فَٱلتَّـٰلِيَٰتِ ذِكۡرًا
by the ones who recite the reminder:
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:1-5
وہ فرشتے جو انجام اُمور کے لیے آمادہ رہتے ہیں۔
یہ قرآن مجید کی وہ پہلی سُورہ ہے جس کا آغاز قسم سے ہوتاہے . اس کی پر معنی اورفکرانگیز قسمیں انسان کی فکر کواپنے ساتھ اس جہان کے مختلف گوشوں کی طرف کھینچ لے جاتی ہیں اورحقائق قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہیں ۔ یہ ٹھیک ہے کہ خدا سب سے بڑھ کرراست گو ہے اوراسے قسم کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے . علاوہ ازیں اگر قسم مو منین کے لیے ہو تووہ قسم کے بغیر بھی سرتسلیم خم کے ہوئے ہیں اوراگر منکرین کے لیے ہے تووہ خدا کی قسموں پر اعتقاد ہی نہیں رکھتے ۔ لیکن قرآن کی تمام آیات میں جن سے اس کے بعد ہمیں کبھی کبھی واسط بڑے گا ،دونکات کی طرف توجہ سے قسم کا مسئلہ واضح ہوجائے گا ۔ پہلا یہ کہ قسم ہمیشہ قابل ِ قدر اوراہم امورکے بار ے میں کھائی جاتی ہے .اس بناء پر قرآنی قسمیں ان امور کی عظمت اوراہمیّت کی دلیل ہیں کہ جن کی قسم کھائی گئی ہے اور ایہی امر ” مقسم بہ “ یعنی وہ چیز جس کی قسم کھائی گئی ہے کے بار ے میں زیادہ سے زیادہ غور و فکر کاسبب بنتاہے . ایسا غور و فکر جو انسان کونئے حقائق سے آشنا کرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ قسم ہمیشہ تاکید کے لیے ہوتی ہے اوراس امر کی دلیل ہوتی ہے کہ وہ امور جن کے لیے قسم کھائی جارہی ہے ایسے ہیں کہ جن کے بار ے میں تاکید شدید ہے۔ اس سے قطع نظرجس وقت کہنے والا اپنی بات کو دوٹوک طریقے سے بیان کرے تو نفسیاتی طور پر سننے والے کے دل پر زیادہ اثر اندازہوتی ہے .لہذا قرآن کی ہر قسم مومنین کوزیادہ قوی اورمنکر ین کوزیادہ نرم کردیتی ہے ۔ بہرحال وہ اس سورہ کی ابتداء میں ہمیں تین نام ملتے ہیں جن کی قسم کھائی گئی ہے ( ۱) ۔ پہلے فر ماتاہے : قسم ہے ان کی جوصف باندھے ہوئے ہیں اورجنہوںنے اپنی صفوں کومنظم کیاہوا ہے (وَ الصَّافَّاتِ صَفًّا) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:1-5
سوره صافات / آیه 1 - 5
بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ ۱۔ وَ الصَّافَّاتِ صَفًّا ۔ ۲ ۔ فَالزَّاجِراتِ زَجْراً ۔ ۳۔فَالتَّالِیاتِ ذِکْراً ۔ ۴۔ إِنَّ إِلہَکُمْ لَواحِدٌ ۔ ۵۔رَبُّ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ وَ ما بَیْنَہُما وَ رَبُّ الْمَشارِق. ترجمہ رحمن و رحیم خدا کے نا م سے ۱۔ قسم ہے صف باندھ کرکھڑے ہونے والوں کی ( جواپنی صفوں کومنظمرکھے ہوئے ہیں ) ۔ ۲۔ پھرقسم ہے اُن کی جوسختی کے ساتھ منع کرتے ہیں ( اور روک دیتے ہیں ) ۔ ۳۔ وہی کہ جوپے در پے ذکر ( الہٰی ) کی تلاوت کرتے ہیں ۔ ۴۔ تمہار امعبود یقینا یکتاہے۔ ۵ ۔ وہ آسمانوں کابھی رب ہے اورزمین کابھی اورجوکچھ ان کے درمیان ہے ان کا بھی اور وہ مشارق کا رب ہے۔
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 37:1-21
The actions are always to be judged by immutable standard of right and wrong, but judgment will consider age, country, station, and other accidental circumstances. Judgment is like a pair of scales and evidence is like weights, and Divine Will shall hold the balance, with a slight jerk of a proof of Divine affection and of Divine Lights, it will be sufficient in many cases to make the lighter scale appear the heavier. Never forget the Day of Judgment. Keep it always in view and frame your actions and plans with a reference to its unchanging decision (depending on Divine Love and of Divine Lights). Love implies obedience – (note carefully) acts due to admixture of filthy earth may be liable, yet proof of Divine Love, causing mental pain for their issue and penance may lead judgment to relaxation.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 37:3
[Pooya/Ali Commentary 37:3] (see commentary for verse 1)