قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
Say, ‘Indeed my Lord expands the provision for whomever He wishes and He tightens it, but most people do not know.’
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 34:31-36
(34) Cursed be that wealth (without religion) which leads one to disobey God and Divine Lights. Blessed is that (personal or national) which recognizes its real owner, God, the Almighty, and distributes as He desires, without disobedience unto Him, among His creatures individually or socially to equalize physical, mental, or spiritual inequality.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:34-38
سوره سبأ / آیه 34 - 38
۳۴۔ وَ ما اٴَرْسَلْنا فی قَرْیَةٍ مِنْ نَذیرٍ إِلاَّ قالَ مُتْرَفُوہا إِنَّا بِما اٴُرْسِلْتُمْ بِہِ کافِرُونَ ۳۵۔ وَ قالُوا نَحْنُ اٴَکْثَرُ اٴَمْوالاً وَ اٴَوْلاداً وَ ما نَحْنُ بِمُعَذَّبینَ ۳۶۔ قُلْ إِنَّ رَبِّی یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشاء ُ وَ یَقْدِرُ وَ لکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لا یَعْلَمُونَ ۳۷۔وَ ما اٴَمْوالُکُمْ وَ لا اٴَوْلادُکُمْ بِالَّتی تُقَرِّبُکُمْ عِندَنا زُلْفی إِلاَّ مَنْ آمَنَ وَ عَمِلَ صالِحاً فَاٴُولئِکَ لَہُمْ جَزاء ُ الضِّعْفِ بِما عَمِلُوا وَ ہُمْ فِی الْغُرُفاتِ آمِنُونَ ۳۸۔ وَ الَّذینَ یَسْعَوْنَ فی آیاتِنا مُعاجِزینَ اٴُولئِکَ فِی الْعَذابِ مُحْضَرُونَ ترجمہ ۳۴۔ ہم نے کسی شہر اوربستی میں کوئی ڈرانے والا پیغمبرنہیں بھیجا مگر یہ اس کے متر فین ( جو نازو نعمت میں مست تھے ) نے کہا کہ ہم اُس سے کہ جوکچھ تم دے کر بھیجے گئے ہو کافر ہیں ۔ ۳۵۔ اورانہوں نے یہ کہا کہ ہمارے اموال اوراولاد (سب سے ) زیادہ ہیں (اور یہ اس بات کی نشانی ہے کہ خدا کا ہمارے ساتھ تعلق ہے ) اور ہمیں ہرگز عذاب نہیں ہوگا ۔ ۳۶۔ کہہ دے کہ میرا پرو ر دگار جس کی چاہتا ہے روزی وسیع پاتنگ کردیتا ہے ، (اور یہ بات اس کی بار گاہ میں قرب سے کوئی ربط نہیں رکھتی ) اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ ۳۷۔ تمہارے مال اور اولاد ہرگز تمہیں ہمارا مقرب نہیں بنا تے ، سوائے ان کے کہ ایمان لے آئیں اورعمل صالح انجام دیں ، ان کے لیے ہی ان کے اعمال کے بد لے میں جو انہوں نے انجام دئے ہیں کئی گنا جزا ٴ ہے ،اور وہ (جنت کے ) بالا خانوں میں (انتہائی ) امن وامان میں ہوں گے ۔ ۳۸۔ اوروہ لوگ کہ جو ہماری آیات کے انکا ر و ابطال کی کوشش کرتے رہے اور یہ خیال کرتے رہے کہ ہماری قدرت کے چنگل سے نکل کربھاگ جائیں گے ، وہ عذاب ِ (الہٰی ) میں داخل ہوں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:34-38
قدروں کا تعیّن
فرد اور جامعہ کی زندگی میں اہم مسئلہ پہچاننے کے معیار اوراس جامعہ کے تمدن پرحاکم اقدا ر کانظام ہے ۔ کیونکہ فرد اورمعاشرے کی زندگی کی تمام تحریکیں قدروں کے اسی نظام سے پھو ٹتی ہیں ، اورپھر یہی تحریکیں نئی اقدار کو پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں ۔ اس مسئلہ میںکسی قوم وملت کی غلطی اورخیالی و بے بنیاد اقدار کو برو ئے کار لانا ، ان کی تاریخ کوتباہی کی طرف کھینچ لے جانے کے لیے کافی ہے ،اورواقعی اقدار اور سچے معیا روں کا ادراک ان کے ایوانِ سعادت کی محکم ترین بنیا د بنتا ہے ۔ مغرور دنیا پرست قدروقیمت کوصرف مال و منا ل مادی وسائل اورافرادی قوتوں تک محدود سمجھتے ہیں ، یہاں تک کہ بارگاہِ خدامیں شخصیت کامعیار بھی انہیں چیزوں میں صور کرتے ہیں ، جیساکہ ہم نے اوپر والی آیت میں اس کانمونہ دیکھا ،اوراس کے بہت سے اور نمونے قرآن میں نظر آتے ہیں ۔ ۱۔ زر و زور پرست اور جبارفرعون اپنے مصاحین سے کہتا ہے : ” مجھے یقین نہیں آتا کہ موسٰی ، خدا کی طرف سے ہو ، اگر وہ سچ کہتاہے تو پھر اُسے سونے کے کنفن کیوں نہ دیئے گئے ؟ ! (فلو لا القی علیہ اسورة من ذھب ) (سورہ زخرف . آیہ ۵۳) ۔ یہاں تک کہ وہ اس قسم کے زرو زیور نہ رکھنے کو موسٰی علیہ السلام کے مقام اور مرتبہ کی پستی کی دلیل شمار کرتاتھا اور کہتا تھا : ” ام انا خیر من ھٰذاالذی ھو مھین “ ( سورہٴ زخرف . آیہ ۵۲) ۔ ۲۔ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مشرکین اس بات سے کہ قرآن ایک تہی دست شخص پرنازل ہوا ہے تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ : ” لولا نزل ھٰذاالقراٰن علیٰ رجل من القر یتین عظیم “ یہ قرآن سرزمین ِ مکّہ یاطائف کی کسی عظیم ثروت مند شخصیت پرکیوں نازل نہ ہوا ) .زخرف ، آیہ ۳۱) ۔ ۳۔ بنی اسرائیل نے اپنے زمانہ کے پیغمبر”اشموئیل “ سے لشکر کی فرماندہی کے لےے ” طالو ت “ کے انتخاب کے سلسلے میں اعتراض کرتے ہو ئے کہا : ” نحن احق بالملک منہ ولم یئوت سعة من المال “ ( ہم فر ماندہی اورحکمرانی کے لیے اس سے زیادہ حقدار ہیں ، کیونکہ ہم مشہور ومعروف خاندان سے ہیں ،علاوہ ازیں طالوت کے پاس کچھ مال ودولت نہیں ہے ) سورہ بقرہ . ۲۴۷) ۔ ۴۔ قوم نوح کے مشرک ثروت مندوں نے اُن پر اعتراض کیا : ” ان پست اورذیل افراد نے تیرے اطراف کوکیوں گھیر رکھاہے “ اور پستی سے ان کی مراد مال وثروت کا نہ ہونا ہے ( قالوا انئو من لک واتبعک الارذلون ) ” کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں حالانکہ اراذل اور پست لوگوں نے تیری پیروی کی ہے ( اورتجھ پرایمان لائے ہیں ) . (سورہ شعراء آیہ ۱۱۱ ) ۔ ۵۔ یہ اعتراض مکہ کے ثروت مند وں نے پیغمبر ِ السلام پرکیاتھا ، کہ پابرہنہ (غریب) لوگوں نے تجھے کیوں گھیررکھا ہے ؟ ہم توان کے بدن کی بدبو سے بھی ناراحت اورپریشان ہوجاتے ہیں ، اگر تُو انہیں اپنے سے دور کردے تو پھر ہم تیرے پاس آئیں گے . قرآن سورہٴ کہف میں ان پرسختی کے ساتھ حملہ کرتاہے ، اور شدید ترین لب ولہجہ میں انہیں تہدید کرتاہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ تجھے ایسے ہی لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیئے کہ جو اگرچہ تہی دست ہیں ، لیکن ان کے دل عشقِ خداسے پُر ہیں ،اوروہ صبح و شام درگاہ ِ خدا کی طرف رُخ کرتے ہیں ،اوراس کے سواکسی کونہیں چاہتے ، اے پیغمبر ! تم انہیں کے ساتھ رہو ، اوران سے منہ نہ پھیرو ” واصبرنفسک مع الذین یدعون ربھم بالغداة والعشی یرید ون وجھہ ولا تعد عیناک عنھم “ . (کہف . ۲۸) ۔ ان ہی وجوہات کی بناء پر انبیاء کا پہلا اوراہم اصلاحی قدم اسی جھوٹی عزت اورقدرو قیمت کی دیوار کو توڑ نا تھا ، انہوں نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ ان غلط معیاروں کوختم کیا ، اوراصل خدائی اقتدار کوان کاجانشین بنایا ، اورایک ” علمی انقلاب “ کے ذریعہ شخصیت کے محور کومال واولاد ، ثروت وجاہ اور کنبہ وقبیلہ کی شہرت سے تقویٰ و ایمان اورعمل صالح میں بدل دیا ۔ ا س کا نمونہ ہم نے زیر ِ بحث آیات میں پڑھ لیا ہے ، کہ اموال واولاد پرخطِ بطلان کھینچنے کے بعد بار گاہِ الہٰی میں تقرب کے ایک وسیلہ کے عنوان سے اور (وَ ما اٴَمْوالُکُمْ وَ لا اٴَوْلادُکُمْ بِالَّتی تُقَرِّبُکُمْ عِندَنا زُلْفی ) کہہ کربلا فاصلہ اصل قدرو قیمت کو (إِلاَّ مَنْ آمَنَ وَ عَمِلَ صالِحاً ) کے جملہ کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ آیہ شریفہ : ( ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم ) کہ جوایک اسلامی شعار اورنعرے کی شکل میں آئی ہے ، کنبہ اور قبیلہ سے وابستہ قدرو ں کی نفی کے بعد اسی فکری و اقدار ی انقلاب کوبیان کررہی ہے ۔ اسی آیہ (سورہ حجر ات . ۱۳ ) کے مطابق کوئی چیز بھی اُس تقویٰ اورایمان کے سوا کہ جواحساس ِ مسئو لیت اور پاکیز گی عمل کے ساتھ ہو . انسانوں کی شخصیت اورقدر و قمیت کا معیار اورخدا کی بارگاہ میں ان کے قرب کاذریعہ نہیں ہے ، اورجو شخص اس اصل معیار سے زیادہ حصّہ رکھتا ہے وہی زیادہ مقرب اور زیادہ باعزت اور گرامیٴ قدر ہے ۔ یہ بات خاص طو ر پر قابلِ تو جہ ہے کہ سرزمین ِ عرب کے ماحول میں ،اسلام اورقرآن کی حیات بخش تعلیمات کے ظہور سے پہلے ، زر وزور کی قدر و قیمت کے نظا م کی حاکمیت کی وجہ سے اس ماحول کانتیجہ اور ماحصل ابو سفیان ، ابوجہل اور ابو لہب جیسے غارت گر اور منہ پھٹ لوگ تھے ، لیکن اسی ماحول سے ، اقدر کے نظام میں انقلاب آجانے کے بعد مسلمان ، ابوذر ، مقدار اور عما ریا سر جیسے افراد سامنے آئے ۔ یہ بات قابل ِ توجہ ہے کہ قرآن مجید سورہ زخرف میں ان آیات کے ذکر کرنے کے بعد کہ جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے کہتاہے : ” نہ صرف یہ کہ مادی شان وشوکت شخصیت کی دلیل نہیں ہے ، بلکہ اگر ایسا کرنے سے کچھ مفاسد وجود میں نہ آتے ، توہم کافروں کے لےے گھرقرار دے دیتے کہ جن کی چھتیں چاندی کی ہوتیں اور اس کی سیڑھیاں (گر اں قیمت ) ہوتیں کہ جن کے ذریعہ وہ اوپر والے طبقات کی طرف جاتے اوران کے کمروں کے لیے (شان وشوکت والے ) ایسے دروازے اور (خوب صورت ) تخت قرار دیتے کہ جن پرتکیہ لگاتے ، اورہر قسم کے زیور ات ہم ان کے اختیار مین دے دیتے ، لیکن یہ سب کچھ دنیا وی زندگی کے مال ومتاع ہیں ، اورآخر ت کا گھر تیرے پروردگار کے پاس پرہیز گاروں کیلئے ہے “ ( و لو لاان یکون الناس امة واحدة لجعلنا لمن یکفربالرحمن لبیوتھم سقفاً من فضة معارج علیھا یظھرون و لبیو تھم ابواباً وسرراً علیھا یتکئون . وزخرفا ً وان کل ذالک لما متاع الحیاة الدنیا والاٰ خرة عند ربک للمتقین ) ( زخرف ، آیات . ۳۳ ۳۴ . ۳۵) ۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ جھوٹی قدریں انسان کی واقعی اورحقیقی اقدار کی جگہ نہ لے لیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:34-38
مال و اولاد قرب خدا کی دلیل نہیں ہیں
چونکہ گزشتہ آیات میں مستکبرین کے (لوگوں کو ) اغواء کرنے کے بارے میں گفتگو تھی ، زیربحث آیات میں اس اغواٴ گر ی کے ایک گوشے کوبیان کیاجارہاہے ، اورضمنی طور پر پیغمبر گرامی اسلام کوبھی تسلی دی جارہی ہے ، کہ اگر وہ تیری مخالفت کریں تو اس بات پر تعجب نہ کر کیونکہ مرفہ الحال مستکبرین کی طرف سے سچے پیغمبروں کی مخالفت کرنا توان کاشیوہ اور عاد ت رہی ہے ۔ کہتاہے : ” ہم نے کسی شہر یا بستی میں کوئی ڈرانے والا پیغمبرنہیں بھیجا مگر یہ کہ اس کے مترفین . وہ لوگ جو نازو نعمت میں مست اور مغر ور ہوچکے تھے نے کہا ہم اس چیز کہ جو تم دے کر بھیجے گئے ہو منکر و کافر ہیں اورجسے تم خدائی پیغام کا نام دیتے ہواُسے ہم قبول نہیں کرتے “ (وَ ما اٴَرْسَلْنافی قَرْیَةٍ مِنْ نَذیرٍ إِلاَّ قالَ مُتْرَفُوہا إِنَّا بِما اٴُرْسِلْتُمْ بِہِ کافِرُونَ ) ۔ ” نذیر “ کامعنی ہے ڈرانے والا اور یہ خداکے پیغمبروں کی طرف اشار ہ ہے کہ جو لوگوں کو ان کی کج رویوں ، بیداد گر یوں اورگناہ وفساد کے مقابلہ میںخدا کے عذاب سے ڈراتے تھے ۔ ” متر فوھا “ جمع ہے ” مترف “ کی ” ترف “ بروزن طرف “ کے مادہ سے جو تنعم کے معنی میں ہے ،اور مترف ا شخص کو کہتے ہیں کہ جسے نعمت کی زیادتی اور زندگی کی مرفہ الحالی نے مست مغرور اورغافل کردیا ہو ، اورسر کشی پراکسایاہوں (۱) ۔ ہاں ! عام طور پر وہ لوگ کہ جو انبیاء کے صفِ اوّل کے مخالف تھے ، وہ یہی مترف ، سرکش اور غافل لوگ تھے ،چونکہ وہ ایک طرف سے توانبیاء کی تعلیمات کواپنے مقاصد کے حصول اوراپنی ہوس رانی سے مزاحم سمجھتے تھے اور دوسری طرف سے وہ اُسے اُن محرومین کے حقوق کادفا ع کرنے والا جانتے تھے کہ جن کے حقوق کو غصب کرکے وہ ایسی زرق برق زندگی گزار رہے تھے ،اور تیسری طرف سے وہ ہمیشہ اپنے مال وثروت کی حفاظت کے لےے حکومت کی قدرت کومعاون ومدد گار سمجھتے تھے ، اور پیغمبروں کو ان تمام جہات میں اپنا مدِّ مقابل سمجھتے تھے ، لہٰذا فوراً ان سے مقابلہ کے لےے کھڑے ہوجاتے تھے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ کسی خاص حکم یاتعلیم کاانکار نہیں کرتے تھے بلکہ وہ توکلی طور پر یہ کہتے تھے کہ : ” ہم اُن تمام چیزوں کے کہ جن کے ساتھ تم مبعوث ہوئے ہو کافرہیں ” یہاں تک کہ ہم ایک قدم بھی تمہارے ساتھ چلنے کوتیارنہیں ہیں ، اوران کی یہ بات خود حق کے مقابلہ میں ان کی لجاجت ، ہٹ دھرمی اورعناد کی بہترین دلیل تھی ۔ یہ حقیقت ایک اہم مسئلہ ہے کہ جس سے قرآن نے مختلف آیات میں پردہ اٹھایا ہے کہ عام طور پرمحرومین ہی پہلے وہ افراد ہوتے تھے کہ جو انبیاء کی دعوت پر لبیک کہتے تھے ، اور مغرور ثروت مند متنعمین ہی وہ پہلاگروہ ہوتاتھا جوعَلَمِ مخالفت بلند کرتاتھا ۔ باوجود یکہ مسلّمہ طور پر دعوتِ انبیاء کے منکر اسی گروہ میں منحصر نہیں تھے لیکن عام طور پر عاملین فساد اورشرک و خرافات کی طرف دعوت دینے والے وہی ہوا کرتے تھے کہ جو ہمیشہ اس بات کی کوشش کیا کرتے تھے کہ زبردستی دوسروں کو بھی انہیں راستوں پرچلائیں ۔ سورہ زخرف کی آیہ ۲۳ ، سورہ ہود کی آیہ ۱۱۶ اورسورہ مئومنون کی آیہ ۳ ۳ میں بھی یہی مطلب بیان ہوا ہے ۔ نہ صرف ابنیاء کے مقابلہ میں بلکہ ہر اصلاحی قدم جو کسی دانشمند مصلح اورعالم ِ مجاہد کی طرف سے اٹھے یہ گروہ مخالفت کے لیے سراٹھا تا اور ، مصلحین کے پر و گر اموں کودرہم برہم کرنے کے لیے ساز شین کرتا اور کسی بھی جرم کے ارتکاب سے باز نہیں رہتا ۔ بعد والی آیت ان کی لچر اور پوچ منطق کی طرف ... کہ جس سے ہر زمانہ میں اپنی برتری کوثابت کرنے کے لیے متوسل ہوا کرتے تھے . اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ : ” اور انہوں نے یہ کہا کہ ہم سب سے زیادہ ثروت مند اور سب سے زیادہ آ ل اولاد رکھتے ہیں “ (وَ قالُوا نَحْنُ اٴَکْثَرُ اٴَمْوالاً وَ اٴَوْلاداً) ۔ خدا ہم سے محبت رکھتا ہے ، لہٰذا اس نے ہمیں مال بھی فراواں دے رکھتا ہے اور بہت سی افرادی توت بھی ،اور یہ بات ہمارے حق میں اس کے لطف وکرم کی اور اس کی بارگاہ میں ہمارے مقام اور حیثیت کی دلیل ہے : ” اور ہم (نور چشموں ) کو ہرگز بھی عذاب نہیں ہوگا “ (وَ ما نَحْنُ بِمُعَذَّبینَ) ۔ کیاخدا اپنے معززین اور پیاروں کوعذاب دے گا ؟ ! اگر ہم اس کی بارگاہ سے دھتکارے ہوئے ہوتے ،تووہ یہ ساری نعمتیں ہمیں کیوں دیتا ؟ ! خلاصہ یہ ہے کہ ہماری دنیا کاآبادہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری آخرت بھی آباد ہوگی ۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال دیاہے کہ (وَ ما نَحْنُ بِمُعَذَّبین) کاجملہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کُلی طور پر قیامت اورعذاب کے ہی منکرتھے ،لیکن بعد والی آیات اس بات کی نشا ندہی کرتی ہیں کہ یہ جملہ اس معنی میں نہیں ہے ، بلکہ ان کی مراد یہ تھی کہ وہ اپنی ثروت ودولت کومقربِ بارگاہ خدا ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں ۔ بعد والی آیت ان کی اس گھٹیا اور عوام کوفریب دینے والی منطق کاانہتائی اعلیٰ طریقہ سے جواب دیتی ہے ، اوران کی سرکوبی کرتی ہے ،روئے سخن پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کرتے ہوئے کہتی ہے کہ : ” ان سے کہہ دے کہ میرا پروردگار جس کے لیے چاہتا ہے روزی کو وسیع کردیتاہے اور جس کے لےے چاہے اس میں تنگی کردیتاہے “ ( اوریہ سب کچھ ایسی مصلحتوں کے مطابق کرتاہے کہ جنہیں مخلوق کی آذ مائش اورانسانی زندگی کے نظم ونسق کے لیے ضروری سمجھتاہے ، اور یہ چیز بار گاہ ِ خداوندی میں قدر و منزلت اور مقام وحیثیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتی ) (قُلْ إِنَّ رَبِّی یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشاء ُ وَ یَقْدِرُ) ۔ اس بناء پر وسعتِ رزق کوسعادت کی اور تنگیٴ رزق کوشقادت کی دلیل ہرگز نہیں سمجھنا چاہیئے : ” لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے بے خبرہیں “ (وَ لکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لا یَعْلَمُون) ۔ البتہ بے خبراور ناو اقف اکثر یت ایسی ہے ، ورنہ واقف اور آگاہ لوگوں کیلئے یہ مسئلہ واضح و آشکار ہے ۔ اس کے بعد مزید وضاحت کے ساتھ اس مطلب کوبیان کرتے ہوئے کہتاہے : ” ہرگز ایسا نہیں ہے ، کہ تمہارامال و اولاد تمہیں ہمارامقرب بنادے “ (وَ ما اٴَمْوالُکُمْ وَ لا اٴَوْلادُکُمْ بِالَّتی تُقَرِّبُکُمْ عِندَنا زُلْفی) (۲)۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ جو عوام کے ایک گروہ کودامن گیر ہوگئی ہے . کہ جویہ تصوّر کرتے ہیں کہ وہ لوگ جو دنیا میں مادی لحاظ سے محروم ہیں وہ بار گاہِ خدامیں مغضوب ومطرود ہیں اور وہ لوگ کہ جو نعمت کی فراخی میں ڈوبے ہو ئے ہیں وہ اس کے محبوب ومقبول ہیں ۔ کتنے ہی ایسے محروم افراد ہوتے ہیں کہ جن کی اس (محرومیت ) کے ذریعہ آز مائش ہوتی ہے اور بدترین مقامات تک پہنچتے ہیں اور کتنے ہی متنعم افراد ایسے ہیں کہ جن کا مال ودولت ان کے لیے بلائے جان بن جاتا ہے اوران کی گناہ گاری یاحد سے بڑھ کانے کامقدمہ بنتا ہے ۔ کیاقرآن سورہ تغابن کی آیہ ۱۵ میں صراحت کے ساتھ یہ نہیں کہتا کہ : ( انما اموالکم واو لادکم فتنة واللہ عندہ اجر عظیم ) ” تمہارے مال او راولاد تمہاری آزمائش کاذریعہ ہیں اور اجرِ عظیم خدا کے پاس ہے “ ۔ اس بات کایہ مطلب نہیں ہے کہ انسان زندگی کے لےے لازمی وضروری سعی و کوشش سے ہی دستبردار ہوجائے ، بلکہ مقصد یہ ہے کہ اقتصادی وسائل اورفراواں انسانی قدرت وطاقت ہرگز خدا کی بارگاہ میں انسانوں کی معنوی قدر و قیمت کا معیار نہیں ہوتا ۔ اس کے بعد انسانوں کی قدروقیمت کااصلی معیار او ر جو چیز خدا کی بارگا ہ میں تقرب کا سبب بنتی ہے اُسے بیان کرتے ہوئے ( ایک استثنا ے منفصل کی صورت میں ) کہتا ہے کہ : ” مگروہ لوگ جو ایمان لائے ، اور انہوں نے عمل ِ صالح انجام دئے ان کے لیے ان کے اعمال کے مقابلہ میں کئی گنا اجرو ثواب ہے ، اور وہ جنت کے بالا خانوں میں انتہائی امن وامان کے ساتھ زندگی بسر کریں گے “ ( إِلاَّ مَنْ آمَنَ وَ عَمِلَ صالِحاً فَاٴُولئِکَ لَہُمْ جَزاء ُ الضِّعْفِ بِما عَمِلُوا وَ ہُمْ فِی الْغُرُفاتِ آمِنُون) (۳) ۔ اس بناء پر تمام معیار ان ہی دونوں امور کی طرف لوٹتے ہیں ، ”ایمان “ اور ” عمل صالح “ خواہ کوئی بھی آدمی ہو ، ہرزمانے میں اور ہرجگہ ، وہ کسی بھی طبقہ سے ہو یاکسی گروہ سے ہو ، بار گا ہ خدامیں انسانوں کے درمیان تفاوت اورفرق ان کے ایمان کے درجات اورعمل صالح کے مراتب کے تفاوت اورفرق کے مطابق ہوتا ہے اوراس کے سوا ور کوئی دوسری چیز نہیں ہے ۔ یہں ک کہ علم ودانش اور بزرگ افراد کی طرف نسبت ، یہان تک کہ پیغمبروں کے ساتھ (نسبت بھی ) اگران دونوں معیاروں سے توام نہ ہو ، توصرف یہ اکیلی نسبت انسان کی قدرو قیمت میں ذراسا بھی اضافہ نہیں کرتی ۔ یہ وہ مقام ہے کہ جاں قرآ ن نے اپنی بے نظیر صراحت کے ذریعہ پروردگار کے قرب کے عوامل کے سلسلہ میں ، اورانسان کی وجودی قدرو قیمت کے بارے میں تمام بے معنی اور لغوخیالات پرقلم بطلان کھینچ دیاہے ، اوراصل معیار کادو چیزوں میں خلاصہ کردیاہے کہ جن کے حاصل کرنے پر تمام انسان قدرت رکھتے ہیں، اور مادی امکا نات ووسائل اور محرومیتیں اس میں مئوثر نہیں ہیں ۔ ہاں ! اگر مال و اولاد بھی یہی راستہ اختیار کرلیں تووہ بھی خدائی رنگ میں رنگے جائیں گے ، اورایمان اورعملِ صالح کارنگ قبول کرلین گے اور قربِ خدا کا سبب بن جائیں گے ، لیکن وہ مال اور اولاد کہ جو انسان کوخدا سے دور کردیں ،اور ایک بُت کی طرح پوجے جانے لگیں اورفسا د برپا کرنے کاسبب بن جائیں تووہ جہنم کاایندھن ہیں ،اورقرآن کے کہنے کے مطابق انسان کی جان اوراس کی سعادت ونیک بختی کے لیے دشمن ہیں . ( یاایھا الذین اٰمنو اا ن من از واجکم واو لادکم عدوً الکم فاحذروھم ) ” اے ایمان والوں ! تمہاری بعض بیویاں اور کچھ اولاد تمہاری دشمن ہے ان سے ڈرتے رہو “ (تغابن . ۱۴) ۔ ضمنی طور پر جیساکہ پہلے بھی ہم نے اشارہ کیا ے . ”ضعف “ صرف ” رکنے “ کے معنی میں نہیں ہے ، بلکہ ” چند برابر “ (کئی گنا ) کے معنی میں بھی آیاہے ، اورزیر ِ بحث آیت میں اسی معنی میں ہے ، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہرنیک کام کی پاداش اور اجر ، خدا کے ہاں کم از کم دس گناہے : (من جاء با لحسنة فلہ عشرامثا لھا ) . (انعام . ۱۶۰ ) اور کبھی اس سے بھی کئی گنا زیادہ بڑھ جاتاہے ۔ ”غرفات “ جمع ہے ” غر فہ “ کی کہ جو اُن کمروں کے معنی میں ہے کہ جو اوپر والے طبقہ میں ہوں ، کہ جن میں روشنی بھی زیادہ آتی ہے اور ہَوَا بھی بہتر ہوتی ہے اور آفات سے بھی بچے ہوئے ہوئے ہوتے ہیں ، اس بناء پر یہ تعبیرجنت کے اعلیٰ منازل کے لیے استعمال ہوئی ہے ۔ یہ لفظ اصل میں مادہ ” غر ف “ (بروزن برف ) کسی چیز کواو پر لے جانے اوراٹھا نے کے معنی میں ہے ۔ ” اٰمنوں “ (وہ لوگ جوامن وامان میں زندگی بسرکرتے ہیں ) کہ تعبیر ، اہل بہشت کے بارے میں بہت ہی جامع تعبیر ہے ، کہ جو ان کی روح اور جسم کے آرام وسکون کو ہر لحاظ سے ظاہر کرتی ہے ، کیونکہ وہاں انہیں نہ توفنا و زوال کا اور موت کا خوف ہوگا ، اور نہ ہی دشمن کے حملہ کاخطرہ ،نہ کوئی بیماری اور آفت اورغم و اندوہ ، یہاں تک کہ انہیں خوف کا بھی کوئی خو ف نہیں ہوگا ، اوراس سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہوگی کہ انسان ہرلحاظ سے امن وامان میں زندگی بسرکرے جیسا کہ زندگی کے مختلف پہلوؤں میں بد امنی سے بد تر کوئی بلا اور مصیبت نہیں ہے ۔ او ر بعد والی آیت میں ان کے مدِّ مقابل گروہ کی توصیف کرتے ہوئے کہتاہے : باقی رہے وہ لوگ کہ جو ہماری آیات کے انکار وابطال کے لیے سعی وکوشش کرتے ہیں ، نہ تووہ خود ایمان رکھتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کوحق کی راہ میں قدم رکھنے کی اجازت دیتے ہیں ، اس حال میں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہماری قدرت کے چنگل سے نکل کربھاگ جائیں گے ، وہ توقیامت کے دن درد ناک عذابمین مبتلا ہوں گے “ (وَ الَّذینَ یَسْعَوْنَ فی آیاتِنا مُعاجِزینَ اٴُولئِکَ فِی الْعَذابِ مُحْضَرُونَ) ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے مال و اولاد اور افرادی قوت سے استفادہ کرتے ہوئے انبیاء کی تکذیب کرتے ہیں ،اور مخلوقِ خداکو وسوسے میں ڈالنے میں مشغول رہتے ہیں ،اور وہ اس قدر مغرور ہوگئے تھے کہ وہ یہ گمان کرنے لگ گئے تھے کہ وہ عذابِ الہٰی کے چنگل سے نکل کر بھاگ جائیں گے لیکن وہ سب کے سب خدا کے حکم سے جلانے والی آگ کے اندرجھونک دیئے جائیں گے ۔ ” اٴُولئِکَ فِی الْعَذابِ مُحْضَرُون“ کے جملہ میں کیونکہ آئندہ زمانہ کے بارے میں کوئی بات نہیں ہے ، لہٰذا ممکن ہے کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ اب اس وقت بھی عذاب میں گرفتار ہیں . اس زندان سے بڑھ کر اور کونسا عذاب ہوگا کہ جو انہوں نے مال و اولاد کے ذریعہ اپنے لیے بنالیا ہے ۔ یہ احتمال بھی اس میں موجود ہے کہ او پر والی تعبیر اس بناء پر ہو کہ خداکا یہ وعدہ ایسا مسلم اور یقینی ہے کہ گویا وہ اسی وقت اس میں قرار پاگئے ہیں جیساکہ جملہٴ ” فھم فی الغرفات اٰمنون “ میں بیان ہوا ہے ۔ ” معاجزین “ کی تعبیر . جیساکہ بعض اربابِ لغت نے کہا ہے .. . اس معنی میں ہے کہ وہ اس طرح خیال کرتے ہیں کہ وہ خدا کی قدرت اوراس کے عذاب سے نکل کر فرار کرسکتے ہیں ، حالانکہ یہ خیال باطل اور بے بنیاد ہے (۴) ۔ ۱۔ ” لسان العرب “ جلد۹ ،ص ۱۷۔ ۲۔ ” زلفی “ اور ”ز لفة “ مقام ومنزلت اورمنزل گاہ کے معنی میں آیاہے (مفرداتِ راغب ) اسی بناء پر رات کی منازل کوزلف اللیل کہتے ہیں ” التی “ کی تعبیر اس بناء پر ہے ، کیونکہ بہت سے موارد میں مفرد مئونث کی ضمیر جمع مسکر کی طرف لوٹتی ہے ، اس بناء پر یہاں تقدیر کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۳۔ جزاء الضعف کی تعبیر موصوف کی صفت کی طرف اضافت کی قبیل سے ہے ۔ ۴۔ ” لسان العرب “ اور ” مفرداتِ راغب “ نے ” معاجزین “ کی ( ظانین انھم یعجزون اللہ ) ” گمان کرتے ہین کہ وہ خدا کوعاجز کردین گے “ کے ساتھ تفسیر کی ہے ، اورحقیقت میں یہ ” یخادعون اللہ ورسولہ “ کی تعبیر کے مشا بہ ہے کہ جو سورہ بقرہ کی آیہ ۹ میں آئی ہے ،کیونکہ باب مفاعلہ کبھی کبھی اس معنی میں آتاہے ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 34:36
[Pooya/Ali Commentary 34:36] Man is assured that he need not yield to anyone other than Allah out of anxiety for his sustenance because it is Allah alone who provides each of His creatures with all their needs.