الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَّثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
All praise belongs to Allah, originator of the heavens and the earth, maker of the angels [His] messengers, possessing wings, two, three or four [of them]. He adds to the creation whatever He wishes. Indeed Allah has power over all things.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 35:1
[Pooya/Ali Commentary 35:1] Refer to the commentary of Saba: 1; and for the praise of Allah refer to Al Fatihah: 2. Allah is the creator or the originator of the primal cause which began the genetic process of the creation of the universe and its every progressive functioning in innumerable forms, and in countless ways. As man's knowledge of the processes of nature advances, he sees how complex is the working of the creation itself. The origin of life and the spiritual forces are yet beyond the ken of experimental sciences, but man has become so conscious of the proximate causes that he has forgotten the primal cause, the cause of causes, the ultimate hand of Allah in creation. For Allah, the creation of anything is only a matter of His will. As He wills anything to originate, it simultaneously exists. See Baqarah: 117, Nahl: 40, Maryam: 35, Ya Sin: 82 and Mumin: 68. Angels are spiritual beings through whom the will or the orders or the decrees of Allah are executed or announced. Angels can take any shape or form, except the forms of base animals. The messenger angel Jibrail took the form of a man when he appeared to the virgin Maryam to announce the joyful news that Isa would be born of her (Maryam: 17; Ali Imran: 42 to 47) For the messenger spirit see Shu-ara: 193 and Qadr: 4. The creative process in the universe has never stopped at any time. It is continuously in progress together with the bestowal of Allah's grace and mercy upon His creation. Aqa Mahdi Puya says: (i) The word malak is derived from malaka (to possess), and not from alak (conveying the message). The angel as such is not the message, but the carrier of the message. (ii) It refers to the multi-functional aspects of the increase as per Allah's will. This supports the theory of the ever-expanding growth and development of the universe.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 35:1-7
Bodily notes with study of reference to previous Surah will suffice.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:1-3
بند دروازوں کا کھولنے والا وهي ھے
تفسیر بند دروازوں کا کھولنے والا وهي ھے اس سورہ کی ابتداء سوره "حمد" و "سبا اور "کہف " کی طرح پروردگار کی حمد سے ہوتی ہے ، اس کی حمد و ثنا وسیع عالم ہستی کی خلقت و آفرینش کی بناء پر فرماتا ہے : حمد مخصوص ہے اس خدا کے ساتھ کہ جو آسمان اور زمین کا خالق ہے اور عالم مستی کی تمام نعمات و مواہب کا سرچشمہ اسی کا وجود ذیجود ہے (الحمد لله فاطر السماوات والارض )۔ "فاطر" "فطور" کے مادہ سے اصل میں شگافتہ کرنے کے معنی میں ہے اور چونکہ موجودات کی آفرنیش ظلمت عدم کے شگافتہ ہون ے اور نور ہستی کے باہر آنے کی مانند ہے اس لیے یہ تعبیر خلقت و آفرینش کے معنی میں استعمال ہوتی ہے خصوصًا جدید علوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ عالم هستی کا مجموعہ ابتداء میں ایک ہی ٹکڑا تھا کہ جو بتدریج شگافتہ ہوا اور اس سے مختلف سے حصےجدا ہوئے ، خدا کی ذات پاک کے لیے لفظ "فاطر" کا اطلاق اپنے اندر زیادہ واضح اور روشن مفہوم رکھتا ہے۔ ؎1 ہاں ! ہم اس کی خالقیت کی بناء پر اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں ، کیونکہ جو کچھ بھی ہے اسی کی طرف سے ہے اور کوئی شخص اس کے علاوہ اپنی طرف سے کچھ نہیں رکھتا۔ اور چونکہ اس عالم کی تدبیر ۔ اس بناء پر کہ یہ عالم ، عالم اسباب ہے ۔ پروردگار کی طرف سے فرشتوں کے ذمہ لگائی ہے، لہذا بلا فاصلہ ان کی خلقت اور ان کی عظیم قدرتوں کے متعلق کو جو پروردگارعالم ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 "فاطر" اور "فطور" کے معنی کے بارے میں دسویں جلد 10 (سوره ابراهیم) کی آیہ 10 کے ذیل میں اوراسی طرح پانچویں جلد (سورہ انعام کی آیہ 14 کے ضمن میں بھی) ہم نے بیان کیا ہے ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ نے انہیں عطا کی ہیں گفتگو کرتا ہے: "وہی خدا کے جس نے فرشتوں کو رسول قرار دیا ہے وہ دو دو، تین تین اور چار چار پروں کے حامل ہیں۔ (جاعل الملائكة رسلًا اولى اجنحة مثنٰى وثلاث و الرباع) اس کے بعد مزید کہتا ہے : "خدا جتنا چاہتا ہے خلقت میں اضافہ کردیتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر بے " (يزيد في الخلق ما يشاءان الله على كل شی ء قدیر)۔ یہاں تین سوال پیدا ہوتے ہیں: پہلا سوال یہ ہے کہ ملائکہ اور فرشتوں کی رسالت کے جو اوپر والی آیت میں بیان کی گئی ہے ، کس چیز میں ہے ؟ کیا یہ رسالت تشریعی ہے یعنی خدا کی طرف سے انبیاء کی طرف اس کے پیغام کا لانا ہے ، یا یہ رسالت تکوینی ہے ؟ یعنی عالم آفرینش میں مختلف فرائض کی ذمہ داری کا سپرد ہونا، جیسا کہ نکات کی بحث میں اس کی طرف اشارہ ہو گا ۔ یا یہ دونوں جہت ہیں؟ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ گزشتہ جملے میں آسمان اور زمین کی خلقت کے بارے میں گفتگوتھی، اور زیر بحث جملے میں فرشتوں کے متعدد پروں کے متعلق گفتگو ہے کہ جو ان کی قدرت کی نشاندہی کرتا ہے اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے بھی کہ تمام فرشتوں کے لئے رسالت کا بیان ہوا ہے۔ (یہ بات قابل توجہ ہے کہ "الملائكه" ایسی جمع ہے کہ جس کے ساتھ "الف و لام" آیا ہے لہذا یہ عموم کا معنی دیتا ہے) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں رسالت ایک وسیع وعریض معنی میں استعمال ہواہے کہ جو "رسالت تشریعی" اور "رسالت تکوینی" دونوں کو شامل ہے۔ رسالت کا اطلاق "تشریعی رسالت" پر اور انبیاء کی طرف وحی کے پیغام لانے پر، قرآن میں بہت زیادہ بیان ہوا ہے لیکن اس کا اطلاق "رسالت تکوینی" پربھی کم نہیں ہے۔ سورہ یونس کی آیہ 21 میں بیان ہوا ہے کہ : "ان رسلنا يكتبون ما تمکرون" . "ہمارے رسول (ہمارے فرشتے) تمھارے مکروفریب کو لکھتے رہتے ہیں "۔ اور سورہ انعام کی آیہ 61 میں بیان ہواہے کہ : "حتى اذا جاء احدکم الموت توفته رسلنا" (جس وقت تم میں سے کسی کی موت کا وقت آن پہنچتا ہے تو ہمارے رسول اس کی روح قبض کرتے ہیں) ۔ سوره عنکبوت کی آیہ 31 میں ان فرشتوں کے بارے میں کہ جو قوم لوط کی سر زمین کو زیر و زبر (تہ و بالا) و کرنے پر معمورتھے یہ بیان ہواا ہے کہ : " ولما جاءت رسلنا ابراهيم بالبشری قالوا انا مهلكوا اهل هذه القرية ان اهلها كانوا ظالمین" (جس وقت ہمارے رسول ابراہیم کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ ہم اس آبادی میں رہنے والوں کو ہلاک کر دیں گے کیونکہ وہ ستمگر لوگ ہیں۔ قرآن کی دوسری آیات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ فرشتوں کے ذمہ جو مختلف کام لگھائے گئے ہیں وہ ان کی رسالتیں شمار ہوتے ہیں ، اسی بناء پر رسالت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ فرشتوں کے پروں سے مراد ، اور وہ بھی دو دو، تین تین اور چار تیار کیا ہے ؟ بعید نہیں ہے کہ پر و بال سے مراد یہاں قدرت اور حرکت کی توانائی ہو کہ جس سے بعض دوسروں کی نسبت یرتر اور بیشتر رکھتے ہواں۔ لہذا وہ بال و پرمیں ان کے لیے سلسلہ مراتب کا قائل ہوا ہے کہ بعض چار بال( امثنٰی - دو دو) اور بعض چھ بال اور بعض آٹھ بال رکھتے ہیں ۔ "اجنحة" "جناح" (بروزن جمال) کی جمع ہے ، جو پرندوں کے پروں کے معنی میں ہے کہ جو انسان کے ہاتھوں کی طرح ہیں ، اور چونکہ پر پرندوں کی نقل و انتقال اور ان کی حرکت و فعالیت کا ذریعہ ہوتے ہیں لہذاکبھی یہ لفظ فارسی یا عربی میں حرکت و اعمال کے وسیلے اور قدرت و توانائی کے لیےکنایہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے ، مثلًا یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کے بال و پر جل گئے ، جو اس بات کا کنایہ ہے کہ اس سے حرکت و توانائی کی قوت سلب ہوگئی ہے، یا یہ کہ اس نے فلاں شخص کو اپنے پر و بال کے پیچھے لے لیا ، یا یہ کہ انسان کو چاہیئے کہ وہ علم و عمل کے دوپروں کے ساتھ پرواز کرے، اوراس قسم کی تمام تعبیرات کو جو سب کی سب اس لفظ کے کنائی معنوں کو بیان کرتی ہیں۔ اور دوسرے موارد میں بھی کچھ تعبیرات مثلاً : "عرش" "کرسی" اور "لوح " و "قلم" ایسی نظر آتی ہیں کہ جن میں عام طور پر ان کے معنی مفہوم کی طرف ہی توجہ ہے نہ کہ ان کے مادی جسم کی طرف۔ البتہ قرینہ کے بغیر قرآن کے الفاظ کو ظاہری معنی کے غیر پر حمل نہیں کرنا چاہیئے ، لیکن جہاں واضح قرائن پائے جاتے ہوں وہاں کوئی مشکل پیدا نہیں ہوگی ۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ جبرائیل (وحی خدا پہنچانے والی ) کے چھ سو پر ہیں اور جس وقت اس حالت میں پیغمبراسلام سے ملاقات کی توزمین و آسمان کے درمیانی فاصلہ کو پُرکررکھاتھا۔ ؎1 یا یہ کہ "خدا کا ایک فرشتہ ہے کہ جس کے کان کی لو سے آنکھ تک کا فاصلہ پا نچ سو سال کی راه ہے (تیز پرواز) پرندرے کے ذریعہ" ۔ ؎2 یا یہ کہ نہج البلاغہ میں جس وقت پروردگار کے فرشتوں کی عظمت کے بارے میں گفتگو ہو رہی تو فرماتے ہیں: ومنهم الثابتة في الارضين السفلى اقدامهو والمارقة من ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 ، ؎2 تفسیر علی بن ابراہیم مطابق نقل نور الثقلین جلد 4 ص 349 ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- السماء العليا اعنا قهم، والخارجة من الامطار اركلامهم، والمناسبة القوائم العرش اکتاھهم"۔ ا "بعض فرشتے اس قسم کی عظمت رکھتے ہیں کہ ان کے پاؤں تو زمین کے نچلے طبقات میں قائم ہیں اور ان کی گردن آسمان بریں سے برتر ہے ان کے وجود کے ارکان اقطار عالم سے باہر نکلے ہوئے ہیں اور ان کے کندھے عرش پروردگار کو اٹھانے کے ایسے متناسب ہیں ۔ ؎1 یہ بات واضح ہے کہ اس قسم کی تعبیرات کو مادی جسمانی پہلوؤں پر حمل نہیں کیا جاسکتا،بلکہ یہ ان کی معنی عظمت اور جہات قدرت کو بیان کرنے والی تعبیرات ہیں۔ اصولی طور پہ ہم جانتے ہیں کہ پر صرف زمین کی فضا میں اڑنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں ، کیونکہ کرہ زمین کے اطراف کو دباؤ ڈالنے والی ہوانے گھیر رکھا ہے، اور پرندے اپنے پروں کے ذریعہ امواج ہوا پر قرار پاتے ہیں ، اور نیچے اوپرآجاسکتے ہیں ، لیکن اگر زمین کی فضا کے محیط سے خارج ہوجائیں کہ جس میں ہوا نہیں ہے، تو وہاں پر پرو بال اڑنے کے لیے معمولی سے معمولی تاثیر بھی نہیں رکھتے، اور اس لحاظ سے وہ ٹھیک دوسرے اعضاء کے مانند ہوتے ہیں۔ اس سے قطع نظر وہ فرشتہ کہ جس کے پاؤں زمین کی گہرائیوں میں ثبت ہیں اور اس کا سر برترین آسمان سے بالا تر ہے تو اسے جسمانی پرواز کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس بارے میں بحث کہ فرشتے جسمِ لطیف ہے یا مجردات میں سے ہے ایک دوسری بحث ہے کہ جس کی طرف انشاءاللہ نکات کی بحث میں اشارہ ہو گا ۔ یہاں پر صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ ہم جان لیں کہ پر و بال فعالیت اور حرکت و قدرت و کا ذریعہ ہیں ۔ اور اس مقصد کو ثابت کرنے کے لیے اوپر والے قرائن کافی گویاہیں، جیسا کہ عرش و کرسی کی بحث میں ہم نے کہا ہے کہ یہ دونوں لفظ اگرچہ "بلند پائے والے" اور "چھوٹے پائے والے" تختوں کے معنی میں ہے ، لیکن مسلمہ طور پر اس سے مراد عالم کے مختلف جہات میں پروردگار کی قدرت ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق عليه السلام سے منقول ہے : "الملائكة لا يأكلون ويشربون والاينکحون وانما يعيشون بنيم العرش "۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نہج البلاغہ ، خطبہ 1 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- "فرشتے نہ توکھانا کھاتے ہیں اور نہ پانی پیتے ہیں اور نہ ہیں شادی بیاہ کرتے ہیں ، وہ صرف نسیم عرش سے زندہ ہیں" ؎1 ؎2 تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا "یزید فی الخلق مايشاء" "وہ خلقت میں جتنا چاہتا ہے اضافہ کردیتا ہے " فرشتوں کے پر و بال کے اضافہ کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ مفسرین نے کہا ہے، یا یہ وسیع معنی رکھتا ہے ، کہ جو اس کو بھی شامل ہے اور باقی افزائشوں کو بھی کہ جو آفرینش موجودات میں صورت پزیر ہوتے ہیں۔ ایک طرف تو جملہ کا مطلق ہونا ، اور دوسری طرف بعض ایسی اسلامی روایات کے جو اوپر والی آیات کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے۔ ان میں سے ایک حدیث میں پیغمبر گرامی اسلامؐ سے منقول ہوا ہے کہ آپؐ نے اس جملہ کی تفسیر میں فرمایا: "هو الوجنه الحسن ، والصوت الحسن، والشعرالحسن" "اس سے مراد و خوبصورت چہره ، اچھی آوازاورخوابصورت بال ہیں"۔ ؎3 ایک اور حدیث میں پیغمبراکرمؐ سے منقول ہے کہ : "حسنوا القرآن باصواتکم فان الصوت الحسن يزيد القران حسنا، وقرأ يزيد في الخلق مايشاء" "قرآن کو خوبصورت آواز کے ساتھ زینت بخشو کیونکہ اچھی آواز قرآن کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے ، پھر آپؐ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی" یزید فی الخلق مايشاء"۔ پروردگار کی خالقیت اور فرشتوں کی رسالت کا بیان کرنے کے بعد کہ جو فیض خدا کا واسطہ ہیں ، اپنی رحمت کو بیان فرمارہاہے کہ جو عالم ہستی کی بنیاد ہے، فرماتا ہے کہ : خدا جس رحمت کو لوگوں کے لیے کھول دے اُسے کوئی نہیں روک سکتا" (ما يفتح الله للناس من الحمة فلاممسك لها) - ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر علی بن ابراہیم مطابق نقل نورالثقلین جلد 4 ص 349 - ؎2 عرش کے معنی کے بارے میں ہم نے چھٹی جلد ص... (سوره اعراف ذیل آیہ 54) کے ذیل میں تفصیل سے بحث کی ہے ۔ ؎3 مجمع البیان زیر بحث آیات کے ذیل میں ، قرطبی نے اپنی تفسیر میں اس حدیث کو زیر بحث آیت کے ذیل میں پیش کیا ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- "اور جسے روک لے اس کے سوا کوئی شخص اس کے بھیجنے پر قدرت نہیں رکھتا" (وما يمسك فلا مرسل له من بعده ) - "کیونکہ وہ ایسا قدرت والا ہے کہ جو شکست ناپذیر ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ حکیم و آگاه هے"۔ (وهو العزیز الحکیم) ۔ خلاصہ یہ ہے کہ رحمت کے تمام خزانے اس کے پاس ہیں ، اور جس کو وہ لائق سمجھتا ہے اس کو مشمول رحمت کرلیتا ہے، اور جہاں اس کی حکمت کا تقاضا ہو اس کے دروازے کھول دیتا ہے ، اگر تمام جہانوں کے لوگ مل کر یہ چاہیں کہ اس دروازے کو کہ جسے اس نے کھولا ہے بند کردیں یا جس دروازے کو اس نے بند کیا ہے اسے کھول دیں تو ان میں ہرگز بر قدرت نہیں ہوگی ، یہ حقیقت میں توحید کی ایک شاخ ہے کہ جو دوسری شاخوں کی بنیاد ہے۔ (غور کیجئے) اس معنی کے مشابہ قرآن کریم کی دوسری آیات میں بھی بیان ہواہے جہاں کہتا ہے کہ : " وان يمسسك الله بضر فلا کاشف له الا هو وان يردك بخير فلا راد لفضله يصيب به من يشاء من عباده وهو الغفور الرحيم" "اگر خدا (ا متحان یا غلطی کی سزا کے لیے) تجھے کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی بھی اسے بطرف نہیں کرسکتا ، اور اگر وہ تیرے لیے کسی خیر اور بھلائی کا ارادہ کرے تو کوئی شخص اس کے فضل سے مانع نہیں ہو گا ، وہ اپنے بندوں میں سے جس شخص کو چاہیےاپنا فضل پہنچتا ہے، اور وہ غفور و رحیم ہے ۔ (یونس - 107)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:1-3
چند توجہ طلب امور
چند توجہ طلب امور ا۔ "يفتح" کی تعبیر "فتح" کے مادہ سے کھولنے کے معنی میں ہے، یہ رحمت الٰہی کے خزانوں کے وجود کی طرف اشارہ ہے ، جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے ، توجہ طلب بات یہ ہے کہ یہ خزانے ایسے ہیں کہ جو کھلنے کے ساتھ ہی مخلوقات پر جاری ہو جاتے ہیں اور کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں رہتی اور کوئی شخص اس سے مانع نہیں ہوسکتا۔ "رحمت" کے کھولنے کو اس کے امساک اور روکنے پر مقدم رکھنا اس بناء پر ہے کہ ہمیشہ خدا کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ 2- رحمت کی تعبیر بہت ہی وسیع اور کشادہ معنی رکھتی ہے کہ جو عالم کے مواہب اور نعمات کو شامل ہے ، کبھی معنوی پہلو رکھتی ہے اور کبھی مادی پہلو ، اسی بناء پر جب کبھی کوئی انسان تمام ظاہری دروازوں کو اپنے سامنے بند دیکھتا ہے تو پھر بھی وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ رحمت الٰہی اس کے دل و جان میں جاری و ساری ہے۔ لہذا وہ خوش وخرم اور آرام و مطمئن ہے ، اگرچہ وہ زندان کی کال کوٹھری میں گرفتار ہو اس کے برعکس کبھی تمام ظاہری دروازوں کو انسان اپنے اوپر کھلا ہوا دیکھتا ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے رحمت الٰہی کے دروازے اس کی جان پر بند ہو گئے ہیں، لہذا وہ اپنے آپ کو اس طرح تنگی اور دباؤ میں محسوس کرتا ہے کہ جیسے دنیا اپنی پوری وسعت کے با وجود اس کے لیے ایک تاریک اور وحشت ناک زندان ہے، اور یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جو بہت سے لوگوں کے لیے حقیقت کا درجہ رکھتی ہے۔ 3۔ دو اوصاف "عزیز و حکیم" کی تعبیر رحمت کے "ارسال" اور "امساک" پر اس کی قدرت کو بیان کرتی ہیں ، اور اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ کھولنا اور باندهنا ہرجگہ حکمت کی بنیاد پر ہے ، کیونکہ اس کی قدرت اس کی حکمت سے ملی ہوئی ہے۔ بہرحال اس آیت کے مفہوم ومضمون کی طرف توجہ ایک مومن انسان کو اس طرح سکون و آرام پہنچاتی ہے کہ وہ تمام حوادث و مصائب کے مقابلہ میں کھڑا ہوجاتا ہے، اور کسی مشکل سے نہیں ڈرتا، اورکسی کامیابی سے مغرور نہیں ہوتا۔ ؎1 بعد والی آیت میں "توحید در عبادت" کے مسئلہ کی طرف "توحید درخالقیت و رازقیت" کی اساس پراشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ : اے لوگو! اپنے اوپر خدا کی نعمت کو یاد کرو"۔ (یاایها الناس اذكروا نعمة الله علیکم) ۔ ٹھیک طریقہ سے غور و فکر کرو کہ یہ تمام انعامات اور برکات ، اور زندگی کے یہ تمام وسائل و امکانات کہ جو تمہارے اختیار میں قرار دیئے گئے ہیں اور تم ان نعمتوں کے اندر ڈوبے ہوئے ہو ، ان کا اصل پیدا کرنے والا کون ہے اور ان کا سر چشمہ کیا چیز ہے؟ "کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق آسمان و زمین سے نہیں روزی دیتا ہے" (هل من خالق غيرالله یرزقكم من السماء والأرض )- وہ کون ہے کہ جو سورج کی حیات بخش روشنی اور بارش کے زندہ کرنے والے قطرات اور بادنسیم ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 قابل توجہ بات یہ ہے کہ "فلا ممسك لها" کی ضمیرمونث کی شکل میں ہے اور "فلا مرسل له" میں مذکر کی شکل میں چونکہ پہلی کا مرجع لفظ "رحمت" ہے، اور دوسری کا "ما" ہے ، علاوہ ازیں "من بعده" ظاہرًا خدا کی طرف لوٹتا ہے یعنی خدا کے سوا کوئی اس کے کھولنے پر قادر نہیں ہے، یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ یہ ضمیر "امساک" کی طرف لوٹے یعنی "من بعد امسال اللہ" کہ جو معنی کے لحاظ سے چنداں فرق نہیں رکھتا ۔ ا۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کی روح پرور موجیں آسمان سے تمہاری طرف بھیجتا ہے؟ اور کون ہے وہ کہ جو زمین سے معادون ذخائر، اور مواد غذائی ، انواع و اقسام کے نباتات اور پھل اور دوسری برکارت اس زمین سے تمہارے لیے نکالتا ہے۔ اب جبکہ تم اس بات کو جانتے ہو کہ ان سب برکات کا سرچشمہ وہی ہے تو پھر جان لو کہ : "اس کے سوا کوئی اور معبود بھی نہیں ہے اور عبادت و پرستش صرف اسی کی ذات پاک کے لائق ہے" (لا اله الاهو)۔ "اس حالت میں تم کس طرح حق کی راہ سے باطل کی طرف منحرف ہوتے ہو اور اللہ کے بجائے بتوں کے سامنے سجدہ کرتے ہو" ( فانی تؤفكون)۔ "تؤفكون" "افك" (بروزن فکر) کے مادہ سے ہے، جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ "انک " ہر اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو اپنی اصلی حالت سے بدل جائے لہذا ہراس بات کو کہ جو حق سے اانحراف پیدا کرے "انک" کہتے ہیں ، اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جھوٹ اور تہمت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تو اسی لحاظ سے ہے، البتہ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ لفظ جھوٹ اور بڑی بڑی تہمتوں کو بیان کرتا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:1-3
ملائکہ قرآن مجید میں
نكته ملائکہ قرآن مجید میں قرآن مجید میں ملائکہ کا بہت زیادہ بیان ہوا ہے۔ بہت سی آیات قرآن فرشتوں کی صفات ، خصوصیات ، فرائض اور وظائف اور ذمہ داریوں کے سلسلہ میں گفتگو کرتی ہیں ، یہاں تک کہ قرآن نے ملائکہ پر ایمان رکھنے کو خدا ، انبیاء اور کتب آسمانی پرایمان رکھنے کی ردیف میں قرار دیا ہے ، اور یہ چیز اس مسئلہ کی بنیادی اہمیت کی دلیل ہے ، (امن الرسول و بما انزل اليه من ربه والمؤمنون على أمن بالله وملائكته وكتبه ورسله) ۔ پیغمبراسلام اس چیز پر کہ جو ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے ایمان لائے ، اور مومنین بھی خدا ، اس کے فرشتوں ،اس کی کتابوں اور رسولوں سب پر ایمان لائے ہیں ( بقرہ ــــــــــــــــ 285) اس میں شک نہیں کہ فرشتوں کا وجود امور غیبیہ میں سے ہے کہ جس کے ثابت کرنے کے لیے ان صفات و خصوصیات کے ساتھ اولہ نقلیہ کے علاوہ کوئی اور راہ نہیں ہے اور ایمان بالغیب کے حکم کے مطابت انہیں قبول کرنا چاہیئے قرآن مجید ان کی خصوصیات کو مجموعی طور پر اس طرح شمار کرتا ہے: 1- فرشتے عاقل اور باشعور موجودات ہیں اور خدا کے گرامی قدر اور معزز بندے ہیں :( بل عباد مكرمون) (انبیاء ـــــــ 26)۔ 2- وہ خدا کے تابع فرمان ہیں اور ہرگز اس کی معصیت و نافرمانی نہیں کرتے (لايبقونه بالقول وهم باهر يعملون) (انبیاء ـــــــ 27)۔ 3- وہ خدا کی طرف سے اہم اور بہت ہی متنوع ذمہ داریاں اور وظائف اپنے ذمہ رکھتے ہیں۔ ایک گروہ حاملین عرش کا ہے۔ (حاقہ - 17) ایک گروه مدہر امرہے۔ (نازعات - 5 ) ایک گروه قابض ارواح فرشتوں کا ہے۔ (اعراف - 37) ایک گروہ اعمال انسانی کا نگران ہے۔ (سورہ انفطار- 10 تا 13) ایک گروہ انسان کی خطرات و حوادث سے حفاظت کرتا ہے (انعام - 61) ایک گروہ سرکش اقوام کو عذاب اور سزا دینے پر مامور ہے۔ (ہود - 77) ایک گروہ جنگوں میں خدا کی طرف سے مومنین کی مدد کرنے والا ہے۔ (احزاب - 4) اور بالآخر ایک گروہ انبیاء کے لیے وحی کا پہنچانے والا اور ان کے پاس کتب آسمانی کا لانے والا ہے ۔ (نحل - 2 ) اگر ہم چاہیں کہ ان کی ایک ایک ذمہ داری اور ماموریت کو شمار کریں تو بحث طویل ہوجائےگی۔ 4- وہ ہمیشہ خدا کی تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں جیسا کہ سورہ شورٰی کی آیت 5 میں بیان ہوا ہے: (والملائكة يسبحون بحمد ربهم ويستغفرون لمن في الارض) "فرشتے اپنے پروردگارکی تسبیح اور حمد بجالاتے ہیں ، اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لیے استغفار کرتے ہیں"۔ 5- اس کے باوجود انسان تکامل و ارتقاء کی استعداد کے مطابق ان سے بھی برتر و الفضل تر ہے ، یہاں تک کہ تمام فرشتے بغیراستثناء کے آدمؑ کی خلقت کے وقت اس کے سجدے میں گرپڑے ، اور آدمؑ ان کے معلم قرار پائے۔ ( البقره - 30 - 34) 6- وہ کبھی انسان کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اور انبیا بلکہ غیرانبیاء کے سامنے بھی آتے ہیں ، جیسا کہ سوره مریم میں بیان ہوا ہے کہ :"ایک عظیم خدائی فرشتہ ایک موزوں اور ٹھیک ٹھاک انسان کی شکل میں مریم کے سامنے ظاہرہوا "(فارسلنا اليها روحنا فتمثل لها بشرًا سوتًیا) (مریم - 17) دوسرے مقام پر انسانوں کی شکل میں ابراہیمؑ و لوطؑ پر ظاہر ہوئے۔ (ہود ـــ 69 - 77) یہاں تک کہ ان آیات کے ذیل میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قوم لوط نے بھی انہیں موزوں انسانی شکلوں میں لکھا تھا ۔ ( ہود ــ 78) کیا چہره انسانی میں ظہور ایک واقعیت عینی ہے، یا قوت ادراک میں تمثیل و تصرف ہے۔ آیات قرآنی کا ظاہر پہلا معنی ہے۔ اگرچہ بعض بزرگ مفسرین نے دوسرے معنی کا انتخاب کیا ہے۔ 7- روایات اسلامی سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ کسی طرح بھی انسان کے ساتھ قابل قیاس نہیں ہیں جیسا کہ ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس وقت لوگوں نے آنحضرتؐ سے پوچھا کہ کیا فرشتوں کی تعداد زیادہ ہے یا انسانوں کی تو آپ فرمایا : "قسم ہے اس خدا کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، آسمانوں میں خدا کے فرشتوں کی تعداد زمین کے خاک کے ذرات سے بھی زیادہ ہے اور آسمان میں ایک قدم رکھنےکی جگہ نہیں ہےمگریہ کہ وہاں ایک فرشتہ خدا کی تسبیح و تقدیس کرتا ہے"۔ ؎1 8- وہ نہ غذا کھاتے ہیں ، نہ پانی پیتے ہیں اور نہ ہی نکاح و ازدواج کرتے ہیں، جیسا کہ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے: "ان الملائكة لايا کلون ولايشربون ولاینکحون وانمایعیشون بنسيما لعرش "۔ "فرشتے نے کھانا کھاتے ہیں نہ پانی پیتے ہیں اور نہ ہی نکا ح و ازدواج کرتے ہیں وہ توصرت نسیم عرش سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ ؎2 9- نہ انہیں نیند آتی ہے نہ سستی وغفلت ان پر طاری ہوتی ہے جیسا کہ حضرت علیؑ نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ: "ليس فيهم فترة ، ولا عند ھم غفلة ، ولأنه معصية ...............لا يغشاهم نوم العيون ولا سهوالعقول ، ولا فترة الابدان ، لو یسکنوا الأصلاب ولم تضمھم الارحام"۔ نہ ان میں سستی ہے اور نہ غفلت ، نہ عصیان و نافرمانی ہے اور نہ ہی ان پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے ۔ ان کی عقل سہودنسیان میں گرفتار نہیں ہوتی ، ان کا بدن سستی کی طرف مائل نہیں ہوتا ، اور وہ باپوں کے صلب اور ماؤں کے رحم میں ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بحارالانوار ، جلد 59 ص 176 (حدیث -7) اس سلسلے کی اور دوسری بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں ۔ ؎2 بحارالانوار ، جلد 59 ص 174 (حدیث -7) ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- قرار نہیں پاتے۔ ؎1 10- وہ مختلف مقامات اور متفاوت مدارج رکھتے ہیں بعض ہمیشہ رکوع میں ہیں ، اور بعض ہمیشہ سجدے میں ہیں۔ "مامنا الاله مقام معلوم وانا لنحن الصافون وانا لنحن المسبحون"۔ "ہم میں سے ایک معلوم مقام رکھتا ہے ، ہم ہمیشہ صف کشیده اس کے فرمان کے منتظر رہتے ہیں اورمسلسل اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں " (صافات : 164 تا 166) امام صادقؑ فرماتے ہیں: "وان لله ملائكة ركعًا الي يوم القيامة وان الله ملائکه سجدًا الٰى يوم القيامة"۔ "خدا کے کچھ فرشتے ایسے ہیں کہ جو قیامت تک رکوع میں ہیں اور کچھ فرشتے ایسے ہیں کہ جو قیامت تک سجدے میں ہیں "۔ ؎2 ملائکہ کے اوصاف اور ان کے اصناف سے زیادہ سے زیادہ آگاہی حاصل کرنے کے لیے کتاب "السماء" والعالم" ، - بحارالانوار ، ابواب الملائكہ (جلد 59 ص 144 تا 326 ) کی طرف رجوع فرمائیں ، اسی طرح نہج البلاغہ خطبہ ہائے اول و 91 خطبه اشباح: 109 و 171، سے رجوع فرمائیں، اسی طرح البلاغہ خطبہ ہاۓ اول ، 91 - خطبہ اشباح: 109 ، 171 سے رجوع کریں۔ کیا ان اوصاف کے باوجود کہ جو فرشتوں کے بارے میں بیان ہوئے ہیں وہ کوئی مجرد وجود ہیں یا مادی ؟ اس میں شک نہیں کہ وہ ان اوصاف کے ساتھ اس کثیف عنصری مادہ سے تو نہیں ہو سکتے ، لیکن اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے ، کہ وہ اجسام لطیفہ سے خلق ہوئے ہیں ، ایسے اجسام کہ جو اسم عام مادہ سے مافوق ہو کہ جس سے تم آشنا نہیں ۔ فرشتوں کے لیے "تجرد مطلق" کا اثبات ، حتٰی زمان و مکان اور اجزاء سے "تجرد" کوئی آسان کام نہیں ہے، اور اس مسئلہ کے بارے میں تحقیق بھی کوئی زیادہ فائدہ مند نہیں ہے ، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم فرشتوں کو ان اوصاف کے ساتھ کہ جن کے ساتھ قرآن اور مسلمہ روایات اسلامی نے ان کی توصیف کی ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بحارالانوار ، جلد 59 ص 175 ؎2 بحارالانوار ، جلد 59 ص 174 ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ہے انہیں پہچانیں ، اور انہیں خدا کی عظیم اور عمده موجودات میں سے ایک عظیم نوع سمجھیں ، بغیر اس کہ ہم ان کے لیے مقام بندگی اور عبودیت کے سواکسی اور مقام و مرتبہ کے ان کے لیے قائل ہوں اور انہیں خلقت یا عبادت میں خدا کا شریک سمجھیں، کیونکہ یہ شرک اور کفر محض ہے۔ فرشتوں کے بارے میں ہم اسی قدربحث پر قناعت کرتے ہیں اور اس کی تفصیل ان کتب کے حوالہ کر تے ہیں کہ جو خصوصیات کے ساتھ اس سلسلہ میں لکھی گئی ہیں ۔ تورات کی بہت سی عبارتوں میں فرشتوں کو "خداؤں" کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے ، کہ جو شرک آلود تعبیر ہے۔ اور موجودہ تورات کی تحریف کی نشانیوں میں سے ہے ، لیکن قرآن مجید اس قسم کی تعبیروں سے پاک اور منزہ ہے۔ کیونکہ قرآن ان کے لیے مقام بندگی و عبادت اور احکام و فرامین الٰہی کے اجراء کے سوا اور کسی مقام کا قائل نہیں ہوا ہے ۔ یہاں تک کہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ قرآن کی مختلف آیات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کامل کا مقام فرشتوں سے والا ترا ور بالاتر ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:1-3
سوره فاطر / آیه 1 - 3
بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ ۱۔ الْحَمْدُ لِلَّہِ فاطِرِ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ جاعِلِ الْمَلائِکَةِ رُسُلاً اٴُولی اٴَجْنِحَةٍ مَثْنی وَ ثُلاثَ وَ رُباعَ یَزیدُ فِی الْخَلْقِ ما یَشاء ُ إِنَّ اللَّہَ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیرٌ ۲۔ما یَفْتَحِ اللَّہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِکَ لَہا وَ ما یُمْسِکْ فَلا مُرْسِلَ لَہُ مِنْ بَعْدِہِ وَ ہُوَ الْعَزیزُ الْحَکیمُ ۳۔ یا اٴَیُّہَا النَّاسُ اذْکُرُوا نِعْمَتَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ ہَلْ مِنْ خالِقٍ غَیْرُ اللَّہِ یَرْزُقُکُمْ مِنَ السَّماء ِ وَ الْاٴَرْضِ لا إِلہَ إِلاَّ ہُوَ فَاٴَنَّی تُؤْفَکُونَ ترجمہ رحمن ورحیم خدا کے نام سے ۔ ۱۔ حمد وثنا مخصوص اس خدا کے لیے ہے کہ جو آسمان اورزمین کاپیدا کرنے والاہے ،وہی خدا کہ جس نے فرشتوں کورسول قرار دیاہے کہ جو د و دو ، تین تین اور چار چار پروں والے ہیں ، وہ جتنا چاہتا ہے آفرینش میں اضافہ کردیتاہے ، اور وہ ہرچیز پرقادر ہے ۔ ۲۔ خداجس رحمت کولوگوں پرکھول دے اُسے کوئی نہیں روک سکتا، اورخدا جس کوروک لے ا س کے سوا کوئی شخص اس کے بھیجنے پرقدرت نہیں رکھتا ،اوروہ عزیز وحکیم ہے ۔ ۳۔ اے لوگو ! تم اپنے اوپر خدا کی نعمت کو یاد کرو ، کیاخدا کے سواکوئی اورخالق ہے کہ جو آسمان وزمین سے تمہیں روزی دے ؟ اس کے سوااور کوئی معبود نہیں ہے ، اس حالت میں تم باطل کی طرف کس طرح منحرف ہوتے ہو ۔