وَقِفُوهُمْ إِنَّهُم مَّسْئُولُونَ
[But first] stop them! For they must be questioned.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 37:24
[Pooya/Ali Commentary 37:24]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:24-32
دوزخ میں گمراہ پیشو اؤں اور پیروکاروں کی گفتگو
جیساکہ ہم گزشتہ آ یات میں جان چکے ہیں کہ عذاب کے فرشتے ظالموں اوران کے ہم خیالوں کوتبوں اورجھوٹے معبودوں کے ہمراہ اکٹھے چلتاکر یں گے اورانھیںجہنم کی راہ پر ڈال دیں گے ۔ اس با ت کو جاری رکھتے ہوئے قرآن کہتاہے:اس موقع پر خطاب ہوگا ، ” انھیں روکو “ ابھی ان سے پوچھ گچھ ہونا ہے (وَ قِفُوہُمْ إِنَّہُمْ مَسْؤُلُون) (۱) ۔ ہاں ! انھیں روک کر مختلف سوالا ت کاجواب دیناہے۔ لیکن ان سے کس چیز کے بار ے میں سوال ہوگا ؟ بعض نے توکہا ہے کہ ان بدعتوں کے بار ے میں جو انھوں نے قائم کی تھیں۔ بعض نے کہا ہے کہ ان کے بُرے اعمال اورخطاؤں کے بار ے میں۔ بعض نے مزید کہاہے کہ توحید اور لا اللہ الاّاللہ کے بار ے میں ۔ بعض نے کہا نعمتوں،جوانی،تندرستی ،عمر،مال اوراسی قسم کی چیزوں کے بار ے میں ۔ ایک مشہور ومعروف روایت میں جوسُنی و شیعہ طرق سے منقول ہے ،یہ کہاگیا ہے کہ : علی علیہ السلام کی ولایت کے بار ے میں سوال ہوگا ( ۲) ۔ البتہ تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں کیونکہ اس دن ہرچیز کے بار ے میں سوال ہوگا . عقائد ،توحید ،ولایت علی علیہ السلام گفتار و کردار اوران نعمتوں کے بار ے میں جو خدانے انسان کوعطا فرمائی ہیں ۔ یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ انھیںپہلے دوزخ کی طرف کیوں چلتاکریں گے اورپھر انہیں پوچھ گچھ کے لیے کیوں ٹھہرائیں گے ؟ کیابازپر س اس کام سے پہلے نہیں ہونی چاہیے ؟ اس سوال کا دوطرح سے جواب دیاجاسکتاہے: پہلا یہ کہ اس گروہ کاجہنمی ہونا تو سب پر واضح ہے یہاں تک کہ خودان پر بھی .ا ور پُوچھ گچھ اس بنا پر ہوگی تاکہ ان کے جُرم کی کیفیت وکمیت ان پر واضح کردی جائے ۔ دوسرا یہ کہ سوالا ت فیصلہ اورا نصاف کرنے کے لیے نہیں ہوگے بلکہ یہ ایک طرح کی سر زنش اور روحانی سز اہے۔ البتہ یہ سب کچھ ا س صورت میں ہے کہ جو کچھ ہم نے کہا ہے، سوا لات ان سے مربوط ہوں لیکن اگروہ بعدوالی آیت کے ساتھ مربوط ہوں کہ ان سے یہ سوال ہوگا ” تم ایک دوسرے کی مدد کیوںنہیں کرتے “ ؟تو اس صور ت میں اس آیت میں کوئی مشکل باقی نہیں رہتی لیکن یہ تفسیر ان متعدد روایات کے ساتھ جواس بار ے میںوارد ہوئی ہیں. ہم آہنگ نہیں ہے . مگر یہ کہ یہ سوال بھی ان مختلف سوالات کاایک جزء ہوجن سے یہ صُورت اختیار کرتاہے۔ ( غور کیجئے گا ) بہرحال جس وقت یہ بے بس دوزخی جہنم کی راہ پرچلتاکیے جائیں گے ان کاہاتھ ہرطرف سے بے بس ہوجائے گا ، انھیں کہاجائے گا : دنیا میں توتم مشکلات کے وقت ایک دوسرے کی پناہ لیتے تھے اور دوسر ے سے مدد طلب کرتے تھے ” اب یہاں ایک دوسرے سے مدد کیوں نہیں مانگتے (ما لَکُمْ لا تَناصَرُونَ ) ۔ ہاں ! ہم تم دنیا میں جتنے سہارے اپنے لیے خیال کرتے تھے یہا ں وہ سب ختم ہوگئے . تم ایک دوسر ے سے مدد لے سکتے ہو نہ ہی تمہارے معبود تمہاری مدد کوآسکتے ہیں . کیونکہ وہ توخود بے بس اور گرفتار ہوں گے ۔ کہتے ہیں کہ ابو جہل نے بد ر کے دن کہاتھا : نحن جمیع منتصر ہم سارے ایک دوسر ے کی مدد سے مسلمانوںپرکامیاب ہوں گے ۔ قرآن مجید نے اس کی گفتگو سورہٴ قمر کی آیہ ۴۴ میں بیان کیاہے۔ اٴَمْ یَقُولُونَ نَحْنُ جَمیعٌ مُنْتَصِرٌ لیکن قیامت میں ابوجہل اوراس کے ہم صفت لوگوں سے پوچھاجائے گا کہ اب تم ایک دوسر ے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟لیکن ان کے پاس اس سوال کاکوئی جواب نہیں ہوگا اور سوا کن سکوت کے سواکچھ نہ کرسکیں گے ۔ بعد والی آیت میں مز یدفر مایاگیاہے : بلکہ وہ تو اسدن خضوع وخشوع کے ساتھ سرتسلیم خم کیے ہوں گے اور مخالفت تو کجاان میں اظہار وجوہ کی بھی سکت نہ ہوگی (بَلْ ہُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ) (۳) ۔ اس موقع پر وہ ایک دوسرے کو بُر ابھلاکہناشروع کردیں گے اورہر ایک اپناگناہ دوسرے کی گردن میں ڈالنے کے لیے بضد ہوگ. پیروی کرنے والے ا، اپنے پیشواؤں اور سر براہوں کوقصور وار ٹھہرا ئیں گے اور پیشوا اپنے پیرو کاروں کوجیسا کہ بعد والی آیت میں فر مایا گیا ہے : وہ ایک دوسرے کی طرف رُخ کریں گے اورایک دوسرے سے سوال کریں گے (وَ اٴَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلی بَعْضٍ یَتَساء َلُونَ ) ۔ گمراہ پیروکاراپنے گمراہ کرنے والے پیشو اؤں سے ” کہیں گے:تم شیطان صفت نصیحت ،خیر خواہی اور ہمدرد ی کے نام پراور ہدایت و رہنمائی کے بہانے ہمارے پاس آتے تھے،لیکن تمہارے کام میں مکر وفریب کے سوا اور کچھ نہیں تھا (قالُوا إِنَّکُمْ کُنْتُمْ تَاٴْتُونَنا عَنِ الْیَمین)۔ ہم توفطرت کے تقاضے کے مطابق نیکی،پا کیز گی اورسعادت کے طالب تھے لہذا ہم نے تمہاری دعوت پر لبیّک کہا ،ہمیں خبرنہ تھی کہ اس خیرخواہی کے چہر ے کے پیچھے شیطان صفت چہرہ چھپاہوا ہے،جوہمیں بدبختی کے گڑ ھے میں گرادے گا.ہاں ! ہمارے سارے کے سارے گناہ تمہاری ہی گردن پر ہیں . ہمار تو حسنِ نیت اورپاک دلی کے سوا کوئی جذبہ نہ تھا اور تم شیطان صفت جھوٹوں کے پاس بھی مکر و فیرب کے سوا کچھ نہ تھا ۔ ” یمین “ کالفظ ” جو د ایاں ہاتھ “ یا ” دائیں سمت“ کے معنی میں عربوں میںبعض اوقات خیر وبرکت اورنصیحت کے لیے کنائے کے طورپر بولاجاتاہے اوراصولی طورپر عربوں کوجوکچھ دائیں طرف سے آتا تھاسے ” نیک فال “ سمجھتے تھے . اسی لیے بہت سے مفسرین نے ” کنتم تاٴ توننا “ عن الیمین “ کامعنی خیر خواہی اورنصیحت کااظہار لیاہے۔ بہرحال یہ ایک عمومی رواج ہے کہ دائیں عضو اور دائیں طرف کومحترم اوربائیں کوغیر محترم خیال کرتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ” یمین “ نیکیوں اورخیرات کے معنی میں بولاجاتاہے۔ کچھ مفسرین ن یہاں ایک دوسری تفسیر بھی بیان کی ہے ، انھوں نے کہا ہے کہاس سے مراد یہ ہے کہ تم طاقت اوراقتدار کے بل بوتے پرہمارے پاس آتے تھے کیونکہ دائیں سمت عام طورپر زیادہ قوی ہوتی ہے . اسی وجہ سے اکثر لوگ اہم کام دائیں ہاتھ سے ہی انجام دیتے ہیں اس لیے یہ تعبیر ” طاقت “ کے لیے کنائے کے طورپر آئی ہے۔ دوسری تفسیریں بھی بیان کی گئی ہیں جو مذ کورہ بالا دونوںتفسیروں کی طرف ہی لوٹتی ہیں. لیکن بلاشک وشبہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ بہرحال ان کے پیشو ابھی خاموش نہیں رہیں گے اورجواب میں ” کہیں گے تم توخود ہی اہل ایمان نہیں تھے “ (قالُوا بَلْ لَمْ تَکُونُوا مُؤْمِنین) ۔ اگر تمہارامزاج آمادہ ٴ انحراف نہ ہوتا ، اگرتم خودہی شرو شیطنت کے طالب نہ ہوتے تو ہمارے پاس کہاں آ تے ؟ تم نے انبیاء اورنیک وپاک لوگوں کی دعوت کوقبول کیوں نہ کیا ؟ہمارے ایک ہی اشارے پر تم سرکے بل کیوں دوڑ پڑے ؟ پس معلوم ہوتاہے کہ خود تمہیں میںعیب تھا.جاؤ اورخوداپنے آپ کوملامت کرو اور جو طعن کرناچاہتے ہو خود کو کر و ۔ ہماری دلیل واضح ہے ” ہم کسی قسم کاتسلّط تم پر نہیں رکھتے تھے اورہم نے پر کوئی جبراور زبردستی نہیں کی تھی (وَ ما کانَ لَنا عَلَیْکُمْ مِنْ سُلْطانٍ ) ۔ ” بلکہ تم خود ی ایک سرکش اورحد سے بڑھنے والی قوم تھے اور تمہاری ستم گری کی عادت تمہاری بدبختی کاسبب بنی (بَلْ کُنْتُمْ قَوْماً طاغینَ)۔ کتنی دردناک ہے یہ بات کہ انسان یہ دیکھے کہ اس کاوہ رہبروپیشو ا جس کا وہ ایک عمرتک دل سے عقیدت مندر ہا تھا، اس نے اس کی بختی کے اسباب فراہم کیے ہیں،اس کے بعد اس طرح سے اس سے بیزار ی اختیار کر رہاہے اور تمام گناہ اس کی گردن پرڈا ل رہا ہے اورخود کو بالکل بری الذمہّ قرار دے رہاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں گروہ ایک جہت سے سچ کہہ رہے ہوں گے نہ تو یہ بے گناہ ہیں اور نہ ہی وہ ،ان کی طرف سے گمراہ کرنا اور شیطنت تھی اور ان کی طرف سے گمراہی کو اپنانااورتسلیم کرنا تھا ۔ لہذاان باتوں کاکوئی فائدہ نہ ہوگا اور آخر کا یہ پیشو ااس حقیقت کااعتراف کرلیں گے اورکہیں گے :” اسی بنا پر ، ہمارے پروردگار کافرمان ہم سب پر لا گو ہوگیا ہے اور عذاب کاحکم سبھی کے لیے صادر ہوگیا ہے اورہم سب اس کے عذاب کامزہ چکھیں گے “ (فَحَقَّ عَلَیْنا قَوْلُ رَبِّنا إِنَّا لَذائِقُونَ ) ۔ تم سب کے سب سرشک تھے اور سرکشوں کانجام یہی ہے اوربھی گمراہ اور گمراہ کرنے والے تھے ۔ ہم نے تمہیں بھی گمراہ کیاہے اور ہم توخود گمراہ تھے ہی (فَاٴَغْوَیْناکُمْ إِنَّا کُنَّا غاوینَ ) ۔ اس بنا پر اس میںتعجب کی کون سی بات ہے کہ ہم سب کے سب ان مصیبتوں اورعذاب میں شریک رہیں ؟ ۱۔" و قفو ھم “ وقف کے مادہ سے کبھی متعدی معنی میں استعمال ہوتاہے ( روک لینا اوربند کر نا) اورکبھی لازم کے معنی میں (رُکنااورکھڑ اہوجانا ) پہلے کا مصوّر ” وقف“ اور دوسرے کا ” و قوف“ ہے۔ ۲۔ اس روایت کو ”صواعق “ میں ابوسعید خدری ک واطے سے پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے اور اسی طرح حاکم ابوالقاسم حسکانی نے ” شواہد التنزیل “ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے . عیون اخباالرضا میں بھی یہ روایت امام علی بن موسٰی الرضاعلیہ السلام سے نقل ہوئی ہے۔ ۳۔ ” استسلام “ ” سلامت “ کے مادہ سے باب ” استفعال“کے تقاضے کے مطابق سلامتی طلب کرنے کے معنی میں ہے جو عام طورپر ایک عظیم قُدرت کے سامنے ہوئے وقت سرِ تسلیم خم کی کیفیت کے ساتھ ہوتاہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:24-32
۱۔ ولایت علی (ع) کے بار ے میں بھی سوال ہوگا
جیساکہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیاہے شیعہ اوراہل سنت کی کتابوں میں آ یہ ” وقفوھم انّھم مسئولون“ کی تفسیر کے بار ے میں ایسی متعدد روایات وارد ہوئی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس دن مجر موں سے جوسوال پوچھے جائیں گے ان میں سے ایک (اہم سوال ) امیر الموٴ منین علی علیہ السلام کی ولایت کے بار ے میں ہوگا ۔ شیخ طوسی اپنی کتاب ” امالی “ میں انس بن مالک کے واسطے سے پیغمبرگرامی السلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے نقل کرتے ہیں : اذاکان یوم القیامةونصب الصراط علی جھنم لم یجز علیہ الا من معہ جو ا زفیہ ولایة علی بن ابی طالب وذٰلک قولہ تعالیٰ :و قفو ھم انھم مسئو لون یعنی عن ولایة علی بن ابی طالب (ع) ۔ جب روز قیامت ہوگا اور صراط جہنم کے اوپر نصب کرکدی جائے گی توا س کے اوپر سے کوئی بھی عبورنہ کرسکے گا سوائے اس شخص کے جس کے ہاتھ میں ایساپر وانہ ہوکہ جس میں ولایت ِ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ثبت ہو اور یہی وہ چیز ہے جس کے بار ے میں خدا نے فرمایا ہے : ” وقفوھم انّھم مسئولون“(۱) ۔ اہل سنت کی بھی بہت سی کتابوں میں اس آیت کی یہ تفسیر موجو د ہے کہ علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کے بار ے میں سوال ہوگا ابن ِ عباس اور ابو سعید خدری کے واسطے سے پیغمبر گرام اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے یہ روا یات نقل ہوئی ہیں . اہل سنت کے جن حضرات نے اس حدیث کونقل کیا ہے ان میں سے کچھ علماء یہ ہیں : ابن حجر حیثمی ،صواعق محرقہ میں ۔ ( ص . ۱۴۷ ) عبدا لرزاق حنبلی (کشف الغمہ ) ،ص ۹۲ پر ان کے حوالے سے نقل کیاگیاہے ) ۔ علامہّ سبط ابن جوزی ،تذ کرہ (ص ۲۱ ) میں ۔ آلوسی ، روح المعانی میں ، زیربحث آیہ کے ذیل میں ۔ ابو نعیم اصفہانی ( کفا یتہ الخصاص ۳۶۰ کے مطابق ) ( ۲) ۔ البتہ جیساکہ ہم نے بار ہا کہاہے ، اس قسم کی روایات آیا ت کے وسیع مفہوم کو محدود نہیں کرتیں بلکہ حقیقت میں آیات کے واضح مصداق کو بیان کرتی ہیں . اس بناپر کوئی امر مانع نہیں ہے کہ سوال تو تمام عقائد کے بار ے میں ہی ہو لیکن چونکہ عقائد کی بحث میں ولایت کا مسئلہ ایک خاص اہمیّت رکھتا ہے لہذا اسے خاص طور پر بیان کیاگیاہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ّ ہے کہ ولایت ایک عام دوستی یاخشک اعتقاد کے معنی میںنہیں ہے بلکہ اس کامقصدپیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بعد اعتقاد ی ، عملی اخلاق ،اوراجتماعی مسائل میں علی علیہ السلا م کی رہبری اورامامت کو قبول کرنا ہے . وہ مسائل جن کے نمونے نہج البلاغہ کے فصیح وبلیغ خطبوں اور آپ علیہ السلام سے منقول کلمات وارشاد ات میں بیان ہوئے ہیں. وہ ایسے مسائل ہیں جن پر ایمان لانا اوران کے مطابق عمل کرنا ، دوزخیوں کی صف سے نکلنے اور پر وردگارکی صراطِ مستقیم میں قرار پانے کاایک موٴثر ذریعہ ہیں ۔ ۱ ۔ تفسیر نورالثقلین ،جلد ۴ ،ص ۴۰۱۔ 2۔ اس بار ے میں مزید معلومات کے لیے ، بہترین کتاب ” احقاق الحق “ جلد ۳ (طبع جدید ) ص ۱۰۴ اورالمر اجعات ص ۵۸ ( مراجعہ ۱۲) کی طرف رجوع فر مائیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:24-32
سوره صافات / آیه 24 - 32
۲۴۔ وَ قِفُوہُمْ إِنَّہُمْ مَسْؤُلُونَ ۔ ۲۵۔ما لَکُمْ لا تَناصَرُونَ ۔ ۲۶۔بَلْ ہُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ ۔ ۲۷۔وَ اٴَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلی بَعْضٍ یَتَساء َلُونَ ۔ ۲۸۔قالُوا إِنَّکُمْ کُنْتُمْ تَاٴْتُونَنا عَنِ الْیَمینِ ۔ ۲۹۔قالُوا بَلْ لَمْ تَکُونُوا مُؤْمِنینَ۔ ۳۰ ۔وَ ما کانَ لَنا عَلَیْکُمْ مِنْ سُلْطانٍ بَلْ کُنْتُمْ قَوْماً طاغینَ ۔ ۳۱۔ فَحَقَّ عَلَیْنا قَوْلُ رَبِّنا إِنَّا لَذائِقُونَ ۔ ۳۲۔ فَاٴَغْوَیْناکُمْ إِنَّا کُنَّا غاوینَ ۔ تر جمہ ۲۴۔ انھیں روکو ،ان سے پوچھ گچھ ہوگی ۔ ۲۵۔تم ایک دوسرے سے مددطلب کیوںنہیں کرتے ؟ ۲۶۔لیکن وہ تو اس دن خدا کی قُدرت کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوں گے ۔ ۲۷۔(اوراس حالت میں) ایک دوسر ے کی طرف منہ کرکے ایک دوسرے سے سوال کریں گے ۔ ۲۸۔ایک گروہ کہے گا ( اے ہمارے گمراہ پیشواؤں ) تم ( ہمارے پاس ) خیر خواہی اور نیکی کے بہانے سے آتے تےھ (حالانکہ مکر وفریب کے سوا تمہارے پاس کچھ نہیں تھا ) ۔ ۲۹۔( وہ جواب میں) کہیں گے : تم خود اہی اہل ایمان نہیں تھے ( ہمارا کیاقُصور ہے ) ؟ ۳۰۔ ہماراتم پر کوئی اختیار نہ تھا بلکہ ” تم خود ہی سرکش قوم تھے “ ۔ ۳۱۔ اب خدا کافر مان ہم سب پر مسلّم ہوگیاہے اب تو ہم سبھی اس کے عذاب کامزہ چکھیں گے ۔ ۳۲۔ ہاں ! ہم نے تمہیں گمراہ کیاہے جیسا کہ ہم خود گمراہ تھے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:24-32
۲۔ گمراہ پیشوااور پیرو کا ر
ان آیات میں اورقرآن مجیدکی دوسری آیات میں قیامت کے دن یا جہنم میں گمراہ پیشواؤں اورپیرو کاروں کے آپس میں جھگڑ نے کے با ر ے میں کچھ معنی خیز اشارے کیے گئے ہیں ۔ یہ ان تمام لوگوں کے لیے جواپنی عقل اور دین کو گمراہ بہروں کے اختیار میںدے دیتے ہیں ایک سبق آموز تنبیہ ہے۔ اس دن اگر چہ ہرشخص یہی کوشش کرے گا کہ دوسرے سے براء ت کرے ، یہاں تک کہ اپنا گناہ بھی دوسر ے ہی کی گردن پرڈال دے لیکن اس کے باوجود کوئی بھی اپنی بے گناہی ثابت نہ کرسکے گا ۔ زیربحث آ یات میں ہم نے دیکھاہے کہ گمراہ کرنے والے پیشوااپنے تابعین کوصراحت کے ساتھ کہیں گے کہ تم پرہمارے اثر کااصل سبب خود تمہاری سر کشی ہی تھی ( بَلْ کُنْتُمْ قَوْماً طاغین) ۔ اس سرکشی ہی نے ہماری طرف سے گمراہ کرنے کا میدان ہموار کیااوراسی سے وہ انحرافات جوہم میںپائے جاتے تھے تمہاری طرف منتقل کرنے پر ہم قادر ہوئے (فَاٴَغْوَیْناکُمْ إِنَّا کُنَّا غاوینَ ) ۔ ”اغو ا “ ” غی “ کے مادہ سے ہے . اس کے دقیق معنی پر غور کیاجائے تو مطلب اوربھی زیادہ واضح و روشن ہوجاتاہے کیونکہ ” غی “ ” مفردات “ میں ” راغب “کے قول کے مطابق اس جہالت کے معنی میں ہے ، جس کاسرچشمہ فاسد عقیدہ ہو . ہو گمراہ پیشوا عالم ہستی اور زندگی کے حقائق سے بے خبر رہ گئے اوراس جہالت اوراعتقاد وفاسد کو اپنے پیرو کاروں میں منتقل کردیا جوفر مان ِ خدا کے مقابلے میں پہلے ہی سرکش کیے ہوئے تھے ۔ اسی بنا پر وہاں یہ اعتراف کریں گے کہ وہ خود بھی عذاب کے مستحق اوران کے پیرو کارو بھی(فَحَقَّ عَلَیْنا قَوْلُ رَبِّنا إِنَّا لَذائِقُ) ۔ لفظ ” رب “ کاخاص طو ر پرذکر کرنا پُر معنی ہے ، یعنی انسان کامعاملہ اس حد تک پہنچ جائے گا کہ وہ خدا جوا س کا مالک و مر بیّ ہے اور جوا س کی بھلائی اور نیکی کے سوااور کچھ نہیں چاہتا،اسے اپنے درد ناک عذاب کا مستحق قرار دے دیگا اور یقینا یہ بھی اس کی ربو بیّت کی ایک شان ہے۔