وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَى مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا
They had sworn by Allah with solemn oaths that if a warner were to come to them, they would be better guided than any of the nations. But when a warner came to them, it only increased their distance [from the truth],
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 35:42
[Pooya/Ali Commentary 35:42]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:42-44
سوره فاطر / آیه 42 - 44
(42) وَاَقْسَمُوْا بِاللّـٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِـهِـمْ لَئِنْ جَآءَهُـمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُـوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُـمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُـمْ اِلَّا نُفُوْرًا (43) اِسْتِكْـبَارًا فِى الْاَرْضِ وَمَكْـرَ السَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْـرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهْلِـهٖ ۚ فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِيْنَ ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّـٰهِ تَبْدِيْلًا ۖ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّـٰهِ تَحْوِيْلًا (44) اَوَلَمْ يَسِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ وَكَانُـوٓا اَشَدَّ مِنْـهُـمْ قُوَّةً ۚ وَمَا كَانَ اللّـٰهُ لِيُعْجِزَهٝ مِنْ شَىْءٍ فِى السَّمَاوَاتِ وَلَا فِى الْاَرْضِ ۚ اِنَّهٝ كَانَ عَلِيْمًا قَدِيْـرًا ترجمہ (42) انہوں نے انتہائی تاکید کے ساتھ قسم کھائی کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا پیغمبر ان کے پاس آئے تو وہ سب سے زیادہ ہدایت یافتہ امت ہوں لیکن جب ان کے پاس اپنی ہرآیاتوسوائے فراراور (حق سے) دوری کے ان میں کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔ (43) یہ سب کچھ اس بناء پر تھا کہ انہوں نے زمین میں استکبار کیا اور بری سے بری چالیں چلیں لیکن یہ بری چالبازیاں صرف اپنے چلانے والوں کا دامن ہی پکڑتی وہیں۔ کیا انہیں اپنے سے پہلے لوگوں کے ساتھ برتے جانے والے طرز عمل (اور ان پر ہونے والے سخت عذاب) سے مختلف کی توقع ہے۔ تم ہرگز خدا کے طریقے میں کوئی تبدیلی نہ دیکھو گے۔ اور ہرگز خدا کی سنت میں کوئی تغیرنہ پاؤگے۔ (44) کیا انہوں نے زمین میں چل بھر کر نہیں دیکھا کہ جو ان سے پہلے تھے ان کے ساتھ کیا ہوا ؟ (جبکہ) وہ لوگ ان سے زیادہ قوی (اور زیادہ طاقتور تھے)۔آسمان اور زمین میں سے کوئی چیز اس کے احاطۂ قدرت سے باہر نہیں جائے گی ۔ وہ دانا اور توانا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:42-44
شان نزول
شان نزول تفسیر درالمنشور ، روح المعانی ، مفاتیح الغیب اور دوسری تفسیروں میں ہے کہ مشرکین عرب جس وقت یہ سنتے تھے کہ بعض گزشتہ امتوں مثلًا یہودیوں نے خدائی پیغمبروں کی تکذیب کی تھی اور انہیں شہید کردیا تھا تو کہتے تھے کہ ہم ایسے نہیں ہیں ، اگر خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر ہمارے پاس آئے تو ہم تمام امتوں کی نسبت زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے ، لیکن وہی لوگ تھے کہ جب اسلام کا آفتاب و عالم تاب ان کی سرزمین سے طلوع ہوا اور پیغمبراسلامؐ سب سے عظیم کتاب لے کر ان کے پاس آئے تو نہ صرف یہ کہ انہوں نے ان کی دعوت قبول نہ کی بلکہ جھٹلایا ، طرح طرح کے مکر و فریب بھی کیے اور آپؐ کے خلاف لڑے بھی۔ زیر نظرآیات اسی ضمن میں نازل ہوئیں اور انہیں ان کھوکھلے اور بے بنیاد دعووں پر ملامت و سرزنش کی۔ ؎1
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:42-44
شان نزول
شان نزول تفسیر درالمنشور ، روح المعانی ، مفاتیح الغیب اور دوسری تفسیروں میں ہے کہ مشرکین عرب جس وقت یہ سنتے تھے کہ بعض گزشتہ امتوں مثلًا یہودیوں نے خدائی پیغمبروں کی تکذیب کی تھی اور انہیں شہید کردیا تھا تو کہتے تھے کہ ہم ایسے نہیں ہیں ، اگر خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر ہمارے پاس آئے تو ہم تمام امتوں کی نسبت زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے ، لیکن وہی لوگ تھے کہ جب اسلام کا آفتاب و عالم تاب ان کی سرزمین سے طلوع ہوا اور پیغمبراسلامؐ سب سے عظیم کتاب لے کر ان کے پاس آئے تو نہ صرف یہ کہ انہوں نے ان کی دعوت قبول نہ کی بلکہ جھٹلایا ، طرح طرح کے مکر و فریب بھی کیے اور آپؐ کے خلاف لڑے بھی۔ زیر نظرآیات اسی ضمن میں نازل ہوئیں اور انہیں ان کھوکھلے اور بے بنیاد دعووں پر ملامت و سرزنش کی۔ ؎1