يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ
O mankind! Be wary of your Lord and fear the day when a father will not atone for his child, nor the child will atone for its father in any wise. Indeed Allah’s promise is true. So do not let the life of the world deceive you, nor let the Deceiver deceive you concerning Allah.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 31:33
[Pooya/Ali Commentary 31:33] Imam Ali said: "Your yesterday is past. You have no hold over it. Your tomorrow has not yet come, therefore it is uncertain whether you will be there or not, but your today is the day you must use in the best possible way and act as you are commanded by Allah."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:33-34
خدا کے علم کی وسعت
ان دوآیات میں جو سورئہ لقمان کی آخری آیات میں پہلے مجموعی طور پر اور ایک اجمالی صورت میں گذشتہ پنددنصائح اور توحید ومعاد کے دلائل ذریعہ کے ذریعہ تمام انسانوں کو خدا اور قیامت کے دن کی طرف متوجہ کرتا ہے اور شیطان کی طرف سے پیداہونے والے غوور وتکبر سے ڈراتاہے اور اس کے بعد علمِ خدا کی وسعت اور تمام چیزوں کو اس کی شمولیّت اور اس کی عمومیّت کو بیان کرتا ہے۔ فرماتاہے” اے لوگوں! خدا سے ڈرو“: (یَا اٴَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُم) ۔ ”اور اس دن سے ڈرو کہ جس میں نہ باپ اپنے بیٹے کے کناہ کا بوجھ اپنے کندھے پراٹھا ئے گا۔ نہ ہی بیٹاباپ کی ذمہ داری میں سے کسی چیز کا متحمل ہوگا:“ (وَاخْشَوْا یَوْمًا لَایَجْزِی وَالِدٌ عَنْ وَلَدِہِ وَلَامَوْلُودٌ ھُوَ جَازٍ عَنْ وَالِدِہِ شَیْئًا) ۔ حقیقت میں پہلا فرمان مبداء کی طرف توجہ ہے اور دوسرا معاد کی طرف۔ پہلا حکم انسان میں خبردار رہنے کی قوت کو زندہ کرتا ہے اور دوسرا پاداش وکیفر اور جزاء سزا کے احساس کو، اور اس میں شک نہیں کہ جو شخص یہ جانتا ہو کہ ایک خبیر اور آگاہ ذات اس کے تمام اعمال کو دیکھتی او رجانتی ہے اور اسے محفوظ کرتی جاتی ہے، اور دوسری طرف سے عدل وانصاف کا محکمہ اس کے تمام چھوٹے بڑے اعمال کی چھان بین کرے گا تو اس قسم کا انسان بہت کم گناہ کا اور بے راہ روی کا شگار ہو تا ہے۔ ”لایجزی“ کا جملہ جزاء کے مادہ سے ہے اور لغوی طورپر ”جزاء“ دومعنی کے لیے آتا ہے، ایک توکسی چیز کے مقابلہ پاداش وکیفر یعنی سزا اور جزاء دینے کے معنی میں۔ جیسا کہ کہاجاتاہے (جزاہ اللّٰہ خیرًا) : خدا اسے اچھی پاداش (جزاء) دے۔ اور دوسرا کفایت کرنا جانشین ہونا اور تحمل کرنا جیسا کہ زیزِ بحث آیت میں آیاہے (لایجزی والد عن ولدہ) ”کوئی باپ اپنے بیٹے کی ذمہ داری اور مسئولیت کو قبول نہیں کرے گا اور اس کی جگہ پر نہیں بیٹھے گا اور اس کی کفایت نہیں کرےگا۔“ ہوسکتاہے کہ دونوں معنی ایک ہی اصل کی طرف پلٹتے ہوں ۔ کیونکہ جزاء اور سزاء بھی عمل کی جانشین اور اس کے برابر ہوتی ہیں۔ (غور کیجئے گا) بہرحال اس دن ہر شخص اس طرح اپنے آپ کے ساتھ معروف ومشغول اور اپنے اعمال کے پیچ وخم میں گرفتار ہوگا کہ دوسرے کی طرف توجہ بھی نہیں کرسکے گا۔ یہاں تک کہ باپ اور بیٹا جو آپس میں نزدیک ترین رابطہ رکھتے ہیں، ان میں سے کسی کو بھی دوسرے کا خیال نہ ہوگا۔ آیت بعینہ اسی آیت کی طرح ہے جوسورئہ حج کی ابتداء میں آئی ہے، جس میں قیامت اور اس کے زلزلہ کے بارے میں کہا گیا ہے ۔(یوم تروونھا تذھل کل مر ضعة عماّ ارضعت) ”جس دن تم اسے دیکھوگے کہ دودھ پلانے والی مائیں اپنے شیرخوار بچوں کو بھول جائیں گی“ ۔ قابل توجہ یہ ہے کہ ”باپ “کے بارے میں ”لایجزی“ (فعل مضارع) کی تعبیر کرتا ہے اور بیٹے کے بارے میں ”جاز“(اسم فاعل) کی تعبیر ہے۔ یہ تعبیر کا فرق ہو سکتاہے۔ گفتگو میں تنوع کے طورپر یاباپ کے مقابلہ میں بیٹے کے فرائض اور ذمہ داری کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ اسمِ فاعل زیادہ دوام واستمرار پر دلالت کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں محبت پدری سے یہ توقع ہے کہ کم ازکم کچھ صورتوں میں تو بیٹے کے عذاب کو برداشت کرے۔ جیسا کہ دنیا میں اس کی نامناسب چیزوں کو اپنی جان پر لے لیتا تھا۔ لیکن بیٹے کے بارے میں تو قع ہے کہ وہ باپ کی زیادہ سے زیادہ ناپسندیدہ باتوں اور سختیوں کو اس کے بے شمار حقوق کی وجہ سے متحمل ہو جائے گا۔ جبکہ ان دونوں میں سے کوئی بھی اس دن ایک دوسرے کم سے کم مشکل بھی حل نہیں کرے گا۔ اور ہر ایک اپنے اعمال میں گرفتار اور اپنے گربیان میں جھانک رہا ہوگا۔ آیت کے آخرمیں انسان کو دوچیزوں سے ڈراتے ہوئے فرماتا ہے۔ خدا کاوعدہ حق ہے۔ مباداکہیں تمھیں زندگی فریب دے اور شیطان دھوکہ دے ڈالے“ (إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ فَلَاتَغُرَّنَّکُمْ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا وَلَایَغُرَّنَّکُمْ بِاللهِ الْغَرُورُ) ۔ واقع میں یہاں پر دونواہی نظرآتی ہیں جوان دواوامر کے مقابلہ میں، جو آیت کے اتبداء میں تھے کیونکہ اگر خدا کی طرف توجہ حساب وکتاب اور جزاء وسزاء کا خوف انسان میں زندہ ہوجائے تو پھر اس کے بارے میں راہ راست سے انحراف اور بے راہ روہی کی رغبت باقی نہیں رہتی، مگر دوراستوں سے ایک تویہ کہ دنیا کی چمک دمک اور رنگینی اس کی نگاہوں میں حقائق اور واقعات کو بالکل برعکس بنا کر پیش کرے اور چھائی اور برائی کے درمیان تمیز کی قدرت اس سے سلب کرے۔ وہی بات کہ دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑہے۔ دوسرا یہ کہ شیطانی دسوسے اسے فریب اور دھوکہ میں مبتلاء کر کے اسے مغروراورمبدء ومعادسے کو سوں دورکردیں۔ اگر ارتکاب گناہ کے یہ دونوں راستے بند ہو جائیں تو پھر کوئی خطرہ بھی اسے چیلنج نہیں کرسکتا اور اس طرح سے اوپر دالے چار احکام آدمی کی نجات کے پروگرام مکمّل مجموعہ فراہم کردیتے ہیں۔ گذشتہ آیت میں قیامت کے سلسلہ میں ہو نے والی بحث کی مناسبت سے اس سورئہ کی آخری آیت میں بھی ایسے علوم کے بارے میں گفتگو کی جارہی ہے جو پروردگار کے ساتھ مخصوص ہیں۔ کہتا ہے” قیام قیامت کے وقت کی آگاہی خدا کے ساتھ مخصوص ہے:“ (إِنَّ اللهَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَة) ۔ ”اور وہی ہے جو بارش کو نازل کرتا “ اور اس کے نزول کے تما جزئیات سے آگاہ ہے (وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ) اور نیز ”وہی ہے جو ایسے بچوں سے کہ جو رحم مادر میں ہوتے ہیں (ان کی تمام تفصیلات کے ساتھ) آگاہ ہے“ (وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاٴَرْحَامِ) اور ”کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا؟“ (وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا) ”اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا“ (وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِاٴَیِّ اٴَرْضٍ تَمُوتُ) گویا یہ آیت مجموعی طور پر اس سوال کا جواب ہے جو قیامت کے بارے میں پیش ہوا ہے، وہی سوال جو مشرکین قریش نے پیغمبر سے بار بار کہا ”متی ھو“ (قیامت کا دن کب ہوگا) (سورہٴ اسراء/۵۱) قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے کوئی شخص خدا کے علاوہ قیامِ قیامت کی گھڑی اور وقت سے آگاہ نہیں ہے اور دوسری صریح آیات کے مطابق خدا نے اس علم کو سب سے مخفی رکھا ہے: <إِنَّ السَّاعَةَ آتِیَةٌ اٴَکَادُ اٴُخْفِیھَا ”بیشک قیامت آئے گی اور میں چاہتا ہوں کہ اس کو مخفی رکھوں“۔(سوہٴ طٰہٰ/۱۵) تاکہ غرور وغفلت کبھی بھی افراد بشر کے دامن گیر نہ ہوں۔ اس کے بعد کہتا ہے کہ نہ صرف قیامت کا مسئلہ تم سے پوشیدہ ہے بلکہ تمھاری روز مرّہ کی زندگی اور نزدیک ترین مسائل میں سے جو تمھاری موت وحیات سے سروکار رکھتے ہیں بہت سے مطالب ایسے ہیں جن سے تم بے خبر ہو۔ بارش کے زندگی عطا کرنے والے قطرات کے نزول کا وقت جن سے تمام جانداروں کی زندگی وابستہ ہے، تم میں سے کسی پر بھی آشکار نہیں اور تم تو صرف اندازے، اٹکل بچو اور وہم وگمان کے ساتھ اس کے بارے میں بحث کرتے ہو۔ اسی طرح شکم مادر میں تمھاری پیدائش کے وقت اور جنین کی خصوصیات سے کوئی آگاہ نہیں ہے۔ اور نیز آئندہ نزدیک یعنی تمھارے نزدیک حوادث نیز موت، زندگی کو الوداع کہنے کا مقام سب سے پوشیدہ ہے۔ جب تم اپنی زندگی سے ان کے نزدیک ترین مسائل کی اطلاع نہیں رکھتے تو کون سے تعجّب کی بات ہے کہ قیام قیامت کے لمحہ سے بے خبر رہو؟(۱) تفسیر ”درّ منثور“ میں منقول ہے کہ قبیلہ ”بنی مازن“ سے ”دارث“ نامی ایک شخص پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم کی خدمت میں آیا اور کہا: ”اے محمد! قیامت کب برپا ہوگی؟ علاوہ ازیں ہمارے شہر خشک سالی کا شکار ہوچکے ہیں، کب نعمت سے ملامال ہوں گے؟نیر جس وقت میں آیا ہوں میری بیوں حاملہ تھی ، کب اسے بچّہ پیداہوگا؟ میں تو یہ جانتا ہوں کہ آج میں نے کیا کام ہے! لیکن یہ بتاؤ کہ کل کیا کروںگا؟ خلاصہ یہ کہ میں جانتاہوں کہ میں کہاں پیدا ہواہوں۔ بتاؤ کہ میں کس سرزمین میں مروںگا؟ توادپراولی آیت نازل ہوئی اور کہا ان تمام امورکا علم خدا کے پاس ہے۔ (2) ۱۔ یہ ٹھیک ہے کہ اوپر والی آیات میں ”یُنَزِّلُ الْغَیْثَ“ (خدا بارش کو نازل کرتا ہے) کے جملہ میں علمِ خدا کے مسئلہ کے بارے میں گفتگو نہیں ہے اسی بناء پر بعض نے اس جملوں کے درمیان کے استثناء کے طور پر قدرتِ خدا کے بیان کے لئے نہ کہ اس کے علم کے لئے سمجھا ہے، لیکن ادھر پانچ جملوں کی ایک دوسرے سے ہم آہنگی اور دوسری طرف سے متعدد رروایات جو نہج البلاغہ اور دوسری کتب میں آئی ہیں (کہ جن کی طرف عنقریب اشارہ کریں گے) اس چیز پر قرینہ ہیں کہ وہ جملہ بھی علمِ خدا کے ساتھ مربوط ہے۔ ۲۔ تفسیر درّمنثور بحوالہ تفسیر المیزان، ج۱۶، ص۲۵۴.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:33-34
سوره لقمان / آیه 33 - 34
۳۳ یَا اٴَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمْ وَاخْشَوْا یَوْمًا لَایَجْزِی وَالِدٌ عَنْ وَلَدِہِ وَلَامَوْلُودٌ ھُوَ جَازٍ عَنْ وَالِدِہِ شَیْئًا إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ فَلَاتَغُرَّنَّکُمْ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا وَلَایَغُرَّنَّکُمْ بِاللهِ الْغَرُورُ ۳۴ إِنَّ اللهَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاٴَرْحَامِ وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِاٴَیِّ اٴَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ ترجمہ ۳۳۔ اے لوگو! خدا کا تقویٰ اختیار کرو اور اس دن سے ڈرو کہ جس میں نہ باپ اپنے بیٹے کے اعمال کی جزاء کا باراُٹھائے گا اور نہ بیٹاباپ کی جزاء میں سے کسی چیز کا۔ یقینا خدا کاوعدہ حق ہے۔ لہٰذا دنیاوی زندگی تمھیں فریب نہ دے اور شیطان تمھیں مغرور نہ کرے۔ ۳۴۔قیامِ قیامت کے وقت سے آگاہی خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور وہی ہے جو بارش کو نازل کرتا ہے اور جو کچھ ماؤں کے رحم میں ہے اسے جانتا ہے، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین پر مرے گا صرف خدا ہی عالم وآگاہ ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:33-34
۱۔غرور وفریب کی قسمیں
اوپر والی آیات تنبیہ کرتی کہ دُنیا دی زندگی کی چمک دمک تمھیں فریب میں مبتلا نہ کروے ۔ پھر شیطان کے دھوکہ دینے کی بات ہے اور اس کی نسبت خطرے کا الارم ہے، کیونکہ لوگوں کی چند قسمیں ہیں: بعض اتنے ضعیف وناتواں ہوتے ہیں جن کے فریب ودھوکے کے لئے صرف دنیا کے زرق وبرق کا مشاہدہ ہی کافی ہوتا ہے۔ لیکن بعض دوسرے جو مزاحمت کی طاقت رکھتے ہیں، تو ان کے لئے زرق وبرق کے علاوہ شیطانی وسوسوں کا اضافہ بھی ہوتا ہے اور اندرونی اور بیرونی شیطان ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالتے ہیں تاکہ وہ انھیں دھوکہ دے سکیں اور اوپر والی آیت کی تعبیر ایسے سب کے لئے تنبیہ ہے۔ ایک نکتے کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتاہے کے ”غرور “ (بروزن جسور) ہر فریب اور دکھوکہ دینے والی چیز کو کہتے ہیں۔ اور یہ جو اس کی شیطان کے ساتھ تفسیر کی گئی ہے، در حقیقت اس کے واضح مصداق کا بیان ہے ورنہ ہر فریب کار انسان، دھوکہ دینے والی کتاب، ہر وسوسہ پیدا کرنے والا مقام ومرتبہ اور ہر وہ چیز جو انسان کو گمراہ کردے، اس لفظ وسیع مفہوم میں داخل ہے۔ یا یہ کہ شیطان کے مفہوم کو اس قدر وسعت دیں کہ ان تمام امور کو شامل ہوجائے۔ اس لیے راغب مفرات میں کہتے ہیں ”غرور “ ہر وہ چیز ہے جو انسان کو مغرور کردے اور فریب میں میں بتلاکردے خواہ وہ مال ہویا مقام ومرتبہ یا شہوت اور شیطان۔اور شیطان کے ساتھ اس کی جو تفسیر ہوئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان خبیث ترین فریب کار ہے۔ اور بعض لوگوں نے ”غرور کی دُنیا“ کے ساتھ جو اس کی تفسیر کی ہے تو دنیا کے فریب اور دھو کہ دینے کی بناء پر ہے۔ جیسا کہ نہج البلاغہ میں ہم پڑھتے ہیں: ”تفروتضروتمر“ فریب دیتی ہے، ضرر پہنچاتی ہے اور گزرجاتی ہے (۱) 1۔ نہج البلاغہ، کلمات قصار، شمارہ۴۱۵.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:33-34
۲۔ دُنیا کی فریب کاری
اس میں شک نہیں کہ زندگانی دنیا کے بہت سے مظاہر غرور آمیز ہو تے ہیں اور غفلت پیدا کرتے ہیں اور کبھی کبھار تو اس طرح انسان کو اپنی طرف متوجہ کرلیتے ہیں کہ اپنے ماسواباقی ہر ایک چیز سے غافل کردیتے ہیں۔ اسی بناء پر بعض اسلامی روایات میں حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس وقت آپ سے لوگوں نے سوال کیا ”ای النّاس اثبت راٴیاً“ کون شخص تمام لوگوں میں سے صاحب فکرورائے اور تدبیر کے لحاظ سے زیادہ ثابت قدم ہے توآپ نے فرمایا ”من لم یغرہ النّاس من نفسہ ولہ تغرہ الدّنیا بتشویقھا“ وہ شخص کہ جسے فریب کار لوگ فریب نہ دے سکیں اور دُنیا کی رغبت اسے دھوکہ نہ دے سکے (۱) لیکن اس کے باوجود اسی فریب کاردُنیا کے مختلف مناظر کے اندرزبان حال سے بولنے والے کچھ ایسے مناظر بھی ہیں جو اس جہاں کی ناپائیداری اور اس کے کھوکھلے زرق وبرق کو واضح ترین انداز میں بیا کرتے ہیں ۔ وہ حوادث جوہر ہوش مند انسان کو بیدار کر سکتے ہیں بلکہ جو ہوش مندنہیں انھیں بھی ہوشیار کریتے ہیں ۔ ایک حدیث میں ہے۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام نے کسی سے سُنا کہ وہ دنیا کی خدمت کررہا تھا اور اسے فریب کار بتارہاتھا تو آپ نے اس کی طرف متوجہ ہو کرفرمایا: ایھا الذام للدنیا المغتر بغرورھا، المخدع باباطلیھا، اتغتر بالدنیا ثمّ تذمھا؟ اٴنت المتجرم علیھا اٴم ھی المجترمة علیک؟ متیٰ استھوتک؟ اٴم متی غرتک؟ اٴبمصارع اٰبائک من البلیٰ اٴم بمضاجع اٴمھاتک تحت الثریٰ....؟ انّ الدنیا دار صدق لمن صدقھا، ودار عافیة لمن فھم عنھا، ودار غنی لمن تزود منھا، ودار موعظة لمن اتعظ بھا، مسجد احبّاء الله ومصلی ملائکة الله، ومھبط وحی الله، ومتجر اٴولیاء الله....“ ”اے دنیا کی مذمت کرنے والے! اس کی دل فریبیوں کے فریب خوردہ، اس کی رام کہانیوں کا دھوکہ کھائے ہوئے! کیا بات ہے کہ دنیا پر فریفتہ بھی ہو اور اس کی مذمت بھی کررہے ہو؟ کیا تم اس پر گناہ کی تہمت لگارہے ہو یا وہ تمھیں مجرم ٹھہرا رہی ہے؟ اس نے تمھیں کب متوالا کیا؟ یا کب تمھارا دل لبھایا؟ کیا اس وقت جب تمھارے آباء سال خوردہ ہوکر ڈھیر ہوئے یا اش وقت جب تمھاری مائیں (منوں) مٹی کے نسچے ہمیشہ کو سوگئیں ؟ اور کتنے ہی مریضوں کی ہاتھوں سے تیمار داری ؟ تم چاہتے تھے کہ وہ شفایاب ہو جائیں اور ان کے علاج کے لیے اطبّاء سے مشورے طلب کرتے پھرتے تھے۔ وہ بھی اس دن جب سے تمھاری دوا ان کے کسی کام نہ آئی اور تم اپنا زورلگا بیٹھے، مگر کسی کو (موت سے) نہ بچاسکے۔ اور دنیا نے اس (مرنے والے) کو تمھارے لیے مثال بنادیا اور اس کی موت کو تمھاری موت کا تقشہ بنادیا۔ اس میں شک نہیں کہ دنیا نباہ کا گھر ہے۔ مگراس کے لیے جو اس سے نباہ کرے اور دارِعافیّت ہے اس کے لیے جو اس کی حقیقت کو سمجھ لے اور دولت کدہ ہے اس کا جو اس سے زادِ آخرت حاصل کرسکے۔ اور عبرت کا گھرہے اس کے لیے جواس سے سبق سیکھ لے۔(دنیا) خدا کے دوستوں کی مسجدہے، اللہ کے لائکہ کی جائے نماز ہے، وحی خدا کے اترنے کی جگہ ہے اور خدا کے ادلیاء کی تجات گاہ ہے“۔ ۱۔ من لایحضرہ الفقیہ (بحوالہٴ نور الثقلین، ج۴، ص۲۱۷) .
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:33-34
۳۔ یہ پانچ علوم خدا کے ساتھ مخصوص ہیں
اس سے قطع نظر کہ اوپروالی آیت کا لب ولہجہ حکایت کرتا ہے کہ قیامت، بارش کے نزول، رحمِ مادر میں جنین کی کفیت، وہ امورکہ جنھیں انسان آئندہ انجام دے گا اور اس کی موت کی جگہ سے آگاہی اور اس کا علم خدا کے اختیار میں ہے اور خدا کے علاوہ کسی اور کو ان تک کوئی رسائی نہیں، وہ روایات بھی جو اس آیت کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں، نیز اس حقیقت کی تاکید کرتی ہیں۔ منجملہ ان کے ایک حدیث میں ہے: ”ان مفاتیح الغیب خمس لایعلمھن الا اللّٰہ وقراٴ ھذہ الاٰیة“ غیب کی چابیاں پانچ ہیں کہ جنھیں خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ پھرآپ نے اوپروالی آیت کی تلاوت فرمائی۔(۱) نہج البلاغہ کی ایک اور روایت میں ہم پڑھتے کہ جس وقت حضرت علی علیہ السلام آئندہ کے واقعات کے بارے میں خبردے رہے تھے۔ تو ایک صحابی نے عرض کیا یا امیرالمومنین علیہ السلام آپ غیب کی خبردے رہے ہیں؟ اور آپ علم غیب سے آشنا ہیں؟ امام نے ”نبی کلب “ کے اس شخص سے مسکراکر فرمایا: ”یا اخا کلب! اٴ لیس ھو بعلم غیب، وانّما ھو تعلم من ذی علم، وانّما علم الغیب علم الساعة وما عددہ اللّٰہ سبحانہ بقولہ <انّ اللّٰہ عندہ علم الساعة.....“ فیعلم اللّٰہ سبحانہ مافی الار حام، من ذکر اٴو انثی، وقبیح اٴو جمیل، وسخی اٴوبخیل، وشقی اٴوسعید، ومن یکون فی النّار حطباً وفی الجنان للنبیّن مرا فقاً، فھذا علم الغیب الّذی لایعلمہ الّا اللّٰہ، وماسوی ذلک فعلم علمہ اللّٰہ نبیہ فعلمنیہ ودعالی بان یعیہ صدری وتضطم علیہ جوانحی!“. اے بھائی کلبی! یہ علم غیب نہیں ہے، بلکہ یہ اس (رسول) سے حاصل کی ہوئی باتیں ہیں جو خزانہ علم (الٰہی) تھے۔ علم غیب تو قیامت کا وقت اور ان چیزوں کے جاننے کا نام ہے، جنھیں خداوندِعالم نے اپنے ارشاد ”انّ اللّٰہ عندہ علم السّاعة....الخ“ میں شمار کیا ہے۔ پس خداہی جانتا ہے کہ رحم مادرمیں کیا ہے ؟ نرہے یامادہ؟ بد صورت ہے یاخوبصورت ؟ سخی ہے یا بخیل ؟ شقی ہے یانیک اور کون جہنّم کا ایندھن بنے گا؟ اور کون جنت میں نبیوں کے ساتھ، یہ ہے وہ علم غیب جسے خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا، رہا دوسری چیزوں کا علم تو وہ (ہم جانتے ہیں) خدا نے اپنے نبی کو عطافرمایا اور نبی نے مجھے بتلادیا اور میرے لیے دعا فرمائی کہ میرا سینہ انھیں اس طرح محفوظ رکھے، جیسے ترکش تیروں کو محفوظ رکھتا ہے اور میری پسلیاں انھیں سمیٹیں رہیں۔ (2) اس روایت سے اچھی طرح معلوم ہو جاتاہے کہ لوگوں کی ان پانچ امور سے عدم آگاہی سے مرادان کی تمام خصوصیات ہیں مثلاً اگر کسی دن ایسے وسائل وذرائع انسان کے اختیار میں آجائیں (جب کہ ابھی تک وہ دن نہیں آیا) اور جنین کے لڑکے لڑکی ہونے سے قطعی طور پر آگاہ ہوجائیں تو کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ کیونکہ جنین سے آگاہی یہ ہے کہ اس کے تمام جسمانی خصوصیات بد صورت اور خوبصورتی سلامتی وبیماری اندرونی استعدادیں علمی وفلسفی وادبیِ ذوق اور دوسرے روحانی اوصاف اور کیفیات جان لیں اور یہ امرخدا کے علاوہ کسی اور کے بس میں نہیں ہے۔ اسی طرح یہ کہ بارش کب ہوگی؟ اور کون سے علاقہ پر برسے گی؟ اور ٹھیک ٹھیک کتنی مقدار دریا، صحرا، درہ، کوہ وبیاباں میں برسے گی؟ خداکے علاوہ کوئی نہیں جانتا! اور کل اور آیندہ دنوں کے حوادث اور ان کی خصوصیات وجزئیات بھی اسی طرح ہیں۔ اور یہاں سے اس سوال کا جواب جوعام طور پریہاں پیش آتا ہے، اچھی طرح واضح ہو جاتاہے۔ یہ جوکہتے ہیں کہ ہم تاریخوں اور متعددروایات میں پڑھتے ہیں کہ صرف ائمہ اہل بیت علیہم السلام ہی نہیں بلکہ ائمہ علیہم السلام کے علاوہ دوسرے اولیاء اللہ نے اپنی موت کے متعلق خبردی یا اپنے مومن کو بیان کیا، جن میں سے کربلا سے تعلق رکھنے والے واقعات بھی ہیں؟ چنانچہ ہم نے کئی روایات میں پڑھاہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اور انبیاء ماسلف نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے یاروانصار کی اس سرزمین میں شہادت کی خبردی ہے۔ اور کتاب اصول کافی میں ایک باب ائمہ کی اپنی وفات کے وقت سے آگاہی کے سلسلہ میں نظرآتاہے۔ تواس کا جواب یہ ہے کہ ان بعض امورسے آگاہی علم اجمالی کی صورت میں ہوتی ہے اور وہ بھی تعلم الٰہی کے طریق سے، تو اس کا خدا کی ذات پاک سے مخصوص تفصیلی علم کے ساتھ کسی قسم کا ٹکراؤ نہیں ہے۔ اور پھریہ کہ جیسا ہم کہہ چکے ہیں کہ ان کایہ اجمالی علم بھی ذاتی اور استقلالی نہیں ۔ بلکہ بالعرض اور خدا کی طرف سے تعلیم کی وجہ سے ہوتا ہے کہ جتنا خدا چاہتا اور مصلحت سمجھتاہے۔ (3) اسی لیے ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے آپ کے صحابی نے سوال کیا کہ کیا امام علمِ غیب جانتا ہے؟ ”قال لا، ولٰکن اذا اٴراد اٴن یعلم الشیء اٴعلمہ اللّٰہ ذلک“ ”فرمایا نہیں امام علمِ غیب ”ذاتی طورپر“ نہیں جانتا۔ لیکن جب بھی کسی چیز کو جاننا چاہتاہے توخدا اسے آگاہ کردیتا ہے“(4) علمِ غیب اور انبیاء وائمہ کے علم کی کفیّت کے بارے میں بہت سی روایات واردہوئی ہیں، جن کے متعلق متعلقہ آیات کے ذیل میں ہم بحث کریں گے۔ لیکن مسلم ہے کہ ان کے درمیان کچھ ایسے علوم ہیں کہ جن سے خدا کے علاوہ کوئی بھی آگاہ نہیں ہے۔ (5) پرودردگارا . ہمارے دل کی آنکھ علم ودانش کے نورسے منور فرما اور اپنے بے پایاں علم کا ایک گوشہ مرحمت فرما۔ خدا وندا! ایسا کر کہ اس دُنیا کا زرق وبرق ہمیں فریب نہ دے اور دھو کہ باز شیطان اور ہوائے نفس ہمیں مغرور نہ کرے۔ بارِ الٰہا! ایسا کردے کہ ہم ہمیشہ تیرے احاطہ علمی سے آگاہ رہیں اور تیرے حضورتیری رضاکے خلاف کوئی کام انجام نہ دیں۔ ۱۔ مجمع البیان، ذیل آیت زیر بحث. 2۔ نہج البلاغہ، خطبہٴ۱۲۸. 3۔ اصول کافی، جلد ۱، ص۲۰۲، باب ”انّ الائمة یعلمون متی یموتون“. 4۔ اصول کافی، ج۱، ص۲۰۱، باب نادر فیہ ذکر الغیب. 5۔ کتاب ”اصول کافی “ میں ہمیں متعدد ورایات ملتی ہیں کہ خدا ایسا علم بھی رکھتا ہے، جس سے اس کے علاوہ کوئی آگاہ نہیں اور کچھ علم ایسا ہے، جس کی ملائکہ انبیاء(علیهم السلام) اور ائمہ(علیهم السلام) کو اس نے تعلیم دی ہے، جلد ۱، ص۱۹۹، باب ”انّ الائمة (ع) یعلمون جمیع العلوم التی خرجت الی الملائکة “.