قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
Say, ‘Indeed my Lord expands the provision for whomever of His servants that He wishes and tightens it, and He will repay whatever you may spend, and He is the best of providers.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 34:39
[Pooya/Ali Commentary 34:39]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:39-42
۲۔ اموال کاخدائی بیمہ
ایک مفسرنے یہاں ایک عمدہ تجز یہ پیش کیا ہے ، وہ کہتا ہے کہ : تعجب کی با ت یہ ہے کہ جب تاجر یہ جانتا ہو ، کہ ا س کے اموال میںسے کوئی مال تلف ہونے والا ہے ،تووہ اس بات پر بھی تیار ہوجاتا ہے کہ اُسے ادھار کے طور پرفروخت کردے ، چاہے لینے والا کوئی فقیر آدمی ہی ہو .وہ کہتا ہے : یہ بات اس سے بہتر ہے کہ اس مال کو یونہی چھوڑدوں اور وہ نا بود ہوجائے . اور اگر کوئی تاجر اِن حالات میں اپنے مال کوفروخت کرنے کااقدام نہ کرے یہاں تک کہ وہ تلف اور نابو دہوجائے ،تواسے ”خطاکار “ شمارکرتے ہیں ۔ اوراگر ان حالات میں کوئی سرمایہ دار خریدار مل جائے اوروہ ا س کے پاس فروخت نہ کرے تو اُسے بے عقل کہتے ہیں ۔ اور اگران تمام باتوں کے ساتھ وہ خریدار مضبوط مالی حیثیت رکھتے ہوئے ہرقسم کاوثیقہ اسے سپر د کردے ، اور ایک قابلِ اطمینا ن سندبھی اُسے لکھ دے ،اور وہ تاجر اس کے پاس نہ بیچے تواس کو دیوانہ کہتے ہیں ۔ لیکن تعجب اس بات پر ہے کہ ہم سب کام انجام دیتے ہیں اورکوئی اسے جنون شمار نہیںکرتا ۔ کیونکہ ہمارے تمام اموال معرضِ تلف میں ہیں اورخواہ مخواہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گے ، حالانکہ راہِ خدامیں خرچ کرناایک قسم کاخدا کو قرض دینا ہے اورایک بہت ہی معتبر ضامن ،یعنی خدائے بزرگ فرماتا ہے کہ : ( وماانفقتم من شیء وفھو یخلفہ ( ” اورجو کچھ بھی تم خر چ کرو گے وہ اس کاعوض دے گا “ . اور یہ اس حالت میں ہے جبکہ اُس نے اپنے اموال ہمارے پاس گروی رکھے ہوئے ہوں ، کیونکہ جو کچھ انسان کے ہاتھ میں ہے وہ اس کی طرف سے عاریتہ ہے (اور کتبِ آسمانی میں سے ایک محکم ترین سند اس سلسلے میں اس نے ہمارے حوالہ کی ہوئی ہے )لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ہم میں سے بہت سے اپنے اموال راہِ خدامیں خرچ نہیں کرتے ، اورانہیں رہنے دیتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں ، جس کے لیے نہ ہم کوئی اجر رکھتے ہیں نہ کوئی شکر (1) ۔ 1۔ تفسیر فخر رازی ،جلد ۲۵ ، ص ۲۶۳ ، زیربحث آیات کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:39-42
۱۔ انفاق زیادتی کاباعث ہے نہ کہ کمی کا
جوتعبیر اوپر والی آیت میں انفاق کے بارے میں بیان کی گئی ہے : ” کہ جو چیز بھی تم راہ ِ خدا میں خرچ کروگے خدااس کے بدلے میں اور دے دے گا “ . بہت معنی خیز تعبیر ہے ۔ اوّل اس لحاظ سے کہ لفظ ”شیء “ اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے ، انفاق کی تمام اقسام کے لیے . خواہ وہ مادی ہوں یا معنوی ، چھوٹی ہوں یا بڑی . ہرضرورت مند انسان کے لیے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا سب کو شامل ہے . اہم بات یہ ہے کہ انسان کے پاس جوبھی سرمایہ موجود ہے اُس میں سے خدا کی راہ میں بخشے چاہے وہ جس کیفیت میں ہو او ر جس مقدار میں ہو ۔ دوسرے انفاق کوفنا کے مفہوم سے باہر نکالتا ہے اوراسے بقاء کارنگ دیتا ہے کیونکہ خدانے اپنی مادی و معنوی نعمتوں کے ساتھ . کہ جو کئی گنا اور کبھی ہزار وں گنا اورکم از کم دس گناہیں . اس کی جگہ کو پُر کرنے کی ضمانت لی ہے ، اوراس طرح سے انفاق کرنے والاشخص جس وقت اس جذبہ اورعقیدہ کے ساتھ میدان میں آتا ہے تو ہاتھ اوردل زیادہ کھلا رکھے گا ، وہ کمی کے احساس اورفقر کی فکر ہرگز اپنے دماغ میںجگہ نہ دے ا بلکہ وہ خدا کاشکر ادا کر ے گا کہ جس نے اُسے اس قسم کی پُر نفع تجارت کی توفیق عطافرمائی ۔ یہ و ہی تعبیرہے کہ جوقرآن مجید میں سورہٴ صف کی آیہ ۱۰ ، ۱۱ ، میں بیان کی ہے کہ : ( یاایھا الذین اٰمنو اھل ادلکم علیٰ تجارة تنجیکم من عذاب الیم . تئو منون باللہ ورسولہ وتجاھدون فی سبیل اللہ بامو الکم وانفسکم ذالکم خیر لکم ان کنتم تعلمون ) ” اے وہ لوگو ! کہ جوایمان لائے ہو ،کیا میں تمہیں ایک ایسی پُر نفع تجارت کی طرف کہ جودرد ناک عذاب سے رہائی بخشے رہنمائی کرو ں ؟ خدا اوراس کے رسول پرایمان لاؤ ، اور راہ خدامیں اپنے اموال اورجانوں کے ساتھ جہاد کرو ، یہ تمہارے لیے بہترہے ، اگر تم جانتے ہو “ ۔ ایک روایت میں پیغمبرگرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ،۔ ینادی منادکل لیلة لد وا للموت ! ، ۔ و ینادی منادا بنو اللخراب ! ،۔ وینادی مناد اللھم ھب للمنفق خلفا ! ، ۔ و ینادی مناد اللھم ھب للممسک تلفا! وینادی منادلیت الناس لم یخلقوا ! وینادی منا دلیتھم اذ خلقوا فکر و ا فیما لہ خلقوا ! ،۔ ہررات ایک آسمانی ندا کرنے والا یہ ند ا کرتاہے کہ مرنے کے لیے جیو ۔ ،۔ اور دوسرا منادی یہ نداکرتا ہے کہ ویرانی کے لیے بنا کرو ۔ ،۔ اور ایک منادی یہ نِدا کرتاہے کہ خدا وندا ! جوانفاق کرتے ہیں ان کے لیے عوض قرار دے ۔ ،۔ ایک اور منادی یہ ندا کرتا ہے کہ خدا وندا ! جوا مساک کرتے ہیں اورخرچ نہیںکرتے ان کے لیے تلف قرار دے ۔ ،۔ اورایک منادی یہ ندا کرتا ہے کہ کاش انسان پیداہی نہ ہوتے ۔ ،۔ ایک اور ندا کرنے والا یہ ندا کرتاہے کہ اے کاش اب جبکہ وہ پیدا ہو ہی گئے ہیں تووہ اس امر میں غور وفکر کرتے کہ وہ کس لیے پیدا ہوئے ہیں (1) ۔ )ان نِدا کرنے والوں سے مراد وہ فرشتے ہیں کہ جوفرمان ِ خداسے اس عالم کے امور کی تدبیر کرتے ہیں ) ۔ ایک اور حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ : ” من ایقن بالخلف سخت نفسہ بالنفقہ “ ۔ جسے اس بات کا یقین ہوکہ اُسے بدلہ ضرور ملے گا تووہ خرچ کرنے میں زیادہ سخی ہوگا (2) ۔ یہی مفہوم امام باقرعلیہ السلام اورامام صادق علیہ السلام سے بھی نقل ہوا ہے ۔ لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ افناق حلال اور مشروع اموال میں سے ہو ، کیونکہ خدااس کے سوا دوسرے کوقبول نہیں کرتا اور برکت نہیں دیتا ۔ اس لیے ایک حدیث میں امام صاد ق علیہ السلام سے یہ منقول ہوا ہے کہ ایک شخص نے آ پ علیہ السلام کی خدمت میںعرض کیاکہ قرآن می ں دو آیات ایسی ہیں کہ میں جنتا ان پرعمل کرتاہوں ،اس کانتیجہ نہیں دیکھتا ، ( اور اس کے مطلب کوحاصل نہیں کرتا ) ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا وہ کونسی آیات ہیں ؟ اس نے عرض کیا، پہلی توخدا وند بزر گ کی یہ بات ہے کہ اس نے یہ فرمایاہےک ہ : ( ادعونی استجب لکم ) ” مجھے پکاروں میں تمہاری دعاکو قبو ل کرتاہوں “ میں خدا کوپکار تاہوں لیکن میری دعاقبول نہیں ہوتی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا : کیاتیراخیال یہ ہے کہ خدائے عزوجل نے اپنے وعدہ سے خلاف کیا ؟ اس نے عرض کیاکہ نہیں ! آپ علیہ السلام نے فرمایا : پس اس کاسبب کیاہے ؟ اس نے عرض کیا کہ : مجھے معلوم نہیں ہے ! آپ علیہ السلام فرمایا : ۔لیکن میں تجھے بتاتا ہوں : ” من اطاع اللہ عذو جل فیما امرہ من دعائہ من جھة الدعا ء اجابہ “ ”جوشخص خدا وند متعال کی اس چیز میں دعا کرے جس میں اس نے دعا کاحکم دیاہے ، اور اس میں جہت ِ دعا کی رعایت کرے تو وہ اس کی دعاکو قبول کرے گا “ ۔ اس نے عرض کیا کہ : جہتِ دعا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : کہ پہلے تُو خداکی حمد کرے گا اوراس کی نعمتوں کویاد کرے گا ، اس کے بعد شکر ادا کر ے گا اس کے بعد پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے گا . پھر اپنے گناہوں کو دل میں لائے گا اوران کااقرار کرے گا ، پھر اُن سے خدا کی پناہ مانگے گا اورتوبہ کرے گا . یہ ہے جہتِ دعا “ ۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا : دوسری آیت کونسی ہے ؟ اس نے عرض کیا : وہ یہ آیت ہے کہ اس نے فرمایا ہے : ”وما انفقتم من شیء فھو یخلفہ وھو خیر الراز قین “ لیکن میں خداکی راہ میں انفاق کرتاہوں ، مگروہ چیز جو اس کے بدلے میں دی جاتی ہے وہ مجھے نہیں ملتی ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا : کیاتُو یہ خیال کرتاہے کہ خداوند نے اپنے وعدے کے خلاف کیا ؟ اس نے عرض کیاکہ : نہیں ! آ پ علیہ السلام نے فرمایا : کہ پھر ایسا کیوں ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ : میں نہیں جانتا ! آپ علیہ السلام نے فرمایا : ” لوان احد کم اکتسب المال من حلہ ، وانفقہ فی حلہ ، لم ینفق درھماً الا ّ اخلف علیہ ( اگرتم میں سے کوئی شخص کچھ حلال مال حاصل کرے ، اور اُسے حال طریقے سے ہی خرچ کرے ، تو وہ کوئی ایک درہم بھی ایسا خرچ نہیں کرتا مگر یہ کہ خدا اس کاعوض اُسے دیتا ہے (3) ۔ 1۔ مجمع البیان ، زیر بحث آیات کے ذیل میں ۔ 2۔ نورا لثقلین ، جلد۴ ،ص ۳۴۰۔ 3۔ تفسیر برہان ، جلد ۳ ،ص ۳۵۳ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:39-42
سوره سبأ / آیه 39 - 42
۳۹۔قُلْ إِنَّ رَبِّی یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشاء ُ مِنْ عِبادِہِ وَ یَقْدِرُ لَہُ وَ ما اٴَنْفَقْتُمْ مِنْ شَیْء ٍ فَہُوَ یُخْلِفُہُ وَ ہُوَ خَیْرُ الرَّازِقینَ ۴۰ ۔وَ یَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمیعاً ثُمَّ یَقُولُ لِلْمَلائِکَةِ اٴَ ہؤُلاء ِ إِیَّاکُمْ کانُوا یَعْبُدُونَ ۴۱۔قالُوا سُبْحانَکَ اٴَنْتَ وَلِیُّنا مِنْ دُونِہِمْ بَلْ کانُوا یَعْبُدُونَ الْجِنَّ اٴَکْثَرُہُمْ بِہِمْ مُؤْمِنُونَ ۴۲ ۔ فَالْیَوْمَ لا یَمْلِکُ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ نَفْعاً وَ لا ضَرًّا وَ نَقُولُ لِلَّذینَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذابَ النَّارِ الَّتی کُنْتُمْ بِہا تُکَذِّبُونَ ترجمہ ۳۹ ۔ کہہ دے : میرا پر ور دگار جس کے لےے چاہتاہے روزی کوکشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتاہے تنگ ( اور محدود ) کردیتا ہے اور جوچیز تم ( اس کی راہ میں ) خرچ کر و گے وہ اس کی جگہ اور دے گا ، اوروہ بہترین روزی دینے والاہے ۔ ۴۰۔ اوراُس دن کو یاد کر کہ جب خدا ان سب کو محشور کرے گا ، پھر فرشتوں سے کہے گا ، کیا یہ تمہاری عبادت کرتے تھے ؟ ۴۱۔ وہ کہیں گے : تُو ( ان ناروا نسبتوں سے ) منزہ اورپاک ہے ، تُو ہی ہمارا ولی ہے ،نہ کہ وہ ( وہ ہماری عباد ت نہیں کرتے تھے ) بلکہ وہ تو جِنّ کی پرسش کیاکرتے تھے ،اور اُن میں سے اکثر ان پر ایمان رکھتے تھے ۔ ۴۲۔ آج کے دن تم میں سے کوئی بھی کسی دوسرے کے لیے نفع و نقصان کامالک نہیں ہے اورہم ظالموں سے کہیں گے کہ تم اس آگ کاعذاب چکھو کہ جس کی تم تکذیب کیاکرتے تھے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:39-42
۳۔ ” انفاق “ کے مفہوم کی وسعت
اس بات کوجاننے کے لیے کہ ” انفا ق “ کامفہوم اسلام میں کس قدر وسیع ہے ، ہمارے لیے حدیث ذیل کومورد ِتو جہ قرار دیناکافی ہے ۔ پیغمبرِ گرامی السلام صلی اللہ علیہ آ ولہ وسلم نے فرمایاہے کہ : ” کل معروف صدقہ ، وما انفق الرجل علیٰ نفسہ واھلہ کتب لہ صدقة ، وماوقی بہ اِلرجل عرضہ فھو صدقة ،وما انفق الرجل من نفقة فعلی اللہ خلفھا ، الا ماکا ن من نفقة فی بنیان او معصیة “ ۔ ” ہرنیک کام جوکسی بھی شکل میں ہو صدقہ ہے ، او ر راہِ خدا میں انفاق شمار ہوتا ہے “ ( اور یہ بات مالی انفاق تک ہی منحصر نہیں ہے ) ۔ ” اورجو کچھ انسان اپنی اوراپنے گھر والوں کی ضرور یاتِ زندگی میںصرف کرتا ہے وہ صدقہ لکھاجاتا ہے “ ۔ ”اورجس کے ساتھ انسان راہ ِ خدا میں انفاق کرتہے خدااس کاعوض اسے دے گا سوائے اس کے کہ جو بناء میں صرف ہو (مثلاً گھر بنانے میں ) یامعصیت کی راہ میں صرف ہو (1) ۔ ممکن ہے کہ گھر کااستثناء اس لحاظ سے ہو کہ اس کی اصل باقی ہے علاوہ ازیں لوگوں کی زیادہ ترتوجہ اس کی طرف ہوتی ہے ۔ 1۔ تفسیر قرطبی ، جلد ۶ ،ص ۸۹ ۵۳ ،زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:39-42
معبودوں کی عباد ت کرنے والوں سے بیزاری
ان آیات میں دو بارہ ان لوگوں کی گفتگو کی طر ف رُخ کرتاہے کہ جوا پنے اموال اوراولاد کو بارگاہِ خدامیں اپنے قرب کی دلیل سمجھتے تھے اور تاکید کے طور پر کہتاہے : ” کہہ دے کہ میر اپروردگار اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے روزی کوکشادہ کردیا یامحدود کردیتاہے “ (قُلْ إِنَّ رَبِّی یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشاء ُ مِنْ عِبادِہِ وَ یَقْدِرُ لَہُ ) ۔ اس کے بعد مزید کہتاہے : ” تم راہ ِ خدامیں جوکچھ بھی خرچ کرو گے خدااس کی جگہ اور دے دے گا ، اور وہ بہترین روزی دینے والا ہے “ (وَ ما اٴَنْفَقْتُمْ مِنْ شَیْء ٍ فَہُوَ یُخْلِفُہُ وَ ہُوَ خَیْرُ الرَّازِقین) ۔ اگرچہ اس آیت کا مضمون گزشتہ مطلب کی تاکید ہے ، لیکن دو جہات سے نئی چیز بھی ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ گزشتہ آیت جس کامفہوم یہی تھا ، زیادہ ترکفار کے اموال واولاد کے بارے میں تھی ، جبکہ ”عباد “ ( بندے ) کی تعبیر زیرِ بحث آیت میں اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مومنین کے بارے میں ہے ، یعنی مومنین کے لےے بھی کبھی روزی کوفراخ اور کشادہ کرتاہے جہاں مومن کے لیے مصلحت ہو . .. اورکبھی ان کی روزی کوتنگ اور محدود کردیتا ہے . جہاں اس کی مصلحت معلوم ہو ، بہرحال معیشت کی وسعت و تنگی کسی چیز کی دلیل نہیں بن سکتی ۔ دوسری بات یہ کہ گزشتہ آیت تو معیشت کی وسعت وتنگی کودو مختلف گروہوں کے بارے میں بیان کررہی تھی ، جبکہ زیر ِبحث آیت میں ممکن ہے کہ یہ ایک ہی انسان کی دو مختلف حالتوں کی طرف اشارہ ہو ، کہ جس کی روزی کبھی کشادہ اور فراخ اور کبھی تنگ اور محدود ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ جوکچھ اس آیت کی ابتداء میں بیان کیاگیاہے وہ حقیقت میں اس چیز کیلئے ایک مقدمہ اورتمہید ہے کہ جو آیت کے آخر میں بیا ن کیاگیا ہے اور وہ خدا کی را ہ میں خرچ کرنے کی تشویق (شوق دلانا ) ہے ۔ ” فھو یخلفہ “ ( وہ اس کی جگہ کو پُر کردیتاہے ) کاجملہ ، ایک جالب اور عمدہ تعبیر ہے جواس بات کی نشاند ہی کرتاہے کہ جو کچھ راہ ِ خدامیں خرچ کیاجاتا ہے وہ حقیقت میں ایک نفع بخش تجارت ہے ، کیونکہ خدانے اس کابدلہ دینے کا وعدہ فرمایاہے اورہم جانتے ہیں کہ جب کوئی کریم شخص کسی چیز کا بدلہ دینے کاوعدہ کرلے تووہ صرف اس کے مساوی بر ابرہی بدلہ نہیں دیتابلکہ وہ اس سے کئی گنا اور کبھی سوگنا بدلہ دیتاہے ۔ یقینا خداکا یہ وعدہ آخری اور دوسر ے جہان کے لےے ہی نہیں ہے ، ویسے وہ اپنی جگہ پر مسلّم ہے ،لیکن وہ دنیا میںبھی راہِ خدامیں خرچ کرنے کی جگہ کو انواع واقسام کی برکات سے احسن طریقہ سے بُر کرتاہے ۔ ( ھوخیرالرازقین ) ” وہ بہترین روزی دینے والاہے “ کاجملہ ایک وسیع معنی رکھتاہے اورمختلف جہات سے قابلِ غور ہے ۔ وہ تمام روزی دینے والوں سے بہتر ہے ، اس بنا ء پر کہ وہ یہ جانتا ہے کہ کونسی چیز بخشے ، اور کتنی مقدار میں روزی دے کہ جوفساد و تباہی کا سبب نہ بنے ، کیونکہ وہ ہرچیز کاعالم ہے ۔ وہ جو کچھ چاہے عطاکرسکتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پرقادر ہے ۔ وہ جوکچھ عطافرماتاہے اس کے بدلے میں کوئی اجر اور جزاء نہیں چاہتا ،کیونکہ وہ غنی بالذات ہے ۔ وہ درخواست کرنے اور مانگنے کے بغیر بھی دیتاہے ،کیونکہ وہ ہرچیز سے باخبراورحکیم ہے ۔ بلکہ حقیقت میں اس کے علاوہ کوئی بھی ”روزی دینے والا “ نہیں ہے ،کیونکہ جوشخص بھی جو کچھ بھی رکھتا ہے ،وہ اسی کی طرف سے ہے ، اور جوشخص بھی کسی کو کوئی چیز دیتاہے وہ ” انتقال روزی کا واسطہ “ ہے نہ کہ روزی دینے والا ۔ یہ نکتہ بھی قابل ِ غور ہے کہ وہ ” اموال کے مقابلہ میں “ باقی رہنے والی نعمتیں عطافرماتا ہے ،اور ” قلیل “ کے مقابلہ میں ”کثیر “بخشتاہے ۔ اور چونکہ یہ ظالم اورسرکش دولت مندوں کاگروہ مشرکین کے زمرہ میں داخل تھا اور وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ہم فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں ، اوروہ قیامت میں ہماری شفاعت کریں گے ، قرآن اس بے بنیاد دعوے کے مقابلے میں جواب دیتے ہوئے اس طرح کہتاہے : ” یاد کر اس دن کو جس میں خدا سب کو ... عبادت کرنے والوں کو بھی اور جن کی عبادت کی جاتی ہے اُن کوبھی . .. محشور کرے گا ، اس کے بعد فرشتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہے گا ،کیا یہ تمہاری عبادت کرتے تھے “ ؟ (وَ یَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمیعاً ثُمَّ یَقُولُ لِلْمَلائِکَةِ اٴَ ہؤُلاء ِ إِیَّاکُمْ کانُوا یَعْبُدُونَ) ۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ سوال کوئی ایسا سوال نہیں ہے کہ جو کسی مجہول چیز کوخدا کی ذات پاک کے لیے واضح کرے ، کیونکہ وہ تو ہر چیز کاعلم رکھتا ہے ،اس کامقصد یہ ہے کہ فرشتوں کے بیان کے ذریعہ حقائق بتائے جائیں تاکہ عبادت کرنے والوں کا یہ گروہ نادم ا ورشرمندہ ہو اور جان لے کہ وہ ا ن کے عمل سے پورے طور پر بیزارہیں ، اور وہ ہمیشہ کے لیے مایوس ہوجائیں ۔ اُن تمام معبود وں کے درمیان سے کہ جن کی مشرکین عبادت کیاکرتے تھے ، صرف فرشتوں کاذکر یاتو اس بناء پر ہے کہ جن جن کی وہ عبادت کیاکرتے تھے اُن میں سے فرشتے شریف ترین مخلوق تھے ، جہاں قیامت میں ان سے شفاعت حاصل نہ ہو تو پھر چند پتھرو ں اور لکڑیوں ، جِن اور شیاطین سے کس طرح حاصل ہوسکتی ہے ۔ یااس لحاظ سے ہے کہ بُت پرست پتھر اورلکڑیوں کوموجودات ِ علوی (فرشتوں اور ارواحِ انبیاء ) کامظہر اورسمبل سمجھتے تھے ، اور اس طرح ا ن کی پرستش کرتے تھے ، اور جیسا کہ قومِ عرب کے درمیان بُت پرستی کی تاریخ میںبیان کیاگیاہے کہ ” عمر وبن لحی (۱) “ جس سفر میں شام گیاتھا تواس نے وہاں ایک گروہ کوبُت پرستی کرتے دیکھا ، اُس نے اُن سے اس سلسلہ میں سوال کیا ، توانہوں نے کہاکہ یہ وہ خدا ہیں کہ جنہیں ہم نے موجوداتِ علوی کی شکل میں بنایاہے ، ان سے ہم مدد طلب کرتے ہیں ، اوران کے ذریعہ سے بارش کی دعا کرتے ہیں ، عمر و بن لحی نے ان کے اس عمل کو پسند کیا،اوران کی پیروی اختیار کی ، اوراپنے ساتھ ایک بُت سوغات کے طور پر حجاز کے لیے لایا ، اوراسی وقت سے یہان بت پرستی کی ابتداء ہوئی اور پھیلتی چلی گئی ، یہاں تک کہ السلام کا ظہور ہوا ،اوراس کی بیخ کنی کی (۲) ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ فرشتے ، پرور دگار کے سوال کے جواب میں کیا کہتے ہیں ؟ وہ جامع ترین اور نہایت مئودبانہ جواب کاانتخاب کرتے ہوئے ، عرض کرتے ہیں : ” اے پروردگار ،تُوان ناروا نسبتوں سے کہ جو تیر ی مقدس ذات کی طرف انہوں نے دی ہیں پاک اور منزہ ہے “ ( قالوا سبحانک ) ۔ ہمارا اس گروہ سے کسی طرح کابھی ربط وتعلق نہ تھا ، ” صرف تُوہی ہمارا ولی ہے نہ کہ وہ “ (انت ولینا من دونھم ) ۔ ” وہ ہماری پرستش نہیں کرتے تھے ، بلکہ وہ توجنّوں کی عبادت کرتے تھے ، اوراُن میںسے اکثر جنّات پرایمان رکھتے تھے “ ( بَلْ کانُوا یَعْبُدُونَ الْجِنَّ اٴَکْثَرُہُمْ بِہِمْ مُؤْمِنُون) ۔ اس بارے میں کہ فرشتوں کے جوا ب کامفہوم کیاہے ،مفسرین کے درمیان اختلاف ، اور ہرایک نے ایک الگ تفسیر کی ہے ، لیکن جوزیادہ نزدیک نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ” جِنّ “ سے مراد شیطان اور تمام ایسی خبیث موجودات ہیں کہ بُت پرستوں کواس عمل کاشوق دلاتے تھے ، اوراُسے ان کی نظر وں میں زینت دیتے تھے ، اس بناء پر جِنّ کی عبادت سے مراد یہ ہے کہ وہ ان کے فرمان کی اطاعت و پیروی اوران کی وسو سوں کوقبول کرتے تھے ۔ فرشتے اس ام پر راضی نہ ہونے کے اعلان اور بیزار ی ونفرت کے اظہار کے ضمن میں کہتے ہیں کہ فساد کے اصلی عامل شیاطین تھے ،اگرچہ ظاہراً وہ ہماری عبادت کرتے تھے ، لہٰذا اس کام کے واقعی چہرے کوکھول کردکھانا چاہیئے ۔ اور اس طریقہ سے وہ اُن عبادت کرنے والوں کومکمل طور پر اپنے سے دور کرتے ہوئے ناامید کردیں گے ۔ اس معنی کی مثال ہمیں سورہٴ یونس میں بھی ملتی ہے ،جہاں یہ ارشاد ہوتا ہے ( ویوم نحشرھم جمیعاً ثم نقول للذین اشرکو امکانکم انتم وشرکاؤکم فز یّلنابینھم وقال شرکا ؤھم ماکنتم ایّا ناتعبدون ) ” اس دن کو یاد کرو کہ جس میں ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے ، پھر ہم مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود اپنی جگہ پرٹھہرو ، (تاکہ تمہاراحساب لیاجائے ) پھرہم انہیں ایک دوسرے سے جدا کردیں گے ، اوران کے معبود اُن سے کہیں گے کہ تم ہرگز ہماری عبادت نہیں کرتے تھے “ ۔(یونس . ۲۷( یعنی حقیقت میں تم اپنی ہوا د ہوس اوراوہام وخیا لات کی پرستش کرتے تھے نہ کہ ہماری ،اس سے قطع نظر تمہاری یہ عبادت ہماے حکم اورفرمان سے نہیں تھی اور نہ ہی ہماری رضا مندی سے تھی ،اور جو عبادت اس طرح سے کی جائے وہ درحقیقت عبادت نہیں ہے ۔ اس طرح سے مشرکین کی امید اس دن مکمل ناامید میں بدل جائے گی اور یہ حقیقت ا ن لیے واضح طور پر روشن ہوجائے گی کہ ان کے معبود ان کے کام کی چھوٹی سے چھوٹی گرہ بھی نہ کھو ل سکیں گے ، بلکہ وہ ان سے متنفرو بیزار ہوں گے ۔ اس لیئے بعدوالی آیت میں ایک معنی خیز نتیجہ نکا لتے ہوئے کہتا ہے : ” اج کے دن تم میں سے کوئی بھی دوسرے کے لیے سودو زیاں اور نفع ونقصان کا مالک نہیں ہے “ (فَالْیَوْمَ لا یَمْلِکُ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ نَفْعاً وَ لا ضَرًّا) ۔ اس بناء پر نہ تو فرشتے ہی کہ جو ظاہراً ان کے معبود تھے ان کی کوئی شفاعت کرسکیں گے اور نہ ہی و ہ خود آپس میں ایک دوسرے کی کوئی مدد انجام دے سکیں گے ۔ یہ وہ منزل ہے کہ جہاں ہم ان ظالموں سے کہیں گے : ” تم اس آگ کے عذاب کامزہ چکھو کہ جس کی تم تکذیب کیاکرتے تھے “ (وَ نَقُولُ لِلَّذینَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذابَ النَّارِ الَّتی کُنْتُمْ بِہا تُکَذِّبُونَ ) ۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جہاں قرآ ن مشرکین کے بارے میں ظالم اور ستمگر کی تعبیر کرتاہے ، بلکہ قرآن ، کی بہت سی دوسری آیات میں ” کفر “ کو ’ ’ ظلم “ سے اور ” کفّار و مشرکین “ کی ظا لمین سے تعبیر ہوئی ہے ، کیونکہ وہ ہر چیز سے پہلے خو داپنے اوپر ظلم کرتے ہیں کہ پروردگار کی عبودیت کا پُر افتخار تاج اپنے سر سے اتار کربتوں کی ذلیل کرنے والی بند گی کاطوق اپنی گردن میں ڈالتے ہیں ، اور اپنی ساری حیثیت ،شخصیت اور قسمت کوبر باد کرلیتے ہیں ۔ حقیقت میں وہ قیامت کے دن اپنے شرک کی سزا بھی دیکھیں گے اور معاد و قیامت کے انکار کاعذا ب بھی ،اور ( وَ نَقُولُ لِلَّذینَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذابَ النَّارِ الَّتی کُنْتُمْ بِہا تُکَذِّبُون) کے جملہ میں دونوں معانی جمع ہیں ۔ ۱۔ عمر وبن لحی مکّہ کی جانی پہچانی شخصیت تھی ( لحی لام کی پیش اور حاء کی زبراور یا کی تشدید کے ساتھ ) ۔ ۲۔ تفسیر توح المعانی جلد ۲ ص ۱۴۰ (زیربحث آیت کے ذیل میں ) سیر ت ابن ِ ہشام میں یہی مفہوم مختصر سے فر ق کے ساتھ آیاہے ،اور وہاں یہ بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے ساتھ شام سے ” ہبل “ بت لایا تھا . ( سیرة ابنِ ہشام جلد ۱ ، ص ۷۹ ) ۔