وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ وَمِنَ الْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ
And for Solomon [We subjected] the wind: its morning course was a month’s journey and its evening course was a month’s journey. We made a fount of [molten] copper flow for him, and [We placed at his service] some of the jinn who would work for him by the permission of his Lord, and if any of them swerved from Our command, We would make him taste the punishment of the Blaze.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 34:12
[Pooya/Ali Commentary 34:12] Refer to the commentary of Anbiya 81 and 82; and also Baqarah: 102, Nisa: 163, An-am: 85, and Naml: 15 to 44. For Sulayman's navy see I Kings 9: 26. For the control over time and distance Sulayman could command see Naml: 38, 39. Regarding the jinn being made to serve under Sulayman see Naml: 17. The jinn must naturally be uncontrollable, rebellious beings because the phrase be-idhni rabbihi indicates that some special control of Allah was needed to make them work submissively. The punishment mentioned to be waiting for the disobedient among them, implies that they were by nature liable to revolt and disobey the authority of man. The first being to disobey Allah in the matter of prostrating before Adam, while all the angels immediately did so, was neither an angel nor a human being, but a genie. It is said that Iblis was a genie, made of fire, and he opposed the very first man while the man was yet in his creation (Araf: 12). Inspite of such clear statements, the Ahmadi commentator interprets the word jinn as "the aliens" quoting 2 Chronicles 2 : 12 to 18-"Solomon took a census of all the aliens, resident in Israil." This interpretation is against the clear evidence of the Quran that jinn are other than human beings, and are made of fire. To console the materialists of the West, the Ahmadi commentator is consistently opposed to belief in any kind of supernatural powers having been granted to any prophet of Allah, and hence he interprets every miracle of the prophets in his own peculiar way. This is an outright denial of the special gifts bestowed by Allah on His prophets. Aqa Mahdi Puya says: In refutation of the materialistic view of life, verse 9 refers to the evidence afforded by the general and natural phenomena, while subsequent verses refer to the particular miracles given to the prophets.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:12-14
۳۔ قرآن اور موجودہ توات میں سلیمان (ع) کی تصویر
اس حال میں قرآن سلیمان علیہ السلام کو ایک عظیم پیغمبر کہتا ہے ، ایسا پیغمبر کو جوعلم سے سرشار ا ور بہت زیادہ تقویٰ شمار تھا ، ایسا پیغمبرکہ جو عظیم حکومت و سلطنت کا حکمران ہونے کے باجو د ہرگز مقام و مال کااسیرنہ ہَوا اوران لوگوں سے کہ اسے فریب دینے کے لیے بہت سے گراں بہاہدایالائے تھے یہ کہا کہ : ” اتما دونن بمافما اتانی اللہ خیر ممااتا کم “ کیاتم میر ی مال کے ذریعہ مدد کرنا چاہتے ہو ، جوکچھ خدانے مجھے دیاہے وہ اُس سے برتر ہے کہ جو تمہیں دیاہے ” نمل . ۳۶ ) ۔ ایسا پیغمبر کہ جس کی ساری آرزو ئیں او ر تمنائیں یہ تھیں کہ وہ پرودگار کی نعمتوں کاشکر اداکرسکے ، ”قالَ رَبِّ اٴَوْزِعْنی اٴَنْ اٴَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتی اٴَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلی والِدَیَّ “ اس نے کہا : پروردگار ا میری مدد کر اور توفیق عطا فرماکہ میں تیری ان نعمتوں کاشکر ادا کرسکوں کہ جو تُو نے مجھے پراور میرے ماں باپ پرکی ہیں “ ( نمل . ۱۹ ) ۔ ایسا رہبر کوجو یہ تک بھی اجازت نہ دتیا تھا کہ کوئی شخص جان بوجھ کر ایک چیونٹی پر بھی ظلم کرے ، اسی لےے وادیٴ نمل میں ایک چیونٹوں نے یہ صد ا بلند کی تھی کہ : ” یا اٴَیُّہَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَساکِنَکُمْ لا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمانُ وَ جُنُودُہُ وَ ہُمْ لا یَشْعُرُونَ“ اے چیونٹیوں ! اپنے بلوں میں گھس جاؤ ، کہیں سلیمان اوراس کالشکر تمہیں بے خبر ی میں روند نہ ڈالے “ نمل . ۱۸) ۔ وہ ایسا عبادت گزار تھا کہ اگر کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی دنیا میں مشغول ہو کر ذکر ِ خدا سے غافل ہوجاتا تو فوراً اس کی تلافی کرنے کے لیے تیار ہوجاتا اور کہتا کہ : ” انی اجبت حب الخیر عن ذکر ربی “ ” افسوس کہ اچھی چیزوں سے تعلق نے مجھے ایک لمحہ کے یے خدا کی یاد سے اپنی طرف مشغول رکھا “ ( ص . ۳۲) ۔ وہ ایساحکیم و دانا تھا جوقدرت رکھنے کے باوجود منطق ودلیل کے سوا بات نہیں کرتاتھا ، یہاں تک کہ ایک پرندے کے ساتھ بھی ... جیسا کہ ہُد ہُد کے ساتھ بات کرنے میں ... حق وعدالت کوہاتھ سے نہ دیتا تھا ۔ وہ ایسا حاکم تھا کہ جس کامعاون وزیر بھی ” علم کتاب “ سے اتنا سرشار تھا کہ وہ ایک ہی لمحہ میںبلقیس کے تخت کوحاضر کر سکتاتھا ۔ اور قرآن اس کی ” اوا ب “ ( خدا کی طرف سے زیادہ سے زیادہ باز گشت کرنے والا ) ... اور ” نعم العبد “ ( بہت ہی اچھا بند ) جیسے اوصاف کے ساتھ توصیف کرتاہے ۔ وہ شخص کہ خدانے ”حکومت “ اور ” علم “ جس کے اختیا ر میں دے دیاتھا اوراسے اپنی ہدایت کے ساتھ نواز اتھا ،اور جس نے اپنی ساری عمر میں ایک لمحہ کے لیے بھی خداکے ساتھ شرک نہ کیاتھا ۔ لیکن ان سب چیزوں کے باوجود ، آئے دیکھیں ! کہ موجودہ تحریف شدہ تورات اس بزرگ پیغمبرکے پاک دامن کوکس طرح شرک اور دوسری آلائشوں کے ساتھ آلودہ کررہی ہے ۔ تورات نے بتکدے بنا نے ، بُت پرستی کو رواج دینے ، عورتوں سے بے حساب عشق رکھنے اوران کے عشق وعاشقی کی بہت ہی بد نام کرنے والی داستانوں میں ملوث کرنے کے سلسلے میں بہت ہی بد ترین نسبتیں ان کے لیے بیان کی ہیں ، ان کونقل کرنے سے شرم آتی ہے ، ہم ایک حصّہ کوجو نسبتا ً ملائم اور نرم نظرآتاہے اس جگہ بیان کرنے پر قناعت کرتے ہیں ۔ کتاب اوّل ملوک و پاد شادہان میں اس طرح لکھا ہے : او ر سلیمان باد شاہ فرعون کی بیٹی کے علاوہ ” موآبیوں “ ” عمونیوں “ ،” ادومیوں “ ، ” صیدونیوں “ اور ” حتیوں “ میں سے بہت سی بیگانہ ،اجنبی اور غیر عورتوں سے محبت کیاکرتاتھا ، ( یہ عورتیں ) ان امتوں سے تعلق رکھتی تھیں کہ جن کے بارے میں خدا بنی اسرائیل کو یہ حکم دتھا کہ ان میں داخل نہ ہونا ( اور ان سے شادی بیا ہ نہ کرنا ) اور وہ تم میں داخل نہ ہوں ، کیونکہ وہ تمہارے دلوں کو اپنے خداؤں کی طرف مائل کردیں گی ، اور سلیمان ان سے عشق و محبت کرتے ہوئے چمٹ گیا ۔ اوراس کے لیے سات بیویاں ( عقددائمی والی ) اور تین سو متعہ والی ( موقت ) تھیں ، اور انہوں نے سلیمان کے دل کوپھیرلیاتھا ، اور سلیمان کے بڑھا پے کے وقت واقع ہوا ، کہ اس کی بیویوں نے ان کادل اپنے عجیب وغریب خداؤں کی طرف موڑ لیا ، اوراس کادل اس کے باپ دادٴو کی طرح اپےنے خدا کے ساتھ کامل نہ تھا ، اور سلیمان ” صیدونیوں “ کے خدا ” عشتروں اور عمونیوں “ کے مکروہ ” ملکوم “ ( عمونیوں کے بت ) کے پیچھے لگ گیا ، اورسلیمان نے خدا کی نگاہ میں بری کی اور اپنے باپ داؤد کی طرح مکمل طو رپرخداکی راہ پر نہ چلا۔ اس وقت سلیمان نے اس پہاڑ پر کہ جو ” یرو شلم “ کے سامنے تھا، عمون کی مکروہ اولاد ” کموش “ کے لیے خصوصیت کے ساتھ ایک بلند مقام بنایا ،پس خدا سلیمان پرغضبناک ہَوا ، کیونکہ اس نے اسرائیل کے خدا سے کہ جواس کو دومرتبہ دکھائی دیاتھا ، اپنا دل پھیر لیاتھا ... اورخدا نے سلیمان سے کہا کہ چونکہ تجھے سے یہ عمل صادر ہوگیاہے ، اور میر ے عہد اورا ن فرائض کی ،جن کے بجالانے کامیں نے تجھے حکم دیاتھا ، تُونے تعمیل نہیں کی ، اس لیے میں تیری سلطنت تجھ سے چھین کرتیرے غلام کو دے دو ں گا زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ میں تیری زندگی مین ایسانہ کروں گا ، تیرے باپ داؤد کے سبب سے ،اور تیرے بیٹے کے ہاتھ سے اُسے لوں گا ...البتہ اس کے ہاتھ (سلیمان ) سے تما م سلطنت نہیں لوں گا ،بلکہ اپنے بند ے داؤد کالحاظ کرتے ہوئے کہ جسے میں نے اس لیے برگزیدہ بنا یاتھا کہ اس نے میرے او ا مرو فرائض کی حفاظت کی تھی ، اس کواس کی ز ندگی کے تمام دنوں میں بادشاہ رہنے کادوں گا ( 1 ) ۔ تورات کی اس ساری جھوٹی داستان سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ : ۱ ۔ سلیمان علیہ السلام بُت پرست قبیلوں کی عورتوں سے بہت زیادہ لگاؤ رکھتے تھے ،اورخدا کے حکم کی مخالفت کرتے ہوئے ان میں سے بہت زیادہ تعداد میں ( عورتیں ) رکھی ہوئی تھیں ا،اور وہ آہستہ آہستہ انہی کے مذہب کی طرف مائل ہوگیاتھا ، اور باوجود اس کے کہ ” وہ ایسا شخص نہیں ھا کہ جس نے عورتوں کونہ دیکھا “ بلکہ ۷۰۰ عورتیں عقد دائم والی اور۳۰۰ عورتیں متعہ والی اس کے پاس تھیں ، عور توں کے ساتھ شدید لگاؤ نے انہیں راہِ خدا سے باہر نکال دیا تھا .( نعوذ باللہ ) ۔ ۲۔ سلیمان علیہ السلام نے کھلم کھلابت خانہ تعمیر کرنے کاحکم دیااور اس پہاڑ کے اوپر کہ جواسرائیل کے مقدس مرکز ” یروشلم “ کے سامنے واقع تھا ، ایک بت کدہ . قبیلہ ٴ ” موآبیان “ کے معروف بہت ” کموش “ کے لیے اور قبیلہ ” بنی عمون “ کے خاص بت ” مولک “ کے لیے ... تعمیر کرایا ، اور” صیدونیوں “ کے بت عشترون کے ساتھ بھی خاص لگا ؤ پیدا کرلیاتھا ، اور یہ سب باتیں بڑھا پے کی حالت میں واق ع ہوئیں ۔ ۳۔ خدانے اس انحراف اور بڑے گناہ کی وجہ سے اس کے لیے ایک سزا تجویز کی ، اور وہ سزا یہ تھی کہ اس کاملک اس سے چھین لے گا ، لیکن خود اس کے ہاتھ سے نہیں ، بلکہ اس کے بیٹے ” رحبعام “ کے ہاتھ ( چھینے گا ) اورخود اس کو مہلت دے گا ، وہ جتنا چاہے ، حکومت کرے ،اوریہ بات بھی خدا کے خاص بندے داؤد ... سلیمان کے باپ ... کی وجہ سے تھی ،خدا کاوہی خاص بندہ کہ جو تورات کی تصریح کے مطابق ( العیاذباللہ ) قتل ِ نفس اور زنا ئے محصنہ اور اپنے رشید اورخدمت گزار افسرکی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے کامرتکب ہواتھا، کیا کوئی بھی شخص اس قسم کی ناروا تہمتیں سلیمان جیسے آدمی کی مقدس ذات پر لگا سکتا ہے ۔ اگر ہم سلمان علیہ السلام کو ... جیساکہ قرآن کہتاہے ... پیغمبرسمجھیں ،تو پھر تو بات بالکل صاف اور واضح ہے ، اور اگرہم انہیں بنی اسرائیل کے بادشاہوں کے سلسلے میں سے جانیں ، تو پھر بھی اس قسم کی تہمتیں اور نسبتیں ان کے بارے میں صادق نہیں آسکتیں ۔ کیونکہ اگر ہم اس کو پیغمبرنہ بھی سمجھیں تو پھر بھی مسلمہ طو ر پر وہ پیغمبرکے بعد ان کاقائمقام نائب و جانشین تو تھا ، کیونکہ عہدِقدیم کی کتب میں سے دو کتابیں ، ایک ” مواعظ سلیمان “ یا ”حکمتہائے سلیمان “ اور دوسری ” سرودِ سلیمان “ کے نام سے ،اس بزرگ مردِ خدا کے اقوام و فرامین پرمشتمل ہیں ۔ واقعا یہودی اورعیسا ئی کہ جو موجودہ تورات پرایمان رکھتے ہیں ، ان سوالات کاکیا جواب رکھتے ہیں ؟ اوران رسوائیوں کوکیسے قبول کرتے ہیں ۔ 1۔ تورات کتاب اول ، ملوک و پاد شاہان ، فصل یازدہم جملہ ۱ تا ۳۴ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:12-14
۴۔ حقیقی شکر گزار بہت کم ہیں
اس سلسلے میں سب سے پہلے ” شکر “ کے لغوی بنیادی معنی کی طرف توجہ کرناضروری ہے ۔ ” راغب “ مفردات میں کہتا ہے ” شکر “ نعمت کاتصور کرنا اوراس کااظہار کرناہی ہے ، بعض نے یہ کہاہے کہ اصل میں ” کشو“ بمعنی ” کشف “ ( اور اسی کی وزن پر ) تھا، اس کے بعد مقلوب ہو کر شکر ہوگیا ، اوراس کے بعد شکرکوتین شعبوں میں قسیم کیاہے (۱): ” دل کاشکر “ یعنی نعمت کے بار ے میں غور فکر کرنا ( ۲): ” زبان سے شکر “ یعنی منعم کی حمد وثنا کرنا( ۳) : ” تمام اعضاٴ کے ساتھ شکر “ یعنی نعمت کے لیے قدردانی کرنا اوراس کاجواب دینا ۔ او پر والی آیات میں ” اعملوا الداؤد شکرا ً “ کے جملہ کے ساتھ قرآن کی تعبیراس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شکرکاتعلق زیادہ ترعمل “ کے ساتھ ہے اوراس کوانسان کے اعمال کے اندر دکھائی دینا چاہیئے . اور شاید اسی بنا ء پر قرآن نے واقعی اورحقیقی شکر گزاروں کی تعداد تھوڑی شمارکی ہے ۔ او پر والی آیات کے وعلاوہ سورہٴ ملک کی آیہ ۲۳ میں بڑی نعمتوں مثلا ً : کان آنکھ اوردل کی پیدا ئش کاذکر کرنے کے بعد مرزید کہتاہے کہ : ” قلیلا ً ماتشکرون “ ( تم اس کابہت کم شکرا دا کرتے ہو ) اور سورہ نمل کی آیہ ۳ ۷ مین یہ بیان ہوا ہے : ” ولکن اکثرھم لایشکرون “ ( ان میں سے اکثر شکر گزاری نہیں کرتے ) ایک طرف تویہ ہے ۔ اوردوسری طرف طرف اس نکتہ پرتوجہ کرتے ہوئے ... کہ خدا کی وہ نعمتیں کہ جنہوں نے انسان کے وجود کوسرسے پاؤں تک گھیر رکھاہے ، اس قدر زیادہ ہیں کہ جنہیں شمار ہی نہیں کیاجاسکتاہے ، جیساکہ قرآن کہتاہے : ” وان تعد و انعمة اللہ لاتحصوھا “ ( ابراہیم . ۳۴ ) یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ : تمام نعمتوں کے لیے شکر، اس کے واقعی مفہوم میں ، اس طور پر کہ تمام نعمتوں کوانہیں کا موں کے لیے کہ جن کے لیے وہ پیدا ہوئی ہیں ، بلا استثناء خداکی بندگی کی راہ میں استعمال کرے ... کیوں کم پایاجاتاہے ۔ دوسرے لفظوں میں ، اور بعض بزرگ مفسّرین کے قول کے مطابق ” شکر مطلق “ یہ ہے کہ انسان کسی قسم کی فراموشی کے بغیر ہمیشہ خدا کی یاد میں لگارہے ، اور کسی قسم کی معصیت اورنافرمانی کیے بغیر اسی کی راہ میں قدم اٹھائے اور ہر قسم کی روگردانی کے بغیر اس کے فرمان کی اطاعت کرے اور مسلمہ طو ر پر یہ اوصاف بہت کم لوگوں میںجمع ہوسکتے ہیں ،اور یہ جوبعض نے اصولی طو ر پر انہیں فحال خیال کیاہے ،بے نیاد ہے ، اوران مفاہیم اور عبود یت کے ان مراحل سے ان کی عدم آشنائی کی دلیل ہے ( 1) ۔ بعض اوقات یہ کہاجاتاہے کہ :پرودگار کے شکر کاحق ادا کرنا ایک لحاظ سے تو بہت ہی مشکل ہے کیونکہ جونہی انسان مقام ِ شکر میں داخل ہوتاہے اور یہ توفیق اسے نصیب ہوتی ہے .اور شکر گزاری کے وسائل اس کے اختیار میں قرار پاتے ہیں ،تویہ خود ایک نئی نعمت ہے ، کہ جوایک نئے شکر کی محتاج ہے ، اور یہ موضوع تسلسل کی صورت اختیار کرلے گا ، اور انسان جتنا زیادہ سے زیادہ اس کے شکر کے رستے میںسعی و کوشش کرے گا ، تو اور زیادہ نعمتوں کامشمو ل ہو تاچلاجائے گا کہ جن کاشکر ادا کرنے کی اس میں قدرت نہیں ہے ۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے ، کہ شکرالہٰی کاحق اداکرنے کے طریقوں میںسے ایک طریقہ اس کے شکر کوادا کرنے سے عجز کااظہار ہے ... حقیقتا اس راستہ میں قرار پاتے ہیں ۔ مندرجہ ذیل احادیث پرتوجہ کرنے سے اس بحث میںکافی روشنی پڑ سکتی ہے : ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے : ” کیاپرور دگار کے شکر کی کوئی حد ہے ، کہ اگر انسان اس حد تک پہنچ جائے تو وہ شاکرمحسوب ہوجائے گا “ ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اس نے وسوال کیا: کس طرح ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا : یحمد اللہ علی کل نعمة علیہ فی اھل ومال ،وان کان فیما انعم علیہ فی مالہ حق اداہ ۔ ” خدا کی تمام نعمتوں پر ، چاہے وہ گھر والوں سے متعلق ہوں یامال سے تعلق رکھتی ہوں ، حمد وثنا کرے ، اور اس مال میں کہ جواسے دیاگیاہے کوئی حق ہو تواسے ادا کرے ( 2) ۔ ایک اورحدیث میں انہی امام سے منقول ہے کہ : ” نعمت کاشکر گناہ سے پرہیز کرنا ہے “ (3) ۔ تیز ایک دوسری حدیث میں نہیں حضرت سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا : فیما اوحی اللہ عذ وجل الی موسی : یاموسٰی ! شکرنی حق شکری ، فقال یارب ! وکیف اشکرک حق شکر ک ولیس من شکر اشکرک بہ الاوانت انعمت بہ علی ؟ قال یاموسٰی ! الان شکرتنی حین علمت ان ذالک منی ! ” خدا وند تعالی نے موسی کووحی کی . اے موسٰی ! میرے شُکر کاحق اداکر ، موسٰی نے عرض کیا: میں تیرے شکر کاحق کیسے بجالاؤں جبکہ حال یہ ہے کہ میں جو شکر بھی تیراا داکرتاہوں ، اس کی وجہ سے تونے ایک اور نئی نعمت عطاکی ہے ، فرمایا: اے موسٰی ! اب تونے میراشکر ادا کردیاہے ، چونکہ تونے یہ جان لیا ہے کہ شکر ادا کرنے کی یہ توفیق بھی میری ہی طرف سے ہے “ ( 4) ۔ اس نکتہ پرتوجہ بھی ضروری ہے کہ اُن لوگوں کاشکر ادا کرنا اورقدردانی کرنابھی کہ جوانسان کے لیے کسی نعمت کاوسیلہ اور ذریعہ ہیں ، شکر ِخدا کے شعبوں میںسے ایک ہے ، جیساکہ امام سجا د علی بن الحسین علیہاالسلام فرماتے ہیں : ” جب قیامت کادن ہوگا توخدا اپنے بعض بندوں سے کہے گا ، کیاتونے فلاں شخص کاشکر یہ ادا کیاہے ، تو وہ عرض کرے گا ، میں تیراشکر بجالایاہوں ، خدا فرمائے گا ، چونکہ تُونے اس کاشکر یہ ادانہیں کیاہے ، لہذا تُو میر اشکر بھی بجانہیں لایا ، اس کے بعد آپ نے فرمایاکہ : ” اشکر کم اللہ اشکروکم اللناس “ ” تم میں سے خداکی بارگاہ میں زیادہ شکر گزاروہ ہے کہ جولوگوں کے احسانات اورزحمتوں کازیادہ شکر اور قدردانی کرتاہے “ ۔ ” شکر “ کی حقیقت کے بارے میں ، اور شکر کس طرح نعمت کی زیادتی اور کفرانِ نعمت کس طرح اس فناہونے کا سبب بنتاہے ، ہم نے دسویں جِلد سورہ ٴ ابراہیم کی آیہ ۷ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے ۔ 1۔ تفسیر المیز، جلد ۴ ،ص ۳۸ ۔ 2 ۔” اصول کافی “ جلد ” باب الشکر ” حدیث ۱۲ و حدیث ۱۰۔ 3۔ ” اصول کافی “ جلد۲ ” باب الشکر “ حدیث ۱۲ وحدیث ۱۰ ۔15 4۔ ”اصولی کافی “” باب الشکر “ حدیث ۲۷ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:12-14
سوره سبأ / آیه 12 - 14
. 12وَ لِسُلَیْمانَ الرِّیحَ غُدُوُّہا شَہْرٌ وَ رَواحُہا شَہْرٌ وَ اٴَسَلْنا لَہُ عَیْنَ الْقِطْرِ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِإِذْنِ رَبِّہِ وَ مَنْ یَزِغْ مِنْہُمْ عَنْ اٴَمْرِنا نُذِقْہُ مِنْ عَذابِ السَّعیرِ ۔ . 13 یَعْمَلُونَ لَہُ ما یَشاء ُ مِنْ مَحاریبَ وَ تَماثیلَ وَ جِفانٍ کَالْجَوابِ وَ قُدُورٍ راسِیاتٍ اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُکْراً وَ قَلیلٌ مِنْ عِبادِیَ الشَّکُورُ ۔ ۔ 14فَلَمَّا قَضَیْنا عَلَیْہِ الْمَوْتَ ما دَلَّہُمْ عَلی مَوْتِہِ إِلاَّ دَابَّةُ الْاٴَرْضِ تَاٴْکُلُ مِنْسَاٴَتَہُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اٴَنْ لَوْ کانُوا یَعْلَمُونَ الْغَیْبَ ما لَبِثُوا فِی الْعَذابِ الْمُہینِ ۔ ترجمہ ۱۲۔ اورہم نے سلیمان کے لیے ہَوَ ا کومسخر کردیاتھا وہ صبح کے وقت بھی ایک مہینہ کی راہ طے کیاکرتی اور شام کے وقت بھی ایک مہینے کی راہ طے کرتی تھی ، اور ہم نے ان کے لیے تانبے کاچشمہ جاری کردیاتھا ، اور خدا کے حکم سے جِنّوں کاایک گروہ ، ان کی خدمت میں کام سرانجام دیاکرتاتھا ،اوران میں سے جو کوئی ہمارے حکم سے رو گردانی کرتا تھا ، توہم اُسے جلا نے والی آگ کا مزہ چکھاتے تھے ۔ ۱۳۔ جو کچھ سلیمان چاہتے تھے وہ ان کے لیے بناتے رہتے تھے ، عبادت کانے ، تصویریں ( یامور تیاں ) کھانے ک لیے بڑے بڑے حوض جیسے برتن اور ایک ہی جگہ جمی ہوئی دیگیں ( جو بڑی بڑی ہونے کی وجہ سے نقل وحمل کے قابل نہ تھیں ، اورہم نے ان سے کہا ) : ” اے آل داؤد ( ان نعمتوں کا ) شُکر بجالاؤ ، لیکن میرے بندوں میں سے بہت کم لوگ شکر کرنے والے ہیں ۔ ۱۴۔ (سلیمان کی اس شان و شوکت اور جاہ و جلال کے باوجود ) جب ہم نے ان کے لیے موت کاحکم جاری کردیا ، توکسی نے بھی اس کے مرنے کی انہیں خبر نہ دی ، سوائےزمین پر چلنے والی ( دیمک ) کے کہ جو اُس کے عصاکو کھارہ تھی ، ( یہاں تک کہ وہ عصاٹوٹ گیا اور سلیمان کاجسم زمین پرآگرا ) جب وہ زمین پرگر ے تو اُس وقت جنّوں نے سمجھاکہ اگر وہ غیب جانتے ہو تے تو وہ اس ذلیل کرکرنے والے عذاب میں مبتلانہ رہتے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:12-14
سلیمان کاجاوہ جلال اوران کی عبرت انگیز موت
ان مواہب کی بحث کے بعد کہ جو خدانے داؤد علیہ السلام کو دئیے تھے ، ان کے بیٹھے سلیمان علیہ السلام کاذکر شروع کیاہے . داؤد علیہ السلام کے بارے میں تو دو نعمتوں کابیان کیاتھا ، لیکن ان کے بیٹے سلیمان علیہ السلام کے بارے میں تین عظیم نعمتوں کے متعلق بحث کرتاہے ،فرماتا ہے : ” ہم نے سلیمان کے لےے ہَوَ کومسخر کردیاتھا ، جو صبح کے وقت بھی ایک ماہ کی رہ طے کرتی تھی اور عصر کے وقت بھی ایک ماہ کی راہ چلتی تھی “ (وَ لِسُلَیْمانَ الرِّیحَ غُدُوُّہا شَہْرٌ وَ رَواحُہا شَہْرٌ ) (۱)۔ یہ بات قابل تو جہ ِ ہے کہ باپ کے لیے توسخت اورحد سے زیادہ محکم جسم یعنی لوہے کو مسخر کرتاہے اور بیٹے کے لیے بہت ہی لطیف موجود کومسخر کیاہے ،لیکن دونوں کا م اصلاح اور معجزہ نماہیں ، اور مفیدہیں ، سخت جسم کو توداؤد علیہ السلام کے لیے نرم کرتاہے ، اور ہَوَا کی لطیف نرم اموا ج کو سلیمان علیہ السلام کے لیے فعال اورمحکم ۔ہَوَ ا کی لطافت ہرگز اس مانع نہیں ہے کہ وہ اہم افعال کوا نجام دے ، یہ ہَوَا ئیں ہی تو ہوتی ہیں کہ جو بڑے بڑے بحری جہازوں کوسمندر وں کی سطح پر چلاتی ہیں اور چکّی کے بھاری اور سنگین پتھر وں کوچکر دیتی ہیں اور بڑے بڑے پیکروں کو آسمان کی بلندی پر ہو آئی ، جہازوں کی شکل میں چلاتی ہیں ۔ ہاں ! خدانے اس لطیف جسم کواس حیران کن قدرت و طاقت کے ساتھ حضرت سلیمان علیہ السلام کے اختیار میں دے دیاتھا ۔ یہ بات کہ ہَوَا سلیمان علیہ السلام کی دستگاہ( اس کے تخت یافرش کو ) کس طرح چلاتی تھی ، ہمارے لیے واضح نہیں ہے ، ہم توصرف اتنا ہی جاتنے ہیں کہ کوئی چیز خدا کی قدر ت کے مقابلہ میں مشکل او ر پیچیدہ نہیں ہے ،جہاں انسان اپنی چیزقدرت کے ساتھ غباروں (یعنی ان حفاظتی چیزوں کوکہ جن میں ہلکی گیسیں بھر دیاکر تے تھے اور وہ آسمان کی طرف پر وازکرجاتے تھے اوربعض اوقات کچھ آدمیوں کوبھی اپنے ساتھ لے جاتے تھے ) اورموجودہ زمانے میں دیو ہیکل بڑ ے بڑے ہوائی جہاز سینکڑوں ،مسافروں اور زیادہ سے زیادہ وسائل اورسازوسامان کے ساتھ آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرتے ہیں ،تو خدا کے لیے سلیمان علیہ السلام کی بساط کو ہَوَا کے ذریعہ چلانا کیسے مشکل ہو سکتاہے ؟ وہ کون سے عوامل تھے کہ جو سلیمان علیہ السلام اوران کی بساط و مسند کوگرنے ، ہَوَ ا کے دباؤ اور آسمانی حرکت سے پیدا ہونے والی دوسری مشکلات سے حفاظت کرتے تھے ؟ ! یہ بات بھی ایسے مسائل میں سے ہے کہ جن کی جزائیات ہمارے لیے واضح نہیں ہیں ، لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ انبیا ء کی تاریخ میں اس قسم کی خارق عادت چیزیں بہت تھیں ، اگر چہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ نادان لوگوں یا دانا دشمنوں نے ان میں خرافات کی آمیز ش کردی ہے ، جس کے باعث ان مسائل کااصلی چہرہ دگر گوں اور بد نما ہوگیاہے ، اورہم اسلسلہ میںصرف اتنی ہی مقدار پر کہ جتنا قرآن نے اشارہ کیاہے ، قناعت کرتے ہیں (۲) ۔ ”غدو “ (بروزن علو ) طرفِ صبح کے معنی میں ہے ” رواح “ کے مقابلے میں کہ جوغروب کی طرف کوکہتے ہیں ، کہ جس وقت جانور آرام کرنے کے لیے اپنی جگہ کی طرف لوٹتے ہیں ، لیکن قرائن سے معلوم ہوتاہے کہ ،زیربحث آیت میں” غدو “ دن کے پہےل آدھے حصّے کے معنی میں ہے ، اور ’ ’ رواح “ دن کے دوسرے آدھے حصّہ کے معنی میں ، اور آیہ کا مفہوم یہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام صبح سے ظہر تک اس راہوار مرکب پر اس زمانہ کے مسافروں کے ایک مہینہ کے سفر کی مقدار کے برابر سفر کرتے تھے اوردن کے دوسرے آدھے حصّہ میں بھی اسی مقدار میں راستہ چلتے تھے ۔ اس کے بعد سلیمان علیہ السلام کے لیے خدا کی دوسری نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتاہے کہ : ” اورہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تابنے کاچشمہ جاری کیا “ ( وَ اٴَسَلْنا لَہُ عَیْنَ الْقِطْرِ ) ۔ ” اسلنا “ ”سیلان “ کے مادہ سے جاری کرنے کے معنی میں ہے ، اور ” قطر “ تانبے کے معنی میں ہے ، اور مراد یہ ہے کہ ہم نے اس دھات کو اس کے لیے پگھلادیا تھا اور وہ پانی کے چشمہ کی طرح بہنے لگا ۔ بعض ” قطر“ کودھا توں کی مختلف اقسام کے معنی میں ، یاکانسی کے معنی میں سمجھتے ہیں تو اس طر ح باپ کے لیے تولو ہانرم ہَوا ، اور بیٹے کے لیے دھاتیں پگھلادی گئیں ، ( لیکن مشہور وہی پہلامعنی ہی ہے ) ۔ پگھلے ہوئے تانیہ کا چشمہ یادوسری دھاتوں کو سلیمان علیہ السلام کے اختیار میں کس طرح دیاگیا ؟ کیاخدا نے اعجاز و الہا م کے ذریعہ اس پیغمبرکوان دھاتوں کو پگھلانے کا طریقہ انتہائی وسیع اندوزوں کے ساتھ سکھایاتھا ؟ یااس بہنے والی دھات کاچشمہ ، انہیں چشموں کی مانند کو جو آتش فشاں پہاڑوں کے فعال ہونے کے موقع پران ک ے دامن سے نیچے کی طرف بہتے ہیں ، اعجاز آمیز طریقہ سے ان کے اختیار میں قرار پایا ؟ یاکسی اور طریقہ سے ؟ یہ بات صحیح طو ر پر ہمارے لیے واضح نہیں ہے ، ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ اس عظیم پیغمبر کے بارے میں خدا کے الطاف میں سے ایک یہ تھا ۔ آخر میں سلیمان علیہ السلام کے لیے پروردگار کی تیسری موہبت جِنّون میں سے ایک بہت بڑے گروہ کے مسخر کیے جانے کو بیان کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے : ” اورخدا کے حکم سے جِنّوں کے گروہ اس کے سامنے اس کے لیے کام کیا کرتاتھا ” ( وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِإِذْنِ رَبِّہِ ) ۔ ” اور جب ان میں سے کوئی ہمارے حکم سے سرتابی کرتاتھا تو ہم اسے جلا نے والی آگ کے ساتھ سزا دیتے تھے “ ( وَ مَنْ یَزِغْ مِنْہُمْ عَنْ اٴَمْرِنا نُذِقْہُ مِنْ عَذابِ السَّعیرِ ) ۔ ” جن ّ “ جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے ، ایک ایسا وجود ہے کہ جو جسّ سے پوشیدہ اورعقل و قدرت کاحامل ہے ، اور جیساکہ قرآنی آیات سے معلوم ہوتاہے کہ وہ واجبات وافرائض ِ خدا وندی کا مکلف بھی ہے ۔ ” جنّوں “ کے بارے میں لوگوں نے بہت سے بیہودہ افسانے او ر داستانیں گھڑرکھی ہیں ، لیکن اگر ہم ان خرافات کوترک کردیں م توان کااصل وجود اور مخصوص صفات ، جو قرآن میں جنّوں کے لیے بیان ہوئی ہیں ، ایک ایسے مطلب کاحامل ہے جوعلم وعقل سے قطعا ً بعید نہیں ہے ، اورہم انشاء اللہ سورہ جِنّ کی تفسیر میں اس موجوع کومزید تشریح وتفصیل کے ساتھ بیان کریں گے ۔ بہرحال اوپر والی آیت کی تعبیر سے معلوم ہوتاہے کہ اس عظیم طاقت کی تسخیر بھی پرور دگار کے فرمان سے ہی تھی ، اورجس وقت وہ اپنے وظائف اورذمہ داریوں سے سرتابی کرتے تھے تو انہیں سزا دی جاتی تھی ۔ مفسرین کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ یہاں ” عذاب السعیر “ سے مراد قیامت کے دن کی سزا ہے ،جبکہ آیت کے ظاہرسے یہ معلوم ہوتاہے کہ یہ مخالفت کرنے والوں کے لیے دنیا میں سزا ہے ،سورہ ص کی آیات سے بھی یہ بات اچھی طرح ثابت ہے کہ خدا نے شیا طین کاایک گروہ سلیمان علیہ السلام کے قبضہ میں دے رکھاتھا ، جو ان کے لیے اہم قسم کے تعمیر اتی کام سرانجام دیاکرتے تھے ،اور جس وقت وہ خلاف ورزی کرتے تھے توانہیں زبحیر وں میںجکڑ دیاجاتاتھا ! ” و الشیاطین کل بنّاء وغوّاض واخرین مقرنین فی الاصفاد “ ( ص آیات . ۳۶ . ۳۷ ) یہ بات قابل ِ تو جہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے ملک او ر سلطنت ایسی ، ایک وسیع وعریض سلطنت اور ملک کے نظام کو چلانے کے لیے بہت ہی زیادہ عوامل کی ضرورت ہے لیکن سب سے زیادہ اہم وہی تین عوامل ہیں جن کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہوا ہے ۔ پہلا ایک مستقل اورحادی تیز رفتار نقل وحمل کاوسیلہ ہے کہ جس کے ذریعہ زرئیس حکومت و مملکت اپنے ملک کے تمام اطراف وجوانب سے آگاہ ہو سکے ۔ دوسرے خام مال ، جو لوگوں کی زندگی کے ضروری آلات و اسباب بنانے اورمختلف صنعتون کے لیے کام آسکے ۔ اورآخری ،کام کرنے کی فعال قوت ، کہ جو اس خام مال سے کافی مقدار میں فائدہ اٹھاسکے ، اور انہیں جسبِ ضرورت اپنے کام میں لاسکے ، اوراس لحاظ سے ملک کی مختلف ضرورتوں کو پورا کرسکے ۔ اورہم دیکھتے ہیں کہ خدانے یہ تینوں باتیں سلیمان علیہ السلام کے اختیار میں دے دی تھیں ، اوروہ بھی فاہِ رفاعہ ،عام آبادی اورامن و امان کے لیے ان سے احسن طریقے سے فائدہ اٹھاتے تھے ۔ یہ موضوع صرف سلیمان علیہ السلام کے زمانہ اوران کی حکومت کے ساتھ ہی مخصوص نہیںہے اور اس کی طرف توجہ کرنا ، آج بھی اورکل بھی ، یہاں بھی اور ہرجگہ ،تمام ملکوں کاصحیح طو ر پر انتظام چلانے کے لےے ضرور ی ہے ۔ بعد والی آیت میں جِنّوں کے اہم تولیدی کاموں کے ایک حصہ کی طرف . جووہ سلیمان علیہ السلام کے حکم سے انجام دیت تھے . اشارہ کرتے ہوئے کہتاہے : ” سلیمان جوکچھ بھی چاہتے تھے وہ ان کے لیے... عبادت خانوں ، تمثالوں ، حوض کے مانند بڑے بڑے کھانوں کے برتنوں ، اورزمین پرثابت (جمی ہوئی یاگڑی ہوئی ) دیگوں سے ... تیار کر کے دیتے تھے “ ( یَعْمَلُونَ لَہُ ما یَشاء ُ مِنْ مَحاریبَ وَ تَماثیلَ وَ جِفانٍ کَالْجَوابِ وَ قُدُورٍ راسِیاتٍ ) ۔ ان میں سے ایک حصہ تومعنوی اور عبادت کے مسائل سے مربوط تھا ، اورایک حصّہ انسانوں جسمانی ضرو ریات اوران کے عظیم لشکریوں اورکنوں کی جمعیت کے ساتھ تعلق رکھتاتھا ۔ ” محاریب “ جمع ہے ” محراب “ کی کہ جو لغت مین ” عبادت گا ہ “ یا ” محلات “ اور ” بڑی بڑی عمارتوں “ کے معنی میں ہے ، کہ جو عبادت کی خاطر بنائی جاتی ہیں ۔ بعض اوقات صدر مجلس یاصدر مسجد ومعبد کے حصّہ پر بھی اس کا اطلاق ہوتاہے ، وہ چیز جس سے آج محراب کہتے ہیں وہ امام جماعت کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے ، درحقیقت ایک نئی تعبیر اورایک نیامعنی ہے جو اصل ماد ہ سے حاصل کیاگیاہے ۔ بہرحال چونکہ یہ لفظ ’ ’ حرب “ کے مادہ سے ، جنگ کے معنی میں ہے، لہذا عبادت خانوکو ”محراب “ کانام دینے کاسبب یہ سمجھا ہے کہ یہ شیطان او ر ہوائے نفس کے ساتھ ” محاربہ “ یعنی جنگ کرنے کی جگہ ہے ( ۳) ۔ یا”حرب “ اُس لباس کے معنی میں ہے کہ جو میدان ِ جنگ میں دشمن کے بدن سے اتار ا جاتاہے ، چونکہ انسان کو چاہیئے کہ وہ عبادت خانوں میں دنیو ی افکار اور دل کی پر اگندگی کی پوشاک کو اپنے او پر سے اتا ر دے ( ۴) ۔ بہرحال سلیمان علیہ السلام کے یہ فعال اور چابک دست کارندے ،بڑ ے بڑ ے باشکوہ عبادت خانے ، کہ جو حکومت الہٰیہ اوراس کی مذہبی سلطنت کے لائق تھے ، اس کے لیے بناتے تھے تاکہ لوگ راحت و آرام کے ساتھ اپنے عبادت کے فرائض کوانجام دے سکیں ۔ ” ثماثیل “ جمع ہے ” تمثال “ کی جو بیل بوٹوں اور تصویر کے معنی میں آیاہے ، اور مجسمہ کے معنی میں بھی اس بارے میں مجسمے یانقوش ، کون سے موجودات کی صورتیں تھیں ، اورسلیمان علیہ السلام نے ان کی تیاری کاحکم کیوں دیاتھا ، مختلف تفسیر یں بیان کی گئی ہیں ۔ ممکن ہے کہ یہ زیب و زینت اورسجا وٹ کا پہلو رکھتے ہوں ، جیساکہ ہماری اہم قدیمی بلکہ جدید عمارتوں میں بھی نظر آتاہے ۔ یایہ ان عمارتوں کارعب اور دبدبہ بڑھانے کے لیے ہو ، کیونکہ کچھ حیوانات مثلا ً شیر کی تصویر بہت سے لوگوں کے افکار میں رعب و دبدبہ پیدا کرنے والی ہے ۔ کیاسلیمان علیہ السلام کی شریعت میں ذی روح موجودات کامجسمہ بنا ناجائز تھا ، جبکہ یہ اسلام میں ممنوع ہے ؟ یاجومجسمے وہ سلیماعلیہ السلام کے لیے بنانتے تھے ، غیر ذی روح کی جنس سے تھے ، مثلا ً درختوں ، پہاڑوں ، سورج ، چاند او ر ستا روں کی تصویر یں ۔ یااُن کے لیے صرف دیواروں پرنقش و نگار کیاکرتے تھے جیسا کہ قدیمی تاریخی آثار میں اکثر گُلکار یوں کی صورت می ں نظر آتی ہیں ، اور ہم یہ جانتے ہیں کہ نقش و نگار چاہے جیسے ہوں مجسمہ کی برخلاف ... حرام نہیں ہیں ۔ یہ سب احتمالات ہیں ، چونکہ اسلام میں مجسمہ سازی کوحرام قرار دیاجاتا ہے . ممکن ہے کہ بت پر ستی کے مسئلہ کے ساتھ شدید مبارزہ کرنے اوراس کی بیخ کنی کرخاطر ہو ، اور سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میںاس بات کی اتنی ضرورت نہ ہو ، اوریہ حکم ان کی شریعت نہ ہو ۔ لیکن ایک روایت میں جو امام صادق علیہ السلام سے ا س آیت کی تفسیر میں نقل ہوئی ہے یہ بیان کیاگیاہے ۔ ” و اللہ ماھی تما ثیل الرجل والنساء و لکنھا الشجر و شبھہ “ خدا کی قسم سلیما ن ( ع) کے حکم سے بنائی جانے ولی تمثال مردوں اور عوتوں کے مجسمے نہ تھے ، بلکہ درخت وغیرہ کی تصویر یں تھیں ( ۵) ۔ ” جفان “ جمع ” جفنہ “ ( بروزن وزنہ ) کھانا کھانے کے برتنوں کے معنی میں ہے ، اور جواب “ جمع ” جابیہ “ کی ، پانی کے حوض کے معنی میں ہے ، اوراس تعبیر سے یہ معلوم ہوتاہے کہ و ہ سلیما ن علیہ السلام کے لےے بہت بڑے بڑے برتن ، کہ جوحوض کی طرح ہوتے تھے ، تیارکیاکرتے تھے ، تاکہ ایک کثیر گروہ ان کے گرد بیٹھ کرکھانا کھا سکیں ، اور اگر ہم نے اس بات کوبھلا نہ دیا ہو تو تھوڑے ہی سے پہلے زمانہ کی بات ہے ایک ہی دستر خوان پربیٹھ کربڑے بڑے ( غذا کے ) مجموعوں سے اکٹھے مل کر کھایا کرتے تھے ، اورحقیقت میں ن کادستر خوان ، وہی بڑا برتن ہو اکرتا تھا ، اور موجودہ زمانہ کی طرح ہر ایک کے لیے علیٰحدہ علیٰحدہ مستقل طور پر برتنوں کارواج نہیں تھا ۔ ” قدور “ جمع ” قدر “ ( بروزن قشر ) اُس برتن کے معنی میں ہے کہ جس میں کھا ناپکایاجاتاہے ( دیگ ) اور ” راسیات “ جمع ” راسیہ “ کی ہے ،جو ایک ہی جگہ پر گڑی ہوئی یاثابت وجمی ہوئی کے معنی میں ہے اور یہاں وہ دیگیں مراد ہیں کہ جنہیں ان کے بڑ ے ہونے کی وجہ سے ان کی اپنی جگہ سے ہلایانہیں جاتاتھا ۔ آیت کے آخرمیں ان نعمتوں کاذکر کرنے کے بعد داؤد علیہ السلام کی اولاد سے خطاب کرتے ہو ئے فرماتا ہے : ” اے آل ِ داؤد ! شکر گزاری کرو “ ( اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُکْراً ) ۔ ” لیکن میرے بندوں میں سے بہت ہی تھوڑے لوگ شکر گزاری سے مراد صرف زبان کے ساتھ شکر ،شکر ، کہنا ہو تو پھر تو کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے ، کہ اس پرعمل کرنے والے کم ہوں ، بلکہ اس سے مراد ” عملی طور پر شکر “ اداکرنا ہے ،یعنی نعمتوں کوانہیں مقاصد میںاستعمال کرنا جن کے لیے وہ پیدا کی گئیں اورعطا کی گئیں ہیں، اور یہ بات مسلّم ہے ، کہ وہ لوگ کہ جو خدا کی نعمتوں کوعام طو ر پر اپنی جگہ پر استعمال کریں ، بہت ہی تھوڑی ہیں ۔ بعض بزرگ شکر کے لیے تین مراحل کے قائل ہوئے ہیں ۔ اوّل : دل کے ساتھ شکر کرنا یعنی نعمت کاتصور کرنا ، اور اس پرراضی ہونا اورخوشی کااظہار کرنا ۔ دوسرے : زبان کے ساتھ شکر کرنا یعنی نعمت دینے والے کی حمد وثنا بیان کرنا ۔ تیسرے : تمام اعضاء وجوارح کے ساتھ شکر کرنا ، اور وہ اعمال کو اس نعمت کے ساتھ ہم آہنگ بنانا ہے ۔ ” شکور “ مبالغہ کاصیغہ ہے اور بہت زیادہ شکر ادا کرنے کو ظاہر کرتاہے ، جو کہ دل ،زبان او ر اعضاٴ جوارح کے ساتھ متواتر ومسلسل شکر کو دہراتے رہنا ہے ۔ البتہ بعض اوقات یہ صفت خداکے لیے بھی لائی گئی ہے ، جیساکہ سورہ تغابن کی آیہ ۱۷ میں بیان ہوا ہے : ” وا للہ شکور حلیم ‘ ‘ خدا ی کی شکر گزاری سے مراد یہ ہے ، کہ بندے جتنا اس کی اطاعت کی راہ میں قدم اٹھا تے ہیں ، اتنا ہی وہ انہیں اپنے الطاف و انعامات سے ونواز تا ہے ، اوران کی قدر دانی کرتے ہوئے انہیں اپنے فضل وکرم سے اس سے کہیں زیادہ عطا فرماتاہے کہ جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔ بہرحال یہ تعبیر کہ میر ے بندوں میں سے کم لوگ شکر گزار ہیں، ممکن ہے کہ یہ اس گروہ کے مقام کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے ہو کہ جوایک نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں ، یامراد یہ ہو کہ تم بھی کوشش کرو اوران کے زمرہ میں داخل ہوجاؤ تاکہ شکر کرنے والوں کی جماعت میں اضافہ ہو ۔ آخر ی زیر بحث آیت ،اس حال میں کہ وہ سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بھی آخری گفتگو ہے ، خدا کے اس عظیم پیغمبرکی عجیب وغریب اور عبرت انگیز موت کے بارے میں گفتگو کررہی ہے ، اور اس حقیقت کوروشن کررہی ہے ، کہ اتنے باعظمت پیغمبر اوراتنی قدرت ، رعب اوردبد بہ رکھنے والے حکمران نے اپنی جان کس طرح آسانی کے ساتھ جان آفرین کے سپرد کردی ، یہا ں تک کہ بستر پر لیٹنے سے پہلے ہی موت کے چنگل نے ان کے گرینا ن کوپکڑ لیا ۔ فرماتاہے : ” جب ہم نے سلیمان کے لیے موت کاحکم نافذ کردیا تو کسی نے بھی لوگوں کوا س کی موت سے آگاہ نہ کیا مگر زمین پررینگنے والے نے کہ جس نے اس کے عصا کوکھا لیا یہاں تک کہ اس کاعصاٹوٹ گیا اور سلیمان کاپیکر نیچے گر پڑا “ ( فَلَمَّا قَضَیْنا عَلَیْہِ الْمَوْتَ ما دَلَّہُمْ عَلی مَوْتِہِ إِلاَّ دَابَّةُ الْاٴَرْضِ تَاٴْکُلُ مِنْسَاٴَتَہُ ) (۶) ۔ اوپر والی آیت کی تعبیر اوراسی طرح متعد د روایات سے معلوم ہوتاہے ، کہ جب سلیمان علیہ السلام کی موت کاوقت آن پہنچا تووہ ا س وقت کھڑے ہوئے تھے اور اپنے عصاپرتکیہ کیے ہوئے تھے کہ اچانک موت نے ان کو آپکڑا ، اوران کی روح بدن سے پر واز کر گئی ، وہ ایک مدت تک اسی حالت میں کھڑے رہے ، یہاں تک کہ دیمک نے کہ قرآن جسے ” دابّة الارض “ ( زمین پررینگنے والی چیز ) سے تعبیر کرتا ہے ، ان کے عصاکوکھا لیا ، جس سے ان کا اعتدال بر قرار نہ رہ سکا اورزمین پرگرپڑے تب لوگ ان کی موت سے آگا ہ ہوئے ۔ لہذا اس کے بعد مزید کہتاہے کہ : جب سلیمان علیہ السلام گرے تو اس وقت جنات سمجھے کہ اگر وہ غیب سے آگاہ ہوتے تو ذلیل کرنے والے عذاب میں گرفتار نہ رہتے “ ( فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اٴَنْ لَوْ کانُوا یَعْلَمُونَ الْغَیْبَ ما لَبِثُوا فِی الْعَذابِ الْمُہینِ) ۔ ” تبینت “ کاجملہ ” تبیین “ کے مادہ سے عام طور پر آشکار وواضح ہونے کے معنی میں (فعل لازم) ہے اور بعض اوقات کسی چیز کوجاننے اوراُس سے آگاہ ہونے کے معنی میں ( فعل متعدی کے طو ر پر ) بھی آتاہے ، اور یہاں دوسرے ہی معنی کے ساتھ مناسب ہے ، یعنی اس وقت تک گروہ جِن ّ سلیمان علیہ السلام کی موت سے آگاہ نہیں ھا ، اور انہوں نے اس سے یہ سمجھ لیاکہ وہ غیب کے اسرار سے آگاہ ہوتے تواس مدت میں ایسے سخت کاموں کی ز حمت و تکلیف میںباقی نہ رہتے ۔ مفسرین کی ایک جماعت نے اس جملہ کوپہلے معنی میں لیاہے اور نہوں نے کہاہے کہ آیت کامفہوم اس طرح ہے ، سلیمان علیہ السلام کے گرجانے کے بعد جِنّوں کی حالت ، انسان کے لیے واضح و آشکار ہو گئی کہ وہ غیب کے اسرار سے آگاہ نہیں ہیں ، اور کچھ لوگ بلا جوازان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں ( ۷) ۔ ” عذاب مھین “ کی تعبیر ممکن ہے کہ اُن سنگین وسخت کاموں کی طرف ا شارہ ہو کہ جو سلیمان علیہ السلام جر مانہ اورسزا کے عنوان جِنّوں کے ذمہ ڈالتے تھے ورنہ خدا کاپیغمبر کسی شخص کوبلاوجہ کسی سختی اورعذاب وہ بھی ” ذلیل و خوار کرنے والے عذاب “ میں ہرگز نہیں ڈالتا ۔ ۱۔ ” لسلیمان “ میں جار و مجر ور ایک مقدر فعل سے متعلق ہے ، یعنی ” سخرتا “ کہ جو گزشتہ آیات کے قرینہ سے سمجھاجاتاہے ، اورسورہ ص کی آیہ ۳۶ میںاس کی تصریح ہوئی ہے ، جہاں کہتا ہے ” فسخر نالہ الر یح “ بعض مفسرین کانظر یہ یہ ہے کہ کہ ” لسلیمان “ میں ” لام “ اختصاص کے لیے ہے جوا س طرف ا شارہ ہے کہ یہ معجزہ اس پیغمبر کے ساتھ مخصوص تھا ، اور اس کوئی دوسرا پیغمبر ان کے ساتھ اس امر میں شریک نہیں ھا ۔ ۲۔ اس سلسلے میںہم نے جلد ۱۳ ... (سورہ ابنیاء کی آیہ ۸۱ کے ذیل ) میں بھی بحث کی ہے ۔ ۳۔ مفردات راغب مادہ ” حرب “ ۔ ۴۔ مفردات راغب مادہ ” حرب “ ۔ ۵۔ وسائل الشیعہ جلد ۱۲ ، ابواب ،ایکتسب بہ حدیث ! ۔ ۶۔ ” منساٴ تہ “ مادہ نسا ء ( بروزن نسخ ) او ر نسییٴ ( بروزن نصیب ) سے، تاخیر کے معنی میں ہے اور چونکہ عصا سے چیزوں کو پیچھے کی طرف دھکیلتے ہیں ، اور دُورکرتے ہیں لہذا لفظ ” منساٴ تہ “ اس پر بولا گیاہے ( یعنی پیچھے دھکیلنے کاذریعہ ) بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہ لفظ اہل یمن کے الفاظ میںسے تھا او رچونکہ سلیمان اس علاقے پرحکومت رکھتے تھے ، لہذا قرآن نے ان کے بارے میں اسے استعمال کیاہے.( مفرداتِ راغب . تفسیر قرطبی اورروح البیان کی طرف رجوع کریں ) ۔ ۷۔ پہلی صورت میں آیت کی ترتیب اس طرح ہوتی . تبینت فعل جن فاعل ( یہاں معنی جمع کاہے ) اورا ن لوکانوا ... اس کے مفعول کی جگہ پرہے ، اور دوسری صورت میں بینت فعل اور ” امر الجن ‘ ‘ فاعل پھر مضاف حذف ہوگیاہے اور مضاف الیہ اس کاقایم مقام بنا ہے ، وان لوکانوا ... اس کابیان وضاحت ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:12-14
۱۔ سلیمان کی عبرت انگیز زندگی کامنظر
قرآن مجید ... موجودہ توارت کے برخلاف کہ جو سلیمان علیہ السلام کو ایک جبار ،بت خانہ سازاور عورتوں کی ہوس میں مبتلا بادشاہ کے طور پر متعارف کراتی ہے ( 1) سلیمان علیہ السلام کو خدا ایک عظیم پیغمبر شمار کرتاہے ، اوا نہیں قدرت اور بے نظیر حکومت کے نمونہ کے طور پر پیش کرتا ہے ، اور سلیمان علیہ السلام سے مربوط مباحث کے دوران بہت ہی عظیم درس انسانوں کودیتاہے ، کہ ان داستانوں کے ذکر کرنے کااصل مقصدوہی ہیں ۔ ہم نے او پر والی آیات میںپڑ ھاہے کہ خدانے اس بزرگ پیغمبرکوبہت ہی عظیم نعمتیں عطا فرمائی تھیں ۔ بہت ہی سر یع اورتیز رو سواری کہ جس کے ذریعے وہ مختصر سی مدت میں اپنے سارے ملک کی سیر کرسکتے تھے ۔ مختلف صنعتوں کے لیے فراواں معدنی مواد ۔ اس معدنی مواد کواستعمال کرنے کے لیے کافی فعال قوت ۔ انہوں نے ان وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے بڑے عبادت خانے بنائے اور لوگوں کو عبادت کی طرف ترغیب دی ، علاوہ ازیں حکومت کی فوجوں ، کا رکنوں اور کمزور لوگوں کے طبقات کی پذیرائی کے لیے وسیع وعریض پرو گرام منظم کیا، کہ جس کے برتنوں کے نمونہ سے ... کہ جو او پر والی آیات میں بیان ہوا ہے ... باقی چیزوں کااندازہ لگا یاجاسکتاہے ۔ ان تمام نعمتوں کے مقابلہ میں انہیں شکر گزاری کاحکم دیا، اس مطلب پرتاکید کرتے ہوئے کہ خدا کی نعمتوں کے شکر کاحق بہت ہی کم لوگ ادا کرسکتے ہیں ۔ اس کے بعد یہ واضح و روشن کیاکہ ایک شخص اس قدرت و عظمت کے باوجود موت کے مقابلہ میں کتنا کمزور اور ناتواں تھا ، کہ وہ ایک ہی لمحہ میں ناگہانی موت کے ذریعہ دنیا سے چل بسا ، اس طرح سے کہ اجل نے اسے بیٹھنے یابستر پر لیٹنے تک کی مہلت بھی نہ دی ، تاکہ مغرور سر کشی کرنے والے یہ گمان نہ کرلیں کہ اگروہ کسی مقام پر پہنچ جائیں اور قدر ت و قوت حاصل کرلیں تواقعی طو رپر وہ تو انا ہوگئے ہیں ، وہ جس کے سامنے جِنّ اورانسان ، شیطان و پر ی خدمت میں لگے ہوئے تھے ،اور زمین و آسمان جس کی جو لانگاہ تھے ، اورجس کی حشمت اور شان و شوکت میں جو بھی شک کرے اس کی عقل و فکر پر مرغ و ماہی قہقہ لگائیں ، ایک مختصر سے لمحہ میں سمندر کی موجوں پر ابھر نے والے بلبلے کی طرح محود نابود ہوگیا ۔ اور یہ بھی واضح وروشن کردے کہ ایک ناچیز عصا اُسے ایک مدت تک کس طر ح اٹھا ئے رہا اور ” جِنّ “ اُسے کھڑا ہو یابیٹھے ہوئے دیکھتے رہنے کی وجہ سے کیسے سرگرمی کے ساتھ اپنے کاموں میںمشغول رہے ؟ اور یہ بھی ( دکھا دے ) کہ دیمک نے انہیں کس طرح زمین پر گرایااوران کے ملک کے تمام رشتوں کوتوٹ کے رکھ دیا . ہاں ! ایک عصاہی اُس وسیع و عریض ملک کی فعال قوت کوبرو ئے کار لائے ہوئے تھا اور چھوٹی سی دیمک نے اس کوحرکت سے روک دیا ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ بعض رویات میں آیاہے کہ اس دن سلیمان علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک خوبصورت اور خوش پوش جوا ن قصر کے ایک کونہ سے باہر آیااوران کی طرف بڑھا ، سلیمان علیہ السلام نے تعجب کیا،کہا : توکون ہے ؟ اورکس کی اجازت سے یہاں آیاہے ؟ میں نے تو یہ حکم دیاہُوا تھا کہ آج کوئی شخص یہاں نہ آنے پائے ۔ اس نے جواب دیا: میں وہ ہوں کہ نہ با د شاہوں سے ڈرتا ہوں اور نہ کسی سے رشوت لیتاہوں سلیمان علیہ السلام نے بہت ہی تعجب کیا لیکن اُس نے مہلت نہ دی اورکہا میں موت کافرشتہ ہوں ، میں اس لیے آیاہو ں تاکہ میںآپ کی روح قبض کروں ! یہ کہتے ہی فور اً ان کی روح قبض کرلی ( 2) ۔ اس بات کاذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ بہت سے انبیا ء کی داستانوں کی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کی داستان میںبھی افسوسناک حدتک گھڑی ہوئی روایات شامل کردی گئی ہیں ، اوران کے ساتھ بہت سی خرافات منسوب کردی گئی ہیں ، کہ جنہوں نے اس عظیم پیغمبر کے چہر ے کوبدل دیاہے ، اوران خرافاتکازیادہ حصّہ موجودہ تورات سے لیاگیا ہے ، اور اگرہم صرف اسی پرقناعت کرلیں کہ جو قرآن نے کہا ہے ، تو پھر کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی ۔ 1۔ تورات کتاب اوّل ملوک و پاد شاہان ۔ 2۔ تفسیر باہان ، جلد ۳ ، ص ۳۴۵ علل الشراؤ مطابق نقل المیزان جلد ۶ ،ص ۳۹۱ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:12-14
2۔ سلیمان ( ع) کی موت ایک مدت تک کیوں پوشدہ رہی ؟
یہ بات کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت ان کے کارکنان حکومت پر کتنی مدت تک مخفی رہی ،صحیح طور پرواضح نہیں ہے ، ایک سال ؟ ایک ماہ ؟ یاچند روز ۔ مفسرین کااس سلسلہ میں ایک نظریہ نہیں ہے ۔ کیایہ اخفا اور کتمان ان کے اصحاب اور ارکان سلطنت کی جانب سے صورت پذیر ہوا تھا ؟ کیا انہوں نے جانتے بوجھتے اس غرض سے کہ کہیں امورِ سلطنت کارشتہ وقتی طور پر بکھر نہ جائے ، ان کی موت کو پوشیدہ رکھا ؟ یا یہ کہ اصحاب وارکان سلطنت بھی اس امر سے آگاہی نہیں رکھتے تھے ۔ یہ بات بہت ہی بعید نظر آتی ہے کہ ایک طولانی مدت تک ، یہاں تک کہ ایک دن سے زیادہ ہی سہی ، ان کے اطراقبان ، ( گرد وپیش رہنے والے اصحاب وارکان ِ سلطنت ) بھی آگاہ نہ ہوں ، کیونکہ یہ بات تومسلّم ہے ، کہ کچھ لوگ ان کاکھانا لے جانے پرمامورتھے اوران تک دوسری ضروریات پہنچاتے تھے ، تووہ تواس واقعہ سے ضرو ر آغاہ ہوجاتے ، اس بنا پر بعید نہیں ہے ... جیساکہ بعض مفسرین نے کہاہے کہ وہ اس امر سے آگاہ تھے ، لیکن اسے کچھ مصلحتوں کی بناپر مخفی رکھا، اسی لیے بعض روایات میں آیا ہے کہ اس مدت مین ” آصف بن برخیا“ ان کے وزیر ِ خاص ملک کے امور کی تدبیر کرتے اور نظم و نسق چلاتے رہے ۔ کیاسلیمان علیہ السلام کھڑے ہوئے عصاکے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے یا بیٹھے ہوئے اپنے ہاتھ عصا پررکھے ہوئے تھے ، اور سرکوہاتھوں پر ٹکا ئے ہوئے تھے اور اسی حالت میں ان کی روح قبض ہوگئی اوروہ ایک مدت تک اسی طرح رہے ؟ اس سلسلے میں مختلف احتمالات ہیں ، اگرچہ آخری احتمال زیادہ نزدیک نظر آتاہے ۔ اگر یہ دمد طولانی تھی تو کیاغذا کانہ کھانا اورپانی کانہ پینا دیکھنے والوں کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتا تھا ۔ چونکہ سلیمان علیہ السلام کے تمام کام عجیب وغریب تھے لہذاوہ شاید اس مسئلہ کوبھی عجیب و غریب شمار کرتے تھے ، یہں ک کہ ایک روایت میں یہ بیان کیاگیاہے کہ آہستہ آہستہ ایک گروہ کے درمیان یہ زمز مہ پیدا ہو ا کہ سلیمان علیہ السلام کی پرستش کرنا چاہیئے ، کیاایسا نہیں ہے کہ وہ ایک عرصہ سے ایک ہی جگہ پر ثابت وبرقرار ہے ؟ نہ تووہ سوتاہے ، نہ کھا ناکھاتا ہے اور نہ پانی پیتاہے ( 1) ۔ لیکن جس وقت عصاٹوٹا او رسلیمان علیہ السلام نیچے گرے ، تویہ تمام رشتے ایک دوسرے سے ٹوٹ گئے ، اوران کے خیالات نقش برآب ہوگئے ۔ لیکن بہرحال جوکچھ بھی تھا سلیمان علیہ السلام کی موت کے اظہار میں اس تاخیر نے بہت سی چیزوں کوفاش کردیا : ۱۔ سب پرواضح وروشن ہوگیاکہ اگر انسان قدرت و طاقت کی بلندی تک بھی پہنچ جائے تو پھر بھی حادثات کے مقابلہ میں ایک ضعیف و کمزور وجود ہے ، اورایک پرکاہ کی مانند ہے کہ جو طوفان کے راستہ میں ہر طرف اُڑ تارہتاہے ۔ امیرالمومنین علیہ السلام نہج البلاغہ کے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں : فلو ان احدً ایجدالی البقا ء سلما ً او ر لد فع الموت سبیلاً لکان ذالک سلیمان ابن داؤد (ع) الذی سخر لہ ملک الجن والانس مع النبوة وعظیم ولزلفة ۔ اگر کوئی شخص اس جہان میںعالمِ بقا کی طرف کوئی سیڑھی پاتا ، یااپنے آپ سے موت کودُور کرسکتا ،تو و ہ سلیمان علیہ السلام تھے ، کہ جن کے لیے نبّوت و مقام ِ بلند کے ساتھ ساتھ جِنّوں اورانسانوں پرحکومتب بھی فراہم تھی ( 2) ۔ ۲۔ سب لوگوں پر یہ حقیقت واضح و روشن ہوگی کہ جِنّوں کو غیب کاعلم نہیں ہے ، اور نادان و بے خبر انسان کہ جو ان کی پرستش کرتے تھے ، انتہائی خطا اورغلطی پرتھے ۔ ۳۔ تمام لوگوں کے سامنے یہ حقیقت کھل کرسامنے آگئی کہ کس طرح کس ملک کانظام او ر شیر ازہ ایک چھوٹے سے موضوع کے ساتھ وابستگی پیدا کرلے تواس کے وجود کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے اور اس کے گرِجانے سے گرِجاتا ہے ، اوران امور کے پیچھے پروردگار کی بے انتہائی قدرت جلوہ گر ہے ۔ 1۔ تفسیر برہان ، جلد ۳ ، ص ۳۴۵ ۔ 2۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۸۲ ۔