وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ
We had placed between them and the towns which We had blessed hamlets prominent [from the main route], and We had ordained the course through them: ‘Travel through them in safety, night and day.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 34:18
[Pooya/Ali Commentary 34:18] (see commentary for verse 17)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:18-19
۳۔ ایک مختصر سے واقعہ میں عبرت کے اھم نکات
” سلیمان علیہ السلام “ کی سرگزشت بیان کرنے کے بعد ،قرآن مجید میں قومِ سبا کی داستان کابیان کرنا ایک خاص مفہوم رکھتا ہے ۔ ۱۔ داؤد علیہ السلام سلیمان علیہ السلام بہت ہی عظیم پیغمبرتھے کہ جنہوں نے ایک عظیم حکومت تشکیل دی تھی ،اوروہ ایک درخشاں تمدن کو وجود میں لائے تھے ، لیکن داؤد علیہ السلام و سلیمان علیہ السلام کی وفات کے ساتھ ہی یہ تمدن ختم ہو گی. قوم سبا نے بھی ایک عظیم تمدن قائم کیاتھا کہ جو سدِ ” مآرب “ کے ٹوٹ جانے سے برباد ہوگیا ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ . روایات کے مطابق . سلیمان علیہ السلام کے عصا کوتودیمک نے کھا یاتھا ،اور” مآرب “ کے عظیم بند میں صحرائی چوہوں نے سوارخ کیاتھا تاکہ یہ مغرور انسان سمجھ لے کہ مادی نعمتیں چاہے جتنی بھی عظیم کیوں نہ ہوں ، ایک ہَوَا کے جھونکے سے ختم ہوجاتی ہیں ، ایک کیڑا یاایک چھوٹا سا جانوار انہیں زیر وزبرکرسکتا ہے ، تاکہ باخبر لوگوں کے لیے عبرت ہو کہ و ہ اس کے ساتھ دل نہ لگا ئیں اور مومن اس کے اسیر اور قیدی نہ بنیں ، اور مغرور لوگ غرور کی مستی سے ہو ش میں آجائیں اور تکبّر اورظلم وستم کی راہ اختیار نہ کریں ۔ ۲۔ اس سے قطع نظر یہاں پر باشکوہ تمدن کے دوچہرے نظر آتے ہیں کہ جن میں سے ایک رحمانی ہے اور دوسرا شیطانی ، لیکن نہ وہ باقی رہا اور نہ یہ ، اور نہ دونوں کے دونوں ہی فنا کی گود میں چلے گئے ۔ ۳۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے ، کہ قوم ِ سبا کے مغرور لوگ وعامتہ الناس کواپنے قریب نہیں دیکھ سکتے تھے ، اور وہ یہ خیال کرتے تھے کہ بڑے بڑے لوگوں اقلیت اور کم آمدنی والے لوگوں کی اکثریت کے درمیان کوئی بہت بڑا بند اور ایک عظیم سرحد ونی چاہیئے تاکہ وہ ہرگز آپس میں نہ ملیں جُلیں ،لہذا انہوں نے خدا سے آۻبادیوں کے دور دور واقع ہونے ،اور سفروں کے لمبااور دور دراز ہونے کا تقاضاکیا . خدانے بھی ان کی دعاقبول کرلی ، اور وہ اس طرح سے بکھر ے اور پراگندہ ہوئے کہ اُن میں سے ہر ایک گروہ کسی ایک طرف چلاگیا ، اور وہ ایک دوسرے سے اس طرح سے دور ہوئے کہ اگروہ ایک دوسرے کو دیکھنا اور ملاقات کرنا چاہتے بھی تواُس کے لیے طو یل عمر تک سفردر کار ہوتا ۔ ۴۔ جس وقت کوئی شخص سیل عرم کے آنے سے پہلے اوراس کے آنے کے بعد کی اس سرزمین کی وضع وکیفیت پرنظر کرتا ، تووہ اس بات کایقین نہیںکرسکتا تھا کہ یہ وہی سرزمین ہے ، کہ جو ایک دن سرسبز و شاداب اور میواہ دار درختوں سے پُر تھے ، کہ جو آج ایک وحشتناک بیا بان کی شکل میں . کہ جس میں کہیں کہیں جھاؤ کے درخت ، پیلو اور بیریاں ،ایسے مسافروں کی طرح کہ جو راستہ بھول گئے ہوں اور ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہوں . نظر آتا ہے ۔ یہ منظر زبان حال سے کہتاہے کہ : انسان کے وجود کی سر زمین بھی اسی طرح ہے ، کہ اگراس کی تعمیری قوتوی کوکنٹرول کیاجائے ، اوراس کی صلا حیتو ں کاصحیح مصرف ہو ، تو علم و عمل اورفضائل اخلاقی کے سر سبز وشاداب باغات بار آور ہو ں گے ،لیکن اگر تقویٰ کا بندٹو ٹ جائے ،اور خوہشات ایک ویران کرنے والے سیلاب کی شکل میں انسانی زندگی کی سرزمین کوڈھانپ لیں ۔ تو بے قدر قیمت ویرانی کے سوا اورکچھ باقی نہ رہے گا ، اور کبھی بھی ایک ایساعامل جوظاہری طو ر پرچھوٹا ساہوتا ہے ،آہستہ آہستہ بنیاد کوکاٹناشروع کردیتاہے ، اور ہرچیز کودرہم برہم کردیتاہے ،لہٰذا ایسے چھوٹے چھوٹے عوامل تک سے ڈرتےررہنا چاہیئے ۔ ۵۔ آخری بات ، کہ جس کی طرف اشارہ کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں ، و ہ یہ ہے کہ یہ عجیب وغریب ماجراایک دفعہ پھراس حقیقت کوثابت کرتاہے کہ انسان کی موت اس کی زندگی کے اندر ہی چھپی ہوئی ہے ،اور وہی چیز کہ جو ایک دن اس کی حیات و آبادی کاباعث ہوتی ہے ،دوسرے دن ممکن ہے اس کی موت اور ویرانی کاعامل بن جائے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:18-19
ہم نے انہیں اسطرح منتشر کیاکہ وہ دوسروں کیلئے ضرب المثل بن گئے
ان آیات میں قرآن دوبارہ قوم ِ سبا کی داستان کی طرف لوٹتا ہے اوران کے بارے میں مزید تشریح وتفصیل بیان کر تا ہے ، اوران کی سز ا او ر عذاب کو بھی زیادہ شرح وبسط کے ساتھ پیش کرتا ہے ، اس طرح سے کہ یہ ہر سننے والے کے لیے ایک ایسا درس ہے جوبہت اہم ،سبق آموز اور تربیت کنندہ ہے ، فرماتاہے : ” ہم نے ان کی سر زمین کو اس حدتک آباد دکیاتھا کہ نہ صرف ہم نے شہروں کو غرق ِ نعمت کیا ہوا تھا بلکہ ان کے اوران کی اُن زمینوں کے درمیان کہ جنہیں ہم نے برکت دے رکھی تھی ، ظاہر ( ایک سے دوسرے کودکھائی دینے والے ) او رآشکار شہراور آبادیاں قرار دیاتھا ‘ ‘ (وَ جَعَلْنا بَیْنَہُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَی الَّتی بارَکْنا فیہا قُریً ظاہِرَةً ) ۔ درحقیقت ان کے اور ان کی مبارک سرزمین کے درمیان متصل اورزنجیر کی کڑیوں کی طرح آباد یاں تھیں ، اوران آبادیوں کے درمیان اتناکم فاصلہ تھاکہ وہ ہرایک میں سے دوسری کو دیکھتے تھے (اور یہ ہے ” قری ظاھرة “ ... واضح وآشکار آبادیوں کامعنی ) ۔ بعض مفسرین نے ”قری ظاھرہ “ کی دوسری طرح تفسیر کی ہے ، اور کہا ہے کہ یہ ان آبادیوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو ٹھیک راستہ کے درمیان واضح طو ر پر واقع تھیں او رمسافرین ان میں اچھی طرح توقف کرسکتے تھے ، یایہ کہ یہ آۻبادیاں بلند ی کے اوپر واقع تھیں ، اور ہرعبور کرنے والے کوصاف طور پر دکھائی دیتی تھیں ۔ باقی رہا یہ کہ مبارک زمینوں سے کو نسا علاقہ مراد ہے ، اکثر مفسرین نے اسے سرزمینِ شامات (شام ،فلسطین اور اُردن ) سے تفسیر کی ہے ، کیونکہ یہ تعبیر اسی سرزمین کے لےے سورہ اسراء کی پہلی آیت او ر سورہ انبیاء کی آیت ۸۱ میں آئی ہے ، لیکن بعض مفسرین نے احتمال دیاہے ، کہ اس سے مراد ، کیونکہ ”صنعاء “ یا ” مآرب “ کی آۻبادیاں ہیں کہ یہ دونوں ہی یمن کے علاقہ میں واقع ہیں ، اور یہ تفسیر بعید نہیں ہے ، کیونکہ ” یمن کا “ ... جو جزیرہ عرب کا جنوبی ترین نقط ہے . ” شامات “ سے فاصلہ .. . کہ جو شمالی ترین نقط میں واقع ہے اس قدرزیادہ ہے ، اور خشک او ر جلے ہوئے بیابانوں سے اٹا ہوا ہے ، کہ اس کے ساتھ آیت کی تفسیر بہت ہی بعید نظر آتی ہے ، اور تواریخ میں بھی نقل نہیں ہوا ہے بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ سرزمین ہائے مبارک سے مرا د ” مکّہ “ کی سرزمین ہے ،کہ وہ بھی بعید ہے ۔ یہ بات تو آبا دی کے لحاظ سے ہے ، لیکن چونکہ لوگوں کی آبادی کافی نہیں ہے ، بلکہ اہم اور بنیادی شرط امن وامان ہوتاہے ، لہٰذا مزید کہتا ہے : ” ہم نے ان آبادیوں کے درمیان مناسب اور تزدیک نزدیک فاصلے رکھے “ ( تاکہ وہ آسانی اورامن وامان کے ساتھ ایک دوسری میں آجاسکیں ) (وَ قَدَّرْنا فیہَا السَّیْر) ۔ اور ہم نے ان سے کہا : ”تم ان بستیوں کے درمیان راتوں میں اور دنوں مین پورے امن و امان کے ساتھ سفر کرو ، اورا ن آبادیوں میں چلو پھرو “ (سیرُوا فیہا لَیالِیَ وَ اٴَیَّاماً آمِنینَ ) ۔ اس طرح یہ آبادیاں مناسب اور جچا تُلا فاصلہ رکھتی تھیں ، اور وحوش اور بیابانی درندوں ، یا چوروں اور ڈاکوؤں کے حملہ کے لحاظ سے بھی انتہائی امن و امان میں ھیں ، اس طرح سے کہ لوگ زادِ راہ ، سفر خرچ اور سواری کے بغیر ہی . اس صورت میں کہ نہ تو اکٹھے قافلوں میں چلنے کی ضرورت تھی اور نہ ہی مسلح افراد ساتھ لینے کی کوئی احتیاج تھی . راستے کی بے امنی کی جہت سے ، یاپانی اورع غذاکی کمی کی وجہ سے کسی ڈر اورخوف کے بغیر اپنے سفر کو جاری رکھ سکتے تھے ۔ اس بارے میں کہ ” سیرو افیھا “ ... ” (ان آبادیوں میں چلو پھرو ) کاجملہ کس شخص کے ذریعہ انہیں پہنچا یاگیا ، دو احتما ل موجود ہیں ، ایک تویہ ہے کہ یہ انہیں ان کے پیغمبروں کے ذریعہ پہنچا یاگیا ، اور دوسرے یہ کہ اس آباد سرزمین اورامن وامان والی سٹرکوں کی زبان ِ حال یہی تھی ۔ ” لیا لی “ (راتوں ) کو ” ایام “ (دنوں ) پرمقدم رکھنا ، ممکن ہے کہ اس وجہ سے ہو ، کہ راتوں میں امن و امان کاہونا زیادہ اہم ہے ، راستے کے چوروں سے امنیت کے لحاظ سے بھی اور جنگل کے وحشی درندوں کے لحاظ سے بھی ، ورنہ دن کے امن وامان کوقائم رکھنا زیادہ آسان ہے ۔ لیکن یہ ناشکر ے لوگ ، خداکی ان عظیم نعمتوں کے مقابلہ میں کہ جنہوں نے ان کی زندگی کومکمل طو ر پرگھیر رکھاتھا ، بہت سی دوسری متنعم قوموں کی طرح ، غرور غفلت میں گرفتار ہوگئے ، نعمت کی مستی اور کم ظرفی نے انہیں اس بات پرا بھار ا ، کہ ناشکر ی کاراستہ اختیار کریں ، حق کے راستے سے منحرف ہوجائیں ، اور خدا کے احکام کی طرف سے بے پروا ہوجائیں ۔ ان کے مجنو نانہ تقاضوں میں سے ایک یہ تھا کہ انہوں نے خدا سے یہ مطالبہ کیا ان کے سفروں کے درمیان فاصلہ ڈال دے ، ” انہوں نے کیا : پرور دگار ا ! ہمارے سفروں کے درمیان فاصلہ ڈال د “ تاکہ بے سہارافقیر لوگ امر اء کے دوش بدوش سفرنہ سکیں ! ( فَقالُوا رَبَّنا باعِدْ بَیْنَ اٴَسْفارِنا ) ۔ ان کی مراد یہ تھی کہ ان آباد بستیوں کے درمیان فاصلہ ہوجائے ، اور کچھ خشک بیابان پیدا ہو جائیں . اس کی وجہ یہ تھی کہ اغنیاء اور ثروت مند لوگ اس بات کے لیے تیارنہیں تھے کہ تھوڑی آمدنی والے لوگ بھی انہی کی طرح سفر کریں ، اور جہاں چاہیں بغیر کسی زادِ راہ اورتوشہ وسواری کے چلے جائیں ، گویا سفران کے لیے ایک اعزاز و افتخار اوران کی قدرت وثروت کی نشانی تھا ، اور یہ امتیاز و برتری ہمیشہ انہی کے لیے مخصوص رہنی چاہیئے ۔ اور یایہ بات تھی کہ راحت و آرام نے انہیں بے چین کررکھا تھا ، جیساکہ بنی اسرائیل ” من “ و ” سلوی “ ( دو آسمانی غذاؤں ) سے تنگ آگئے تھے ، اورخدا سے پیاز ،لہسن اور مسور کی دال کا تقاضا کرنے لگے تھے ۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیاہے کہ ” باعدبین اسفا رنا “ کاجملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے ، کہ وہ اس قدرآرام طلب ہوگئے تھے کہ وہ اب چرا گاہوں سے استفادہ کرنے ، یاتجارت وزراعت کے لیے سفر کرنے پر تیار نہیں تھے ، لہٰذا انہوں نے خداسے یہ مطالبہ اور تقاضاکیا کہ ہمیشہ وہ اپنے وطن میں ہی رہیں ، اورا ن کے سفروں میںزمانہ کے اعتبار سے بہت زیادہ فاصلہ ہوجائے ۔ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ بہتر نظرآتی ہے ۔ بہرحال ”انہوں نے اپنے اس عمل سے اپنے او پر ظلم کیا “ ( وَ ظَلَمُوا اٴَنْفُسَہُمْ) ۔ ہاں ! اگروہ سوچ رہے تھے ، کہ وہ دوسرو ں پر ظلم کررہے تھے تووہ غلطی پرتھے ، انہوں نے توایک ایسا خنجر اٹھایا ہوا تھا ہ جس سے وہ اپنے ہی سینہ کوزخمی کررہے تھے اوراس ساری آ گ کادھواں خود انہیں کی آنکھ میں گیا ۔ کس قدر عمدہ تعبیر ہے ، قرآن اس جملہ کے بعد ، کہ جوان کے درد ناک انجام کے بارے میں بیان کیاہے ، کہتا ہے : ” ہم نے انہیں ایسی سز ادی اوران کی زندگی کولپیٹ کررکھ دیا ، کہ : ” انہیں ہم نے دوسروں کے لیے داستان اور افسانہ بنادیا “ ( فَجَعَلْناہُمْ اٴَحادیثَ ) ۔ ہا ں ! ان کی تمام تر بارو نق زندگی اور درخشاں ووسیع تمدن میں سے زبانی قصوں ، دلوں کی یادوں اور تاریخوں کے صفحات پرچند سطروں کے سوا اور کچھ باقی نہ رہا : ” اور ہم نے انہیں بُری طرح سے حران و پریشان کردیا “ ( وَ مَزَّقْناہُمْ کُلَّ مُمَزَّق) ۔ ان کی سرزمین ایسی ویران ہوئی کہ اُن میںوہاں قیام کرنے کی طاقت نہ رہی . اور زندگی کوباقی رکھنے کے لیے وہ اس بات پر مجبور ہوگئے کہ ان میں سے ہر گروہ کسی طرف کارُخ کرے اور خزاں کے پتوں کی طر ح ، کہ جو تند وتیز ہَوَا ؤں کے اندر اِدھر اُدھر مارے مارے پھر تے ہیں ، ہرایک کسی گوشہ میں جاگرے ، اس طرح سے کہ ان کی پریشانی ضرب المثل بن گئی ، کہ جب کبھی لوگ یہ کہنا چاہیئے کہ فلاں جمعیت سخت پراگند ہ اور تتر بتر ہوگئی تووہ کہاکرتے تھے کہ : ” تفرقوا یادی سبا “ ! (وہ قوم ِ سبا اوران کی نعمتوں کی طرح پراگندہ ہوگئے ہیں ) (۱) ۔ بعض مفسرین کے قول کے مطابق قبیلہٴ ”غسان “ شام کی طرف گیا اور ” اسد “ عمان کی طرف ، ”خزاعہ “ تہامہ کی طرف ، اور قبیلہ ٴ ” انمار “یثرب کی طرف (۲) ۔ اور آیت کے آخر میں فرماتا ہے : ” یقینا اس سر گزشت میںصبر اور شکر کرنے والوں کے لےے عبرت کی آیات اور نشانیاں ہیں “ ( إِنَّ فی ذلِکَ لَآیاتٍ لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ) ۔ ” صابرین “ اور ” شاکرین “ ہی ان قصوں سے ، کیوں درسِ عبرت لے سکتے ہیں ؟ (خاص طور پر اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ صبا ر اور شکور دونوں ہی مبالغہ کے صیغے ہیں اور تکرار اور تاکید کو بیان کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے صبرو استقامت کی بناء پر ہوا و ہوس کی سرکش سواری کو لگا م دیتے ہیں اور گناہوں کے مقابلہ میں ڈٹے رہتے ہیں ، او ر ا پنی شکرگزرای کی وجہ سے خدا کی اطاعت کے راستہ میں آماد ہ اور بیدار ہوتے ہیں ، اور اسی بنا ء پراچھی طرح سے عبرت حاصل کرتے ہیں ، لیکن وہ لوگ کہ جو ہَوَا و ہوس کے مرکب پرسوار ہوتے ہیں اور خدا ئی مواہب اور نعمتوں سے بے اعتنا ء ہوتے ہیں ، وہ ان ماجروں سے کیسے عبرت حاصل کرسکتے ہیں ؟ ۱۔ یہ ضرب المثل دوصورتوں میں نقل ہوئی ہے : ” تفرقوا ایدی سبا “ و ” ایادی سبا “ پہلی صورت مین لشکر اوران کے افراد کی پراگند گی کی طرف اشارہ ہے ، اور دوسری صورت میں ان کے اموال و مکانات و موا ہب کی پراگندگی مراد ہے ، کیونکہ ایادی عام طو ر پر نعمتوں کے معنی میں استعمال ہوتاہے ۔ ۲۔ ”تفسیر قرطبی “ و ”تفسیر ابوا لفتو ج رازی “ زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:18-19
۱۔ قوم سباکا عجیب وغریب ماجرا
جس طرح قرآن اوراسلامی روایات اوراسی طرح تواریخ سے معلوم ہوتا ہے ، وہ ایک ایسی جمیعت اور قوم تھی کہ جو جزیرہ عرب کے جنوب میں رہتی تھی ، اورا یک اعلیٰ حکومت اور درخشاں تمدن کی مالک تھی ۔ یمن کاعلاقہ وسیع اورزرخیز تھا لیکن زرخیز علاقہ ہونے کے باوجود چونکہ وہاں کوئی اہم دریا نہیں ھا ،لہٰذا اس سے کوئی فائدہ نہیںٹھا یاجاتا تھا ،سیلاب اور بارشیں پہاڑوں پربرستی تھیں اوران کاپانی بیا بانوں میںبے کار اور بے فائدہ ضائع ہوجاتا تھا ، اس سرزمین کے سمجھد ار لوگ ان پانیوں سے استفادہ کرنے کی فکر میں لگ گئے اوراہم علاقوں میںبہت سے بند باندھے ، کہ جن میں سے زیادہ اہم اورسب سے زیادہ پانی کاذخیرہ رکھنے والابند ” مآرب “ تھا ۔ ” مآرب “ (بروزن مغرب ) ایک شہر تھا کہ جوان درّوں میں سے ایک کے آخرمیں واقع تھا، اور”صراة “ کے کو ہستانوں کے بڑے بڑے سیلاب اس کے قریب سے گزرتے تھے ،اس درّہ کے وہانہ پر اور ” بلق “ نامی دو پہاڑوں کے دامن میں انہوں نے ایک مضبوط بند باندھا تھا ،اوراس میں سے پانی کی کئی نہریں نکالی تھیں ، اس بند کے اندر پانی کااس قدر ذخیرہ جمع ہوگیا تھا کہ جس سے استفادہ کرتے ہوئے وہ اس بات پر قادر ہوئے تھے کہ اس نہر کے دونوں طرف . کوجو بند تک جاتی تھی . بہت ہی خوبصورت وزیبا باغا ت لگائیں ،اور پُر برکت کھیت تیار کریں ۔ جیساکہ ہم نے بیا ن کیا ہے کہ اس سرزمین کی آباد بستیاں ایک دوسری سے متصل تھیں اور درختوں کے وسیع سائے ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے ،اوراُن کی شاخوں پراتنے پھل لگ کرتے تھے کہ کہتے ہیں کہ جب کوئی آدمی اپنے سرپر ایک ٹوکری رکھ کران کے نیچے سے گزرتاتھا ،تو یکے بعددیگر ے اتنے پھل اس میں آگرگرتے تھے کہ تھوڑی ہی دیر میں وہ ٹوکری پُر ہوجاتی تھی۔ امن وامان کے ساتھ نعمت کے وفورنے پاک وصاف زندگی کے لےے بہت ہی عمداہ اور مرفہ ماحول پیدا کررکھا تھا ، ایک ایسا ماحول جوخدا کی اطاعت اور معنوی پہلوؤں کے ارتقاء وتکامل کے لیے مہیاتھا ۔ لیکن انہوں نے ان تمام نعمتوں کی قدر کو نہ پہچانا اورخدا کو بھول گئے اور کفرانِ نعمت میں مشغول ہوگئے ،اور فکر ومباہات کرنے لگے ،اورطبقاقی اختلافات پیدا کر دئےے ۔ بعض تاریخوں میں آیاہے کہ صحرائی چوہوں نے مغرور ومست لوگوں کی آنکھوں سے دُور ،مٹی کے اس بند کی دیوار کارُخ کیااوراسے اندر سے کھوکھلاکردیا ، اچانک ایسی شدید بارشیں برسیں ، اور ایسا عظیم سیلاب آیاکہ جس سے بند کی وہ دیواریں کہ جو سیلاب کے دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل نہ رہی تھیں ، دھڑام سے گر پڑیں اور بہت ہی زیادہ پانی کہ جو بند کہ اندر جمع ہو رہاتھا اچانک باہر نکل پڑا اور تمام آبادیوں ، باغات ،کھیتوں ،فصلوں اور چوپایوں کو تبا ہ کرکے رکھ دیا اور خوبصورت سجے سجائے قصور ومحلات اور مکانات کو ویران کردیا اوراس آباد سرزمین کوخشک اور بے آب و گیاہ صحرا میں بدل دیااوران تمام سرسبز وشاداب باغوں اور پھلدار درختوں میں سے صرف چند ”اراک “ کے کڑوے شجر ، کچھ جھاؤ اور کچھ بیری کے درخت باقی رہ گئے ،غزل خوانی کرنے والے پرندے وہاں سے کوچ کرگئے اور اُلوؤں اور کوّوں نے ان کی جگہ لے لیے (1) ۔ یاں ! جب خدا اپنی قدرت دکھانا چاہتا ہے تو چند چوہوں کے ذریعہ ایک عظیم تمدن کو برباد کردیتاہے ، تاکہ بندے اپنے ضعف اور کمزور ی سے آگاہ ہوجائیں ، اور قدرت اور اقتدا ر کے وقت مغرور نہ ہوں ۔ 1۔ ”تفسیرمجمع البیان “ وقصص قرآن اور دیگر تفاسیر ے اقتباس ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:18-19
۲۔ قرآن کاایک تاریخی معجزہ
قرآن مجید نے اوپر والی آیات میں قومِ سبا کی داستان بیا ن کی ہے ، اور مدتیں گزرچکی تھیں کہ دنیا جہان کے مئورخین اس قسم کی قوم اور اس طرح کے تمدن سے بے خبری کا اظہا رکرتے تھے ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مئورخین جدید انکشافات سے پہلے ملوک سبا کے سلسلہ اور ان کے عظیم تمدن کانام تک نہیں لیتے تھے اور ” سبا “ کوصرف ایک فرضی شخص سمجھتے تھے ، کہ جو حکومت ”حمیر “ کے بانی کاباپ تھا ، جبکہ قرآن میں ایک پوری سورت اسی قوم کے نام کی ہے ، اوران کے تمدن کے مظاہر میں سے ایک مظہر کی طرف جو مآرب کے تاریخی بند کی تعمیرہے ، اشارہ کررہی ہے لیکن یمن مین اس قوم کے تاریخی انکشافات کے بعد ماہر دانشمندوں کاعقیدہ دگر گوں ہوگیاہے ۔ اس بات کاسبب ، کہ اب تک قوم ”سبا “ کے تمدن کے آثار معلوم نہ ہوئے ، دو باتیں تھیں ، ایک تو راستہ کی سختیاں اور آب و ہَوَا کی شدید گرمی ، اور دوسرے اس علاقے کے لوگوں کی بیگانوں اور اجنبی لوگوں کے بارے میں بد گمانی ، جسے بے خبر اور ناآگا ہ یورپ والے کبھی کبھی وحشت سے تعبیر کرتے تھے ، یہاں تک کہ چند ماہرین آثارِ قدیمہ ، کہ جو سباکہ اسرار کھول لنے کی طرف شدید لگاؤ رکھتے تھے ، شہر ” مآرب “ کے قلب اوراس کے نواح میں وارد ہونے میں کا میاب ہوگئے ، اور پتھروں پر ثبت شدہ آثار خطوط اورنقوش کے نمونے اٹھا کرلے گئے ،اوراس کے بعد انیس یں صدی عیسوی میں کئی گروہ نے یکے بعد دیگر ے وہاں تک راہ انکالی لی ، اوروہاں سے گراں بہاآثار اپنے ساتھ یورپ لے گئے اوران نقوش وخطوط اور دوسرے آثار کے مجموعہ سے کہ کہ جو ایک ہزار نقوش تک پہنچے ہوئے تھے ، اس قوم کے تمد کی جزئیات بلکہ سدِ مآرب کی بنا ء کی تاریخی اوردوسرے خصوصیات تک معلوم کرلیے ، اور اہل مغرب پرثابت ہو گیا کہ قرآن نے اس سلسلے میں جو کچھ کہاتھا وہ کوئی افسانہ نہیں تھا ، بلکہ وہ ایک تاریخی واقعیت اورحقیقت ہے ، کہ جس سے وہ بے خبرتھے ، اس طور پر کہ اب توانہوں نے اس عظیم سد ، اور پانی کے گزرنے کے مقامات اور دائیں بائیں باغوں کی درمیانی نہروں اوراس کی دوسری خصوصیات کے بارے میں نقشے بھی تیار کرلیے ہیں (1) ۔ 1۔ فرہنگ قصص القرآن . مادہ ” سبا“ (ملخص ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:18-19
سوره سبأ / آیه 18 - 19
۱۸۔ وَ جَعَلْنا بَیْنَہُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَی الَّتی بارَکْنا فیہا قُریً ظاہِرَةً وَ قَدَّرْنا فیہَا السَّیْرَ سیرُوا فیہا لَیالِیَ وَ اٴَیَّاماً آمِنینَ ۱۹۔ فَقالُوا رَبَّنا باعِدْ بَیْنَ اٴَسْفارِنا وَ ظَلَمُوا اٴَنْفُسَہُمْ فَجَعَلْناہُمْ اٴَحادیثَ وَ مَزَّقْناہُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّ فی ذلِکَ لَآیاتٍ لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ ترجمہ ۱۸۔ اُن کے درمیان ان بستیوں کے درمیان کہ جنہیں ہم نے برکت دے رکھی تھی ، ہم نے کچھ ایسی اور آبادیاں بھی رکھی تھیں ، جن میں ایسے مناسب اور نزدیک نزدیک فاصلہ تھے ( کہ ایک سے دوسری دکھائی دیتی تھی ) (اور اُن کے درمیان چلنے پھر نے کو آسان بنا دیا تھا ، اور ہم نے ان سے کہاکہ ) تم مکمل امن و امان کے ساتھ راتوں میںبھی اور دونوں میں بھی ان آبادیوں کے درمیان سفر کرو ۔ ۱۹۔ لیکن (ان نہ شُکر ے لوگوں نے ) کہا ، پروردگار ا ! ہمارے سفر وں کے درمیان دُوری ڈال دے ، ( تاکہ غریب و نادار لوگ مالدار لوگوں کے دوش بدوش سفر نہ کرسکیں ! اور اس طرح سے ) انہوں نے اپنے او پر ظلم کیا ، اور ہم نے انہیں (دوسروں کے لےے ) قصہ اور افسانہ بنا دیا ، اور ہم ان کی جمعیت کومنتشر اور تتّر بتّر کردیا ، اس ماجرا میں ہرصابر اور شکر کرنے والے کے لےے عبرت کی کئی اور نشانیاں ہیں ۔