وَلَقَدۡ نَادَىٰنَا نُوحٞ فَلَنِعۡمَ ٱلۡمُجِيبُونَ
Certainly Noah called out to Us, and how well did We respond!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 37:75
[Pooya/Ali Commentary 37:75] Refer to the commentary of Araf: 59 to 64; Yunus: 71 to 73; Hud: 25 to 49; Muminun: 23 to 30; Shu-ara: 105 to 122 for prophet Nuh. Nuh's posterity and those who sailed on the ark survived the great flood in the ark, while the rest perished. Aqa Mahdi Puya says: His progeny carried the torch of guidance to the present day through Ibrahim and his descendants up to the Holy Prophet and the Imams among his Ahl ul Bayt. Refer to the commentary of Ali Imran: 33 and 34.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 37:75-113
This presages Imam Hussain’s Martyrdom and is a miracle of the Glorious Qur’an.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:75-82
نوح (ع ) کی داستان کا ایک گوشہ
یہاں سے خدا کے نوعظیم پیغمبروں کی داستان کاذکر شروع ہوتا ہے . اس کی طرف گزشتہ آ یا ت میں اجمالی طورپر ذکر ہوا تھا ۔ سب سے پہلے شیخ الا نبیاء اور پہلے او لو العزم پیغمبر حضر ت نوح علیہ السلام کاذکر کیاگیا ہے ، پہلے ان کی اس پر سوز دعا کی طرف . جوانھوں نے اس وقت کی تھی جب وہ اپنی قوم سے مایو س ہوگئے تھے . اشارہ کرتے ہوئے فر مایاگیاہے : نوح نے ہمیں پکاراتو ہم نے بھی ان کی دعاقبول کرلی اور ہم کیسے اچھے قبول کرنے والے ہیں (وَ لَقَدْ نادانا نُوحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجیبُون) ( ۱) ۔ ۱یہ دعا ممکن ہے اسی دعاکی کی طرف اشارہ ہو جو سورہ ٴ نو ح میں آ ئی ہے ارشاد ہوتاہے : وَ قالَ نُوحٌ رَبِّ لا تَذَرْ عَلَی الْاٴَرْضِ مِنَ الْکافِرینَ دَیَّارا،إِنَّکَ إِنْ تَذَرْہُمْ یُضِلُّوا عِبادَکَ وَ لا یَلِدُوا إِلاَّ فاجِراً کَفَّارا نوح نے کہا: پر وردگار ا ! کافروں میں سے کسی کو زمین پر نہ رہنے دے کیونکہ اگرتو انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اوران سے فاجروں اور کافروں کے سوااور کوئی پیدا نہیں ہوگا ( وہ خود بھی فاسد ہیں اور ان کی آئند ہ نسل بھی فاسد ہوگی (نوح . ۲۶. ۲۷) ۔ یاوہ دعا جو آپ علیہ السلام نے کشتی پرسوار ہوتے وقت بار گاہ ِ خدا میں کی تھی ۔ رَبِّ اٴَنْزِلْنی مُنْزَلاً مُبارَکاً وَ اٴَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلین پر وردگار ا ! تو ہمیں کسی پُر برکت منزل پر اتار نا اور تو بہتر ین منز ل عطا کرنے والا ہے ( موٴ منون . ۲۹) ۔ یاوہ دعا جوسُورہ ٴ قمر کی آیہ ۱۰ میں آ ئی ہے۔ فَدَعا رَبَّہُ اٴَنِّی مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ نو ح علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے اس طرح دیاکی : ( پر وردگار ا ) میں اس قوم کے چنگل میں مغلوب ہوں میری مددفر ما ۔ البتہ اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ زیربحث آ یہ ان تمام دعاؤں کی طرف اشارہ ہو ا اور مر اد یہ ہو کہ خدا نے بہترین طریقے سے ان سب کو قبول فر مایا ۔ لہذا بعد والی آیت میں بلافاصلہ فر مایا گیاہے : ہم نے اسے اوراس کے خاندان کوعظیم غم سے نجات بخشی (وَ نَجَّیْناہُ وَ اٴَہْلَہُ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظیم) (۲) ۔ یہ غم واندوہ کیاتھا ، جس نے حضرت نو ح علیہ السلام کو ستارکھاتھا ؟ ممکن ہے یہ کافر و مغر ور قوم کی طرف سے مذاق اڑانے اورزبانی آز ار پہچانے اور آپ کی اور آپ کے پیر و کاروں کی ترہین کرنے کی طرف اشارہ ہو یااس ہٹ دھرم قوم کی طرف سے پے درپے جھٹلا نے کی طرف اشارہ ہو ۔ کبھی کہتے تھے : قالُوا یا نُوحُ قَدْ جادَلْتَنا فَاٴَکْثَرْتَ جِدالَنا فَاٴْتِنا بِما تَعِدُنا إِنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقینَ اے نوح ! تو نے ہم سے بہت باتیں کرلیں (اورخُوب جھگڑ چکا ہے ) اگر توسچ کہتاہے تووہ عذاب جس کا تو وعدہ کیاکرتا ہے اسے لے آ ۔( ہود . ۳۲) اور کبھی جیسا کہ قرآن کہتا ہے : وَ یَصْنَعُ الْفُلْکَ وَ کُلَّما مَرَّ عَلَیْہِ مَلَاٴٌ مِنْ قَوْمِہِ سَخِرُوا مِنْہُ وہ تو کشتی کے بنا نے میں مشغول تھا مگر جس وقت اس کی قوم کا کوئی گروہ اس کے قریب سے گزرتا تو اس کامذاق اڑاتا ( وہ کہتے کہ یہ شخص دیوانہ ہو گیاہے ) ۔ (ہود . ۳۸) حضرت نو ح علیہ السلام باحوصلہ پیغمبرکوانہوں نے اس قدر پریشان کیا اور آ پ علیہ السلام کی اتنی بے ادبی کی کہ آپ علیہ السلام کو دیوانہ تک کہا ۔ آپ نے عرض کیا: رَبِّ انْصُرْنی بِما کَذَّبُون پروردگار ا ! ان کی تکذیب کے مقابلے میں میری مددفر ما ۔ ( موٴ منون . ۲۶) بہرحال مجموعی طورپر ان سب نا گوار حوادث اورزبان کے شدیدزخموں نے ان کے پاکیزہ دل کوسخت پریشان کردیاتھا . یہاں تک کہ طوفان آ پہنچا اورخدا نے انھیں اس ستمگر قوم کے چنگل سے اس کرب ِ عظیم اوراندوہ ِ کبیرسے نجات بخشی۔ بعض مفسرّین نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ ” کرب ِ عظیم “ سے مراد وہی طوفان تھا، جس سے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے انصارو اصحاب کے علاوہ کسی نے نجات نہیں پائی ، لیکن یہ معنی بعید نظر آتاہے۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتاہے :ہم نے نوح کی اولاد کو ( زمین پر ) باقی رہ جانے والا قرار دیا ۔ (وَ جَعَلْنا ذُرِّیَّتَہُ ہُمُ الْباقینَ)۔ وہ انھیں ایک ثابت قدم قیام کرنے والا،شجاع،بہت زیادہ صبر کرنے والا،دلسوز و مہر بان پیغمبر کے عنوان سے یاد کرتے ہیں اورانہیں شیخ الابنیاء کہتے ہیں ۔ ان کی تاریخ ثبات قدم،پامردی اوراستقامت کا ایک نمونہ ہے اوردشمنوں اور بے عقل کی سختیوں کے مقابلے میں ان کا طرزِ عمل راہ حق کے تمام راہیوں کے لیے الہام بخش ہے۔ عالمین کے لوگوں میں نوح پر سلام (سَلامٌ عَلی نُوحٍ فِی الْعالَمین ) ۔ اس سے برتر و بالا تر اور کون سا اعز ازو افتخار ہوگا کہ خدا وند ِ عالم ان پر سلام بھیجتا ہے . ایساسلام جو جہان اور جہان والوں کے درمیان باقی رہتاہے اور دامن ِ قیامت تک پھیلا دیاجاتا ہے . خدا کاسلام جو اس کے بندوں کی طرف سے ثنا ء ِ جمیل اور ذکر خیر کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن میں اس وسعت کے ساتھ بہت کم سلام کس کے لیے نظر آتاہے . خاص طورپر یہ بات کہ ” العالمین “ ( اس بناء پر کہ جمع ہے اور الف و لام اس کے ساتھ ہے ) ایساوسیع معنی رکھتا ہے ، جونہ صرف انسانوں بلکہ ممکن ہے کہ فرشتوں اور ملکوت کے عوامل پر بھی محیط ہو ۔ اوراس غرض سے کہ یہ دوسروں کے لیے الہام بخش ہو . مزید فر مایاگیاہے : ہم اسی قسم کی جز ا نیکو کارو ں کو دیتے ہیں۔ (إِنَّا کَذلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنینَ ) ۔ چونکہ وہ ہمار ے صاحب ِ ایمان بندوں میں سے تھا (إِنَّہُ مِنْ عِبادِنَا الْمُؤْمِنین) ۔ درحقیقت مقام ِ بندگی اوراسی طرح ایمان جو احسان و نیکی کے ساتھ ہو جس کا بیان آخری دو آیات میں ہے . حضر ت نوح علیہ السلام کے لیے خدا کے لطف اوراندوہِ عظیم سے ان کی نجات اور ان پرخدا کے درود وسلام کی اصل وجہ تھی کیونکہ اگر یہی طرز ِ عمل دوسروں کا بھی ہو تو وہ بھی اسی رحمت اورلطف کے حق دار ہوں گے کہ جن کے نوح تھے ، کیونکہ پر وردگار کے الطاف کا معیار تخلف ناپذ یر ہے اور وہ کسی خاص شخص کے لیے نہیں ہوتا ۔ آخر ی زیر بحث آپ میں ایک مختصر او ر تیز جملے کے ساتھ اس ظالم شر یر اور کینہ پر ور قوم کاانجام بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے :پھر ہم نے دوسروں کوغرق کردیا (ثُمَّ اٴَغْرَقْنَا الْآخَرینَ ) ۔ آسمان سے بارش کاطوفان ٹوٹ پڑا اور زمین سے پانی ابلنے لگا اور سارے کاسارا کرہ ٴ ارض تھپیڑیں مارتے ہوئے سمندر میں بدل گیا ، اس نے ظالموں کے محل درہم برہم کردیئے اوران کے بے جان جسم صفحہ ٴ آب پر باقی رہ گئے قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ اپنے الطاف و اکرام کی بات تو اللہ تعالیٰ نے کئی آیات میں بیان کی ہے لیکن اس سرکش قوم کے عذاب کا بیان تحقیر و بے اعتنائی کے ساتھ ایک مختصر سے جملے میں تمام کردیا ہے ، کیونکہ موٴ منین کے افتخار ات اور کا میابیوں اوران کے لیے خدا کی مدد ونصرت کا بیان توضیح کاحق دار ہے اور سر کشوں کی حالت بے اعتنا ئی و بے پر واہی سے بیان ہونا چاہیے ۔ 1۔” مجیبون “ صیغہ جمع ہے حالانکہ اس سے مُراد خدا ہے کہ جس نے نوح کی دعا قبول کی . اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات جمع کاصیغہ اظہار ِ عظمت کے لیے آ تاہے . جیسا کہ ’ ’ نادانا “ میں جمع متکلم کی ضمیر بھی اسی مقصد کے لیے ہے۔ ۲۔ ” کرب “ مفر دات میں راغب کے قول کے مطابق ” اندوہِ شدید “ کے معنی میں ہے اور” عظیم “ اس معنی پر مزید تاکید کے لیے ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:75-82
سوره صافات / آیه 75 - 82
۷۵۔وَ لَقَدْ نادانا نُوحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجیبُونَ ۔ ۷۶۔وَ نَجَّیْناہُ وَ اٴَہْلَہُ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظیمِ ۔ ۷۷۔ وَ جَعَلْنا ذُرِّیَّتَہُ ہُمُ الْباقینَ ۔ ۷۸۔وَ تَرَکْنا عَلَیْہِ فِی الْآخِرینَ ۔ ۷۹۔سَلامٌ عَلی نُوحٍ فِی الْعالَمینَ ۔ ۸۰۔إِنَّا کَذلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنینَ ۔ ۸۱۔إِنَّہُ مِنْ عِبادِنَا الْمُؤْمِنینَ ۔ ۸۲۔ ثُمَّ اٴَغْرَقْنَا الْآخَرین۔ ترجمہ ۷۵۔نوح نے ہمیں پکارا ( اور ہم نے اس کی دعا کو قبول کرلیا ) اورہم کیسے اچھے قبول کرنے والے ہیں ۔ ۷۶۔او ر ہم نے اسے اورا س کے اہل خاندان کو اندوہِ عظیم سے نجات بخشی ۔ ۷۷۔ اوراس کی اولاد کو ( روئے زمین پر ) باقی رہنے والا قرار دیا ۔ ۷۸۔اور ہم نے اس کا نیک نام بعد کی امتوں میں باقی رکھا ۔ ۷۹۔ سارے جہان کے لوگوں میں نوح پر سلام ہو ۔ ۸۰۔ہم نیک لوگوں کواسی طرح سے اجر دیتے ہیں ۔ ۸۱۔بے شک وہ ہمارے صاحبِ ایمان بندوں میں سے تھا ۔ ۸۲۔پھر دوسروں ( اس کے دشمنوں ) کو ہم نے غرق کردیا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:75-82
کیا روئے زمین کے تمام لوگ نوح (ع) کی اولاد ہیں ؟
بزرگ مفسّرین کی ایک جماعت نے ’وَ جَعَلْنا ذُرِّیَّتَہُ ہُمُ الْباقینَ “ ہم نے نوح کی اولاد کو زمین میں باقی رہ جانے والا قرار دیا “ سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ نوح کے بعد تمام نسلِ بشرانھی کی اولاد میں سے وجودمیں آئی ہے اور اس وقت کے تمام انسان انہی کی اولاد ہیں ۔ اس بات کو بہت سے موٴ رخین نے نقل کیاہے کہ نوح کے تین بیٹے باقی رہ گئے تھے . سام،حام اور ر یافث.اور اس وقت کُرّہ زمین پرموجو د تمام نسلیں انہی پر منتہی ہوتی ہیں . یہ حضرات عرب،فارس اور رُوم کے لوگوں کو سام کی نسل سمجھتے ہیں اورترکی نسل اور کچھ دوسرے گروہوں اس بات کو بہت سے موٴ رخین نے نقل کیاہے کہ نوح کے تین بیٹے باقی رہ گئے تھے . سام ، حام اوریافث . اور اس وقت کُرّ ہ زمین پر موجود تمام نسلیں انہی پر منتہی ہوتی ہیں . یہ حضرات عرب ،فارس اوررُو م کے لوگوں کو سام کی نسل سمجھتے ہیں اور ترک کی نسل اور کچھ دوسرے گر وہوں کو ” یافث “ کی اولاد سے اور سوڈان ،سندھ ،ہند ، نوبہ ،حبشہ ، قبط اور بَر برکے لوگوں کو حام کی اولاد میں شمار کرتے ہیں ۔ ا ب بحث اس مسئلہ میں نہیں ہے کہ فلا نوح علیہ السلام کے کس بیٹے کی اولاد ہے کیونکہ اس مسئلے میں موٴ رخین و مفسّرین کے درمیان مختلف نظر یات ہیں . بحث اس بار ے میں ہے کہ کیا یہ سب انسانی نسلیں انہی تینوں کی طرف لوٹتی ہیں ؟ یہاں یہ سوال سامنے آ تاہے کہ کیا دوسرے موٴ منین حضرت نو ح علیہ السلام کے ساتھ سوا ر نہیں ہوئے ؟ ( اگر ہوئے ) تو پھر ان کا انجام کیا ہوا ؟کیاوہ سب کے سب اس حالت میں رخصت ہوگئے کہ ان کے کوئی اولاد باقی نہ رہی . یااگر کوئی اولاد باقی رہی ہو تووہ لڑ کیا ں تھیں جنہوں نے نوح کی اولاد سے شادیاں کرلیں ؟ یہ مسئلہ تاریخی لحاظ سے چنداں روشن و واضح نہیں ہے بلکہ بعض روایات اورقرآنی آیات کے کچھ اشارات سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتاہے کہ ان کی بھی روئے زمین پرکچھ اولاد باقی رہ گئی تھی اور کچھ قومیں ان کی اولاد میں سے ہیں ۔ ایک حدیث تفسیر علی بن ابراہیم میں امام باقر علیہ السلام سے مذ کورہ با لا آیت کی وضاحت میں نقل ہوئی ہے . اس میں اس طرح بیان ہوا ہے۔ الحق والنبوة والکتاب والا یمان فی عقبہ ، و لیس کل من فی الارض من بنی اٰدم من و لد نوح ( ع) قال اللہ عزو جل فی کتابہ :احمل فیھا من کل زو جین اثنین واھلک الامن سبق علیہ القو ل منھم ومن اٰمن و ما اٰمن معہ الا قلیل ، و قال اللہ عزو جل ایضاً ،ذریة من حملنا مع نوح ۔ خدا کی اس آیہ (وَ جَعَلْنا ذُرِّیَّتَہُ ہُمُ الْباقینَ) . سے مراد یہ ہے کہ حق ، نبوّت ، کتاب آسمانی اورایمان اولادِ نوح میں باقی رہا ، لیکن آدم کی اولاد میں سے تمام وہ لوگ جوروئے زمین پرزندگی بسر کر رہے ہیں سب کے سب نوح کی اولاد میں سے نہیں ہیں کیونکہ خداوند تعالیٰ اپنی کتاب میں کہتاہے : ہم نے نوح کو حکم دیاکہ جانوروں کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا کشتی میں سوا ر کرلے اوراسی طرح اپنے اہل خانہ کو ، سوائے ان کے جنکی ہلاکت کاوعدہ کیاجاچکا ہے (نوح کی بیوی اور ایک بیٹے کی طرف اشار ہ ہے ) اوراسی طرح موٴ منین کو ( بھی سوار کرلو ) اورنوح پرتو ایک چھوٹے سے گروہ کے سوا کوئی ایمان ہی نہیں لایاتھا . علاوہ ازیں ( بنی اسرائیل کوخطاب کرتے ہوئے کہتاہے ) اے ان لوگوں کی اولاد کہ جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیاتھا ( 1) ۔ اوراس طرح سے رو ئے زمین کی تمام نسلوں کانوح کی اولاد تک منتہی ہونے کے بار ے میں جوکچھ مشہور ہے وہ ثابت نہیں ہے۔ 1۔ یہ حدیث نورالثقلین ، جلد ۴ ،ص ۴۰۵ پر آئی ہے . اس طرح تفسیر صافی میں زیر بحث آ یات کے ذیل میں بھی ہے۔