وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ
Indeed Ilyas was one of the apostles.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 37:123
[Pooya/Ali Commentary 37:123] Prophet Ilyas is mentioned in I Kings 17 and 2 Kings 1 and 2 as Elijah. According to it he lived in the reign of Ahab (896-874 B.C.) and Ahaziah (874-872 B.C.), kings of the northern kingdom of Israil or Samaria. After Musa, the people began to worship Baal, the sun-god worshipped in Syria. Ilyas denounced all sins of Ahab and Ahaziah and warned people to stop the worship of Baal and believe in the true religion of Musa. Aqa Mahdi Puya says: "We perpetuated" has been mentioned in verse 108 after the mention of Ibrahim and Ismail who have been described as shi-ahs of Nuh in verse 83, and then in verse 119 it is again mentioned for Musa and Harun, and finally in verse 129 after the mention of Ilyas. According to ziyarat waritha the Ahl ul Bayt of the Holy Prophet represent all the earlier prophets as stated in the above noted verses that Allah perpetuated their glory and praise in generations to come in later times. As mentioned in history Ilyas or Ilyah or Elijah was taken up in a whirlwind to heaven when the people planned to kill him. He is still alive; and is represented by Ali ibn abi Talib. In connection with the verses praising the Ahl ul Bayt, Ibn Hajar has written verse 130 as the third verse in the eleventh chapter of his book Sawa-iq al Muhriqah and has stated therein on the authority of Ibn Abbas that "ali yasin" (or il yasin) means ali Muhammad. He writes that Kalbi also holds the same view. Fakhr al Din al Razi writes that the Ahl ul Bayt are at par with the Holy Prophet in five things: (i) In salutation, for Allah said: "Peace be to you, O prophet." and He also said: "Peace be to the ali yasin." (ii) In invoking the blessings of Allah during prayers, after each tashhahud. (iii) In their purity, for Allah revealed the verses of purification (Ahzab: 33) for the Ahl ul Bayt. (iv) In the sadqah (alms) being forbidden for them. (v) In love, for Allah said: "Say: I ask you no recompense except that you love my kindred." (Shura: 23)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:123-132
۲۔ ” الیاسین “ کون ہیں؟
مفسّرین اورموٴر خین کے ” الیاسین“ کے بار ے میں مختلف نظر یات ہیں ۔ الف : بعض اسے الیاس کی ایک لغت سمجھتے ہیں یعنی جس طرح ” میکان “ و ” میکائیل “ ایک مخصوص فرشتے کے لےی دولفظہ ہیں ، اور” سینا “ اور ” سینین “ دونوں ایک معروف سرزمین کی نام ہیں . اسی طرح ” الیاس “ اور ” الیاسین “ بھی اس عظیم پیغمبر کے نام ہیں ( 1) ۔ ب:بعض دوسرے اسے جمع سمجھتے ہیں . اس طرح سے کہ ” الیاس “ کے ساتھ یاء نسبتی کااضافہ ہو اتو ” الیاسی “ ہوگیا اوراس کے بعد یاء اور نون کے ساتھ اس کی جمع بنائی گئی اور” الیاسین “ ہوگیا اور تخفیف کے بعد ” الیاسین“رہ گیا . اس بنا پر اس کا مفہوم وہ تمام اشخاص ہیںجو الیاس کے ساتھ مربُوط تھے اوران کے مکتب کے پیرو کار بن گئے تھے ( 2) ۔ ج: بعض کاخیال ہے کہ ” آلیاسین “ الف ممدودہ کے ساتھ ہے جولفظ ” آل “ اور ” یاسین “ کامرکب ہے . ایک روایت کے مطابق ” یاسین “ حضرت الیاس کے باپ کانام ہے . ایک اور روایت کے مطابق پیغمبرگرامئی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کانام ہے . اس بنا ر ” آل یاسین “ پیغمبر گرامئی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی آل واولاد کے معنی میں ہے یاالیاس کے باپ یاسین کا خا ندان مر اد ہے۔ واضح قرائن خود قرآن میں موجود ہیں جو اسی پہلے معنی کی تائید کرتے ہیں . یعنی ” الیاسین “ سے مراد الیاس ہی ہیں کیونکہ ” سَلامٌ عَلی إِلْیاسینَ“ کی آیت سے ایک آیت کافاصلہ کے بعد فرمایاگیاہے : إِنَّہُ مِنْ عِبادِنَا الْمُؤْمِنینَ وہ ہمارے موٴمن بندوں میں سے تھا ۔ ضمیر مفرد کا ” الیاسین “ کی طرف لوٹنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایک شخص سے زیادہ نہیں یعنی وہی جناب الیاس علیہ السلام دوسری دلیل یہ ہے کہ یہ چار آ یات جوحضرت الیاس علیہ السلام کی داستان کے آخر میں ہیں بعینہ وہی آ یات ہیں جونو ح علیہ السلام ، ابراہیم علیہ السلام ،موسٰی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی داستان کے آخر میں آ ئی ہیں اور جب ہم ان آ یات کو ایک دوسر ے کے پہلومیں رکھ کردیکھتے ہیںتوہمیں معلوم ہوتاہے کہ جوسلام خداکی طر ف سے ان آ یات میں آیاہے وہ اسی پیغمبر کے لیے ہے جس کابیان ابتداءِ گفتگو میں ہے (سَلامٌ عَلی نُوحٍ فِی الْعالَمینَ،سَلامٌ عَلی إِبْراہیمَ،سَلامٌ عَلی مُوسی وَ ہارُون،) اس بنا پر یہاں بھی :”سَلامٌ عَلی إِلْیاسینَ“ : الیاس پرسلام ہوگا ( غورکیجیے گا ) ۔ وہ نکتہ جس پر یہاں خاص طورپر توجہ کی ضرورت ہے یہ ہے کہ بہت سی تفاسیرہیں ایک حدیث نقل ہوئی ہے کہ جس کی سند ابن عباس کی طرف لو ٹتی ہے . وہ کہتے ہیں کہ ” آ ل یاسین “ سے مراد آل ِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہیں . کیونکہ ” یاسین “ پیغمبر السلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے اسما ء میں سے ایک ہے۔ معانی الاخبار میںصدوق نے ایک بات جو ” آل یاسین “ کی تفسیر کے لیے ذ کر کیاہے ،اس میں پانچ احادیث اس ضمن میں نقل کی ہیں .ان میں سے ایک حدیث کے سواکوئی بھی آئمہ اہل بیت تک نہیں پہنچتی اوراس حدیث کا راوی ایک شخص ” کا دح “ یا”قادح “ نامی ہے ( 3) جس کے بار ے میں کتب رجال میں کوئی خبرنہیں ہے۔ چونکہ یہ اخبار اس مفر وضہ کی بنا پر ہیں کہ ہم اوپر والی آ یت کی قراء ت کو ’‘کی صورت میں پڑھیں اور آیات کی ہم آہنگی کو نظر اندازکردیں اوران روایات کی اسناد بھی جیسا کہ ہم نے دیکھ لیاہے قابلِ بحث ہیں . بہتر یہی ہے کہ ہم ان روایات کے بار ے میں فیصلہ کرنے سے بازر ہیں اوران کاعلم ان کے اہل کے سپر دکردیں۔ 1۔ ” البیان “ فی غریب اعراب القرآن جلد ۲ ص ۳۰۸۔ 2ایضا ً۔ 3۔معانی الاخبار ص ۱۲۲ ( جا معة المد رسّین قم کی شائع کردہ)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:123-132
۱۔ الیاس (ع) کون ہیں ؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام خدا کے عظیم ابنیاء میں سے ایک ہیں اور زیر بحث آ یات نے یہ مسئلہ صراحت کے ساتھ بیان کیاہے کہ”وَ إِنَّ إِلْیاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلین “ ۔ اس پیغمبر کانام قرآن مجید کی دو آیات میں آیاہے ایک تو اسی سورہٴ صافات میں اوردوسر اسورہٴ انعام میں چندابنیاء کے ساتھ ،جہاں فرمایا گیا ہے : وَ زَکَرِیَّا وَ یَحْیی وَ عیسی وَ إِلْیاسَ کُلٌّ مِنَ الصَّالِحین( انعام : ۸۵) ۔ لیکن اس بار ے میں کہ قرآن میں جن ابنیاء کانام آ یاہے انہی میں سے ایک پیغمبرکانام الیاس ہے یایہ کسی پیغمبرکامستقل نام ہے نیز اس کی خصوصیات کیاہیں ؟اس ضمن میں مفسرین میں مختلف نظر یات پائے جاتے ہیں . ان کاخلاصہ کچھ یوں ہے : الف : بعض کہتے ہیں کہ ” الیاس “ ” ادریس “ کادوسرانام ہے کیونکہ ادریس کاادراس بھی تلّفظ ہوا ہے اور وہ مختصر سی تبد یلی کے ساتھ الیاس ہوگیا ۔ ب : بعض کاکہناہے کہ الیاس بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے ہیں . ” یاسین “ کے فرزند ہیں اور موسٰی کے بھائی ہارون کے نواسوں میں سے ہیں ۔ ج : کچھ کا یہ بھی کہناہے کہ الیاس خضر کا دوسرا نام ہے جبکہ بعض دوسر وں کا کہنا ہے کہ الیاس خضر کے دوستوں میں سے ہیں اور دونوںزندہ ہیں اس فرق کے ساتھ کہ الیاس توخشکی پر مامور ہیں لیکن خضر جز یروں اوردر یاؤں پر مامور ہیں، بعض دوسرے الیاس کی مامور یت بیابانوں میں اورخضر کی ماموریت پہاڑوں پرخیال کرتے ہیں اور دونوں کے لیے عمر جاودانی کے قائل ہیں. بعض الیاس کو ” السیع “ کافرزند سمجھتے ہیں ۔ د:بعض کہتے ہیں کہ الیاس بنی اسرائیل کے وہی ” ایلیا“ پیغمبر ہیں جو” آ جاب “ بادشا ہ بنی اسرائیل کے ہمعصر تھے جنہیںخدانے اس ظالم باد شاہ کوڈ رانے اور ہدایت کرنے کے لیے بھیجا تھا ۔ بعض نے انہیں ” یحیٰی “ بھی جانا ہے جومسیح کے تعمید وہند ہ تھے ۔ لیکن قرآن کی آ یات کے ظاہر کے ساتھ جو بات ہم آہنگ ہے وہ یہ ہے کہ لفظ مستقلاً ایک پیغمبرکانام ہے اورقرآن میںجن دیگر پیغمبروں کے نام آ ئے ہیں یہ ان کے علاوہ ہیں جو ایک بُت پرست قوم کی ہدایت کے لیے مامور ہوئے تھے اوراس قوم کی اکثر یت ان کی تکذیب کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی لیکن مخلص موٴ منین کے ایک گروہ نے ان کی پیرو ی کی ۔ اورجیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں اور بعض اس بات پر توجہ کرتے ہوئے کہ اس قوم کے بڑ ے بت کا نا م ہے ” بعل “ تھا یہ نظر یہ رکھتے ہیں کہ یہ پیغمبرسرزمین شامات میں مبعوث ہوئے تھے اوران کی فعالیت کامر کز شہر ” بعلبک “تھا جواِس وقت لبنان کاحِصّہ ہے اور شام کی سرحد پرواقع ہے۔ بہرحال اس پیغمبرکے بار ے میں مختلف داستا نیں کتا بوں میں بیان کی گئی ہیں اور چونکہ وہ قابلِ اعتما د واطمینان نہیں لہذا ہم نے انہیں نقل نہیں کیا ( 1) ۔ 1۔ تفسیر مجمع البیان ، تفسیر المیزان ، روح المعانی ،تفسیرفخر رازی فی ظلال ،اعلام القرآن اور دائرة المعارف دھخدا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:123-132
پیغمبر ِ خدا الیاس (ع) مشرکین کے مقابلے میں
زیر نظر آیات میں گزشتہ ابنیاء میں سے ایک اور نبی کی سرگزشت بیان کی جارہی ہے یہ اس سُورہ میں آنے والی چھوتھی سرگزشت ہے . یہ حضرت الیاس کی ایک مختصر سی گذشت ہے . ارشاد ہوتاہے : الیاس خداکے رسولوں میں سے تھا (وَ إِنَّ إِلْیاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلینَ)۔ حضرت الیاس علیہ السلام ان کے نسب اوران کی زندگی کی خصوصیات کے بار ے میں انشاء اللہ کچھ گفتگو ان آ یات کے آخر میں نکات کے ضمن میں آ ئے گی ۔ اس کے بعد اساجمال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایاگیاہے : اس وقت کو یاد کرو جب اس نے اپنی قوم کوخبردار کیا او ر کہا : ” کیاتم تقویٰ اختیار نہیں کرتے “ (إِذْ قالَ لِقَوْمِہِ اٴَ لا تَتَّقُونَ ) ۔ تقوائے الہٰی . شرک و بُت پرستی سے پر ہیز ، ظلم و گناہ سے پرہیز اورانسانیت کے لیے تباہ کن سب باتوں سے پرہیز ۔ بعد والی آ یت میں اس مسئلہ کے بار ے میں ، اس سے بھی زیادہ صراحت کے ساتھ بات کی گئی ہے : کیاتم بعل بُت کو پکارتے ہو اور بہتر ین خالق کو چھوڑ رہے ہو (اٴَ تَدْعُونَ بَعْلاً وَ تَذَرُونَ اٴَحْسَنَ الْخالِقینَ)۔ اس سے واضح ہوجاتاہے کہ ان کاایک معروف بُت تھا ،جس کا نام ”بعل “ تھااوروہ اس کے سامنے سجدہ کیاکرتے تھے . حضر ت الیاس علیہ السلام نے انہیں اس قبیح عمل سے روکا اور عظیم آفرید گار ِ عالم اور توحید خالص کی طرف دعوت دی ۔ اسی وجہ سے ایک جماعت کانظر یہ ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کی فعالیّت کا مرکز شامات کے شہروں میں سے شہر ” بعلبک “ تھا ( ۱) ۔ کیونکہ ” بعل “ اس مخصوص بُت کانام تھا اور” بک “ کامعنی ہے شہر . ان دونوں کی آپس میں تر کیب سے ” بعلبک “ ہوگیا .کہتے ہیں کہ سونے کاانتا بڑا بُت تھاکہ اس کاطول بیس ہاتھ تھا . اس کے چار چہرے تھے اوراس بُت کے چار سوسے زیاد ہ خادم تھے ( ۲) ۔ البتہ بعض کسی معیّن بُت کو ” بعل “ نہیں سمجھتے بلکہ بت کے مطلق معنی میں لیتے ہیں مگر بعض دوسر ے اسے ” رب اور معبود “ کے معنی میں سمجھتے ہیں ۔ راغب ” مفردات میں کہتاہے ” بعل “ اصل میں شوہر کے معنی میں ہے لیکن عرب اپنے ان معبودوں کو جن کے ذریعے وہ خدا کاتقرب چاہتے تھے ” بعل “ کانام دیتے تھے ۔ احسن الخا لقین . بہترین خالق کی تعبیر . حالانکہ عالم میں خال حقیقی خدا کے سوااور کوئی نہیں ہے . ظاہراً ان مصنو عات کیطرف اشارہ ہے جنہیں انسان مواد طبیعی سے شکل بدل کر بناتاہے اوراس لحاظ سے اس پرخال کااطلاق ہوتاہے ،اگر چہ انسان مجازی خالق ہے۔ بہرحال الیاس علیہ السلام نے اس بُت پرست قوم کی سخت مذمت کی اورمزید کہا:اس خدا کوچھوڑ رہے ہو جوتمہارااور تمہار ے گزشتہ آباؤ اجداد کاپروردگار ہے (اللَّہَ رَبَّکُمْ وَ رَبَّ آبائِکُمُ الْاٴَوَّلینَ)۔ تم سب کامالک و مربیّ وہی تھا اور ہے . جو نعمت بھی تمہارے پاس ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اورہر مشکل کاحل اسی کے دستِ قُدرت سے ہوتاہے.اس کے علاوہ نہ تو خیر و برکت کاکوئی اورسرچشمہ موجود ہے اور نہ ہی شرو آفت کا کوئی اور دفع کرنے والا ہے۔ گو یا حضرت الیاس علیہ السلام کے زمانے کے بُت پرست بھی پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے زمانے میں کے بُت پرستوں کی طرح اپنے کام کی تو جہیہ کے لیے اپنے آباؤ اجداد اوربڑ وں کے طریقے ہی کاسہارا لیتے تھے کیونکہ حضرت الیاس علیہ السلام ان کے جواب میں کہتے ہیں : اللہ ہی تمہارااورتمہار ے آباؤ اجداد کارب ہے۔ ” رب ‘ ‘ ( مالک و مربی ) کی تعبیر غور وفکر کے لیے بہترین محرک ہے کیونکہ انسانی زندگی میں اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ جانے کہ اسے کس نے پیدا کیاہے ، اور آج اس کامربی ، ولی نعمت اورصاحبِ اختیار کون ہے ؟ لیکن اس سرپھری اور خود پسند قوم نے خدا کے اس عظیم پیغمبرکے استد لالی پند ونصائح اورواضح ہدایت پرکان نہ دھر ے اور” اس کی تکذیب کے لیے اُٹھ کھڑ ے ہوئے “ ( فَکَذَّبُوہُ َ)۔ خدانے بھی ان کی سزا کو ایک مختصر سے جملے میں بیان کرتے ہوئے کہہ دیا : وہ بار گاہ ِ عدلِ الہٰی اوراس کی دوزخ کے عذاب میں حاضر کیے جائیں گے ( فَإِنَّہُمْ لَمُحْضَرُون ) اوراپنے قبیح اور بد اعمال کاسزاکا مزہ چکھیں گے ۔ لیکن ظاہرہوتاہے کہ چھوٹا سانیک ، پاک اورمخلص گروہ حضرت الیاس علیہ السلام پر ایمان لے آ یاتھا لہذ اا ن کا حق فراموش نہ کرتے ہوئے بلافاصلہ فرمایا گیاہے : مگر خدا کے مخلص بندے (إِلاَّ عِبادَ اللَّہِ الْمُخْلَصین) ( ۳) ۔ اس داستان کی آخر ی آ یات میں وہی چار مسائل جودوسر ے ابنیاء (موسٰی علیہ السلام و ہارون علیہ السلام اورابراہیم علیہ السلام و نوح علیہ السلام ) کے واقعات میں آ ئے تھے،ان کی اہمیّت کے پیش نظر پھر دہرائے گئے ہیں ۔ پہلے فر مایاگیاہے ؟ ہم نے الیاس کانیک نام بعد والی امتوں میں جاوداں کردیا (وَ تَرَکْنا عَلَیْہِ فِی الْآخِرین) ۔ دوسری امتیں ان بزرگ انبیاء کی انتہائی زحمتوں کو ،جو انہوں نے راہِ توحید کی پاسد اری اور تخمِ ایمان کی آ بیار ی کے لیے اٹھائی ہیں ، کبھی فراموش نہیں کریں گے اور جب تک دنیا قائم ہے ، ان مردانِ بزرگ اور فد ا کار وں کا مکتب اور یاد زندہ و جاوید رہے گی ۔ دوسرے مرحلے میں قرآن مزید کہتاہے : الیاسین پرسلام و درود ہو (سَلامٌ عَلی إِلْیاسینَ ) ۔ ” الیاس “ کی بجائے ” الیاسین “ کی تعبیریاتواس بنا پر ہے کہ ” الیا سین “ لفظِ ” الیاس “ کی ایک لغت ہے اور دونوں ایک ہی معنی میں ہیں اور یاالیاس علیہ السلام اوران کے پیرو کاروں کی طرف اشار ہ ہے اور جمع کی شکل میں آ یا ہے ( ۴) ۔ تیسر ے مرحلے میں فر مایاگیاہے : ہم نیکو کار وں کواسی طرح سے بد لہ دیاکرتے ہیں ( إِنَّا کَذلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنینَ)۔ نیکی اوراحسان سے اس لفظ کاوسیع معنی مراد ہے ، جس میں دین اوراس کے تمام احکام پر عمل کرناشامل ہے . اس ک ساتھ ساتھ شرک ،انحراف ،گناہ اورفساد سے مقابلہ کرنابھی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ چوتھے مرحلے میں ان تمام باتوں کی اصل بنیاد یعنی ایمان کا ذکر ہے : یقینا وہ ( الیاس ) ہمار ے موٴمن بندوں میں سے ہے (إِنَّہُ مِنْ عِبادِنَا الْمُؤْمِنین) ۔ ” ایمان “ و ” عبود یت “ ” احسان “ کاسر چشمہ ہے اوراحسان مخلصین ِ کی صف میں شامل ہونے اور خدا کے سلام کاحقدار ہونے کا سبب ہے۔ ۱۔بعلبک موجودہ زمانے میں لبنان کاحِصّہ ہے اور شام کی سرحد پرواقع ہے۔ ۲۔روح المعانی ، زیربحث آ یت کے ذیل میں ۔ ۳۔ جوکچھ ہم نے بیان کیاہے اس کے مطابق یہ استثنا ء ” استثنا ء متصل “ ہے ” کذ بوہ “ کی واؤ سے یعنی تمام قوم نے تو تکذیب کی اور وہ سب عذابِ الہٰی میں گرفتار ہوئے سوائے خداکے مخلص بندوں کے ۔ ۴۔پہلے الیاس منسوب ہوااور ” الیاسی “ ہواپھر جمع کی شکل میں آکر ” الیاسیسین “ ہوگیا اوراس کے بعد مخفف ہوکر ” الیاسین “ ہوگیا ہے)غور کیجیے گا ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:123-132
سوره صافات / آیه 123 - 132
۱۲۳۔وَ إِنَّ إِلْیاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلینَ ۔ ۱۲۴۔إِذْ قالَ لِقَوْمِہِ اٴَ لا تَتَّقُونَ ۔ ۱۲۵۔اٴَ تَدْعُونَ بَعْلاً وَ تَذَرُونَ اٴَحْسَنَ الْخالِقینَ ۔ ۱۲۶۔اللَّہَ رَبَّکُمْ وَ رَبَّ آبائِکُمُ الْاٴَوَّلینَ ۔ ۱۲۷۔ فَکَذَّبُوہُ فَإِنَّہُمْ لَمُحْضَرُونَ ۔ ۱۲۸۔إِلاَّ عِبادَ اللَّہِ الْمُخْلَصینَ ۔ ۱۲۹۔وَ تَرَکْنا عَلَیْہِ فِی الْآخِرینَ ۔ ۱۳۰۔ سَلامٌ عَلی إِلْیاسینَ ۔ ۱۳۱۔إِنَّا کَذلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنینَ ۔ ۱۳۲۔إِنَّہُ مِنْ عِبادِنَا الْمُؤْمِنینَ ۔ ترجمہ ۱۲۳۔اور بے شک الیاس ہمارے رسولوں میں سے تھا ۔ ۱۲۴۔ اس وقت کو یاد کرو، جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا:کیاتم تقویٰ اختیار نہیں کرتے ؟ ۱۲۵۔کیاتم بعل بت کو پکارتے ہو اور بہتر ین خالق کوچھوڑ ے ہوئے ؟ ۱۲۶۔ وہ خدا جوتمہارابھی پر وردگار ہے اور تمہار ے گزشتہ آ باؤ اجداد کا بھی پر وردگار ہے۔ ۱۲۷۔ لیکن انہوں نے اسے جھٹلایا ، مگر یقینی طورپر وہ سب کے سب خدائی عدالت میں حاضر کیے جائیں گے ۔ ۱۲۸۔سوائے خداکے مخلص بندو ں کے ۔ ۱۲۹۔ ہم نے اس ( الیاس ) کانیک نام بعد کی امتوں میں باقی وبر قرار رکھا ۔ ۱۳۰۔الیاسین پرسلام ہو ۔ ۱۳۱۔ہم نیکو کاروں کواسی طرح بدلہ دیاکرتے ہیں ۔ ۱۳۲۔وہ ہمار ے موٴ من بندو ں میں سے ہے۔