يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
O Prophet! Tell your wives and your daughters and the women of the faithful to draw closely over themselves their chadors [when going out]. That makes it likely for them to be recognized and not be troubled, and Allah is all-forgiving, all-merciful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:59
[Pooya/Ali Commentary 33:59] Refer to the commentary of Nur: 30 and 31 and 58. Every believing woman is commanded to cover herself with outer garments whenever she goes outside of her home.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 33:59-68
Self-sufficient with bodily notes.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:59-62
3- مسلمانوں کی طاقت ورپوزیشن
3- مسلمانوں کی طاقت ورپوزیشن: ان آیات کی سخت اور طاقت پر مبنی تنبیہات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ جب بنی قرنیطہ کا ماجرا ختم ہوگیا اور مسلمانوں کے اس داخلی دشمن کی بیخ کنی ہوگئی تو مدینہ مسلمانوں کی پوزیشن پورے طور پرمستحکم ہوگئی ۔ اب صرف ان منافقین کی طرف سے مخالفت ہوئی تھی جو بطور ناشناختہ مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے تھے ، یا پھر اوباش و آوارہ لوگ تھے یا پھرافواہیں پھیلانے والے ، لہذا اس موقع پر آنحضرت نے ان سے ملاقت کی زبان میں بات کی اور خبردار کیا کہ اگر وہ اپنے زہریلے پروپیگنڈے اور ناپاک سازشوں سے دست بردار ہوئے تو ایک ہی حملہ سے ان کا حساب چکا دیا جائے گا ، ٓچنانچہ اس فیصلہ کن اور سوچی سمجھی تنبیہ نے اپنا اثر دکھادیا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:59-62
5- خدا کی اٹل سنتیں
5- خدا کی اٹل سنتیں: ان آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ قرآن نے خدا کی تبدیل نہ ہونے والی سنتوں میں سے ایک سنت یہ بتائی ہے کہ سازشیں کرنے والوں کی بیخ کنی کے لیے ایک عمومی حملے کا حکم دیا ہے اور یہ چیز گذشتہ امتوں میں بھی تھی ۔ اس جیسی تعبیر قرآن مجید کے ایک اور مقام پر بھی آئی ہے۔ منجملہ ان کے اس سورہ احزاب کی آیت 38 میں زمانۂ جاہلیت کی ایک غلط رسم کو توڑنے کی اجازت صادر کی گئی ہے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے عقد جائز ہے ، پھرفرمایا گیا ہے : "پیغمبر کے لیے جرم اور گناہ نہیں ہے کہ وہ امرالٰہی کو نافذ کریں چاہے جو بھی ہو"۔ پھر مزید ارشاد ہوتاہے: "سنة الله فی الذين خلوا من قبل وكان امرالله قدرًا مقدورا"۔ یہ پروردگار کی سنت ہے جو گذشتہ اقوام اور انبیائے ماسلف میں بھی تھی اور خدا کا فرمان ثابت اوراٹل معیار پرقائم ہے۔ سورہ فاطر کی آیت 43 میں کفار اور مجرم اقوام کو ہلاکت کی تنبیہ کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے: "فهل ينظرون الأسنة الاولين فلن تجد لسنۃ الله تبديلًا ولن تجد لسنة الله تحویلًا"۔ "کیا وہ اسی نجس انجام کا انتظار کرتے ہیں ، کہ جس نے پہلی اقوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ، لیکن آپ کبھی سنت الٰہی میں تبدیلی نہیں پائیں گے اور نہ ہی سنت الٰہی کے لیے کوئی تغیرہے "۔ سورہ مومن کی آیت 85 کے مطابق گذشتہ اقوام میں سے ہٹ دهرم کفارنے جب تباہ کن عذاب کامشاہدہ کیا تو اس موقع پر ایمان کا اظہار کیا ، لیکن ایسا ایمان ان کے لیے مفید ثابت نہ ہوسکا۔ ارشاد ہوتا ہے: "سنة الله التي قد خلت فی عباده وخسرهنالك الكافرون"۔ یہ خدائی سنت ہے جو گذشتہ زمانے میں بھی اس کے بندوں میں جاری ہوچکی ہے اوروہاں کفار نقصان اور خسارے میں گرفتارہوئے"۔ نیز سوره فتح کی آیت 23 میں مومنین کی کامیابی - کفار کی شکست اور جنگوں میں ان کے لیے یارو مددگار نہ ہونے کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے : "سنة الله التي قد خلت من قبل ولن تجد لسنۃ الله تبدیلًا"۔ " یہ پروردگار کی سنت ہے جو گذشتہ زمانے میں بھی تھی اور خدا کی سنت ہرگز تبدیل نہیں ہوتی "۔ نیزسورہ بنی اسرائیل کی آیت 77 میں جہاں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جلاوطن کرنے یا ان کا کام تمام کرنے کی سازش کو بیان فرمایا گیا ہے، اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: "اگر وہ اپنے اس منصوبے کو عملی جامہ پہناتے تو وہ بھی آپ کے بعد زیادہ دیر باقی نہ رہتے"۔ "سنة من قد ارسلنا قبلك من رسلنا ولا تجد لسنئنا تحویلًا"۔ "یہ ان پیغمبروں کی سنت ہے ، جنھیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجاہے اور آپ ہماری سنت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھ پائیں گے"۔ ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسے مواقع پر "سنت" سے مراد خدا کے "تشریعی" یا " تکونی " ثابت اور اساسی قوانین ہیں ، جن کبھی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ دوسرے لفظوں میں عام تکون و تشریح میں خداوند عالم کے کچھ اصول و قوانین ہیں ، ان میں کسی وقت بھی تبدیلی رونما نہیں ہوتی اور یہ انسانوں کے ساختہ و پر واختہ قوانین کی طرح تبدیلی کا شکار نہیں ہوتے ۔ یہ قوانین اقوام گذشتہ پر بھی حکم فرما تھے اور آیندہ بھی نافذ رہیں گے۔ انبیاء کی مدد کرنا، کفارکو شکست دینا ، خدائی احکام پر ضروری عمل کرنا خواہ ماحول اسے ناپسند کرے ، عذاب الہی کے نازل ہونے کے وقت توبہ کا مفید نہ ہونا اور اس قسم کے دوسرے امور ان دائمی سنتوں کا حصہ ہیں۔ اس قسم کی تعبیریں ایک طرف توراہ حق کے تمام راہیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور انھیں سکون کی نعمت عطا کرتی ہیں اور دوسری طرف انبیاء کے اتحاد اور نظام پر حاکم قوانین کے یکساں ہونے کو واضح کرتی ہیں جو درحقیقت دلائل میں توحید سے ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:59-62
2- دونوں طریقوں سے بچاؤ
2- دونوں طریقوں سے بچاؤ: چونکہ اجتماعی برائیوں کا عام طور پر ایک سبب نہیں ہوتا ، بلکہ کئی اسباب ہوتے ہیں لہذا ان کی طرف سے مقابلہ ہونا چاہیئے۔ مذکورہ بالا آیات میں بدمعاش اور آوارہ لوگوں کی شرارتوں سے نمٹنے کے لیے صاحب ایمان عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایسا کوئی کام نہ کریں ، جس سے ان کے ہاتھ کوئی بہانہ آجائے اور دوسری طرف چھیڑچھاڑ کرنے والوں کو زبردست سرزنش اور تنبیہ کے ساتھ روکا گیا ہے اور یہ ایک دائمی اور عمومی طریقہ ہے کہ دوست کی اصلاح کرنا چاہئے اور دشمن کی طاقت کے ساتھ مقابل کرنا چاہیئے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:59-62
4- فساد کوجڑسے کاٹ دو
4- فساد کوجڑسے کاٹ دو: اسلام کے خلاف سازش کرنے والے منافقوں ، مسلمالنوں کی ناموس سے چھیڑخانی کرنے والوں اور افواہیں پھیلانے والوں کی فتنہ پروازیوں سے نمٹنے کے لیے مندرجہ بالا آیات نے جو طریقہ کار بتایا ہے ، آیا وہ تمام زمانوں میں اور تمام اسلامی حکومتوں کے لیے بھی اپنا ناجائز ہے؟ اس بارے میں بہت کم مفسرین نے بحث کی ہے ، لیکن یوں نظر آتا ہے یہ حکم باقی اسلامی احکام کی طرح کسی زمان و مکان اور اشخاص کے ساتھ اختصاص نہیں رکھتا۔ اگر واقعًا زہریلا پروپیگنڈہ اور سازش حد سے گزر جائے اور ایک تحریک کی صورت اختیار کرلے اور اسلامی معاشرے کو صحیح معنوں میں خطرات سے دو چار کردے تو کیا حرج ہے کہ اسلامی حکومت مندرجہ بالا آیات کے حکم کو نافذ کردے اور لوگوں کو فساد کی جڑیں کاٹنے کے لیے ایک جھنڈے تلے جمع کرلے۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ اور اس قسم کے دوسرے امور خاص کر جنہیں تبدیل نہ ہونے والی سنت کہا گیا ہے ؟ ان کا نفاذ انسان از خود نہیں کرسکتا بلکہ صرف اور صرف مسلمانوں کے ولی و سرپرست اور حاکم شریعت کی اجازت سے نافذ کیا جاسکتاہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:59-62
زبردست انتباه
تفسیر زبردست انتباه : خدا وند عالم نے گذشتہ آیات ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور مومنین کو ایذاء اور تکلیف پہنچانے کی ممانعت کے بعد یہاں پر اذیت کے ایک اور مورد کا ذکر کیا ہے اور اس سے نبٹنے کے دو طریقے بیان کیے ہیں ۔ سب سے پہلے صاحب ایمان عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ایسا کام نہ کریں جس سے بدطینت لوگوں کے ہاتھ کوئی بہانہ آسکے ۔ اس کے بعد منافقین ، چھیڑ خوانی کرنے والے اوباشوں اور افواہیں پھیلانے والے عناصر کو زبردست تنبیہ کی گئی ہے اور ایسی زبردست تنبیہ میں کی مثال قرانی آیات میں بہت کم ملے گی۔ پہلے حصہ میں فرمایا گیا ہے۔ "اے پیغمبر! اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہہ دیجیئے کہ اپنی چادریں اوپر اوڑھ لیا کریں تاکہ واقع ہوجائیں اور انہیں کوئی اذیت نہ پہنچاسکے"۔ (یا ایھا النبی قل لازواجک و بناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن ذالك ادنٰى ان يعرفن فلا یؤذین)۔ "یعرفين" (پہچانے جانے) سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین کے درمیان اس بارے میں دو نظریے پائے جاتے ہیں ۔ جو کی دوسرے سے متضاد بھی نہیں ہیں ۔ یہ کہ اس زمانے میں معمول تھا کہ کنیزیں سر اور گردن کو چھپائے بغیر گھرسے باہر نکلتی تھیں۔ اور چونکہ یہ کیفیت اخلاقی لحاظ سے اچھی نہیں تھی ، لہذا کبھی کبھی اوباش اور بے ہودہ قسم کے نوجوان ان سے چھیڑ خوانی کرتے تھے ، لہذا یہاں پر آزاد مسلمان عورتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اسلامی حجاب کی مکمل طور پر پابندی کریں تاکہ وہ کنیزوں سے جدا پہچانی جائیں اور بے ہودہ اور اوباش افراد کے لیے چھیڑ خوانی کا کوئی بیان بنیں۔ واضح رہے کہ اس گفتگو کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اوباش اور بدقماش لوگوں کو کنیزوں سے چھیڑے چھاڑ کا حق حاصل ہو گیا ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ بد فطرت لوگوں کے ہاتھوں میں کسی قسم بہانہ باقی رہنے نہ پائے۔ دوسرا مقصد یہ بھی تھا کہ مسلمان عورتیں پردے کے بارے میں سہل انگاری اور بے پروا ہی نہ برتیں ، جیسا بعض لاابالی قسم کی عورتیں پردہ کے ہوتے ہوئے بھی بے پردہ ہوتی ہیں اور ان کے جسم کے زیادہ تر حصے نمایاں ہوتے ہیں۔ جو بے ہودہ افراد کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ "جلباب" سے کیا مرادہے؟ مفسرین اور اربات لغت نے اس کے چند ایک معانی ذکر کیے ہیں . 1- "ملحقہ" (چادر) اور بڑا سا کپڑا جود وپٹے سے بڑا ہوتا ہے اور سر در گردن اور سینہ وغیرہ کو چھپا دیتا ہے۔ 2- مقنعہ اور خمار ( دوپٹہ اور اوڑھنی )۔ 3- لمبا اور ڈھیلا ڈھالا کرتہ۔ ؎1 اگرچہ معانی آپس میں مختلف ہیں ، لیکن ان سب کی قدر مشترک یہ ہے کے بدن کو ایسے کپڑے کے ذریعے چھپایا جائے۔ (توجہ رہے کہ "جلباب" جیم پر زبر اور زیر دونوں سے پڑھا جاتاہے) لیکن زیادہ بہتر یہ نظر آتا ہے کہ اس سے مراد پہننے کا وہ کپڑا ہے جو دوپٹے سے بڑا اور چادرے چھوٹا ہوتا ہے ، جیسا کہ "لسان العرب" کے مؤتف نے بیان کیا ہے ۔ اور "یدنین" (قریب کریں) سے مراد یہ ہے کہ عورتیں اوڑھنیوں کو اپنے بدن کے قریب کریں تاکہ وہ ٹھیک طرح سے نہیں چھپاسکے نہ یہ کہ اسے آزاد چھوڑ دیں کہ جو کبھی ہٹ جائے اور بدن نظر آنے لگے یعنی وہ اسے لپیٹے رکھیں۔ باقی رہی یہ بات کہ اس کے جملے سے بعض لوگ یہ استفادہ کرنا چاہتے ہیں کہ چہرے کو بھی چھپایا جائے ، تو اس مفہوم کی کوئی دلیل نہیں ملتی اور بہت کم مفسرین نے اس آیت کے مفہوم میں چہرے کے چھپانے کو داخل سمجھا ہے۔ ؎2 بہرحال اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ پردے کا حکم آزاد عورتوں کے لیے اس سے پہلے نازل ہوچکا تھا ، لیکن بعض عورتیں ساده لوحی کی وجہ سے اس کی پابندی نہیں کرتی تھیں۔ اسی لیے یہ آیت تاکید کررہی ہے کہ اس کی پابندی کرنے میں خوب توجہ سے کام لیں۔ چونکہ اس حکم کے نازل ہونے سے بعض صاحب ایمان عورتیں گذشتہ زمانے کی بابت فکر میں پڑگئیں، لہذا آیت کے آخر میں اضافہ کیا گیا ہے:" خدا ہمیشہ غفور و ریحم" ( وكان الله غفورًا رحيمًا)۔ اگر تم سے اب تک اس معاملے میں کوتائی ہوئی ہے تو چونکہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے تھی لہذا خدا تمھیں بخش دے گا۔ توبہ کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ اور عفت و پاک دامنی اور حجاب کے فریضے کو اچھی طرح انجام دو۔ صاحب ایمان عورتوں کو پردے کی پابندی کا حکم دینے کے بعد دوسرے مسئلے یعنی اوباش اور اراذل ازاد افراد تکلیف دہ کارروائیوں کو بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے۔ اگر منافقین اور بیمار دل لوگ نیز وہ افراد بھی جو مدینہ میں جھوٹی افواہیں پھیلاتے ہیں، اپنی کارستانیوں سے باز نہ آئے تو ہم بھی آپ کو ان کے خلاف اٹھائیں گے اور آپ کو ان پر مسلط کردیں گے ، پھر وہ ایک مختصرسی مدت کے علاوہ اس شہرمیں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکیں گے"۔ (لئن لم ینته المنافقون والذين فی قلوبهم مرض والمرجفون فی المدينة لنغرینك بهم ثم لايجاورونک فیها إلا قلیلاً۔ ؎3 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 ملاخطہ ہوں یہ کتب: لسان العرب ، مجمع الجرين ، مفردات راغب ، قطر المحیط اور تاج العروس۔ ؎2 حجاب کے فلسفے اور اس کی اہمیت ، اسی طرح ہاتھوں کے وکلائی تک استثناء کے سلسلے میں ہم تفسیر نمونہ کی جلد 13 سورۂ نور کی آیہ 30 ، 31 اس کے ذیل میں تفصیل سے بحث کرچکے ہیں ۔ ؎3 "قليلا " یہاں پرایک محذوف مستثنٰی ہے اور تقدیری طور پر اس طرح تھا: لایجاورنک زمانًا الازمانًا قليلا"۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- "مرجفون" "ارجاف" کے مادہ سے ہے اور ایسی افواہیں پھیلانے کے معنی میں ہے جو دوسروں کو دکھ دینے کے لیے گھڑی جائیں اور یہ کلمہ دراصل "ارجاف" یعنی اضطراب اور تزلزل کے معنی میں ہے اور چونکہ افواہیں عام لوگوں میں اضطراب پیدا کردیتی ہیں ، لہذا یہ لفظ ان کے لیے بولا جاتا ہے۔ "نغرینک" "اغراء" کے مادہ سے ہے ، جس کا معنی ہے ، جس کا معنی ہے کسی کے انجام دینے یا کسی چیز کے حاصل کرنے کی دعوت دینا ، جس میں ترغیب و تشویق اور برانگیختہ کرنا بھی شامل ہے۔ آیت کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں تین گروہ تخریب کاری میں مشغول تھے ، ان میں ایک ٹولہ اپنے ناپاک عزائم پورا کرنا چاہتا تھا اور یہ کام باقاعدہ سوچی سمجھی سکیم اور منظم منصوبے کے تحت انجام دیتا تھا نہ کہ شخصی اور انفرادی صورت میں ۔ پہلے تو وہ منافعین تھے جو اسلام کے خلاف اپنی سازشوں سے اسے تباہ کر دینا چاہتے تھے۔ دوسرے وہ اوباش اور آوارہ لوگ تھے ، جنھیں قرآن پاک"دل کے بیمار" قراردیتا ہے ( الذين في قلوبهم مرض) جیساکہ یہی تعبیراسی سورة (احزاب) کی آیت 32 میں بھی ہواد ہوس کے مریض وشہوت پرست افراد کے بارے میں آئی ہے : فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبه مرض"۔ "اے ازواج رسول! جس وقت بات کرو تونرمی کے ساتھ بات نہ کیا کرو ، وگرنہ دل کے مریض لوگ تمھارے بارے میں طمع کرنے لگ جائیں گے"۔ تیسرے وہ لوگ تھے ، جن کا کام مدینہ میں افواہیں پھیلانا تھا خصوصًا ایسے مواقع پرجب پیغمبر خدا اور لشکر اسلام جنگ کو جاتے تو وہ مدینہ میں رہ جانے والے لوگوں کے حوصلے پست کرنے اور ان کے دلوں کو کمزور کرنے کے لیے رسول پاک اور مومنین کی شکست کی خبریں پھیلانا شروع کر دیتے تھے۔ بعض مفسرین کے بقول یہ یہودیوں کا گروہ تھا۔ بہرحال قرآن مجید نے تینوں گروہوں کو زبردست سرزنش کی ہے۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ تینوں تخریبی پروگرام منافقین کی کارستانیاں تھیں ان کو الگ الگ کرکے اس سے پیش کیا گیا تاکہ ان کے طریقہ واردات کو واضح کرکے بتادیا جائے۔ بہرحال قرآن کہتا ہے کہ اگرانہوں نے اپنے اس قبیح اور ناشائستہ کام کو جاری رکھا تو ان کے خلاف ایک عمومی حملے اور یورش کا حکم صادر کردیں گے تاکہ مؤمنین کے ایک ہی مردان دار اقدام سے مدینہ کے تمام منافقین کی بیخ کنی ہوجائے اور پھر وہ کبھی اس شہرمیں رہنے کے قابل نہ رہ سکیں۔ اور جب وہ اس شہر سے نکال دیئے جائیں گے اور اسلامی حکومت کی حفاظت سے محروم ہوجائیں گئے "تو جہاں کہیں بھی ملیں گے دھرلیے جائیں گے اور قتل کردیئے جائیں گے"۔ (ملعونين ایما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتيلًا)۔ "ثقفوا " "ثقف" اور "ثقافت" کے مادے بڑی مہارت کے ساتھ کسی چیز کوحاصل کرنا یہ جو کلچر کو "ثقافت" کہا جاتا ہے تو وہ بھی اسی مفہوم کی بناء پر ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اس عمومی حملے کے بعد کہیں بھی امان نہیں پاسکیں گے اور انھیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کر دیا جآئے گا۔ آیا اس آیت سے مراد یہ ہے کہ انھیں مدینہ سے بام تلاش کرکے قتل کردیا جائے ؟ یا عمومی جلاوطنی کے حکم کے بعد اگر مدینہ میں رہ جا ئیں گے تو اس قسم کے انجام سے دوچار ہوں گے ؟ اس بارے میں دو احتمال ہیں اور دونوں میں کسی قسم کا تضاد موجود نہیں ، وہ اس لحاظ سے کہ اس سازشی ، بیمار دل اور افواہیں پھیلانے والے تخریب کارٹولے سے جب اسلامی حکومت اپنی حفاظت کی ذمہ داراٹھا لے گی تو انھیں مدنیہ سے نکل جانے کا حکم مل جائے گا تو پھروہ وہیں پر رہ جائیں یا وہاں سے نکل جائیں ، شجاع اور جاں بکف مسلمان انہیں کہیں بھی امان سے نہیں رہنے دیں گے۔ پرآخری آیت میں فرمایا گیا ہے ۔ یہ کوئی نیا حکم نہیں ہے بلکہ "یہ خدا کی ہمیشہ سنت ہے جو گذشتہ اقوام میں بھی تھی۔" کہ جس وقت کوئی تخریب کار اور مفسد ٹولہ بے شرمی کا مظاہرہ کرے اور سازشیں کرنے میں حد سے بڑھ جاتا تھا توان کے لیے عمومی حملے کا حکم صادر ہوجاتا تھا: (سنة الله فی الذي خلوا من قبل)۔ اور چونکہ یہ حکم ایک خدائی سنت ہے ، لہذا اس میں کبھی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوسکتی ، کیونکہ "تم خدا کی سنت کے لیے کبھی تغیر اور تبدیلی نہیں پاؤگئے": (ولن تجد لسنة الله تبديلًا). یہ تعبیر حقیقت میں اس تنبیہ کو صحیح معنوں میں عملی جامہ پہنانے کو واضح کرتی ہے کہ وہ جان لیں کہ یہ بات قطعی اور یقینی ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی رونما نہیں ہوسکتی ، لہذا انہیں چاہیئے کہ یا تو اپنے شرمناک اعمال میں تبدیلی پیدا کریں یا پھراس قسم کے دردناک انجام کے انتظار میں رہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:59-62
1- پہل خود سے کرنا چاہیئے
1- پہل خود سے کرنا چاہیئے: جو کہ ان آیات میں اسلامی حجاب کو مکمل طور پر ملحوظ رکھنے کے سلسلے میں آیا ہے اور قرآن پیغمبراسلام صلی الله علیہ و الہٖ وسلم سے مخاطب ہے کہ یہ حکم پہنچادو تو پہلے آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ازواج کو مد نظر رکھا گیا ہے ، پھر آپ کی اولاد بھی مومن عورتیں اور یہ اس بات کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ جس کی اصلاح کا آغاز اپنے آپ اور اپنے کھانے سے کرنا چاہیے اور یہی لائحہ عمل بنی نوع انسان کے تمام مصلحین کے لیے ہے۔ بیویوں اور اولاد میں سے پہلے بیویوں کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ وہ انسان کے سب سے زیادہ قریب ہوتی ہیں ، جبکہ اولاد کی شادی ہو جاتی ہے اور وہ اپنے شوہروں کے گھر منتقل ہوجاتی ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:59-62
شان نزول
شان نزول تفسیر علی بن ابراہیم میں پہلی آیت کی شان نزول یہ بیان کی گئی ہے کہ اس زمانے میں مسلمان عورتیں مسجد میں جاکر رسول پاکؐ کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھیں ، رات کے وقت جب وہ مغرب اور عشاء کی نماز کے لئے جاتیں تو کچھ بے ہودہ اور اوباش نوجوان ان کے راستے میں بیٹھ جاتے اور اخلاق سے گری ہوئی باتیں کرکے انھیں تکلیف پہنچاتے اور ان کا راستہ روکتے۔ اس سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی اور انھیں حکم دیاگیا کہ وہ اچھی طرح سے پردہ کریں تاکہ واضح ہوسکے کہ یہ مسلمان عورتیں ہیں اور کوئی شخص مزاحمت کے لیے بہانہ نہ بنا سکیں ۔ اسی کتاب میں دوسری آیت کی شان نزول اس طرح لکھی ہے کہ مدینہ میں منافقین کا ایک ٹولی تھا جس کا کام یہ تھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم بعض موقعوں پرجنگ کے لیے تشریف لے جاتے تو وہ آپ کے بارے میں مختلف افواہیں پھیلاتا ، کبھی کہتا کہ پیغمبرقتل ہوگئے ہیں ، کبھی کہتا انھیں قید کرلیا گیا ہے، وہ مسلمان جو جنگ کرنے کی توانائی نہ رکھتے تھے اس سے انھیں سخت پریشانی ہوتی ۔ جب پیغمبراکرمؐ کے پاس اس امر کی شکایت کی گئی تواس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور ان افواہ پھیلانے والوں کو سختی سے تببیہ کردی گئی ۔ ؎1 ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نورالثقلین جلد 4 ص 307 بحالہ تفسیر علی بن ابراہیم۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:59-62
سوره احزاب / آیه 59 - 62
(59) يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِْهِنَّ ۚ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا (60) لَّئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُوْنَ وَالَّـذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ مَّرَضٌ وَّّالْمُرْجِفُوْنَ فِى الْمَدِيْنَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِـهِـمْ ثُـمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ فِـيْهَآ اِلَّا قَلِيْلًا (61) مَّلْعُوْنِيْنَ ۖ اَيْنَمَا ثُقِفُوٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا (62) سُنَّـةَ اللّـٰهِ فِى الَّـذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّـةِ اللّـٰهِ تَبْدِيْلًا ترجمہ (59) اے پیغمبر! اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے اور ڈال لیا کریں تاکہ (وہ کنیزوں اور گناہ سے آلودہ عورتوں سے الگ) پہچانی جائیں اور کسی کی طرف سے انہیں دکھ اورتکلیف نہ پہنچے اور (اگر اب تک خطا اور کوتاہی سرزد ہوئی ہے تو) خدا ہمیشہ غفور رحیم ہے۔ (60) اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور اسی طرح وہ لوگ بھی جو مدینہ میں جھوٹی خبریں اور بے بنیاد افواہیں پھیلاتے ہیں ، اپنی کارستانیوں سے باز نہ آ ئے تو ہم آپ کو ان کے خلاف تیار کریں گے ، پھر وہ تھوڑی سی مدت کے سوا آپ کے نزدیک اس شہرمیں نہیں رہ سکیں گے۔ (61) اور ہرجگہ سے دھتکارے جائیں گے اور جہاں کہیں ملیں گے گرفتار کرلیے جائیں گے اورقتل کر دیئے جائیں گے۔ (62) گذشتہ اقوام میں خدا کی یہی سنت جاری رہی ہے اور آپ خدا کی سنت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں پائیں گے۔