يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا
O Prophet! Be wary of Allah and do not obey the faithless and the hypocrites. Indeed Allah is all-knowing, all-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:1
[Pooya/Ali Commentary 33:1] "Fear Allah (safeguard yourselves against evil with the help of the divine laws made by Allah) and do not obey, hearken or follow the disbelievers and the hypocrites" is addressed to the followers of the Holy Prophet through him. The fifth year of Hijra was a critical year in the history of early Islam. The pagans of Makka, the Jews and bedouin Arabs entered into an unholy alliance against Islam, and came with a force of 10000 men in the month of Shawwal and besieged Madina. The hypocrites among the Muslims in Madina were in secret league with the invading army. Please refer to the commentary of al Baqarah 6 to 20 and Ali Imran: 121, 122, 128, 140 to 142, 144, 151 to 156, 159, 166 to 168; Nisa: 65;Anfal: 16 and Bara-at 25 to 27 and 86 and 87 to know about the role played by the hypocrites among the Muslims to stop the march of Islam. As to the battle of Khandaq which took place when the allied forces of the disbelievers besieged the city of Madina, refer to the commentary of al Baqarah: 214 and 251 and verses 9 and 10 to 20, 21, 22 and 25 of this surah. The huge army of the infidels and the mischief making of the hypocrites created despondency among the Muslims, so they have been asked to remain steadfast on the religion of Allah revealed to the Holy Prophet and rely upon Allah, and not to pay attention to the schemes hatched by the hypocrites in league with the disbelievers. The Holy Prophet follows only that which is revealed to him as has also been confirmed in verses 1 to 9 of An Najm. The verb ta-maluna ("what you do") in plural, confirms this interpretation.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 33:1-8
1. As hearts, like cisterns, can remain pure when they hold pure water, and become impure otherwise, and are incapable of holding sincere love of God with impurity of worldly affection. In fact, the condition of the heart assumes four different aspects: (1) when it is absolutely and sincerely open to Divine guidance, it is enlightened having no other lover superseding Divine love, (2) it is topsy turvy like that of an associator, just as an inverted tub cannot hold water, so nothing is Divine can appeal to an associator, (3) it is sealed despite appreciating the truth, on account of desire for power and wealth, it could not become sincere and this hypocrisy, (4) it is at times purified when it thanks God for Divine bounties, is patient under trials, is repentant, under commission of sins, and at times it becomes obstinate, refusing advice and ignoring warning. 2. The Prophet’s wives are likened to a mother being illegal for marriage but are unlike mothers incapable of inheritance and need conversation behind a curtain. The Prophet holds sway over the faithful’s soul. The condition of the Prophet’s companions may be likened with their behaviour in a crusade. If the companion was asked to participate in a crusade, his behaviour was either he laid down his life or he fled away or pleaded an excuse. The first was a faithful, second was an infidel and the third was a hypocrite. reward of these three is given in Couplet 8. Couplet 4 in the above paragraph was revealed to stop the customary practice of repudiating the wives among pagan Arabs before promulgation of Islam by expressing “mother” in her favour, thus injuriously assimilating them.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:1-3
صرف وحی الٰہی پیروی کریں
تفسیر صرف وحی الٰہی پیروی کریں: خطرناک لغزشیں جو عظیم رہبروں کے راستوں میں قرارپائی ہیں ، مخالفین کی طرف سے سودے بازی پر مبنی پیش کش ہواکرتی ہیں۔ اور ایسے ہی موقع پر راہ راست سے ہٹادینے والے خطوط رہبروں کے درپیش ہوتے رہتے ہیں اور دشمن کوشش کرتا ہے کہ انھیں راہ راست اور صراط مستقیم سے ہٹادے اور یہ ان کے لیے ایک عظیم آزمائش ہوتی ہے۔ "مشرکین مکہ" اور "منافقین مدینہ" نے بارہا کوشش کی کہ سودے بازی پرمبنی پیش کشوں کے ذریعہ پیغمبراسلامؐ کو "خط توحید" سے منحرف کردیں ۔ منجملہ ان کے وہی پیش کش ہے جو اوپرشان نزول میں ذکر ہوچکی ہے۔ لیکن سورہ احزاب کی پہلی آیات نے نازل ہوکر ان کی سازش کو ختم کردیا (اور اس پرپانی پھیر دیا) اور پیغمبرکو دوٹوک اندازمیں خط توحید کی روش کو کسی قسم کی سودے بازی کے کئے بغیر جاری رکھنے کا حکم دیا۔ یہ آیات مجموعی طور پر پیغمبراکرمؐ کو چاراہم حکم د ے رہی ہیں: پہلا حکم ۔ تفوےٰ اور پرہیزگاری کے سلسلہ میں ہے ، جو دوسرے تمام پروگراموں کے لیے بنیادی عنصر ہے۔ فرماتا ہے ۔ "اے پیغمبر! تقوٰے اختیار کرو: (یا ایها النبی اتق الله)۔ "تقوٰی" درحقیقت وہی باطنی ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس ہے۔ اور جب تک یہ احساس موجود نہ ہو انسان کسی بھی اصلاحی پروگرام کے حرکت نہیں کرتا۔ "تقوٰے" ہدایت اور آیات الٰہی سے بہرہ در ہونے اور فائدہ اٹھانے پر آمادہ کرنا ہے ، جیسا کہ سورہ بقرہ کی دوسری آیت میں ہم پڑھتے ہیں "ھدی للمتقین" یہ قرآن پر ہیزگاروں کے لیے سبب ہدایت ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ تقوےٰ کا آخری اور حقیقی مرحلہ ایمان اور احکام خداوندی پر عمل کرنے کے بعد حاصل ہوتاہے ، لیکن اس کو پہلا مرحلہ ان تمام مسائل سے پہلے قرار پاتا ہے کیونکہ انسان اگر اپنے اندر ذمہ داری کو احساس نہ کرے تو نہ پیغمبروں کی دعوت کی تحقیق کرنے کی زحمت کرتا ہے اور نہ ہی ان کی باتوں پر کان دھرتا ہے یہاں تک کہ "دفع ضررمتحمل" کا مسئلہ جسے علماء علم کلام وعقائد کرنے معرفتہ الٰہی کے لیے کوشش کی بنیاد کے طور پر ذکر کیا ہے ، حقیقت میں تقوٰی کی ایک شاخ ہے۔ دوسرا حکم: کفار و منافقین کی اطاعت کی نفی ہے، خدا فرماتا ہے ۔" کفار و منافقین کی اطاعت نہ کرو"۔ ( ولا تطع الكافرين و العافقين)۔ اس آیت کے آخر میں اس موضوع کی تاکید کے لیے کہتا ہے ۔ "خدا عالم اور حکیم ہے"۔ ( ان الله كان عليمًا حكيمًا)۔ اگر وہ آپ کو ان کی پیروی ترک کرنے کا حکم دیتا ہے تو وہ اس کے لامتناہی علم وحکمت کی بناء پر ہے ، کیونکہ وہ جاتنا ہے کہ ان کی اس اطاعت اور سودے بازی میں کیا کیا دردناک مصائب اور کیسے کیسے بے شمار مفاسد پنہاں ہیں۔ بہرحال تقوٰے اوراحساس ذمہ داری کے بعد پہلا فرایضہ صفحہ قلب کو غیر خدا کی محبت سے صاف اور پاک کرنا ہے اوراس سرزمین سے مزاحمت کرنے والے کانٹوں کی بیخ کنی کرنا ہے۔ تیسرے حکم میں عقیدہ توحید کی تخم ریزی اور وحی الٰہی کی اتباع کرنے کے مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے کہتا ہے۔ "جو کچھ تمھارے پروردگار کی طرف سے تم پروحی ہوتی ہے ، اس کی پیروی کرو:" ( واتبع ما يوحي اليك من ربک) ۔ اور اچھی طرح خبردار رہو کہ "جو کچھ تم انجام دیتے ہو اللہ اس سے آگاہ ہے :" (ان الله كان بما تعملون خبیرًا)۔ اس بناء پر پہلے عفریت کو دل و جان سے نکالیں تاکہ اس میں فرشتہ آسکے ۔ کانٹوں کو ختم کریں تاکہ پھولوں کی تخم ریزی ہوسکے۔ طاغوت کو دور کرکے اس سے خود کو پاک کرنا چاہیئے تاکہ اللہ کی حکومت اور نظام الٰہی اس کی جگہ لے سکے۔ اور چونکہ اس راہ پر چلنے کے لیے مصائب و مشکلات بہت زیادہ ہیں، سازشوں کے جال بچھے ہوئے ہیں. قدم قدم پر روڑے لگائے جاتے ہیں ۔ لہذا چوتھے حکم کواس شکل میں صادر کرتا ہے۔ "خدا پر توکل کرو اور ان لوگوں کی سازشوں سے نہ ڈرو": (وتوكل على الله)۔ "اور یہی کافی ہے کہ خدا انسان کا ولی و حافظ اور مدافع و حامی ہے": ( وكفى بالله وكيلًا) . اگر ہزار دشمن بھی آپ کو شہید کرنے کا ارادہ کرلیں ، لیکن چونکہ میں آپ کا دوست اور یاور ہوں لہذا دشمنوں سے بھی ہراساں نہ ہوں۔ اگرچہ ان آیات میں مخاطب پیغمبر کی ذات ہے ، لیکن واضح ہے کہ یہ تمام مومنین اور تمام عالم اسلام کے لیے یکساں حکم ہے ۔ یہ ہردور اور ہر زمانہ کے لیے نجات بخش نسخہ ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے "یاایها" کا خطاب ان موارو کے ساتھ مخصوص ہے جہاں مقصد سب لوگوں کی توجہ کو کسی مطلب کی طرف مبذول کرنا ہو اگرچہ مخاطب ایک ہی شخص ہو بخلاف "یا" کے خطاب کے جس کا عام طور پر اطلاق ایسے موارد میں ہوتا ہے، جہاں مراد مخاطب کی ذات ہوتی ہے۔ ؎1 اور چونکہ زیر بحث آیات میں "یا ایها" سے خطاب شروع ہوا ہے لہذا ان آیات کے مقصد کی عمومیت پر دلالت کرتا ہے۔ عمومیت (سب) کے لیے ہونے کا ایک اور شاہد یہ ہے کہ "ان الله كان بما تعملون خبيرًا" کا جملہ جمع کی صورت میں آیا بے یعنی" خدا تم سب کے اعمال سے آگاہ ہے"۔ اگرصرف پیغمبر مخاطب ہوتے تو کہا جاتا کہ خدا تیرے عمل سے آگاہ ہے ۔(غور کیجئے گا)۔ کچھ کہے بغیرواضح ہے کہ پیغمبر کو یہ حکم دینے کا مقصد نہیں کہ آنجناب تقوٰی کے بارے میں یا کفار ومنافقین کی اطاعت ترک کرنے کے مسئلہ میں کسی قسم کی کوتاہی سے کام لیتے تھے ، بلکہ اس قسم کے احکام جہاں ایک طرف پیغمبر کے وظائف اور ذمہ داریوں کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہے، وہاں پرتمام مومنین کے لیے درس بھی ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیرفخررازی جلد 25 ص 190 زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:1-3
سوره احزاب / آیه 1 - 3
(1) يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ اتَّقِ اللّـٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكَافِـرِيْنَ وَالْمُنَافِقِيْنَ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِـيْمًا (2) وَاتَّبِــعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْـرًا (3) وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّـٰهِ ۚ وَكَفٰى بِاللّـٰهِ وَكِيْلًا ترجمہ رحمٰن و رحیم خدا کے نام سے (1) اے پیغمبرؐ! تقوٰے اختیار کرو اور کفار منافقین کی اطاعت نہ کرو ۔خدا عالم اور حکیم ہے۔ (2) اور جو کہ تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھیں وہی ہوتی ہے ، اس کی پیروی کرو کیونکہ جو کچھ تم انجام دیتے ہو ، خدا اس سے آگاہ ہے۔ (3) اور خدا پر توکل کرو اور یہی کافی ہے ۔ خدا انسان کا محافظ اور دفاع کرنے والا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:1-3
شان نزول
شان نزول مفسرین نے یہاں مختلف شان نزول نقل کیے ہیں جو تقریبًا ایک ہی موضوع پر دلالت کرتے ہیں منجملہ ان کے انھوں نے کہا ہے کہ آیات " ابوسفیان" اور بعض دوسرےکفروشرک کے سرغنوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ وہ "احد" کے بعد "پیغمبراسلامؐ سے امان پاکر مدینہ میں داخل ہوئے اور "عبداللہ بن ابی" اور اس کے کچھ دوسرے دوستوں کے ساتھ رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا "یامحمد! اپنے اور ہمارے خداؤں ، لات و عزٰی ومنات نامی بتوں کو برا بھلا کہنے سے رک جایئے اور کہیئے کہ وہ اپنے پرستش کرنے والوں کی شفاعت کریں گے ۔ تاکہ ہم بھی آپ سے لڑائی جھگڑے سے دستبردار ہوجائیں۔ پھر جو کچھ آپ اپنے خدا کی تعریف و توصیف کرنا چاہیں کریں ، آپ آذاد ہیں"۔ اس پیش کش سے پیغمبر کو دکھ ہوا ، حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ مجھے اجازت دیجئے تاکہ انہیں قتل کردوں! پیغمبرؐ نے فرمایا "میں نے انھیں امان دی ہے۔ لہذا اس قسم کی کوئی چیز ممکن نہیں"۔ لیکن آپ نے حکم دیا کہ انھیں مدینہ سے باہر نکال دیا جائے تو اس موقع پر اوپر وہ آیات نازل ہوئیں اور پیغمبر کو حکم دیا کہ اس قسم کی کسی پیش کش کی پرواہ نہ کریں ۔ ؎1 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مجمع البيان ، ذیل زیر بحث آیت اور تفاسیر ۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------