے کھل گئے تولوگوں نے آپ سے سوال کیا کہ سب سے شدید درد آپ کون ساتھا تو آپ نے کہا : دشمنوں کی شماتت۔ ا نجام کار حضرت ایوبؑ آزمائش الٰہی کی اس گرم بھٹی سے صحیح سالم باہرنکل آئے اور رحمت خدا کا آغاز ہوا۔ انھیں حکم دیا گیاکہ " اپنا پاؤں زمین پر مارو" توپانی کا چمشہ ابل پڑے گا کہ تیرے نہانے کے لیے ٹھنڈا بھی ہوگا اور تیرے پینے کے لیے عمدہ بھی۔ (اركض برجلك هذا مغتسل بارد وشراب)۔ "اركض" "رکض" (بروزن" مکث") کے مادہ سے زمین پر پاؤں مارنے کے معنی میں ہے اور کبھی یہ لفظ دوڑنے کے معنی میں بھی آتا ہے ، لیکن یہاں پہلے والا معنی ہے۔ وی خدا جس نے خشک اور تپتے بیابان میں شیرخوار اسرائیل کی ایڑیوں کے نیچے چشمہ پیدا کردیا . وہی خداکہ حرکت وسکون اور ہر نعمت و عنایت جس کی طرف سے ہے ، اس نے یہ فرمان ایوب کےلیے بھی صادر فرمایا۔ پانی کا چشمہ ابلنے لگا، ٹھنڈا اور میٹھا چشمه جواندرونی و بیرونی سب بیماریوں کے لیے شفا بخش تھا۔ بعض کا خیال ہے کہ اس چشمے میں ایک طرح کا معدنی پانی تھاجو پینے کے لیے بھی اچھا تھا اور بیماریوں کو دور کرنے کے لیے بھی مؤثر تھا۔ بہرحال کچھ بھی تھا ایک صابر وشاکر نبی کے لیے الله کا لطف وکرم تھا ۔ "مغتسل" نہانے والے پانی کو کہتے ہیں۔ بعض نے اسے نہانے کی جگہ کے معنی میں سمجھا ہے لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال ٹھنڈا ہونے کے لحاظ سے پانی کی تعریف شاید اس طرف اشارہ ہوکہ ٹھنڈے پانی سے نہانا بدن کی صحت و سلامتی کے لی خصوصی تاثیر رکھتا ہے جیسا کہ موجودہ طب میں بھی ثابت ہوگیا ہے۔ نیز یہ اس امرکی طرف لطیف اشارہ ہے کہ نہانے کے لیے بہترین پانی وہ ہے جو پاکیزگی اور لطافت کے لحاظ سے پینے کے پانی جیساہو۔ اس امر کاشاہد یہ ہے کہ اسلامی احکام میں بھی آیا ہے کہ : اس سے پہلے کہ پانی سے غسل کرو اس میں سے ایک گھونٹ پی لو۔ ؎1 پہلی اور اہم ترین خدائی نعمت صحت ہے، حبب وہ ایوب کی طرف لوٹ آئی تو دوسری نعمتوں کے لوٹنے کی نوبت آنی ،اس سلسلے میں قرآن کہتا ہے : ہم نے اسے اس کے گھر والے بخش دیئے ( و وهبنا له اھله )۔ اوران کے ساتھ ان کے ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 : وسائل الشیعہ جلد 1 باب 13 از ابواب آداب الحمام ، حدیث 1 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ مانند بهی قرار دیے (و مثلهم معهم)۔ تاکہ ہماری طرف سے رحمت ہواور صاحبان فکر ونظر کے نڈیحت بھی (رحمة منا و ذکری لاولی الالباب). ان کا گھرنہ ان کے پاس کیسے واپس آیا۔ اس سلسے میں مختلف تفسیریں موجود ہیں مشہور یہ ہے کہ مر چکے تھے اور اللہ نے انھیں پھر زندگی دی ۔ لیکن بعض نے لکھا ہے کہ حضرت ایوبؑ کی طویل بیماری کے باعث وہ ادھر ادھر بکھر چکے تھے جب حضرت ایوب صحت یاب ہوگئے تو وہ پھ آپ کے گرداگرد جمع ہوگئے ۔ کچھ لوگوں نے احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ وہ سب یا ان میں سے بعض افراد بھی طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے تھے رحمت الٰہی ان کے شمال حال ہوئی وہ سب روبصحت ہو گئے اور پروانوں کی طرح وجود پدر کی شمع کے گرد جمع ہو گئے۔ "اوران کے ساتھ ان کے مانند بهی قرار دیئے" یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے ان کے گھر کو پہلے سے بھی زیادہ آباد اور پر رونق کیا اور ایوب کومزید بیٹے عطا کیے۔ ان آیات میں اگر حضرت ایوب کی مال و دولت کے بارے میں بات نہیں کی گئی لیکن موجود قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے پھر آپ کو مال و دولت بھی فراوان تر عطا فرمایا ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ زیربحث آیت میں حضرت ایوب کی طرف نعمات الہی کے لوٹ آنے کا مقصد دو چیزیں شمارکی و گئی ہیں: ایک ان پراللہ کی رحمت کہ جو انفرادی پہلو رکھتی ہے اور درحقیقت صابرو شاکر بندے کے الیے اجر وانعام عام ہے اور دوسری تمام تاریخ انسانی میں صاحبان عقل وخرد کے لیے درس ہدایت ، تاکہ وہ مشکلوں اورسختیوں میں صبروشکیبائی کاراستہ نہ چھوڑیں اور رحمت الٰہی کے امید وار رہیں۔ اب صرف ایک مشکل ایوب کے لیے باقی تھی وہ تھی وہ قسم جوانھوں نے اپنی بیوی کے بارے میں کھائی تھی اور وہ یہ تھی کا انھوں نے ان سے کوئی خلاف مرضی کام دیکھا تھا لہذاانھوں نے اس بیماری کی حالت میں قسم کھائی کہ جس وقت ان میں طاقت پیدا ہوگی تووہ اسے ایک سویا اس اسے کچھ کم کوڑے ماریں کئے۔ لیکن صحت یابی کے بعد وہ چاہتے تھے کہ اس کی خدمات اور وفاداریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اسے معاف کردیں لیکن قسم اور خدا کے نام کا مسئلہ درمیان میں تھا۔ خدا نے یہ مشکل بھی ان کے لیے حل کردی۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ ان سے فرمایا گیا: گندم کی شاخوں ( یا اسی قسم کی کسی چیز) کی اہک مٹھی بھرلواور اس کے ساتھ مارو اوراپنی قسم نہ توڑو ( وخذ بيدك و ضغثًا فاضرب بہ ولا تحنث)۔ "ضغث" (بروزن "حرص") گندم یاجوکی نرم ونازک شاخوں کی ایک مٹھی یا خرما کے خوشے کے تاریاپھولوں کی طرح کی چیزوں کی ایک مٹھی کے معنی میں ہے۔ حضرت ایوب کی بیوی کا نام ایک روایت کے مطابق لیا بنت یعقوب تھا۔ اس بارے میں کہ اس سے کون سی غلطی ہوئی تھی؟ مفسرین کے درمیان بحث ہے۔ مشهورمفسر ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ شیطان یا (کوئی شیطان صفت) ایک طبیب کی صورت میں ایوب کی بیوی کے پاس آیا اس نے کہا : میں تیرے شوہر کا علاج کرتاہوں صرف اس شرط پر جس وقت وہ ٹھیک ہوجائے تو وہ مجھ سے یہ کہ دے صرف میں نے اسے شفایاب کیا ہے ، اس کے علاوہ میں اور کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ ان کی بیوی نے جوان کی مسلسل بیماری کی وجہ سے سخت پریشان تھی اس شرط کو قبول کر لیا اور حضرت ایوبؑ کے سامنے یہ تجویز پیش کی ۔ حضرت ایوب جو شیطان کے جال کو سمجھتے تھے، بہت ناراض ہوئے اور قسم کھائی کہ وہ اپنی بیوی کو سزادیں گے۔ بعض نے کہا ہے کہ جناب ایوبؑ نے اسے کسی کام کے لیے بھیجا تھا تو اس نے دیرکردی، حضرت ایوب چونکہ بیماری سے تکلیفیں میں تھے، بہت پریشان ہوئے اور اس طرح کی قسم کھائی۔ بہرحال اگر وہ ایک طرف سے اس قسم کی سزا کی مستحق تھی تو دوسری طرف اس طویل بیماری میں اس کی وفاداری ، خدمت اور تیمارداری، اس قسم کے عفو ودرگزر کا استحقاق ہی رکھتی تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ گندم کی شاخوں کے ایک دستہ یا خوشہ خرم کی لکڑیوں سے مارنا ان کی قسم کا واقعی مصداق نہیں تھا لیکن خدا کے نام کے احترام کی حفاظت اورقانون شکنی پھیلنے سے روکنے کے لیے انھوں نے یہ کام کیا اور یہ بات صرف اس صورت میں ہے کہ کوئی مستحق عفو ودرگزر ہو، اور انسان چاہے ہے کہ عفو و درگزر کے باوجود قانون کے ظاہر کو بھی محفوظ رکھے ورنہ ایسے مواقع پر جہاں استحقاق عفو وبخشش نہ ہو وہاں ہرگزاس کام کی اجازت نہیں ہے ۔ ؎1 آخر میں زیربحث آیات کے آخری جملے میں جو اس داستان کی ابتداء وانتہا کا نچوڑ ہے، فرمایا گیا ہے: ہم نے اسے صابر و شکیبا پایا، ایوب کتنا اچھا بندہ تھا جو ہماری طرف بہت زیادہ باز گشت کرنے والا تھا۔ (انا وجدناه صابرانعم العبد وانه اواب)۔ یہ بات کہے بغیر ہی ظاہر ہے کہ ان کا خداکی بارگاہ میں دعاکرنا اور شیطان کے وسوسوں اور درد ، تکلیف اور بیماری کے دور ہونے کا تقاضا کرنا، مقام صبر و شکیبائی کے منافی نہیں اور وہ بھی سات سال اور ایک روایت کے مطابق اٹھارہ سال تک بیماری اور فقروناداری کے ساتھ نبھانے اور شاکر رہنے کے بعد ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس جملے میں حضرت ایوب کی تین ان صفات کے ساتھ توصیف کی گئی ہے کہ جوکسی میں بھی پائی جائیں وہ ایک انسان کامل ہوتا ہے۔ 1- مقام عبودیت 2- صبرواستقامت 3- پے در پے خدا کی طرف بازگشت
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 38:41-44
سوره ص / آیه 41 - 44
(41) وَاذْكُرْ عَبْدَنَـآ اَيُّوْبَۚ اِذْ نَادٰى رَبَّهٝٓ اَنِّىْ مَسَّنِىَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ (42) اُرْكُضْ بِـرِجْلِكَ ۖ هٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ (43) وَوَهَبْنَا لَـهٝٓ اَهْلَـهٝ وَمِثْلَـهُـمْ مَّعَهُـمْ رَحْـمَةً مِّنَّا وَذِكْرٰى لِاُولِـى الْاَلْبَابِ (44) وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَلَا تَحْنَثْ ۗ اِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ الْعَبْدُ ۖ اِنَّهٝٓ اَوَّابٌ (41) ہمارے بندے ایوب کو یاد کر ، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور اذیت دی ہے۔ (42) ( ہم نے اس سے کہا) اپنے پاؤں سے زمین پر ٹھوکر مار ، یہ ٹھنڈے پانی کا چشمہ نہانے اور پینے کے لیے ہے۔ (43) اور ہم نے اسے اس کا خاندان عطا کیا اور ان کی طرح اور بھی ان کے ساتھ قرار دیئے تاکہ ہماری طرف سے رحمت ہو اور صاحبان فکر کے لیے ایک نصیحت ہے۔ (44) (اور ہم نے اس سے کہا مٹھی بھر گندم کی (یا اس جیسی) سینکیں لے اور اسے (اپنی بیوی کو) مار اور اپنی قسم نہ توڑ، ہم نے اسے صابر پایا، کیا اچھا بندہ تھاکہ خدا کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 38:41-44
2۔ ایوبؑ ـــــــــــ قرآن و تورات میں
2۔ ایوبؑ ـــــــــــ قرآن و تورات میں: اس عظیم پیغمبر کا پاک چہرہ جوصبر شکیبائی کا مظہر ہے۔ یہاں تک کہ صبر ایوبؑ سب کے لیے ضرب المثل ہوگیا ہے۔ قرآن مجید میں ہم نے دیکھ لیا ہے کہ خدا نے کس طرح سے اس داستان کی ابتدا اور انتها میں ان کی تعریف کی ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس عظیم پیغمبر کی سرگزشت بھی جاہلوں یا دانادشمنوں کی دستبرد سے محفوظ نہ رہی اور ایسے ایسے خرافات ان پر باندے گئے جن سے ان کی مقدس و پاک شخصيت منزہ ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ بیماری کے وقت حضرت ایوب کے بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے اوران میں اتنی بدبوپیدا ہوگئی تھی بستی والوں نے انھیں آبادی سے باہر بات نکال دیا۔ بلاشک وشبہ اس قسم کی روایت جعلی اورمن گھڑت ہے، چاہے وہ حدیث کی کتابوں کے اندر ہی کیوں نہ ذکرہوئی ہو۔ کیونکہ پیغمبروں کی رسالت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ ہر وقت اور ہر زمانے میں میل ورغبت کے ساتھ ان سے مل سکیں اور جو بات لوگوں کے تنفر و بے زاری اور افراد کے ان سے دور رہنے کا موجب بنے، چاہے وہ تنفر آمیز بیماریاں ہوں یا عیوب جسمانی یا اخلاقی خشونت وسختی، ان میں نہیں ہوں گی ، کیونکہ یہ چیزیں ان کے فلسفہ رسالت سے تضادرکھتی ہیں۔ قرآن مجید پیغمبراسلام کے بارے میں کہتا ہے: فبمارحمۃ من الله لنت لهم ولوکنت فظًا غليظ القلب لانفضوا من حولك رحمت الہی کے سایے میں تو ان کے لیے نرم و مہربان ہو گیا کیونکہ اگر توسخت اور سنگ دل ہوتا تو وہ تیرے گردوپیش سے منتشر ہوجاتے۔ (آل عمران ـــــــــــ 159) یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ پیغمبر کو ایسا نہیں ہونا چا ہے کہ لوگ اس کے اطراف سے منتشر ہو جائیں ۔ لیکن تورات میں ایک مفصل قصہ"ایوب" کے بارے میں نظر آتے جو "مزامیر داؤد" سے پہلے موجود ہے۔ یہ کتاب 42 فصل مشتمل ہے اور ہرفصل میں تفصیلی بحث موجود ہے۔ بعض فضول میں تو انتہائی تکلیف دہ مطالب نظرآتے ہیں، ان میں سے تیسری فصل میں ہے کہ: " ایوب نے شکایت کے لیے زبان کھولی اور بہت زیادی شکوہ کیا ، جب کہ قرآن نے انکی صبروشکیبائی کی تعریف کی ہے۔