إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
Indeed the case of Jesus with Allah is like the case of Adam: He created him from dust, then said to him, ‘Be,’ and he was.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:59
[Pooya/Ali Commentary 3:59] The Christians of Najran came to the Holy Prophet and asked him as to why he had been abusing Jesus (Isa) by saying that he was a man created by God, when he was born without a father. The Holy prophet told them that he could not abuse Isa as he was the "word of Allah" communicated through a purified virgin, Maryam, but the reason (birth of a man without a father) put forward by them to accept him as a son of God or God was untenable because Allah created Adam without a father and a mother. Aqa Mahdi Puya says: The process of creation has been discussed in verses 6 and 37 of this surah according to which Allah's will is the principal factor in the process of creation. The birth of Isa to a virgin mother, without a male partner, was an immediate effect of His will, manifested to the world as a miracle, just as the birth of Adam took place without the agency of a father and a mother. When He wills a thing to "be", it becomes. Even in the theory of evolution there comes a stage, while backtracking, when one has to accept the fact that a living being must have come into being without the agency of a sexual procedure. Whatever once happened in the process of creation can take place any time, may be once in a great while but not altogether impossible. There are several examples in nature, which are inexplicable through any law known to man. The only explanation, as the Quran points out, is the imperative word of Allah. As has been stated in the commentary of verse 6 of this surah, the hand of Allah is visible in the working of the whole universe. The likeness of Isa with Allah is as the likeness of Adam. Therefore, as the Christian church argues, if Isa was a son of God because he was born without a father, Adam deserved more to be God or son of God as he came into being without a father and a mother . The creation of Isa has been compared to the creation of Adam, the first human being. There would be no point in comparing Isa to a (universal) man as the Ahmadi commentator conveys has been done in this verse.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:59-60
حضرت آدم (علیه السلام) کے جسم اور مادی پہلو سے
پہلی آیت میں ایک مختصر اور واضح استدلال ہے جس میں نجران کے عیسائیوں کے حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے بارے میں دعویٰ الوہیت کا جواب ہے ۔فرماےاگےا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ(علیه السلام) باپ کے بغےر پیدا ہوئے تو یہ امر اس کی دلیل کبھی نہیںبن سکتا کہ وہ خدا بیٹے ےا خودخداتھے،کیونکہ یہ بات تو حضرت آدم (علیه السلام) کے بارے میں عجیب ترےن صورت میں محقق اور ثابت ہوچکی ہے ۔ وہ توماں باپ دونوں کے بغےر دنےا میں آئے تھے ۔ اس لئے جیسے حضرت آدم(علیه السلام) کی مٹی سے پیدائش کوئی تعجب کی بات نہیں اور خدا جو کام انجام دینا چاہے اس کا فعل اور ارادہ ہم آہنگ ہیں ۔ اس طرح حضرت عیسیٰ کا اپنی والدہ سے بغیر باپ کے پیدا ہونا کوئی محال مسئلہ نہیں ہے بلکہ آدم کی پیدا ئش کئی لحاظ سے زیادہ تعجب خیز ہے ۔ پس آگر بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ کی پیدا ئش ان کی الوہیت کی دلیل ہے تو حضرت آدم اس امر کے زیادہ مستحق ہیں ۔ مندرجہ بالا آیت میں پہلے حضرت آدم (علیه السلام) کی خلقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ” خلقہ من ترابٍ“ ( یعنی اسے مٹی سے پیدا ) دوسرے جملے کے قرینہ سے ، اس جملے سے مراد حضرت آدم (علیه السلام) کے جسم اور مادی پہلو سے ان کی خلقت ہے ۔ اس کے بعد دوسرے جملے میں ان کی اور روح کی خلقت کی طرف کرتے ہوئے فرمایا:” ثم قال لہ کن فیکون“ ( پھر اس سے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا ) یعنی حکم خلقت کے ساتھ حیات اور روح آدم کے قالب میں پھونک دی ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حضرات عوالم کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ، عالم خلق( عالم مادہ) اور عالمِ امر ( عالم ماورائے مادہ ) اور یہ دونوں ہی فرمانِ خدا کے تابع ہیں ارشاد الہٰی ہے : ” الا لہ الخلق و الامر “ ” آگاہ رہو کہ عالم خلق و امر اسی کی طرف سے ہے ۔ ( اعراف۔۵۴) پھر اس بات کی تاکید کے طور پر فرمایا: جو کچھ ہم نے مسیح کے بارے میں تم پر نازل کیا ہے ، یہ پروردگار کی طرف سے ایک ایسی حقیقت ہے جس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور اس کے بارے میں اپنے اندرکسی قسم کے تردد کو جگہ نہ د ینا ۔ ” الحق من رّبک“۔ اس جملے کے بارے میں مفسرین نے دو احتمالات پیش کئے ہیں :۔ پہلا :۔ یہ کہ یہ جملہ مبتداء اور خبر سے مرکب ہے ۔ یعنی الحق مبتداء ہے اور من ربّک خبر ہے ۔ اس بناء پر اس کا معنی یہ ہوگا : حق ہمیشہ تیرے پروردگا ر ہی کی طرف سے ہوگا کیونکہ حق کا معنی ہے واقعیت اور واقعیت عین ہستی وجود ہے اور تمام ہستیاں اور وجود اس کے وجود سے ہیں اور باطل عدم و نیستی ہے جو اس کی ذات سے بیگانہ ہے ۔ دوسرا:یہ کہ یہ جملہ مبتداء محذوف کی خبر ہے جو کہ” ذٰلک الاخبار“ ہے ۔ یعنی یہ خبریں جو آپ کو بتائی گئی ہیں ، سب پروردگار کی طرف سے حقائق ہیں ۔ یہ دونوں مفاہیم آیت کے لئے مناسب ہیں ۔ ۶۱۔ فَمَنْ حَاجَّکَ فِیہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اٴَبْنَائَنَا وَاٴَبْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَا وَنِسَائَکُمْ وَاٴَنْفُسَنَا وَاٴَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللهِ عَلَی الْکَاذِبِینَ ۔ ترجمہ ۶۱۔ اس علم و دانش کے بعد جو ( عیسیٰ کے بارے میں ) تمہارے پاس پہنچا ہے ۔ پھر بھی کوئی تم سے جھگڑے تو اسے کہہ دو: آوٴ اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں تم اپنے بیٹوں کو بلاوٴ، ہم اپنی عورتوں کو بلاتے ہیں ، تم اپنی عورتوں کو بلاوٴ اور ہم اپنے نفسوںکو بلاتے ہیں تم اپنے نفسوں کو بلاوٴ ، پھر ،مباہلہ کریں گے اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریںگے ۔