وَإِذَا مَسَّ ٱلنَّاسَ ضُرّٞ دَعَوۡاْ رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيۡهِ ثُمَّ إِذَآ أَذَاقَهُم مِّنۡهُ رَحۡمَةً إِذَا فَرِيقٞ مِّنۡهُم بِرَبِّهِمۡ يُشۡرِكُونَ
When distress befalls people, they supplicate their Lord, turning to Him in penitence. Then, when He lets them taste His mercy, behold, a part of them ascribe partners to their Lord,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 30:33
[Pooya/Ali Commentary 30:33] Refer to the commentary of Yunus: 12 and Nahl: 53.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:33-36
سوره روم / آیه 33 - 36
(33) وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّـهُـمْ مُّنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ ثُـمَّ اِذَآ اَذَاقَـهُـمْ مِّنْهُ رَحْـمَةً اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْـهُـمْ بِرَبِّهِـمْ يُشْرِكُـوْنَ (34) لِيَكْـفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنَاهُـمْ ۚ فَـتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (35) اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْـهِـمْ سُلْطَانًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُـوْا بِهٖ يُشْرِكُـوْنَ (36) وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْـمَةً فَرِحُوْا بِـهَا ۖ وَاِنْ تُصِبْهُـمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِـمْ اِذَا هُـمْ يَقْنَطُوْنَ ترجمہ (33) جس وقت لوگوں کو ضرر پہنچتا ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتے اور اس کی طرف و رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ انھیں اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک فریق اپنے پروردگار کی نسبت مشرک ہو جاتا ہے۔ (34) (انہیں رہنے دو تاکہ) ہم نے ان کو جو کچھ بخشا ہے اس کی ناشکر گزاری کریں اور (دنیا کی زود گزر نعمتوں سے) فائدہ اٹھالو مگر جلد ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا (کہ تمہارے کفران اور خود غرضیوں کا کیا نتیجہ نکلتا ہے)۔ (35) کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی محکم دلیل نازل کی ہے جو انھیں شرک کرنا سکھاتی ہے اور اس کی توجہ کرتی ہے؟ (36) اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور جب ان کے اعمال کے سبب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اچانک مایوس ہوجاتے ہیں۔