الٓمٓ
Alif, Lam, Meem.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 32:1
[Pooya/Ali Commentary 32:1] See commentary of Baqarah: 1.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 32:1-11
Let death be daily before your eyes and you will not entertain any abject thought, nor too eagerly covet anything: (1) On death and judgment, heaven and hell, (2) who oft do think, ust needs die well.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 32:1-5
چند ایک نکات
چند ایک نکات "يدبرالامر" کی آیت سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہمارے زمانے کے کچھ خود ساختہ مسلک کے پیروکاروں نے اپنے مسلک کی توجیہ کے لیے اوپر والی آیت کو دستاویز قرار دیتے ہوئے عوام الناس کو فریب دینے اور مغالط میں ڈالنے کے لئے اس آیت کو اپنے مقصد منطبق کرنے کی کوشش کی ہے۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ ان کے اکثر مبلغین سے جب انسان رو برو ہوتا ہے ، منجملہ ان دلائل کے کہ جس کا فورًا ڈوبتے کی طرح تنکے کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں یہی آیت ہے (اید بر الامر من السماء الى الارض ......)وہ کہتے ہیں۔ "امر" سے مراد اس آیت میں "دین اور مذہب" ہے اور "تدبیر" دین کے بھیچتے کے معنی میں ہے اور "عروج" دین کو اٹھانے اور نسخ کرنے کے معنی میں ہے، اور اس حساب سے کوئی مذہب ایک ہزار سال سے زیادہ زنده نہیں رہ سکتا۔ لہذا ہزارسال کے بعد اسے اپنی جگہ دوسرے مذہب کو دے دینی چاہیئے ۔ اسی بناء پر وہ کہتے ہیں "ہم قران کو قبول کرتے ہیں" لیکن اسی قران کے مطابق ایک ہزار سال گزر جانے کے بعد دوسرا مذہب آۓ گا ! اب ہم چاہتے ہیں کہ ایک غیر جانب دار فرد کے عنوان سے مذکورہ آیت کا صحیح طریقے پر تجزیہ و تحلیل کریں اور دیکھیں کہ جس چیز کا یہ لوگ دعوٰے کرتے ہیں . آیا آیت کابھی اس چیز کوئی تعلق ہے یا نہیں ؟ اس بات سے قطع نظرکہ یہ معنی آیت کے مفہوم سے اس قدر دور ہے کہ خالی الذہین پڑھنے والے کی فکرو ذہن میں آبھی نہیں سکتا۔ خوب غور و خوض کے بعد تم دیکھتے ہیں کہ جس چیز پروہ آیت کو مطابقت دینا چاہتے ہیں ، نہ صرف یہ کہ آیت کے مفہوم کے ساتھ سازگار نہیں ، بلکہ بہت سی جہات سے واضح اشکالات سے بھی دو چارہے۔ (1) لفظ "امر" کو دین و مذہب کے معنی میں لینا نہ صرف یہ کہ اس پر کوئی دلیل نہیں بلکہ قرآن کی دوسری آیات بھی اس کی نفی کرتی ہیں ۔ کیونکہ دوسری آیات میں "امر" فرمان ، آفرنیش وخلقت کے معنی میں استعمال ہوا ہے : "انما امره اذا اراد شيئا ان یقول له كن فيكون"۔ (سورہ یٰسین آیت 82)۔ "اس کا امر تو بس یہ ہے کہ میں وقت کسی چیز کا ارادہ کرے تو کہتاہے ہو جا ، تو وہ فورًا ہوجاتی ہے"۔ "اس آیت میں اور "سورہ قمر" کی آیت 50 اور "سورہ مومنون" کی آیت 27: "سوره اعراف" کی آیت 54 : "سوره ابراھیم" کی آیت 32 اور سوره نحل آیت 12 "سوره روم" آیت 25، اور "سوره جاثیہ آیت 12 اور بہت سی دوسری آیات میں "امر" امر تکوین کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، نہ کہ دین و مذہب کی تشریح کے معنی میں۔ بنیادی طور پر جہان آسمان و زمین اور آفرینش وخلقت وغیرہ کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے ، امراس معنی میں آتا ہے، (غور کیجئے)۔ (2) لفظ "تدبیر" بھی خلقت وآفرینش اور کائنات واضح و کیفیت کو سنوارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے نہ کہ مذہب نازل کرنے کے معنی میں ، اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قران کی دوسری آیات میں (آیات ایک دوسرے کی تـفسیر کرتی ہیں دین و مذہب کے بارے میں بالکل لفظ تدبیر استعمال نہیں ہوا، بلکہ لفظ "تشریع" یا "تنزیل" یا "انزال" استعمال ہواہے: "شرع لكم من الذين ماوصی بد نوحًا"۔ (شورٰی ۔۔۔۔ 3) شریعت کا آغاز اس چیز سے ہوا ، جس کی نوح کو وصیت کی تھی"۔ "ومن لم یحكم بما أنزل الله فاولٰئك هم الكافرون "۔ "جوشخص خدا کے نازل کروہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے تووہ کافرہے"۔ ( مائده ۔۔۔۔ 44)۔ "نزل عليك الكتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ"۔ آل عمران ۔۔۔۔۔ 3)۔ "برحق قرآن کو تجھ پر نازل کیا ہے، جو پہلے کی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے"۔ (3) محل بحث کی آیت سے پہلے اور بعد کی آیت عالم کی خلقت و آفرنیش سے متعلق ہے، نہ کہ تشريع اویان سے۔ کیونکہ قبل والی آیت میں چھ دن (دوسرے لفظوں میں چھ دور) میں آسمان و زمین کی خلقت کے بارے میں گفتگوتھی اوربعد والی آیات میں خلقت انسان کا متعلق گفتگوتھی۔ کہے بغیر واضح ہے کہ آیات کی مناسبت تقاضاکرتی ہے کہ یہ آیت بھی جوآیآت "خلقت" کے درمیان واقع ہوئی ہے، مسئلہ خلقت اورآرفینش کے انتظامی امور سے مربوط ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیکڑوں سال پہلے کی لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس آیت میں گوناگوں احتمالات کے باوجود کسی نے یہ احتمال نہیں دیا کہ یہ آیت تشریح اویان سے مربوط ہے۔ مثلًا تفسیر"مجمع البیان" میں جو مشہور ترین اسلامی تفسیر ہے اور جس کے مؤتف کا تعلق سنہ چھ ہجری سے ہے اوپر والی آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال نقل کرنے کے باوجود کسی بھی مسلم دانشور کا یہ قول نقل نہیں کیا کہ اس آیت کا تعلق تشریع ادیان سے ہے۔ (4) لفظ "عروج" "صعود کرنے اور اوپرجانے" کے معنی میں ہے نہ کہ نسخ ادیان اور ان کے زائل ہونے کے معنی میں ، اور قرآن میں کسی جگہ بھی" عروج" نسخ کے معنی میں نظر نہیں آیا یہ لفظ قرآن کی پانچ آیات میں ذکر ہوا ہے ، لیکن کہیں بھی اس کے معنی میں نہیں آیا ہے بلکہ ادیان کے بارے میں وہی لفظ"نسخ" یا "تبدیل" وغیرہ استعمال ہوئے ہیں۔ بنیادی طور پرادیان اور کتب آسمانی کوئی ایسی چیز نہیں جومثلًا ارواح لبشر کی طرح اختتام زندگی کے بعد فرشتوں کے ساتھ آسمان کی طرف پرواز کرجائیں ، بلکہ نسخ شدہ دین اسی زمین پر موجود ہیں ، ان کے صرف چند ایک مسائل منسوخ ہوئے ہیں ، جبکہ ان کے اصول اپنی قوت کے ساتھ باقی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ لفظ "عروج" باوجود یکہ قران مجید میں کسی جگہ بھی نسخ اویان کے معنی میں استعمال نہیں ہوا ، اصولی طور پرنسخ ادیان کے مفہوم کے ساتھ سازگار بھی نہیں ہے ، کیونکہ منسوخ ادیان آسمان کی طرف عروج نہیں کرتے۔ (5) ان سب کے علاوہ یہ معنی واقعیت عینی کے ساتھ بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ گذشتہ ادیان کا ایک دوسرے سے فاصلہ کہیں پر بھی ایک ہزار سال نہیں تھا۔ مثلًاحضرت موسٰی اور حضرت عیسٰی کے ظہور کے درمیان کا فاصلہ 1500 سال سے زیادہ تھا اور حضرت عیسٰی اور پیغمبراسلام کے لاہور کا فاصلہ 600 سو سال سے کم تھا۔ جیساکہ آپ ملاحظہ کررہے ہیں، ان لوگوں کے قول کے مطابق ان دونوں میں سے کوئی فاصلہ میں ہزار سال کا نہیں بلکہ زیادہ بھی ہے۔ ایک اولو العزم نبی اور مخصوص شریعت کے بانی حضرت "نوحؑ" کا اولوالعزم شریعت کے دوسرے بانی اوربت شکن ہیرو حضرت ابراہیمؑ کے درمیان 1400 سال سے زیاده فاصلہ ہے اور اسی طرح حضرت "ابراہیم" اور حضرت "موسٰی" کے درمیان فاصلہ 500 سال سے کم لکھا ہے۔ اس موضوع سے ہم پر تیجہ حاصل کرتے ہیں کہ نمونہ کے طور پر بھی گذشتہ مذاہب و ادیان کا ایک دوسرے کےساتھ کا فاصلہ ایک ہزار سال نہیں تھا۔ "تو خود حدیث مفصل بخوان ازیں مجمل"۔ (6) ان سب باتوں سے قطع نظر سید علی محمد باب کے جس دعوٰے کے لیے یہ سب لوگ ناروا توجیہات کے متحمل بوئے ہیں ، اس حساب سے بالکل سازگار نہیں ہے ، کیونکہ خود انھیں کے اعتراف کے مطابق اس کے دعوٰے کی ابتداء 1260 هجری قمری میں تھی ۔ اور اس بات کے پیش نظر کہ پیغمبر اسلام کی دعوت کی ابتداء ہجرت سے 13 سال قبل تھی تو ان دونوں کے درمیان فاصلہ 1273 سال بنتاہے ، یعنی ہزار سال سے 373 سال زائد بنتے ہیں ۔ اب وہ خود ہی بتائیں کہ ہم کس نقشے کے تحت ان 273 سالوں کو ادھر اُدھر کریں ؟ اور کس طرح اتنے بڑے عدد کو نظرانداز کردیں ؟ (7) اور فرض کیجئے کہ تم ان چھ اعتراضات کو بھی ایک طرف کیے دیتے ہیں اور اس قدر واضح اور روشن تجزیات کوبهی بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور صرف عقل و خرد کو فیصلہ کے لیے بلاتے ہیں اور فرض کرتے ہیں کہ قرآن کے بجا ئے بتاتے ہیں کہ نبوت کے نئے دعوے داورں کے سامنے آنے والے لوگوں کی ذمہ داری کو واضح کریں اور کہیں کہ " ہزارسال گزرنے کے بعد نئے پیغمبر کے انتظارمیں رہو"۔ تو کیا اس کا یہی راستہ تھا ، جیسا مذکورہ آیت میں ذکر ہوا ہے ، مطلب کو بیان کریں اور بارہ تیرہ صدیوں تک کوئی عالم اور غیر عالم اس آیت کے معنی سے ذره برابربھی مطلع نہ ہوسکے اور 1373 سال گزرنے کے بعد صرف ایک گروہ "کشف جدید" کے عنوان جو صرف اور صرف اس کے نزدیک ہی قابل قبول ہے ، اس سے پردہ اٹھائے۔ کیا زیادہ عقل مندی کی بات نہیں تھی کہ اس جملہ کی جگہ پر یوں کہا جاتا۔ "تمہیں میں بشارت دیتا ہوں کہ ایک ہزارسال کے بعد ایک پیغمبراس نام کا ظہور کرے گا"۔ جیسا کہ حضرت عیسٰی نے پیغمبراسلامؐ کے متعلق کہا : "ومبشرًا برسول يأتي من بعد اسمه احمد" (سورۂ صف آیه ۔۔۔۔ 6) بہرحال شاید یہ اس حد تک جتنا ہم نے بحث کی ہے ، بحث کا محتاج نہ ہوتا، لیکن مسلمانوں کی نوجوان نسل عالمی استعمار کے ہتھکنڈوں اور اسلام کے مورچوں کو کمزور کرنے اور نقصان پہنچانے والے ساختہ مسالک کی چالوں سے خبردار کرنے کے لیے قدرے تفصیلی گفتگو کی تاکہ وہ ان کی اس منطق کے صرف ایک گوشہ سے باخبرہوجائیں اور باقی کا وہ خود حساب کرلیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 32:1-5
عظمت قرآن اورمبدء ومعاد
تفسیر عظمت قرآن اورمبدء ومعاد : اس سورہ میں ہم "حروف مقطعات" (الف- لام - میم) میں سے ایک بار پھر روبرو ہورہے ہیں اور یہ پندرھویں دفعہ ہے کہ کہ ہم قرآنی سورتوں کے آغاز میں اس قسم کے حروف دیکھ رہے ہیں۔ سورہ بقرہ کے آغاز (ا سی تفسیر کی جلد اول ، اور آل عمران (جلد دوم ) اور اعراف (جلد ششم) میں ہم ان حروف کی مختلف تفسیروں سے تفصیل کے ساتھ بحث کرچکے ہیں جو بحث قرآن کی اہمیت کے سلسلہ میں ان حروف کے فورًا بعد آئی ہے ، ایک بار پھر اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ "الم" قرآن کی عظمت اور پروردگار عالم کی عظیم قدرت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قسم کی عظیم اور مطالب سے لبریز کتاب جو حضرت محمد مصطفٰےؐ کا جادوانی معجزہ ہے "الف باء" ایسے سادہ حروف سے وجود میں آئی ہے اور جن پر ہرایک کی دسترس ہے۔ فرماتا ہے یہ وہ کتاب ہے جو عالمین کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ (تنزيل الكتاب لاریب فیه من رب العالمين )۔ ؎1 واقع میں یہ آیت دو سوالوں کا جواب ہے ، گویا پہلے اس آسمانی کتاب کے مضامین اور مندرجات کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو جواب میں کہتا ہے۔ اس کے مندرجات اور مضامین حق ہیں اوراس میں کم ترین شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ پھر اس کے وجود میں لانے والے کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو جواب میں کہتا ہے،یہ کتاب" رب العالمین کی طرف سے ہے۔ تفسیربھی متحمل ہے کہ "من رب العالین" کا جملہ "لاریب فیہ" کے لیے دلیل ہو ، کیا کوئی سوال کرتاہے کہ کس بناء پر یہ کتاب حق ہے ، تو کہتا ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ عالمین کے اس پروردگار کی طرف سے ہے۔ جس کے وجود سے حق اور حقیقت جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ضمنًا خدا کے تمام اصاف میں سے " رب العالمین" کی صفت پر دار و مدارا اس بات کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ یہ کتاب عجائبات عالم کامجموعہ اور عالم وجود کے حقائق کا نچوڑ ہے۔ کیونکہ عالمین کے پروردگار کی طرف سے ہے۔ اس نکتہ کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ قرآن نہیں چاہتا کہ یہاں صرف دعوے پر قناعت کرے ، بلکہ یہ بھی کہناچاہتا ہے کہ " عیان راجپہ بیان" کے مصداق خود اپنی کتاب کے مضامین میں اس کی حقانیت اور صداقت کے گواہ ہیں۔ پھراس تہمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے جو بارہا مشرکین اور بے ایمان منافقین اس عظیم آسمانی کتاب پر باندھتے تھے۔ "وہ کہتے ہیں محمدؐ نے خدا پرجھوٹ باندھا ہے ، حالانکہ یہ پروردگار عالمین کی طرف سے نہیں ہے " ( آمر يقولون افتراه)۔ ؎2 ان کے بے دلیل دعوے کے جواب میں کہتا ہے ۔ "وہ افراء نہیں ہے ، بلکہ تیتر پروردگا کی طرف حق ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "تنزيل الكتاب" مبتدائے محزوف "هذا" کی خبر ہے اور "لاریب فیہ"اس کی صفت اول اور "من رب العالمين" دوسری صفت ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا کہ بوسکتاہے ، تینوں یکے بعد دیگرے خبريں ہوں ۔ لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب ہے ۔ بہرحال تنزيل مصدر ہے جو اسم مفعول کے معنی میں آیا ہے اور کتاب کی طرف اس کی ضمانت صفت کی موصوف کی حرف اضافت کےقسموں سے ہے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ شاید مصدراپنے اصلی معنی میں آکرمبالغہ کا معنی بتارہا ہو ۔ ؎1 "ام" یہاں" بل " کے معنی میں ہے۔بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ تقدیری طور پر جملہ یوں نہیں ہوسکا ہے (ایعترفون به امریقولون ا فتراه (تفسیرفخرازی و ابوا لفتوح) لیکن یہ احتمال بعید نظر اتا ہے۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- بات ہے"۔ "بل هوالحق من ربک"۔ اوراس کی حقانیت کی دیل خوداسی میں آشکار و نمایاں ہے۔ پھراس کے نزول کے ہدف اور مقصد کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے ہدف اور مقصد یہ تھا کہ ایک گروه کو توانذارکر ےاور ڈرائے کہ جنھیں تجھ سے پہلے انذاز کرنے والا نہیں آیا ہے ، شاید وہ پند و نصیحت اور ہدایت حاصل کریں"۔ التنذرفرمًا بامااتاهم من نذير من قبلك لعلهم يعتدون )۔ اگرچہ پیغمبراسلامؐ کی دعوت" بشارت" یعنی خوشخبری بھی ہے اور "انزار" بھی یعنی ڈرانابھی۔ اور پیغمبر "بشیر" سے زیادہ "نذیر" ہے، لیکن گمراہ اور ہٹ دھرم قوم کے مقابلہ میں "انذار" پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ "هوالحق من ربک" کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کی حقانیت کی دلیل خود اسی میں مشہود ہے اور "لعلھم يهتدون" کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قران ہدایت کے لیے صرف سرزمین ہموار کرتا ہے لیکن مصمم ارادہ تو بہرحال خودانسان ہی کرتا ہے۔ یہاں دو سوال سامنے آتے ہیں : 1- اس قوم سے کونسی قوم مراد ہے جن کی طرف پیغمبراسلامؐ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ 2- علاوہ ازیں کیا خو د قرآن نہیں کہتا: "وان من امة الاخلا فيهانذير" "کوئی امت ایسی نہیں تھی کہ جس میں ڈرانے والا نہ آیا ہو۔" ( فاطر- 24)۔ پہلے سوال کے جواب میں مفسرین کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ مراد قبیلہ قریش ہے ، جس میں پیغمبراسلام سے پہلے کوئی انذار کرنے اور ڈرانے والا نہیں تھا۔ لیکن دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ مراد دور فرت ہے (یعنی حضرت عیسٰی کے قیام اور پیغمبراسلام کے ظہور کا درمیانی زمانہ)۔ لیکن ان دونوں جوابوں میں سے کوئی بھی جواب صحیح نظرنہیں آتا، کیونکہ سوال کرنے والے کے نظریہ کے مطابق زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہتی اور ہر دور میں پیغمبر یا دسی پیغمبر اتمام حجت کے لئے انسانوں کے درمیان موجود رہتے ہیں ۔ اس بناء پر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں "نذیر" سے مراد کوئی عظیم پیغبر ہو جو اپنی دعوت کو آشکارا اور معجزات کے ساتھ اور وسیع و عریض ماحول میں ظاہر کرے اور ہم جانتے ہیں کہ اس قسم کا انذار کرنے والا جزیرہ نمائے عرب اورقبائل "مکہ" کے درمیان ظاہر نہیں ہوا۔ اور دوسرے سوال کے جواب میں یوں کہنا چاہیے " وان من امةالاخلافيهانذير" کے جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ ہر امت میں انزار کرنے والا موجود رہا ہے۔ لیکن یہ کہ وہ ہر جگہ ذاتی و شخصی طور بھی موجود ہو، یہ ضروری نہیں ہے ،یہی بات کہ خدائے عظیم کے پیغمبروں کی دعوت کی صدا ان کے اوصیاء کے ذریعے دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچ جاۓ کافي ہے۔ یہ بات ٹھیک اسی طرح ہے کہ ہم کہیں کہ ہرامت میں اولو العزم پیغمبر بھی تھے اور آسمانی کتاب بھی ، تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ تاریخی طورپراس پیغمبر کی صدا اور اس کی آسمانی کتاب اس کے نمائندوں اور اوصیاء کے ذریعہ سے اس ساری امت تک پنہچی ہے۔ عظمت قرآن اور رسالت پیغمبراکرم کے بعد اسلام کے ایک اور اہم ترین بنیادی عقیده یعنی توحید کے اثبات اور شرک کی نفی کو بیان کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے " خدا وہ ہے ، جس نے آسمانوں اور زمین اور ہر اس چیزیں کو چھ دنوں میں پیدا کیا جو ان دونوں کے درمیان سے": ( الله الذي خلق السماوات والأرض وما بينهما في سنة ایام)۔ ؎1 ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ اس قسم کی آیات میں چھ دنوں سے مراد "چھ دور" ہیں ۔ کیونکہ معلوم ہے کہ "دن" کے معانی میں سے کیا معنی روز مرہ کے استعال میں "دور" بھی ہے ۔ جیسا کہ ہم کہتے ہیں، ایک دن تھا کہ استبدادی ٹولہ حکومت کرتا تھا اور آج "شورائی" نظام ہے۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں ، استبدادی ٹوے ہزار ہا سال حکومت کرتے رہے ہیں، لیکن "ایک دن" سے تعبیر کرتے ہیں : اور دوسری طرف یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ آسمان وزمین مختلف و درگزرے ہیں: ایک دن نظام شمسی کے تمام کرات ایک پگھلے ہوئے تودے کی صورت میں تھے۔ تو دوسرے دن سیارے سورج سے الگ ہوگئے اوراس کے اطراف گردش کرنےلگے۔ ایک دن زمین آگ کا ایک ٹکڑا تھی۔ دوسرے دن ٹھنڈی اور سرد ہوکر نباتات اور حیوانات کی زندگی کے قابل بن گئی، پھرزنده موجودات مختلف مراحل میں وجود میں آئے۔ (ہم اس معنی کی تشریح اور اسی طرح کے چھ ادوار کی تفصیل چھٹی جلد کے صفحہ 177 پر سورہ اعراف کی آیہ 54 کے ذیل میں پیش کرچکے ہیں)۔ واضح ہے کہ پروردگار کی بے انتہاء قدرت اس سارے جہاں کی ایجاد کے لیے ایک مختصر سے لمحے بلکہ اس سے بھی کم ترکے لیے کافی ہے۔ لیکن یہ تدریجی نظام عظمت خدا اور اس کے علم اور تمام مراحل میں اس کی تدبیر کو بہتر طریقہ سے بیان کرسکتا ہے۔ مثلًا اگر "جنین" ایک ہی لمحہ میں اپنے تکامل و ارتقاء کے تمام ادوار کو طے کرکے متولد ہوجاتا ہے تو اس کے عجائبات انسان کی نظر سے دور رہ جاتے ہیں لیکن جس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ ان نوماہ کے دوران میں برون اور ہر ہفتہ نئے نئے ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 لفظ اللہ اس جملہ میں مبتدا ہے اور "الذی" اس کی خبر ہے ۔ اس جملہ کی ترکیب میں اور احتمال بھی دیئے گئے ہیں۔ منجلہ ان کے یہ بھی ہے کہ "اللہ" خبر ہے مبتداء و محذوف کی۔ یا یہ کہ اللہ مبتداء ہے اور اس کی خبر "مالكم من دونه من ولی" ہے لیکن یہ دونوں احتمالات چنداں مناسب نظر نہیں آتے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ عجائب وغرائب شکل اور حالات اپنے اندرلیتا ہے اور یکے بعد دیگرے عجیب وغریب اورمختلف مراحل سے گزرتا ہے تو آفرید گارکی عظمت سے ہم بہتر طور پرآشنا ہوتے ہیں۔ مسئلہ آفرنیش و خلقت کے بعد عالم ہستی پر"حاکمیت خدا" کے مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: "پھر خدا عرش پر مستقر ہوا اور سارے عالم ہستی پر حکومت کی": ( ثم استوٰى على العرش )- جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ لفظ "عرش" اصل میں بلند پایۂ تختوں کے معنی میں ہے اور عام طور پر کنایہ ہوتا ہے. قدرت اور طاقت سے جیساکہ روز مرہ تعبیرات میں ہم کہتے ہیں ۔ فلاں شخص کے تخت کے پائے گرگئے یعنی اس کی قدرت اور طاقت ختم ہوگئ ہے۔ اس بناء پر خدا کا عرش پرقراریانا اس کے جسمانی معنی میں نہیں ہے کہ خدابادشاہوں کی طرح کوئی تخت رکھتا ہو اور اس کے اوپربیٹھاہو۔ بلکہ اس معنی میں ہے کہ وہ جہان ہستی کا خالق بھی ہے اور سارے عالم پر اس کی حکومت بھی ہے ۔ ؎1 اور آیت کے آخر میں توحید "ولایت" و" شفاعت" کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرکے مراحل توحید کو مکمل کرتے ہوئے فرماتا ہے۔"اس کے علاوہ تمہارا کوئی ولی وشفیع نہیں ہے": (مالكم من دونه من ولي ولا شفيع)۔ اس واضح دلیل کے باوجود کہ جہاں کی خالقیت اس کی حاکمیت کی دلیل ہے اور حاکمیت ولی ، شفیع اور معبود کی توحید پر دلالت کرتی ہے ، تو پھر تم کیوں بے راہ روی اختیار کرتے ہو اور بتوں کے دامن کو پکڑتے ہو ۔"تم سوچتے سمجھتے کیوں نہیں": (افلا تتذكرون ): حقیقت میں توحید کے تین مراحل جو اوپر والی آیت میں بیان ہوئے ہیں ، ہر ایک مرحلہ ایک دوسرے کی دلیل شمارہوتا ہے۔ توحید خالقيت ، توحید حاکمیت کی دلیل ہے اور توحید حاکمیت ولی وشفیع ومعبود کی وحدانیت پر دلیل ہے۔ یہاں پر بعض مفسرین کے لیے ایک سوال پیش ہوتا ہے ، جس کا جواب چنداں مشکل یا پیچیدہ نہیں ہے اور وہ یہ کہ آیت کا آخری جملہ کہتا ہے کہ خدا کے علاوہ تمہارا کوئی سر پرست اور شفاعت کرنے والا نہیں ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ تمارا ولی وشفیع صرف خدا اور بس ! تو کیا ممکن ہے کہ کوئی اپنے پاس سے کسی کی شفاعت کرے؟ (1) اس بات کو مد نظر رکھتے بونے کہ تمام شفاعت کرنے والوں کو اس کی اجازت سے شفاعت کرنا چاہیئے۔ "من ذا الذی یشفع عنده الا بانہ"۔ (بقره. 225 )اس بنا پر کہاجاسکتا ہے کہ شفاعت گرچہ ہوتی انبیاء اور اولیاء ، الہی کی طرف سے ہے ، لیکن لوٹتی ذات پاک کی طرف ہے ۔ شفاعت چاہے گناہوں کی بخشش کے لیے ہو یا نعمات الٰہی تک پہنچنے کے لیے۔ اس بات کی شاہد و گواہ وہ آیت ہے کہ جو ٹھیک اسی آیت کے مضمون میں سورة یونس کی ابتدا میں آئی ہے ، ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 اس بات کی مزید وضاحت تفسیر نمونہ جلد 6 ص 177 (سورہ اعراف آیہ 54 کے ذیل میں مطالعہ کریں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ اور ہم وہاں پڑھتے ہیں: "یدبر الامرمامن شفيع الا من بعد اذنه" (يونس ۔۔3)۔ "کوئی شفاعت کرنے والا اس وقت تک شفیع کہلائے گا۔ جب اس ذات کی اجازت ہو گی "۔ (2) اس امر کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ ہم پروردگار کی بارگاہ میں توسل کے وقت اس کی صفات سے متوسل ہوتے ہیں اس کے رحمان ، رحیم ، غفار او غفور ہونے اور اس کے فضل و کرم سے مدد چاہتے ہیں ، گویا اس کے پاس خود ایسے ہی شفیع قرار دیئے ہیں ۔ ہرچند کہ اس کی صفات اس کی عین ذات ہیں ، پھر بھی ان صفات کو اپنے اور اس کی پاک ذات کے درمیان واسطہ شمار کرتے ہیں۔ یہی چیزدعائے کمیل میں حضرت علیؑ کی پرمعنی عبارت میں آئی ہے : " واستشفع بلک الي نفسک " "میں تیرے ذریعہ تجھ سے شفاعت کا طلب گار ہوں"۔ (3) "شفيع " سے مراد یہاں ناصر اور یار و یاور ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یار و یاور اور ناصر صرف خدا اور بعض ان لوگوں نے یہاں شفاعت کو آفرنیش وخلقت اور تکمیل نفوس کے معنی میں لیا ہے تو یہ حقیقت اسی معنی کی طرف لوٹتاہے۔ زیر بحث آخری آیت میں پہلے توحید پروردگارکی طرف اور پھرمسئلہ معاد کی طرف اشارہ کرتا ہے ، جوگزشتہ آیات میں توحید کی تین قسمیں بیان ہوئی ہیں (توحید خالقیت ، توحید مالکیت ، اور توحید عبودیت) یہاں "توحید ربوبیت" کے ذکر سے وہ سلسلہ گفتگو مکمل ہوجاتا ہے ، یعنی جہان بستی کا نظم ونسق صرف خدا ہی کے ذریعہ پایہ تکمیل کوپہنچتا ہے۔ فرماتاہے "خدا اس جہان کے امور کو اپنے قرب کے مقام سے زمین کی طرف تدبیر کرتا ہے": (یدبر الامر من السماء الى الارض)۔ دوسرے لفظوں میں خدا آسمان سے لے کر زمین کی تمام کائنات کو اپنے حیطہ و تدبیراور نظم ونسق میں لیے ہوئے ہے اور اس کے علاوہ اس جہان کا کوئی مدبر نہیں ہے۔ ؎1 اس کے بعد مزید کہتا ہے ۔ "پھرتدبیر امور کے لیے اس دن کہ جس کی مقدار ہزار سال ہے ان سالوں میں سے جنھیں تم شمار کرتے ہو، اس کی طرف لوٹے گا": (ثم یعرج اليه في يوم كان مقداره الف سنة مماتعدون)۔ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ مفسرین نے اوپر والی آیت کی تفسیرمیں بہت سے اقوال پیش کیے ہیں، اور کئی احتمال پیش کیے ہیں: ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 پہلی تعبیر کے مطابق "سباء" مقام قرب خدا کے معنی میں ہے اور دوسری تعبیر کے مطابق "سماء" اسی آسمان کے معنی میں ہے۔ (غور کیجئے گا) ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 1- بعض نے اسے اسی دنیا میں تدبیر عالم کے "قوس نزولی" اور "قوس صعودی" کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ 2- بعض خدائی فرشتوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ، جو آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ کو پانچ سو سال کی مدت میں طے کرتے اور اسی مدت میں واپس بھی آجاتے ہیں اور اس جہان کی تدبیرمیں حکم خدا سے مشغول ہیں ۔ 3- بعض اس عالم میں خدائی تدبیر کے دور کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور ان کا نظریہ یہ ہے کہ تدبیر کے مختلف ادوارہیں اور پھرایک دور کی مدت ایک ہزار سال سے اور خدا پر ہزار سال میں آسمان و زمین کے تدبیر امر کا اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے اوراس ہزار سالہ دور کے ختم ہونے پر دوسرے دورکا آغاز ہوجاتاہے۔ یہ تفسیريں علاوہ اس کے کہ نا تمام اور مبہم مطالب کو پیش کرتی ہیں، کوئی قرینہ اور مخصوص شاہد بھی خوداس آیت یا دوسری آیات سے بھی پیش نہیں کرتیں ۔ ہمارے نظریہ کے مطابق قرآن کی دوسری آیات کے قرینہ نیزان روایات کی بناء پرجو اس آیت کی تفسیرمیں وارد ہوئی ہیں ، اس آیت سے مراد کوئی اور چیز ہے اور یہ کہ خدا نے اس جہان کو خلق کیا ہے اور آسمان و زمین کو مخصوص تدبیر کے ساتھ نظم عطا کیا ہے اور انسانوں اور دوسرے زندہ موجودات کو لباس حیات پہنایا ہے ۔ لیکن اس کائنات کے خاتمہ پر سب کچھ ختم کردے گا- سورج تاریک اور ستارے بے نور ہوجائیں گے اور قرآن کے بقول آسمانوں کو کاغذ کی طرح لپیٹ دے گا ، یہان تک کہ مذکورہ چیزیں اس جہان کے پھیلنے سے پہلے کی حالت میں آجائیں گی: "یوم نطوی التسما كطى السجل للكتب كما بدأنا اول خلق نعيدہ" "وہ دن کہ جب آسمان کو طومار کی طرح ہم لپیٹ دیں گے ، پھر جس طرح ہم نے خلقت کا آغاز کیا تھا اسے واپس پلٹا دیں گے"۔ اور اس جہاں کے لپیٹے جانے کے بعد ایک نئے نقشے اور زیادہ وسیع جہان کا اختراع ہوگا۔ یعنی اس دنیا کے اختتام پر ایک دوسرے جہان کا آغاز ہوگا۔ یہ معنی قرآن کی دوسری آیات میں بھی آیا ہے ۔ منجملہ ان کے سورہ بقرہ کی آیہ 156 میں ہم پڑھتے ہیں : "انا اللہ وانا اليه راجعون" "ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف سے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ کرجائیں گے"۔ اور سورہ روم کی آیہ 27 میں اس طرح آیا ہے: "وهو الذي يبدؤا الخلق ثم يعيده وهواهون عليه" وہ وہی ہے جو خلقت کا آغاز کرتا ہے اور پھراسے واپس پلٹا دیتا ہے اور یہ بات اس کے لیے نمایت ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 سورہ انبیاء آیہ 104 - ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- آسان ہے"۔ اور سورۃ یونس کی آیہ 34 میں ہم پڑھتے ہیں: " قل الله يبدوا الخلق ثم یعیده فانی موفكون" "کہہ دو خدا آفرینش کا آغاز کرتا ہے۔ پھر واپس کولوٹاتا ہے، پھر تم میں کیوں حق سے روگرداں ہوتے ہو"؟ ان تعبیرات اور اس طرح کی دوسری تعبیرات کی طرف توبہ کرتے ہوئے جوکہتی ہیں کہ تمام امور آخر کار خدا کی طرف لوٹ جائیں گے: "والیه یرجع الامركله" (سورہ ہود آیۃ 123)۔ واضح ہوجاتا ہے کہ زیر بحث آیت میں کائنات کے آغاز و انجام اور روز قیامت کے بپا ہونے کے متعلق کفتگو ہوری ہے جسے کبھی قوس نزولی "اورصودی" سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس بناء پرآیت کا مفہوم اس طرح ہوگا کہ "خدا اس جہاں کے امر کی تدبیرآسمان سے زمین تک کرتاہے، (آسمان سے ابتداء اور زمین پر انتہا ہوتی ہے ، پھر یہ سب قیامت کے دن اس کی طرف پلٹ جائیں گے"۔ تفسیر"علی بن ابرھیم" میں اسی آیت کے ذیل میں ہم پڑھتے ہیں کہ تدبیر امور سے مراد یہ ہے کہ خدا ان کی تدبیر کرتا ہے اوراس طرح امر دنہی جوشریعت میں بیان ہوئے ہیں اور تمام بندوں کے اعمال یہ تمام چیزیں قیامت کے دن واضح ہوں گی اور اس دن کی طوالت اس دن کے سالوں کے حساب سے ہزار سال ہوگی ۔ ؎1 یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ "سوره معارج" کی آیت 4 میں روز قیامت کے طول کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں: "تعرج الملائكة والروح اليه فی يوم كان مقداره خمسين الف سنة " "فرشتے اور روح اس کی طرف عروج کریں گے، ایسے دن میں کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہے" توکس طرح سے زیرآیت کو جو اس کی مدت صرف ہزار سال معین کرتی ہے اور سورہ معارج کی آیت کو آپس میں جمع کیاجاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب اس حدیث میں موجود ہے جو "امالی شیخ طوسی" میں امام جعفرصادقؑ سے نقل ہوئی ہے۔ امام فرماتے ہیں: ان في القيامة خمسين موقفًا كل موقف مثل الف سنة مما تعذون ، ثم تلا ھذه الٰاية في يوم كان مقدارہ خمسين الف سنة"۔ "قیامت میں پچاس موقف (اعمال کی دیکھ بھال اور حساب کے لیے محل توقف) ہیں کہ جن میں سے ہر موقف ہزار سال کی مقدار ہے، ان سالوں میں جنھیں تم شمار کرتے ہو ، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی، اس دن میں کہ جس کی مقدار پچاس ہزارسال ہے"۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 "تفسیرنورالثقلین" جلد 4 ص 221 اور "تفسیرصافی" ذیل آیت زیر بحث۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ البتہ ان تعبیروں کا اس طلب سے کوئی تـضاد نہیں ہوگا ، جب ہزار سال اور پچاس ہزار سال کا عدد یہاں گنتی کی صورت میں ہو۔ بلکہ ہر ایکمیں کثرت اور زیادتی بیان کرنا مقصود ہو۔ یعنی قیامت میں پچاس موقف ہیں کہ جن میں سے ہرایک پر انسان کو بہت زیادہ رکنا پڑے گا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 32:1-5
سوره الم سجده / آیه 1 - 5
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۱ الم۔ ۲ تَنزِیلُ الْکِتَابِ لَارَیْبَ فِیہِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ ۳ اٴَمْ یَقُولُونَ افْتراہُ بَلْ ھُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَا اٴَتَاھُمْ مِنْ نَذِیرٍ مِنْ قَبْلِکَ لَعَلَّھُمْ یَھْتَدُونَ۔ ۴ اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا فِی سِتَّةِ اٴَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ مَا لَکُمْ مِنْ دُونِہِ مِن وَلِیٍّ وَلَاشَفِیعٍ اٴَفَلَاتَتَذَکَّرُونَ۔ ۵ یُدَبِّرُ الْاٴَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَی الْاٴَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ إِلَیْہِ فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ اٴَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ۔ ترجمہ اس خدا کے نام سے جو بخشے والا اور مہر بان ہَے ۔ ۱۔الم۔ ۲۔یہ وہ کتاب ہے جو عالمین کے پر وردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اس میں شک وتردید نہیں ہے۔ ۳۔لیکن وہ کہتے ہیں ”محمد نے“ خدا پر جھوٹ باندھا ہے ۔لیکن (انہیں جاننا چاہیے )کہ یہ تیری پر وردگار کی طرف سے حق بات ہے ،تا کہ تم ایسے گروہ کو ڈراوٴ جس کی طرف سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ہے شاید (وہ پند ونصیحت حاصل کرکے ) ہدایت پاجائیں ۔ ۴۔خدا وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ،چھ دنوں (ادوار) میں پیدا کیا ہے ،پھر عرش (قدرت) پر قرار پا یا ۔۔تمہارے لیے اس کے علاوہ اور کوئی ولی اور شفاعت کرنے والا نہیں ہے ۔کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ ۵۔اس جہان کے امور آسمان سے زمین کی طرف تدبیر کرتا ہے ،پھر اس دن جس کی مقدار ہزارسال ہے، ان سالوں کے (حساب سے)جو تم شمار کرتے ہو، اس کی طرف لوٹ جائے گا (اور دنیا ختم ہو جائے گی) ۔