خَٰلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ ٱلۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ
They will remain in it [forever], and their punishment will not be lightened, nor will they be granted any respite,
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 3:81-91
God has been unique all along until He desired creation. He created a “word” turning into “Light” from which Md. and then Ali and his family including Fatima were created with other “word” was created “Soul” which took an abode in this light and thus Mohammad and his family are lights of God, giving them room in their enlightened body as “Divine Guides.’ Those who walked in their light were guided. And those who left them were in darkness of misguidance. Their creation was far prior to creation of the Heavens and Earth. Then He exacted a promise of these Prophets, who are rays of Divine Light from them of their Lordship over them and assistance. This clause refers to this event. This is what Jesus claimed, “I am come a light into the world, whosoever believes in me should not abide in darkness” (St. John 13:48). Again he says, “If you love me, keeping my commandments” (St. John 14:15) and predicts our Prophet’s coming. “And I shall pray to Father (God) and he shall give you forever” (St. John 14:16). How many false prophets have since appeared, although Prophet Mohammad spoke of Ali as a Light after him and will be succeeded by remaining 11.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:86-89
ایسے لوگوںکو اصطلاح میں ” مرتد“ کہتے ہیں ۔
قرآن کہتا ہے : ایسے لوگوں کی ہدایت کے لئے خدا مدد نہیں کرتا کیونکہ ان لوگوں نے واضح علامات کے ذریعے پیغمبر کو پہچان لیا ہے اور اس کی رسالت کی گواہی دی ہے ۔ یہ لوگ اسلام سے عدول کر کے اور اس سے پھر کر ظالم اور ستمگر بن گئے ہیں اور خدا ظالموں اور ستمگروں کی ہر گز ہدایت نہیں کرتا ( وَاللهُ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ ) ۔ ” اٴُوْلَئِکَ جَزَاؤُهم اٴَنَّ عَلَیْہِمْ لَعْنَةَ اللهِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالنَّاسِ اٴَجْمَعِین“۔ اس آیت میں ایسے لوگوں کی سزائیں بیان کی گئی ہے جو پہچاننے کے بعد حق و عدول کرتے ہیںاور وہ ہے پروردگار ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت۔ ” لعن “ اصل میں دھتکار نے اور غیظ و غضب کے ساتھ دور کرنے کے معنی میں ہے لہٰذا پروردگار کی لعنت کا مطلب اس کی رحمت سے دوری ہے ۔ باقی رہافرشتوں اور لوگوں کی لعنت ت وہ غصّہ ، تنفر اور معنوی طور پر سے یا پروردگار کی رحمت سے دور ہونے کی بد دعا ہے ۔ ایسے لوگ در حقیقت فساد اور گناہ میں اس طرح سے ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں کہ تمام عقلمندوں اور سارے جہان کے بامقصد افراد چاہے انسان ہوں یا فرشتے سب کے تنفر کا ہدف بن جاتے ہیں ۔ ”خَالِدِینَ فِیہَا لاَیُخَفَّفُ عَنْهم الْعَذَابُ وَلهم یُنْظَرُونَ“۔ اس آیت میں مزید ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ صرف عمومی لعنت کا مرکز نہیں ہیں بلکہ ہمیشہ لعنت کا شکار رہیں گے ۔ درحقیقت شیطان کی طرح ہیں جو ہمیشہ لعنت میں گرفتار رہتا ہے ۔ مسلم ہے کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ درد ناک اور ناقابل تخفیف عذاب میں مبتلا ہوں گے اور انہیں کسی قسم کی مہلت نہیں دی جائے گی ۔ ” إِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ وَاٴَصْلَحُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ “۔ یہ آیت مندرجہ بالا احکام میں استثنائی صورت بیان کرتی ہے ۔ اس آیت نے ایسے افراد کے لوٹ آنے کی راہ کھول دی ہے لیکن بہت سی دیگر آیات ِ قرآنی کی طر ح مسئلہ تو بہ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد گذشتہ غلط کایوں کی تلافی کی طرف اشار ہ کیا گیا ہے ۔ ” و اصلحوا“ کے ذریعے یہ حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ توبہ صرف گذشتہ گناہ پر پشمانی اور آئندہ نیک اعمال کے ذریعے گذشتہ برے اعمال کی تلافی کی جائے ۔ اسی لئے بعض آیات میں توبہ کے بعد ایمان اور عمل صالح کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ مثلاً ”لِمَنْ تابَ وَ اٰمنَ و عَمِلَ صالِحا ۔“ طٰہٰ: ۸۲ مگر وہ شخص جو توبہ کر ے اور ایمان لائے اور عمل صالح انجام دے ۔ ورنہ اس کی توبہ کامل و مکمل نہیں ہے ۔ ایسے افراد بخشش اور رحمت ِ خدا کے حق دار ہوں گے ۔ فَاِنّ اللّہ غَفُوْر ٌ رَحِیْم ٌ“۔ کیا مرتد کی توبہ قبول ہو جاتی ہے مندرجہ بالا آیت اور شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اسلام قبول کرکے اس سے پلٹ جائیں دو قسم کے ہیں : ص ۴۰۱ باقی رہ گیا ہے ۹۰۔ إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بَعْدَ إِیمَانِہِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا کُفْرًا لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهم وَاٴُوْلَئِکَ هم الضَّالُّونَ۔ ترجمہ ۹۰۔ جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اورپھر ( اپنے ) کفر میں بڑھ گئے ہیں ( اور اس راہ میں اصرار کرتے ہیں ) تو ان کی توبہ کبھی بھی( جومجبوری کی بناء پر ہو یا مرتے وقت کی جائے) قبول نہیں ہوگی اور وہ (واقعاً)گمراہ ہیں ( اور وہ خدا کی راہ بھی کھو چکے ہیں اور توبہ کی بھی ) ۔ شان نزول : جیسا کہ سابقہ آیات کی شان نزول میں اشارہ ہوا ہے حارث بن سوید اور اس کے گیارہ ساتھی بوجہ اسلام سے پلٹ گئے تھے ۔ حارث تو پشمان ہوا ا ور توبہ کرکے پیغمبر اسلام کی خدمت میں واپس آگیا لیکن دوسرے افراد اس کے ساتھ لوٹ کر نہ آئے اور اس کی دعوت کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم مکہ میں رہیں گے اور محمد (صلی الله علیه و آله وسلم) کے خلاف کام کرتے رہیں گے اور ہمیں امید ہے کہ انہیں شکست ہوگی، اگر ہمارا مقصد پورا ہوگیا تو کیا ہی اچھا ہے ۔ ورنہ توبہ کا راستہ تو کھلا ہی ہے ، جب چاہیں گے توبہ کرلیں گے اور محمد (صلی الله علیه و آله وسلم) کی طرف پلٹ آئیں گے اور وہ بھی ہماری توبہ قبول کرلیں گے ۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی ایک اور شانِ نزول نقل کی ہے ۔ اس کے مطابق مذکورہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو پیغمبر اسلام کے ظہور سے قبل لوگوں کو آپ کے ظہور کی بشارت دیتے تھے اور آپ سے ایمان اور وفا داری کا اظہار کرتے تھے لیکن بعثت کے بعد نہ صرف یہ کہ وہ کافر ہو گئے بلکہ آپ کے مقابلے پر آکھڑے ہوئے ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:88
[Pooya/Ali Commentary 3:88] (see commentary for verse 87)