فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ
So We gave him the good news of a forbearing son.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 37:101
[Pooya/Ali Commentary 37:101] (see commentary for verse 83)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:101-110
سوره صافات / آیه 101 - 110
۱۰۱۔ فَبَشَّرْناہُ بِغُلامٍ حَلیمٍ ۔ ۱۰۲۔فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قالَ یا بُنَیَّ إِنِّی اٴَری فِی الْمَنامِ اٴَنِّی اٴَذْبَحُکَ فَانْظُرْ ما ذا تَری قالَ یا اٴَبَتِ افْعَلْ ما تُؤْمَرُ سَتَجِدُنی إِنْ شاء َ اللَّہُ مِنَ الصَّابِرینَ ۔ ۱۰۳۔فَلَمَّا اٴَسْلَما وَ تَلَّہُ لِلْجَبینِ ۔ ۱۰۴۔وَ نادَیْناہُ اٴَنْ یا إِبْراہیمُ ۔ ۱۰۵۔قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیا إِنَّا کَذلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنینَ ۔ ۱۰۶۔إِنَّ ہذا لَہُوَ الْبَلاء ُ الْمُبینُ ۔ ۱۰۷وَ فَدَیْناہُ بِذِبْحٍ عَظیمٍ ۔ ۱۰۸۔وَ تَرَکْنا عَلَیْہِ فِی الْآخِرینَ ۔ ۱۰۹۔سَلامٌ عَلی إِبْراہیمَ ۔ ۱۰۰کَذلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنین۔ ترجمہ ۱۰۱۔ہم اسے (ابراہیم کو ) ایک برد بار اور بااستقامت لڑ کے کی بشارت دی ۔ ۱۰۲۔جس وقت وہ اس کے ساتھ سعی و کوشش کے قابل ہو گیا تو اس نے کہا : بیٹا ! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں . تم دیکھو ، تمہاری کیارائے ہے ؟ اس نے کہا : اباجان ! آ پ کو جو حکم ملا ہے اس کی تعمیل کیجیے ، انشاء اللہ آپ مجھے صابر وں میں سے پائیں گے ۔ ۱۰۳۔جب دونوں آ مادہ و تیار ہو گئے اور ابراہیم نے اسے پیشانی کے بَل لٹا یا ۔ ۱۰۴۔ تو ہم نے اسے ندا دی کہ اے ابراہیم ! ۱۰۵۔ جوحکم تجھے خواب میں دیاگیا تھا تو نے اسے پورا کردیا، ہم اسی طرح سے نیکو کاروں کوجز ا دیتے ہیں ۔ ۱۰۶۔بے شک یہ ایک کھلی آزمائش ہے۔ ۱۰۷۔ہم نے ذبح ِ عظیم کو اس کافد یہ بنا یا ۔ ۱۰۸۔اوراس کے نیک نام کو بعد والی اُمتوں میں باقی رکھا ۔ ۱۰۹۔ابراہیم پر سلام ہو ۔ ۱۱۰۔ہم نیکو کارون کواسی طرح سے بد لہ دیاکرتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:101-110
۶۔ حج ایک اہم انسان ساز عبادت ہے
سفرِ حج حقیقت میں ایک عظیم ہجرت ہے ، ایک خدائی سفر ہے ، خود سازی اورجہاد ِ اکبرکاایک وسیع میدان ہے۔ مراسم ِ حج حقیقت میں ایک ایسی عبادت کی نشاندہی کرتے ہیں جو ابراہیم علیہ السلام،ان کے فرزندا سمٰعیل علیہ السلام اوران کی زوجہ ہاجرہ کی جدو جہد اورجہاد کی گہری یاد کے ساتھ وابستہ ہیں. ہم اگر اسرار حج کے مطالعے اس نکتے سے غفلت برتیں تواس بہت سے مراسم معّما دکھائی دیں . ہاں ! ا س معّماکے حل کی چابی اس گہر ے تعلّق کی طرف توجہّ کرنے میں ہے۔ جب ہم منٰی کی قربانی گاہ میں آ تے ہیں توہم تعجّب کرتے ہیں کہ یہ سب قر با نیاں کس لیے ہیں ؟اصولی طورپر کیاجانو رذبح کرنابھی عبادتوں میں سے ایک عبادت ہوسکتی ہے ؟ لیکن جب ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو یاد کرتے ہیں، جنہوںنے اپنے عزیز ترین اوراپنی عمر کے شیریںترین ثمر کوراہِ خدا میں قربان کیاتھا اوراس کے بعد ایک سنت قربانی کے عنوان سے منٰی میںوجودمیں آ ئی ، توہمیں اس کام کا فلسفہ معلوم ہو جاتاہے۔ یہ قربانی معبود کی راہ میں ہرچیز کوچھوڑ دینے کی دلیل ہے . یہ قر بانی غیر خدا کی یاد سے دل کوخالی کرنے کامظہر ہے . ان مناسک سے اسی وقت پور اپورا تربیتی فائدہ حاصل کیاجاسکتاہے جبکہ حضرت اسما عیل علیہ السلام کے ذبح ہونے کامنظر اورقربانی کے وقت اس باپ اوربیٹے کی روحانی حالت اورجذ بات کامنظر آنکھو ں میں پھر جائے ، اوروہ حالت و جذ بات انسان کے وجود پراپناپر توڈالیں( 1) ۔ جس وقت جمرات ( پھّر کے تین مخصوص ستون جنہیں حجاج کرام مراسم ِا حج میں سنگسار کرتے ہیں اورہر دفعہ سات پتھر مراسمِ مخصوص کے ساتھ انہیں مارتے ہیں ) کے پاس جائیں تو یہ معمّا ہماری نظر میں واضح ہوتاہے کہ یہ سب پتھر ایک بے روح ستون کی طرف پھینکنے کاکیا مفہوم ہوسکتاہے اوراس سے کون سامسئلہ حل ہوتاہے ؟لیکن اس وقت اسی کا مفہوم کھل کرہمارے سامنے آ جاتاہے جب ہم دل میں یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ تومکتب ِ توحید کے ہیر وابراہیم علیہ السلام کے شیطان کے وسوسوں سے مقابلے اورجہاد کی یاد تازہ کرنے کے لیے ہے کہ جب شیطان تین مرتبہ ان کے راستے میں حائل ہونے کے لیے آیاتھا اور وہ چاہتاتھا کہ انہیں اس ” جہاداکبر“ کے میدان میں سستی اور شک وشبہ میں مبتلاکردے لیکن ابراہیم علیہ السلام جیسے بہادرہیرو نے تینوں مرتبہ پتھر مار کر اسے اپنے سے دور کردیا ۔ ان مراسم کامفہوم یہ ہے کہ تم سب کو بھی اپنی پوری زندگی میں جہادِ اکبر کے میدان میںشیاطین کے وسوسوں کاسامنا ہے اور جب تک تم انہیں سنگسار نہ کروگے اوراپنے سے دُورنہ بھگاؤ گے ،کامیا ب نہ ہوگے ۔ اگرتم یہ چاہتے ہو کہ جس طرح خداوند تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام پرسلام بھیجا ہے اوران کے مکتب اور یاد کوجاودانی بنادیا ہے . تم پر بھی لطف ورحمت کی نظر کرے،توضروری ہے کہ ان کے راستے پرہمیشہ چلو ۔ یاجس وقت ہم صفا اورمروہ کی طرف آتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ لوگوں گروہ درگرو ہ ایک چھوٹی سی پہاڑ ی سے اس سے بھی زیادہ چھوٹی پہاڑ ی کی طر ف جاتے ہیں اوروہاں سے پھر اسی کی طرف پلٹ آ تے ہیں اوربلاکچھ حاصل کیے اس عمل کو دہراتے ہیں ، کبھی دوڑ تے ہیں اورکبھی چلتے ہیں،یقینا ہم تعجب کرتے ہیں کہ یہ کیا کام ہے اوراس کاکیامفہوم ہوسکتاہے ؟ لیکن پھر ہم پیچھے کی طرف لوٹ جاتے ہیں اوراس باایمان خاتون ( ہاجرہ علیہاالسلام ) کی اپنی شیرخوار بچّے اسماعیل علیہ السلام کی جان بچانے کے لیے ،اس خشک اور گرمی سے جلتے ہوئے بیابان میں سعی و کوشش کو یاد کرتے ہیں کہ کسی طرح اس سعی و کوشش کے بعد خدانے اسے اس کے مقصدتک پہنچای. زمز م کاچشمہ اس کے نو ز ائیدہ بچّے کے پاؤں کے نیچے سے پھوٹا . اچانک زمانے کی گردش پیچھے کی طرف لوٹتی ہے ، پردے ہٹ جاتے ہیں اور اہم آ پنے آپ کواس لمحے ہاجرہ کے پاس پاتے ہیں اوراس کے ساتھ سعی و تلاش میں ہمگام ہوجاتے ہیں کیونکہ راہِ خدامیں کوئی شخص سعی و تلاش کے بغیر منزل تک نہیں پہنچتا ۔ جوکچھ ہم نے بیان کیاہے ، اس سے انسان آسانی کے ساتھ یہ نتیجہ حاصل کر سکتاہے کہ حج کے ان رموز کی تعلیم دیناچاہے . اورابراہیم علیہ السلام ،ان کے فرزند اورا ن کی زوجہ کی یاد وں کی قدم بہ قدم پیروی کرنی چاہیے تاکہ حج کے فلسفے کا بھی ادراک ہو اورحج کے اخلا قی ،عمیق اور گہر ے اثر ات بھی حجاج کے دلوں پرسایہ فگن ہوں کیونکہ ان آثار کے بغیر ظا ہری جھلکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ 1۔افسوس کے ساتھ کہناپڑ تاہے کہ دو رحاضر میں قربانی کے مراسم نے غیر مطلوب شکل اختیار کرلی ہے جس سے نجات حاصل کرنے کے لیے علماء ِ اسلام کو کوشش کرنی چاہیے ہم اس سلسلے میں اورحج کے مختلف پہلوؤں کے بار ے میں جلد ۱۴ سورہ حج کی آ یات ۲۶ تا۲۸ کے ذیل میں تفصیلی بحث کرچکے ہیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:101-110
۵۔ ” منٰی “ میں تکبیرات کا فلسفہ
ہم جانتے ہیں کہ السلامی روایات میں عیدالاضحٰی کے بار ے میں جواحکام آ ئے ہیں . ان میں کچھ مخصوص تکبریں ہیں . جوتمام مسلمان پڑھتے ہیں چاہے وہ مراسم حج میں شریک ہوں اور منٰی میں موجود ہوں اورچاہے دوسرے مقامات پر ہوں . فرق اتنا ہے کہ جومنٰی میں ہیں ۱۵ نمازوں کے بعدپڑھتے ہیں جن میں سے پہلے عید کے دن کی نماز ِظہر ہے اوجومنٰی نہیں ہوتے وہ . انمازوں کے بعدتکرار کرتے ہیں او ر ان تکبیرات کی صورت اس طرح ہے : س اللہ اکبر ،اللہ اکبر،لاالہٰ اللہ ،واللہ اکبر،اللہ اکبر، وللہ الحمد اللہ اکبرعلیٰ ماھد انا جس وقت ہم اس حکم کااس حدیث کے ساتھ موازنہ کرکے دیکھتے ہیں. جسے ہم پہلے نقل کرچکے ہیں . تو معلوم ہوتاہے کہ یہ تکبیریں حقیقت میں جبرائیل اوراسماعیل علیہ السلام اوران کے باپ ابراہیم علیہ السلام کی تکبیر وں کا مجموعہ ہیں اورکچھ اس پر اضافہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ الفاظ حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اس عظیم آ زمائش میں کامیا بی کی یاد لوگوں کی نظروں میں زندہ کرتے ہیں، اورتمام مسلمانوں کوایک پیغامِ الہٰی دیتے ہیں.چاہے وہ منٰی میں ہوں یامنٰی کے علاوہ دوسرے مقامات پر ۔ ضمنی طورپر روایات سے معلوم ہوتاہے کہ ” منٰی “ کانام اس بناپر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اس زمین پرپہنچے اپنے امتحان سے گز رچکے توجبرائیل علیہ السلام نے ان سے کہا : جو کچھ آپ چاہتے ہیں ، اپنے پروردگار سے کہیں انہوں نے خداسے تمنا کی کہ خدا یہ حکم دے کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کے فدیہ کے طورپر دنبہ ذبح کریں اوران کی یہ تمنا پوری ہوگئی ( 1) ۔ 1۔تفسیر نو رالثقلین جلد ۴ ص ۴۲۰ (حدیث ۶۸) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:101-110
۳۔حضرت ابراہیم (ع) کاخواب کس طرح حُجّت ہو سکتا ہے ؟
خواب اورخواب دیکھنے کے بار ے میں بہت سی باتیں ہیں،جس کی ایک مبسوط تفصیل ہم سُورہ ٴ یوسف کی آ یہ ۴ کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں ( 1) ۔ یہاں پر جو بات ضروری ہے کہ جس کی طرف توجہّ کی جائے یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب کوکس طرح حجت سمجھا اوراسے کیوں اپنے عمل کامعیارقرار یا؟اس سوال کے جواب میں کبھی تو یہ کہا جاتاہے کہ انبیاء کے خواب ہرگز شیطانی خواب نہیں ہوتے اور نہ ہی ہ قوتِ واہمہ کی فعالیت کی پیدا وا ر ہوتے ہیں،بککہ وہ ان کی نبوّت اوروحی کاایک گوشہ ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انبیاء کامصد رو حی کے ساتھ ارتباط کبھی تو دل میں القاء کی شکل میں ہوتاہے اور کبھی فرشتہ لوحی کو دیکھنے کی صورت میں ہوتا اور کبھی صوتی امواج کی راہ سے جو خدا کے فرمان سے پیدا ہوتی ہیں اور کبھی خواب کے طریقے سے.لہذ اان کے خوابوں میں کسی قسم کی خطا یاغلطی پیدانہیں ہوتی،اورجو چیز وہ خواب میں دیکھتے ہیں دہی کچھ ہوتا ہے جووہ بیداری میں دیکھتے ہیں ۔ کبھی یہ کہا جاتاہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیدار ی کی حالت میںوحی کے ذ ریعے آ گاہی حاصل کی تھی کہ وہ ” ذبح “ کے بار ے میں جو خواب دیکھیں اس پر عمل کریں ۔ نیز کبھی یہ کہا جاتا ہے کہاس خواب میں مختلف قرائن تھے . ایک یہ کہ تین شب پے در پے بعینہ اس کا تکرار ہو اکر جس نے اُنکے لیے یہ علم و یقین پیدا کردیا کہ یہ ایک خدائی مامو ریت ہے کوئی اور چیز نہیں ہے۔ بہرحال ممکن ہے کہ یہ تمام ہی تفاسیر صحیح ہوں اور آپس میں کوئی تضاد بھی نہیں رکھتیں اورظو اہر آ یات کے خلاف بھی نہیں ہیں ۔ 1۔جلد ۹ میں ملاحظہ کیجیے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:101-110
۴۔شیطا نی وسوسے ابراہیم (ع) کی عظیم روح پر اثرنہ کرسکے
ابراہیم علیہ السلام کا امتحان پوری تاریخ میں ایک عظیم امتحان تھا . ایسا امتحان جس کامقصد یہ تھا کہ ان کے دل کو غیر خداکی مہر ومحبت اورعشق سے پاکرکھنا اورعشق ِ الہٰی کوان کے سار ے کے سارے دل پرسایہ فگن کرنا تھا . بعض روایات کے مطابق شیطان نے بہت ہاتھ پاؤں مار ے کہ کوئی ایساکا م کرے کہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام اس میدان سے کامیاب ہو کر نہ نہ نکلیں ،کبھی وہ ( اسمٰعیل کی ) ماں ہاجرہ کے پاس آ یااوران سے کہاتمہیں معلوم ہے کہ ابراہیم نے کیا ارادہ کیا ہے ؟وہ چاہتا ہے آ ج اپنے بیٹے کوذبح کردے ۔ ہاجرہ نے کہا:دورہو جا ،محال اورنہ ہونے والی بات نہ کر، کیونکہ وہ تو بہت مہربان ہے اپنے بیٹے کو کیسے ذبح کرسکتاہے ؟اصو لاً کیادنیامیں کوئی ایسا انسان پیدا ہو سکتا ہے جواپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کردے ؟ شیطان نے اپنے وسوسہ کو جاریرکھتے ہوئے کہا:اس کادعویٰ ہے کہ خدا نے اسے حکم دیا ہے۔ ہاجرہ نے کہا : اگر خدانے اسے حکم دیاہے تو پھر اسے اطاعت کرنا چاہیے،اور سوائے رضاو تسلیم کے کوئی دوسری راہ نہیں ہے۔ پھر شیطان ان کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے پاس آ یا ، اورانہیں ور غلانے لگ. ان سے بھی کچھ حاصل نہ ہو سکا ، کیونکہ اس نے اسما عیل علیہ السلام کوتسلیم ورضا کاپیکر پایا ۔ آ خرمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ یااوران سے کہا :ابراہیم ! جوخواب تم نے دیکھا ہے وہ شیطانی خواب ہے ، تم شیطان کی اطاعت نہ کرو ۔ ابراہیم علیہ السلام نے نور ایمان اور نبوّ ت کے پرتو میں اسے پہچان لیا: چِلاّ کر کہا : ” دو ر ہوجاا ے دشمنِ خدا“ ( 1) ۔ ایک اورحدیث میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلے مشعر الحرام میں آ ئے تاکی بیٹے کی قربانی دیں،توشیطان ان کے پیچھے دوڑا .وہ جمر ہ اولیٰ کے پاس آ ئے.شیطان و ہاں بھی ان کے پیچھے لگ گیا .ابراہیم علیہ السلام نے سات پتھر اٹھا کر اسے مارے . جس وقت دوسرے جمرہ کے پاس پہنچے توپھر شیطان کو دیکھا ،دوبارہ پتھر اسے مارے یہاں تک کہ ” جمرہ عقبہ “ میں آ ئے توسات ا ور پتھر اسے مارے. ( اوراُسے ہمیشہ کے لیے اپنے سے مایوس کردیا ( 2) ۔ یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شیطانی وسوسے امتحان کے عظیم میدانوں میں ایک طرف سے ہی نہیں بلکہ مختلف سمتوں سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ ہرزمانے میں ایک نئے رنگ میں اورایک نئے طریقہ سے . مردانِ خد ا کو چاہیے کہ وہ ابراہیم السلام کی طرح شیاطین کوتمام چہروں میںپہچانیں اوروہ جس طریقے سے بھی وارد ہوں ، ان کے راستے بندکردیں اورانہیں سنگسار کریں او ر کہاہی عظیم درس ہے۔ 1۔تفسیر ابوا لفتواح رازی جلد ۹ ص ۳۲۶ ، زیر بحث آ یات کے ذیل میں ۔ 2۔ایضا ً۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:101-110
۲۔کیا ابراہیم (ع) فرزند کوذبح کرنے پرمامورتھے ؟
ایک اورسوال جویہاں مفسّرین کو درپیش ہے یہ ہے کہ کیاابراہیم علیہ السلام واقعاً بیٹے کوذبح کرنے پر مامور تھے یاانہیں اس کے مقد مات کاحکم تھا ؟اگروہ ذبح پرمامور تھے توپھر یہ حکم ِ الہٰی انجام پانے سے پہلے ہی کس طرح منسوخ ہوگیا؟جب کہ عمل سے پہلے منسوخ ہونا جائز نہیں ہے اور یہ معنی علمِ اصولِ فقہ میں ثابت ہوچکاہے۔ اگروہ ذبح کے لیے اقدامات کرنے پر مامور تھے تویہ افتخار کو ئی اہمیّت نہیں رکھتا ۔ بعض نے کہاہے کہ اس مسئلہ کی اہمیّت اس امر سے پیدا ہو ئی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کاخیال تھا کہ مقد مات فراہم کرنے اور ابتدائی اور انجام دینے کے بعدشاید ذبح کااصل حکم دیاجائے اور یہی ان کاعظیم امتحاق تھا . ہمار ے نزدیک اس نظر یئے میں کوئی خاص جاذبِ نظر یا ت نہیں ہے ہماری رائے میں یہ سب باتیں اس لیے پیدا ہوئی ہیں کہ امتحا نی اورغیر امتحانی اوامر میں فرق نہیں رکھاگیا . ابراہیم علیہ السلام کوجوا مر ہو اتھا وہ ایک امتحانی امر تھا اور ہم یہ جانتے ہیں کہ امتحانی اوامرمیں حتمی ارادہ اور چیزہے اوراصل عمل کچھ اورشے .ایسے اوامر میں مقصد یہ ہوتاہے کہ یہ واضح ہوجائے کہ موردِ آ زمائش شخص کہاں تک فرمان کی اطاعت پر آما دگی رکھتا ہے اور یہ اس صورت میں ہوتاہے ، جبکہ مو رد آ زمائش شخص پشت پردہاسرار سے آ گاہ نہیں ہوتا ۔ لہذ ا یہاں نسخ واقع نہیں ہو ا کہ عمل سے پہلے اس کی صحت کے بار ے میں بحث و گفتگو ہو ۔ اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خداتعالیٰ اس واقعے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہتاہے : قد صدّ قت الرء یا اے ابرا ہیم ! تم نے جوخواب دیکھاتھا ،سچ کردکھایا ۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ فرزند ولبندکوذبح کے سلسلہ میں جو کچھ ان کے بس میں تھاانہوں نے انجام دیا اوراس سلسلے میں اپنی روحانی اور دلی آمادگی ہرجہت سے پہنچا دی اور آزمائش کی اس ذمہ داری کوخوب اچھی طرح سے پورا کر دکھایا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:101-110
۱۔ ذبیح اللہ کون ہے ؟
اس بار ے میں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلا م کے دونوں فرزند وں ( اسمعٰیل علیہ السلام اوراسحاق علیہ السلام ) میں سے کون قربان گاہ میں لا یا گیااور کس نے ذبیح اللہ کالقب پایا ؟مفسّرین کے درمیان شدید بحث ہے . ایک گروہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ”ذبیح“ جانتا ہے اور ایک جماعت حضرت اسماعیل علیہ السلام کو . پہلے نظر یئے کوبہت سے مفسّرین اہل سنت اور دوسرے نظر یہ کومفسّرین شیعہ نے اختیار کیاہے۔ لیکن جوکچھ قرآن کی مختلف آ یات کے ظا ہرسے ہم آہنگ ہے وہ یہی ہے کہ ”ذبیح “ ” اسماعیل علیہ السلام “ تھے کیونکہ : اوّلاً : ایک جگہ بیان ہوا ہے : وَ بَشَّرْناہُ بِإِسْحاقَ نَبِیًّا مِنَ الصَّالِحین ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی جوصالحین میں سے ایک پیغمبرتھا (صافات . ۱۱۲) یہ تعبیربخوبی نشاندہی کرتی ہے کہ خدانے اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت اس واقعے کے بعد دی ہے اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربا نیوں کی وجہ سے انہیں یہ بشارت دی گئی . اس بنا پر ذبح کاواقعہ ان کے ساتھ مربوط نہیں تھا ۔ علاوہ ازیں جب خدا کسی کی نبوت کی بشارت دیتاہے تواس کامفہوم یہ ہے کہ وہ زندہ رہے گا اور یہ بات بچپن میں ذبح کے مسئلے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ ثانیاً سوُ رہ ٴ ہود کی آیہ ۷۱ میں بیان ہو اہے : فَبَشَّرْناہا بِإِسْحاقَ وَ مِنْ وَراء ِ إِسْحاقَ یَعْقُوب ہم نے اسے اسحٰق کے پیدا ہونے کی بشارت دی اوراسحاق کے بعد یعقوب کے پیدا ہونے کی بھی ۔ یہ آ یت اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام مطمئن تھے کہ اسحاق علیہ السلام زندہ ہیں گے اوران سے یعقوب علیہ السلام جیسا فرزند پیدا ہوگااس اس بنا پران کے ذبح کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا . جولوگ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبیح جانتے ہیں ،حقیقت میں انہوں نے ان آ یا ت کونظر انداز کردیاہے۔ ثالثاً: منا بع اسلامی میں بہت سی روایات ایسی آ ئی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ”ذبیح “ اسماعیل علیہ السلام تھے نمونہ کے طورپر : ایک معتبر حدیث پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے منقول ہے : انا ابن الذ بیحین میں دوذ بیحوں کابیٹا ہوں اور د و ذبیحوں سے مراد ایک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے والدگرامی حضرت عبداللہ ہیں ، کیونکہ پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے جدا مجد حضرت عبدالمطلب نے نذر مانی تھی کہ وہ انہیں خد کے لیے قربان کریں گے . اس کے بعد حکم ِ خد اسے ایک سواونٹ ان کے فدیہ کے طورپر دیئے گئے اوران کی داستان مشہور ہے .دوسرے حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے کیونکہ یہ با ت مسلّم ہے کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) جناب اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے نہ کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی ( 1) ۔ اس دعا میں جوعلی علیہ السلام نے پیغمبرگرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے نقل کی ہے ،یہ بیان ہو اہے : یامن فدا اسماعیل من الذبح اے وہ جس نے اسماعیل کے لیے فدیہ قرار دیا ( 2) ۔ ان احادیث میں جو امام باقر علیہ السلام اورامام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں یہ بیان کیاگیاہے جس وقت لوگوں نے سوال کیاکہ ”ذبیح “ کو ن تھا ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فر مایا :” اسماعیل “ ۔ اس حدیث میں جو امام علی بن موسٰی الرضا علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے ، یہ بیان ہوا ہے۔ لوعلم اللہ عزو جل شیئاً اکرم من الضا ٴ ن لفد ابہ اسما عیل اگر کوئی جانور ( خدا کے نزدیک ) دبنے سے بہتر ہوتاتواسے اسماعیل کافدیہ قرار دیتا ( 3) ۔ خلاصہ یہ کہ اس سلسلے میںبہت سی روایات ہیں اگر ان سب کو نقل کرناچاہیں تو گفتگو لمبی ہوجائے گی (4) ۔ ان فر اواں روایات کے مقابلے میں جو قرآن کی آ یات کے ظاہری مفہوم سے بھی ہم آہنگ ہیں ایک شا ذ روایت بھی ہے ، جو حضرت اسحاق علیہ السلام کے ذبیح ہونے پردلالت کرتی ہے جوپہلی روایات کامقابلہ نہیں کرسکتی اور نہ ہی ظاہر آیات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ا ن سب باتوں سے قطعِ نظریہ مسئلہ مسلّم ہے کہ وہ بچہ جسے ابراہیم علیہ السلام حکم خدا سے اس کی ماں کے ساتھ مکّہ لائے اوروہاںپراسے چھوڑ ا ۔ پھرخانہ کعبہ اس کی مدد کے ساتھ بنایا اوراس کے ساتھ طواف ،وسعی بجالائے وہ اسماعیل تھے . یہ امور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ذبیح بھی اسماعیل علیہ السلا م ہی تھے کیونکہ ذبیح کاعمل مذ کورہ بالا پروگرام کی تکمیل کرتاہے۔ البتہ جوکچھ کتب عہد عتیق ( مو جودہ تو رات ) سے معلوم ہوتاہے یہ ہے کہ ذبیح اسحاق علیہ السلام تھے ( 5) ۔ یہاں سے معلو م ہوتاہے کہ مسلمانوں کے ہاں بعض غیر معروف روایات جن میں حضرت اسحاق علیہ السلام کوذبیح قرار دیاگیاہے ، اسرائیلی روایات سے متاثر ہیں اوراحتمالاً یہود یوں کے جہولات میں سے ہیں . یہودی چونکہ حضر ت اسحاق علیہ السلامکی اولاد میں سے تھے لہذ اوہ چاہتے تھے کہ یہ افتخارواعزاز اپنے لیے ثبت کرلیں اور مسلمانوں کہ جن کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نسل ِ اسماعیل علیہ السلام سے ہیں ان سے یہ اعزز چھین لیں ،چاہے اس کے لیے یہ حقائق کاانکار ہی کیوں نہ ہو ۔ بہرحال ہمارے لیے جوکچھ سب سے زیاد ہ محکم ہے وہ آ یات ِ قرآن کے ظواہر ہیں جوبخوبی نشاندہی کرتے ہیں کہ ذبیح اسماعیل علیہ السلام تھے اگر چہ ہمار ے لیے اس سے کوئی فر ق نہیں پڑ تا کہ ذبیح اسماعیل علیہ السلام ہوں یااسحاق علیہ السلام ،دونوں ابراہیم علیہ السلام کے فرزند تھے اور دونوں ہی خدا کے عظیم پیغمبر تھے . مقصد تواس تاریخی واقعے کاواضح و روشن ہوناہے۔ 1۔ تفسیر ” مجمع البیان “ زیر بحث آ یت کے ذیل میں ۔ 2۔ نورا لثقلین جلد ۴ص ۴۲۱۔ 3۔نو رالثقلین جلد ۴ ص ۴۲۲۔ 4۔ان روایات کے بار ے میں مزید اطلا ع کے لیے تفسیر ” برہان “ ( جلد ۴، ص ۲۸) اور تفسیر نورالثقین جلد ۴ ص ۴۲۰ ،اس کے بعد کی طرف رجوع کریں ۔ 5۔تورات ،سفرتکوین فصل ۲۲۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:101-110
ابراہیم قُر بان گاہ میں
گزشتہ آ یات میں ہم یہاں تک پہنچے تھے کہ ابراہیم نے بابل میں اپنی رسالت کی ادائیگی کے بعد وہاں سے ہجرت کی اوراپنے پروردگارسے ان کاپہلا نقاضا یہ تھا کہ انہیں فرزند صالح عطافر مائے کیونکہ ابھی تک وہ صاحبِ اولاد نہ تھے ۔ زیربحث پہلی آ یت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعاکی قبو لیّت کو بیان کررہی ہے ، ارشاد ہوتاہے : ہم نے اسے ایک حلیم و برد بار اور با استقا مت نوجوان کی بشارت دی (فَبَشَّرْناہُ بِغُلامٍ حَلیم) ۔ حقیقت میں اس جملے میں تین بشار ت جمع ہیں ، ایک بیٹے کی ، دوسری اس کے نو جوانی کے سن تک پہنچنے کی اور تیسر ی اس کے حلم جیسی صفت کا حامل ہو نے کی ۔ ” حلیم “ کی تفسیر میں بیان کیاگیاہے کہ اس سے مراد ایساشخص ہے جو توانا ئی ہوتے ہوئے کسی کام میں اس کے وقت سے پہلے جلدی نہیں کرتا اور مجرموں کو سزا دینے میں جلد بازی سے کام نہیں لیتا ، جو ایک عظیم روح کا مالک ہوتاہے اوراپنے جذبات واحساسات پر کنٹر ول رکھتا ہے۔ ” راغب “ مفردات میں کہتاہے : حلم زیادہ غُصّے کے وقت اپنے آپ پر قابورکھنے کے معنی میں ہے اور چونکہ ایسی حالت عقل و خرد سے پیدا ہوتی ہے لہذا بعض اوقات یہ لفظ عقل وخرد کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے۔ البتہ ” حلم “ کاحقیقی معنی رہ ہے جوپہلے بتایا گیا ہے . ضمنی طور پر اس توصیف سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ خدا نے اس فرزند کے بقا ء کی بشارت اس زمانہ تک کے لیے دی ہے جب وہ ایسے سن تک پہنچ جائے کہ حلم کے ساتھ متصف ہو جائے اور جیسا کہ ہم بعد والی آ یت میں دیکھیں گے،اس نے اپنے حلیم ہونے کا ”ذبح “ کے موقع پر مظاہرہ کی. جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنے حلیم ہونے کا مظاہرہ اس وقت بھی اور آگ میں ڈالے جانے کے موقع پر بھی کیا ۔ قابل ِ توجہ بات یہ ہے کہ لفظ ” حلیم “ قرآن مجید میں پندرہ بار آ یا ہے یہ لفظ زیادہ ترخداکی صفت کے طور پر آ یاہے . سوائے دوموقعوں کے ، جن میں یہ ابراہیم علیہ السلام اوران کے فرزند کی صفت کے طور پر کلامِ خدا کے طور پر آ یاہے اورایک موقع پردوسروں کی زبان سے حضر ت شعیب کی صفت میں بیان ہوا ہے۔ لفظ ” غلام “بعض کے نظر یہ کے مطابق سنِ جوانی تک پہنچنے سے پہلے ہر بچے کے لیے استعمال ہوتاہے . بعض نے اس بچہ پر اس کا اطلاق کیاہے جو دس سال سے اوپر ہو لیکن ابھی سنِ بلوغ کو نہ پہنچا ہو ۔ عربی لغت میں جو مختلف تعبیریں بیان ہوئی ہیں ، ان سے معلوم ہوتاہے کہ ”غلام “ دراصل ”طفل “ (بچہ ) اور ”شب “ ( جوان ) کے درمیان حدِّ فاصل ہے ،جسے ہم فارسی زبان میں ” نو جوان “ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ آ خر حضرت ابراہیم علیہ السلام کافرزندِ موعود خدائی بشارت کے مطابق پیدا ہو ااورباپ کا دل تو سالہاسال سے فر زند ِ صالح کی انتظار میں تھا . فرزند کی پیدا ئش سے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈ ک ملی پھر وہ فرزند بچپن کے دور کوگزار کرجوانی کے سن میں داخل ہوا ۔ قرآن اس موقع پر کہتاہے :جس وقت وہ اس کے ساتھ سعی و کوشش کے قابل ہوا(فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ ) ۔ یعنی وہ ایسے مرحلہ میں پہنچ گیا کہ زندگی کے مختلف مسائل میں باپ کے ہمراہ سعی و کوشش کرسکے اوراس کی مدد کرسکے ۔ بعض نے یہاں ”سعی “ کوعبادت اورخد ا کے لیے کام کرنے کے معنی میں سمجھا ہے .البتہ ” سعی “ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جس میں یہ معنی بھی شامل ہے لیکن اس میں منحصر نہیں ہے اور ” معہ “ باپ کے ساتھ کا معنی دیتا ہے . اس سے مراد امو رزندگی میں باپ کی معاونت و مدد ہے۔ بہرحال مفسّرین کے قول کے مطابق بیٹا ۱۳ سال کاتھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک عجیب اورحیرت انگیز خواب دیکھا . یہ خواب اس عظیم الشان پیغمبرکے لیے ایک اور آزمائش شروع ہونے کے بیان کر تاتھ. انہوں نے خواب دیکھا کہ انہیں خداکی طر ف سے یہ حکم دیاگیا ہے کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے قربانی کریں اوراسے ذبح کردیں ۔ ابر اہیم وحشت زدہ خواب سے بیدار ہوئے ، وہ جانتے تھے کہ پیغمبر وں کے خواب حقیقت ہو تے ہیں اور شیطانی وسوسوں سے دور ہوتے ہیں، لیکن اس کے با وجود دو اور راتوں میں بھی یہی خواب دیکھاجو اس امر کے لازم ہونے اوراسے جلد انجا م دینے کے لیے تاکید تھی ۔ کہتے ہیں کہ پہلی مرتبہ ” شب ترو یہ “ ( آ ٹھ ذ ی الحجہ کی رات ) یہ خواب اور” عرفہ “ اور ” عید قر بان “ ( نویں اوردسویں ذی الحجہ ) کی راتوں میں خواب کاتکرار ہو ا.لہذ ا اب ان کے لیے ذراسابھی شک باقی نہ رہاکہ یہ خدا کاقطعی فرمان ہے۔ ابراہیم جو بار ہا امتحان ِ خداند ی کی گرم بھٹی سے سرفراز ہو کر باہر آ ئے تھے اس دفعہ بھی چا ہتے کہ بحر ِ عشق میں کودپڑ یں اور حق تعالیٰ کے فرمان کے سامنے سر جھکادیں اوراس فرزند کوجس کے انتظار میں عمر کا ایک حِصّہ گذ ار دیا تھا اوراب وہ ایک آ بر و مند نو جوان تھا ،اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کردیں ۔ لیکن ضر وری ہے کہ ہر چیز سے پہلے اپنے فرزند کواس کام کے لیے آ ماد ہ کریں،لہذ ااس کی طرف رخ کرکے فرمایا :میرے بیٹے ! میں نے خواب دیکھاہے کہ میںتجھے ذبح کروں ، اب تم دیکھو ! تمہاری اس بار ے میں کیارائے ہے ؟(قالَ یا بُنَیَّ إِنِّی اٴَری فِی الْمَنامِ اٴَنِّی اٴَذْبَحُکَ فَانْظُرْ ما ذا تَری) ۔ بیٹا بھی تو ایثار پیشہ باپ کے وجود کاایک حصّہ تھا اور جس نے صبرواستقامت اورایمان کادرس اپنی چھوٹی سی عمر میں اسی کے مکتب میں پڑ ھاتھا،اس نے خوشی خوشی خلوص ِ دل کے ساتھ اس فر مان ِ الہٰی کااستقبال کیا اورصراحت اورقاطعیّت کے ساتھ کہا:اباجان ! جو حکم آپ کو دیاگی ہے اس کی تعمیل کیجیے (قالَ یا اٴَبَتِ افْعَلْ ما تُؤْمَر) ۔ میری طرف سے بالکل مطمئن رہنے . ” انشاء اللہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے (سَتَجِدُنی إِنْ شاء َ اللَّہُ مِنَ الصَّابِرینَ)۔ باپ اوربیٹے کی یہ با تیں کس قد ر معنی خیز ہیں اورکتنی باریکیاں ان میں چھپی ہوئی ہیں ۔ ایک طرف تو باپ ۱۳ سالہ بیٹے کے سامنے اسے ذبح کرنے کی بات بڑی صراحت کے ساتھ کرتاہے اوراس سے اس کی رائے معلوم کرتاہے . اس کے لیے مستقل شخصیت اور ارادے کی آ زادی کاقائل ہوتاہے ، وہ ہرگز اپنے بیٹے کودھو کے میں رکھنا نہیں چاہتا اوراسے اندھیر ے میں رکھتے ہوئے امتحان کے اس عظیم میدان میں آنے کی دعوت نہیں دیتا.وہ چاہتا ہے کہ بیٹا بھی اس عظیم امتحان میں پور ے دل کے ساتھ شرکت کرے اورباپ کی طرح تسلیم ورضا کامزہ چکھے ۔ دوسری طرف بیٹا بھی یہ چاہتا ہے کہ باپ اپنے عزم و ارادہ میں پکا اورمضبوط رہے .یہ نہیں کہتاکہ مجھے ذبح کردیں.بلکہ کہتا ہے : جو آپ کوحکم دیاگیاہے اسے بجالا ئیں میں اس کے امر وفرمان کے سامنے سرِ تسلیم خم ہوں،خصوصاً باپ کو ” یاابت “ ( اباجان ! ) کہہ کر مخاطب کرتاہے ، تاکہ اس بات کی نشاندہی کردے کہ اس مسئلے پر جذ بات فرزند وپد ر کا سوئی کی نو ک کے برا بر بھی اثر نہیں ،کیونکہ فرمان ِ خداہر چیز پر حاکم ہے۔ او ر تیسر ی طرف سے پر وردگار کی با ر گاہ میں مر اتبِ ادب کی اعلیٰ ترین طریقے سے پاسدار ی کرتا ہے،ہر گز اپنے ایمان اور عزم و ارادہ کی قوت پر بھرو سہ نہیں کرتا ، بلکہ خدا کی مشیت اوراس کے ارادے پر تکیہ کرتا ہے اوراس عبارت کے ساتھ اس سے پامردی اوراستقامت کی توفیق چاہتاہے۔ اس طرح سے باپ بھی اوربیٹا بھی اس عظیم آ زمائش کے پہلے مرحلے کو مکمل کامیابی کے ساتھ گز اردیتے ہیں ۔ اس دوران کیاکیا حالات پیش آ ئے ، قرآن نے انہیں تشریح کے ساتھ بیان نہیں کیا اور صرف اس عجیب ماجر ے کے نہایت حسّاس پہلو ذکر کیے ہیں ۔ بعض نے لکھاہے کہ فدا کار بیٹے نے اس بناپر کہ باپ کی اس ماموریت کی انجا م دہی میں مدد کر ے اور ماں کے رنج اندو ہ میں کمی کرکے . جس وقت وہ اسے سر زمین ” منٰی کے “ خشک اور جلاڈ النے والے گرم پہاڑ وں کے درمیان، قربان گاہ میں لائے تو باپ سے کہا :اباجان ! رسی کومضبوطی کے ساتھ باندھ دیجئے ، تاکہ میں فر مان ِ خداند ی کے اجراء کے وقت پاتھ پاؤ نہ ہلا سکوں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس سے میرے اجر میں کمی واقع نہ ہوجائے ۔ ابّاجان ! چُھری تیز کر لیجیے اور تیری کے ساتھ میرے گلے پر چلائے تاکہ اسے برداشت کرنا مجھ پر بھی ( اور آ پ پر بھی ) زیاد ہ آسا ن ہوجائے ۔ اباجان ! میاکرتاپہلے ہی میرے بدن سے اتارلیجیے تاکہ وہ خون آلود نہ ہو ، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کہیں میری ماں اسے دیکھے تو دامن صبراس کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے ۔ پھر مزید کہا،میرا سلام میری ماں کو پہنچا دیجیے گا اور اگر کوئی امر مانع نہ ہو تومیرا کُرتا اس کے لیے لے جا ئیے گا جو اسکی تسلّی خاطر اور تسکین کاباعث بنے گا کیونکہ وہ اس سے بیٹے کو خوشبو سونگھے گی اور جس وقت دل بے قر ار ہوگا تو اسے اپنی آ غوش میں لے لے گی اس طرح یہ اس کے دردِ دل میں تخفیف کاباعث ہوگا ۔ آ خر وہ حساس لمحے آن پہنچے جب فرمان ِ الہٰی کی تعمیل ہونا تھی . حضرت ابراہیم علیہ السلان نے جب بیٹے کے مقامِ تسلیم کو دیکھا ، اسے اپنی آغوش میں لے لیا، اس کے رخساروں کے بوسے لیے اوراس گھڑی دونوں رونے لگے . ایسا گر یہ تھا کہ ان کے جذبات اور لقائے خدا کے لیے ان کاشوق ظاہر ہوتاتھا ۔ قرآن مختصر اورمعنی خیز عبارت میں صرف اتنی سی بات کہتاہے : جب دونوں آمادہ وتیار ہوگئے اور ( باپ ) ابراہیم نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا ...(لَمَّا اٴَسْلَما وَ تَلَّہُ لِلْجَبینِ) (۱) قرآن یہاں پھر اختصار کے ساتھ گزرگیا ہے اور سننے والے کو اجازت دیتاہے کہ وہ اپنے احساسات کی موجوں کے ساتھ قصّے کو سمجھے ۔ بعض نے کہا ہے کہ ”تلّہ للجبین“ سے مراد یہ تھی کہ بیٹے کی پیشانی خود اس کی فر مائش پرزمین پر رکھی کہ مباد اان کی نگاہ بیٹے کے چہر ے پرپڑ ے اور پدر ی جذبات جوش میں آ جائیں اور فرمان ِ خدا کے اجزاء میں مانع ہوجائیں ۔ بہرحال حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کے چہر ے کو خاک پررکھا اور چُھری کو حرکت دی اور تیزی اورطاقت کے ساتھ اسے بیٹے کے گلے پر پھیر دیا جب کہ ان کی روح ہیجان میں تھی اورصرف عشقِ خدا ہی انہیں راپنی راہ میں کسی شک کے بغیر آگے بڑھا رہاتھا ۔ لیکن تیز دھا ر چھری نے بیٹے کے لطیف ونازک گلے پر معمولی سابھی اثرنہ کیا ۔ حضر ت ابراہیم حیرت میں ڈوب گئے ، دوبارہ چھر ی کو چلا یا، لیکن پھر بھی وہ کار گر ثابت نہ ہوئی ، ہاں , خلیل تو کہتے ہیں کہ ” کاٹ “ لیکن خدا وند جلیل یہ حکم دے رہا ہے کہ ” نہ کاٹ “ اور چھری توصرف اسی کی فرما نبر دار ہے۔ یہ وہ منزل ہے کہ جہاں قرآن ایک مختصر اور معنی خیز جُملے کے ساتھ انتظار کو ختم کرتے ہوئے کہتا ہے : اس وقت ہم نے ندادی ( اور پکار کرکہا) کہ اے ابراہیم ! (وَ نادَیْناہُ اٴَنْ یا إِبْراہیمُ ) ۔ خواب میں جو حکم تمہیں دیاگیاتھا وہ تم نے پورا کردیا (قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیا ) ۔ ہم نیکو کاکروں کو اسی طرح جز ادیاکرتے ہیں (إِنَّا کَذلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنین) ۔ ہم ہی انہیں امتحان میں کا میابی کی توفیق دیتے ہیں اور ہم ایسا بھی نہیں ہونے دیں گے کہ ان کافر زند دل بند ان کے ہاتھ ہی سے چلا جائے . ہاں ! جوشخص سر تاپا ہمارے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کیے ہوئے ہے اور اس نے نیکی کو اعلیٰ حد تک پہنچا دیاہے ، اس کی اس کے سو ااور کوئی جز انہیں ہوگی ۔ اس کے بعد مزید کہتاہے : بے شک یہ اہم اور آشکار امتحان ہے (إِنَّ ہذا لَہُوَ الْبَلاء ُ الْمُبینُ ) ۔ بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا ، وہ بھی نیک اورلائق بیٹا،اس باپ کے لیے جس نے ایک عمر ایسے فرزند کے انتظا ر میں گذا ری ہو سا دہ اور آسان کا م نہیں ہے . ایسے فر زند کی یاد کس طرح دل سے نکال سکتاتھا ؟اس سے بھی بالا تر یہ کہ وہ انتہائی تسلیم و رضا کے ساتھ ما تھے پر شکن لائے بغیر ایسے فرمان کی تعمیل کے لیے آ گے بڑھے اوراس کے تمام مقدمات کو آخر ی مرحلے تک انجام دے،اس طورپر کہ روحانی اور عملی آ ماد گی کے لحاظ سے کوئی کر باقی نہ چھوڑ ے ۔ اس سے بھی پڑھ کر عجیب،اس فر مان کے آگے اس نو جوان کی اطاعت شعار ی کی انتہائی . وہ خوشی خوشی ، اطمینان ِ قلب کے ساتھ،پروردگار کے لطف سے،اس کے ارادہ کے سامنے،سر تسلیم خم کرتے ہوئے،ذبح کے استقبال کے لیے آ گے بڑھا ۔ اسی لیے بعض روایات میں ہے کہ جس وقت یہ کام انجام پاچکاتو جبرئیل نے ( تعجب کرتے ہوئے ) پکار کر کہا ” اللہ اکبر “ ” اللہ اکبر “ ابراہیم علیہ السلام کے فرزند نے کہا :” لآالٰہ الاّ اللہ و اللہ اکبر “ اور عظیم فدا کا رباپ نے بھی کا ”اللہ اکبر و للہ الحمد “ ( ۲) ۔ اور یہ ان تکبیروں کے مشابہ ہے جو ہم عید قربان کے دن پڑ ھتے ہیں ۔ لیکن اس غر ض سے کہ ابراہیم کاپرو گرام ب بھی نامکمل نہ رہ جائے اور خدا کی بار گاہ میں ان کی طرف سے قربانی بھی ہو جائے اور ابراہیم کی آ ر زو پوری ہوجائے ، خدانے ایک بہت بڑا مینڈ ھابھیج دیا تاکہ بیٹے کی جگہ اس کی قربانی کریں اور مراسم ” حج“اور سرزمین ” منٰی “ میں آ نے والوں کے لیے اپنی سنت چھوڑ جائیں . چنانچہ قرآن کہتاہے : ہم نے ذبح عظیم کو اس کافدیہ قرار دیا (وَ فَدَیْناہُ بِذِبْحٍ عَظیمٍ) ۔ اس بار ے میں کہ اس ذبح کی عظمت کس لحاظ سے تھی ، جسمانی اور ظاہری لحاظ سے یااس جہت سے کہ فر زندِ ابراہیم علیہ السلام کافدیہ تھی یا اس لحاظ سے کہ خدا کی راہ میں اورخد کے لےے تھی یا اس لحاظ سے کہ یہ قربانی خدا کی طرف سے ابراہیم علیہ السلام کے لیے بھیجی کئی تھی ( ۳) ۔ مفسرین نے اس سلسلے میں بہت کچھ کہا ،لیکن کوئی مانع نہیں کہ یہ تمام جہات ذبح ِ عظیم میں جمع ہوں اور وہ مختلف جہات سے عظمت کی حامل ہو ۔ اس ذبح کی عظمت کی ایک نشانی یہ ہے کہ زمانہ گذ رنے کے ساتھ ساتھ ہرسال زیادہوسعت پارہی ہے۔ اس وقت ہرسال اس ذبح ِ عظیم کی یا د میں دس لاکھ سے زیادہ جانور ذبح کیے جاتے ہیں اوراس یاد کوزندہ کیاجاتاہے۔ ” فد ینا“ ”فدا “ کے مادہ سے اصل میں کسی شخص یاچیز کی بلا دور کرنے یادفع ضر ر کے لیے کسی دوسری چیز کوصدقہ قرار دینے کے معنی میں ہے . اسی لیے وہ مال جوقید ی کو آز اد کرنے کے لیے دیتے ہیں اسے ” فدیہ “کہتے ہیں . نیز اس کفّار ہ کو بھی فد یہ کہتے ہیں جو بعض بیمار روزہ کے بجائے دیتے ہیں ۔ وہ بہت بڑا مینڈ ھا ابراہیم علیہ السلام کو کس طرح دیا گیا ہے اس بار ے میں زیادہ تر اس بات کے معتقد ہیں کہ اسے جبرائیل لائے تھے ،بعض یہ بھی کہتے ہیں وہ کہ ” منٰی “کے پہاڑوں کے دامن نیچے اُترا تھا . بہرحال جوکچھ بھی تھا خد اکے حکم اوراس کے ارا دے سے تھا ۔ خدا نے نہ صرف اس دن کے عظیم امتحان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کامیابی کی تعریف و توصیف کی . بلکہ اس کی یاد کو جا و دانی بنادیا . جیسا کہ بعد والی آیت میں فر مایاگیاہے:ہم نے ابراہم کے نیک نام کو بعد کی امتوں میں باقی رہنے والا بنایا (وَ تَرَکْنا عَلَیْہِ فِی الْآخِرین) ۔ وہ آنے والی سب نسلوں اور لوگوں کے لیے نمونہ اور تمام پاکباز اور کو ئے دوست کے ولد ادہ عاشقوں کے لیے راہنما بن گئے اورہم نے ان کے طرز عمل کورہتی دنیا تک کے لیے حج کی سنّت کے طور پر جاو دانی بنادیا . وہ عظیم پیغمبروں کے باپ تھے وہ امتِ اسلامی اورپیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے باپ تھے ۔ ابراہیم پر سلام ( جوشخص اورپاکباز تھا ) (سَلامٌ عَلی إِبْراہیمَ ) ۔ ہاں ہم اسی طرح سے نیکو کار وں کابدلہ دیاکرتے ہیں (کَذلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنینَ)۔ عظمت ِ دنیاکا صلہ ، تمام زمانوں میں ہمشیگی کاصلہ ، خدائے بزرگ کے لائق درود و سلام کاصلہ ۔ قابلِ توجہ ّ بات یہ ہے کہ ” کَذلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنین“ کاجملہ ایک دفعہ تو یہاں آ یا ہے اوراس سے پہلے کی چند آ یات میں بھی آ یاہے . اس تکرار میں حتماً کوئی نکتہ ہے۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ پہلے مرحلے میں توخدا تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ان عظیم امتحان میں کامیا بی کاتصدیق کرتاہے اوران کی کا میابی پرمہر تصدیق ثبت کرتاہے . یہ خود ایک عظیم جز ا ہے ، یہ ایک اہم خوشخبری تھی جو خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دی تھی اس کے بعد ذبح ِ عظیم کے فدیہ کرنے ، ان کے نام اورسنت کے جا وداں رہنے اوران پر خد ا کے سلام بھیجنے کاذکر ہے جوتین دوسر ی بڑی نعمتیں ہیں اوراسے نیکو کاروں کے اجر کے عنوان سے بیان کر تاہے۔ ۱۔” تلّہ “ ” تل “کے ماد ے سے اصل میں اونچی جگہ کے معنی میں ہے اور” تلّہ للجبین “ کا مفہوم یہ ہے کہ اس کو ایک اونچی جگہ پر چہرے کی ایک طرف زمین پرلٹا یا . ” جبین “چہر ے کی طرف کے معنی میں ہے اوراس کی دونوں طرفوں کو ” جبینان “ کہتے ہیں ۔ ۲۔ تفسیر قرطبی اور تفسیر روح المعانی ۔ ۳۔ظاہر ہے کہ جا نور کتناہی باعظمت کیوں نہ ہو وہ کسی عام انسان کے مقابلے میں بھی عظیم نہیں ہوسکتا ، چہ جائیکہ وہ ایک نبی ورسول اور وہ بھی ذبیح اللہ جیسے نبی کے مقابلے میں ، ظاہر ایسامعلوم ہوتاہے کہ مفسرین نے اس کی طرف توجہّ کی ،ورنہ مسئلہ واضح ہے . سوال پید اہوتا ہے کہ اگر یہ نہیں توپھر ذبح ِ عظیم سے کون مراد ہے ؟اس سلسلے میں شا عرِ مشرق کہتے ہیں: اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر معنی ٴ ” ذبح ِ عظیم “ آ مد پسر جبکہ شیعہ وسنی طرق سے کئی ایک روایات بھی اس پر دلالت کر تی ہیں کہ ذبح عظیم سے مراد امام حسین علیہ السلام کی قر بانی ہے ( مترجم )