۞وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِۦ لَإِبۡرَٰهِيمَ
Indeed Abraham was among his followers,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 37:83
[Pooya/Ali Commentary 37:83] Refer to the commentary of Baqarah 124 to 127, 130, 135, 258, 260; Ali Imran: 33, 34, 67, 95 to 97; Anam: 74 to 83; Bara-at: 113, 114; Hud 69 to 76; Ibrahim: 35 to 41; Hijr: 51 to 60; Nahl: 120 to 123; Maryam: 41 to 50; Anbiya: 51 to 73; Hajj 26 to 29; Shu-ara: 69 to 89; and Ankabut: 16, 17, 24, 31, 32 for prophet Ibrahim. Aqa Mahdi Puya says: As said in verse 83 those who follow the same creed are called shi-ahs, and this has become a term to distinguish those who follow Ali. The Holy Prophet said: "O Ali, you and your shi-ahs, on the day of resurrection, will be surrounded by light, honoured and successful." Verses 88 and 89 refer to the worship of stars by the disbelievers which grieved Ibrahim very much. The disbelievers resorted to violence and secret plotting. They threw him into a blazing furnace, but by the will of Allah the fire did not harm him (see commentary of Anbiya: 51 to 73). When Ibrahim found the people immune to every kind of admonition and guidance, he entrusted himself to Allah and left the place. This was Ibrahim's hijrat. He migrated to Syria. Refer to the commentary of Baqarah: 207 and Anfal: 30. The Holy Prophet also left his place of birth to settle in Madina under Allah's command. During this journey to Syria his good hearted wife Sara who could not till then bear any child for him, gave her slave girl Hajira as a gift to Ibrahim who prayed to Allah for a child at least from the newly acquired wife, to have an inheritor from his own family as did Musa, Zakariya and the Holy Prophet. The boy thus born was Ismail, the first born son of Ibrahim (see commentary of Baqarah: 124 to 129). Halim means "ready to suffer and forbear." The quality of forbearance has been mentioned specially to distinguish Ibrahim and his son Ismail, the ancestors of the Holy Prophet. According to Imam Jafar bin Muhammad as Sadiq, Prophet Ishaq was born to Sara after five years of the birth of Ismail to Hajira. Although Sara had herself presented Hajira to her husband, but after her giving birth to Ismail, she could not tolerate Hajira with her son Ismail remaining in the same place. Under these circumstances, Ibrahim had to bring Hajira and his son Ismail to Makka and left them there entrusting the mother and child to Allah (see commentary of Baqarah: 124 to 129). When Ibrahim revisited Hajira, his son Ismail was thirteen years old. Ibrahim saw in a dream that he was sacrificing Ismail. It was on the 8th of Dhilhajj, known as yawm al tariwiyah. Next day he saw the same dream again, known as arafat; and was convinced that it is a command of Allah and decided to act as he was asked by the Lord. Ibrahim told Hajira to prepare Ismail for a journey to a friend's place and provide him with a rope and a knife. When he reached the place Sa-i, between two hillocks, Safa and Marwa, Ibrahim disclosed his dream to Ismail who bid his father to go ahead and offer the sacrifice. Shaytan appeared in the guise of an old man and tried to prevent Ibrahim from offering the sacrifice. Having failed to convince Ibrahim he turned to Ismail and persuaded him to run away and save his life. Both the prophets of Allah saw through his scheme and as a sign of repulsing his accursed intrigue Ibrahim threw seven small stones at him. Aqa Mahdi Puya says: Sleep is a state of partial consciousness for the prophets of Allah, so their dreams come true and are fulfilled. What Ibrahim, as a prophet of Allah, saw in his dream was as valid as an experience in wakefulness. Ibrahim told Ismail what he saw in the dream as an indication, and Ismail accepted it as an imperative. What Imam Husayn bin Ali saw in his dream in Madina was also an imperative. The Holy Prophet asked him: "Go to Iraq and give your life in the cause of Allah, because Allah has so willed." In the case of Ismail the sacrifice was stopped but the sacrifice Husayn offered was accepted by Allah as dhibhin azim according to verse 107. Muhammad Iqbal, the poet of the east, has said; "Ismail was the beginning, Husayn was the ultimate." Before laying his son on the ground to fulfil what he had been commanded in his dream to do, on the request of Ismail, Ibrahim tied his hands and legs, and blindfolded himself and wrapped his cloak, so that at the time of slaughter if Ismail felt pain and became restless, Ibrahim might not be disturbed; and as a father, Ibrahim would not be able to witness his son's slaughter if he remained blindfolded; and the cloak was rolled up in order to spare Hajirah from seeing the blood of Ismail on Ibrahim's clothes. Then, as commanded, Ibrahim took the knife and enacted exactly what he had seen in his dream and thus carried out the command of his Lord. But, when he removed the fold from his eyes, to his surprise, he found Ismail standing safe by his side and in his place, a ram lay slain before them.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:83-94
۱۔ کیا انبیاء بھی توریہ کرتے ہیں ؟
پہلے ضر وری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ ” توریہ “ کیاہوتا ہے ؟ ” توریہ “ ( بروزن ” توصیہ“ ) کو بعض اوقات ” معاریض “ سے بھی تعبیرکیا جاتاہے . اس سے مراد ہے ایسی بات کہنا جس کاایک ظاہر ی مفہوم ہو لیکن کہنے والے کی مراد کچھ اورہو ،اگرچہ سامع کی نظر ظاہری مفہوم کی طرف ہی جاتی ہو. مثلاً کوئی شخص کسی آدمی سے سوال کرتاہے :تم سفر سے کب آ ئے ہو ؟وہ کہتاہے : غروب سے پہلے . حالانکہ وہ ظہر سے پہلے آ یا ہے . سننے والا اس کلام سے غروب سے تھوڑا سا پہلے سمجھتا ہے ، جبکہ کہنے والے کا ارادہ زوال سے پہلے ہے ، کیونکہ وہ بھی غروب سے پہلے ہے۔ یا کوئی شخص دوسرے سے سوال کرتاہے :” کیا تونے کھا ناکھایا ہے “ ؟ وہ کہتا ہے : ہاں سامع اس بات سے یہ سمجھتا ہے کہ اس نے آج کھالیاہے جبکہ اس کی مراد یہ ہے کہ اس نے کل کھانا کھایاہے۔ یہ نکتہ فقہ کی کتابوں میںبیان ہوا ہے کہ کیا تور یہ جھوٹ شمار ہوتاہے یانہیں ؟بعض بزرگ فقہاء جن میںشیخ انصاری ( رضوان اللہ علیہ ) بھی شامل ہیں کا نظر یہ ہے کہ توریہ جھوٹ میں داخل نہیں ہے . نہ عرفاً اس پرجھوٹ صادق آ تاہے اور نہ ہی اسلامی روایات سے اس کاجھوٹ سے تعلّق معلوم ہوتاہے ، بلکہ چند روایات میں باقاعدہاس کے جھوٹ ہونے کی نفی کی گئی ہے۔ امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے۔ الرجل یستاٴذن علیہ فیقول للجاریة قولی لیس ھو ھیھنا ،فقال (ع) لاباٴ س لیس بکذب کوئی شخص دروازے پر آ تاہے اور گھر میں داخل ہونے کی اجاز ت چاہتا ہے ،صاحب ِ خانہ ( کو اس کی پذیرائی میں کو ئی امر مانع ہے ) اپنی کنیزسے کہتاہے کہ کہہ دے کہ وہ یہاں نہیں ہے . ( اوراس سے مراد مثلاگھر کے در وازے کے پیچھے ہے ).امام نے فر مایا : یہ جھوٹ نہیں ہے ( 1) ۔ حق یہ ہے کہ یہاں کچھ تفصیل کی ضرورت ہے اور ایک ضابط ٴ کلی کے طورپر کہناچا ہیے کہ جہاں لفظ لغو ی وعرفی مفہوم کے لحاظ سے دو معانی کی قابلیّت رکھتاہے لیکن مخاطب کاذہن اس سے ایک معنی مراد لیتا ہے جبکہ کہنے والے کی نظر میںدوسرا معنی ہے ،اس قسم کا تو ریہ جھوٹ نہیں ہے .مثلاً یہ کہ مشترک لفظ استعمال کریں .سننے والے کا ذہن ایک معنی کی طرف متوجہ ّہوجبکہ کہنے والے کی نظر دوسرے معنی کی طرف ہو ۔ مثلاً سعید بن جبیر کے حالات میں منقو ل ہے کہ حجّاج نے ان سے پوچھا کہ تمہارانظر یہ میرے متعلق کیساہے ؟انہوں نے کہا :میرے نظر یہ کہ مطابق ” تو عادل ہے“،حجاج کے مصاحبین اورحامی خوش ہوگئے . حجّاج نے کہا :اس نے اس بات سے میرے کفر کاحکم صادر کیاہے . کیونکہ عادل کاایک معنی حق کے باطل کی طرف عدول کرنے والا اور منہ پھیر لینے والا ہے۔ لیکن اگر لفظ لغوی اورعرفی مفہوم کے لحاظ سے ایک ہی معنی رکھتا ہے اورکہنے والا اسے چھوڑ کر ، قرینہ مجاز ذکر کیے بغیر مجازی معنی مراد لے تواس قسم کاتور یہ بلاشک وشبہ حرام ہے اور ممکن ہے . اس تفصیل کے ذریعے فقہاء کے مختلف نظر یات یکجااورجمع کیے جاسکیں ۔ البتہ اس بات پرتوجہ رکھنی چاہیے کہ ایسے مواقع پر بھی ، جہاں توریہ جھوٹ کامصداق نہیں ہے بعض اوقات اس کے مفاسد کا حامل ہوتاہے اورجہالت میںپڑنے اورلوگوں کوغلطی میںڈالنے کا سبب بنتاہے اوراس لحاظ سے ہوسکتاہے کہ وہ بعض اوقات حرام کے مرحلہ تک پہنچ جائے لیکن جب اس میں نہ تو اس قسم کاکوئی مفسد ہ ہو اور نہ ہی وہ جھوٹ کامصداق ہو تواس کی حرمت پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اورامام صاد ق علیہ السلام کی روایت اسی پہلو سے ہے . اس بنا پر صرف جھوٹ نہ ہونا تور یہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ دوسرے مفاسد بھی اس میں نہ ہوں ۔ البتہ وہ مواقع جہاں ضرور ت کا تقاضا ہو کہ انسان جھوٹ بولے وہاں یقینا جب تک تور یہ ممکن ہے اسے توریہ کرنا چاہیے تاکہ اس کی بات جھوٹ کامصدا ق نہ بنے ۔ باقی رہی یہ بات کہ انبیاء کے لیے تور یہ جائز ہے یانہیں ؟توکہنا چاہے کہ وہ صورت جس میں تور یہ عام لوگوں کے اعتماد کے تزلز ل کاموجب بنتاہے ، وہاں جائز نہیں ہے کیونکہ تبلیغ کی راہ میں ابنیاء کاسر مایہ عام لوگوں کا اعتماد ہی توہے . لیکن ایسے مواقع جس کی مثال مذ کورہ بالا آ یات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی داستان ہے میں کوئی اشکال نہیں . اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیماری کااظہار کیا ،منجمین کی طرح آسمان کی طرف دیکھا .البتہ خیال ہے کہ ایسے کام میں ایک اہم مقصد پیش نظر ہو اور اس سے حق طلب لوگوں کااعتماد بھی ڈ انواں ڈول نہ ہوتاہو ۔ 1۔وسائل الشیعہ جلد ۸ ،ص ۵۸۰ ( باب ۱۴۱ ازابواب العشرہ حدیث ۸ )
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:83-94
ابراہیم کی بُت شکنی کا زبردست منظر
حضرت نوح علیہ السلام کی بھر پور تاریخ کے کئی گوشوں کو بیان کر نے کے بعد اب ان آیات میںبُت شکنی کے ہیر وحضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی زندگی کے ایک اہم حصّے کوبیان کیاگیاہے۔ یہاں پر حضرت ابرا ہیم کی بُت شکنی کے واقعے اوران سے بُت پرستوں کی شدید مڈھ بھیڑ کے بار ے میں گفتگو کی گئی ہے . دوسر ے حصّے میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی عظیم فداکاری اوران کے فر زند کی بانی کے مسئلہ کاذکر کیاگیاہے اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کایہ حِصّہ قرآن مجید میں صرف اسی مقام پر بیا ن کیاگیا ہے۔ پہلی آ یت میں قِصّہ ٴ ابراہیم علیہ السلام کو قِصّہ ٴ نوح علیہ السلام کے ساتھ اس طرح سے منسلک کیاگیا ہے : اورابراہیم نوح کے پیر و کاروں میں سے تھا (وَ إِنَّ مِنْ شیعَتِہِ لَإِبْراہیم) ۔ وہ اسی راہ ِ توحید و عدل اوراسی راہ ِ تقوٰی واخلاص پر گامز ان تھا جو نوح کی سُنّت تھی ، کیونکہ انبیاء سارے کے سارے ایک ہی مکتب کے مبلغ اورایک ہی یونیور سٹی کے استاد ہیں اوران میں سے ہرا یک دوسرے کے پرو گرام کو دوام بخشتا ، اسے آگے بڑھاتا اوراس کی تکمیل کرتاہے۔ کیسی عمدہ تعبیر ہے کہ ابراہیم نوح کے شیعوں میں سے تھے حالانکہ ان دونوں کے زمانے میں بہت فاصلہ تھا (بعض مفسّرین کے قول کے مطا بق تقریبا ً ۲۶۰۰ سال ) لیکن ہم جانتے ہیں کہ مکتبی رشتے میں زمانے کی حیثیت نہیں ہے ( ۱) ۔ قرآن کہتاہے : فبھد اھم اقتدہ اے پیغمبر ! گزشتہ ابنیاء کی ہدایت کی پیرو ی کر ۔ ( انعام . ۹۰) اس اجمالی بیان کے بعد اس کی تفصیل پیش کرتے ہوئے فر مایا گیا ہے : یاد کرو اس وقت کو جبکہ ابراہیم قلبِ سلیم کے ساتھ اپنے پروردگار کی بار گا ہ میں آ یا (إِذْ جاء َ رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلیمٍ ) ۔ مفسّرین نے ”قلب سلیم “ کی متعدد تفسیریں بیان کی ہیں ، جن میں سے ہرایک اس مسئلے کی جہت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مثلاً وہ دل جوشرک سے پاک ہو ۔ وہ دل جو گناہوں ، کینہ اور نفاق سے پاک ہو ۔ وہ دل جو عشق ِ دنیا سے خالی ہو ۔ وہ دل جس میں خدا کے سوااور کچھ نہ ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ ” سلیم “ سلامت کے مادہ سے اور جب مطلق طور سے سلامت کہاجائے تو اس سے مراد ہر قسم کی اخلاقی ، اعتقادی بیماری سے سلامتی ہوگی ۔ قرآن مجید منافقین کے بار ے میں کہتاہے : فی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ فَزادَہُمُ اللَّہُ مَرَضا ان کے دلوں میں ایک قسم کی بیماری ہے اورخدا بھی ( ان کی ہٹ دھرمی اور گناہ کی وجہ سے ) اس بیمار ی میں اضافہ کردیتاہے۔ ( بقرہ . ۱۰) ۔ ” قلب ِ سلیم “ کی عمدہ ترین تفسیرا مام صادق علیہ السلام نے فر مائی ہے.آ پ علیہ السلام فر ماتے ہیں : القلب السلیم الذ ی یلقی ربہ ولیس فیہ احد سواہ قلب ِ سلیم ایک ایسادل ہوتاہے جو خدا سے اس حالت میں ملا قات کرے کہ اس میں خدا کے سوااور کچھ نہ ہو ( ۲) ۔ اس کے علاوہ ایک دوسر ی روایت میں امام صاد ق علیہ السلام سے ہی مر وی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فر مایا : صاحب النیة الصادقة صاحب القلب السلیم ،لان سلامة القلب من ھو اجس المذ کورات تخلص النیة اللہ فی الامور کلھا جو شخص نیّت صادق رکھتاہے وہ صاحب قلب سلیم ہے کیونکہ شرک و شک سے دل کی سلامتی نیت کو ہرچیز میں خالص کردیتی ہے ( ۳) ۔ قلب ِ سلیم کی اہمیّت کے بار ے میں یہی کافی ہے کہ قرآن مجید اسے روز ِ قیامت کے لیے اکیلاہی سرمایہٴ نجا ت شمار کرتاہے۔چنانچہ سورہ ٴ شعراء کی آیہ ۸۸ . ۸۹ میں اسی عظیم پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبانی یہ بیان کیاگیاہے : یَوْمَ لا یَنْفَعُ مالٌ وَ لا بَنُونَ إِلاَّ مَنْ اٴَتَی اللَّہَ بِقَلْبٍ سَلیمٍ اس دن مال و اولاد انسان کو کوئی فائدہ نہ دیں گے ،البتہ جوقلبِ سلیم کے ساتھ بار گاہِ خداوندی میں حاضر ہوگا( ۴) ۔ ہاں ! ابراہیم علیہ السلام قلب سلیم،روح پاک،قوی ارادہ اورعزم ِ راسخ کے ساتھ بُت پرستوں کے خلاف جہاد کے لیے مامور ہوئے اور اپنے باپ ( یعنی چچا ) اوراپنی قوم سے اس کا آغاز کی. جیسے کہ قرآن کہتاہے : یاد کرو اس وقت کوجبکہ اس نے اپنے باپ اوراپنی قوم سے کہا : یہ کیاچیز ہیں کہ جن کی تم پرستش کرتے ہو ۔ (إِذْ قالَ لِاٴَبیہِ وَ قَوْمِہِ ما ذا تَعْبُدُونَ)۔ کیایہ بات قابلِ افسوس نہیں ہے کہ انسان باوجود اس مقام ِ ذاتی اور عقل وخرد کے ، بے قدرو قیمت اورحقیر مٹی اور لکڑ یوں کی تعظیم کرے ؟تمہاری عقل کہاں کھو گئی ؟ اس تعبیر میں بتوں کی کھلی تحقیر موجود تھی پھر اس بات کی ایک دوسرے جملہ سے تکمیل کی اورکہا : کیا تم خدا کوچھوڑ کرجوبرحق ہے جھوٹے خدا ؤں کے پیچھے جاتے ہو (اٴَ إِفْکاً آلِہَةً دُونَ اللَّہِ تُریدُونَ) (۵) ۔ ” افک “ بڑ ے جھوٹ کے معنی میں ہے یاقبیح ترین جھوٹ کے معنی میں ہے . ایسے الفاظ کے استعمال سے حضرت ابراہیم کی قاطیت اور بتوں کے بار ے میں ان کادوٹوک فیصلہ زیادہ واضح ہوجاتاہے۔ آ خر میں ایک اور تیکھے جملے کے ساتھ اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا : تمہارا عالمین کے پروردگار کے بار ے میں کیاگمان ہے ؟(فَما ظَنُّکُمْ بِرَبِّ الْعالَمینَ ) ۔ روزی تم اس کی کھاتے ہو ، اس کی نعمتوں نے تمہارے سارے وجود کااحاطہ کیاہوا ہے ،اس کے باوجود تم نے حقیر اور بے قدر وقیمت موجودات کو اس کا ہم پلہ بنادیا ہے . اس حالت میں بھی تم یہ امید رکھتے ہو کہ وہ تم پررحم کرے اور تمہیں زیادہ سخت عذاب کے ساتھ سزا نہ دے ؟ کتنی بڑی غلطی ہے یہ ؟اور کتنی خطرناک گمراہی ہے یہ ؟ ’ ’ رب العالمین “ کی تعبیر میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سارے عالم کانظام اس کے سایہ ربوبیّت میں چلتاہے تم اسے چھوڑ کرمعمولی سی خیالی اور وہمی چیزکے پیچھے لگ گئے ہو، جس سے کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔ تو رایخ و تفاسیر میں آ یا ہے کہ بابل کے بُت پرست ہرسال ایک مخصوص عید کے دن کچھ رسومات اداکیاکرتے تھے . بُت خانہ میں کھانے تیار کرتے ہیں اور وہیں انھیں دستروخوان پرچُن دیتے تھے اس خیال سے کہ یہ کھانے متبرک ہوجائیں گے .اس کے بعدسب کے سب مل کر اکٹھے شہرسے باہر چلے جاتے تھے اور دن کے آخر میں واپس لوٹتے تھے اورعباد ت کرنے اورکھانا کھانے کے لیے بُتخانہ میں آجاتے تھے . اس روز اسی طرح شہر خالی ہوگیا اور بتوں کوتوٹنے اورانھیں درہم برہم کرنے کے لیے ایک اچھا موقع حضرت ابر اہیم کے ہاتھ آگیا . یہ ایساموقع تھا جس کاابراہیم علیہ السلام عرصے سے انتظار کررہے تھے اور نہیںچاہتے تھے کہ ہاتھ سے نکل جائے ۔ لہذاجب انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کوجشن میںشرکت کی دعوت دی تو ” اس نے ستاروں پر ایک نظر ڈالی“ (فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُومِ ) ۔ ” اور کہا میں تو بیمارہوں “ (فَقالَ إِنِّی سَقیمٌ) ۔ اوراس طرح سے اپنی طرف سے عذر خواہی کی ۔ ” انہوں نے رُخ پھیرا اور جلدی سے اس سے دور ہو گئے “ اوراپنے رسم ورواج کی طرف روانہ ہوگئے ( فَتَوَلَّوْا عَنْہُ مُدْبِرینَ)۔ یہاں دوسوال پیدا ہوتے ہیں: پہلا یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف کیوں دیکھا ، اس دیکھنے سے ان کامقصد کیاتھا ؟ دوسرایہ کہ کیا واقعاًوہ بیمار تھے کہ انہوں نے کہامیں بیمار ہوں ؟ انھیں کیابیماری تھی ؟ پہلے سوال کا جوا ب بابل کے لوگوں کے اعتقاد او ر رسوم کو دیکھتے ہوئے واضح وروشن ہے . وہ علم نجوم میں بہت ماہر تھے . یہاںتک کہ کہتے ہیں کہ ان کے بُت ستاروں کے ہیکلوں اور شکلوں میں تھے اوراسی بناپر ان کااحترام کرتے تھے کہ وہ ستاروں کے سمبل تھے ۔ ابلتہ علم ِ نجوم میں مہارت کے ساتھ ساتھ بہت سی خرافات بھی ان کے درمیان موجو د تھیں . ان میں سے ایک یہ تھی کہ وہ ستاروں کو اپنی سرنوشت میں موٴ ثر سمجھتے تھے اوران سے خیر و برکت طلب کرتے تھے اوران کی وضع و کیفیّت سے آنے والے واقعات پر استد لال کرتے تھے ۔ ابراہیم علیہ السلام نے اس غرض سے کہ انہیں مطمئن کردیں ، ان کی رسوم کے مطابق آ سمان کے ستاروں پرایک نظرڈالی تاکہ وہ یہ تصوّر کریں کہ انہوں نے اپنی بیماری کی پیش گوئی ستاروں کے اوضاع کے مطالعے سے کی ہے اوروہ مطمئن ہوجائیں ۔ بعض بزرگ مفسّرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیاہے کہ وہ چاہتے تھے کہ ستاروں کی حرکت سے اپنی بیماری کاوقت ٹھیک طور سے معلوم کرلیں کیونکہ ایک قسم کی بیمار ی انہیں تھی وہ یہ کہ نجارا نہیں ایک خاص وقفہ کے ساتھ آ تا تھا لیکن بابل کے لوگوں کے افکار ونظر یات کی طرف توجہّ کرتے ہوئے پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیاہے کہ ان آ سمان کی طرف دیکھنا درحقیقت اسرار آفرینش میں مطالعہ کے لیے تھا اگرچہ وہ آپ کی نگاہ کوایک منجم کی نگاہ سمجھ رہے تھے . جو یہ چاہتا ہے کہ ستاروں کے اوضا ع سے آئندہ ہے کہ واقعات کی پیش بینی کرے ۔ دوسرے سوال کے مفسّرین نے متعدد جواب دیئے ہیں ۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ وہ واقعاً بیمار تھے ، اگرچہ و ہ صحیح وسالم بھی ہوتے تب بھی بتوں کے جشن کے پرو گرام میں ہرگز شرکت نہ کرتے ،لیکن ان کی بیماری ان مراسم میں شرکت نہ کرنے اوربتوں کوتوڑ نے کے لیے ایک سنہرا مو قع اچھا بہانہ بھی تھا ،اوراس با ت پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں کہ انہوں نے یہاں ” توریہ “ کیاتھا ،کیونکہ ابنیاء کے لیے ” توریہ “ کرنا مناسب نہیں ہے۔ بعض دوسروں نے کہاہے کہ ابراہیم علیہ السلام کوواقعی طورپر کوئی جسمانی بیماری نہیں تھی لیکن ان کی روح ان لوگوں کے غیر موزوں اعمال اوران کے کفر وشرک اورظلم و گناہ کی بنا پر بیمار تھی . اس بنا پر انہوں نے حقیقت کوبیان کیااگرچہ انہوں نے دوسری طرح سوچا اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کوجسمانی طورپر بیمار سمجھا ۔ یہ احتمال بھی بیان کیاگیاہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس گفتگو میں تویہ کہا ہوگا ۔ مثلاً یہ کوئی شخص گھر کے درواز ے پر آ کر سوال کرتاہے کہ فلا ں شخص گھر میں ہے،وہ جواب میں کہتے ہیں: یہاں نہیں ہے اور” یہاں “ سے ان کی مراد گھر کے دروازکے پیچھے ہوتی ہے نہ کہ ساراگھر . جبکہ سننے والا اس طرح نہیں سمجھا ( ایسی تعبیرات کو جوجھوٹ نہیں ہیں لیکن ا ن کاظاہر کچھ اور ہوتا ہے ،فقہ میں ” توریہ “ کہتے ہیں ) ۔ اس بات سے حضر ت ابراہیم علیہ السلام کی مراد یہ تھی کہ ہو سکتا ہے میں آ یندہ بیمار ہو جاؤں،تاکہ وہ ان سے الگ ہو کراپناکام کریں ۔ لیکن پہلی اوردوسر ی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ اس طرح ابراہیم علیہ السلام اکیلے شہر میں رہ گئے اوربُت پرست شہرخالی کرکے باہر چلے گئے ،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اِدھراُدھر دیکھا،شوق کی بجلی ان کی آنکھوں میں چمکی وہ لمحات جن کا وہ ایک مُدّت سے انتظار کررہے تھے آن پہنچے،انہوں نے اپنے آپ سے کہا ،بتوں سے جنگ کے لیے اٹھ کھڑا ہو اورسخت ضرب ان کے پیکر وں پرلگا . ایسی ضرب جوبُت پرستوں کے سوئے ہوئے دماغوں کو ہلا کررکھ دے اورانہیں بیدار کر دے ۔ قرآن کہتاہے :وہ ان کے خداؤں کے پاس آ یا،نگاہ ان پر اور کھانے کے ان برتنوں پر جوان کے اطراف میں موجود تھے، ڈالی اور تمسخر کے طورپر کہا : تم یہ کھانے کھاتے کیوں نہیں ؟ (فَراغَ إِلی آلِہَتِہِمْ فَقالَ اٴَ لا تَاٴْکُلُونَ ) (۶) ۔ یہ کھا نے توتمہاری عباد ت کرنے والوں نے فراہم کیے ہیں . مرغن وشیریں، طرح طرح کی رنگین غذ ائیں ہیں ،کھاتے کیوں نہیں ہو ؟ اس کے بعد مزید کہتاہے : تمہیں کیاہوگیا ہے ؟ تم بات کیوں نہیں کرتے ؟تم گونگے کیوں بن گئے ہو؟تمہارا منہ کیوں بند ہے ؟ (ما لَکُمْ لا تَنْطِقُونَ ) ۔ اس طرح ان کے تمام بیہودہ اور گمراہ عقائد کامذاق اڑایا . بلاشک وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ کھاناکھاتے ہیں اورنہ ہی بات کرتے ہیں اور بے جان موجودا ت سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے ،لیکن حقیقت میں وہ یہ چاہتے تھے کہ اپنی بُت شکنی کے اقدام کی دلیل اس عمدہ اور خوبصورت طریقہ سے پیش کریں ۔ پھر انہوں نے اپنی آستین چڑھالی ، کلہاڑ ا ہاتھ میں اٹھایا اورپوری طاقت کے ساتھ اسے گھمایا اوربھر پور ” توجہّ کے ساتھ ایک زبردست ضرب ان کے پیکر پر لگائی “ (فَراغَ عَلَیْہِمْ ضَرْباً بِالْیَمینِ) ۔ ” یمین “ سے مراد یاتوواقعی داہاں ہاتھ ہے جس سے انسان اپنے زیادہ ترکام کرتاہے اور یایہ قدرت وقوّت کیلیے کنایہ ہے ( دونوں معنی بھی ہوسکتے ہیں )۔ بہرحال تھوڑ ی سی دیر میں وہ آ باد یاورخوبصورت بُت خانہ ایک وحشت ناک ویرانہ بن گیا . تمام بت ٹوٹ پھوٹ گئے . ہر ایک ہاتھ پاؤں تڑ وائے ہوئے ایک کونے میں پڑا تھا اور سچ مچ بت پرستوں کے لیے ایک دلخراش ،افسو سنا ک اورغم انگیز منظرتھا ۔ ابراہیم علیہ السلام اپناکام کرچکے اورپورے اطمینان وسکون کے ساتھ بتکد ے سے با ہر آ ئے اوراپنے گھرچلے گئے . اب وہ اپنے آپ کو آئندہ کے حوادث کے لیے تیار کررہے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ انہوں نے شہرمیں بلکہ پورے ملک ِ بابل میں ایک بہت بڑ ا دھما کہ کیاہے جس کی صدابعد میں بلند ہوگی . غُصّہ اورغضب کاایک ایسا طوفان اٹھے گا اوروہ اس طوفان میں اکیلے ہوں گے . لیکن ان کاخدا موجود ہے اور وہی ان کے لیے کافی ہے۔ بُت پرست شہر میں واپس لوٹے اوربُت خانے کی طرف آئے ، کتنا وحشت ناک اور مبہوت کن منظر تھا ؟جہاں کے تہاں بے حس و حرکت ہوگئے ؟ کافی دیرتک ان کے اوساں خطار ہے . انتہائی حیرانی اورپر یشانی کے عالم میں اس و یرانے پرنگاہ ڈالی اوران بتوں کو جنہیں وہ اپنی بے پنائی کے دن کے لیے پناہ گا ہ خیال کرتے تھے وہاں بے پنا ہ دیکھا ۔ اس کے بعدسکوت ٹوٹا اور چیخ وپکار اور نالہ وفریاد کی صدابلند ہوئی ... کس نے کیاہے یہ کام ؟کون تھا وہ ستمگر ؟ دیر نہ گزری تھی کہ انہیں یاد آگیا . اس شہر میں ایک خدا پرست جوا ن رہتاہے . اس کا نام ابراہیم ہے . وہ بتوں کامذاق اڑایا کرتاتھا . اوراس نے یہ دھمکی دی تھی کہ میں نے تمہار ے بتوں کے لیے ایک خطرناک منصوبہ بنالیاہے .معلوم ہوتاہے کہ یہ کام اسی نے کیاہے۔ پھروہ اس کی طرف چل پڑے . وہ بڑی تیزی سے ( غُصّہ کے عالم میں ) چل رہے تھے (فَاٴَقْبَلُوا إِلَیْہِ یَزِفُّونَ ) ۔ ’ ’ یزفّون “ ” زف “ ( بروزن ” کف “ ) کے مادہ سے دراصل ہو ا کے چلنے اور شتر مُرغ کے تیز دوڑ نے کے معنی میں ہے جبکہ شترمرغ دوڑتے ہوئے پھڑ پھڑا بھی رہاہوتاہے .بعد ازں یہ یہ لفظ بطور کنایہ ” زفاف عروس “ یعنی دلہن کو دولہا کے گھر لے جانے کے موقع پر استعمال ہونے لگا ۔ بہرحال مراد یہ ہے کہ بُت پرست تیزی کے ساتھ ابراہیم کی طرف آ ئے اس قصّے کاباقی حصّہ بعد کی آ یات میں بیان ہوگا ۔ ۱۔ بعض مفسّرین نے ” شیعتہ “ کی ضمیر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پلٹائی ہے حالانکہ قرآن کی آیات یہ کہتی ہیں کہ پیغمبر اسلام( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ، دین ابراہیم کے پیرو تھے . اس کے علاوہ اس قسم کی ضمیر کامرجع قبل و بعد کی آیات میں موجود نہیں ہے . شاید انہوں نے تصوّر کرلیا ہے کہ شیعہ کی تعبیر حضرت نوح علیہ السلام کی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے افضلیت کی دلیل ہے ، جبکہ قرآن ابراہیم کے لیے والاترشخصیّت کاقائل ہے لیکن یہ تعبیراس مسئلے پر کوئی دلیل نہیں رکھتی بلکہ اس سے مراد راہِ فکر ی و مکتبی کادوام ہے ، جیساکہ پیغمبر اسلام ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا تمام ابنیا ء سے افضل ہونا ، ابراہیم کے مکتب توحیدی کی پیرو ی کے منافی نہیں ۔ ۲۔ تفسیرصافی ،سورہٴ شعراء کی آیہ ۸۹ کے ذیل میں ، بحوالہ کافی ۔ ۳۔ایضاً ۴۔قلب سلیم کے بار ے میں تفسیر نمونہ کی جلد ۱۵ میں سورہٴ شعراء کی آ یہ ۸۸ ۔ ۸۹ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے۔ ۵۔ اس جملے کی تفسیرمیں مفسرین نے دواحتمال ذکر کیے ہیں . پہلا یہ کہ ” افکاً “ مفعول ہے ” تریدون“ کااور ” اٰلھة “ اس سے بدل ہے ، دوسر ا یہ کہ ” اٰلھة “ مفعول بہ ہے اور” افکاً“ مفعول لاجلہ ہے کہ جس اہمیّت کی بنا پر مقدّم رکھاگیاہے۔ ۶۔ ” راغ “ ” روغ “ کے مادہ سے کسی چیزکی طرف توجہ ّ اورمیلان کے معنی میں،جو پوشیدہ اورمخفی طور سے ہو یا سازش اورتخر یب کی صورت میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:83-94
۲۔ ابراہیم (ع) اور ” قلب ِ سلیم “
ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی اصطلاح میں ” قلب“ روح اورعقل کے معنی میں ہے . اس بنا پر ” قلب سلیم “ اس پاک اورسالم روح کے لیے بولا جاتاہے جو ہرقسم کے شرک ،شک او رگناہ سے پاک ہو ۔ قرآن مجید نے بعض قلوب کو ” قاسیة “ ( قساوت مند ) ۔ قرار دیاہے ( مائدہ . ۱۳) بعض قلوب کا’ ’ ناپاک “ کے عنوان سے تعارف کروایا ہے۔ ( مائدہ. ۴۱) کچھ دلوں کو ” بیمار “ کہاہے۔ ( بقرہ .۶) بعض دلوں کو ” مہر زدہ “ اوربند کہاہے۔ ( توبہ. ۸۷) ان کے مقابل میں قرآن ” قلب ِ سلیم “ کوپیش کرتاہے کہ جس میں ان عیوب میں سے کوئی بھی نہیں ہے وہ پاک بھی ہے اورنرم ومہر بان بھی ، سالم بھی ہے اورحق کو قبول کرنے والا بھی ۔ یہ وہی قلب ہے کہ روایات میں جس کی ” حرم خدا “ کہہ کر تعریف کی گئی ہے ،جیساکہ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔ القلب حرم اللہ فلاتسکن حرم اللہ غیراللہ قلب حرم ِ خدا ہے ، خدا کے حرم میں خدا کے غیر کونہ بساؤ ( 1) ۔ یہی وہ قلب ہے جو غیب کے حقائق دیکھ سکتاہے اور عالم ِ بالا کے ملکوت کانظارہ کرسکتاہے.جیساکہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث میں منقول ہے : لو لا ان الشیاطین یحو مون علی قلوب بنی اٰدم لنظر و االی الملکوت اگرشیاطین اولادِ آدم کے دلوں کوگھیر نہ لیںتووہ عالم ِ ملکوت کو دیکھ سکتے ہیں ( ۲) ۔ بہرحال قیامت میں نجات کے لیے بہترین سر مایہ قلبِ سلیم ہے اور یہی قلب ِ سلیم تھا جس کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے پروردگار کی بار گاہ کی طرف چلے اور فر مانِ رسالت حاصل کیا : یہ بیان ہم ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں ، ایک روایت میں آ یا ہے : ا ن اللہ فی عبادہ ا ٰ نیة و ھو القلب فاً حبھاالیہ ” اصفاھا“ و ” اصلبھا “ و” ارقھا “ : اصلبھا فی دین امہ ، واصفاھا من لذ نوب،وارقھا علی الاخوان ۺخدا کااس کے بندوں میں ایک ظرف اور پیمانہ ہے . جس کانام ” دل ہے “ . ان میں سے سب سے بہتروہی ہے جوزیادہ صاف وشفاف ،زیادہ محکم اور زیادہ لطیف ہو. خدا کے دین میں سب سے زیادہ محکم ہو ، گناہوں سے سب سے زیادہ پاک ہو اور دینی بھائیوں کے لیے زیادہ لطیف اور مہر بان ہو ( 3) ۔ ۱۔بحار جلد ۷۰ ،صفحہ ۲۵ ” باب حب اللہ حدیث ۲۷ “ ۔ 2۔ بحار جلد ، ۷۰ صفحہ ۵۹ ” باب القلب وصلاحہ “ حدیث ۳۹۔ 3۔بحار جلد ۷۰ ،صفحہ ۵۶ ” باب القلب وصلاحہ “ حدیث ۲۶۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:83-94
سوره صافات / آیه 83 - 94
۸۳۔ وَ إِنَّ مِنْ شیعَتِہِ لَإِبْراہیمَ ۔ ۸۴۔ إِذْ جاء َ رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلیم۔ ۸۵۔ إِذْ قالَ لِاٴَبیہِ وَ قَوْمِہِ ما ذا تَعْبُدُونَ ۔ ۸۶۔ اٴَ إِفْکاً آلِہَةً دُونَ اللَّہِ تُریدُونَ ۔ ۸۷۔ فَما ظَنُّکُمْ بِرَبِّ الْعالَمینَ ۔ ۸۸۔فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُومِ ۔ ۸۹۔فَقالَ إِنِّی سَقیمٌ ۔ ۹۰۔فَتَوَلَّوْا عَنْہُ مُدْبِرینَ ۔ ۹۱۔فَراغَ إِلی آلِہَتِہِمْ فَقالَ اٴَ لا تَاٴْکُلُونَ ۔ ۹۲۔ما لَکُمْ لا تَنْطِقُونَ ۔ ۹۳۔فَراغَ عَلَیْہِمْ ضَرْباً بِالْیَمینِ ۔ ۹۴۔ فَاٴَقْبَلُوا إِلَیْہِ یَزِفُّونَ ۔ ترجمہ ۸۳۔ اور ابراہیم اس ( نوح ) کے پیرو کاروں میں سے تھا ۔ ۸۴۔ یاد کر و اس وقت کو جبکہ وہ قلب ِ سلیم کے ساتھ اپنے پروردگار کی بار گا ہ میں آیا ۔ ۸۵۔ جس وقت اس نے اپنے باپ ( یعنی چچا ) اوراپنی قوم سے کہا:کہ یہ کہا چیز ہیں جنہیں تم پوجتے ہو ؟ ۸۶۔ کیاخدا کو چھوڑ کران جھوٹے معبود وں کی طرف جاتے ہو ؟ ۸۷۔تم پر وردگار ِ عالمین کے بار ے میں کہاگمان کرتے ہو ؟ ۸۸۔ (پھر ) اس نے ستاروں کی طرف ایک نگاہ ڈالی ۔ ۸۹۔اور کہا میں تو بیمار ہوں ( اور تمہارے ساتھ جشن میں نہیں جاسکتا ) ۔ ۹۰۔ انھوں نے اس سے منہ پھیر لیا ( تیزی کے ساتھ اس سے دُور ہوگئے ) ۔ ۹۱۔ (وہ بُت خانہ میں داخل ہو ا ) چپکے سے ان کے معبودوں پر ایک نظر ڈالی اورتمسخر کے طورپر کہا: ان غذ اؤں میں سے کھاتے کیوں نہیں ہو ؟ ۹۲ ۔تمہیں کیا ہوگیا ہے ، تم بولتے کیوں نہیں ؟ ۹۳ ۔ اس کے بعد اپنے دائیں ہاتھ سے ایک پوری توجہّ کے ساتھ ان کے جسم پر ایک زور دار ضرب لگائی ( اور بڑ ے بُت کے سواسب کوتوڑ پھوڑ کے رکھ دیا ) ۔ ۹۴۔ وہ تیزی سے اس کے پاس آئے ۔